TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نماز میں بلند آواز سے قراء ت کرنے کی ممانعت، جب وہ دوسرے نمازی پر (قراء ت) گڈ مڈ کر رہا ہو

Chapter 17 of نمازی کے آگے سترہ رکھنے او راس کے پیچھے سے گزرنے کا حکم in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 17 of 30 · 6 Hadith
۔ (۱۵۸۶) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَھٰی أَنْ یَرْفَعَ الرَّجُلُ صَوْتَہُ بِا لْقِرَائَ ۃِ قَبْلَ الْعِشَائِ وَبَعْدَھَا یُغَلِّطُ أَصْحَابَہُ وَہُمْ یُصَلُّوْنَ۔ (مسند احمد: ۶۶۳)
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے منع فرمایا کہ آدمی عشاء سے پہلے اور اس کے بعد بلند آواز سے قراء ت کرے اور نماز پڑھنے والے ساتھیوں کو غلطیوں میں ڈال دے۔
Takhreej
(۱۵۸۶) تخریج: حسن لغیرہ، وھذا اسناد ضعیف، لضعف الحارث الاعور۔ أخرجہ ابویعلی: ۴۹۷ (انظر: ۶۶۳)
1586
Sahih
۔ (۱۵۸۷) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَسُوْلَ اللَّہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَھٰی أَنْ یَجْہَرَ الْقَوْمُ بَعْضُہُمْ عَلٰی بَعْضٍ بَیْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ بِالْقُرْآنِ ۔ (مسند احمد: ۷۵۲)
۔ (دوسری سند)رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے منع فرمایاکہ لوگ مغرب اور عشا کے درمیان ایک دوسرے پر قرآن کی بلند آواز سے قراء ت کریں۔
Takhreej
(۱۵۸۷) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول (انظر: ۷۵۲)
1587
Sahih
۔ (۱۵۸۸) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِعْتَکَفَ وَخَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ: ((أَمَا إِنَّ أَحَدَ کُمْ إِذَا قَامَ فِی الصَّلَاۃِ فَإِنَّہُ یُنَاجِیْ رَبَّہُ فَلْیَعْلَمْ أَحَدُ کُمْ مَا یُنَاجِی رَبَّہُ وَلَا یَجْہَرْ بَعْضُکُمْ عَلٰی بَعْضٍ بِالْقِرَائَۃِ فِی الصَّلَاۃِ)) (مسند احمد: ۴۹۲۸)
سیدناابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اعتکاف بیٹھے ہوئے تھے اور لوگوں کو ایک خطبہ دیا، جس میں یہ بھی فرمایا: خبر دار!یقینا جب تم میںسے کوئی نماز میں کھڑا ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے سرگوشی کر رہا ہوتا ہے، اس لیے اسے چاہیے کہ وہ اس سرگوشی (کے کلمات) کو سمجھے جو وہ اپنے رب سے کر رہا ہوتا ہے، اور (یہ بھییاد رکھو کہ) کوئی بھی نماز میں قراء ت کی آواز کو دوسروں پر بلند نہ کرے۔
Takhreej
(۱۵۸۸) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۱۳۵۷۲، وابن ابی شیبۃ: ۲/ ۴۸۸، والبزار: ۷۲۶، وابن خزیمۃ: ۲۲۳۷ (انظر: ۴۹۲۸، ۵۳۴۹)
1588
Sahih
۔ (۱۵۸۹) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ حُذَافَۃَ السَّہْمِیَّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَامَ یُصَلِّیْ فَجَہَرَ بِصَلَاتِہِ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا ابْنَ حُذَافَۃَ! لَا تُسْمِعْنِی وَأَسْمِعْ رَبَّکَ عَزَّ وَ جَلَّ۔)) (مسند احمد: ۸۳۰۹)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن حذافہ سہمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نماز پڑھ رہے تھے اور بلند آواز سے قراء ت کر رہے تھے، نبی ٔ کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو فرمایا: ابن حذافہ! مجھے نہ سناؤ، اپنے رب کو سناؤ۔
