TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 1309 مسنداحمد

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 4 of 6 in this chapter
اذان اور اقامت کے درمیان وقفہ کرنے کا بیان اورجو اذان کہے وہی اقامت کہے
۔ (۱۳۰۹) عَنْ زِیَادِ بْنِ نُعَیْمٍ الْحَضْرَمِیِّ عَنْ زِیَادِ بْنِ الْحَارِثِ الصُّدَائِی أَنَّہُ أَذَّنَ فَأَرَادَ بِلالٌ أَنْ یُقِیْمَ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَاأَخَا صُدَائٍ! إِنَّ الَّذِیْ أَذَّنَ فَہُوَ یُقِیْمُ۔))
زیاد بن نُعیم حضرمی بیان کرتے ہیں کہ سیّدنا زیاد بن حارث صدائی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اذان کہی، پھر سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اقامت کہنا چاہی، لیکن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمانے لگے: صدا کے بھائی! جس نے اذان کہی ہو وہی اقامت کہتا ہے۔
1309
Zaeef
Bookmark
Status: Zaeef
:حکم حدیث ضعیف
Conclusion
تخریج
(۱۳۰۹) تخر یـج: …اسنادہ ضعیف لضعف عبد الرحمن بن زیاد الافریقی۔ أخرجہ الترمذی: ۱۹۹، وابن ماجہ: ۷۱۷ (انظر: ۱۷۵۳۷)

Related Chapters

312
1
Chapter: What Has Been Related About Whoever Calls The Adhan, He Is To Call The Iqamah
باب: جو اذان دے وہی اقامت کہے
Jam e Tirmazi
2
Chapter: Supplication Made Between Adhan and Iqamah Is Not Rejected
باب: اذان اور اقامت کے درمیان کی دعا رد نہیں ہوتی
Jam e Tirmazi
3
بلند آواز سے اذان کہنے کے حکم، اس کی فضیلت اور اذان واقامت کے درمیان دعا کی قبولیت اور اذان و اقامت سن کر شیطان کے بھاگ جانے کا بیان
Musnad Ahmad
4
آدمی اذان اور اقامت سنتے وقت اور اذان کے بعد کیا کہے
Musnad Ahmad
5
CHAPTER: One Person Calling The Adhan And Another Calling The Iqamah.
باب: ایک شخص اذان دے اور دوسرا اقامت ( تکبیر ) کہے یہ جائز ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
6
CHAPTER: Regarding The Supplication Between The Adhan And The Iqamah
باب: اذان اور اقامت کے درمیان دعا کرنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
7
اذان اور اقامت کے درمیان سنت (نفل نماز) پڑھنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
8
Chapter: What Has Been Related About What Is Said [by A Man] When the Mu'adh-dhin Calls The Adhan
باب: مؤذن کی اذان کے جواب میں آدمی کیا کہے؟
Jam e Tirmazi
9
Chapter: [What Has Been Related] About The Salat For The Two Eid Is Without An Adhan Nor An Iqamah
باب: عیدین کی نماز بغیر اذان و اقامت کے ہے
Jam e Tirmazi
10
کافروں کے ساتھ لڑائی کی مصروفیت کی وجہ سے نماز کو مؤخر کرنے، نمازِ خوف کی وجہ سے اس رخصت کے منسوخ ہو جانے، فوت شدہ نمازوں کو بالترتیب ادا کرنے، پہلی نماز کے لیے اذان اور اقامت کہنے اور باقی ہر فوت شدہ نماز کے لیے صرف اقامت کہنے کا بیان
Musnad Ahmad
11
اذان اور اقامت کا طریقہ اور دونوں کے کلمات کی تعداد اور ابومحذورہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے واقعہ کا بیان
Musnad Ahmad
12
خطبہ سے قبل اذان و اقامت کے بغیر نماز عید کے دو رکعت کے ہونے کا اور عیدگاہ میں امام کے سامنے سترہ رکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
13
سحری سے فراغت اور نماز فجر کے درمیان کے وقفہ کی مقدار کا بیان
Musnad Ahmad
14
(3) CHAPTER. To pronounce the wording of Iqama once (in singles) except Qad-qamat-is-Salat.
