TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نماز کے افتتاح او ر اس میںخشوع کا بیان

Chapter 8 of نمازی کے آگے سترہ رکھنے او راس کے پیچھے سے گزرنے کا حکم in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 8 of 30 · 7 Hadith
۔ (۱۵۲۴) عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مِفْتَاحُ الصَّلَاۃِ الطُّہُوْرُ وَتَحْرِیْمُہَا التَّکْبِیْرُ وَتَحْلِیْلُہَا التَّسْلِیْمُ (وَفِیْ لَفْظٍ) مِفْتَاحُ الصَّلَاۃِ الْوُضُوْئُ وَتَحْرِیْمُہَا التَّکْبِیْرُ وَتَحْلِیْلُہَا التَّسْلِیْمُ۔)) (مسند احمد: ۱۰۷۲)
سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نماز کی چابی وضو ہے اور اس کی تحریم اللہ اکبر ہی ہے اور اس کی تحلیل سلام ہی ہے۔ اور ایک روایت کے الفاظ ہیں: نماز کی چابی وضو او راس کی تحریم اللہ اکبر ہی کہنا او راس کی تحلیل سلام پھیرنا ہی ہے۔
Takhreej
(۱۵۲۴) تخریـج:… اسنادہ حسن، أخرجہ ابوداود: ۶۱، ۶۱۸، وابن ماجہ: ۲۷۵، والترمذی: ۳ (انظر: ۱۰۰۶، ۱۰۷۲)۔
Explanation
فوائد:… تحریم سے مراد یہ ہے کہ وہ تمام امور حرام ہو جاتے ہیں، جو نماز کے اندر ناجائز ہیں، اور تحلیل سے مطلب یہ ہے کہ جو امور نماز کی وجہ سے حرام ہو گئے تھے ، وہ حلال ہو گئے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز میں داخل ہونے کے لیے صرف اللہ اکبر کہا جائے گا اور نماز سے خارج ہونے کے لیے صرف سلام کہا جائے گا۔ چونکہ حدیث ِ مبارکہ میں مذکورہ آخری دو جملوں میں خبر مقدم اور مبتدا مؤخر ہے، اس لیے معنی میں حصر پیدا ہو گیا ہے۔ امام ابوحنیفہ ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کی رائے یہ ہے کہ ہر اس لفظ سے نماز شروع کی جا سکتی ہے، جس میں اللہ تعالیٰ کی تعظیم پائی جاتی ہو، مثلا: اَلرَّحْمٰنُ اَکْبَرُ، اَللّٰہُ اَجَلُّ، اَللّٰہُ اَعْظَمُ لیکن اس موضوع کی احادیث کی روشنی مین یہ رائے درست نہیں ہے، سلف و خلف میں سے جمہور اہل علم نے اس رائے سے اتفاق نہیں کیا،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اقوال و افعال و اوامر سے لفظ اَللّٰہُ اَکْبَرُ ہی ثابت ہوتا ہے، مثلا: سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب نماز شروع کرتے تو تکبیر (یعنی اَللّٰہُ اَکْبَرُ) کہتے۔ (صحیح مسلم: ۴۹۸) سیّدنا ابو حمید ساعدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو قبلہ رخ ہوتے ، ہاتھ بلند کرتے اور اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہتے۔(ابن ماجہ: ۸۰۳) سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا، نماز پڑھی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آکر سلام کہا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: ((اِرْجِعْ فَصَلِّ فَاِنَّکَ لَمْ تُصَلِّ)) یعنی لوٹ جا اور (دوبارہ) نماز پڑھ، بلاشبہ تو نے تو نماز نہیں پڑھی۔ تین دفعہ ایسے ہی ہوا، بالآخر اس آدمی نے التماس کیا کہ اے اللہ کے رسول! آپ مجھے نماز سکھا دیں، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((اِذَا قُمْتَ اِلَی الصَّلَاۃِ، فَاَسْبِغِ الْوُضُوْئَ، ثُمَّ اسْتَقْبِلِ الْقِبْلَۃَ فَکَبِّرْ …۔)) یعنی جب تو نماز پڑھنے کا ارادہ کرے تو مکمل وضوء کر، پھر قبلہ کی طرف متوجہ اور تکبیر (یعنی اللہ اکبر) کہہ …۔ (صحیح بخاری: ۶۲۵۱، صحیح مسلم: ۳۹۷، سنن اربعہ) جبکہ سیّدنا رفاعہ بن رافع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی روایت کے مطابق آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مسیء الصلاۃکے متعلق فرمایا: ((اِنَّہٗلَاتَتِمُّصَلَاۃٌ لِاَحَدٍ مِنَ النَّاسِ حَتّٰییَتَوَضَّأَ، ثُمَّ یُکَبِّرَ …۔)) یعنی کسی کی نماز اس وقت تک مکمل نہیں ہو گی جب تک (یہ اعمال اداء نہ کرے) وہ وضوء کرے، پھر تکبیر (یعنی اللہ اکبر) کہے …۔ (ابوداود: ۸۵۷) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اَللّٰہُ اَکْبَرُ کے ساتھ نماز شروع کی اور فرمایا: ((صَلُّوْا کَمَا رَأَیْتُمُوْنِیْ اُصَلِّیْ۔)) یعنی تم نماز اس طرح پڑھو جیسے مجھے پڑھتے دیکھتے ہو۔ (صحیح بخاری: ۶۳۱) ابن ہمام حنفی اَللّٰہُ اَکْبَرُ کے ساتھ نماز شروع کرنے کو واجب سمجھتے ہیں۔ (فتح القدیر: ۱/۲۸۴) دیگر دلائل بھی موجود ہیں، اس لیے مزید کسی رائے میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔
1524
Sahih
۔ (۱۵۲۵) عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الصَّلَاۃُ مَثْنٰی مَثْنٰی، تَشَھَّدُ فِیْ کُلِّ رَکْعَتَیْنِ وَتَضَرَّعُ وَتَخَشَّعُ وَتَمَسْکَنُ ثّمَّ تُقْنِعُ یَدَیْکَ تَقُوْلُ تَرْفَعَہُمُا إِلٰی رَبِّکَ مُسْتَقْبِلاً بِبُطُوْنِہِمَا وَجْہَکَ، تَقُولُ یَارَبِّ! یَارَبِّ! فَمَنْ لَمْ یَفْعَلْ ذَلِکَ…۔)) فَقَالَ فِیْہِ قَوْلاً شَدِیْدًا۔ (مسند احمد: ۱۷۹۹)
سیّدنا فضل بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نماز دو دو رکعت ہے، ہر دو رکعتوں میں تشہد پڑھے ، عاجزی کرے، خشوع اختیار کرے اورمسکینی کا اظہار کرے، پھر تو اپنے ہاتھ اپنے رب کی طرف اٹھا اور ہتھیلیوں کا اندرونی حصہ اپنے چہرے کی طرف کہہ: ا ے میرے رب! اے میرے رب! جو شخص ایسے نہیں کرتا، وہ …۔ ) پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے بارے میں سخت بات کہی۔
Takhreej
(۱۵۲۵) تخریـج:… اسنادہ ضعیف، عبد اللہ بن نافع بن العمیاء مجھول، قال البخاری فی تاریخہ : لم یصح حدیثہ، وقال الدارقطنی: ضعیف، أخرجہ الترمذی: ۳۸۵ (انظر: ۱۷۹۹)
Explanation
فوائد:… یہ روایت ضعیف ہے، بہرحال دوران نماز خشوع و خضوع کا اظہار مطلوب ِ شریعت اور روحِ نماز ہے۔
1525
Zaeef
۔ (۱۵۲۶) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((ھَلْ تَرَوْنَ قِبْلَتِیْ ھٰھُنَا؟ مَا یَخْفٰی عَلَیَّ شَیْئٌ مِنْ خُشُوْعِکُمْ وَرُکُوْعِکُمْ۔)) (مسند احمد: ۸۷۵۶)
سیّدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم میرا قبلہ یہاں (سامنے کی طرف) سمجھتے ہو؟ (یادر کھو کہ) تمہارے خشوع اور رکوع میں سے کوئی چیز مجھ پر مخفی نہیں ہوتی۔
Takhreej
(۱۵۲۶) تخریـج:… أخرجہ البخاری: ۴۱۸، ۷۴۱، ومسلم: ۴۲۳ (انظر: ۸۰۲۴)۔
1526
Sahih
۔ (۱۵۲۷)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِنَّی لَأَرٰی خُشُوْعَکُمْ۔ (مسند احمد: ۷۳۲۹)
(دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک میں تمہارا خشوع دیکھتا ہوں ۔
Takhreej
