TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

دعائے استفتاح اور قراء ت سے پہلے تعوذ کا بیان

Chapter 12 of نمازی کے آگے سترہ رکھنے او راس کے پیچھے سے گزرنے کا حکم in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 12 of 30 · 8 Hadith
۔ (۱۵۵۱) عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا قَامَ مِنَ اللَّیْلِ وَاسْتَفْتَحَ صَلَاتَہُ وَکَبَّرَ قَالَ: ((سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ تَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالٰی جَدُّکَ وَلَا إِلٰہَ غَیْرُکَ۔)) ثُمَّ یَقُوْلُ لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ ثَـلَاثًا ثُمَّ یَقُوْلُ أَعُوْذُ بِاللّٰہِ السَّمِیْعِ الْعَلَیْمِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ مِنْ ھَمْزِہِ وَنَـفْخِہِ ثُمَّ یَقُوْلُ اَللّٰہُ أَکْبَرُ ثَـلَاثًا ثُمَّ یَقُوْلُ أَعُوذُ بِاللّٰہِ السَّمِیْعِ الْعَلِیْمِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ مِنْ ھَمْزَہِ وَنَفْخِہِ وَنَفْثِہِ۔ (مسند احمد: ۱۱۴۹۳)
سیّدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کو قیام کرتے اور اپنی نماز شروع کرتے تواللہ اکبر کہہ کر یہ دعا پڑھتے: سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ تَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالٰی جَدُّکَ وَلَا إِلٰہَ غَیْرُکَ۔ پھر تین مرتبہ لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللَّہُ کہتے، پھر أَعُوْذُ بِاللَّہِ السَّمِیْعِ الْعَلِیْمِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ مِنْ ھَمْزِہٖوَنَفْخِہٖ پڑھتے،پھرتین مرتبہ اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہتے اور پھر یہ پڑھتے: أَعُوْذُ بِاللَّہِ السَّمِیْعِ الْعَلِیْمِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ مِنْ ھَمْزِہٖوَنَفْخِہٖوَنَفَثِہٖ۔ دعاؤںکاترجمہ: اےاللہ! توپاکہےاورتیری حمد کے ساتھ،تیرا نام برکت والا ہے، تیری شان بلند ہے اور تیرے علاوہ کوئی معبودنہیں ہے ۔ نہیں ہے معبودِ برحق مگر اللہ۔ میںاللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتا ہوں، جو بہت سننے والا اور بہت جاننے والا ہے، شیطان مردود سے اور اس کے جنون او ر تکبر سے۔ اللہ سب سے بڑا ہے۔ میںبہت سننے والے اور بہت جاننے والے اللہ کی پناہ طلب کرتا ہوں شیطان مردود سے اور اس کے جنون، اور اس کے تکبر اور اس کے شعرسے ۔
Takhreej
(۱۵۵۱) تخریـج:… اسنادہ ضعیف، جعفر بن سلیمان الضبعی وعلی بن علی مختلف فیھما، أخرجہ ابوداود: ۷۷۵، والترمذی: ۲۴۲ بالفاظ متقاربۃ (انظر: ۱۱۴۷۳)۔
1551
Zaeef
۔ (۱۵۵۲) عَنْ أَبِیْ أُمَامَۃَ الْبَاھِلِیِّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: کَانَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا قَامَ إِلَی الصَّلَاۃِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ إِذَا دَخَلَ فِی الصَّلَاۃِ مِنَ اللَّیْلِ) کَبَّرَ ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ، وَسُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ أَعُوذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ مِنْ ھَمْزِہِ وَنَفْخِہِ وَنَفْثِہِ۔ (مسند احمد: ۲۲۵۳۲)
سیّدنا ابوامامہ باہلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب رات کو نماز کے لیے کھڑے ہوتے اور نماز میںداخل ہوتے تو تین دفعہ اللّٰہ اکبر، تین دفعہ لاا لہ الا اللّٰہ او رتین مرتبہ سبحان اللّٰہ وبحمدہ پھر یہ پڑھتے: أعوذ باللہ من الشیطان الرجیم من ہمزہ ونفخہ ونفثہ۔
