TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

بلند آواز سے اذان کہنے کے حکم، اس کی فضیلت اور اذان واقامت کے درمیان دعا کی قبولیت اور اذان و اقامت سن کر شیطان کے بھاگ جانے کا بیان

Chapter 3 of اذان اور اقامت کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 3 of 11 · 7 Hadith
۔ (۱۲۵۸) عَنِ ابنِْ أََبِیْ صَعْصَعَۃَ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: قَالَ لِیْ أَبُوْ سَعِیدٍ الْخُدْرِیُّ، وَکَانَ فِی حِجْرِہِ فَقَالَ لِیْ: یَابُنَیَّ! إِذَا أَذَّنْتَ فَارْفَعْ صَوْتَکَ بِالْأَذَانِ فَإِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((لَیْسَ شَیْئٌ یَسْمَعُہُ إِلَّا شَھِدَ لَہُ، جِنٌّ وَلَا إِنْسٌ وَلَا حَجَرٌ۔)) وَقَالَ مَرَّۃً: یَابُنَیَّ! إِذَا کُنْتَ فِیْ الْبَرَارِیْ فَارْفَعْ صَوْتَکَ بِالْأَذَانِ فَإِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَا یَسْمَعُہُ جِنٌّ وَلَا إِنْسٌ وَلَا حَجَرٌ وَلَاشَیْئٌیَسْمَعُہُ إِلاَّ شَہِدَ لَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۱۰۴۵)
ابو صعصعہ،جو کہ سیّدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی پرورش میں تھے، کہتے ہیں: سیّدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے کہا:میرے پیارے بیٹے! جب تو اذان کہے تو بلند آواز سے اذان کہا کر، کیونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ہر چیز جو اس کو سنتی ہے وہ اس کے لیے گواہی دیتی ہے، وہ جن ہو یا انسان ہو یا پتھر ہو۔ اور ایک مرتبہ کہا: میرے بیٹے! جب تو خشکی (یعنی بے آباد علاقوں) میں ہو تو اذان کے لیے اپنی آواز کو اونچا کیا کر، کیونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : کوئی جن، کوئی انسان، کوئی پتھر اور کوئی چیز اس کو نہیں سنتی مگر وہ قیامت کے دن اس کے لیے گواہی دے گی۔
Takhreej
(۱۲۵۸) تخر یـج: …اسنادہ صحیح۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۷۲۳، وابن خزیمۃ: ۳۸۹، وابو یعلی: ۹۸۲ (انظر: ۱۱۰۳۱)۔ وأخرجہ البخاری: ۶۰۹، ۳۲۹۶ بالفاظ آتیۃ۔ (انظر: ۱۱۳۰۵)
1258
Sahih
۔ (۱۲۵۹) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) أَنَّ أَبَا سَعِیْدٍ قَالَ لَہُ إِنِّیْ أَرَاکَ تُحِبُّ الَغَنْمَ وَالبَادِیَۃَ فَإِذَا کُنْتَ فِیْ غَنَمِکَ أَوْ بَادِیَتِکَ فَأَذَّنْتَ بِالصَّلَاۃِ فَارْفَعْ صَوْتَکَ بِالنِّدَائِ فَإِنَّہُ لَایَسْمَعُ مَدٰی صَوْتِ الْمُؤََذِّنِ جِنٌّ وَلَا شَیْئٌ إِلاَّ شَہِدَ لَہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۱۳۲۵)
اور انہی ابو صعصعہ سے ایک دوسری سند سے مروی ہے کہ سیّدنا ابو سعید نے کہا: جب تو اپنی بکریوںیا جنگل میں ہو اور نماز کے لیے اذان کہے تو اذان میں اپنی آواز کو بلند کیا کر، کیونکہ مؤذن کی آواز کی انتہا تک جو بھی جن، انسان اور کوئی چیز سنتی ہے، وہ قیامت کے دن اس کے لیے گواہی دے گی۔ میں نے یہ الفاظ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنے تھے۔
1259
Sahih
۔ (۱۲۶۰) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قاَلَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا نُوْدِیَ بِالصَّلَاۃِ أَدْبَرَ الشَّیْطَانُ وَلَہُ ضُرَاطٌ حَتّٰی لَا یَسْمَعَ التَّأْذِیْنَ فَإِذَا قُضِیَ التَّأْذِینُ أَقْبَلَ حَتّٰی إِذَا ثُوِّبَ بِہَا أَدْبَرَ حَتّٰی إِذَا قُضِیَ التَّثْوِیْبُ أَقْبَلَ حَتّٰییَخْطُرَ بَیْنَ الْمَرْئِ وَنَفْسِہِ فَیَقُوْلُ لَہُ: اُذْکُرْ کَذَا اُذْکُرْ کَذَا، لِمَا لَمْ یَکُنْیَذْکُرُ مِنْ قَبْلُ حَتّٰییَظَلَّ الرَّجُلُ إِنْ یَدْرِیْ کَمْ یُصَلِّیْ۔)) (مسند احمد: ۹۹۳۳)
سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : جب نماز کے لیے اذان کہی جاتی ہے تو شیطان گوز مارتا ہوا اتنی دور بھاگ جاتا ہے کہ اذان نہیں سنتا ، جب اذان پوری ہو جاتی ہے تو واپس آ جاتا ہے، پھر جب نماز کے لیے اقامت کہی جاتی ہے تو بھاگ جاتا ہے، جب اقامت مکمل ہو جاتی ہے تو واپس آ جاتا ہے اور انسان اور اس کے نفس کے درمیان حائل ہو کر وسوسہ ڈالنا شروع کر دیتا ہے ۔وہ (نمازی کو) کہتا ہے: تو فلاں کام یاد کر ، فلاں کام یاد کر، وہ کام جو اسے پہلے یاد نہیں ہوتے(وہ یاد کراتا ہے)، نتیجتاً آدمی ایسی حالت میں ہو جاتا ہے کہ اسے پتہ نہیں رہتا کہ اس نے کتنی نماز پڑھ لی ہے۔
Takhreej
(۱۲۶۰) تخر یـج: …أخرجہ البخاری: ۶۰۸، ۱۲۲۲، ومسلم: ۳۸۹ (انظر: ۹۹۳۱)
1260
Sahih
۔ (۱۲۶۱) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ إِذَاسَمِعَ الشَّیْطَانُ الْمُنَادِیَیُنَادِیْ بِالصَّلَاۃِ وَلّٰی وَلَہُ ضُرَاطٌ حَتّٰی لَایَسْمَعَ الصَّوْتَ، فَإِذَا فَرَغَ رَجَعَ فَوَسَوْسَ فَإِذَا أَخَذَ فِی الإِقَامَۃِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِکَ۔)) (مسند احمد: ۹۱۵۹)
اور انہی سے ایک دوسری سند سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب شیطان مؤذن کو اذان کہتے ہوئے سنتا ہے تو گوز مارتا ہوا اتنا دور چلا جاتا ہے کہ آواز نہ سن سکے، جب مؤذن فارغ ہو جاتا ہے تو وہ واپس آ کر وسوسہ ڈالنا شروع کر دیتا ہے۔ پھر جب مؤذن اقامت کہنا شروع کرتا ہے تو شیطان اسی طرح کرتا ہے، (یعنی بھاگ جاتا ہے)۔
Takhreej
(۱۲۶۱) تخر یـج: …أخرجہ مسلم: ۳۸۹ (انظر: ۹۱۷۰)
Explanation
فوائد:… شیطان کی اس کیفیت کا سبب شدت ِ خوف اور ہیبت ہے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اذان کے کلمات سنی ان سنی کرنے کے لیےیا اذان کی توہین کرنے کے لیے جان بوجھ کر یہ کیفیت اختیار کرتا ہو۔ شیطان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ نماز کو نمازی پر خلط ملط کر دیا جائے، جب سیّدنا عثمان بن ابی العاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے شیطان کے وسوسوں سے متعلقہ یہی شکایت نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے رکھی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس شیطان کو خنزب کہتے ہیں، جب تو اسے محسوس کرے تو اللہ تعالیٰ سے پناہ طلب کر اور اپنی بائیں جانب تین بار تھوک۔ میں نے ایسے ہی کیا، پس اللہ تعالیٰ نے اسے مجھ سے دور کر دیا۔ (مسلم: ۲۲۰۳) معلوم ہوا کہ جب شیطان نماز میں وسوسہ ڈالنے کی کوشش کرے تو أَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ پڑھ کر بائیں جانب تین دفعہ تھوک دیا جائے۔
1261
Sahih
۔ (۱۲۶۲)عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قاَلَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا أَذَّنَ الْمُؤََذِّنُ ھَرَبَ الشَّیْطَانُ حَتّٰییَکُونَ بِالرَّ وْحَائِ۔)) وَھِیَ مِنَ الْمَدِیَنۃَ ثَـلَاثُونَ مِیلاً۔ (مسند احمد: ۱۴۴۵۷)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب مؤذن اذان کہتا ہے تو شیطان بھاگ جاتا ہے، یہاں تک کہ روحاء مقام تک پہنچ جاتا ہے، اور یہ مقام مدینہ سے تیس میل کے فاصلہ پر ہے۔
Takhreej
(۱۲۶۲) تخر یـج: …أخرجہ مسلم: ۳۸۸ (انظر: ۱۴۴۰۴)
