TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

قراء ت کے سری اورجہری ہونے کا اور ترتیل وغیرہ کا بیان

Chapter 27 of نمازی کے آگے سترہ رکھنے او راس کے پیچھے سے گزرنے کا حکم in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 27 of 30 · 7 Hadith
۔ (۱۶۴۹) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ أَبُوْبَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یُخَافِتُ بِصَوْتِہِ إِذَا قَرَأَ، وَکَانَ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَجْہَرُ بِقِرَائَ تِہِ، وَکَانَ عَمَّارٌ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ إِذَا قَرَأَ یَأْ خُذُمِنْ ھٰذِہِ السُّورَۃِ وَھٰذِہِ، فَذُکِرَ ذَاکَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ لِأَبِیْ بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: ((لِمَ تُخَافِتُ؟)) قَالَ: إِنِّی لَأُسْمِعُ مَنْ أُنَاجِیْ، وَقَالَ لِعُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: ((لِمَ تَجْہَرُ بِقِرَائَ تِکَ؟)) قَالَ: أُفْزِعُ الشَّیْطَانَ وَأُوقِظُ الْوَسْنَانَ، وَقَالَ لِعَمَّارٍ: ((لِمَ تَأْخُذُ مِنْ ھٰذِہِ السُّورَۃِ وَھٰذِہِ؟)) قَالَ: أَتَسْمَعُنِیْ أَخْلِطُ بِہِ مَالَیْسَ مِنْہُ؟ قَالَ: ((لَا۔)) قَالَ: فَکُلُّہُ طَیِّبٌ۔ (مسند احمد: ۸۶۵)
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:جب سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ قراء ت کرتے تو اپنی آواز کو آہستہ رکھتے تھے، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بآواز بلند قراء ت کرتے تھے اور سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جب قراء ت کرتے تو کچھ اس سورت سے پڑھ لیتے تھے اور کچھ اُس سورت سے۔ جب یہ بات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتلائی گئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پوچھا: آپ آہستہ کیوں پڑھتے ہیں؟ انہوں نے کہا: جی میں جس ہستی سے سرگوشی کر رہا ہوتا ہوں، اس کو سناتا ہوں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پوچھا: آپ بلند آواز سے تلاوت کیوں کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا: میں شیطان کو ڈراتا ہوں اور ہلکی نیندسونے والے کو جگاتا ہوں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پوچھا: کچھ اس سورت سے پڑھتے ہواورکچھ اُس سورت سے، ایسے کیوں کرتے ہو؟ انہوں نے کہا: بھلا کیا آپ نے مجھے سنا ہے کہ میں نے اس قرآن میں ایسا کلام ملا دیا ہو جو اس میں سے نہ ہو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں۔ انہوں نے کہا: توپھر سارا کلام ہی اچھا ہے، (اس لیے میں جہاں سے چاہتا ہوں، ضرورت کے مطابق پڑھ لیتا ہوں)۔
Takhreej
(۱۶۴۹) تخریج: اسنادہ ضعیف، لجھالۃ حال ھانیء بن ھانیء ، وابو اسحاق تغیر بأخرۃ، وروایۃ زکریا بن ابی زائدۃ عنہ بعد تغیرہ۔ أخرجہ نحوہ مختصرا الطبری: ۱۵/ ۱۷۶، والبیھقی فی شعب الایمان : ۲۶۱۲ (انظر: ۸۶۵)
Explanation