اس بارے میں کہ سوائے قد قامت الصلٰوۃ کے اقامت کے کلمات ایک ایک دفعہ کہے جائیں
Sahih Bukhari
15
(14) CHAPTER. How long should the interval between the Adhan and the Iqama be? (And something concerning) the person who waits for the Iqama.
اس بیان میں کہ اذان اور تکبیر کے درمیان کتنا فاصلہ ہونا چاہیے ؟
Sahih Bukhari
16
(17) CHAPTER. Whoever said that there should be one Muadh-dhin in the journey.
جو یہ کہے کہ سفر میں ایک ہی شخص اذان دے
Sahih Bukhari
17
(24) CHAPTER. Can one go out of the mosque (after the Adhan, or the Iqama) if there is a genuine excuse?
کیا مسجد سے کسی ضرورت کی وجہ سے اذان یا اقامت کے بعد بھی کوئی شخص نکل سکتا ہے ؟
Sahih Bukhari
18
(7) CHAPTER. Walking and riding for the Eid prayer. The Eid prayer is offered before delivering the Khutba (religious talk) and there is no Adhan or Iqama for it.
نمازعید کے لیے پیدل یا سوار ہو کر جانا اور نماز کا خطبہ سے پہلے اذان اور اقامت کے بغیر ہونا
Sahih Bukhari
19
اذان اور تکبیر کے درمیان نفل نماز
Sahih Muslim
20
Chapter: Between The Blasts (Of The Trumpet)
دوبار صور پھونکنے کے درمیان کا وقفہ
Sahih Muslim
21
CHAPTER: What Should Be Said Upon Hearing The Iqamah.
باب: آدمی جب اقامت ( تکبیر ) سنے تو کیا کہے ؟
Sunnan Abu Dawood
22
CHAPTER: What Should Be Said For The Maghrib Adhan.
باب: مغرب کی اذان کے وقت کیا کہے ؟
Sunnan Abu Dawood
23
جو شخص جمع بین الصلاتین کرے وہ اقامت ایک بار کہے یا دو بار کہے ؟
Sunnan Nisai
24
ساری فوت شدہ نمازوں کے لیے ایک اذان کے کافی ہونے اور ہر ایک کے لیے الگ الگ اقامت کہنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
25
اقامت کیسے کہے ؟
Sunnan Nisai
26
جس طرح مؤذن کہے اسی طرح اذان سننے والا بھی کہے۔
Sunnan Nisai
27
باب: سحری اور نماز فجر کے درمیان کتنا وقفہ ہونا چاہئے؟
Sunnan Nisai
28
باب: اللہ کے راستے (جہاد) میں اونٹنی کا دودھ اتارنے کے لیے ایک بار چھاتی پکڑنے اور چھوڑنے کے درمیان کے وقفہ تک بھی لڑنے والے کا ثواب۔
Sunnan Nisai
29
(30)Chapter: [What Has Been Related] About Going Between The Fingers
باب: انگلیوں کے (درمیان) خلال کا بیان​
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About Combining Two Prayers While [A Resident]
باب: حضر (اقامت کی حالت) میں دو نمازوں کو ایک ساتھ جمع کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Related About How the Adhan Started
باب: اذان کی ابتداء کا بیان
Jam e Tirmazi
32
Chapter: : What Has Been Related About At-Tarji In The Adhan
باب: اذان میں ترجیع کا بیان
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What Has Been Related About Saying The Phrases Of The lqamah Once
باب: اقامت اکہری کہنے کا بیان
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What Has Been Related About Saying The Phrases Of The Iqamah Two Times Each
باب: اقامت دہری کہنے کا بیان
Jam e Tirmazi
35
Chapter: What Has Been Related About Saying The Phrases Of The Adhan With Deliberateness And Slowly
باب: اذان کے کلمات ٹھہر ٹھہر کے کہنے کا بیان
Jam e Tirmazi
36
Chapter: What Has Been Related About Putting The Fingers In The Ears For The Adhan
