TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

مغرب میں قراء ت کا بیان

Chapter 24 of نمازی کے آگے سترہ رکھنے او راس کے پیچھے سے گزرنے کا حکم in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 24 of 30 · 7 Hadith
۔ (۱۶۲۶) حَدَّثَناَ عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَبَہْزٌ قَالاَ ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاھِیْمَ قَالَ سَمِعْتُ بَعْضَ إِخْوَتِیِْیُحَدِّثُ عَنْ أَبِیْ عَنْ جُبَیْرِ ابْنِ مُطْعِمٍ أَنَّہُ أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی فِدَائِ الْمُشْرِکِیْنَ قَالَ بَہْزٌ فِی فِدَائِ أَھْلِ بَدْرٍ، وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرِ وَمَا أَسْلَمَ یَوْمَئِذٍ، قَالَ فَانْتَہَیْتُ إِلَیْہِ وَھُوَ یُصَلِّی الْمَغْرِبَ وَھُوَ یَقْرَأُ فِیْہَا بِالطُّوْرِ قَالَ فَکَأَنَّمَا صُدِعَ قَلْبِیْ حَیْثُ سَمِعْتُ الْقُرْآنَ، وَقَالَ بَہْزٌ فِی حَدِیْثِہِ فَکَأَنَّمَا صُدِعَ قَلْبِیْ حِیْنَ سَمِعْتُ الْقُرْآنَ۔ (مسند احمد: ۱۶۹۰۷)
سیدناجبیر بن مطعم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بدر والے (قیدی) مشرکوں کے سلسلے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے، اس وقت وہ مسلمان نہیں تھے، وہ کہتے ہیں: جب میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچے توآپ نمازِ مغرب پڑھا رہے تھے اور اس میں سورۂ طور کی تلاوت کر رہے تھے، یہ قرآن سن کر مجھے یوں محسوس ہوا کہ میرا دل پھٹنے لگا ہے۔
Takhreej
(۱۶۲۶) تخریج: حدیث صحیح دون قولہ: فکأنما صدع قلبی حیث سمعت القرآن ۔ أخرجہ الطیالسی: ۹۴۳، وابو یعلی: ۷۴۰۷، وأخرجہ البخاری: ۴۸۵۴، ومسلم: ۴۶۳ بذکر الطور فی المغرب فقط۔ (انظر: ۱۶۷۳۵، ۱۶۷۸۵)
Explanation
فوائد:… سیدنا جبیر بن مطعم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دل کییہ کیفیت سماعِ قرآن کی تأثیر کی وجہ سے تھی، جبکہ وہ اس وقت مسلمان بھی نہیں تھے، ہم کو اس واقعہ سے سبق حاصل کرنا چاہیے، جبکہ ہم مسلمان بھی ہیں۔ سورۂ طور کے دو رکوع اور انچاس آیات ہیں۔
1626
Sahih
۔ (۱۶۲۷) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا مُحَمَّدُ بْن جَعَفْرٍ ثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ عَنِ ابْنِ أَبِیْ مُلَیْکَۃَ أَخْبَرَنِیْ عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ أَنَّ مَرْوَانَ أَخْبَرَہُ أَنَّ زَیْدَ بْنَ ثَاِبتٍ قَالَ لَہُ: مَالِیْ أَرَاکَ تَقْرَأُ فِی الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ السُّوَرِ، قَدْ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقْرَأُ فِیْہَا بِطُولَی الطُّولَیَیْنِ، قَالَ ابْنُ أَبِیْ مُلْیَکَۃَ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ قُلْتُ لِعُرْوَۃَ) مَاطُولَی الطُّوْلَیَیْنِ قَالَ الْأَعْرَافُ۔ (مسند احمد: ۲۱۹۸۰)
