TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نماز کی کتاب - نماز کی کتاب - Book 20 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 20 of Musnad Ahmad, with 14 chapters and 97 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

97 Hadith · 14 Chapters
نماز کے انتظار اور مسجدوں کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۰۴۲)۔ عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلَہُ۔ (مسند أحمد: ۱۱۰۲۸)
سیدنا ابو سعید خدری ؓ نے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔
Takhreej
(۱۰۴۲) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم۔ أخرجہ ابوداود: ۴۲۲، وابن ماجہ: ۶۹۳ (انظر: ۱۱۰۱۵)
Explanation
فوائد:… اس حدیث میں اس باب سے متعلقہ الفاظ یہ ہیں: ((وانکم لن تزالوا فی صلاۃ منذ انتظرتموھا)) … اور تم جب سے اس نماز کا انتظار کرتے رہے، نماز میں ہی رہے۔
1042
Sahih
نماز کے انتظار اور مسجدوں کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۰۴۳)۔وَعَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا مِنْکُمْ مِنْ رَجُلٍ یَخْرُجُ مِنْ بَیْتِہِ مُتَطَہِّرًا فَیُصَلِّیْ مَعَ الْمُسْلِمِیْنَ الصَّلَاۃَ ثُمَّ یَجْلِسُ فِی الْمَجْلِسِ یَنْتَظِرُ الصَّلَاۃَ الْأُخْرٰی اِلَّا قَالَتِ الْمَلَائِکَۃُ: اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لَہُ اَللّٰہُمَّ ارْحَمْہُ۔)) (مسند أحمد: ۱۱۰۰۷)
سیدنا ابو سعید خدریؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم میں سے جو آدمی باوضو ہو کر گھر سے نکلتا ہے اور مسلمانوں کے ساتھ نماز ادا کر کے اسی جائے نماز میں اگلی نماز کے انتظار میں بیٹھ جاتا ہے تو فرشتے اس کے حق میں یوں دعا کرتے ہیں: اے اللہ! اس کو بخش دے، اے اللہ! اس پر رحم فرما۔
Takhreej
(۱۰۴۳) تخریج: حدیث حسن۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۴۲۷ (انظر: ۱۰۹۹۴)
1043
Sahih
نماز کے انتظار اور مسجدوں کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۰۴۴)۔عَنْ سَھْلِ بْنِ سَعْدِ (السَّاعَدِیِّ ؓ) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ جَلَسَ فِی الْمَجْلِسِ یَنْتَظِرُ الصَّلَاۃَ فَہُوَ فِی الصَّلَاۃِ)) (مسند أحمد: ۲۳۲۰۰)
سیدنا سہل بن سعد ساعدی ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو آدمی (ایک نماز ادا کرنے کے بعد اسی مجلس میں) دوسری نماز کا انتظار کرتا ہے، وہ نماز میں ہی ہوتا ہے۔
Takhreej
(۱۰۴۴) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ النسائی: ۲/ ۵۵ (انظر: ۲۲۸۱۲)
1044
Sahih
نماز کے انتظار اور مسجدوں کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۰۴۵)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِؓ قَالَ: جَہَّزَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَیْشًا لَیْلَۃً حَتّٰی ذَہَبَ نِصْفُ اللَّیْلِ أَوْ بَلَغَ ذٰلِکَ ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ: ((قَدْ صَلَّی النَّاسُ وَرَقَدُوْا وَأَنْتُمْ تَنْتَظِرُوْنَ ہٰذِہِ الصَّلَاۃَ، أَمَا اِنَّکُمْ فِیْ صَلَاۃِ مَا انْتَظَرْتُمُوْہَا۔)) (مسند أحمد: ۱۵۰۱۲)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ایک رات کو ایک لشکر تیار کیا، یہاں تک کہ نصف رات گزر گئی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ باہر تشریف لائے اور فرمایا: تحقیق دوسرے لوگ نماز پڑھ کر سو گئے ہیں اور تم اِس نمازِ عشا کا انتظار کر رہے ہو، خبردار! بیشک تم جب سے اس نماز کا انتظار کر رہے ہو، نماز میں ہی ہو۔