Takhreej
(۱۵۵۲) تخریـج:… حسن لغیرہ، وھذا اسناد ضعیف لابھام الراوی لہ عن ابی امامۃ (انظر: ۲۲۱۷۷، ۲۲۱۷۹)۔
Explanation
فوائد:… اس حدیثیہ دعائے استفتاح اور تعوذ ثابت ہوا: اَللّٰہُ اَکْبَرُ،اَللّٰہُ اَکْبَرُ،اَللّٰہُ اَکْبَرُ،لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ، سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ، سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ۔ أَعُوذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ مِنْ ھَمْزِہِ وَنَفْخِہِ وَنَفْثِہِ۔
1552
Sahih
۔ (۱۵۵۳) عَنْ نَافِعٍ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ فِی التَّطَوُّعِ: اَللّٰہُ أَکْبَرُ کَبِیْرًا ثَـلَاثَ مِرَارٍ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیْرًا ثَـلَاثَ مِرَارٍ وَسُبْحَانَ اللّٰہِ بُکْرَۃً وَأَصِیْلاًثَـلَاثَ مِرَارٍ، اللّٰہُمَّ إِنْیْ أَعُوْذُ بِکَ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ مِنْ ھَمْزِہِ وَنَفْثِہِ وَنَفْخِہِ۔ قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا ھَمْزُہُ وَنَفْثُہُ وَنَفْخُہُ؟ قَالَ أَمَّا ھَمْزُہُ فَالْمُؤْتَۃُ الَّتِی تَأْخُذُ ابْنَ آدَمَ (وَفِی رِوَایَۃٍ قَالَ فَذَکَرَ کَہَیْئَۃِ الْمُوْتَۃِیَعْنِییُصْرَعُ) وَأَمَّا نَفْخُہُ الْکِبْرُ وَنَفْثُہُ الشِّعْرُ۔ (مسند احمد: ۱۶۸۶۰)
سیّدناجبیر بن مطعم کہتے ہیں: میں نے سنا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نفلی نماز تین مرتبہ اَللَّہُ اَکْبَرُ کَبِیْرًا ،تین مرتبہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیْرًا اور تین مرتبہ سُبْحَانَ اللّٰہِ بُکْرَۃً وَّأَصِیْلاً پڑھا اور پھر یہ کہا: أَعُوْذُ بِاللَّہِ السَّمِیْعِ الْعَلِیْمِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ مِنْ ھَمْزِہٖوَنَفْثِہٖونَفْخِہٖ۔ میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! اس کے ھَمْز ، نَفْث اور نَفْخ سے کیا مراد ہے؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ھَمْز سے مراد جنون اور دیوانگی ہے، جو آدم کے بیٹے پر طاری ہو جاتی ہے، پھراس جنون کی کیفیت ذکر کی، جس میں وہ بے ہوش ہو کر گر جاتا ہے ، اور اس کے نفخ سے مراد تکبر اور نفث سے مراد شعر ہے۔
Takhreej
(۱۵۵۳) تخریـج:… حسن لغیرہ، وھذا اسناد ضعیف لضعف الراوی عن نافع بن جبیر، أخرجہ ابوداود: ۷۶۵ (انظر: ۱۶۷۳۹)۔
Explanation
فوائد:… اس حدیث سے یہ دعائے استفتاح ثابت ہوئی: اَللّٰہُ أَکْبَرُ کَبِیْرًا، اَللّٰہُ أَکْبَرُ کَبِیْرًا، اَللّٰہُ أَکْبَرُ کَبِیْرًا، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیْرًا،اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیْرًا،اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیْرًا، سُبْحَانَ اللّٰہِ بُکْرَۃً وَأَصِیْلاً ، سُبْحَانَ اللّٰہِ بُکْرَۃً وَأَصِیْلاً ، سُبْحَانَ اللّٰہِ بُکْرَۃً وَأَصِیْلاً ۔ ان تین جملوں کا ترجمہ یہ ہے: اللہ سب سے بڑا ہے، بہت بڑا۔ ساری تعریف اس کی ہے، جو بہت زیادہ ہے۔ وہ پاک ہے، صبح و شام ہم اس کی پاکی بیان کرتے ہیں۔ پہلے جملے میں لفظ کَبِیرا کی تین تراکیب ہو سکتی ہیں: (۱) یہ اُکَبِّرُ کا مفعول ہے، یا (۲) تَکْبِیْرًا محذوف کی صفت ہے، یا (۳) یہ حال ہے جو پورے جملے کے معنی میں تاکید پیدا کر رہا ہے۔ اس حدیث میں صرف صبح و شام کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس سے مراد تسلسل ہے، یعنی ہر وقت اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کی جا رہی ہے، جیسے قرآنِ مجید میں ہے {وَ لَہُمْ رِزْقُہُمْ فِیْہَا بُکْرَۃً وَّ عَشِیًّاo} (مریم: ۶۲) اور ان کے لیے اس میں ان کا رزق صبح اور شام ہو گا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ ان کو جنت میں ہر وقت رزق ملے گا۔ (عبداللہ رفیق) یا چونکہ صبح و شام کو رات اور دن کے فرشتے جمع ہوتے ہیں، اس لیے صرف ان اوقات کا ذکر کیا گیا۔
1553
Sahih
۔ (۱۵۵۴) عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ: بَیْنَا نَحْنُ نُصَلِّیْ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَ قَالَ رَجُلٌ فِی الْقَوْمِ: اَللّٰہُ أَکْبَرُ کَبِیْرًا، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیْرًا، وَسُبْحَانَ اللّٰہِ بُکْرَۃً وَأَصِیْلًا۔ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنِ الْقَائِلُ کَذَا وَکَذَا؟)) فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَنَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((عَجِبْتُ لَھَا، فُتِحَتْ لَھَا أَبْوَابُ السَّمَآئِ۔)) قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَمَا تَرَکْتُہُنَّ مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُذَلِکَ۔ (مسند احمد: ۴۶۲۷)
سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے، اچانک ایک آدمی نے یہ کلمات کہے: اَللّٰہُ اَکْبَرُکَبِیْرًا وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیْرًا وَسُبْحَانَ اللّٰہِ بُکْرَۃً وَّأَصِیْلاً۔ (اللہ سب سے بڑا ہے، بہت بڑا۔ ساری تعریف اس کی ہے، جو بہت زیادہ ہے۔ وہ پاک ہے، صبح و شام ہم اس کی پاکی بیان کرتے ہیں۔) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: یہ الفاظ کہنے والا کون تھا؟ ایک آدمی نے جواب دیا: اے اللہ کے رسول! میں تھا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے ان کلمات پر بڑا تعجب ہواکہ ان کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے گئے ہیں۔ ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جب سے میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے میں نے ان کلمات کو ترک نہیں کیا۔
Takhreej
(۱۵۵۴) تخریـج:… أخرجہ مسلم: ۶۰۱ (انظر: ۴۶۲۷)۔
1554
Sahih
۔ (۱۵۵۵) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا أَنَّ رَجُلًا قَالَ ذَاتَ یَوْمٍ وَدَخَلَ الصَّلَاۃَ: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ مِلْئَ السَّمٰوَاتِ وَسَبَّحَ وَدَعَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ قَائِلُہُنَّ؟)) فَقَالَ الرَّجُلُ: أَنَا، فَقَالَ النَّبِیُّ : ((لَقَدْ رَأَیْتُ الْمَلَائِکَۃَ تَلَقّٰی بِہِ بَعْضُہُمْ بَعْضًا۔)) (مسند احمد: ۶۶۳۲)
سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی ایک دن نماز میں داخل ہوا اور اس نے یہ کلمات کہے: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ مِلْئَ السَّمٰوَاتِ اور مزید تسبیح بیان کی اور دعا کی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ کلمات پڑھنے والا کون شخص تھا؟ اس نے کہا: میں تھا ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : یقینا میں نے فرشتوں کو دیکھا کہ وہ ایک دوسرے کو یہ کلمات لیتے دیتے ہوئے (جا رہے تھے)۔
Takhreej