سیدنازید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مروان سے کہا: کیا وجہ ہے کہ میں تجھے نماز مغرب میں چھوٹی چھوٹی سورتوں کی تلاوت کرتے ہوئے ہی سنتا ہوں، میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تو اس نماز میں دو لمبی سورتوں میں سے ایک لمبی سورت پڑھتے تھے۔ ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں: میں نے عروہ سے کہا: دو لمبی سورتوں میں سے ایک لمبی سورت سے کیا مراد ہے؟ انہوںنے کہا: وہ سورۂ اعراف ہے۔
Takhreej
(۱۶۲۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۷۶۴ (انظر: ۲۱۶۴۱)
1627
Sahih
۔ (۱۶۲۸) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا وَکِیْعٌ ثَنَا ھِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ أَبِیْ أَیُّوْبَ أَوْ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ النّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَرَأَ فِی الْمَغْرِبِ بِالْأَعْرَافِ فِی الرَّکْعَتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۲۳۹۴۰)
سیدنا ابو ایوبیا سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مغرب کی دو رکعتوں میں سورۂ اعراف کی تلاوت کی۔
Takhreej
(۱۶۲۸) تخریج: انظر الحدیث رقم: ۵۷۵ (انظر: ۲۳۵۴۴)
Explanation
فوائد:… سورۂ اعراف کے چوبیس رکوع اور (۲۰۶) آیتیں ہیں۔
1628
Sahih
۔ (۱۶۲۹) عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا أَنَّہُ قَالَ: إِنَّ أُمَّ الْفَضْلِ بِنْتَ الْحَارِثِ سَمِعَتْہُ وَھُوَ یَقْرَأُ {وَالْمَرْسَلاَتِ عُرْفًا} فَقَالَتْ: یَابُنَيَّ لَقَدْ ذَکَّرْتَنِی بِقِرَائَ تِکَ ھٰذِہِ السُّوَرَۃَ، إِنَّہَا لَآخِرُ مَاسَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقْرَأُ بِہَا فِی الْمَغْرِبِ۔ (مسند احمد: ۲۷۴۲۲)
سیدناعبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: سیدہ ام فضل بنت حار ث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے مجھے سورۂ مرسلات کی تلاوت کرتے ہوئے سن کر کہا: اے میرے پیارے بیٹے! تو نے یہ سورت پڑھ کر مجھے(یہ بات) یاد کرادی ہے کہ یہ آخری سورت ہے، جو میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مغرب کی نماز میںپڑھتے ہوئے سنا تھا۔
Takhreej
(۱۶۲۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۷۶۳، ومسلم: ۴۶۲ (انظر: ۲۶۸۸۴)
Explanation
فوائد:… سورۂ مرسلات کے دو رکوع اور پچاس آیات ہیں۔
1629
Sahih
۔ (۱۶۳۰) عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ: صَلّٰی بَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ بَیْتِہٖ مُتَوَشِّحًا فِیْ ثَوْبٍ الْمَغْرِبَ فَقَرَأَ الْمُرْسَلَاتِ، مَا صَلّٰی بَعْدَھَا حَتّٰی قُبِضَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۷۴۰۸)
سیدہ ام فضل بنت حارث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے گھر میں ایک کپڑے میں لپٹ کر ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی اور سورۂ مرسلات کی تلاوت کی، اس کے بعد کوئی نماز نہ پڑھی، حتی کہ فوت ہو گئے۔
Takhreej
(۱۶۳۰) تخریج: أخطأ موسی بن داود الضبی، فأدخل حدیثا فی حدیث۔ فقولھا: صلی بنا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فی بیتہ متوشحا فی ثوب، انما ھو من حدیث انس، وھو حدیث صحیح (مسند احمد: ۱۳۲۶۰)، وأما حدیث: قرأ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فی المغرب سورۃ المرسلات، فھو من حدیث ام الفضل، وھو حدیث صحیح (مسند احمد: ۲۶۸۶۸) أما ھذا الحدیث، فأخرجہ النسائی: ۲/ ۱۶۸(انظر: ۲۶۸۷۱)