Takhreej
(۱۰۴۵) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ ابویعلی: ۱۹۳۶ (انظر: ۱۴۹۴۹)
1045
Sahih
نماز کے انتظار اور مسجدوں کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۰۴۶)۔عَنْ حُمَیْدٍ قَالَ: سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ: ھَلِ اتَّخَذَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَاتَمًا؟ قَالَ: نَعَمْ، أَخَّرَ لَیْلَۃً صَلَاۃَ الْعِشَائِ الْآخِرَۃِ اِلَی شَطْرِ اللَّیْلِ، فَلَمَّا صَلّٰی أَقْبَلَ عَلَیْنَا بِوَجْہِہِ فَقَالَ: ((النَّاسُ قَدْ صَلَّوْا وَقَامُوْا وَلَمْ تَزَالُوْا فِیْ صَلَاۃٍ مَا انْتَظَرْتُمُوْہَا۔)) قَالَ أَنَسٌ: کَأَنِّیْ أَنْظُرُ الْآنَ اِلَی وَبِیْصِ خَاتَمِہِ۔ (مسند أحمد: ۱۲۹۱۱)
حُمَید کہتے ہیں: سیدنا انس بن مالک ؓ سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے انگوٹھی پہنی تھی؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ایک رات کو نمازِ عشا کو نصف رات تک مؤخر کر دیا، پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نماز پڑھا چکے تو ہم صحابہ پر متوجہ ہوئے اور فرمایا: (دوسری مسجدوں والے) لوگ یہ نماز پڑھ کر سو چکے ہیں، لیکن تم جب تک اس نماز کے انتظار میں رہے، نماز میں ہی رہے۔ سیدنا انس ؓ نے کہا: گویا کہ میں اب بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی انگوٹھی کی چمک کی طرف دیکھ رہا ہوں۔
Takhreej
(۱۰۴۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۷۲، ۶۶۱،و مسلم: ۶۴۰ (انظر: ۱۲۸۸۰)
1046
Sahih
نماز کے انتظار اور مسجدوں کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۰۴۷)۔عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍؓ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اَنَّہُ قَالَ: ((اِذَا تَطَہَّرَ الرَّجُلُ ثُمَّ أَتَی الْمَسْجِدَ یَرْعَی الصَّلَاۃَ کَتَبَ لَہُ کَاتِبَاہُ أَوْ کَاتِبُہُ بِکُلِّ خُطْوَۃٍ یَخْطُوْہَا اِلَی الْمَسْجِدِ عَشْرَ حَسَنَاتٍ، وَالْقَاعِدُ یَرْعَی الصَّلَاۃَ کَالْقَانِتِ وَیُکْتَبُ مِنَ الْمُصَلِّیْنَ مِنْ حِیْنَ یَخْرُجُ مِنْ بَیْتِہِ حَتّٰی یَرْجِعَ اِلَیْہِ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۵۷۷)
سیدنا عقبہ بن عامر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب بندہ وضو کرکے مسجد کی طرف آتا ہے اور نماز کا انتظار کرتا ہے تو لکھنے والے دونوں یا ایک مسجد کی طرف اس کے اٹھنے والے ہر قدم کے عوض دس نیکیاں لکھتا ہے،اور جو آدمی بیٹھ کر انتظار کر رہا ہوتا ہے، وہ نماز میں قیام کرنے والے کی طرح ہے اور اس آدمی کو گھر سے نکلنے سے لے کر گھر کی طرف لوٹنے تک نمازیوں میں لکھا جاتا ہے۔
Takhreej
(۱۰۴۷) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ ابن خزیمۃ: ۱۴۹۲، وابن حبان: ۲۰۳۸، والحاکم: ۱ /۲۱۱، والبیھقی: ۳/ ۶۳(انظر: ۱۷۴۴۰)
1047
Sahih
نماز کے انتظار اور مسجدوں کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۰۴۸)۔ عَنْ أَبِیْ أُمَامَۃَؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ مَشٰی اِلٰی صَلَاۃٍ مَکْتُوْبَۃٍ وَھُوَ مُتَطَہِّرٌ کَانَ لَہُ کَأَجْرِ الْحَاجِّ الْمُحْرِمِ وَمَنْ مَشٰی اِلٰی سُبْحَۃِ الضُّحٰی کَانَ لَہُ کَأَجْرِ الْمُعْتَمِرِ، وَصَلَاۃٌ عَلَی اَثْرِ صَلَاۃٍ لَا لَغْوَ بَیْنَہُمَا کِتَابٌ فِیْ عِلِّیِّیْنَ۔)) وَقَالَ أَبُوْ أُمَامَۃَ: اَلْغُدُوُّ وَالرَّوَاحُ اِلٰی ہٰذِہِ الْمَسَاجِدِ مِنَ الْجِہَادِ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ۔ (مسند أحمد: ۲۲۶۶۰)