(۱۵۲۷) تخریـج:… اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، انظر الحدیث بالطریق الاول (انظر: ۷۳۳۳)۔
Explanation
فوائد:… یہ حدیث اعلامِ نبوت میں سے ہے اور عقلی و شرعی طور پر یہ ناممکنات میں سے نہیں ہے کہ دورانِ نماز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے مقتدیوں کی کیفیت کو دیکھ رہے ہوں، جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس سے بڑے معجزا ت سے نواز رکھا تھا۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ یہ ادراک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی گدی میں تھا، جس کے ذریعے آپ دیکھ لیتے ہوں، یا حقیقی آنکھوں سے ہی نظر آتا تھا۔ بہتر یہ ہے کہ اس کی کیفیت کو اس کے جاننے والے کے سپرد کر دیا جائے اور اس معجزے کو اس طرح تسلیم کر لیا، جس طرح کہ صحابہ کرام نے کیا تھا کہ سن کر چپ ہو گئے اور اس کی کیفیت کے بارے میں کوئی سوال نہیں کیا۔ بہرحال مقصودِ حدیثیہ ہے کہ رکوع و سجود کو مکمل کرتے ہوئے خشوع و خضوع کے ساتھ نماز ادا کی جائے۔
1527
Sahih
۔ (۱۵۲۸) عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ أَبِیْہِ رَضِیَ اللّٰہِ عَنْہُ قَالَ: اِنْتَہَیْتُ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یُصَلِّیْ وَلِصَدْرِہِ أَزِیْزٌ کَأَزِیْزِ الْمِرْجَلِ۔ (مسند احمد: ۱۶۴۲۶)
مطرف اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں اور وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچا، جبکہ آپ نماز پڑھ رہے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سینے سے ہنڈیاکے ابلنے جیسی آواز آ رہی تھی۔
Takhreej
(۱۵۲۸) تخریـج:… اسنادھما صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ ابوداود: ۹۰۴ (انظر: ۱۶۳۱۲، ۱۶۳۱۷)۔
1528
Sahih
۔ (۱۵۲۹)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَفِیْ صَدْرِہِ أَزِیْزٌ کَأَزِیِزْ الْمِرْجَلِ مِنَ الْبُکَائِ۔ (مسند احمد: ۱۶۴۲۱)
(دوسری سند) وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا اور آپ کے سینے میں رونے کی وجہ سے ہنڈیا کے ابلنے جیسی آواز آرہی تھی۔
Takhreej
(۱۵۲۹) تخریـج:… انظر الحدیث بالطریق الأول۔
1529
Sahih
۔ (۱۵۳۰) عَنْ زَیْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُہَنِّیِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْ لُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ صَلّٰی سَجْدَتَیْنِ لَا یَسْہُوْ فِیْھِمَا غَفَرَ اللّٰہُ لَہُ مَاتَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۰۳۳)
سیّدنازید بن خالد جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص دو رکعتیں پڑھتا ہے اور ان میں وہ غافل نہیں ہوتا تو اللہ اس کے پچھلے سارے گناہ بخش دیتا ہے۔
Takhreej
(۱۵۳۰) تخریـج:… صحیح لغیرہ، وھذا سند منقطع، فان زید بن اسلم لم یسمع من زید بن خالد، أخرجہ ابوداود: ۹۰۵ (انظر: ۱۷۰۵۴، ۲۱۶۹۱)۔
Explanation
