TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نماز کی کتاب - نماز کی کتاب - Book 20 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 20 of Musnad Ahmad, with 14 chapters and 97 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

97 Hadith · 14 Chapters
قیام کی طوالت اور رکوع و سجود کی کثرت کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۰۶۱)۔ عَنْ أَبِیْ فَاطِمَۃَ الْأَزْدِیِّ أَوِ الْأَسَدِیِّؓ قَالَ: قَالَ لِیَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((یَا أَبَا فَاطِمَۃَ! اِنْ أَرَدْتَ أَنْ تَلْقَانِیْ فَأَکْثِرِ السُّجُوْدَ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۶۱۱)
سیدنا ابو فاطمہ ازدی یا اسدی ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مجھے فرمایا: اے ابو فاطمہ! اگر تم مجھے ملنے کا ارادہ کرتے ہو تو کثرت سے سجدے کرو۔
Takhreej
(۱۰۶۱) تخریج: حدیث حسن لغیرہ۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۲/۸۲۱، وأخرج بنحوہ ابن ماجہ: ۱۴۲۲(انظر: ۱۵۵۲۶)
Explanation
فوائد:… سیدنا ابو فاطمہ ؓنے کثرتِ سجود کی وجہ سے اپنی پیشانی اور گھٹنوں کو کالا کر دیا تھا۔
1061
Sahih
قیام کی طوالت اور رکوع و سجود کی کثرت کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۰۶۲)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ)۔ یَا أَبَا فَاطِمَۃَ! أَکْثِرْ مِنَ السُّجُوْدِ فَاِنَّہُ لَیْسَ مِنْ رَجُلٍ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: مِنْ مُسْلِمٍ، بَدْلَ رَجُلٍ) یَسْجُدُ لِلّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی سَجْدَۃً اِلَّا رَفَعَہُ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی بِہَا دَرَجَۃً۔)) (مسند أحمد: ۱۵۶۱۳)
۔ (دوسری سند) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اے ابو فاطمہ! کثرت سے سجدے کیا کرو، کیونکہ جو مسلمان اللہ تعالیٰ کے لیے سجدہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو بلحاظ درجہ کے بلند کر دیتا ہے۔
Takhreej
(۱۰۶۲) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
1062
Sahih
قیام کی طوالت اور رکوع و سجود کی کثرت کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۰۶۳)۔عَنْ زَیَادِ بْنِ أَبِیْ زَیَادٍ مَوْلَی بَنِیْ مَخْزُوْمٍ عَنْ خَادِمٍ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلٍ أَوِ امْرَأَۃٍ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِمَّا یَقُوْلُ لِلْخَادِمِ: ((أَلَکَ حَاجَۃٌ؟)) قَالَ: حَتّٰی کَانَ ذَاتَ یَوْمٍ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! حَاجَتِیْ، قَالَ: ((وَمَا حَاجَتُکَ؟)) قَالَ: حَاجَتِیْ أَنْ تَشْفَعَ لِیْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، قَالَ: ((وَمَنْ دَلَّکَ عَلٰی ہٰذَا؟)) قَالَ: رَبِّیْ، قَالَ: ((اِمَّا لَا فَأَعِنِّیْ بِکَثْرَۃِ السُّجُوْدِ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۱۷۳)
مولائے بنو مخزوم زیادبن ابو زیاد، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ایک خادم یا خادمہ سے بیان کرتا ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اپنے خادم سے کہا کرتے تھے: کیا تیری کوئی ضرورت ہے؟ ایک دن اس خادم نے کہہ دیا: اے اللہ کے رسول! میری ایک ضرورت ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تیری کیا ضرورت ہے؟ اس نے کہا: میری ضرورت یہ ہے کہ آپ قیامت کے دن میری سفارش کریں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اور کس نے اس چیز پر تیری رہنمائی کی ہے؟ اس نے کہا: میرے ربّ نے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اگر اس ضرورت کے بغیر کوئی چارۂ کار نہیں ہے تو کثرت ِ سجود کے ذریعے میری مدد کر۔