سیدنا ابو امامہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو آدمی باوضو ہو کر فرضی نماز کی طرف چلا، اس کے لیے اس حاجی کا اجر ہو گا، جس نے احرام پہن رکھا ہو، اور جو چاشت کی نماز پڑھنے کے لیے جاتا ہے، اس کے لیے عمرہ کرنے والے کا اجر ہو گا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز، جبکہ ان کے درمیان کوئی لغو کام بھی نہ ہو، یہ ایسا عمل ہے جس کو عِلِّیِّیْن میں لکھ دیا جاتا ہے۔ سیدنا ابو امامہ ؓ نے کہا: ان مسجدوں کی طرف صبح کو جانا اور شام کو جانا جہاد فی سبیل اللہ میں سے ہے۔
Takhreej
(۱۰۴۸) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۵۵۸، ۱۲۸۸(انظر: ۲۲۳۰۴)
1048
Sahih
نماز کے انتظار اور مسجدوں کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۰۴۹)۔ عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّؓ قَالَ: مَنْ قَالَ حِیْنَ یَخْرُجُ اِلَی الصَّلَاۃِ اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ أَسْأَلُکَ بِحَقِّ السَّائِلِیْنَ عَلَیْکَ وَبِحَقِّ مَمْشَایَ فَاِنِّیْ لَمْ أَخْرُجْ أَشَرًا وَلَا بَطَرًا وَلَا رِیَائً وَلَا سُمْعَۃً، خَرَجْتُ اِتِّقَائَ سَخَطِکَ وَابْتِغَائَ مَرَضَاتِکَ أَسْأَلُکَ أَنْ تُنْقِذَنِیْ مِنَ النَّارِ، وَأَنْ تَغْفِرَلِیْ ذُنُوْبِیْ اِنَّہُ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا أَنْتَ، وَکَّلَ اللّٰہُ بِہِ سَبْعِیْنَ أَلْفَ مَلَکٍ یَسْتَغْفِرُوْنَ لَہُ، وَأَقْبَلَ اللّٰہُ عَلَیْہِ بِوَجْہِہِ حَتّٰی یَفْرُغَ مِنْ صَلَاتِہِ۔ (مسند أحمد: ۱۱۱۷۳)
سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جو آدمی نماز کی طرف نکلتے ہوئے یہ کلمات کہتا ہے: اے اللہ! میں تجھ سے تجھ پر سوالیوں کے حق اور اپنے چلنے کے حق کے واسطے سے سوال کرتا ہوں کہ میں فخر، سرکشی، ریاکاری اور شہرت کے لیے نہیں نکلا، بلکہ میں تیرے غصے سے بچنے کے لیے اور تیری رضامندی کو تلاش کرنے کے لیے نکلا ہوں، میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تو مجھے آگ سے بچا اور میرے گناہ بخش دے، بیشک گناہوں کو کوئی نہیں بخشتا مگر تو ہی، تو اللہ تعالیٰ ستر ہزار فرشتوں کو اس ڈیوٹی پر لگاتا ہے کہ وہ اس آدمی کے لیے بخشش طلب کریں اور اللہ تعالیٰ خود اپنے چہرے کے ساتھ ایسے آدمی پر متوجہ ہوتے ہیں، یہاں تک کہ وہ نماز سے فارغ ہو جاتا ہے۔
Takhreej
(۱۰۴۹) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف عطیۃ العوفی، وقد رُوِی موقوفا وھو اشبہ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۷۷۸(انظر: ۱۱۱۵۶)
1049
Zaeef
نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنے اور اس کا سب سے افضل عمل ہونے کا بیان
۔ (۱۰۵۰)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْروٍؓ أَنَّ رَجُلًا جَائَ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَأَلَہُ عَنْ أَفْضَلِ الْأَعْمَالِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اَلصَّلَاۃُ)) قَالَ: ثُمَّ مَہْ؟ قَالَ: (اَلصَّلَاۃُ۔)) قَالَ: ثُمَّ مَہْ؟ قَالَ: ( اَلصَّلَاۃُ) ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ: فَلَمَّا غَلَبَ عَلَیْہِ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اَلْجِہَادُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ۔)) قَالَ الرَّجُلُ: فَاِنَّ لِیْ وَالِدَیْنِ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((آمُرُکَ بِالْوَالِدَیْنِ خَیْرًا۔)) قَالَ: وَالَّذِیْ بَعَثَکَ بِالْحَقِّ نَبِیًّا لَأُجَاہِدَنَّ وَلَأَتْرُکَنَّہُمَا، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((أَنْتَ أَعْلَمُ۔)) (مسند أحمد: ۶۶۰۲)
