۔ (۱۶۰۳) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ شَقِیْقٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَۃَ رضی اللہ عنہا : ھَلْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
یَجَمْعُ بَیْنَ السُّوَرِ فِیْ رَکْعَۃٍ قَالَتْ: الْمُفَصَّلَ۔ (مسند احمد: ۲۶۲۰۶)
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک رکعت میں زیادہ سورتوںکو جمع کر لیتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: مفصل (سورتوں کو جمع کر لیتے تھے)۔
Takhreej
(۱۶۰۳) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم۔ أخرجہ ابوداود: ۹۵۶، وابن خزیمۃ: ۵۳۹، واسحاق بن راھویہ: ۱۳۰۱ (انظر: ۲۵۳۸۵، ۲۵۶۸۷)
Explanation
فوائد:… مُفَصَّل سورتوں کا آغاز سورۂ حجرات یا سورۂ ق سے ہوتا ہے اور قرآن کے آخر تک جاری رہتا ہے۔
نافع کہتے ہیں: بسا اوقات سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرضی نماز میں ہماری امامت کرواتے ہوئے دو یا زائد سورتیں جمع کر لیتے تھے۔
1603
Sahih