باب: اذان کے وقت شہادت کی دونوں انگلیاں دونوں کانوں میں داخل کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
37
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Call The Adhan Without Having Wudu
باب: بغیر وضو کے اذان دینے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
38
Chapter: What Has Been Related That The Imam Has be Greatest Right To The Iqamah
باب: امام کا اقامت (تکبیر) کا حق زیادہ ہے
Jam e Tirmazi
39
Chapter: What Has Been Related About The Adhan At Night
باب: رات ہی میں اذان دے دینے کا بیان
Jam e Tirmazi
40
Chapter: What Has Been Related About The Dislike For Exiting The Masjid After The Adhan
باب: اذان کے بعد مسجد سے باہر نکلنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
41
Chapter: What Has Been Related About The Adhan While Traveling
باب: سفر میں اذان کا بیان
Jam e Tirmazi
42
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of The Adhan
باب: اذان کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
43
Chapter: What Has Been Related About The Dislike For The Mu'adh-dhin Taking A Wage For the Adhan
باب: اذان کی اجرت لینے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
44
Chapter: [What Has Been Related About] What Supplications Is Said [By A Muslim] When The Mu'adh-dhin Calls The Adhan
باب: مؤذن اذان دے چکے تو آدمی کون سی دعا پڑھے؟
Jam e Tirmazi
45
Chapter: Something Else
باب: اذان کے بعد آدمی کیا دعا پڑھے اس سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
46
Chapter: What Has Been Related About One Who Heard the Call (to Prayer) But Did Not Respond To It
باب: جو اذان سنے اور نماز میں حاضر نہ ہو اس کی شناعت کا بیان
Jam e Tirmazi
47
Chapter: What Has Been Related About The Dislike For Forming Rows Between Columns
باب: ستونوں کے درمیان صف لگانے کی کراہت
Jam e Tirmazi
48
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Squat Between The Two Prostrations
باب: سجدوں کے درمیان اقعاء کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
49
Chapter: What Is Said Between The Two Prostrations
باب: دونوں سجدوں کے درمیان کی دعا
Jam e Tirmazi
50
Chapter: What Has Been Related About 'What Is Between The East And The West Is A Qiblah'
باب: مشرق اور مغرب کے درمیان میں جو ہے سب قبلہ ہے
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

11
Musnad Ahmad
80
۔ (۸۰)۔عَنْ زِیَادِ بْنِ نُعَیْمِ نِ الْحَضْرَمِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَرْبَعٌ فَرَضَہُنَّ اللّٰہُ فِی الْاِسْلَامِ فَمَنْ جَائَ بِثَلَاثٍ لَمْ یُغْنِیْنَ عَنْہُ شَیْئًا حَتَّی یَأْتِیَ بِہِنَّ جَمِیْعًا، اَلصَّلَاۃُ وَ الزَّکَاۃُ وَ صِیَامُ رَمَضَانَ وَ حَجُّ الْبَیْتِ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۹۴۲)
زیاد بن نعیم حضرمی سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: چار چیزیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کو اسلام میں فرض کیا ہے، جو بندہ ان میں تین ادا کرے گا، تو وہ اسے اس وقت تک کچھ کفایت نہیں کریں گی، جب تک وہ اِن سب کی ادائیگی نہیں کرے گا، وہ چار امور یہ ہیں: نماز، زکوۃ، رمضان کے روزے اور بیت اللہ کا حج۔
Musnad Ahmad
312