Takhreej
(۱۰۶۳) تخریج: انظر الحدث بالطریق الاول
1063
Sahih
قیام کی طوالت اور رکوع و سجود کی کثرت کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۰۶۴)۔عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِیْ طَلْحَۃَ الْیَعْمُرِیِّ قَالَ: لَقِیْتُ ثَوْبَانَ مَوْلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: أَخْبِرْنِیْ بِعَمَلٍ أَعْمَلُہُ یُدْخِلُنِیَ اللّٰہُ بِہِ الْجَنَّۃَ أَوْ قَالَ: قُلْتُ: بِأَحَبِّ الْأَعْمَالِ اِلَی اللّٰہِ، فَسَکَتَ ثُمَّ سَأَلْتُہُ الثَّالِثَۃَ فَقَالَ: سَأَلْتُ عَنْ ذٰلِکَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((عَلَیْکَ بِکَثْرَۃِ السُّجُوْدِ، فَاِنَّکَ لَا تَسْجُدُ لِلّٰہِ سَجْدَۃً اِلَّا رَفَعَکَ اللّٰہُ بِہَا دَرَجَۃً وَحَطَّ عَنْکَ بِہَا خَطِیْئَۃً۔)) قَالَ مَعْدَانُ: ثُمَّ لَقِیْتُ أَبَا الدَّرْدَائِ فَسَأَلْتُہُ فَقَالَ لِیْ مِثْلَ مَا قَالَ لِیْ ثَوْبَانُ۔ (مسند أحمد: ۲۲۷۳۵)
معدان بن ابی طلحہ یعمری کہتے ہیں: میں مولائے رسول سیدنا ثوبان ؓ کو ملا اور کہا: مجھے ایسا عمل بتائیں کہ اگر میں اس کو ادا کروں تو اللہ تعالیٰ مجھے جنت میں داخل کر دے، یا کہا: مجھے اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے محبوب عمل کی خبر دیجئے، پس وہ خاموش رہے، (پھر میں نے ان سے سوال کیا، لیکن وہ خاموش رہے) پھر جب میں نے تیسری دفعہ سوال کیا تو انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اس کے بارے میں سوال کیا تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کثرتِ سجود کا اہتمام کر، کیونکہ جب بھی تو سجدہ کرے گا، اللہ تعالیٰ تیرا ایک درجہ بلند کر دے گا اور تیرا ایک گناہ مٹا دے گا۔ معدان کہتے ہیں: پھر میں سیدنا ابو درداءؓ کو ملا اور ان سے بھی یہی سوال کیا اور انھوں نے بھی مجھے وہی جواب دیا، جو سیدنا ثوبانؓ نے دیا تھا۔
Takhreej
(۱۰۶۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۴۸۸(انظر: ۲۲۳۷۷)
1064
Sahih
نمازِ فجر اور نمازِ عصر کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۰۶۵)۔ عَنْ أَبِیْ جَمْرَۃَ الضُّبَعِیِّ عَنْ أَبِیْ بَکْرٍ عَنْ أَبِیْہِ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ صَلَّی الْبَرْدَیْنِ دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۸۵۰)
ابو بکر اپنے باپ (سیدنا ابو موسی اشعری)ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس نے ٹھنڈے وقت کی دو نمازیں پڑھیں، وہ جنت میں داخل ہو گا۔
Takhreej
(۱۰۶۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۷۴، ومسلم: ۶۳۵ (انظر: ۱۶۷۳۰)
Explanation
فوائد:… عام علماء ان دو نمازوں سے عصر اور فجر کی نمازیں مراد لیتے ہیں۔ برد کا معنی ٹھنڈا ہے۔ عصر کا وقت دن کے باقی وقت کے لحاظ سے ٹھنڈا ہوتا ہے اور فجر کا وقت رات کے باقی وقت کے لحاظ سے ٹھنڈا ہوتا ہے۔ دوسری توجیہ یہ بھی کی جاتی ہے کہ برد کا معنی کنارہ ہے، دو کناروں کی نمازیں۔ نمازِ عصر دن کے کنارے اور نمازِ فجر رات کے کنارے میں پڑھی جاتی ہے۔ (عبداللہ رفیق)
1065
Sahih