فوائد:… نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کبھی سرّاً تلاوت کیا کرتے تھے اور کبھی جہراً، فرضی نماز میں جہر ی اور سرّی تلاوت کا معاملہ بھی واضح ہے، جب مختلف لوگ ایک مقام پر اپنی اپنی نماز پڑھ رہے ہوں، تو ہر ایک کو سرّی آواز میں نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے، تاکہ دوسرا نمازی متأثر نہ ہو۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب نمازی اکیلا ہو تو وہ دھیمی آواز میں تلاوت کیا کرے۔ اس حدیث کے آخری حصے سے معلوم ہوا کہ مختلف مقامات سے قرآن مجید کی تلاوت کرنا درست ہے۔
1649
Zaeef
۔ (۱۶۵۰) عَنْ قَتَادَۃَ قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالَکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ قِرَائَ ۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: کَانَ یَمُدُّ بِہَا صَوْتَہُ مَدًّا۔ (مسند احمد: ۱۲۲۲۲)
قتادہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قراء ت کے بارے میں دریافت کیا، انہوں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قراء ت کرتے ہوئے اپنی آواز کو کافی لمبا کرتے تھے۔
Takhreej
(۱۶۵۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۰۴۵ (انظر: ۱۲۱۹۸)
Explanation
فوائد:… صحیح بخاری کی روایت مین یہ الفاظ بھی ہیں: ثُمَّ قَرَأَ {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ}، یَمُدُّ {بِسْمِ اللّٰہِ} وَیَمُدُّ بِـ {الرَّحْمٰنِ} وَیَمُدُّ بِـ {الرَّحِیْمِ}۔ یعنی: پھر انھوں نے {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ} کی تلاوت کی اور {بِسْمِ اللّٰہِ}، {اَلرَّحْمٰنِ} اور {اَلرَّحِیْمِ} کو لمبا لمبا کر کے پڑھا۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے {بِسْمِ اللّٰہِ} میں ل کو، {الرَّحْمٰنِ} میں م کو اور {الرَّحِیْمِ} میں ح کو لمبا کر کے پڑھا، اس انداز کو قاری حضرات مد طبعی کہتے ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِیْلًا} … (اور ٹھہر ٹھہر کر قرآن کی تلاوت کیا کرو۔ (سورۂ مزمل: ۴) اس وقت اکثر لوگ، وہ خواص ہوں یا عوام، ائمہ ہوں یا مقتدی، تلاوت ِ قرآن کے اس ادب کا خیال نہیں رکھتے، تلاوت کا اہتمام کرنے والوں کی نظر معیار پر نہیں ہوتی، مقدار کی کثرت پر ہوتی ہے، ہر ایک کییہ خواہش ہوتی ہے کہ نماز تراویح میں ایک دفعہ قرآن مجید کی تلاوت مکمل ہونی چاہیے، قطع نظر اس سے قاری کیسے پڑھ رہا ہے، کوئی لفظ بھی سمجھ آ رہا ہے یا صرف آواز پر اکتفا کیا جا رہا ہے، بلکہ بعض مساجد میں تیز پڑھنے والی قاری کی تعریف کی جاتی ہے اور آہستہ پڑھنے والے کو سنت کی مخالفت کرنے کی ترغیب دلا کر اس بات پر اکسایا جاتا ہے کہ وہ بھی تیز پڑھے، تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ نمازیوں کا آدھا گھنٹہ قیام میں گزر جائے اور ان کی گپ شپ کا وقت ضائع ہو جائے، (اللہ کی پناہ)۔ اس وقت ایک بڑی مصیبتیہ بھی ہے کہ نمازیوں کی قلت یا کثرت کو مساجد کی انتظامیہ کی ذلت یا عزت کا مسئلہ سمجھ لیا گیا ہے، اس عزت کے حصول کے لیے انتظامیہ کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ ایسا قاری تلاش کیا جائے، جس کی آواز میں خوبصورتی بھی ہو اور تیزی بھی، قطع نظر اس سے کہ وہ خود کیسا ہو، تاکہ نمازی حضرات کھنچے چلے آئیں، اس مقصد کے لیے کھلانے پلانے اور اے سی وغیرہ کی سہولت کی لالچ بھی دی جاتی ہے۔ یہاںیہ وضاحت کرنا ضروری ہے کہ اچھی آواز میں تلاوت کرنا ہماری شریعت کی موافقت ہے، لیکن آیت کے معنی و مفہوم اور قاری کے نیک و بد ہونے سے صرف ِ نظر کر کے حسنِ صوت کا ہی ہو کر رہ جانااسی شریعت کی مخالفت ہے۔