سیدنا عبداللہ بن عمرو ؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا اور اس نے سب سے افضل عمل کا سوال کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: نماز۔ اس نے کہا: پھر کون سے ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: نماز۔ اس نے کہا: پھر کون سا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: نماز۔ ایسے تین دفعہ ہوا، پھر جب اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر زیادہ سوالات کیے توآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنا۔ اس آدمی نے کہا: میرے والدین بھی زندہ ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میں تجھے والدین کے ساتھ بھلائی کرنے کا حکم دیتا ہوں۔ اس نے کہا: اس ذات کی قسم، جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا! میں ضرور ضرور جہاد کروں گا اور ضرور ضرور ان کو چھوڑ دوں گا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تو خود زیادہ جانتا ہے۔
Takhreej
(۱۰۵۰) تخریج: اسنادہ ضعیف، حیی بن عبد اللہ المعافری ضعیف۔ أخرجہ ابن حبان: ۱۷۲۲(انظر: ۶۶۲)
Explanation
فوائد:… حافظ ابن حجر نے کہا: جمہور اہل علم کا خیال ہے کہ جب والدین دونوں یا ان میں سے کوئی ایک اپنی اولاد کو جہاد سے روک دے تو جہاد حرام ہو جاتا ہے، بشرطیکہ وہ مسلمان ہوں، اس کی وجہ یہ ہے کہ والدین کے ساتھ نیکی کرنا فرضِ عین ہے اور جہاد فرض کفایہ ہے، لیکن جہاد فرضِ عین کے طور پر متعین ہو جائے تو والدین کی اجازت کی کوئی حیثیت نہیں ہو گی۔ (فتح الباری: ۶/ ۱۴۰) جہاد کرنے کے لیے والدین کی اجازت کے بارے سب سے زیادہ صریح روایت حافظ ابن حجر نے بیان کی ہے جو ابو داؤد (۳۵۳۰) میں موجود ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: ((ارجع فاستاُذنہما فان اذنالک فجاہدو الا فبرہما۔)) جا اور اپنے والدین سے اجازت لے اگر وہ اجازت دے دیں تو جہاد کر ورنہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کر۔ اس کی سند میں ابو السمع دراج، ابو الہیثم سے بیان کرتا ہے اور حافظ ابن حجر نے تقریب ص: ۹۸ میں لکھا ہے کہ دراج اگر ابو الہیثم سے بیان کرے تو ضعیف ہوتا ہے۔ اس لیے یہ روایت ضعیف ہے۔ اس کے علاوہ اقوال و استدلالات تو ہیں۔ صریح صحیح حدیث نظر سے نہیں گزری۔ بہرحال جہاد کرنے کے لیے والدین کی اجازت کے شرط ہونے کے لیے کوئی واضح نص ہونی چاہیے۔ (عبداللہ رفیق)
1050
Zaeef
نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنے اور اس کا سب سے افضل عمل ہونے کا بیان
۔ (۱۰۵۱)۔عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اسْتَقِیْمُوْا وَلَنْ تُحْصُوْا (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: اسْتَقِیْمُوْا تُفْلِحُوْا) وَاعْلَمُوْا أَنَّ خَیْرَ أَعْمَالِکُمُ الصَّلَاۃُ وَلَنْ یُحَافِظَ عَلَی الْوُضُوْئِ اِلَّا مُؤْمِنٌ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۸۰۰)
مولائے رسول سیدنا ثوبان ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: راہِ صواب پر چلتے رہو اور تم ہر گز احاطہ نہیں کر سکو گے، ایک روایت میں ہے: تم راہِ صواب پر چلتے رہو، کامیاب ہو جاؤ گے، اور جان لو کہ نماز تمہارا سب سے بہترعمل ہے اور ہر گز وضو کی حفاظت نہیں کرتا مگر مؤمن۔
Takhreej
(۱۰۵۱) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۷۷ (انظر: ۲۲۴۳۶)
