TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نماز کی کتاب - نماز کی کتاب - Book 20 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 20 of Musnad Ahmad, with 14 chapters and 97 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

97 Hadith · 14 Chapters
پانچ نمازوں کی فضیلت کا بیان اور اس چیز کا بیان کہ یہ گناہوں کا کفارہ بنتی ہیں
۔ (۱۰۲۲)۔ عَنْ أَبِیْ أَیُّوْبَ الْأَنْصَارِیِّؓ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقُوْلُ: ((اِنَّ کُلَّ صَلَاۃٍ تَحُطُّ مَا بَیْنَ یَدَیْہَا مِنْ خَطِیْئَۃٍ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۸۹۹)
سیدنا ابو ایوب انصاریؓ سے مروی ہے کہ نبیِ کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک ہر نماز اپنے سے پہلے والے گناہوں کو مٹا دیتی ہے۔
Takhreej
(۱۰۲۲) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۳۸۷۹(انظر: ۲۳۵۰۳)
1022
Sahih
علی الاطلاق نماز کی فضیلت کے بارے میں
۔ (۱۰۲۳)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ: مَا ہَجَّرْتُ اِلَّا وَجَدْتُّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ، قَالَ: فَصَلّٰی ثُمَّ قَالَ: أَشْکَنْبْ دَرْدْ، قَالَ: قُلْتُ: لَا، قَالَ: ((قُمْ فَصَلِّ فَاِنَّ فِی الصَّلَاۃِ شِفَائً۔)) (مسند أحمد: ۹۰۵۴)
سیدنا ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں جب بھی نماز کے اول میں جاتا تھا کہ تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو نماز پڑھتے ہوئے پاتا تھا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے نماز پڑھی اور پھر فرمایا: کیا تیرے پیٹ میں درد ہے؟ میں نے کہا: جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تو پھر کھڑا ہو جا اور نماز پڑھ، کیونکہ نماز میں شفا ہے۔
Takhreej
(۱۰۲۳) تخریج: اسنادہ ضعیف، ذوّاد ابو المنذر ضعیف، وکذا لیث بن ابی سلیم۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۳۴۵۸(انظر: ۹۰۶۶)
Explanation
فوائد:… أَشْکَنْبْ دَرْدْ یہ فارسی زبان کے الفاظ ہیں، جس کے معانی ہیں: کیا تیری پیٹ میں کوئی بیماری ہے۔
1023
Zaeef
علی الاطلاق نماز کی فضیلت کے بارے میں
۔ (۱۰۲۴)۔وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: اِنَّ فُلَانًا یُصَلِّیْ بِاللَّیْلِ فَاِذَا أَصْبَحَ سَرَقَ، قَالَ: ((اِنَّہُ سَیَنْہَاہُ مَا یَقُوْلُ۔)) (مسند أحمد: ۹۷۷۷)
سیدنا ابو ہریرہؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ ایک آدمی،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا اور اس نے کہا: فلاں آدمی رات کو نماز پڑھتا ہے، لیکن جب صبح ہوتی ہے تو چوری کرنا شروع کر دیتا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: عنقریب یہ نماز والا عمل اس کو ایسا کرنے سے روک دے گا۔
Takhreej
(۱۰۲۴) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ البزار: ۷۲۰، وابن حبان: ۲۵۶۰(انظر: ۹۷۷۸)
1024
Sahih
علی الاطلاق نماز کی فضیلت کے بارے میں
۔ (۱۰۲۵)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِنَّ الشَّیْطَانَ قَدْ أَیِسَ أَنْ یَعْبُدَہُ الْمُصَلُّوْنَ وَلَکِنْ فِی التَّحْرِیْشِ بَیْنَہُمْ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۰۰۲)
سیدنا جابر بن عبداللہ انصاریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک شیطان اس بات سے نا امید ہو چکا ہے (کہ جزیرۂ عرب میں) نمازی اس کی عبادت کریں، لیکن وہ انھیں آپس میں لڑائی اور فساد پر آمادہ کرتا رہے گا۔
Takhreej