1630
Sahih
۔ (۱۶۳۱) عَنْ حَنْظَلَۃَ السُّدُوْسِّیِّ قَالَ: قُلْتُ لِعِکْرِمَۃَ: إِنِّیْ أَقْرَأُ فِیْ صَلاَۃِ الْمَغْرِبِ بِـ {قُلْ أَعُوذُبِرَبِّ الْفَلَقِ} وَ {قُلْ أَعُوذُبِرَبِّ النَّاسِ}، وَإِنَّ نَاسًا یَعِیْبُوْنَ ذٰلِکَ عَلَیَّ؟ فَقَالَ: وَمَا بَأْسٌ بِذٰلِکَ، اِقْرَأْھُمَا فَإِنَّہُمَا مِنَ الْقُرْآنِ ثُمَّ قَالَ حَدَّثَنِیْ ابْنُ عَبَّاسِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَائَ فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ لَمْ یَقْرَأْ فِیِْہِمَا إِلاَّ بِأُمِّ الْکِتَابِ۔ (مسند احمد: ۲۵۵۰)
حنظلہ سدوسی کہتے ہیں: میں نے عکرمہ سے کہا کہ میںمغرب کی نماز میں سورۂ فلق اور سورۂ ناس کی تلاوت کرتا ہوں، لیکن لوگ مجھ پر اس کا عیب لگاتے ہیں؟ انھوں نے کہا: اس میں تو کوئی حرج نہیں ہے، تو ان کو پڑھ سکتا ہے، کیونکہیہ قرآن سے ہیں۔مجھے تو سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ حدیث بھی بیان کی کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے اور دو رکعتیں پڑھیں اور ان میں صرف سورۂ فاتحہ کی تلاوت کی۔
Takhreej
(۱۶۳۱) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف حنظلۃ السدوسی۔ أخرجہ البیھقی: ۲/ ۶۱ مختصرا بالمرفوع فقط، وأخرجہ بطولہ ابن خزیمۃ۵۱۳ (انظر: ۲۵۵۰)
Explanation
فوائد:… یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ پر اکتفا کرنا درست ہے، پہلے اس کی وضاحت کی جا چکی ہے۔
1631
Zaeef
۔ (۱۶۳۲) عَنْ یَزِیْدَ بْنِ أَبِیْ حَبِیْبٍ قَالَ: حَدَّثَنِیْ أَبُوْ عِمْرَانَ أَنَّہُ سَمِعَ عُقْبَۃَ بْنَ عَامِرٍ یَقُوْلُ: تَعَلَّقْتُ بِقَدَمِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! أَقْرِئْنِیْ سُوْرَۃَ ھُودٍ وَسُورَۃَیُوسُفَ۔ فَقَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَاعُقْبَۃُ بْنَ عَامِرٍ! لَمْ تُقْرَأْ سُوْرَۃٌ أَحَبُّ إِلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَ وَلاَ أَبْلَغُ عِنْدَہُ مِنْ {قُلْ أَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} قَالَ یَزِیْدُ لَمْ یَکُنْ أَبُوْ عِمْرَانَ یَدَعُہَا، وَکَانَ لاَ یَزَالُیَقْرَأُھَا فِیْ صَلَاۃِ الْمَغْرِبِ۔ (مسند احمد: ۱۷۵۵۴)
سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہے: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قدم کے ساتھ چمٹ گیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے سورۂ ہود اور سورۂ یوسف پڑھا دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا: اے عتبہ بن عامر!کوئی ایسی سورت نہیں پڑھی گئی جو اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند اور سب سے زیادہ بلیغ ہو، ما سوائے سورۂ فلق کے۔ (یہ حدیث سننے کے بعد) ابو عمران اس سورت کو نہیں چھوڑتے تھے اور ہمیشہ نماز مغرب میں پڑھتے تھے۔
Takhreej