1051
Sahih
نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنے اور اس کا سب سے افضل عمل ہونے کا بیان
۔ (۱۰۵۲)۔عَنْ حَنْظَلَۃَ الْکَاتِبِؓ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ حَافَظَ عَلَی الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ رُکُوْعِہِنَّ وَسُجُوْدِہِنَّ وَمَوَاقِیْتِہِنَّ وَعَلِمَ أَنَّہَا حَقٌ مِنْ عِنْدِاللّٰہِ دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔)) أَوْ قَالَ: ((وَجَبَتْ لَہُ الْجَنَّۃُ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: یَرَاہَا حَقًّا لِلّٰہِ حُرِّمَ عَلَی النَّارِ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۵۳۵)
سیدنا حنظلہ کاتب ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس نے پانچ نمازوں کے رکوع، سجود اور اوقات کی اچھی طرح حفاظت کی اور یہ جان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق ہیں، وہ جنت میں داخل ہو گا۔ ایک روایت میں ہے: اس کے لیے جنت واجب ہو جائے گی۔ اور ایک روایت میں ہے: وہ ان نمازوں کو اللہ تعالیٰ کا حق سمجھتا ہے، تو وہ آگ پر حرام ہو جائے گا۔
Takhreej
(۱۰۵۲) تخریج: صحیح بشواہدہ۔ أخرجہ الطبرانی (انظر: ۱۸۳۴۵)
1052
Sahih
نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنے اور اس کا سب سے افضل عمل ہونے کا بیان
۔ (۱۰۵۳)۔ عَنْ أَبِیْ عَمْرٍو الشَّیْبَانِیِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: أَیُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((أَفْضَلُ الْعَمَلِ الصَّلَاۃُ لِوَقْتِہَا وَبِرُّ الْوَالِدَیْنِ وَالْجِہَادُ)) (مسند أحمد: ۲۳۵۰۸)
ایک صحابی ٔ رسول بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے یہ سوال کیا گیا کہ کون سا عمل افضل ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: نماز کو وقت پر ادا کرنا، والدین کے ساتھ نیکی کرنا اور جہاد کرنا افضل اعمال ہیں۔
Takhreej
(۱۰۵۳) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم۔ أخرجہ مختصرا الدارقطنی: ۱/ ۲۴۶، والحاکم: ۱/ ۱۸۹ (انظر: ۲۳۱۲۰)
1053
Sahih
نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنے اور اس کا سب سے افضل عمل ہونے کا بیان
۔ (۱۰۵۴)۔عَنْ أُمِّ فَرْوَۃَؓ وَکَانَتْ قَدْ بَایَعَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ أَفْضَلِ الْعَمَلِ، فَقَالَ: ((اَلصَّلَاۃُ لِأَوَّلِ وَقْتِہَا۔)) (مسند أحمد: ۲۷۶۴۵)
سیدہ ام فروہ ؓ، جنھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بیعت کی تھی، کہتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے افضل عمل کے بارے میں سوال کیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: نمازکو اس کے اول وقت میں ادا کرنا۔
Takhreej
(۱۰۵۴) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابوداود: ۴۲۶(انظر: ۲۷۱۰۴)
1054
Sahih
نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنے اور اس کا سب سے افضل عمل ہونے کا بیان
۔ (۱۰۵۵) (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔ بِنَحْوِہِ۔ (مسند أحمد: ۲۷۶۴۴)
۔ (دوسری سندی) اسی طرح کی روایت بیان کی گئی ہے۔
Takhreej
(۱۰۵۵) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
1055
Sahih
نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنے اور اس کا سب سے افضل عمل ہونے کا بیان