(۱۰۲۵) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۸۱۲(انظر: ۱۴۹۴۰)
Explanation
فوائد:… بعض شارحین نے کہا: حدیث ِ مبارکہ کا معنی و مفہوم یہ ہے کہ شیطان اس بات سے ناامید ہو چکا ہے کہ جزیرۂ عرب میں کوئی مؤمن مرتد ہو کر بتوں کی پوجا پاٹ کرنا شروع کر دے اور اپنے شرک کی طرف پلٹ جائے۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ مسیلمہ کے اصحاب اور مانعینِ زکوۃ وغیرہ مرتد ہو گئے تھے، تو اس کا جواب یہ دیا جائے گا کہ انھوں نے کسی بت کی عبادت نہیں کی تھی۔ لیکن ملا علی قاری نے کہا: اس حدیث سے تو یہ پتہ چلتا ہے کہ شیطان کی دعوت عام ہے، جو کفر کی تمام انواع پر مشتمل ہے اور صرف بتوں کی عبادت کے ساتھ خاص نہیں ہے، زیادہ بہتر یہ ہے کہ اس حدیث کو اس مفہوم پر محمول کیا جائے کہ نمازی لوگ نماز کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ شیطان کی عبادت نہیں کریں گے، جیسا کہ یہودیوں اور عیسائیوں نے کیا تھا۔ (دیکھیں: تحفۃ الاحوذی: ۳/ ۱۲۷) اس حدیث کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ جس طرح نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی آمد سے پہلے شیطان جزیرۂ عرب میں غالب تھا اور شرک و بدعت عام تھے، دوبارہ وہ اس طرح کا غلبہ نہیں پا سکے گا۔
1025
Sahih
علی الاطلاق نماز کی فضیلت کے بارے میں
۔ (۱۰۲۶)۔وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((مِفْتَاحُ الْجَنَّۃِ الصَّلَاۃُ وَمِفْتَاحُ الصَّلَاۃِ الطُّہُوْرُ)) (مسند أحمد: ۱۴۷۱۶)
سیدنا جابربن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جنت کی چابی نماز ہے اور نماز کی چابی وضو ہے۔
Takhreej
(۱۰۲۶) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف سلیمان بن قرم وابی یحییٰ القتات، لکن للشطر الثانی منہ شاھدان یقوِّیانہ۔ أخرجہ الترمذی: ۴(انظر: ۱۴۶۶۲)
1026
Zaeef
علی الاطلاق نماز کی فضیلت کے بارے میں
۔ (۱۰۲۷)۔عَنْ عُثْمَانَ (بْنِ عَفَّانَ)ؓ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ عَلِمَ أَنَّ الصَّلٰوۃَ حَقٌّ وَاجِبٌ دَخَلَ الْجَنَّۃَ)) (مسند أحمد: ۴۲۳)
سیدنا عثمان بن عفانؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس نے یہ جان لیا کہ نماز حق اور واجب ہے، وہ جنت میں داخل ہوگا۔
Takhreej
(۱۰۲۷) تخریج: اسنادہ ضعیف، عبد الملک بن عبید السدوسی مجھول۔ أخرجہ البزار: ۴۳۹، وعبد بن حمید: ۴۹(انظر: ۴۲۳)
1027
Zaeef
علی الاطلاق نماز کی فضیلت کے بارے میں
۔ (۱۰۲۸)۔عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((حُبِّبَ اِلَیَّ مِنَ الدُّنْیَا النِّسَائُ وَالطِّیْبُ وَجُعِلَ قُرَّۃُ عَیْنِیْ فِی الصَّلٰوۃِ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۳۱۹)
سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: دنیا میں سے عورتوں اور خوشبو کو میرا محبوب بنا دیا گیا ہے اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز کے اندر رکھی گئی ہے۔
Takhreej
(۱۰۲۸) تخریج: اسنادہ حسن۔ أخرجہ النسائی: ۷/ ۶۱(انظر: ۱۲۲۹۴)
1028
Sahih
علی الاطلاق نماز کی فضیلت کے بارے میں
۔ (۱۰۲۹)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((قَالَ لِیْ جِبْرِیْلُُؑ: اِنَّہُ قَدْ حُبِّبَ اِلَیْکَ الصَّلٰوۃُ، فَخُذْ مِنْہَا مَا شِئْتَ)) (مسند أحمد: ۲۲۰۵)
سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جبریلؑ نے مجھے کہا: بیشک نماز کو آپ کو محبوب قرار دیا گیا ہے، پس اس میں سے جتنی چاہیں، پڑھیں۔
Takhreej
(۱۰۲۹) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف علی بن زید ، ولین یوسف بن مھران۔ أخرجہ الطبرانی: ۱۲۹۲۹، وعبد بن حمید: ۶۶۶ (انظر: ۲۲۰۵)
