TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

ایک رکعت میں دو یا زائد سورتیںیا ایک سورت کابعض حصہ تلاوت کرنے اور ایک سورت یا بعض آیات کو تکرارکے ساتھ تلاوت کرنے کا بیان

Chapter 21 of نمازی کے آگے سترہ رکھنے او راس کے پیچھے سے گزرنے کا حکم in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 21 of 30 · 7 Hadith
۔ (۱۶۰۳) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ شَقِیْقٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا : ھَلْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَجَمْعُ بَیْنَ السُّوَرِ فِیْ رَکْعَۃٍ قَالَتْ: الْمُفَصَّلَ۔ (مسند احمد: ۲۶۲۰۶)
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے سوال کیا کہ کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک رکعت میں زیادہ سورتوںکو جمع کر لیتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: مفصل (سورتوں کو جمع کر لیتے تھے)۔
Takhreej
(۱۶۰۳) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم۔ أخرجہ ابوداود: ۹۵۶، وابن خزیمۃ: ۵۳۹، واسحاق بن راھویہ: ۱۳۰۱ (انظر: ۲۵۳۸۵، ۲۵۶۸۷)
Explanation
فوائد:… مُفَصَّل سورتوں کا آغاز سورۂ حجرات یا سورۂ ق سے ہوتا ہے اور قرآن کے آخر تک جاری رہتا ہے۔ نافع کہتے ہیں: بسا اوقات سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ فرضی نماز میں ہماری امامت کرواتے ہوئے دو یا زائد سورتیں جمع کر لیتے تھے۔
1603
Sahih
۔ (۱۶۰۴) عَنْ نَافِعٍ قَالَ: رُبَّمَا أَمَّنَا ابْنُ عُمَرَ بِالسُّورَتَیْنِ وَالثَّلَاثِ فِی الْفَرِیْضَۃِ۔ (مسند احمد: ۴۶۱۰)
نافع کہتے ہیں: بسا اوقات سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ فرضی نماز میں ہماری امامت کرواتے ہوئے دو یا زائد سورتیں جمع کر لیتے تھے۔
Takhreej
(۱۶۰۴) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین۔ أخرجہ الطحاوی: ۱/ ۳۴۸ (انظر: ۴۶۱۰) ویشھد لہ ما یأتی من حدیث ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌۔
1604
Sahih
۔ (۱۶۰۵) عَنْ نَہِیْکِ بْنِ سِنَانٍ السَّلَمِیِّ أَنَّہُ أَتٰی عَبْدَاللّٰہِ بْنَ مَسْعُودٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقَالَ: قَرَأْتُ الْمُفَصَّلَ الَّلیْلَۃَ فِی رَکْعَۃٍ، فَقَالَ: ھَذًّا مِثْلَ ھَذِّ الشِّعْرِ أَوْنَثْرًا مِثْلَ نَثْرِ الدَّقَلِ، إِنَّمَا فُصِّلَ لِتُفَصِّلُوا، لَقَدْ عَلِمْتُ النَّظَائِرَ الَّتِیْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہُ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقْرِنُ عِشْرِ یْنَ سُورَۃً، الرَّحْمٰنَ وَالنَّجْمَ عَلٰی تَأْلِیْفِ ابْنِ مَسْعُودٍ کُلَّ سُورَتَیْنِ فِی رَکْعَۃِ، وَذَکَرَ الدُّخَانَ وَعَمَّ یَتَسَائَ لُونَ فِی رَکْعَۃٍ۔ (مسند احمد: ۳۹۵۸)