نمازِ فجر اور نمازِ عصر کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۰۶۶)۔ عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ رُوَیْبَۃَ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: سَأَلَہُ رَجُلٌ مِنْ أَھْلِ الْبَصْرَۃِ قَالَ: أَخْبِرْنِیْ مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَا یَلِجُ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: لَنْ یَلِجَ) النَّارَ أَحَدٌ صَلّٰی قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ أَْنْ تَغْرُبَ)) قَالَ: آنْتَ سَمِعْتَہُ مِنْہُ؟ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم) قَالَ: سَمِعَتْہُ أُذُنَایَ وَوَعَاہُ قَلْبِیْ، فقَالَ الرَّجُلُ: وَاللّٰہِ! لَقَدْ سَمِعْتُہُ یَقُوْلُ ذٰلِکَ۔ (مسند أحمد: ۱۸۴۸۶)
اہل بصرہ میں سے ایک آدمی نے رویبہ سے سوال کرتے ہوئے کہا: تم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے جو بات سنی، اس کی مجھے بھی خبر دیجئے، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: وہ آدمی جنت میں داخل نہیں ہو گا، (اور ایک روایت میں ہے گر گز داخل نہ ہوگا) جو طلوع آفتاب سے پہلے والی اور غروبِ آفتاب سے پہلے والی نماز ادا کرتا ہے۔ اس نے کہا: کیا تم نے واقعی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سنا ہے؟ انھوں نے کہا: میرے کانوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سنا ہے اور دل نے اس بات کو یاد کیا ہے۔ اس بندے نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے بھی یہ کہتے ہوئے سنا تھا۔
Takhreej
(۱۰۶۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۶۳۴ (انظر: ۱۸۲۹۷)
1066
Sahih
نمازِ فجر اور نمازِ عصر کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۰۶۷)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِنَّ لِلّٰہِ مَلَائِکَۃً، یَتَعَاقَبُوْنَ مَلَائِکَۃَ اللَّیْلِ وَمَلَائِکَۃَ النَّہَارِفَیَجْتَمِعُوْنَ فِیْ صَلَاۃِ الْفَجْرِ وَصَلَاۃِ الْعَصْرِ، ثُمَّ یَعْرُجُ اِلَیْہِ الَّذِیْنَ کَانُوْا فِیْکُمْ فَیَسْأَلُہُمْ وَھُوَ أَعْلَمُ، فَیَقُوْلُ: کَیْفَ تَرَکْتُمْ عِبَادِیْ؟ فَیَقُوْلُوْنَ: تَرَکْنَاہُمْ یُصَلُّوْنَ وَأَتَیْنَاہُمْ یُصَلُّوْنَ۔)) (مسند أحمد: ۷۴۸۳)
سیدنا ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ہیں، وہ یکے بعد دیگرے آتے ہیں، وہ رات کے اور دن کے فرشتے ہیں، جو فجر اور عصر کی نمازوں میں جمع ہوتے ہیں، پھر وہ اللہ کی طرف چڑھ جاتے ہیں، جو تمہارے اندر ہوتے ہیں اور اللہ ان سے سوال کرتا ہے، جبکہ وہ زیادہ جاننے والا ہے، پس پوچھتا ہے: تم نے میرے بندوںکو کس حالت میں چھوڑا؟ وہ کہتے ہیں: ہم نے ان کو اس حالت میں چھوڑا کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے اور جب ان کے پاس گئے تھے تو اس وقت بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے۔
Takhreej
(۱۰۶۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۵۵، ومسلم: ۶۳۲(انظر: ۷۴۹۱)
1067
Sahih
نمازِ فجر اور نمازِ عصر کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۰۶۸)۔عَنْ فَضَالَۃَ اللَّیْثِیِّؓ قَالَ: اَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاَسْلَمْتُ، وَعَلَّمَنِیْ حَتّٰی عَلَّمَنِیَ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ لِمَوَاقِیْتِھِنَّ، قَالَ: فَقُلْتُ لَہٗ: اِنَّ ھٰذِہٖ لَسَاعَاتٌ اُشْغَلُ فِیْھَا فَمُرْنِیْ بِجَوَامِعَ۔ فَقَالَ لِیْ: ((اِنْ شُغِلْتَ فَلَا تُشْغَلْ عَنِ الْعَصْرَیْنِ۔)) قُلْتُ: وَمَا الْعَصْرَانِ؟ قَالَ: ((صَلَاۃُ الْغَدَاۃِ وَصَلَاۃُ الْعَصْرِ۔))(مسند أحمد: ۱۹۲۳۳)
