سیدنا عاصم بن عبیداللہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک میرے بعد عنقریب ایسے حکمران آئیں گے جو بسا اوقات وقت پر نماز پڑھیں گے اور کبھی کبھار اس کو وقت سے مؤخر کر دیں گے، پس اگر وہ وقت پر نماز پڑھیں اور تم بھی ان کے ساتھ پڑھو تو اس کا ثواب تمہارے لیے بھی ہو گا اور ان کے لیے بھی، لیکن اگر وہ نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کر دیں اور تم بھی ان کے ساتھ پڑھو، تو تمہیں تو ثواب ملے گا، لیکن اس کا وبال ان پر ہو گا، جوجماعت سے علیحدہ ہو گیا، وہ جاہلیت کی موت مرے گا اور جس نے معاہدہ توڑ دیا، عہد کو توڑنے والے کی حیثیت سے ہی مرے گا اور قیامت کے روز وہ اس حال میں آئے گا کہ اس کے حق میں کوئی حجت نہیں ہو گی۔
سیدنا کعب بن عجرہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں مسجد ِ نبوی میں بیٹھا ہوا تھا، ہم سات افراد اِس مسجد کی قبلہ والی دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھے تھے، چار ہمارے غلام تھے اور ہم تین عرب تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے، یہاں تک ہمارے پاس پہنچے، یہ نمازِ ظہر کا وقت تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کس چیز نے یہاں بٹھایا ہوا ہے؟ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نماز کا انتظار کر رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھوڑی دیر کے لیے خاموش ہو گئے اور پھر اپنا سر مبارک اٹھایا اور فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ تمہارا ربّ کیا کہتا ہے؟ ہم نے کہا: جی اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک تمہارا ربّ کہتا ہے: جس نے بروقت نماز ادا کی اور اس کی مکمل حفاظت کی اور اس کے حق کو ہلکا سمجھتے ہوئے اس کو ضائع نہیں کیا، پاس اس کے لیے مجھ پر عہد ہے کہ میں اس کو جنت میں داخل کروں گا، اور جس نے نماز کو وقت پر ادا نہ کیا اور اس کی مکمل حفاظت نہ کی اور اس کے حق کو ہلکا سمجھتے ہوئے اس کو ضائع کر دیا، اس کے لیے میرا کوئی عہد نہیں ہے، اگر میں چاہوں تو اس کو عذاب دوں اور چاہوں تو معاف کر دوں۔
صحابیٔ رسول سیدنا ابو یسر کعب بن عمرو انصاری ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں کوئی آدمی پوری نماز پڑھتا ہے، کوئی نصف ادا کرتا ہے، کوئی ایک تہائی اور کوئی ایک چوتھائی، …۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دسویں حصے تک پہنچ گئے۔
سیدنا نوفل بن معاویہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کی نماز اس سے رہ گئی تو گویا کہ اس کا اہل اور مال اس سے چھین لیے گئے۔
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز کو اس کے آخری وقت میں دو دفعہ ادا نہیں کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فوت کر دیا تھا۔
Takhreej
(۱۰۸۵) تخریج: اسنادہ ضعیف، اسحاق بن عمر لم یسمع من عائشۃ، ثم انہ مجھول۔ أخرجہ الترمذی: ۷۴ (انظر: ۲۴۶۱۴)
سیدہ ام ایمن ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جان بوجھ کر نماز ترک نہ کر، پس بیشک جس نے نماز چھوڑ دی، اس سے اللہ اور اس کے رسول کا ذمہ بری ہو جائے گا۔
Takhreej
(۱۰۸۶) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، مکحول الشامی لم یسمع من ام ایمن۔ أخرجہ البیھقی: ۷/ ۳۰۴ (انظر: ۲۷۳۶۴)