1650
Sahih
۔ (۱۶۵۱) عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَتْ قِرَائَ ۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِاللَّیْلِ قَدْرَ مَایَسْمَعُہُ مَنْ فِی الْحُجْرَۃِ وَھُوَ فِی الْبَیْتِ۔ (مسند احمد: ۲۴۴۶)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قراء ت اس قدر (بلند)ہوتی کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کمرے میں ہوتے اور صحن والے اس کو سن لیتے۔
Takhreej
(۱۶۵۱) تخریج: اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابوداود: ۱۳۲۷، والترمذی فی الشمائل : ۳۱۴ (انظر: ۲۴۴۶)
1651
Sahih
۔ (۱۶۵۲) حَدَّثَنَاعَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ حَدَّثَنَا وَکِیْعٌ عَنْ نَافِعِ بِنْ عُمَرَ (ح) ابن عبد اللہ بن جمیل وأبو عامر، حدثنا نافع عَنِ ابْنِ أَبِیْ مُلَیْکَۃَ عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ نَافِعٌ: أُرَاھَا حَفْصَۃَ أَنَّہَا سُئِلَتْ عَنْ قِرَائَ ۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: إِنَّکُمْ لاَتَسْتَطِیْعُوْنَہَا، قَالَ: فَقِیْلَ لَھَا: أَخْبِرِیْنَا بِہَا، قَالَ: فَقَرَأَتْ قِرَائَ ۃً تَرَسَّلَتْ فِیْہَا، قَالَ أَبُوْعَامِرٍ: قَالَ نَافِعٌ: فَحَکَی لَنَا اِبْنُ أَبِیْ مُلَیْکَۃَ {اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ} ثُمَّ قَطَعَ، {اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ}، ثُمَّ قَطَعَ، {مَالِکِ یَوْمِ الدَّیِْن}۔ (مسند احمد: ۲۷۰۰۳)
ایک زوجۂ رسول، غالبا وہ سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ہیں، بیان کرتی ہیں کہ ان سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قراء ت کے بارے میں سوال کیا گیا، انھوں نے کہا: تم تو اس کی استطاعت ہی نہیں رکھتے۔ کسی نے ان سے کہا: آپ ہمیں بتلا تو دیں۔ جوابا ً انہوں نے قراء ت کی اور اس میں ٹھہر ٹھہر کر پڑھا۔ابن ابی ملیکہ نے اس کو یوں بیان کیا: {اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ} پڑھا، پھر ٹھہر گئے، پھر {اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ} پڑھا اور اس پر وقف کیا، پھر {مَالِکِ یَوْمِ الدَّیِْن} پڑھا۔
Takhreej
(۱۶۵۲) تخریج: رجالہ ثقات رجال الشیخین (انظر: ۲۶۴۷۰)
Explanation
فوائد:… یہ حدیث مختلف طرق سے روایت کی گئی ہے، دو سندیں اور ان کے متون درج ذیل ہیں، غور فرمائیں: ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں: ایک زوجۂ رسول، غالباً وہ سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ہیں، سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قراء ت کے بارے میں سوال کیا گیا، انھوں نے کہا: تمہارے پاس اتنی طاقت ہی نہیںہے کہ وہ قراء ت کر سکو، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے تھے: {اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔اَلرَّحْمَنِ الرَّحِیْمِ} (صحیح لغیرہ، مسند احمد: ۲۶۴۵۱) ابن ابی ملیکہ سے مروی ہے کہ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قراء ت کے بارے میں سوال کیا گیا، انھوں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہر آیت پر ٹھہر ٹھہر کر تلاوت کرتے تھے: {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مَالِکِ یَوْمِ الدَّیِْن}۔ (صحیح لغیرہ، مسند احمد: ۲۶۵۸۳، ابوداود: ۴۰۰۱، ترمذی: ۲۹۲۷) خلاصۂ کلام یہ ہے کہ قرآن مجید کی تلاوت کے دوران ہر آیت پر وقف بھی کیا جائے اور ٹھہراؤ کا بھی خیال رکھا جائے۔ وائے مصیبت! کہ اکثر مسلمان تلاوت ِ قرآن کے سلسلے میں مقدار کی طرف توجہ کرتے ہیں، معیار کو نہیں دیکھتے، بالخصوص تراویح اور رمضان میں۔ ان کا ذہن یہ ہوتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ پاروں کی تلاوت کرکے جلدی جلدی قرآن مجید ختم کیا جائے۔ ایسے لوگوں سے گزارش ہے کہ سب سے پہلے اپنے عمل میں معیار کے مطابق حسن پیدا کریں، ترتیل کے ساتھ تلاوت کریں اور ہر ایک آیت پر وقف کریں، اگر زیادہ مقدار چاہتے ہیں تو زیادہ وقت دیں۔
1652
Sahih
۔ (۱۶۵۳) عَنْ أُمِّ ھَانِیئٍ بِنْتِ أَبِیْ طَالِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَتْ: أَنَا أَسْمَعُ قِرَائَ ۃَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ جَوْفِ اللَّیْلِ وَأَنَا عَلٰی عَرِیْشِیْ ھٰذَا وَھُوَ عِنْدَ الْکَعْبَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۷۴۳۳)
سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: میں رات کے آخری ایک تہائی حصے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قراء ت کی آواز سنتی تھی، جبکہ میں اپنے اس چھپر کی چھت پر ہوتی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کعبہ کے پاس ہوتے۔
Takhreej
(۱۶۵۳) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ النسائی: ۲/ ۱۷۸، ابن ماجہ: ۱۳۴۹، والترمذی فی الشمائل : ۳۱۱ (انظر: ۲۶۸۹۵، ۲۶۹۰۵)
Explanation
فوائد:… اس اور حدیث نمبر (۵۹۷) سے پتہ چلتا ہے کہ رات کے قیام میں بآواز بلند تلاوت کرنا بھی درست ہے، اس طریقے سے نمازی کا نماز کی طرف متوجہ ہوناآسان ہو جاتا ہے، جب کسی نمازی کے پاس کوئی آدمی بھی نماز پڑھ رہا ہو تو پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حکم کے مطابق آواز کو پست ہی رکھنا چاہیے۔
1653
Sahih
۔ (۱۶۵۴) عَنْ أَبِیْ لَیْلٰی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقْرَأُ فِیْ صَلاَۃٍ لَیْسَتْ بِفَرِیْضَۃٍ فَمَرَّ بِذِکْرِ الْجَنَّۃِ وَالنَّارِ، فَقَالَ: ((أَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ النَّارِ، وَیْحٌ أَوْ وَیْلٌ لِأَ ھْلِ النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۲۶۵)
سیدناابو لیلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نماز میں قراء ت کرتے ہوئے سنا، جبکہ وہ نماز فرضی نہیں تھی، پس جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جنت اور آگ کے ذکر سے گزرے تو فرمایا: أَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ النَّارِ وَیْحٌ أَوْ وَیْلٌ لِأَھْلِ النَّارِ (میں آگ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں، آگ والوں کے لئے تباہی ہے۔)