سیدنا فضالہ لیثی ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس گیا اور مسلمان ہو گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مجھے تعلیم دی اور اوقات سمیت پانچ نمازیں سکھائیں، لیکن میں نے کہا: یہ تو میری مصروفیت کی گھڑیاں ہیں، آپ مجھے اس سے مختصر حکم دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اگر تو مصروف رہتا ہے تو تجھے دو عصروں سے مشغول نہیں ہونا چاہیے۔ میں نے کہا: دو عصریں کون سی ہوتی ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: نمازِ فجر اور نمازِ عصر۔
Takhreej
(۱۰۶۸) تخریج: حدیث ضعیف صحیحہ دیکھیں۔ أخرجہ ابوداود: ۴۲۸ (انظر: ۱۹۰۲۴)
1068
Zaeef
نمازِ فجر اور نمازِ عصر کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۰۶۹)۔ عَنْ جَرِیْرٍ، قَالَ: کُنَّا عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیْلَۃَ الْبَدْرِ، فَقَالَ: ((اِنَّکُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّکُمْ عَزَّوَجَلَّ کَمَا تَرَوْنَ الْقَمَرَ، لَا تُضَامُوْنَ فِیْ رُؤْیَتِہِ، فَاِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَا تُغْلَبُوْا عَلَی ہَاتَیْنِ الصَّلَاتَیْنِ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوْبِ۔)) ثُمَّ تَلَا ہٰذِہِ الْآیَۃَ {فَسَبِّحْ بِحَمْدِ َربِّکَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوْبِہَا۔} قَالَ شُعْبَۃُ (أَحَدُ الرُّوَاۃِ): لَا أَدْرِیْ قَالَ فَاِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَوْ لَمْ یَقُلْ۔ (مسند أحمد: ۱۹۴۰۴)
سیدنا جریر ؓ کہتے ہیں: ہم بدر والی رات کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک تم اپنے پروردگار کو ایسے ہی دیکھو گے، جیسا کہ چاند کو دیکھتے ہو، اور اس کی رؤیت میں تم پر کوئی زیادتی نہیں کی جائے گی، پس اگر تمہیں طاقت ہو تو طلوع آفتاب اور غروبِ آفتاب سے پہلے والی نمازوں کے معاملے میں مغلوب نہ ہو جانا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے یہ آیت تلاوت کی: پس سورج کے طلوع ہونے اور سورج کے غروب ہونے سے پہلے اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کر۔ شعبہ کہتے ہے: میں یہ نہیں جانتا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فَاِنِ اسْتَطَعْتُمْ الفاظ ارشاد فرمائے تھے یا نہیں۔
Takhreej
(۱۰۶۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۵۴، ۴۸۵۱، ۷۴۳۴، ومسلم: ۶۳۳ (انظر: ۱۹۱۹۰)
1069
Sahih
نفلی نماز کی فضیلت اور نوافل کے ذریعے فرائض کی کمی کو پورا کرنے کا بیان
۔ (۱۰۷۰)۔ عَنْ أَبِیْ أُمَامَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((مَا أَذِنَ اللّٰہُ لِعَبْدٍ فِیْ شَیْئٍ أَفْضَلَ مِنْ رَکْعَتَیْنِ یُصَلِّیْہُمَا، وَاِنَّ الْبِرَّ لَیُذَرُّ فَوْقَ رَأْسِ الْعَبْدِ مَا دَامَ فِیْ صَلَاتِہِ، وَمَا تَقَرَّبَ الْعِبَادُ اِلَی اللّٰہِ بِمِثْلِ مَا خَرَجَ مِنْہُ۔)) یَعْنِیْ الْقُرْآنَ۔ (مسند أحمد: ۲۲۶۶۲)
سیدنا ابو امامہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے بندے کی کسی ایسی چیز کو کان لگا کر نہیں سنا، جو اس کی ادا کی ہوئی دو رکعتوں سے زیادہ افضل ہو اور جب تک بندہ نماز میں رہتا ہے، اس کے سر پر نیکی چھڑکی جاتی ہے اور لوگوں نے کسی ایسے عمل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل نہیں کیا، جو عمل اس چیز جیسا ہو، جو اللہ تعالیٰ سے صادر ہوئی ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی مراد قرآن مجید تھی۔
Takhreej
(۱۰۷۰) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف بکر بن خنیس ولیث بن ابی سلیم۔ أخرجہ الترمذی: ۲۹۱۱ (انظر: ۲۲۳۰۶)