Takhreej
(۱۵۸۹) تخریج: اسنادہ ضعیف، النعمان بن راشد الجزری ضعفہ یحییٰ بن سعید القطان و احمد والنسائی ویحییٰ بن معین فی اکثر الروایات عنہ، وقال البخاری: فی حدیثہ وھم کثیر، وھو صدوق فی الاصل۔ أخرجہ البیھقی: ۲/ ۱۶۲ (انظر: ۸۳۲۶)
1589
Zaeef
۔ (۱۵۹۰) عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اِعْتَکَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَمِعَہُمْ یَجْہَرُوْنَ بِالْقِرائَ ۃِ وَھُمْ فِی قُبَّۃٍ لَھُمْ فَکَشَفَ السُّتُورَ وَقَالَ: ((أَلاَ إِنَّ کُلَّکُمْ مُنَاجٍ رَبَّہُ فَلَا یُؤْذِیَنَّ بَعْضُکُمْ بَعْضًا وَلاَ یَرْفَعَنَّ بَعْضُکُمْ عَلٰی بَعْضٍ بِا لْقِرَائَ ۃِ أَوْقَالَ فِی الصَّلَاۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۹۱۸)
سیدناابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اعتکاف میں تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کو سنا کہ وہ بلند آوازسے قراء ت کر رہے تھے، جبکہ وہ ایک خیمے میں تھے، آپ نے پردے ہٹائے او رفرمایا: خبر دار! یقینا تم میں سے ہر شخص اپنے رب سے سر گوشی کرنے والا ہے، اس لیے کوئی کسی کو تکلیف نہ دے اور کوئی بھی دوسرے کے پاس نماز میں بلند آواز سے قراء ت نہ کرے۔
Takhreej
(۱۵۹۰) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین۔ أخرجہ ابوداود: ۱۳۳۲ (انظر: ۱۱۸۹۶)
1590
Sahih
۔ (۱۵۹۱) عَنِ الْبَیَاضِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَرَجَ عَلَی النَّاسِ وَھُمْ یُصَلُّوْنَ وَقَدْ عَلَتْ أَصْواتُہُمْ بِالْقِرَائَ ۃِ فَقَالَ: ((إِنَّ الْمُصَلِّیَیُنَاجِیْ رَبَّہُ عَزَّ وَجَلَّ فَلْیَنْظُرْ مَا یُنَا جِیْہِ، وَلَا یَجْہَرْ بَعْضُکُمْ عَلَی بَعْضٍ بِالْقُرْآنِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۲۳۱)
سیدنا بیاضی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں کے پاس تشریف لائے، جبکہ وہ نماز پڑھ رہے تھے او ر ان کی آوازیں قراء ت کے ساتھ بلند ہورہی تھیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یقینا نمازی اپنے رب تعالیٰ سے سرگوشی کرتا ہے، اس لیے وہ اس ذات سے جو سرگوشی کر رہا ہوتا ہے اس میں غور کرے اور کوئی بھی کسی پر بآواز بلند قرآن کی تلاوت نہ کرے۔
Takhreej
(۱۵۹۱) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ مالک فی المؤطا : ۱/ ۸۰، والنسائی فی الکبری : ۳۳۶۴، والبیھقی: ۳/۱۱، عبد الرزاق: ۴۲۱۷ (انظر: ۱۹۰۲۲)
Explanation
فوائد:… ان احادیث کا لب لباب یہ ہے کہ جب ایک نمازی کسی دوسرے نمازی کی قراء ت کی آواز سنے گا تو وہ اچھے انداز میں نماز نہیں پڑھ سکے گا اور اس کی توجہ بٹ جائے گی، اس لیے جب لوگ ایک مقام پر نماز پڑھ رہے ہوں تو وہ مکمل خاموشی اختیار کریں، ہاں جب کوئی خلوت میں ہو تو وہ نماز میں بلند آواز سے قراء ت کر سکتا ہے۔ جو لوگ نمازی کے قریب گپیں لگانا شروع کر دیتے ہیں، ان کو اپنے کیے پر غور کرنا چاہیے اور سوچنا چاہیے کہ نمازی کے قریب تو قرآن مجید کی تلاوت بھی ناجائز ہے۔ نمازی لوگوں کو ان احادیث سے یہ اندازہ بھی کر لیناچاہیے کہ نماز میں کتنی توجہ کی ضرورت ہے، لیکن اکثر نمازیوں کی صورتحال ہے کہ نماز کے رٹے رٹائے کلمات ہوتے ہیں اور ان کو کوئی شعور نہیں ہوتا کہ وہ کیا کہہ رہے ہوتے ہیں، اس پر مستزاد یہ کہ وہ ان کلمات کو رٹا لگا کر پڑھ رہے ہوتے ہیں کہ سرے سے قریب سے آنے والی آوازوں سے متاثر ہی نہیں ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری نمازیں ہمارے ضمیر میں اللہ تعالیٰ کا وہ مقام پیدا نہ کر سکیں، جو ہونا چاہیے تھا۔