۔ (۱۰۵۵)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ)۔ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ غَنَّامٍ عَنْ جَدَّتِہِ أُمِّ فَرْوَۃَ وَکَانَتْ مِمَّنْ بَایَعَ أَنَّہَا سَمِعْتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَذْکُرُ الْأَعْمَالَ فَقَالَ: ((اِنَّ أَحَبَّ الْعَمَلِ اِلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ تَعْجِیْلُ الصَّلَاۃِ لِأَوَّلِ وَقْتِہَا۔)) (مسند أحمد: ۲۷۶۴۶)
۔ (تیسری سند) سیدہ ام فروہؓ، جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بیعت کرنے والوں میں سے تھیں، کہتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اعمال کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ کو سب سے محبوب عمل یہ ہے کہ نماز کو اس کے پہلے وقت میں معجل کر کے ادا کیا جائے۔
Takhreej
(۱۰۵۵) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
1055
Sahih
قیام کی طوالت اور رکوع و سجود کی کثرت کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۰۵۶)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِؓ قَالَ: سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: أَیُّ الصَّلَاۃِ أَفْضَلُ؟قَالَ: ((طُوْلُ الْقُنُوْتِ)) (مسند أحمد: ۱۴۲۸۲)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے یہ سوال کیا گیا کہ کون سی نماز افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: نماز میں لمبا قیام کرنا۔
Takhreej
(۱۰۵۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۷۵۶ (انظر: ۱۴۲۳۳)
1056
Sahih
قیام کی طوالت اور رکوع و سجود کی کثرت کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۰۵۷)۔ عَنْ أَبِیْ وَائِلٍ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍؓ قَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَاتَ لَیْلَۃٍ فَلَمْ یَزَلْ قَائِمًا حَتَّی ہَمَمْتُ بِأَمْرٍ سَوْئٍ، قُلْنَا: وَمَا ہَمَمْتَ بِہِ؟ قَالَ: ہَمَمْتُ أَنْ أَجْلِسَ وَأَدَعَہُ۔ (مسند أحمد: ۴۱۹۹)
سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ ایک رات کو نماز پڑھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اتنا لمبا قیام کیا کہ میں نے بری چیز کا ارادہ کر لیا۔ ہم نے کہا: تم نے کون سی بری چیز کا ارادہ کیا تھا؟ انھوں نے کہا: میں نے ارادہ کیا کہ میں بیٹھ جاؤں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو چھوڑ دوں۔
Takhreej
(۱۰۵۷) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین۔ أخرجہ ابن خزیمۃ: ۱۱۵۴(انظر: ۴۱۹۹)
1057
Sahih
قیام کی طوالت اور رکوع و سجود کی کثرت کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۰۵۸)۔ عَنْ أَبِیْ اِسْحٰقَ عَنِ الْمُخَارِقِ قَالَ: خَرَجْنَا حُجَّاجًا فَلَمَّا بَلَغْنَا الرَّبَذَۃَ قُلْتُ لِأَصْحَابِیْ: تَقَدَّمُوْا وَتَخَلَّفْتُ فَأَتَیْتُ أَبَا ذَرٍّؓ وَھُوَ یُصَلِّیْ، فَرَأَیْتُہُ یُطِیْلُ الْقِیَامَ وَیُکْثِرُ الرُّکُوْعَ وَالسُّجُوْدَ، فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لَہُ فَقَالَ: مَا أَلَوْتُ أَنْ أُحْسِنَ، اِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ رَکَعَ رَکْعَۃً أَوْ سَجَدَ سَجْدَۃً رُفِعَ بِہَا دَرَجَۃٌ وَحُطَّتْ عَنْہُ بِہَا خَطِیْئَۃٌ۔)) (مسند أحمد: ۲۱۶۳۳)