(۱۵۵۵)تخریـج: اسنادہ حسن، أخرجہ البزار: ۵۲۴ (انظر: ۶۶۳۲)۔
1555
Sahih
۔ (۱۵۵۵) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا أَنَّ رَجُلًا قَالَ ذَاتَ یَوْمٍ وَدَخَلَ الصَّلَاۃَ: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ مِلْئَ السَّمٰوَاتِ وَسَبَّحَ وَدَعَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ قَائِلُہُنَّ؟)) فَقَالَ الرَّجُلُ: أَنَا، فَقَالَ النَّبِیُّ : ((لَقَدْ رَأَیْتُ الْمَلَائِکَۃَ تَلَقّٰی بِہِ بَعْضُہُمْ بَعْضًا۔)) (مسند احمد: ۶۶۳۲)
سیّدنا عبد اللہ بن ابی اوفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اقتدا میں صف میں کھڑیتھے کہ ایک آدمی آکر کہنے لگا: اَللَّہُ اَکْبَرُکَبِیْرًاوَسُبْحَانَ اللَّہِ بُکْرَۃً وَّأَصِیْلًا۔ (اللہ سب سے بڑا ہے، بہت بڑا۔ وہ پاک ہے، صبح و شام ہم اس کی پاکی بیان کرتے ہیں۔)، مسلمانوں نے (اس کی طرف) اپنے سر اٹھائے اور اس کو برا سمجھا اور کہنے لگے: کون ہے جو اپنی آواز رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آواز سے بلند کر رہا ہے؟ لیکن جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فارغ ہوئے تو آپ نے پوچھا: یہ آواز بلند کرنے والا کون تھا؟ جواب دیا گیا کہ اے اللہ کے رسول! وہ یہ ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : اللہ کی قسم میں نے تیرا کلام آسمان میں چڑھتے ہوئے دیکھا ہے حتیٰ کہ اس کے لیے ایک دروازہ کھول دیا گیا اور وہ اس میں داخل ہو گیا۔
Takhreej
(۱۵۵۶) تخریـج:… اسنادہ ضعیف لجھالۃ عبد اللہ بن سعید الھمدانی، أخرجہ ابن عبد البر فی الاستذکار : ۸/ ۱۳۳ (انظر: )۔ٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍ
Explanation
فوائد:… صحابہ نے نماز کے اندر ہی کہا کہ کون ہے جو اپنی آواز رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آواز سے بلند کر رہا ہے؟ یا تو اس جملے کا تعلق زبان حال سے ہے، جس کا پتہ ان کے سر اٹھانے سے چل رہا ہے، یا پھر یہ واقعہ نماز میں حرمت ِ کلام سے پہلے پیش آیا ہو گا، پہلی بات زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے۔ سیّدنا وائل بن حجر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، ایک آدمی نے کہا: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیْرًا طَیِّبًا مُّبَارَکًا فِیْہِ۔ (ساری تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، جو بہت زیادہ، پاکیزہ اور بابرکت ہے۔) ۔جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز پڑھ لی تو پوچھا: یہ کلمات کہنے والا کون ہے؟ اس آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ہوںاور میرا ارادہ صرف خیر کا تھا۔آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یقینا ان (کلمات) کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے گئے اور کسی چیز نے عرش سے پہلے ان کو نہیں روکا۔
1556
Zaeef
۔ (۱۵۵۷) عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ عَنْ أَبِیْہِ وَائِل بْنِ حُجْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ رَجُلٌ: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیْرًا طَیِّبًا مُّبَارَکًا فِیْہِ، فَلَمَّا صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنِ الْقَائِلُ؟)) قَالَ الرَّجُلُ: أَنَا یَارَسُوْلَ اللَّہِ! وَمَا أَرَدْتُ إِلاَّ الْخَیْرَ، فَقَالَ: ((لَقَدْ فُتِحَتْ لَھَا أَبْوَابُ السَّمَائِ فَلَمْ یُنَہِّہَا دُونَ الْعَرْشِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۰۶۶)