1591
Sahih

Chapters

30
01
نمازی کے لیے سترے کے مستحب ہونے اور اس کے قریب ہونے کا بیان اور اس کی وضاحت کہ وہ کس چیز کا ہو اور نمازی کی کس طرف ہونا چاہیے؟
10 Hadith
02
نمازی کے آگے گزرنے والے آدمی وغیرہ کو روکنے کا بیان
11 Hadith
03
نمازی اور اُس کے سترہ کے در میان سے گزرنے کے متعلق سختی کا بیان
3 Hadith
04
جو شخص اس حالت میں نماز پڑھے کہ ا س کے آگے کوئی انسان یا چوپایہ ہو
3 Hadith
05
امام کا سترہ ہی مقتدی کا سترہ ہے او ر کسی چیز کے گزر جانے سے نماز منقطع نہیں ہوتی
6 Hadith
06
سترے کے بغیر نماز پڑھنے کا بیان
4 Hadith
07
نماز کے جامع طریقے کا بیان
14 Hadith
08
نماز کے افتتاح او ر اس میںخشوع کا بیان
7 Hadith
09
تکبیر تحریمہ وغیرہ کے وقت رفع الیدین کرنے کا بیان (رفع الیدین قبل از رکوع و بعد از رکوع)
7 Hadith
10
اسی باب کی ایک فصل اس شخص کی دلیل کے متعلق جس کے خیال کے مطابق تکبیرۂ تحریمہ کے علاوہ رفع الیدین نہیں ہے
9 Hadith
11
تکبیر تحریمہ کے بعد، قراء ت سے پہلے، {وَلَاالضَّآلِّیْنَ} کہنے کے بعد اور سورت (کی تلاوت)کے بعد یعنی رکوع سے پہلے سکتوں کا بیان
4 Hadith
12
دعائے استفتاح اور قراء ت سے پہلے تعوذ کا بیان
8 Hadith
13
سورۂ فاتحہ کی تلاوت کرتے وقت {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیْمِ} (پڑھنے) کا بیان
8 Hadith
14
سورۃ الفاتحہ کی تفسیر اور اس کی دلیل جس کا یہ خیال ہے کہ {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ} فاتحہ کی آیت نہیں ہے
2 Hadith
15
فاتحہ پڑھنے کے وجوب کا بیان
8 Hadith
16
مقتدی کی قراء ت اور جب اپنے امام کو سنے تو اس کے خاموش ہونے کا بیان
9 Hadith
17
نماز میں بلند آواز سے قراء ت کرنے کی ممانعت، جب وہ دوسرے نمازی پر (قراء ت) گڈ مڈ کر رہا ہو
6 Hadith
18
آمین کہنے او رقراء ت میں اسے بلند آواز یاآہستہ کہنے کا بیان
5 Hadith
19
اس شخص کے حکم کا بیان جو قراء ت کا فریضہ اچھی طرح ادا نہیں کر سکتا
1 Hadith
20
پہلی دو رکعتوں میں فاتحہ کے بعد سورت پڑھنے اور دوسری دو رکعتوں میں اس کا پڑھنے کا مسنون ہونے یا نہ ہونے کا بیان
5 Hadith
21
ایک رکعت میں دو یا زائد سورتیںیا ایک سورت کابعض حصہ تلاوت کرنے اور ایک سورت یا بعض آیات کو تکرارکے ساتھ تلاوت کرنے کا بیان
7 Hadith
22
نمازوں میں قراء ت کے متعلق جامع بیان
5 Hadith
23
ظہر و عصر میں قراء ت کا بیان
11 Hadith
24
مغرب میں قراء ت کا بیان
7 Hadith
25
عشا میں قراء ت کرنے کا بیان
5 Hadith
26
صبح میں اور جمعہ کی دن کی صبح میں قراء ت کا بیان
11 Hadith
27
قراء ت کے سری اورجہری ہونے کا اور ترتیل وغیرہ کا بیان
7 Hadith
28
امام پر طاری ہونے والے (امور) اور اس کو لقمہ دینے کا حکم
3 Hadith
29
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اور سیّدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کی قراء ت کا نماز میں حجت ہونے کا بیان جن کی قراء ت پر تعریف کی گئی ہے
4 Hadith
30
تکبیرات الانتقال کا بیان
14 Hadith
No chapter matched that.