فوائد:… نماز میں خشوع و خضوع اختیار کرنا نماز کی روح ہے، یہ دل کی خشیت اور بدن کے سکون سے عبارت ہے۔ یہ کتنی بڑی بات ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خشوع و خضوع کی خاطر کئی صورتوں میں نماز پڑھنے سے منع کر دیا ہے، مثلا جب بھوک لگی ہوئی ہو اور کھانا موجود ہو اور جب بندے نے قضائے حاجت کرنی ہو۔ علی ہذا القیاس۔ درج ذیل احادیث و اقوال سے خشوع کی مزید وضاحت ہو جاتی ہے: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رکوع مین یہ دعا پڑھتے تھے: ((اَللّٰھُمَّ لَکَ رَکَعْتُ وَبِکَ آمَنْتُ وَلَکَ اَسْلَمْتُ اَنْتَ رَبِّیْ خَشَعَ لَکَ سَمْعِیْ وَبَصَرِیْ وَمُخِّیْ وَعَظْمِیْ وَعَصَبِیْ۔)) (صحیح مسلم: ۱/ ۲۷۳) یعنی: اے اللہ! میں نے تیرے لیے رکوع کیا، تجھ پر ایمان لایا، تیرا فرمانبردار ہوا، تو میرا رب ہے، تیرے لیے میرے کان، آنکھ، دماغ، ہڈی اور پٹھے نے خشوع کیا۔ ثابت ہوا کہ خشوع کا تعلق قلوب و اذہان اور اعضاء و جوارح سب کے ساتھ ہے۔ سیّدنا عمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ الرَّجُلَ لَیَنْصَرِفُ وَمَا کُتِبَ لَہٗاِلَّاعُشْرُصَلَاتِہٖتُسْعُھَا،ثُمُنُھَا،سُبْعُھَا،سُدُسُھَا،خُمُسُھَا، رُبُعُھَا، ثُلُثُھَا، نِصْفُھَا۔)) (ابوداود: ۷۹۶) یعنی: بیشک آدمی نماز سے فارغ ہو رہا ہوتا ہے، لیکن اس کے لیے نہیں لکھا جاتا، مگر نماز کا دسواں حصہ، نواں حصہ، آٹھواں حصہ، ساتواں حصہ، پانچواں حصہ، چوتھا حصہ، تیسرا حصہ اور نصف۔ یہ حدیث انتہائی قابل غور ہے کہ سب نمازیوں کی نمازوں کی مقدار تو تقریبا ایک ہوتی ہے، مثلا رکعات و تسبیحات کی تعداد، لیکن اجر و ثواب میں اتنی کمی بیشی ہو جاتی ہے، تو اس فرق کی بنیاد معیار پر ہے، سارے نمازی نماز ظہر کی فرض رکعتیں تو چار ہی پڑھتے ہیں، لیکن بعض کا معیار اتنا کم ہوتا ہے کہ اسے پوری نماز کے بجائے دسواں حصہ ثواب ملتا ہے، یقینا اس چیز کی بنیاد خشوع و خضوع پر ہے۔ علامہ قرطبی کہتے ہیں: ھیئۃ فی النفس یظھر منھا فی الجوارح سکون وتواضع۔ (تفسیر قرطبی: ۱/ ۳۷۴) یعنی: خشوع دل میں ایسی ہیئت کا نام ہے، جس سے اعضاء میں سکون و تواضع ظاہر ہوتا ہے۔ جناب ِ حسن بصری کہتے ہیں: کان خشوعھم فی قلوبھم فغضوا بذالک ابصارھم وخفضوا لذالک الجناح۔ (الدر المنثور: ۵/ ۳) یعنی: ان کا خشوع دل میں ہوتا تھا، جس کی بنا پر وہ اپنی آنکھوں کو پست اور پہلو کو جھکا لیتے ہیں۔ جناب جنید کہتے ہیں: الخشوع تذلل القلوب لعلام الغیوب۔ (الضوء المنیر: ۴/ ۳۰۴) یعنی: علام الغیوب کے سامنے دلوں کی عاجزی و انکساری کا نام خشوع ہے۔ گویا خشوع کا اصل مرکز دل ہے اور اس کا اثر اعضاء و جوارح پر ہوتا ہے۔ سعید بن مسیب نے دیکھا کہ ایک نمازی ، نماز میں اپنی داڑھی پر ہاتھ پھر رہا تھا تو انہوں نے کہا: لو خشع قلب ھذا خشعت جوارحہ۔ یعنی: اگر اس کے دل میں خشوع ہوتا تو اس کے اعضاء میں بھی خشوع ہوتا۔ علامہ شوکانی کہتے ہیں: وادعی عبد الواحد بن زید اجماع العلماء علی انہ لیس للعبد الا ما عقل من صلاتہ۔ (فتح القدیر: ۳/ ۴۵۹) یعنی: عبد الواحد بن زید نے اہل علم کے اجماع کا دعوی کیا ہے کہ نماز میں سے بندے کے لیے اتنا حصہ ہے، جتنا وہ سمجھتا ہے۔ اس زمانے میں اکثر لوگوں کی نمازیں خشوع و خضوع سے خالی ہیں، اتنی عظیم عبادت میں رٹے رٹائے کلمات ادا کیے جا رہے ہیں،یہی وجہ ہے کہ لوگوں کو لمبی نماز میں سکون نہیں آتا، ان کو یہ محسوس نہیں ہوتا کہ نماز باجماعت میں تاخیر ہو رہی ہے یا جماعت سرے سے رہ گئی ہے۔ ہر شخص کو درج بالا احادیث و آثار کی روشنی میں اپنا اپنا جائزہ لینا چاہیے ۔