مخارق کہتے ہیں: ہم لوگ حج کرنے کے لیے نکلے، جب ربذہ مقام پر پہنچے تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: تم آگے چلو، میں خود پیچھے رہ گیا، پس میں سیدنا ابو ذر ؓکیا پاس گیا، جبکہ وہ نماز پڑھ رہے تھے اور میں نے دیکھا کہ وہ لمبا قیام کرتے اور کثرت سے رکوع و سجود کرتے، جب میں نے ان سے اس چیز کا ذکر کیا تو انھوں نے کہا: میں نے عمل کو اچھا بنانے میں کوئی کمی نہیں کی، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے رکوع کیا، یا سجدہ کیا، اس کا ایک درجہ بلند کر دیا جائے گا اور ایک گناہ مٹا دیا جائے گا۔
Takhreej
(۱۰۵۸) حدیث صحیح۔ أخرجہ الدارمی: ۱۴۶۱، والبزار: ۳۹۰۳، والبیھقی: ۳/ ۱۰ (انظر: ۲۱۳۰۸)
1058
Sahih
قیام کی طوالت اور رکوع و سجود کی کثرت کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۰۵۹)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔ عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ عَنْ مُطَرِّفٍ قَالَ: قَعَدْتُ اِلَی نَفَرٍ مِنْ قُرَیْشٍ، فَجَائَ رَجُلٌ فَجَعَلَ یُصَلِّی یَرْکَعُ وَیَسْجُدُ ثُمَّ یَقُوْمُ ثُمَّ یَرْکَعُ وَیَسْجُدُ لَا یَقْعُدُ، فَقُلْتُ: وَاللّٰہِ! مَا أَرٰی ھٰذَا یَدْرِیْ یَنْصَرِفُ عَلٰی شَفْعٍ أَوْ وَتْرٍ، فَقَالُوْا: أَلَا تَقُوْمُ اِلَیْہِ فَتَقُوْلُ لَہُ، قَالَ: فَقُلْتُ: یَا عَبْدَاللّٰہِ! مَا أُرَاکَ تَدْرِیْ تَنْصَرِفُ عَلٰی شَفْعٍ أَوْ وَتْرٍ، قَالَ: وَلٰـکِنَّ اللّٰہَ یَدْرِیْ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ سَجَدَ لِلّٰہِ سَجْدَۃً کَتَبَ اللّٰہُ لَہُ بِہَا حَسَنَۃً وَحَطَّ بِہَا عَنْہُ خَطِیْئَۃً وَرَفَعَ لَہُ بِہَا دَرَجَۃً۔)) فَقُلْتُ: مَنْ أَنْتَ؟ فَقَالَ: أَبُوْذَرٍّ، فَرَجَعْتُ اِلٰی أَصْحَابِیْ فَقُلْتُ: جَزَاکُمُ اللّٰہُ مِنْ جُلَسَائِ شَرًّا، أَمَرْتُمُوْنِیْ أَنْ أُعَلِّمَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم۔ (مسند أحمد: ۲۱۶۴۳)
۔ (دوسری سند) مطرف کہتے ہیں: میں کچھ قریشی افراد کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، پس ایک آدمی آ کر نماز پڑھنے لگا اور رکوع و سجود کرنے لگا، پھر نماز پڑھنے لگا اور رکوع و سجود کرنے لگا اور بیٹھانہیں۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! میرا خیال ہے کہ اس بندے کو تو اتنا بھی پتہ نہیں ہو گا کہ اس نے جفت رکعتیں پڑھیں یا طاق۔ لوگوں نے کہا: کیا تم اس کی طرف جا کر اس کو کہہ نہیں دیتے۔ پس میں نے کہا: اے اللہ کے بندے! میرا تو یہ خیال ہے کہ تجھے یہ بھی پتہ نہیں ہو گا کہ تو نے جفت رکعتیں پڑھ لی ہیں یا طاق۔ اس نے کہا: لیکن اللہ تعالیٰ تو جانتا ہے، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے اللہ تعالیٰ کیلئے سجدہ کیا، اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے اس کیلئے ایک نیکی لکھ دے گا، ایک برائی مٹا دے گا اور ایک درجہ بلند کر دے گا۔ میں نے کہا: تم کون ہو؟ اس نے کہا: میں ابو ذر ہوں، یہ سن کر میں اپنے دوستوں کی طرف واپس آ گیا اور کہا: اللہ تعالیٰ تم کو بیٹھنے والوں کی طرف سے برا بدلہ دے، تم نے مجھے حکم دیا کہ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے صحابہ میں سے ایک فرد کو تعلیم دوں۔
Takhreej
(۱۰۵۹) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
1059
Sahih