(۱۶۳۲) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ النسائی: ۸/ ۲۵۴، والدارمی: ۳۴۳۹ (۱۷۲۴۱، ۱۷۴۱۸)
1632
Sahih

Chapters

30
01
نمازی کے لیے سترے کے مستحب ہونے اور اس کے قریب ہونے کا بیان اور اس کی وضاحت کہ وہ کس چیز کا ہو اور نمازی کی کس طرف ہونا چاہیے؟
10 Hadith
02
نمازی کے آگے گزرنے والے آدمی وغیرہ کو روکنے کا بیان
11 Hadith
03
نمازی اور اُس کے سترہ کے در میان سے گزرنے کے متعلق سختی کا بیان
3 Hadith
04
جو شخص اس حالت میں نماز پڑھے کہ ا س کے آگے کوئی انسان یا چوپایہ ہو
3 Hadith
05
امام کا سترہ ہی مقتدی کا سترہ ہے او ر کسی چیز کے گزر جانے سے نماز منقطع نہیں ہوتی
6 Hadith
06
سترے کے بغیر نماز پڑھنے کا بیان
4 Hadith
07
نماز کے جامع طریقے کا بیان
14 Hadith
08
نماز کے افتتاح او ر اس میںخشوع کا بیان
7 Hadith
09
تکبیر تحریمہ وغیرہ کے وقت رفع الیدین کرنے کا بیان (رفع الیدین قبل از رکوع و بعد از رکوع)
7 Hadith
10
اسی باب کی ایک فصل اس شخص کی دلیل کے متعلق جس کے خیال کے مطابق تکبیرۂ تحریمہ کے علاوہ رفع الیدین نہیں ہے
9 Hadith
11
تکبیر تحریمہ کے بعد، قراء ت سے پہلے، {وَلَاالضَّآلِّیْنَ} کہنے کے بعد اور سورت (کی تلاوت)کے بعد یعنی رکوع سے پہلے سکتوں کا بیان
4 Hadith
12
دعائے استفتاح اور قراء ت سے پہلے تعوذ کا بیان
8 Hadith
13
سورۂ فاتحہ کی تلاوت کرتے وقت {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیْمِ} (پڑھنے) کا بیان
8 Hadith
14
سورۃ الفاتحہ کی تفسیر اور اس کی دلیل جس کا یہ خیال ہے کہ {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ} فاتحہ کی آیت نہیں ہے
2 Hadith
15
فاتحہ پڑھنے کے وجوب کا بیان
8 Hadith
16
مقتدی کی قراء ت اور جب اپنے امام کو سنے تو اس کے خاموش ہونے کا بیان
9 Hadith
17
نماز میں بلند آواز سے قراء ت کرنے کی ممانعت، جب وہ دوسرے نمازی پر (قراء ت) گڈ مڈ کر رہا ہو
6 Hadith
18
آمین کہنے او رقراء ت میں اسے بلند آواز یاآہستہ کہنے کا بیان
5 Hadith
19
اس شخص کے حکم کا بیان جو قراء ت کا فریضہ اچھی طرح ادا نہیں کر سکتا
1 Hadith
20
پہلی دو رکعتوں میں فاتحہ کے بعد سورت پڑھنے اور دوسری دو رکعتوں میں اس کا پڑھنے کا مسنون ہونے یا نہ ہونے کا بیان
5 Hadith
21
ایک رکعت میں دو یا زائد سورتیںیا ایک سورت کابعض حصہ تلاوت کرنے اور ایک سورت یا بعض آیات کو تکرارکے ساتھ تلاوت کرنے کا بیان
7 Hadith
22
نمازوں میں قراء ت کے متعلق جامع بیان
5 Hadith
23
ظہر و عصر میں قراء ت کا بیان
11 Hadith
24
مغرب میں قراء ت کا بیان
7 Hadith
25
عشا میں قراء ت کرنے کا بیان
5 Hadith
26
صبح میں اور جمعہ کی دن کی صبح میں قراء ت کا بیان
11 Hadith
27
قراء ت کے سری اورجہری ہونے کا اور ترتیل وغیرہ کا بیان
7 Hadith
28
امام پر طاری ہونے والے (امور) اور اس کو لقمہ دینے کا حکم
3 Hadith
29
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اور سیّدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کی قراء ت کا نماز میں حجت ہونے کا بیان جن کی قراء ت پر تعریف کی گئی ہے
4 Hadith
30
تکبیرات الانتقال کا بیان
14 Hadith
No chapter matched that.