TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

اذان اور اقامت کے درمیان وقفہ کرنے کا بیان اورجو اذان کہے وہی اقامت کہے

Chapter 10 of اذان اور اقامت کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 10 of 11 · 6 Hadith
۔ (۱۳۰۶) عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: کَانَ مُؤَذِّنُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُؤَذِّنَ ثُمَّ یُمْہِلُ فَـلَا یُقِیْمُ حَتّٰی إِذَا رَاٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ خَرَجَ أَقَامَ الصَّلَاۃَ حِیْنَیَرَاہُ۔ (مسند احمد: ۲۱۰۸۵)
سیّدناجابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مؤذن اذان کہہ کر ٹھہر جاتا اور اقامت نہ کہتا، جب وہ دیکھ لیتا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (گھر سے ) نکل آئے ہیں تو اقامت کہنا شروع کر دیتا۔
Takhreej
(۱۳۰۶) تخر یـج: …اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابوداود: ۵۳۷، والترمذی: ۲۰۲، وابن خزیمۃ: ۱۵۲۵، وابو عوانۃ: ۲/ ۳۰ (انظر: ۲۰۸۰۴)
1306
Sahih
۔ (۱۳۰۷)عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِیْ قَتَادَۃَ عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا نُوْدِیَ للِصَّلَاۃِ (وَفِی رَوِاَیۃٍ إذَا أُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ) فَـلَا تَقُوْمُوْا حَتّٰی تَرَوْنِیْ۔)) (مسند احمد: ۲۲۹۰۱)
سیّدناابو قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب نماز کے لیے بلایا جائے اور ایک روایت کے مطابق جب نماز کے لیے اقامت کہہ دی جائے تو تم نہ اٹھا کرو حتی کہ مجھے دیکھ لو۔
Takhreej
(۱۳۰۷) تخر یـج: …أخرجہ مسلم: ۶۰۴، والترمذی: ۵۹۲، والنسائی: ۲/ ۸۱ (انظر: ۲۳۵۳۳)
Explanation
فوائد:… اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مقتدیوں کے کھڑے ہونے کا تعلق امام سے ہے، نہ کہ اقامت سے۔ لیکن درج ذیل حدیث قابل غور ہے: سیّدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جب تک نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نکلتے نہیں تھے، اس وقت تک سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اقامت نہیں کہتے تھے۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لاتے تو وہ آپ کو دیکھ کر اقامت کہتے۔ (صحیح مسلم) ان دو احادیث میں جمع و تطبیق کی صورت یہ ہے کہ سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آمد کے انتظار میں ہوتے، جونہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھتے تو اقامت کہنا شروع کر دیتے، پھر لوگ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھ کر کھڑے ہو جاتے، لیکن بسا اوقات آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لیٹ ہو جاتے، اس لیے صحابہ کرام کو اپنی آمد سے پہلے کھڑے ہونے سے ہی منع کر دیا۔ جن روایات میں صحابہ کرام کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تشریف آوری سے پہلے کھڑے ہونے کا بیان ہے، ان کو درج بالا حدیث میں مذکورہ نہی سے پہلے پر یا پھر جواز پر محمول کیا جائے، اول الذکر بات زیادہ مناسب ہے۔
1307
Sahih
۔ (۱۳۰۸) عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا بِلَالُ! اِجْعَلْ بَیْنَ أذَانِکَ وَإِقَامَتِکَ نَـفَسًا یَفْرُغُ الْآٰ کِلُ مِنْ طَعَامِہِ فِی مَہَلٍ وَیَقْضِی الْمُتَوَضِّیئُ حَاجَتَہُ فِی مَہَلِ۔)) (مسند احمد: ۲۱۶۰۹)
سیّدنااُبی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بلال ! اپنی اذان اور اقامت کے درمیان اتنا وقفہ کر کہ کھانے والا اپنے کھانے سے باآسانی فارغ ہوسکے اور وضو کرنے والا آرام سے اپنی حاجت پوری کر لے۔