قیام کی طوالت اور رکوع و سجود کی کثرت کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۰۶۰)۔ (ومِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ)۔ عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَیْسٍ قَالَ: دَخَلْتُ بَیْتَ الْمَقْدِسِ فَوَجَدْتُّ فِیْہِ رَجُلًا یُکْثِرُ السُّجُوْدَ فَوَجَدْتُّ فِیْ نَفْسِیْ مِنْ ذٰلِکَ، فَلَمَّا اِنْصَرَفَ قُلْتُ: أَتَدْرِیْ عَلٰی شَفْعٍ انْصَرَفْتَ أَمْ عَلٰی وَتْرٍ؟ قَالَ: اِنْ أَکُ لَا أَدْرِیْ فَاِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَدْرِیْ، ثُمَّ قَالَ: أَخْبَرَنِیْ حِبِّیْ أَبُوْالْقَاسِمِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ بَکٰی، ثُمَّ قَالَ: أَخْبَرَنِیْ حِبِّیْ أَبُوْالْقَاسِمِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ بَکٰی، ثُمَّ قَالَ: أَخْبَرَنِیْ حِبِّیْ أَبُوْالْقَاسِمِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((مَا مِنْ عَبْدٍ یَسْجُدُ لِلّٰہِ سَجْدَۃً اِلَّا رَفَعَ اللّٰہُ بِہَا دَرَجَۃً وَحَطَّ بِہَا عَنْہُ خَطِیْئَۃً وَکَتَبَ لَہُ بِہَا حَسَنَۃً۔)) قَالَ: قُلْتُ: أَخْبِرْنِیْ مَنْ أَنْتَ یَرْحَمُکَ اللّٰہُ؟ قَالَ: أَنَا أَبُوْذَرٍّ صَاحِبُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَتَقَاصَرَتْ اِلَیَّ نَفْسِیْ۔ (مسند أحمد: ۲۱۷۸۳)
۔ (تیسری سند) احنف بن قیس کہتے ہیں: میں بیت المقدس میں داخل ہوا اور ایک بندے کو بہت زیادہ سجدے کرتے ہوئے پایا، مجھے اس کے اس عمل کی وجہ سے کچھ محسوس ہونے لگا، پس جب وہ فارغ ہوا تو میں نے کہا: کیا تو جانتا ہے کہ تو جفت رکعتوں پر سلام پھیر رہا ہے یا طاق پر؟ اس نے کہا: اگر میں نہیں جانتا تو اللہ تعالیٰ تو جانتا ہے، پھر اس نے کہا: مجھے میرے محبوب ابو القاسم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے بتلایا، پھر وہ رونے لگ گئے، اس نے پھر کہا: مجھے میرے محبوب ابو القاسم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے خبرد ی، پھر وہ رونے لگ گیا، پھر اس نے کہا: مجھے میرے محبوب ابو القاسم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے بتلایا کہ نہیں ہے کوئی بندہ، جو اللہ تعالیٰ کے لیے سجدہ کرتا ہے، مگر اللہ اس کا ایک درجہ بلند کرتا ہے، ایک گناہ معاف کر دیتا ہے اور اس کی ایک نیکی لکھ دیتا ہے۔میں نے اس سے کہا: اللہ تم پر رحم کرے، مجھے یہ تو بتلاؤ کہ تم کون ہو؟ اس نے کہا: میں صحابی ٔ رسول ابو ذر ہوں، یہ سن کر میرا دل چھوٹا ہو گیا (یعنی مجھے بڑی شرمندگی محسوس ہوئی)۔
Takhreej
(۱۰۶۰) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
1060
Sahih

Chapters

14
01
نماز کی فرضیت اور اس کے فرض ہونے کے وقت کا بیان
7 Hadith
02
پانچ نمازوں کی فضیلت کا بیان اور اس چیز کا بیان کہ یہ گناہوں کا کفارہ بنتی ہیں
14 Hadith
03
علی الاطلاق نماز کی فضیلت کے بارے میں
12 Hadith
04
نماز کے انتظار اور مسجدوں کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
15 Hadith
05
نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنے اور اس کا سب سے افضل عمل ہونے کا بیان
7 Hadith
06
قیام کی طوالت اور رکوع و سجود کی کثرت کی فضیلت کا بیان
9 Hadith
07
نمازِ فجر اور نمازِ عصر کی فضیلت کا بیان
5 Hadith
08
نفلی نماز کی فضیلت اور نوافل کے ذریعے فرائض کی کمی کو پورا کرنے کا بیان
5 Hadith
09
نماز کے معاملے میں سستی کرنے والے یا اس کو اس کے وقت سے لیٹ کرنے والے کی وعید کا بیان
11 Hadith
10
جان بوجھ کر یا نشے کی وجہ سے نماز کو ترک کرنے والے کی وعید کا بیان
2 Hadith
11
تارکِ نماز کو کافر قرار دینے کی دلیل کا بیان
3 Hadith
12
ان لوگوں کی دلیل کا بیان کہ جنھوں نے تارکِ نماز کو کافر نہیں قرار دیا اور اس کے لیے وہی امید رکھی جو کبیرہ گناہوں والوں کے لیے رکھی جاتی ہے
1 Hadith
13
ان حالات کا بیان جو نماز کو پیش آئے
1 Hadith
14
بچوں کو نماز کا حکم دینے کا بیان اور ان لوگوں کی تفصیل کہ جن سے قلم اٹھا لیا گیا ہے
5 Hadith
No chapter matched that.