۔ (۳۱۲)۔عَنْ یَحْیَی بْنِ مَیْمُوْنٍ الْحَضْرَمِیِّ أَنَّ أبامُوْسَی الْغَافِقِیَّؓ سَمِعَ عُقْبَۃَ بْنَ عَامِرٍ الْجُہَنِیَّؓ یُحَدِّثُ عَلَی الْمِنْبَرِ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَحَادِیْثَ، فَقَالَ أَبُوْ مُوْسٰی: اِنَّ صَاحِبَکُمْ ھٰذَا لَحَافِظٌ أَوْ ہَالِکٌ، اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ آخِرُ مَا عَہِدَ اِلَیْنَا أَنْ قَالَ: ((عَلَیْکُمْ بکِتَابِ اللّٰہِ، وَسَتَرْجِعُوْنَ اِلَی قَوْمٍ یُحِبُّوْنَ الْحَدِیْثَ عَنِّیْ، فَمَنْ قَالَ عَلَیَّ مَالَمْ أَقُلْ فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ، وَمَنْ حَفِظَ عَنِّیْ شَیْئًا فَلْیُحَدِّثْہُ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۱۵۴)
یحییٰ بن میمون حضرمی کہتے ہیں: سیدنا ابو موسی غافقی ؓ نے سیدنا عقبہ بن عامر جہنی ؓ کو منبر پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی احادیث بیان کرتے ہوئے سنا، پھر ابو موسی نے کہا: یہ تمہارا ساتھی (واقعی احادیث کو) یاد کرنے والا ہے یا پھر ہلاک ہونے والا ہے، بیشک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہمیں آخری نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا: تم اللہ تعالیٰ کی کتاب کو لازم پکڑنا اور عنقریب تم ایسی قوم کی طرف لوٹو گے، جو مجھ سے احادیث بیان کرنے کی مشتاق ہو گی، پس جس نے مجھ پر ایسی بات کہہ دی، جو میں نے نہ کہی، تو وہ اپنا ٹھکانہ آگ میں تیار کر لے، اور جس نے میری بعض احادیث یاد کر رکھی ہوں، وہ ان کو بیان کرے۔
Musnad Ahmad
1584
۔ (۱۵۸۴) عَنْ کَثِیْرِ بْنِ مُرَّۃَ الْحَضْرَمِیِّ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَاالدَّرْدَائِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُوْلُ: سَأَلْتُ رَسُوْلَ اللَّہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : أَفِیْ کُلِّ صَلَاۃٍ قِرَائَ ۃٌ؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔)) فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَ نْصَارِ: وَجَبَتْ ھٰذِہٖ،فَالْتَفَتَ إِلَیَّ أَبُوْ الدَّرْداَئِ وَکُنْتُ أَقْرَبَ الْقَوْمِ مِنْہُ فَقَالَ: یَا ابْنَ أَخِیْ مَا أَرَی الإِْمَامَ إِذَا أَمَّ الْقَوْمَ إِلاَّ قَدْ کَفَاھُمْ۔ (مسند احمد: ۲۸۰۸۰)
کثیر بن مرۃ حضرمی کہتے ہیں: سیّدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا کہ کیا ہر نماز میں قراء ت ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں ایک انصاری آدمی کہنے لگا: اب یہ (قراء ت تو)واجب ہوگئی ہے۔ لیکن سیّدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میری طرف متوجہ ہوئے، جبکہ میں لوگوں میں سب سے زیادہ ان کے قریب تھااور کہا:میرے بھتیجے! میرا خیال تو یہ ہے کہ جب امام لوگوں کی امامت کرواتا ہے تو (قراء ت میں بھی) وہی ان کو کفایت کرتا ہے۔
Musnad Ahmad
1789
۔ (۱۷۸۹) عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ الْحَضْرَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَصِفُ صَلاَۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ثُمَّ قَعَدَ فَافْتَرَشَ رِجْلَہُ الْیُسْرٰی فَوَضَعَ کَفَّہُ الْیُسْرٰی عَلٰی فَخِذِہٖوَرُکْبَتِہِالْیُسْرٰی، وَجَعَلَ حَدَّ مِرْفَقِہِ الْأَیْمَنِ عَلَی فِخِذِہِ الْیُمْنٰی، ثُمَّ قَبَضَ بَیْنَ أَصَابِعِہِ فَحَلَّقَ حَلْقَۃً (وَفِیْ رِوَایَۃٍ حَلَّقَ بِالْوُ سْطٰی وَالإِْ بْہَامِ وَأَشَارِ بِالسَّبَّابَۃِ) ثُمَّ رَفَعَ إِصْبَعَہُ فَرَأَیْتُہُیُحَرِّکُہَایَدْ عُوْبِہَا ۔ (مسند احمد: ۱۹۰۷۵)