نہیک بن سنان سلمی کہتے ہیں: میں سیدناعبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا اور کہا: میں نے رات کو ایک رکعت میں مفصل سورتوں کی تلاوت کی ہے، انہوں نے کہا: شعروں کو پڑھنے کی طرح یا ردی کھجوروں کو بکھیرنے کی طرح تیزی تیزی سے پڑھا ہو گا۔ قرآن کو تو اس لیے مفصل بیانکیا گیا کہ تم بھی اس کے الفاظ کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھو۔ یقینا میں اُن ملتی جلتی بیس سورتوں کو جانتا ہوں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جن کو ملا کر پڑھتے تھے۔ سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی تالیف کے مطابق سورۂ رحمن اور سورۂ نجم ایک رکعت میں، پھر سورۂ دخان اور سورۂ {عَمَّ یَتَسَائَ لُونَ} کا ایک رکعت میں پڑھنے کا ذکر کیا۔
Takhreej
(۱۶۰۵) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ البخاری: ۴۹۹۶، ومسلم: ۸۲۲ (انظر: ۳۶۰۷، ۳۹۵۸)
Explanation
فوائد:… قرآن کو تو اس لیے مفصل بیان کیا گیا کہ تم بھی اس کے الفاظ کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھو ۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ قرآن مجید کے معانی و مفاہیم کو انتہائی وضاحت کے ساتھ بیان کیا اور اس کے احکام و مسائل کو بھی ٹھوس بنیادوں پر استوار کیا گیا، اس لیے قاری کو بھی چاہیے کہ اس کلام کو ٹھہر ٹھہر کر اور سوچ سمجھ کر تلاوت کرے۔
1605
Sahih
۔ (۱۶۰۶)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثاَنٍ) عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الْأَ سْوَدِ بِنْ یَزِیْدَ وَعَلْقَمَۃَ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ (یَعْنِی ابْنَ مَسْعُودٍ)) أَنَّ رَجُلاً أَتَاہُ فَقَالَ: قَرَأَتُ الْمُفَصَّلَ فِی رَکْعَۃٍ، فَقَالَ: بَلْ ھَذَذْتَ کَہَذِّ الشِّعْرِ أَوْ کَنَثْرِ الدَّقَلِ، لٰکِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمْ یَفْعَلْ کَمَا فَعَلْتَ، کَانَ یَقْرَ أُ النُّظُرَ الرَّحْمٰنَ وَالنَّجْمَ فِی رَکْعَۃٍ، قَالَ فَذَکَرَ أَبُوْ إِسْحَاقَ عَشْرَ رَکَعَاتٍ بِعِشْرِیْنَ سُورَۃً عَلٰی تَأْلِیْفِ عَبْدِاللّٰہِ (یَعْنِی ابْنَ مَسْعُوْدٍ) آخِرُ ھُنَّ إِذَا الشَّمْسُ کُوِّرَتْ وَالدُّخَانُ ۔ (مسند احمد: ۳۹۶۸)
۔ (دوسری سند)ایک آدمی سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا اور کہا: میں نے ایک رکعت میں مفصل سورتوں کی تلاوت کی ہے، انہوں نے کہا: تو نے تو پھرشعر کو پڑھنے کی طرح یا ردی کھجوروں کو بکھیرنے کی طرح تیزی تیزی سے پڑھا ہو گا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس طرح تلاوت نہیں کرتے تھے، جیسے تونے کی ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تو ملتی جلتی سورتوں (میں سے دو دو) کو ایک رکعت میں پڑھتے تھے، مثلا سورۂ رحمن اور سورۂ نجم ایک رکعت میں۔ پھر ابو اسحاق نے بیس سورتوں کے ساتھ دس رکعات کا ذکر کیا،یہ ترتیب سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی تالیف کے مطابق تھی، آخری سورتیں سورۂ تکویر اور سورۂ دخان تھیں۔
Takhreej
(۱۶۰۶) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۱۳۹۶، وانظر الحدیث بالطریق الاول (انظر: ۳۹۶۸)
Explanation