1530
Sahih

Chapters

30
01
نمازی کے لیے سترے کے مستحب ہونے اور اس کے قریب ہونے کا بیان اور اس کی وضاحت کہ وہ کس چیز کا ہو اور نمازی کی کس طرف ہونا چاہیے؟
10 Hadith
02
نمازی کے آگے گزرنے والے آدمی وغیرہ کو روکنے کا بیان
11 Hadith
03
نمازی اور اُس کے سترہ کے در میان سے گزرنے کے متعلق سختی کا بیان
3 Hadith
04
جو شخص اس حالت میں نماز پڑھے کہ ا س کے آگے کوئی انسان یا چوپایہ ہو
3 Hadith
05
امام کا سترہ ہی مقتدی کا سترہ ہے او ر کسی چیز کے گزر جانے سے نماز منقطع نہیں ہوتی
6 Hadith
06
سترے کے بغیر نماز پڑھنے کا بیان
4 Hadith
07
نماز کے جامع طریقے کا بیان
14 Hadith
08
نماز کے افتتاح او ر اس میںخشوع کا بیان
7 Hadith
09
تکبیر تحریمہ وغیرہ کے وقت رفع الیدین کرنے کا بیان (رفع الیدین قبل از رکوع و بعد از رکوع)
7 Hadith
10
اسی باب کی ایک فصل اس شخص کی دلیل کے متعلق جس کے خیال کے مطابق تکبیرۂ تحریمہ کے علاوہ رفع الیدین نہیں ہے
9 Hadith
11
تکبیر تحریمہ کے بعد، قراء ت سے پہلے، {وَلَاالضَّآلِّیْنَ} کہنے کے بعد اور سورت (کی تلاوت)کے بعد یعنی رکوع سے پہلے سکتوں کا بیان
4 Hadith
12
دعائے استفتاح اور قراء ت سے پہلے تعوذ کا بیان
8 Hadith
13
سورۂ فاتحہ کی تلاوت کرتے وقت {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیْمِ} (پڑھنے) کا بیان
8 Hadith
14
سورۃ الفاتحہ کی تفسیر اور اس کی دلیل جس کا یہ خیال ہے کہ {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ} فاتحہ کی آیت نہیں ہے
2 Hadith
15
فاتحہ پڑھنے کے وجوب کا بیان
8 Hadith
16
مقتدی کی قراء ت اور جب اپنے امام کو سنے تو اس کے خاموش ہونے کا بیان
9 Hadith
17
نماز میں بلند آواز سے قراء ت کرنے کی ممانعت، جب وہ دوسرے نمازی پر (قراء ت) گڈ مڈ کر رہا ہو
6 Hadith
18
آمین کہنے او رقراء ت میں اسے بلند آواز یاآہستہ کہنے کا بیان
5 Hadith
19
اس شخص کے حکم کا بیان جو قراء ت کا فریضہ اچھی طرح ادا نہیں کر سکتا
1 Hadith
20
پہلی دو رکعتوں میں فاتحہ کے بعد سورت پڑھنے اور دوسری دو رکعتوں میں اس کا پڑھنے کا مسنون ہونے یا نہ ہونے کا بیان
5 Hadith
21
ایک رکعت میں دو یا زائد سورتیںیا ایک سورت کابعض حصہ تلاوت کرنے اور ایک سورت یا بعض آیات کو تکرارکے ساتھ تلاوت کرنے کا بیان
7 Hadith
22
نمازوں میں قراء ت کے متعلق جامع بیان
5 Hadith
23
ظہر و عصر میں قراء ت کا بیان
11 Hadith
24
مغرب میں قراء ت کا بیان
7 Hadith
25
عشا میں قراء ت کرنے کا بیان
5 Hadith
26
صبح میں اور جمعہ کی دن کی صبح میں قراء ت کا بیان
11 Hadith
27
قراء ت کے سری اورجہری ہونے کا اور ترتیل وغیرہ کا بیان
7 Hadith
28
امام پر طاری ہونے والے (امور) اور اس کو لقمہ دینے کا حکم
3 Hadith
29
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اور سیّدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کی قراء ت کا نماز میں حجت ہونے کا بیان جن کی قراء ت پر تعریف کی گئی ہے
4 Hadith
30
تکبیرات الانتقال کا بیان
14 Hadith
No chapter matched that.