1029
Zaeef
علی الاطلاق نماز کی فضیلت کے بارے میں
۔ (۱۰۳۰)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِؓ قَالَ: أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم النُّعْمَانُ بْنُ قَوْقَلٍ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنْ حَلَّلْتُ الْحَلَالَ وَحَرَّمْتُ الْحَرَامَ وَصَلَّیْتُ الْمَکْتُوْبَاتِ وَلَمْ أَزِدْ عَلَی ذٰلِکَ أَ أَدْخُلُ الْجَنَّۃَ؟ فَقَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((نَعَمْ)) (مسند أحمد: ۱۴۴۴۷)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے کہ کہ سیدنا نعمان بن قوقلؓ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس تشریف لائے اور کہا: اے اللہ کے رسول! اگر میں حلال کو حلال سمجھوں، حرام کو حرام سمجھوں اور فرضی نمازیں ادا کرتا رہوں اور اس سے زائد کچھ نہ کروں تو کیا میں جنت میں داخل ہو جاؤں گا؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں۔
Takhreej
(۱۰۳۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۵ (انظر: ۱۴۳۹۴)
1030
Sahih
علی الاطلاق نماز کی فضیلت کے بارے میں
۔ (۱۰۳۱)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِیَّۃِ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَبِیْ عَلَی صِہْرٍ لَنَا مِنَ الْأَنْصَارِ فَحَضَرَتِ الصَّلٰوۃُ، فَقَالَ: یَاجَارِیَۃُ! ائْتِیْنِیْ بِوَضُوْئٍ لَعَلِّیْ أُصَلِّیْ فَأَسْتَرِیْحَ فَرَآنَا أَنْکَرْنَا ذَاکَ عَلَیْہِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((قُمْ یَا بِلَالُ! فَأَرِحْنَا بِالصَّلٰوۃِ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۵۴۱)
عبد اللہ بن محمد بن حنفیہ کہتے ہیں: میں اپنے باپ کے ساتھ اپنے انصاری سسرال کے پاس گیا، وہاں نماز کا وقت ہو گیا، میرے باپ نے کہا: او بچی! وضو کا پانی لاؤ، تاکہ میں نماز پڑھ کر راحت حاصل کروں، لیکن جب انھوں نے دیکھا کہ ہم ان راحت والے الفاظ کا انکار کر رہے ہیں تو انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: بلال! اٹھو اور نماز کے ساتھ مجھے راحت پہنچاؤ۔
Takhreej
(۱۰۳۱) تخریج: رجالہ ثقات۔ أخرجہ ابوداود: ۴۹۸۶(انظر: ۲۳۱۵۴)
1031
Sahih
علی الاطلاق نماز کی فضیلت کے بارے میں
۔ (۱۰۳۲)۔عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِؓ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا حَزَبَہُ أَمْرٌ صَلّٰی۔ (مسند أحمد: ۲۳۶۸۸)
سیدنا حذیفہ بن یمان ؓ سے مروی ہے کہ جب کوئی معاملہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو غمزدہ کر دیتا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نماز پڑھتے۔
Takhreej
(۱۰۳۲) تخریج: اسنادہ ضعیف، محمد بن عبید اللہ ابوقدامۃ مجھول، وعبد العزیز، قال الذھبی: لا یعرف، ومع ذالک وثقہ العجلی وابن حبان۔ أخرجہ ابوداود: ۱۳۱۹(انظر: ۲۳۲۹۹)
1032
Zaeef
علی الاطلاق نماز کی فضیلت کے بارے میں
۔ (۱۰۳۳)۔عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَؓ قَالَتْ: کَانَ مِنْ آخِرِ وَصِیَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اَلصَّلٰوۃَ الصَّّلٰوۃَ وَمَا مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ۔)) حَتّٰی جَعَلَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُلَجْلِجُہَا فِیْ صَدْرِہِ وَمَا یَفِیْضُ بِہَا لِسَانُہُ۔ (مسند أحمد: ۲۷۰۱۶)
سیدہ ام سلمہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی آخری وصیت کے یہ الفاظ تھے: نماز کو لازم پکڑنا، نماز کو لازم پکڑنا اور اپنے غلاموں کے ساتھ احسان کرنا۔ یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان الفاظ کو سینے میں دوہرانا شروع کر دیا، اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی زبان کو اظہار کرنے کی طاقت نہیں رہی تھی۔
Takhreej
(۱۰۳۳) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ۔ أخرجہ النسائی فی الکبری : ۷۰۹۸، وابویعلی: ۶۹۳۶، والطحاوی فی شرح مشکل الآثار : ۳۲۰۳ (انظر: ۲۶۴۸۳)
1033
Sahih
علی الاطلاق نماز کی فضیلت کے بارے میں
۔ (۱۰۳۴)۔عَنْ عَلِیٍّ ؓ قَالَ: کَانَ آخِرُ کَلَامِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اَلصَّلَاۃَ الصَّلَاۃَ، اِتَّقُوْا اللّٰہَ فِیْمَا مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ۔)) (مسند أحمد: ۵۸۵)
سیدنا علی ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا آخری کلام یہ تھا: نماز کو لازم پکڑنا، نماز کو لازم پکڑنا اور اپنے غلاموں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈر کر رہنا۔
Takhreej
(۱۰۳۴) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۵۱۵۶، وابن ماجہ: ۲۶۹۸ (انظر: ۵۸۵)
1034
Sahih
نماز کے انتظار اور مسجدوں کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۰۳۵)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْروِ (بْنِ الْعَاصِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا) صَلَّیْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَغْرِبَ فَعَقَّبَ مَنْ عَقَّبَ وَرَجَعَ مَنْ رَجَعَ فَجَائَ رَسُوْلُ اللّٰہِ وَقَدْ کَادَ یَحْسِرُ ثِیَابَہُ عَنْ رُکْبَتَیْہِ، فَقَالَ: ((أَبْشِرُوْا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِیْنَ، ھٰذَا رَبُّکُمْ قَدْ فَتَحَ بَابًا مِنْ أَبْوَابِ السَّمَائِ یُبَاہِیْ بِکُمُ الْمَلَائِکَۃَ، یَقُوْلُ: ہٰؤُلَائِ عِبَادِیْ قَضَوْا فَرِیْضَۃً وَہُمْ یَنْتَظِرُوْنَ أُخْرٰی)) (مسند أحمد: ۶۷۵۰)
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاصؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ نمازِ مغرب ادا کی، پس بیٹھنے والے بیٹھ گئے اور واپس جانے والے واپس چلے گئے، پس اچانک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تشریف لائے، جبکہ قریب تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اپنے گھٹنوں سے کپڑے اٹھا دیں اور فرمایا: مسلمانوں کی جماعت! خوش ہو جاؤ، یہ تمہارا ربّ، اس نے آسمان کے دروازوں میں سے ایک دروازہ کھولا اور تمہاری وجہ سے فرشتوں پر فخر کرتے ہوئے کہا: یہ میری بندے ہیں، ایک فرض ادا کر چکے ہیں اور دوسرے فرض کا انتظار کر رہے ہیں۔
Takhreej
(۱۰۳۶) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
1035
Sahih
نماز کے انتظار اور مسجدوں کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۰۳۶)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخربِنَحْوِہِ وفِیْہِ قَالَ) فَجَائَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَبْلَ أَنْ یَثُوْرَالنَّاسُ لِصَلَاۃِ الْعِشَائِ فَجَائَ وَقَدْ حَفَزَہُ النَّفَسُ رَافِعًا اِصْبَعَہُ ہٰکَذَا وَعَقَدَ تِسْعًاوَ عِشْرِیْنَ وَأَشَارَ بِاِصْبَعِہِ السَّبَّابَۃِ اِلَی السَّمَائِ وَھُوَ یَقُوْلُ: ((أَبْشِرُوْا، (فَذَکَرَ نَحْوَ مَا تَقَدَّمَ وَفِیْہِ) یَقُوْلُ: مَلَائِکَتِیْ! اُنْظُرُوْا اِلَی عِبَادِیْ أَدَّوْا فَرِیْضَۃً وَہُمْ یَنْتَظِرُوْنَ أُخْرٰی۔)) (مسند أحمد: ۶۷۵۱)