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے نشے کی وجہ سے ایک دفعہ نماز چھوڑ دی، پس گویا کہ ساری دنیا اور وما علیہا اس کا تھا اور وہ اس سے چھین لیا گیا، اور جس نے نشے کی وجہ سے چار مرتبہ نماز ترک کر دی، تو اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ اس کو طِیْنَۃُ الْخَبَال سے پلائے گا۔ کسی نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! طِیْنَۃُ الْخَبَال کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہنمیوں سے بہنے والا خون اور پیپ۔
سیدنا بریدہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہمارے اور ان کے درمیان نماز کاعہد ہے، جس نے اس کو چھوڑ دیا، تو یقینا اس نے کفر کیا۔
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن نماز کا ذکر کیا اور فرمایا: جس نے نماز کی اچھی طرح حفاظت کی تو یہ اس کے لیے قیامت کے روز نور، دلیل اور نجات ہو گی اور جس نے اس کی پوری طرح حفاظت نہ کی تو یہ اس کے لیے قیامت کے دن نہ نور ہو گی، نہ دلیل اور نہ نجات اور ایسا آدمی قارون، فرعون، ہامان اور ابی بن خلف کے ساتھ ہو گا۔
سیدنا عبادہ بن صامتؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے منہ مبارک سے میرے منہ کی طرف ارشاد فرمایا، میں یہ نہیں کہتا کہ فلاں فلاں نے مجھے بیان کیا ہے، بہرحال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پانچ نمازیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے اُن کو اپنے بندوں پر فرض کیاہے، جو بندہ اس حال میں اللہ تعالیٰ کو ملا کہ اس نے نمازوں میں سے کسی چیز کو ضائع نہیں کیا، تو وہ اس کو اس حال میں ملے گا کہ اس کے حق میں اللہ تعالیٰ کے ہاں معاہدہ ہو گا، اس کے ذریعے وہ اس کو جنت میں داخل کرے گا اور جو آدمی اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے گا کہ اس نے اِن نمازوں کے حق کو ہلکا سمجھ کر ان میں کوئی کمی کر رکھی ہو گی، تو وہ اُس کو اس حال میں ملے گا کہ اس کے لیے کوئی معاہدہ نہیں ہو گا، اگر اللہ نے چاہا تو اس کو عذاب دے گا اور چاہا تو بخش دے گا۔
سیدنا معاذ بن جبلؓ بیان کرتے ہیں کہ نماز کو تین مراحل سے گزارا گیا اور روزوں کی فرضیت بھی تین مراحل میں ہوئی، نماز کے مراحل یہ ہیں: جب نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سترہ ماہ تک بیت اللہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے رہے، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا: ہم آپ کے چہرے کو بار بار آسمان کی طرف اٹھتے ہوئے دیکھ رہے ہیں، اب ہم آپ کو اس قبلہ کی جانب متوجہ کریں گے، جس سے آپ خوش ہو جائیں گے، آپ اپنا منہ مسجد حرام کی طرف پھیر لیں اور آپ جہاںکہیں ہوں اپنا منہ اسی طرف پھیرا کریں۔ پس اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مکہ مکرمہ کی طرف متوجہ کر دیا، یہ ایک مرحلہ تھا، (دوسرے مرحلے کی تفصیل یہ ہے کہ) لوگ نماز کے لیے خود جمع ہوجاتے تھے اور وہ ایک دوسرے کو اِس کا بتلا ابتلا دیتے تھے، یہاں تک کہ قریب تھا کہ وہ ناقوس بجانے لگ جائیں، عبد اللہ بن زید ؓنامی ایک انصاری آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے ایک خواب دیکھا ہے، جیسا کہ سونے والا آدمی دیکھتا ہے، اور اگر میں یہ کہہ دوں کہ میں سویا ہوا نہیں تھا، تو پھر بھی میں سچا ہوں گا، بس یوں سمجھیں کہ میں سونے اور جاگنے کی درمیانی کیفیت میں تھا کہ میں نے ایک آدمی دیکھا، اس پر دو سبز کپڑے تھے، پس وہ قبلہ رخ ہوا اور کہا: اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، أَشْہَدُ أَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ دو دفعہ، یہاں تک کہ وہ اذان سے فارغ ہوا اور تھوڑی دیر ٹھہر کر پھر اسی طرح کے کلمات دوہرائے، البتہ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ کے الفاظ کا اضافہ کر دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم بلال کو یہ کلمات سکھا دو، وہ ان کے ذریعے اذان دے۔ پس سیدنا بلال ؓوہ شخصیت ہیں، جنھوں نے سب سے پہلے اذان دی، ان کی اذان سن کر سیدنا عمر بن خطاب ؓتشریف لائے اور کہا: اے اللہ کے رسول! (اذان سکھانے والے) اسی قسم کے ایک فرد نے میرا چکر بھی لگایا ہے، جیسا کہ اس انصاری کا چکر لگایا ہے، بس فرق یہ ہے کہ اس نے مجھ سے پہلے آپ کو اطلاع دے دی ہے، یہ دو تبدیلیاں ہوں گئیں۔ (تیسری تبدیلی اس طرح ہوئی کہ) جب لوگ نماز پڑھنے کے لیے آتے تھے، جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے پہلے بعض رکعتیں پڑھا چکے ہوتے تھے تو وہ دوسرے آدمی کی طرف اشارہ کرتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتنی رکعتیں پڑھ چکے، جب وہ جواب دیتا کہ ایک دو رکعتیں پڑھی جا چکی ہیں تو لیٹ آنے والا آدمی پہلے ان دو رکعتوں کو پورا کرتا اور پھر لوگوں کے ساتھ جماعت میں مل جاتا۔ ایک دن سیدنا معاذ ؓآئے اور کہا: میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جس حالت پر پاؤں گا، اسی کو اختیار کر لوں گا، پھر جتنی رکعتیں مجھ سے پہلے پڑھی جا چکی ہوں گی، ان کو میں بعد میں پورا کر لوں گا۔ پس جب وہ آئے تو نبیِ کریم واقعی کچھ رکعتیں پڑھا چکے تھے، پس وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہی مل گئے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی نماز پوری کی تو سیدنا معاذ ؓکھڑے ہو کر فوت ہو جانے والی رکعتوں کی قضائی دینے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُن کو دیکھ کر فرمایا: بیشک شان یہ ہے کہ معاذ نے تمہارے لیے ایک طریقہ ایجاد کیا ہے، پس اسی طرح کیا کرو۔ یہ کل تین مراحل ہو گئے۔ رہی تفصیل روزوں کے مراحل کی ……۔ (اس کی تفصیل کتاب الصیام کے شروع میں آئے گی۔)
Takhreej
(۱۰۹۲) تخریج: علامہ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے اسے أخرجہ ابوداود: ۵۰۶، ۵۰۷، والترمذی: ۵۹۱ (انظر: ۲۲۱۲۴)
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے بچوں کو نماز کا حکم دینا شروع کر دو، جب ان کی عمر سات سال ہو جائے اور جب ان کی عمر دس سال ہو جائے تو (نماز میں سستی کی صورت میں) اُن کو سزا بھی دو اور بستروں میں اُن کو علیحدہ علیحدہ کر دو۔
سیدنا سبرہ جہنیؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب بچے کی عمر سات سال ہو جائے تو اس کو نماز کا حکم دیا جائے اور جب دس سال ہو جائے تو (نماز چھڑنے پر) اس کی پٹائی بھی کی جائے۔
سیدنا علی ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین افراد سے قلم اٹھا لیا گیا ہے، بچے سے حتیٰ کہ وہ بالغ ہو جائے، سونے والے سے حتیٰ کہ وہ بیدار ہو جائے اور مجنون سے حتیٰ کہ اس کی وہ کیفیت زائل ہو جائے۔
سیدنا علی ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین افراد سے قلم اٹھا لیا گیا ہے، بچے سے حتیٰ کہ وہ بالغ ہو جائے، سونے والے سے حتیٰ کہ وہ بیدار ہو جائے اور مجنون سے حتیٰ کہ اس کی وہ کیفیت زائل ہو جائے۔
دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین قسم کے افراد سے قلم اٹھا لیا گیا ہے، سونے والے سے حتی کہ وہ بیدار ہو جائے، پاگل سے حتی کہ وہ اس کیفیت سے بری ہو جائے اور بچے سے حتی کہ وہ عقل کرنے لگے۔