Explanation
فوائد:… اذان، اللہ تعالیٰ کی کبریائی و بڑائی، وحدانیت و یکتانیت اور محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رسالت و نبوت کی شہادتوں اور لوگوں کے لیے خیر وفلاح کی دعوتوں پر مشتمل ہے، جب یہ اثر انگیز الفاظ شیطان کے کانوں میں پڑتے ہیں تو وہ بے برداشتہ اور دل برداشتہ ہو کر بھاگ پڑتا ہے اور ایسے مقام تک پہنچ کر سکون کی سانس لیتا ہے، جہاں اسلام کے عظیم شعار کے عظیم کلمات سنائی نہ دیتے ہوں ۔
1262
Sahih
۔ (۱۲۶۳) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلدُّعَائُ لَایُرَدُّ بَیْنَ الْأَذَانِ وَاْلإِقَامَۃِ۔))(مسند احمد: ۱۲۶۱۲)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اذان اور اقامت کے درمیان دعا ردّ نہیں کی جاتی۔
Takhreej
(۱۲۶۳) تخر یـج: …حدیث صحیح۔أخرجہ الترمذی: ۲۱۲، ۳۵۹۴، وابوداود: ۵۲۱، وابن خزیمۃ: ۴۲۵، وابن حبان: ۱۶۹۶ (انظر: ۱۲۲۰۰، ۱۲۵۸۴)
Explanation
فوائد:… مسجد کے خادم، مؤذن اور دوسرے متعلقہ لوگوں سمیت اکثر لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ اس وقت کو ضائع کر دیتے ہیں۔ انسان کی عجلت پسندی، بے صبری اور عدم برداشت نے اسے نقصان دیا ہے۔ یہ سب امور تعلق باللہ کے کمزور ہونے کا نتیجہ ہیں۔
1263
Sahih
۔ (۱۲۶۴) عَنْ جَابِرِ بِنْ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلَاۃِ فُتِحَتْ أَبْوَابُ السَّمَائِ وَاسْتُجِیْبَ الدُّعَائُ ۔)) (مسند احمد: ۱۴۷۴۵)
جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب نماز کے لیے بلایا جاتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور دعا قبول ہو جاتی ہے۔
Takhreej
(۱۲۶۴) تخر یـج: …حسن لغیرہ۔ وھذا اسناد ضعیف لسوء حفظ ابن لھیعۃ (انظر: ۱۴۶۸۹)
Explanation
فوائد:… نماز کے لیے بلانے سے مراد اذان ہے، اس حدیث کے درج ذیل شاہد سے اسی معنی کی تائید ہوتی ہے: سیّدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((اِذَا نُوْدِیَ بِالصَّلَاۃِ فُتِحَتْ اَبْوَابُ السَّمَائِ وَاسْتُجِیْبَ الدُّعَائُ۔)) یعنی: جب نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور دعا قبول کی جاتی ہے۔ (أخرجہ الطیالسی: ۲۱۰۶، وابو یعلی: ۴۰۷۲، والطبرانی فی الدعا : ۴۸۵، والبغوی: ۴۲۸ باسنادین ضعیفین)
1264
Sahih

Chapters

11
01
اذان کا حکم اور اس حکم کی تاکید کا بیان
3 Hadith
02
اذان، اذان کہنے والوں اور اماموں کی فضیلت کا بیان
14 Hadith
03
بلند آواز سے اذان کہنے کے حکم، اس کی فضیلت اور اذان واقامت کے درمیان دعا کی قبولیت اور اذان و اقامت سن کر شیطان کے بھاگ جانے کا بیان
7 Hadith
04
اذان کی ابتدا کا بیان اور عبد اللہ بن زید کا خواب اور فجر میں’ ’اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ کی مشروعیت
6 Hadith
05
اذان اور اقامت کا طریقہ اور دونوں کے کلمات کی تعداد اور ابومحذورہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے واقعہ کا بیان
10 Hadith
06
اذان پر اجرت لینے کی ممانعت کا بیان
1 Hadith
07
آدمی اذان اور اقامت سنتے وقت اور اذان کے بعد کیا کہے
16 Hadith
08
اول وقت میں اذان کہنے اور صرف فجر میں وقت سے پہلے اذان کہنے کا بیان
5 Hadith
09
جمعہ کے لیے، اور بارش والے دن اذان کہنے کا بیان
3 Hadith
10
اذان اور اقامت کے درمیان وقفہ کرنے کا بیان اورجو اذان کہے وہی اقامت کہے
6 Hadith
11
مؤذن کا جواب نہ دینے اور اذان کے بعد مسجد سے نکلنے کی وعید
4 Hadith
No chapter matched that.