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: قبل اس کے کہ لوگ نمازِ عشا کے لیے جلدی جلدی جمع ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تشریف لائے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا سانس پھولا ہوا تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنی انگلی کو اس طرح اٹھایا ہوا تھا، پھر انھوں نے انتیس کی گرہ لگا کر کیفیت کو واضح کیا، اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنے انگشت ِ شہادت کے ذریعے آسمان کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: خوش ہو جاؤ، … سابق حدیث کی طرح بات ذکر کی… اللہ تعالیٰ کہتا ہے: میرے فرشتو! تم میرے بندوں کی طرف دیکھو، ایک فریضہ ادا کر چکے ہیں اور دوسرے کا انتظار کر رہے ہیں۔
Takhreej
(۱۰۳۶) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
1036
Sahih
نماز کے انتظار اور مسجدوں کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۰۳۷)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مُنْتَظِرُالصَّلَاۃِ بَعْدَ الصَّلَاۃِ کَفَارِسٍ اشْتَدَّ بِہِ فَرَسُہُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ عَلَی کَشْحِہِ تُصَلِّیْ عَلَیْہِ مَلَائِکَۃُ اللّٰہِ مَالَمْ یُحْدِثْ أَوْ یَقُوْمُ وَھُوَ فِی الرِّبَاطِ الْأَکْبَرِ۔)) (مسند أحمد: ۸۶۱۰)
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنے والے کی مثال اس گھوڑ سوار کی ہے، جس کو اس کا گھوڑا اسے اپنی پشت پر سوار کر کے اللہ کے راستے میں اپنے دشمن کی طرف گھوڑے پر تیزی سے دوڑا جا رہا ہو، جب تک انتظار کرنے والایہ شخص بے وضو نہیں ہو جاتا، اس وقت تک فرشتے اس کے لیے دعائے رحمت کرتے رہتے ہیں، جبکہ وہ آدمی رباطِ اکبر میں ہوتا ہے۔
Takhreej
(۱۰۳۷) تخریج: اسنادہ حسن۔ أخرجہ الطبرانی فی الاوسط : ۸۱۴۰ (انظر: ۸۶۲۵)
1037
Sahih
نماز کے انتظار اور مسجدوں کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۰۳۸)۔وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((أَلَا أَدُلُّکُمْ عَلَی مَا یَرْفَعُ اللّٰہُ بِہِ الدَّرَجَاتِ وَیُکَفِّرُ بِہِ الْخَطَایَا، اِسْبَاغُ الْوُضُوْئِ فِیْ المْکَارِہِ وَکَثْرَۃُ الْخُطَا اِلَی الْمَسَاجِدِ وَاِنْتِظَارُ الصَّلَاۃِ بَعْدَ الصَّّلَاۃِ۔)) (مسند أحمد: ۷۲۰۸)
سیدنا ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کیا میں ایسے اعمال پر تمہاری رہنمائی نہ کر دوں کہ جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ درجات کو بلند کرتا ہے اور گناہوں کو مٹاتا ہے، (وہ اعمال یہ ہیں:) ناپسند حالتوں کے باوجود وضو مکمل کرنا، مسجدوں کی طرف زیادہ چل کر جانا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا۔
Takhreej
(۱۰۳۸) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۵۱ (انظر: ۷۲۰۹)
1038
Sahih
نماز کے انتظار اور مسجدوں کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۰۳۹)۔وَعَنْہُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((کُلُّ خُطْوَۃٍ یَخْطُوْہَا اِلَی الصَّلَاۃِ یُکْتَبُ لَہُ بِہَا حَسَنَۃٌ وَیُمْحٰی بِہَا عَنْہُ سَیِّئَۃٌ۔)) (مسند أحمد: ۷۷۸۸)
سیدنا ابو ہریرہؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ہر قدم، جو بندہ نماز کے لیے اٹھاتا ہے، اس کی وجہ سے ایک نیکی لکھی جاتی ہے اور ایک برائی معاف کر دی جاتی ہے۔
Takhreej
(۱۰۳۹) اسنادہ صحیح۔ أخرج مسلم: ۶۶۶ بلفظ: من تطھر فی بیتہ ثم مشی الی بیت من بیوت اللہ، لیقضی فریضۃ من فرائض اللہ، کانت خطوتاہ احداھما تحط خطیئۃ والاخری ترفع درجۃ۔ (انظر: ۷۸۰۱)
1039
Sahih