1070
Zaeef
نفلی نماز کی فضیلت اور نوافل کے ذریعے فرائض کی کمی کو پورا کرنے کا بیان
۔ (۱۰۷۱)۔عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((صَلَاۃُ الرَّجُلِ فِیْ بَیْتِہِ نَوْرٌ فَمَنْ شَائَ نَوِّرْ بَیْتَہُ۔)) (مسند أحمد: ۸۶)
سیدنا عمر بن خطاب ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: گھر میں بندے کا نماز پڑھنا نور ہے، پس جو چاہتا ہے، اپنے گھر کو منوّر کر لے۔
Takhreej
(۱۰۷۱) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ الرجل الذی روی عنہ عاصم۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۱۳۷۵ (انظر: ۸۶)
1071
Zaeef
نفلی نماز کی فضیلت اور نوافل کے ذریعے فرائض کی کمی کو پورا کرنے کا بیان
۔ (۱۰۷۲)۔عَنْ أَنَسِ بْنِ حَکِیْمِ نِ الضَّبِّیِّ أَنَّہُ خَافَ زَمَنَ زَیَادٍ أَوِ ابْنِ زَیَادٍ فَأَتَی الْمَدِیْنَۃَ فَلَقِیَ أَبَاھُرَیْرَۃَؓ، قَالَ: فَانْتَسَبَنِیْ فَانْتَسَبْتُ لَہُ فَقَالَ: یاَ فَتٰی أَلَا أُحَدِّثُکَ حَدِیْثًا لَعَلَّ اللّٰہَ أَنْ یَنْفَعَکَ بِہِ؟ قُلْتُ: بَلٰی! رَحِمَکَ اللّٰہُ، قَالَ: ((اِنَّ أَوَّلَ مَا یُحَاسَبُ بِہِ النَّاسُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مِنَ الصَّلَاۃِ، قَالَ: یَقُوْلُ رَبُّنَا عَزَّوَجَلَّ لِمَلَائِکَتِہِ وَھُوَ أَعْلَمُ: أُنْظُرُوْا فِیْ صَلَاۃِ عَبْدِیْ أَتَّمَہَا أَمْ نَقَصَہَا؟ فَاِنْ کَانَتْ تَامَّۃً کُتِبَتْ لَہُ تَامَّۃً وَاِنْ کَانَ انْتَقَصَ مِنْہَا شَیْئًاقَالَ: انْظُرُوْا ھَلْ لِعَبْدِیْ مِنْ تَطَوُّعٍ؟ فَاِنْ کَانَ لَہُ تَطَوُّعٌ قَالَ: أَتِمُّوْا لِعَبْدِیْ فَرِیْضَتَہُ مِنْ تَطَوُّعِہِ، ثُمَّ تُؤْخَذُ الْأَعْمَالُ عَلَی ذٰلِکُمْ۔)) قَالَ یُوْنُسُ (أَحَدُ الرُّوَاۃِ): وَأَحْسِبُہُ قَدْ ذَکَرَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم۔ (مسند أحمد: ۹۴۹۰)
انس بن حکیم ضبّی کہتے ہیں: میں زیاد یا ابن زیاد کے زمانے میں ڈرنے لگا، اس لیے مدینہ منورہ میں سیدنا ابو ہریرہؓ کے پاس آگیا، انھوں نے مجھ سے نسب دریافت کیا، میں نے وہ بیان کر دیا، پھر انھوں نے کہا: اے نوجوان! کیا میں تم کو ایک حدیث بیان نہ کر دوں، ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے تجھے کوئی فائدہ دے دے؟ میں نے کہا: جی کیوں نہیں، اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے، انھوں نے کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک پہلی چیز کہ جس کے بارے میں روزِ قیامت بندوں کا محاسبہ کیا جائے گا، وہ نماز ہے۔ ہمارا ربّ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے کہے گا، جبکہ وہ سب سے زیادہ جاننے والا ہے: تم میرے بندے کی نماز کو دیکھو، کیا اس نے اس کو پوری طرح ادا کیا ہے یا ناقص؟ پس اگر وہ پوری ہوئی تو اس کے لیے پوری لکھی جائے گی اور اگر اس میں کوئی نقص ہوا تو اللہ تعالیٰ کہے گا: تم دیکھو کہ کیا میرے بندے کی کوئی نفلی نماز ہے؟ پس اگر اس کی نفلی نماز ہوئی تو وہ کہے گا: میرے بندے کی فرض نماز کو اس کی نفل نماز کے ذریعے پورا کر دو، پھر باقی اعمال کا محاسبہ بھی اسی طرح کیا جائے گا۔
Takhreej
(۱۰۷۲) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۸۶۴ (انظر: ۹۴۹۴)
1072
Sahih
نفلی نماز کی فضیلت اور نوافل کے ذریعے فرائض کی کمی کو پورا کرنے کا بیان