فوائد:… ملتی جلتی سورتوں سے مراد وہ سورتیں ہیں جن کا موضوع وعظ و نصیحت اور قصہ و حکمت کے اعتبار سے ایک بنتا ہے۔ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ اگر کوئی آدمی ٹھہر ٹھہر کر تلاوت کرتا ہے تو وہ ایک رکعت میں مفصل سورتوں کی تلاوت کر سکتا ہے، کیونکہیہ مقدار چار پاروں سے کچھ زیادہ ہے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ایک رکعت میں اس مقدار سے زیادہ تلاوت کرنا بھی ثابت ہے، کیونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک مرتبہ ایک رکعت میں سورۂ بقرہ، سورۂ نساء اور سورۂ آل عمران کی تلاوت کی،یہ مقدار پانچ پاروںسے زیادہ ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا مقصد یہہے کہ بعینہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اقتدا کی جائے۔
1606
Sahih
۔ (۱۶۰۷) عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقْرَأُ فِیْ رَکْعَتَیْہِ قَبْلَ الْفَجْرِ بِفَاتِحَۃِ الْقُرْآنِ وَالْآیَتَیْنِ مِنْ خَاتِمَۃِ الْبَقَرَۃِ فِی الرَّکْعَۃِ الْأُوْلٰی، وَفِی الرَّکْعَۃِ الْآخِرَۃِ بِفَاتِحَۃِ الْقُرْآنِ وَبِالْآیَۃِ مِنْ سُوْرَۃِ آلِ عِمْرَانَ {قُلْ یٰأَھْلَ الْکِتَابِ تَعَالَوْا إِلٰی کَلِمَۃٍ سَوَائٍ بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ} حَتّٰییَخْتِمَ الآیَۃَ۔ (مسند احمد: ۲۳۸۶)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فجر سے پہلے والی سنتوں کی پہلی رکعت میں سورۂ فاتحہ اور سورۂ بقرہ کے آخر سے دو آیتیں اور دوسری رکعت میں سورۂ فاتحہ اور سورۂ آل عمران کی اس آیت {قُلْ یأَھْلَ الْکِتَابِ تَعَالَوْا إِلٰی کَلِمَۃٍ سَوَائٍ بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ… …} کی تلاوت کرتے تھے۔
Takhreej
(۱۶۰۷) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ الراوی عن ابن عباس (انظر: ۲۳۸۶)
Explanation
فوائد:… یہ حدیث ضعیف ہے، لیکن فاتحہ شریف کے بعد ایک آیت پڑھنا درست ہے، جیسا کہ عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم زیادہ تر فجرکی دو سنتوں کی پہلی رکعت میں سورۂ بقرہ کی آیت نمبر ۱۳۶ {قُوْلُوْا آمَنَّا بِاللّٰہِ وَمَا اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَمَا اُنْزِلَ اِلٰی اِبْرَاہِیْمَ وَاِسْمٰعِیْل وَاِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ وَالْاَسْبَاطِ وَمَا اُوْتِیَ مُوْسٰی وَعِیْسٰی وَمَا اُوْتِیَ النَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّبِّھِمْ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْھُمْ وَنَحْنُ لَہٗمُسْلِمُوْنَ۔} اوردوسری رکعت میں سورۂ آل عمران کی آیت نمبر ۵۲ {قُلْ یٰأَھْلَ الْکِتَابِ تَعَالَوْا إِلٰی کَلِمَۃٍ سَوَائٍ بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللّٰہَ وَلَانُشْرِکَ بِہٖشَیْئًا وَّلاَ یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوْا اشْھَدُوْ بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ} پڑھتے تھے۔ (مسند احمد: ۲۰۳۸، ۲۰۴۵، مسلم ۷۲۷) مسند احمد میں اور صحیح مسلم کی ایک روایت میں دوسری رکعت میں اس آیت کا ذکر ہے: {فَلَمَّآ اَحَسَّ عِیْسٰی مِنْھُمُ الْکُفْرَ قَالَ مَنْ اَنْصَارِیْٓ اِلَی اللّٰہِ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰہِ آمَنَّا بِاللّٰہِ وَاشْھَدْ بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ}