نماز کے انتظار اور مسجدوں کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۰۴۰)۔(وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍِ)۔ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مِنْ حِیْنَ یَخْرُجُ أَحَدُکُمْ مِنْ بَیْتِہِ اِلٰی مَسْجِدِہِ فَرِجْلٌ تَکْتَبُ حَسَنَۃً وَالْأُخْرٰی تَمْحُوْ سَیِّئَۃً)) (مسند أحمد:۸۲۴۰)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب سے تم میں سے کوئی آدمی اپنے گھر سے مسجد کی طرف نکلتا ہے تو ایک قدم کے بدلے نیکی لکھی جاتی ہے اور دوسرے قدم کے عوض برائی مٹا دی جاتی ہے۔
Takhreej
(۱۰۴۰) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
1040
Sahih
نماز کے انتظار اور مسجدوں کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۰۴۱)۔وَعَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لَا یَزَالُ أَحَدُکُمْ فِیْ صَلَاۃِ مَادَامَ یَنْتَظِرُ الَّتِیْ بَعْدَہَا وَلَا تَزَالُ الْمَلَائِکَۃُ تُصَلِّیْ عَلٰی أَحَدِکُمْ مَادَامَ فِیْ مَسْجِدِہِ، تَقُوْلُ: اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلَہُ اَللّٰہُمَّ ارْحَمْہُ مَا لَمْ یُحْدِثْ۔))، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ حَضَرَمَوْتَ: وَمَا ذٰلِکَ الْحَدَثُ یَا أَبَاہُرَیْرَۃَ؟ قَالَ: اِنَّ اللّٰہَ لَا یَسْتَحْیِیْ مِنَ الْحَقِّ، اِنْ فَسَا أَوْ ضَرَطَ۔ (مسند أحمد: ۷۸۷۹)
سیدنا ابوہریرہؓ سے یہ بھی مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم میں سے وہ آدمی اس وقت تک نماز میں رہتا ہے، جب تک بعد والی نماز کا انتظار کرتا رہتا ہے اور جب تک آدمی (نماز کی ادائیگی کے بعد) اپنی جائے نماز میں رہتا ہے، فرشتے اس کے لیے دعائے رحمت کرتے ہوئے کہتے ہیں: اے اللہ! اس کو بخش دے اور اس پر رحم فرما، جب تک بے وضو نہیں ہو جاتا۔ حضرموت کے ایک آدمی نے کہا: ابو ہریرہ! حَدَث (یعنی بے وضو ہو جانے) سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے کہا: بیشک اللہ تعالیٰ حق سے نہیں شرماتا، اس سے مراد پھسکی چھوڑنا یا گوز مارنا ہے۔
Takhreej
(۱۰۴۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۴۷۷، ومسلم: ص ۴۵۹ (انظر: ۷۸۹۲)
1041
Sahih

Chapters

14
01
نماز کی فرضیت اور اس کے فرض ہونے کے وقت کا بیان
7 Hadith
02
پانچ نمازوں کی فضیلت کا بیان اور اس چیز کا بیان کہ یہ گناہوں کا کفارہ بنتی ہیں
14 Hadith
03
علی الاطلاق نماز کی فضیلت کے بارے میں
12 Hadith
04
نماز کے انتظار اور مسجدوں کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
15 Hadith
05
نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنے اور اس کا سب سے افضل عمل ہونے کا بیان
7 Hadith
06
قیام کی طوالت اور رکوع و سجود کی کثرت کی فضیلت کا بیان
9 Hadith
07
نمازِ فجر اور نمازِ عصر کی فضیلت کا بیان
5 Hadith
08
نفلی نماز کی فضیلت اور نوافل کے ذریعے فرائض کی کمی کو پورا کرنے کا بیان
5 Hadith
09
نماز کے معاملے میں سستی کرنے والے یا اس کو اس کے وقت سے لیٹ کرنے والے کی وعید کا بیان
11 Hadith
10
جان بوجھ کر یا نشے کی وجہ سے نماز کو ترک کرنے والے کی وعید کا بیان
2 Hadith
11
تارکِ نماز کو کافر قرار دینے کی دلیل کا بیان
3 Hadith
12
ان لوگوں کی دلیل کا بیان کہ جنھوں نے تارکِ نماز کو کافر نہیں قرار دیا اور اس کے لیے وہی امید رکھی جو کبیرہ گناہوں والوں کے لیے رکھی جاتی ہے
1 Hadith
13
ان حالات کا بیان جو نماز کو پیش آئے
1 Hadith
14
بچوں کو نماز کا حکم دینے کا بیان اور ان لوگوں کی تفصیل کہ جن سے قلم اٹھا لیا گیا ہے
5 Hadith
No chapter matched that.