۔ (۱۴۹۴) عَنْ بُسْرِبْنِ سَعِیْدٍ قَالَؔأَرْسَلَنِی أَبُوجُہَیْمِ بْنُ أُخْتِ أُبِیِّ بْنِ کَعْبٍ إِلَی زَیْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُہَنِّی رضی اللہ عنہ أَسَأَلُہُ مَا سَمِعَ فِی الْمَارِّ بَیْنَیَدَیِ الَمُصَلِّیْ؟ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَقُوْلُ: ((لَأَنْیَقُوْمَ أَرْبَعِیْنَ)) لَا أَدْرِی مِنْ یَوْمٍ أَوْشَہْرٍ أَوْسَنَۃٍ ((خَیْرٌلَہُ مِنْ أَنْ یَمُرَّ بَیْنَیَدَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۱۷۷)
بسر بن سعدکہتے ہیں کہ سیّدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے بھانجے ابو جہیم نے مجھے زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کی طرف یہ پوچھنے کے لیے بھیجا کہ انہوں نے نمازی کے آگے سے گزرنے والے کے متعلق کیا سنا ہے؟ انہوںنے کہا کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: اگر (گزرنے والا) چالیس کھڑا رہے تو یہ اس کے لیے گزر جانے سے بہتر ہے۔ اب میں یہ نہیں جانتا کہ چالیس دن مراد ہیںیا مہینےیا سال۔
Takhreej
(۱۴۹۴) تخریـج:… أخرجہ البخاری: ۵۱۰، ومسلم: ۵۰۷ (انظر: ۱۷۰۵۱، ۱۷۵۴۰)۔
1494
Sahih