۔ (۱۰۷۳)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔ قَالَ: قَالَ لِیْ أَبُوْ ہُرَیْرَۃَ: اِذَا أَتَیْتَ أَھْلَ مِصْرَ فَأَخْبِرْہُمْ أَنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((أَوَّلُ شَیْئٍ مِمَّا یُحَاسَبُ بِہِ الْعَبْدُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ صَلَاتُہُ الْمَکْتُوْبَۃُ، فَاِنْ صَلَحَتْ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَاِنْ أَتَّمَہَا) وَاِلَّا زِیْدَ فِیْھَا مِنْ تَطَوُّعِہِ ثُمَّ یُفْعَلُ بِسَائِرِ الْأَعْمَالِ الْمَفْرُوْضَۃِ کَذٰلِکَ)) (مسند أحمد: ۷۸۸۹)
۔ (دوسری سند) سیدنا ابوہریرہؓ نے مجھے کہا: جب تو مصر والوں کے پاس جائے تو ان کو بتانا کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: پہلی چیز کہ جس کا بندے سے قیامت کے روز محاسبہ کیا جائے گا، وہ فرضی نماز ہے، پس اگر وہ مکمل ہوئی تو ٹھیک، وگرنہ اس کی نفلی نماز اس کی کمی کو پورا کیا جائے گا، پھر باقی تمام فرضی اعمال کے ساتھ یہی معاملہ اختیار کیا جائے گا۔
Takhreej
(۱۰۷۳) حدیث صحیح۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۱۴۲۵، والنسائی: ۱/ ۲۳۳، والترمذی: ۴۱۳ (انظر: ۷۹۰۲)
1073
Sahih
نفلی نماز کی فضیلت اور نوافل کے ذریعے فرائض کی کمی کو پورا کرنے کا بیان
۔ (۱۰۷۴)۔عَنْ یَحْیَی بْنِ یَعْمَرَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلمقَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((أَوَّلُ مَا یُحَاسَبُ بِہِ الْعَبْدُ صَلَاتُہُ، فَاِنْ کَانَ أَتَّمَہَا کُتِبَتْ لَہُ تَامَّۃً وَاِنْ لَمْ یَکُنْ أَتَّمَہَا قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: اُنْظُرُوْا ھَلْ تَجِدُوْنَ لِعَبْدِیْ مِنْ تَطَوُّعٍ فَتُکَمِّلُوْا بِہَا فَرِیْضَتَہُ، ثُمَّ الزَّکَاۃُ کذٰلِکَ ثُمَّ تُؤْخَذُ الْأَعْمَالُ عَلَی حَسْبِ ذٰلِکَ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۷۳۱)
ایک صحابی ٔ رسول بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: پہلی چیز کہ جس کا بندے سے محاسبہ کیا جائے گا، وہ اس کی نماز ہے، پس اگر اس نے اس کو مکمل کیا ہو گا تو وہ پوری لکھ دی جائے گی اور اگر اس میں کمی کی ہو گی تو اللہ تعالیٰ کہے گا: دیکھو، کیا تم میرے بندے کی کوئی نفلی نماز پاتے ہو، پس اسی سے اس کی فرض نماز کو پورا کر دو، پھر زکاۃ کا بھی اسی طرح محاسبہ کیا جائے گا اور پھر دوسرے اعمال کا بھی۔
Takhreej
(۱۰۷۴) تخریج: اسنادہ صحیح (انظر: ۱۶۶۱۴)
1074
Sahih
نماز کے معاملے میں سستی کرنے والے یا اس کو اس کے وقت سے لیٹ کرنے والے کی وعید کا بیان
۔ (۱۰۷۵)۔حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عَمْروٍ ثَنَا خَارِجَۃُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ مِنْ وَلَدِ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ عن أَبِیْہِ قَالَ: اِنْصَرَفْنَا مِنَ الظُّہْرِ مَعَ خَارِجَۃَ بْنِ زَیْدٍ فَدَخَلْنَا عَلَی أَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ فَقَالَ: یَا جَارِیَۃُ! اُنْظُرِیْ ھَلْ حَانَتِ الصَّلَاۃُ؟ قَالَ: قَالَت: نَعَمْ، فَقُلْنَا لَہُ: اِنَّمَا اِنْصَرَفْنَا مِنَ الظُّہْرِ الْآنَ مَعَ الْاِمَامِ، قَالَ: فَقَامَ فَصَلَّی الْعَصْرَ ثُمَّ قَالَ: ہٰکَذَا کَانَ یُصَلِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم۔ (مسند أحمد: ۱۳۲۷۲)
عبد اللہ بن سلیمان بن زید بن ثابت کہتے ہیں: ہم ظہر سے فارغ ہو کر خارجہ بن زید کے ساتھ سیدنا انس بن مالکؓ کے پاس گئے، انھوں نے کہا: لڑکی! دیکھو، کیا نماز کا وقت ہو گیا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، پس ہم نے ان سے کہا: ہم تو ابھی امام کے ساتھ ظہر پڑھ کر فارغ ہوئے ہیں، بہرحال انھوں نے عصر کی نماز پڑھی اور کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تو اس طرح نماز پڑھتے تھے۔