سیّدنا وائل بن حجر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، ایک آدمی نے کہا: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیْرًا طَیِّبًا مُّبَارَکًا فِیْہِ۔ (ساری تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، جو بہت زیادہ، پاکیزہ اور بابرکت ہے۔) ۔جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز پڑھ لی تو پوچھا: یہ کلمات کہنے والا کون ہے؟ اس آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ہوںاور میرا ارادہ صرف خیر کا تھا۔آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یقینا ان (کلمات) کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے گئے اور کسی چیز نے عرش سے پہلے ان کو نہیں روکا۔
Takhreej
(۱۵۵۷) تخریـج:… صحیح لغیرہ، وھذا اسناد ضعیف لانقطاعہ، عبد الجبار بن وائل لم یسمع من ابیہ، أخرجہ ابن ماجہ: ۳۸۰۲، وأخرج بنحوہ النسائی: ۲/ ۱۴۵ (انظر: ۱۸۸۶۰)
1557
Sahih
۔ (۱۵۵۸) عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِذَا کَبَّرَ اِسْتَفْتَحَ ثُمَّ قَالَ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ کَانَ إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلَاۃَیُکَبِّرُ ثُمَّ یَقُوْلُ): ((وَجَّھْتُ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِیْفًا مُّسْلِمًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ، إِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ لَا شَرِیْکَ لَہُ وَبِذَالِکَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ، قَالَ أَبُو النَّضْرِ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ، أَللّٰہُمَ لَا إِلٰہَ إِلاَّ أَنْتَ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ اللّٰہُمَّ أنْتَ الْمَلِکُ لَا إِلٰہَ إِلاَّ أَنْتَ) رَبِّیْ وَأَنَا عَبْدُکَ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَاعْتَرَفْتُ بَذَنْبِیْ فَاغْفِرْلِیْ ذُنُوبِیْ جَمِیْعًا لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ إِلاَّ أَنْتَ وَاھْدِنِیْ لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقَ لَا یَہْدِیْ لِأَحْسَنِہَا إِلاَّ أَنْتَ وَاصْرِفْ عَنِّیْ سَیِّئَہَا لَا یَصْرِفُ عَنِّیْ سَیِّئَہَا إِلاَّ أنْتَ تَبَارَکْتَ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ لَبَّیْکَ وَسَعْدَ یْکَ وَالْخَیْرُ کُلُّہٗفِیْیَدَیْکَ وَالشَّرُّ لَیْسَ إِلَیْکَ اَنَا بِکَ وَإِلَیْکَ تَبَارَکْتَ) وَتَعَالَیْتَ أَسْتَغْفِرُکَ وَأَتُوْبُ إِلَیْکَ۔)) وَکَانَ إِذَارَفَعَ قَالَ: ((اَللّٰہُمَّ لَکَ رَکَعْتُ وَبِکَ آمَنْتُ وَلَکَ أَسْلَمْتُ خَشَعَ لَکَ سَمْعِیْ وَبَصَرِیْ وَمُخِّیْ وَعِظَامِیْ وَعَصَبِیْ۔)) وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرَّکْعَۃِ قَالَ: ((سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمْدَہُ، رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ مِلْئَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَیْنَہُمَا وَمِلْئَ مَاشِئْتَ مِنْ شَیْئٍ بَعْدُ۔)) وَإِذَا سَجَدَ قَالَ: ((اَللّٰہُمَّ لَکَ سَجَدْتُّ وَبِکَ آمَنْتُ وَلَکَ أَسْلَمْتُ سَجَدَ وَجِھِیَ لِلَّذِیْ خَلَقَہُ فَصَوَّرَہُ فَأَحْسَنَ صُوَرَۃُ فَشَقَّ سَمْعَہُ وَبَصَرَہُ فَتَبَارَکَ اللّٰہُ أَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ، فَإِذَا سَلَّمَ مِنَ الصَّلَاۃِ قَالَ: ((اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلِیْ مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَاأَسْرَفْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِہٖمِنِّیْ أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا إِلٰہَ إِلاَّ أَنْتَ۔)) (مسند احمد: ۷۲۹)
سیّدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے: کہ ہے: اَللّٰہُمَّ أَنْتَ الْمَلِکُ لَا إِلٰہَ إِلاَّ أَنْتَ رَبِّیْ وَأَنَا عَبْدُکَ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِیْ فَاغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ جَمِیْعًا لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ إِلاَّ أَنْتَ وَاہْدِنِیْ لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا یَہْدِیْ لِأَحْسَنِہَا إِلاَّ أَنْتَ وَاصْرِفْ عَنِّیْ سَیِّئَہَا لَا یَصْرِفُ عَنِّیْ سَیِّئَہَا إِلاَّ أَنْتَ تَبَارَکْتَ۔ اور ایک روایت میں ہے: لَبَّیْکَ وَسَعْدَیْکَ وَالْخَیْرُ کُلُّہٗفِیْیَدَیْکَ وَالشَّرُّ لَیْسَ إِلَیْکَ أَنَا بِکَ وَاِلَیْکَ تَبَارَکْتَ) وَتَعَالَیْتَ اَسْتَغْفِرُکَ وَأَتُوْبُ إِلَیْکَ۔ اس دعا کا ترجمہ: میں نے اس ذات کے لیے اپنا چہرہ متوجہ کیا،جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اس حال میں کہ میںیکسو مسلمان ہوں اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ یقینا میری نماز ، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت اس اللہ کے لیے ہے، جو جہانوں کا پروردگار ہے، اور جس کا کوئی شریک نہیں،مجھے اسی چیز کا حکم دیا گیا ہے اور میں مسلمانوں میں سے ہوں۔ابونضر کے الفاظ یہ ہیں: اور میں پہلا مسلمان ہوں، اے اللہ تیرے علاوہ کوئی معبودنہیں، ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: اے اللہ تو ہی بادشاہ ہے، تیرے علاوہ کوئی الہ نہیں، تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں، میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا ہے اور میں نے اپنے گناہ کا اعتراف کیا ہے اس لیے تو میرے سارے گناہ بخش دے، تیرے علاوہ گناہوں کو کوئی نہیں بخشتا اور اچھے اخلاق کی طرف میری راہنمائی فرما، تیرے علاوہ اچھے اخلاق کی طرف کوئی رہنمائی نہیں کرتا اور مجھ سے برے اخلاق دور کر دے،تیرے علاوہ کوئی بھی برے اخلاق کو مجھے سے دور نہیں کر سکتا، تو بابرکت ہے، اور ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں:میں تیرے لیے حاضر ہوں اور تیرا تابع فرمان ہوں، خیر ساری کی ساری تیرے ہاتھوں میں ہے اور شر تیری طرف نہیں ہے، میں تیرے ساتھ اور تیری طرف ہوں (یعنی مجھے توفیق دینے والا بھی تو ہے اور میری پناہ بھی تیری طرف ہے) تو بابرکت اور بلند ہے، میں تجھ سے بخشش مانگتا ہوں اور تیری طرف توجہ کرتا ہوں۔ اور جب رکوع کرتے تو کہتے: اَللّٰہُمَّ لَکَ رَکَعْتُ وَبِکَ آمَنْتُ وَلَکَ أَسْلَمْتُ خَشَعَ لَکَ سَمْعِيْ وَبَصَرِیْ وَمُخِّيْ وَعِظَامِیْ وَعَصَبِیْ۔ اے اللہ! میں نے تیرے ہی لیے رکوع کیا، تیرے ساتھ ایمان لایا، تیرے لیے ہی مسلمان ہوا، تیرے لیے عاجزی کر رہے ہیں میرا کان، میری نظر، میرا مغز، میری ہڈیاں اور میرا پٹھا۔ اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو کہتے : سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ،رَبَّنَاوَلَکَالْحَمْدُمِلْئَالسَّمٰوَاتِوَالْأَرْضِوَمَابَیْنَہُمْا وَمِلْئَ مَاشِئْتَ مِنْ شَئْ ٍبَعْدُ۔ اللہ نے اس کو سن لیا جس نے اس کی تعریف کی، اے ہمارے رب!تیرے لیے ہی تعریف ہے، آسمانوں اور زمین اور ان دونوں کے (درمیان والا خلا) بھرنے کے برابر اور ان کے بعد جس کو تو چاہے اس کے بھرنے کے برابر۔ اور جب سجدہ کرتے تو کہتے: اَللّٰہُمَّ لَکَ سَجَدْتُّ وَبِکَ آمَنْتُ وَلَکَ أَسْلَمْتُ سَجَدَ وَجْہِیَ لِلَّذِیْ خَلَقَہٗفَصَوَّرَہٗفَأَحْسَنَصُوَرَہٗفَشَقَّسَمْعَہٗوَبَصَرَہٗفَتَبَارَکَاللّٰہُأَحْسَنُالْخٰالِقِیْنَ۔ اے اللہ! میں نے تیرے لیے ہی سجدہ کیا،تیرے ساتھ ایمان لایا، تیرے لیے مسلمان ہوا، میرے چہرے نے اس کے لیے سجدہ کیا ہے، جس نے اسے پیدا کر کے اس کی شکل بنائی اور اس کی شکل کو خوبصورت بنایا اور اس کے کان اور نظر کو کھولا، بابرکت ہے وہ اللہ جو بنانے والوں میں سب سے اچھا ہے۔ پھر جب نماز سے سلام پھیرتے تو کہتے: اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلِیْ مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَسْرَفْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِہِ مِنِّیْ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا إِلٰہَ إِلاَّ أَنْتَ۔ اے اللہ! میرے لیے بخش دے میرے اگلے پچھلے، ظاہر و پوشیدہ گناہوں کو اور جو میں نے زیادتی کی اور جو میرے گناہ تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے(وہ بھی بخش دے)، تو ہی (لوگوں کو اپنی بارگاہِ عالیہ میں) آگے کرنے والا اور (اپنی بارگاہِ عالیہ سے) پیچھے کرنے والا ہے، تو ہی معبود برحق ہے۔
Takhreej
(۱۵۵۸) تخریـج:… أخرجہ مسلم۷۷۱ (انظر: ۷۲۹)۔
Explanation
فوائد:… اس طویل حدیث میں جو دعائے استفتاح بیان کی گئی ہے، وہ عام لوگوں کو ان الفاظ کے ساتھ یاد ہے، اسی کو یاد رکھیں: وَجَّہْتُ وَجْہِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰواتِ وَالْأَرْضَ حَنِیْفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ، إِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰالَمِیْنَ، لَا شَرِیْکَ لَہٗ،وَبِذٰلِکَأُمِرْتُوَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ،اَللّٰہُمَّ أَنْتَ الْمَلِکُ لَا إِلٰہَ إِلاَّ أَنْتَ، أَنْتَ رَبِّیْ وَأَنَا عَبْدُکَ، ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِیْ فَاغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ جَمِیْعًا،اِنَّہُ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ إِلاَّ أَنْتَ، وَاہْدِنِیْ لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا یَہْدِیْ لِأَحْسَنِہَا إِلاَّ أَنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّیْ سَیِّئَہَا لَا یَصْرِفُ عَنِّیْ سَیِّئَہَا إِلاَّ أَنْتَ، لَبَّیْکَ وَسَعْدَیْکَ وَالْخَیْرُ کُلُّہٗفِیْیَدَیْکَ وَالشَّرُّ لَیْسَ إِلَیْکَ، أَنَا بِکَ وَاِلَیْکَ، تَبَارَکْتَ وََتَعَالَیْتَ، اَسْتَغْفِرُکَ وَأَتُوْبُ إِلَیْکَ۔ اس باب میں اور دیگر کتب ِ احادیث میں مختلف قسم کی استفتاح کی دعائیں مذکورہیں، ہمیں بھی چاہیے کہ ساری دعائیںیاد کریں اور اپنی نمازوں میں اہتمام کے ساتھ ہر ایک دعا پڑھیں، ایک نماز میں ایک دعا پراکتفا کرنا چاہیے، کوشش کرنی چاہیے کہ صرف سبحانک اللھم… پراکتفا نہ کیا جائے، اگرچہ ایسا کرنا جائز ہے، بلکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جو ورائٹی پیش کی ہے، اس کا خیال رکھا جائے۔ تعوذ:… اس باب سے یہ تعوذ پڑھنا ثابت ہوا: اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، مِنْ ھَمْزِہٖوَنَفْخِہٖوَنَفْثِہٖ۔ (میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں شیطان مردود سے، اس کے جنون سے، اس کی پھونکوں (یا تکبر) سے اور اس کے وسوسے (یا شعر) سے۔ ) درج ذیل تعوذ بھی ثابت ہے اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم۔ (مصنف عبد الرزاق: ۲۵۸۹، الاوسط لابن المنذر: ۱۳۷۷) میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں شیطان مردود (کی شر) سے۔