Takhreej
(۱۳۰۸) تخر یـج: …اسنادہ ضعیف لجھالۃ ابی الفضل وفی الباب عند الترمذی: ۱۹۵، ۱۹۶ واسنادہ ضعیف (انظر: ۲۱۲۸۵)
Explanation
فوائد:… یاد رہے کہ سیّدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کییہ حدیث سیّدنا جابر، سیّدنا ابو ہریرہ اور سیّدنا سلمان فارسی سے بھی مروی ہے، اس لیے ان مختلف اسانید کی بنا پر یہ قابل حجت ہے۔ امام البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے اس حدیث کے تمام طرق ذکر کر کے کہا: یہی میرا خیال ہے کہ یہ حدیث حسن ہے، کیونکہ اس کے طرق شدید ضعف سے خالی ہیں، ما سوائے تیسرے طریق کے۔ (صحیحہ: ۸۸۷) نماز با جماعت ادا کرنے والے نمازی کواذان کے بعد کون سی ضرورت پڑ سکتی ہے اور اس کو پورا کرنے کے لیے کتنا وقت درکار ہو سکتا ہے، شریعت نے اس کا تعین بھی کر دیا اور اس کا حل بھی پیشکر دیا۔ لوگوں کی فطرتی ضروریات اور حاجات کو مد نظر رکھا، تاکہ تمام لوگ نماز با جماعت کا شرف حاصل کر لیں۔ اس حدیثِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ اذان اور جماعت کے درمیان تقریبا۱۵، ۱۶ منٹ کا وقفہ ہونا چاہئے۔ ہمارے ہاں اکثر مساجد میں نماز مغرب کی اذان کے بعد فوراً جماعت کھڑی کر دی جاتی ہے، جبکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہد مبارک میں دو رکعت نفل ادا کرنے کا اہتمام کیا جاتا تھا، اس سنت پر عمل کرنے کی وجہ سے لوگ دو رکعت نفلی نماز بھی ادا کر سکتے ہیں اور اذان سن کر نماز کی تیاری کرنے والے آسانی کے ساتھ جماعت میں شریک بھی ہو سکتے ہیں۔ روحِ اذان بھییہی ہے کہ اذان کے بعد کچھ مہلت دی جائے، کیونکہ اذان کا ایک مقصد نمازیوں کو بلانا بھی ہے، اس لیے ان کے پہنچنے کا انتظار کرنا چاہیے۔
1308
Zaeef
۔ (۱۳۰۹) عَنْ زِیَادِ بْنِ نُعَیْمٍ الْحَضْرَمِیِّ عَنْ زِیَادِ بْنِ الْحَارِثِ الصُّدَائِی أَنَّہُ أَذَّنَ فَأَرَادَ بِلالٌ أَنْ یُقِیْمَ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَاأَخَا صُدَائٍ! إِنَّ الَّذِیْ أَذَّنَ فَہُوَ یُقِیْمُ۔))
زیاد بن نُعیم حضرمی بیان کرتے ہیں کہ سیّدنا زیاد بن حارث صدائی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اذان کہی، پھر سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اقامت کہنا چاہی، لیکن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمانے لگے: صدا کے بھائی! جس نے اذان کہی ہو وہی اقامت کہتا ہے۔
Takhreej
(۱۳۰۹) تخر یـج: …اسنادہ ضعیف لضعف عبد الرحمن بن زیاد الافریقی۔ أخرجہ الترمذی: ۱۹۹، وابن ماجہ: ۷۱۷ (انظر: ۱۷۵۳۷)
1309
Zaeef
۔ (۱۳۱۰)(وَعَنْہُ مِنْ طَریِقٍ ثَانٍ) عَنْ زِیَادِ بِنْ الْحَارِثَِ الصُّدَائیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أذِّنْ یَا أَخَاصُدَائٍ!)) قَالَ: فَأَذَّنْتُ وَذَلِکَ حِیْنَ أَضَائَ الْفَجْرُ، قَالَ: فَلَمَّا تَوَضَّأَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَامَ إِلَی الصَّلَاۃِ فَأَرَادَ بِلَالٌ أَنْ یُقِیْمَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یُقِیْمُ أَخُوْ صُدَائٍ، فَإِنَّ مَنْ أَذَّنَ فَہُوَ یُقِیْمُ۔)) (مسند احمد: ۱۷۶۷۹)
سیّدنا زیاد بن حارث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو فرمایا: صدا کے بھائی ! اذان کہو۔ زیاد کہتے ہیں: پس میں نے اذان کہی ، اور یہ اس وقت کی بات ہے جب فجر روشن ہوئی تھی ، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وضو کرکے نماز کے لیے اٹھے تو سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اقامت کہنا چاہی، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: صدائی اقامت کہے کیونکہ جو اذان کہتاہے، و ہی اقامت کہتا ہے۔