Takhreej
(۱۰۷۵) تخریج: حدیث صحیح (انظر: ۱۳۲۳۹)
1075
Sahih
نماز کے معاملے میں سستی کرنے والے یا اس کو اس کے وقت سے لیٹ کرنے والے کی وعید کا بیان
۔ (۱۰۷۶)۔عَنْ زَیَادِ بْنِ أَبِیْ زَیَادٍ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍؓ قَالَ: اِنْصَرَفْتُ مِنَ الظُّہْرِ أَنَا وَعُمَرُ حِیْنَ صَلَّاہَا ہِشَامُ بْنُ اِسْمَاعِیْلَ بِالنَّاسِ اِذْ کَانَ عَلَی الْمَدِیْنَۃِ اِلَی عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِیْ طَلْحَۃَ نَعُوْدُہُ فِیْ شَکْوٰی لَہُ، قَالَ: فَمَا قَعَدْنَا، مَا سَأَلْنَا عَنْہُ اِلَّا قِیَامًا، قَالَ: ثُمَّ انْصَرَفْنَا فَدَخَلْنَا عَلَی أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ فِیْ دَارِہِ وَہِیَ اِلٰی جَنْبِ دَارِ أَبِیْ طَلْحَۃَ، قَالَ: فَلَمَّا قَعَدْنَا أَتَتْہُ الْجَارِیَۃُ فَقَالَتْ: اَلصَّلَاۃَ یَا أَبَا حَمْزَۃَ! قَالَ: قُلْنَا: اَیُّ الصَّلَاۃِ رَحِمَکَ اللّٰہُ؟ قَالَ: الْعَصْرُ، قَالَ: فَقُلْنَا: اِنَّمَا صَلَّیْنَا الظُّہْرَ الْآنَ، قَالَ: فَقَالَ: اِنَّکُمْ تَرَکْتُمُ الصَّلَاۃَ حَتّٰی نَسِیْتُمُوْہَا، أَوْ قَالَ: نُسِّیْتُمُوْہَا حَتّٰی تَرَکْتُمُوْہَا، اِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَۃُ کَہَاتَیْنِ۔)) وَمَدَّ اِصْبَعَہُ السَّبَّابَۃَ وَالْوُسْطٰی۔ (مسند أحمد: ۱۳۵۱۷)
مولائے ابن عباس زیاد بن ابی زیاد کہتے ہیں: میں اور عمر نمازِ ظہر سے فارغ ہوئے، مدینہ کے گورنر ہشام بن اسماعیل نے نماز پڑھائی تھی، پھر ہم عمرو بن عبد اللہ بن ابی طلحہ کی تیمار داری کرنے کے لیے ان کی طرف گئے، وہ بیمار تھے، پس ہم ان کے پاس بیٹھے نہیں، کھڑے کھڑے ہی ان کا حال دریافت کر لیا اور پھر ہم وہاں سے پلٹ کر سیدنا انس بن مالکؓ کے پاس ان کے گھر میں گئے، ان کا گھر ابو طلحہ کے گھر کے پہلو میں تھا، ہم ان کے پاس بیٹھے ہی تھے کہ ایک لڑکی نے آ کر کہا: ابو حمزہ! نماز پڑھو، ہم نے کہا: اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے، کون سی نماز؟ انھوں نے کہا: نمازِ عصر، ہم نے کہا: ہم نے تو ابھی ابھی ظہر کی نماز پڑھی ہے، انھوں نے کہا: تم نے نماز کو چھوڑ دیا ہے، یہاں تک کہ تم اس کو بھول گئے ہو، یا کہا: تم کونماز اس طرح بھلا دی گئی ہے کہ تم نے اس کو چھوڑ دیا ہے، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: مجھے اور قیامت کو ان دو انگلیوں کی طرح (قریب قریب کر کے) بھیجا گیا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنی انگشت ِ شہادت اور درمیانی انگلی کو کھڑا کر کے اشارہ کیا۔
Takhreej
(۱۰۷۶) تخریج: اسنادہ حسن۔ أخرج البخاری فی التاریخ الکبیر : ۳/ ۳۵۵ المرفوع منہ (انظر: ۱۳۴۸۳)
1076
Sahih
نماز کے معاملے میں سستی کرنے والے یا اس کو اس کے وقت سے لیٹ کرنے والے کی وعید کا بیان
۔ (۱۰۷۷)۔عَنْ عَلِیٍّؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((ثَلَاثَۃٌ یَا عَلِیُّ لَا تُؤَخِّرُہُنَّ، اَلصَّلَاۃُ اِذَا اَتَتْ وَالْجَنَازَۃُ اِذَا حَضَرَتْ وَالْأَیِّمُ اِذَا وَجَدْتَ کُفُوًا۔)) (مسند أحمد: ۸۲۸)
سیدنا علیؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اے علی! تین چیزوں کو لیٹ نہیں کرنا، نماز جب اس کا وقت آ جائے، جنازہ جب حاضر ہو جائے اوروہ عورت کہ جس کا خاوند نہ، جب تو اس کے لیے کوئی مناسب آدمی پا لے۔
Takhreej