1558
Sahih

Chapters

30
01
نمازی کے لیے سترے کے مستحب ہونے اور اس کے قریب ہونے کا بیان اور اس کی وضاحت کہ وہ کس چیز کا ہو اور نمازی کی کس طرف ہونا چاہیے؟
10 Hadith
02
نمازی کے آگے گزرنے والے آدمی وغیرہ کو روکنے کا بیان
11 Hadith
03
نمازی اور اُس کے سترہ کے در میان سے گزرنے کے متعلق سختی کا بیان
3 Hadith
04
جو شخص اس حالت میں نماز پڑھے کہ ا س کے آگے کوئی انسان یا چوپایہ ہو
3 Hadith
05
امام کا سترہ ہی مقتدی کا سترہ ہے او ر کسی چیز کے گزر جانے سے نماز منقطع نہیں ہوتی
6 Hadith
06
سترے کے بغیر نماز پڑھنے کا بیان
4 Hadith
07
نماز کے جامع طریقے کا بیان
14 Hadith
08
نماز کے افتتاح او ر اس میںخشوع کا بیان
7 Hadith
09
تکبیر تحریمہ وغیرہ کے وقت رفع الیدین کرنے کا بیان (رفع الیدین قبل از رکوع و بعد از رکوع)
7 Hadith
10
اسی باب کی ایک فصل اس شخص کی دلیل کے متعلق جس کے خیال کے مطابق تکبیرۂ تحریمہ کے علاوہ رفع الیدین نہیں ہے
9 Hadith
11
تکبیر تحریمہ کے بعد، قراء ت سے پہلے، {وَلَاالضَّآلِّیْنَ} کہنے کے بعد اور سورت (کی تلاوت)کے بعد یعنی رکوع سے پہلے سکتوں کا بیان
4 Hadith
12
دعائے استفتاح اور قراء ت سے پہلے تعوذ کا بیان
8 Hadith
13
سورۂ فاتحہ کی تلاوت کرتے وقت {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیْمِ} (پڑھنے) کا بیان
8 Hadith
14
سورۃ الفاتحہ کی تفسیر اور اس کی دلیل جس کا یہ خیال ہے کہ {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ} فاتحہ کی آیت نہیں ہے
2 Hadith
15
فاتحہ پڑھنے کے وجوب کا بیان
8 Hadith
16
مقتدی کی قراء ت اور جب اپنے امام کو سنے تو اس کے خاموش ہونے کا بیان
9 Hadith
17
نماز میں بلند آواز سے قراء ت کرنے کی ممانعت، جب وہ دوسرے نمازی پر (قراء ت) گڈ مڈ کر رہا ہو
6 Hadith
18
آمین کہنے او رقراء ت میں اسے بلند آواز یاآہستہ کہنے کا بیان
5 Hadith
19
اس شخص کے حکم کا بیان جو قراء ت کا فریضہ اچھی طرح ادا نہیں کر سکتا
1 Hadith
20
پہلی دو رکعتوں میں فاتحہ کے بعد سورت پڑھنے اور دوسری دو رکعتوں میں اس کا پڑھنے کا مسنون ہونے یا نہ ہونے کا بیان
5 Hadith
21
ایک رکعت میں دو یا زائد سورتیںیا ایک سورت کابعض حصہ تلاوت کرنے اور ایک سورت یا بعض آیات کو تکرارکے ساتھ تلاوت کرنے کا بیان
7 Hadith
22
نمازوں میں قراء ت کے متعلق جامع بیان
5 Hadith
23
ظہر و عصر میں قراء ت کا بیان
11 Hadith
24
مغرب میں قراء ت کا بیان
7 Hadith
25
عشا میں قراء ت کرنے کا بیان
5 Hadith
26
صبح میں اور جمعہ کی دن کی صبح میں قراء ت کا بیان
11 Hadith
27
قراء ت کے سری اورجہری ہونے کا اور ترتیل وغیرہ کا بیان
7 Hadith
28
امام پر طاری ہونے والے (امور) اور اس کو لقمہ دینے کا حکم
3 Hadith
29
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اور سیّدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کی قراء ت کا نماز میں حجت ہونے کا بیان جن کی قراء ت پر تعریف کی گئی ہے
4 Hadith
30
تکبیرات الانتقال کا بیان
14 Hadith
No chapter matched that.