Takhreej
(۱۳۱۰) تخر یـج: …انظر الحدیث بالطریق الأول و أخرجہ عبد الرزاق: ۱۸۱۷ مختصرا (انظر: ۱۷۵۳۸)
1310
Zaeef
۔ (۱۳۱۱) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ زَیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ أُرِیَ الْأَذَانَ قَالَ فَجِئْتُ إِلیَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخْبَرْتُہُ فَقَالَ: ((أَلْقِہْ عَلٰی بِلَالٍ۔)) فَأَلَقَیْتُہُ فَأَذَّنَ، قَالَ: فَأَرَادَ أَنْ یُّقِیْمَ، فَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! أَنَا رَأَیْتُ، أُرِیْدُ أَنْ أُقِیْمَ، قَالَ: ((فَأَقِمْ أَنْتَ۔)) فَاقَامَ ھُوَ وَأَذَّنَ بِلَالٌ۔ (مسند احمد: ۱۶۵۹۰)
سیّدنا عبد اللہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے اذان کا خواب دیکھا، وہ کہتے ہیں:میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو آکر بتایا، لیکن آپ نے فرمایا: یہ کلمات بلال کو سکھا۔ پس میں نے وہ سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو سکھائے، پھر انہوں نے اذان کہی ،جب سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اقامت کہنے کا ارادہ کیا تو میں نے کہا: اللہ کے رسول ! خواب میں نے دیکھا ہے ، اس لیے میرا ارادہ ہے کہ اقامت تو میں کہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ سن کر فرمایا: (ٹھیک ہے) تو ہی اقامت کہہ لے۔ پس سیّدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اقامت کہی، جبکہ سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اذان کہی تھی۔
Takhreej
(۱۳۱۱) تخر یـج: …اسنادہ ضعیف لضعف ابی سھل محمد بن عمرو الانصاری الواقفی، وقد اختلف فی اسنادہ۔ أخرجہ ابوداود: ۵۱۲، ۵۱۳ (انظر: ۱۶۴۷۶)
Explanation
فوائد:… مؤذن کو ہی چاہیے کہ وہی اقامت کہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہد ِ مبارک مین یہی عمل رائج تھا اور اسی سے نظم و ضبط برقرار رہتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کوئی دوسرا آدمی بھی اقامت کہہ سکتا ہے۔ جن قولی احادیث میں اقامت کو مؤذن کے ساتھ خاص کیا گیا ہے یا دوسرے کو کہنے کی اجازت دی گئی ہے، وہ ضعیف ہیں۔
1311
Zaeef

Chapters

11
01
اذان کا حکم اور اس حکم کی تاکید کا بیان
3 Hadith
02
اذان، اذان کہنے والوں اور اماموں کی فضیلت کا بیان
14 Hadith
03
بلند آواز سے اذان کہنے کے حکم، اس کی فضیلت اور اذان واقامت کے درمیان دعا کی قبولیت اور اذان و اقامت سن کر شیطان کے بھاگ جانے کا بیان
7 Hadith
04
اذان کی ابتدا کا بیان اور عبد اللہ بن زید کا خواب اور فجر میں’ ’اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ کی مشروعیت
6 Hadith
05
اذان اور اقامت کا طریقہ اور دونوں کے کلمات کی تعداد اور ابومحذورہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے واقعہ کا بیان
10 Hadith
06
اذان پر اجرت لینے کی ممانعت کا بیان
1 Hadith
07
آدمی اذان اور اقامت سنتے وقت اور اذان کے بعد کیا کہے
16 Hadith
08
اول وقت میں اذان کہنے اور صرف فجر میں وقت سے پہلے اذان کہنے کا بیان
5 Hadith
09
جمعہ کے لیے، اور بارش والے دن اذان کہنے کا بیان
3 Hadith
10
اذان اور اقامت کے درمیان وقفہ کرنے کا بیان اورجو اذان کہے وہی اقامت کہے
6 Hadith
11
مؤذن کا جواب نہ دینے اور اذان کے بعد مسجد سے نکلنے کی وعید
4 Hadith
No chapter matched that.