یہ مکمل حدیث صحیح ہے، مذکورہ الفاظ کو شاذ قرار دینے کی کوئی وجہ نہیں، کیونکہیہ ثقہ کی ایسی زیادتی نہیں ہے، جس سے ثقات کی روایت کی نفی ہو رہی ہو،ثقات کی روایت کے الفاظ وَأَشَارَ باِلسَّبَّابَۃِ اور زائدہ بن قدامہ کی روایت کے الفاظ ثُمَّ رَفَعَ إِصْبَعَہُ فَرَأَیْتُہُیُحَرِّکُہَایَدْعُوْبِہَا میں سرے سے کوئی تضاد ہی نہیں ہے، امام البانی نے بھی اس کو صحیح کہا۔
Musnad Ahmad
2240
۔ (۲۲۴۰) عَنْ شُرَیْحِ بْنِ عُبَیْدٍ الْحَضْرَمِیِّ یَرُدُّہُ اِلٰی أَبِی ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّہُ قَالَ: لَمَّا کَانَ الْعَشْرُ الْأَوَاخِرُ اِعْتَکَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْمَسْجِدِ فَلَمَّا صَلَّی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَاۃَ الْعَصْرِ مِنْ یَوْمِ اثْنَیْنِ وَعِشْرِیْنَ قَالَ: ((اِنَّا قَائِمُوْنَ اللَّیْلَۃَ اِنْ شَائَ اللّٰہُ، فَمَنْ شَائَ مِنْکُمْ أَنْ یَقُوْمَ فَلْیَقُمْ۔)) وَھِیَ لَیْلَۃُ ثَـلَاثٍ وَعِشْرِیْنَ، فَصَلَّاھَا النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَمَاعَۃً بَعْدَ الْعَتَمَۃِ حَتّٰی ذَھَبَ ثُلُثُ اللَّیْلِ ثُمَّ انْصَرَفَ، فَلَمَّا کَانَ لَیْلَۃُ أَرْبَعٍ وَعِشْرِیْنَ لَمْ یَقُلْ شَیْئاً وَلَمْ یَقُمْ، فَلَمَّا کَانَ لَیْلَۃُ خَمْسٍ وَعِشْرِیْنَ قَامَ بَعْدَ صَلَاۃِ الْعَصْرِ یَوْمَ أَرْبَعٍ وَعِشْرِیْنَ فَقَالَ: ((اِنَّا قَائِمُوْنَ اللَّیْلَۃَ اِنْ شَائَ اللّٰہُ، یَعْنِیْ لَیْلَۃَ خَمْسٍ وَعِشْرِیْنَ، فَمَنْ شَائَ فَلْیَقُمْ۔)) فَصَلَّی بِالنَّاسِ حَتّٰی ذَھَبَ ثُلُثُ اللَّیْلِ ثُمَّ انْصَرَفَ، فَلَمَّا کَانَ لَیْلَۃُ سِتٍّ وَعِشْرِیْنَ لَمْ یَقُلْ شَیْئًا وَلَمْ یَقُمْ۔ فَلَمَّا کَانَ عِنْدَ صَلَاۃِ الْعَصْرِ مِنْ یَوْمِ سِتٍّ وَعِشْرِیْنَ قَامَ فَقَالَ: ((اِنَّا قَائِمُوْنَ اِنْ شَائَ اللّٰہُ یَعْنِی لَیْلَۃَ سَبْعٍ وَعِشْرِیْنَ فَمَنْ شَائَ أَنْ یَقُوْمَ فَلْیَقُمْ۔)) قَالَ أَبُو ذَرٍّ: فَتَجَلَّدْنَا لِلْقِیَامِ فَصَلّٰی بِنَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی ذَھَبَ ثُلُثَا اللَّیْلِ ثُمَّ انْصَرَفَ اِلَی قُبَّتِہِ فِی الْمَسْجِدِ فَقُلْتُ لَہُ: اِنْ کُنَّا لَقَدْ طَمِعْنَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَنْ تَقُوْمَ بِنَا حَتّٰی تُصْبِحَ۔ فَقَالَ: ((یَا أَبَا ذَرٍّ! اِنَّکَ اِذَا صَلَّیْتَ مَعَ اِمَامِکَ وَانْصَرَفْتَ اِذَا انْصَرَفَ کُتِبَ لَکَ قُنُوتُ لَیْلتِکَ۔)) قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمٰنِ وَجَدْتُّ ھٰذَا الْحَدِیْثَ فِی کِتَابِ أَبِی بِخَطِّ یَدِہِ ۔ (مسند احمد: ۲۱۸۴۲)
شریح بن عبید حضرمی سے روایت ہے کہ سیّدنا ابوذر غفاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیاکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رمضان کے آخری دس دنوں میں مسجد میں اعتکاف کیا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بائیسویں تاریخ کو عصر کی نماز ادا کی تو فرمایا: آج ہم رات کو انشاء اللہ قیام کریں گے، اس لیے تم میں سے جو قیام کرنا چاہتا ہے، وہ قیام کرے۔ یہ تئیسویں رات بنتی تھی، پس نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اندھیرا چھا جانے کے بعد عشاء کی نماز باجماعت پڑھائی، یہاں تک کہ رات کا تیسرا حصہ بیت گیا، پھرآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (اپنے خیمے میں) چلے گئے۔ جب چوبیسویں رات آئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نہ قیام کیا اور نہ ہی کچھ ارشاد فرمایا، لیکن جب پچیسویںرات آنی تھی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رمضان کی چوبیس تاریخ کو عصر کے بعد کھڑے ہوکر ارشاد فرمایا: آج ہم رات کو ان شاء اللہ قیام کریں کے، تم میں جو چاہتا ہے، وہ قیام کرسکتا ہے۔ سو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رات کو قیام کیا یہاں تک رات کا تیسرا حصہ گزرگیا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (اپنے خیمے میں) تشریف لے گئے، چھبیسویں رات کو نہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قیام کیا اورنہ کچھ ارشاد فرمایا۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چھبیسویں روز عصر کی نماز ادا کی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا: ہم آج رات کوان شاء اللہ قیام کریں گے، پس جو کوئی قیام کرنا چاہتا ہے وہ قیام کرلے۔
Musnad Ahmad
2241
۔ (۲۲۴۱) عَنْ جُبَیْرِ بْنِ نُفَیْرٍ الْحَضْرَمِیِّ عَنْ أَبِی ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صُمْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَمَضَانَ فَلَمْ یَقُمْ بِنَا شَیْئًا مِنَ الشَّہْرِ حَتّٰی بَقِیَ سَبْعٌ فَقَامَ بِنَا حَتّٰی ذَھَبَ نَحْوٌ مِنْ ثُلُثِ اللَّیْلِ، ثُمَّ لَمْ یَقُمْ بِنَا اللَّیْلَۃَ الرَّابِعَۃَ وَقَامَ بِنَا اللَّیْلَۃَ الَّتِی تَلِیْھَا حَتَّی ذَھَبَ نَحْوٌ مِنْ شَطْرِ اللَّیْلِ، قَالَ: فَقُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! لَوْ نَفَّلْتَنَا بَقِیَّۃَ لَیْلَتِنَا ھٰذِہِ۔ قَالَ: ((اِنَّ الرَّجُلَ اِذَا قَامَ مَعَ الْاِمَامِ حَتّٰی یَنْصَرِفَ حُسِبَ لَہُ بَقِیَّۃُ لَیْلَتِہٖ۔)) ثُمَّ لَمْ یَقُمْ بِنَا السَّادِسَۃَ وَقَامَ بِنَا السَّابِعَۃَ، وَقَالَ وَبَعَثَ اِلٰی أَھْلِہِ وَاجْتَمَعَ النَّاسُ فَقَامَ بِنَا حَتّٰی خَشِیْنَا أَنْ یَفُوْتَنَا الْفَـلَاحُ۔ قال قُلْتُ: مَا الْفَـلَاحُ؟ قَالَ: السُّحُوْرُ۔ (مسند احمد: ۲۱۷۷۸)
جبیر بن نفیر حضرمی سے مروی ہے کہ سیّدنا ابوذر غفاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے، ہوا یوں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سارا مہینہ ہمارے ساتھ قیام نہ کیا، یہاں تک کہ سات راتیں باقی رہ گئیں، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے (تئیسویں رات کو) ہمارے ساتھ قیام کیا، یہاں تک کہ رات کا ایک تہائی حصہ گزر گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چوبیسویں رات کو قیام نہ کیا، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پچیسویں رات کو اتنا طویل قیام کرایا کہ تقریبا آدھی رات گزر گئی۔ سیّدنا ابوذر غفاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا کہ صحابہ نے یہ فرمائش کی کہ اے اللہ کے رسول! کاش آپ ہمیں باقی رات بھی نوافل پڑھا دیں۔ لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب آدمی امام کے ساتھ قیام کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ چلا جاتا ہے تو اس کے لیے باقی رات کے قیام کا بھی ثواب لکھ دیا جاتا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چھبیسویں رات کو ہمیں قیام نہیں کرایا، البتہ ستائیسویں رات کو قیام کروایا ۔ وہ کہتے ہیں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے گھر والوں کو (قیام کے لیے جمع ہونے کے لیے) پیغام بھیجا، دوسرے لوگ بھی اکٹھے ہو گئے۔ پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں اتنی طویل نماز پڑھائی کہ ہم ڈرنے لگے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ آج فلاح رہ جائے۔ جبیر بن نفیر کہتے ہیں: میں نے سیّدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پوچھا کہ فلاح کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے کہا: اس کا مطلب سحری ہے۔
Musnad Ahmad
3444
۔ (۳۴۴۴) عَنْ کَثِیْرِ بْنِ مُرَّۃَ الْحَضْرَمِیِّ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ الْأَشْجَعِیِّ قَالَ: خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَمَعَہُ الْعَصَا وفِی الْمَسْجِدِ أَقْنَائٌ مُعَلَّقَۃٌ فِیْہَا قِنْوٌ فِیْہِ حَشَفٌ، فَغَمَزَ الْقِنْوَ بِالْعَصَا الَّتِی فِییَدِہِ، قَالَ: ((لَوْ شَائَ رَبُّ ہٰذِہِ الصَّدَقَۃِ تَصَدَّقَ بِأَطْیَبَ مِنْہَا، إِنَّ رَبَّ ہٰذِہِ الصَّدَقَۃِ لَیَأْکُلُ الحَشَفَۃَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) قَالَ: ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَیْنَا، فَقَاَل: ((أَمَا وَاللّٰہِ! یاَ أَہْلَ الْمَدِیْنَۃِ! لَتَدَعُنَّہَا أَرْبَعِیْنَ عَامًا لِلْعَوَافِی۔)) قَالَ: فَقُلْتُ: اَللّٰہُ أَعْلَمُ قَالَ: یَعْنِی الطَّیْرَ وَالسِّبَاعَ، قَالَ: وَکُنَّا نَقُوْلُ: إِنَّ ہٰذَا الَّذِی تُسَمِّیْہِ الْعَجَمُ ہِیَ الْکَرَاکِیُّ۔ (مسند احمد: ۲۴۴۷۶)
۔ سیدناعوف بن مالک اشجعی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ایک روز رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاتھ میں لاٹھی بھی تھی، اُدھر مسجد میں کھجوروں کے خوشے لٹکے ہوئے تھے، ان میں سے ایک خوشے میں خشک اور ردی قسم کی کھجوریں تھیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لاٹھی اس خوشے پر ماری اور فرمایا: اگریہ خوشہ صدقہ کرنے والا چاہتا تو اس سے عمدہ صدقہ کر سکتا تھا، یہآدمی قیامت کے دن بھی ناکارہ کھجوریں ہی کھائے گا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اے اہل مدینہ! ایک زمانہ آئے گا کہ تم اس شہر کو چالیس سال تک کے لئے پرندوں اور درندوں کے لئے چھوڑ جائو گے۔ راوی کہتا ہے: میں نے کہا کہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے، لیکن اس نے کہا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی (عوافی سے مراد) پرندے اور درندے تھے۔ ہم کہتے تھے: بیشکیہ وہی چیز ہوتی ہے، جس کو عجمی لوگ کَرَاکِی کہتے ہیں۔
Musnad Ahmad
3536
۔ (۳۵۳۶) عَنْ حِبَّانَ بْنِ بُحٍّ الصُّدَائِیِّ صَاحِبِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّہُ قَالَ: إِنَّ قَوْمِی کَفَرُوْا، فَاُخْبِرْتُ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَہَّزَلَہُمْ جَیْشًا فَاَتَیْتُہُ فَقُلْتُ: إِنَّ قَوْمِی عَلَی الْإِسْلَامِ، فَقَالَ: ((اَکَذٰلِکَ؟)) فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَاتَّبَعْتُہُ لَیْلَتِیْ إِلَی الصَّبَاحِ فَاَذَّنْتُ بِالصَّلَاۃِ لَمَّا اَصْبَحْتُ وَاَعْطَانِیْ إِنَائً تَوَضَّائْ تُ مِنْہُ فَجَعَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَصَابِعَہُ فِی الْإِناَء ِفَانْفَجَرَ عُیُوْنًا، فَقَالَ: ((مَنْ اَرَادَ مِنْکُمْ اَنْ یَتَوَضَّاَ فَلْیَتَوضَّا۔)) فَتَوَضَّاْتُ وَصَلَّیْتُ وَاَمَّرَنِی عَلَیْہِمْ وَاَعْطَانِی صَدَقَتَہُمْ، فَقَامَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: فُلَانٌ ظَلَمَنِی،فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لاَ خَیْرَ فِی الْإِمْرَۃِ لِمْسْلِمٍ۔)) ثُمَّ جَائَ رَجُلٌ یَسْاَلُ صَدَقَۃً، فَقَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ الصَّدَقَۃَ صُدَاعٌ فِی الرَّاْسِ وَحَرِیْقٌ فِی الْبَطْنِ اَوْ دَائٌ ۔)) فَاَعْطَیْتُہُ صَحِیْفَتِی اَوْ صَحِیْفَۃَ إِمْرَتِی وَصَدَقَتِیْ، فَقَالَ: ((مَاشَاْنُکَ؟)) فَقُلْتُ: کَیْفَ اَقْبَلُہَا وَقَدْ سَمِعْتُ مِنْکَ مَا سَمِعْتُ، فَقَالَ: ((ہُوَ مَا سَمِعْتَ۔)) (مسند احمد: ۱۷۶۷۷)
۔ صحابی ٔ رسول حبان بن بح صدائی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میری قوم کے بعض لوگ کافر ہو گئے ہیں تو مجھے اطلاع دی گئی کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک لشکر تیار کیا ہے، میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہو اور کہا کہ میری قوم تو اسلام ہی پر ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کیا واقعی بات ایسے ہی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ پھر میں صبح تک یعنی رات بھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ رہا، صبح کو میں نے نماز کے لئے اذان کہی، جب صبح ہوئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے ایک برتن دیا تاکہ میں وضو کر لوں، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی انگلیاں اس برتن میں ڈالیں تو ان سے چشمے پھوٹ پڑے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو کوئی وضو کرنا چاہتا ہے کر لے۔)) چنانچہ میں نے وضو کیا اور نماز ادا کی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے اپنی قوم کا امیربنایا اور ان کی طرف سے ادا کیے گئے صدقات مجھے عطا کر دیئے، ایک آدمی اٹھا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آیا، اس نے کہا: فلاں آدمی نے مجھ پر ظلم کیا ہے، یہ سن کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسلمان کے لئے امارت میں کوئی خیر نہیں ہے۔ اس کے بعد ایک آدمی آیا اور اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے صدقے کا سوال کیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: صدقہ سر کی درد اور پیٹ کی جلن یا بیماری کا سبب ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے یہ فرامین سن کر میں نے اپنی امارت اور صدقات وصول کرنے کا عہدہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو واپس لوٹا دیا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا بات ہے؟ میں نے کہا: میں اس ذمہ داری کوکیسے قبول کروں، جبکہ آپ اس کے بارے میں یہ کچھ فرما چکے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بات تو وہی ہے جو تم سن چکے ہو۔
Musnad Ahmad
4579
۔ (۴۵۷۹) عَنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِیْدَ عَنِ الْعَلَائِ بْنِ الْحَضْرَمِیِّ إِنْ شَائَ اللّٰہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: یَمْکُثُ الْمُہَاجِرُ بِمَکَّۃَ َبعْدَ َقضَائِ نُسُکِہِ، ثَلَاثًا۔ (مسند احمد: ۱۹۱۹۴)
۔ سائب بن یزید سے روایت ہے وہ علاء بن خضرمی سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مکہ سے ہجرت کرکے جانے والا آدمی مناسک حج کی ادائیگی کے بعد مکہ میں تین دن قیام کرسکتا ہے۔