1607
Sahih
۔ (۱۶۰۸) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَیُحِبُّ أَحَدُ کُمْ إِذَا رَجَعَ إِلٰی أَھْلِہِ أَنْ یَجِدَ ثَلاَثَ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ؟)) قَالَ: قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: ((فَثَلاَثُ آیَاتٍیَقْرأُ بِہِنَّ فِی الصَّلاَۃِ خَیْرٌ لَہُ مِنْہُنَّ۔)) (مسند احمد: ۹۱۴۱)
سیدناابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم میںسے کوئی پسند کرتا ہے کہ جب وہ گھر لوٹے تو تین بڑی بڑی موٹی حاملہ اونٹنیاں پائے ؟ ہم نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین آیتیں جن کو وہ نماز میں تلاوت کر لے، اس کے لیے ان (تین اونٹنیوں) سے بہتر ہیں۔
Takhreej
(۱۶۰۸) تخریج: أخرجہ مسلم: ۸۰۲ (انظر: ۱۰۰۱۶)
Explanation
فوائد:… بغیر کسی عذر کے نماز میں طوالت سے جی کترانے والوں یا لمبے قیام کو پسند نہ کرنے والوں کے لیے عبرت کا مقام ہے کہ وہ کس قدر محرومی کا شکار ہیں، جبکہ ایک ایک آیت کا اتنا بڑا اجر ہے۔
1608
Zaeef
۔ (۱۶۰۹) عَنْ أَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیْلَۃً فَقَرَأَ بِآیَۃٍ حَتّٰی أَصْبَحَ یَرْکَعُ وِیَسْجُدُ بِہَا {إِنْ تُعَذِّ بْہُمْ فَإِنَّہُمْ عِبَادُکَ، وَإِنْ تَغْفِرْ لَھُمْ فَإِنَّکَ أَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکَیْمُ۔} فَلَمَّا أَصْبَحَ قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! ماَزِلْتَ تَقْرَأُ ھٰذِہِ الْآیَۃَ حَتّٰی أَصْبَحْتَ تَرْکَعُ وَتَسْجُدُ بِہَا؟ قَالَ: ((إِنِّیْ سَأَلْتُ اللّٰہَ الشَّفَاعَۃَ لِأُمَّتِیْ فَأَعْطَا نِیْہَا، وَھِیَ نَائِلَۃٌ إِنْ شَائَ اللّٰہُ لِمَنْ لَایُشْرِکُ بِاللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ شَیْئًا۔)) (مسند احمد: ۲۱۶۵۴)
سیدناابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک رات نماز پڑھی اور صبح تک ایک ہی آیت کی تلاوت کے ساتھ رکوع وسجود کرتے رہے، (وہ آیتیہ ہے:) {إِنْ تُعَذِّ بْہُمْ فَإِنَّہُمْ عِبَادُکَ، وَإِنْ تَغْفِرْ لَھُمْ فَإِنَّکَ أَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکَیْمُ} جب صبح ہوئی تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ صبح تک ایک ہی آیت پڑھتے رہے اور اسی کے ساتھ رکوع و سجود کرتے رہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے اپنی امت کے لیے اللہ تعالیٰ سے سفارش کرنے کا سوال کیا ، جو اس نے مجھے عطا کر دیا اور اگر اللہ نے چاہا تو وہ ہر اس شخص کو حاصل ہو گی جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا۔
Takhreej
(۱۶۰۹) تخریج: اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۱۳۵۰، والنسائی: ۲/ ۱۷۷ بلفظ متقارب منہ (انظر: ۲۱۵۳۸)
Explanation
فوائد:… اس باب کی ہر حدیث اپنے مفہوم میں واضح ہے، آخری حدیث میں دی گئی رخصت حیران کن ہے کہ ہر رکعت میں ایک آیت کو بار بار پڑھا جا سکتا ہے، ظاہر ہے کہ ایک سورت کی بار بار تلاوت کرنے کی گنجائش بھی مل رہی ہے، جن لوگوں کو صرف قرآن مجید کی آخری مختصر سورتیںیاد ہوں، وہ اس حدیث کی روشنی میں ایک ہی سوررت یا آیت کی بار بار تلاوت کر کے لمبی قیام کییا ایک رکعت میں زیادہ آیات کی تلاوت کرنے کی سعادت حاصل کر سکتے ہیں۔