(۱۰۷۷) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ سعید بن عبد اللہ الجھنی۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۱۴۸۶، والترمذی: ۱۷۱، ۱۰۷۵ (انظر: ۸۲۸)
1077
Zaeef
نماز کے معاملے میں سستی کرنے والے یا اس کو اس کے وقت سے لیٹ کرنے والے کی وعید کا بیان
۔ (۱۰۷۸)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍؓ أَنَّ الرَّجُلَ أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: اِنَّ فُلَانًا نَامَ الْبَارِحَۃَ عَنِ الصَّلَاۃِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((ذَاکَ الشَّیْطَانُ بَالَ فِیْ أُذُنِہِ، أَوْ فِیْ أُذُنَیْہِ۔)) (مسند أحمد: ۳۵۵۷)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا اور کہا: بیشک فلاں آدمی آج رات نماز سے بھی سویا رہا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: شیطان اس آدمی کے کانوں میں پیشاب کر گیا۔
Takhreej
(۱۰۷۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۱۴۴، ومسلم: ۷۷۴ (انظر: ۳۵۵۷)
1078
Sahih
نماز کے معاملے میں سستی کرنے والے یا اس کو اس کے وقت سے لیٹ کرنے والے کی وعید کا بیان
۔ (۱۰۷۹)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند أحمد: ۷۵۲۸)
سیدنا ابو ہریرہ ؓ نے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔
Takhreej
(۱۰۷۹) تخریج: صحیح لغیرہ (انظر: ۷۵۳۷)
1079
Sahih
نماز کے معاملے میں سستی کرنے والے یا اس کو اس کے وقت سے لیٹ کرنے والے کی وعید کا بیان
۔ (۱۰۸۰)۔عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((سَیَکُوْنُ مِنْ بَعْدِیْ أَئِمَۃٌ یُمِیْتُوْنَ الصَّلَاۃَ عَنْ مَوَاقِیْتِہَا، فَصَلُّوْا الصَّلَاۃَ لِوَقْتِہَا وَاجْعَلُوْا صَلَاتَکُمْ مَعَہُمْ سُبْحَۃً۔)) (مسند أحمد: ۱۷۲۵۲)
سیدنا شداد بن اوس ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میرے بعد ایسے حکمران ہوں گے کہ وہ نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کر دیں گے، پس تم نماز کو اس کے وقت پر ادا کر لینا اور ان کے ساتھ پڑھی جانے والی نماز کو نفلی بنا لینا۔
Takhreej
(۱۰۸۰) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ البزار: ۳۹۳، والطبرانی فی الکبیر : ۷۱۵۵ (انظر: ۱۷۱۲۲)
1080
Sahih

Chapters

14
01
نماز کی فرضیت اور اس کے فرض ہونے کے وقت کا بیان
7 Hadith
02
پانچ نمازوں کی فضیلت کا بیان اور اس چیز کا بیان کہ یہ گناہوں کا کفارہ بنتی ہیں
14 Hadith
03
علی الاطلاق نماز کی فضیلت کے بارے میں
12 Hadith
04
نماز کے انتظار اور مسجدوں کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
15 Hadith
05
نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنے اور اس کا سب سے افضل عمل ہونے کا بیان
7 Hadith
06
قیام کی طوالت اور رکوع و سجود کی کثرت کی فضیلت کا بیان
9 Hadith
07
نمازِ فجر اور نمازِ عصر کی فضیلت کا بیان
5 Hadith
08
نفلی نماز کی فضیلت اور نوافل کے ذریعے فرائض کی کمی کو پورا کرنے کا بیان
5 Hadith
09
نماز کے معاملے میں سستی کرنے والے یا اس کو اس کے وقت سے لیٹ کرنے والے کی وعید کا بیان
11 Hadith
10
جان بوجھ کر یا نشے کی وجہ سے نماز کو ترک کرنے والے کی وعید کا بیان
2 Hadith
11
تارکِ نماز کو کافر قرار دینے کی دلیل کا بیان
3 Hadith
12
ان لوگوں کی دلیل کا بیان کہ جنھوں نے تارکِ نماز کو کافر نہیں قرار دیا اور اس کے لیے وہی امید رکھی جو کبیرہ گناہوں والوں کے لیے رکھی جاتی ہے
1 Hadith
13
ان حالات کا بیان جو نماز کو پیش آئے
1 Hadith
14
بچوں کو نماز کا حکم دینے کا بیان اور ان لوگوں کی تفصیل کہ جن سے قلم اٹھا لیا گیا ہے
5 Hadith
No chapter matched that.