1609
Sahih

Chapters

30
01
نمازی کے لیے سترے کے مستحب ہونے اور اس کے قریب ہونے کا بیان اور اس کی وضاحت کہ وہ کس چیز کا ہو اور نمازی کی کس طرف ہونا چاہیے؟
10 Hadith
02
نمازی کے آگے گزرنے والے آدمی وغیرہ کو روکنے کا بیان
11 Hadith
03
نمازی اور اُس کے سترہ کے در میان سے گزرنے کے متعلق سختی کا بیان
3 Hadith
04
جو شخص اس حالت میں نماز پڑھے کہ ا س کے آگے کوئی انسان یا چوپایہ ہو
3 Hadith
05
امام کا سترہ ہی مقتدی کا سترہ ہے او ر کسی چیز کے گزر جانے سے نماز منقطع نہیں ہوتی
6 Hadith
06
سترے کے بغیر نماز پڑھنے کا بیان
4 Hadith
07
نماز کے جامع طریقے کا بیان
14 Hadith
08
نماز کے افتتاح او ر اس میںخشوع کا بیان
7 Hadith
09
تکبیر تحریمہ وغیرہ کے وقت رفع الیدین کرنے کا بیان (رفع الیدین قبل از رکوع و بعد از رکوع)
7 Hadith
10
اسی باب کی ایک فصل اس شخص کی دلیل کے متعلق جس کے خیال کے مطابق تکبیرۂ تحریمہ کے علاوہ رفع الیدین نہیں ہے
9 Hadith
11
تکبیر تحریمہ کے بعد، قراء ت سے پہلے، {وَلَاالضَّآلِّیْنَ} کہنے کے بعد اور سورت (کی تلاوت)کے بعد یعنی رکوع سے پہلے سکتوں کا بیان
4 Hadith
12
دعائے استفتاح اور قراء ت سے پہلے تعوذ کا بیان
8 Hadith
13
سورۂ فاتحہ کی تلاوت کرتے وقت {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیْمِ} (پڑھنے) کا بیان
8 Hadith
14
سورۃ الفاتحہ کی تفسیر اور اس کی دلیل جس کا یہ خیال ہے کہ {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ} فاتحہ کی آیت نہیں ہے
2 Hadith
15
فاتحہ پڑھنے کے وجوب کا بیان
8 Hadith
16
مقتدی کی قراء ت اور جب اپنے امام کو سنے تو اس کے خاموش ہونے کا بیان
9 Hadith
17
نماز میں بلند آواز سے قراء ت کرنے کی ممانعت، جب وہ دوسرے نمازی پر (قراء ت) گڈ مڈ کر رہا ہو
6 Hadith
18
آمین کہنے او رقراء ت میں اسے بلند آواز یاآہستہ کہنے کا بیان
5 Hadith
19
اس شخص کے حکم کا بیان جو قراء ت کا فریضہ اچھی طرح ادا نہیں کر سکتا
1 Hadith
20
پہلی دو رکعتوں میں فاتحہ کے بعد سورت پڑھنے اور دوسری دو رکعتوں میں اس کا پڑھنے کا مسنون ہونے یا نہ ہونے کا بیان
5 Hadith
21
ایک رکعت میں دو یا زائد سورتیںیا ایک سورت کابعض حصہ تلاوت کرنے اور ایک سورت یا بعض آیات کو تکرارکے ساتھ تلاوت کرنے کا بیان
7 Hadith
22
نمازوں میں قراء ت کے متعلق جامع بیان
5 Hadith
23
ظہر و عصر میں قراء ت کا بیان
11 Hadith
24
مغرب میں قراء ت کا بیان
7 Hadith
25
عشا میں قراء ت کرنے کا بیان
5 Hadith
26
صبح میں اور جمعہ کی دن کی صبح میں قراء ت کا بیان
11 Hadith
27
قراء ت کے سری اورجہری ہونے کا اور ترتیل وغیرہ کا بیان
7 Hadith
28
امام پر طاری ہونے والے (امور) اور اس کو لقمہ دینے کا حکم
3 Hadith
29
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اور سیّدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کی قراء ت کا نماز میں حجت ہونے کا بیان جن کی قراء ت پر تعریف کی گئی ہے
4 Hadith
30
تکبیرات الانتقال کا بیان
14 Hadith
No chapter matched that.