Takhreej
(۱۶۵۴) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف ابن ابی لیلی، والمطلب بن زیاد الثقفی متکلم فیہ، وعدی بن ثابت لم یدرک ابا لیلی۔ أخرجہ ابوداود: ۸۸۱، وابن ماجہ: ۱۳۵۲ (انظر: ۱۹۰۵۵)
1654
Zaeef
۔ (۱۶۵۵) عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِذَا مَرَّ بِآیَۃِ رَحْمَۃٍ سَأَلَ وَإِذَا مَرَّ بِآیَۃٍ فِیْہَا عَذَابٌ تَعَوَّذَ، وَإِذَا مَرَّبِآیَۃٍ فِیْہَا تَنْزِیْہُ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ سَبَّحَ۔ (مسند احمد: ۲۳۶۵۰)
سیدناحذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب رحمت والی آیت کے پاس سے گزرتے تو سوال کرتے، جب ایسی آیت سے گزرتے جس میں عذاب کا ذکر ہوتا تو پناہ مانگتے اور جب ایسی آیت تلاوت کرتے، جس میں اللہ تعالیٰ کی تنزیہ بیان کی جاتی تو اس کی تسبیح بیان کرتے۔
Takhreej
(۱۶۵۵) تخریج: أخرجہ مسلم: ۷۷۲ (انظر: ۲۳۲۶۱)
Explanation
فوائد:… سوال کرنے، پناہ مانگنے اور تسبیح بیان کرنے کے لیے کوئی الفاظ بھی کہے جا سکتے ہیں تنزیہ اور تسبیح ہم معنی الفاظ ہیں، ان کا معنی ہے: اللہ تعالیٰ کو ہر قسم کے عیب اور نقص سے پاک قرار دینا، جیسے {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلٰی} پڑھ کر سُبْحَانَ اللّٰہ کہنا۔ اس حدیث سے سبق حاصل کر کے ان لوگوں کو اپنے کردار کا جائزہ لینا چاہیے، جن کو قرآن مجید کے مفہوم کا ذرا برابر علم نہیں ہوتا اور ان کو کوئی شعور نہیں ہوتا کہ وہ کیا پڑھ رہے ہیں۔ امام اور منفرد کو تو ان موضوعات سے متعلقہ آیات کی تلاوت کر کے ان کا جواب دینا چاہیے، مقتدی کے بارے میں اختلاف ہے، ہماری رائے یہ ہے کہ مقتدی خاموش رہے، کیونکہ مقتدی کو امام کی اقتدا میں جہری قراء ت کے دوران خاموش رہنے کا حکم دیا گیا، وہ کسی مخصوص دلیل کی روشنی میں ہی بول سکتا ہے، مثلا: سورۂ فاتحہ کی تلاوت کرنا، آمین کہنا، امام کو لقمہ دینا۔ البتہ سرّی نماز میں جب مقتدی خود قراء ت کر رہا ہو تو وہ ایسی آیتوں کی تلاوت کی صورت میں ان کے تقاضے کے مطابق جوابی کلمات کہے گا۔ واللہ اعلم بالصواب
1655
Sahih

Chapters

30
01
نمازی کے لیے سترے کے مستحب ہونے اور اس کے قریب ہونے کا بیان اور اس کی وضاحت کہ وہ کس چیز کا ہو اور نمازی کی کس طرف ہونا چاہیے؟
10 Hadith
02
نمازی کے آگے گزرنے والے آدمی وغیرہ کو روکنے کا بیان
11 Hadith
03
نمازی اور اُس کے سترہ کے در میان سے گزرنے کے متعلق سختی کا بیان
3 Hadith
04
جو شخص اس حالت میں نماز پڑھے کہ ا س کے آگے کوئی انسان یا چوپایہ ہو
3 Hadith
05
امام کا سترہ ہی مقتدی کا سترہ ہے او ر کسی چیز کے گزر جانے سے نماز منقطع نہیں ہوتی
6 Hadith
06
سترے کے بغیر نماز پڑھنے کا بیان
4 Hadith
07
نماز کے جامع طریقے کا بیان
14 Hadith
08
نماز کے افتتاح او ر اس میںخشوع کا بیان
7 Hadith
09
تکبیر تحریمہ وغیرہ کے وقت رفع الیدین کرنے کا بیان (رفع الیدین قبل از رکوع و بعد از رکوع)
7 Hadith
10
اسی باب کی ایک فصل اس شخص کی دلیل کے متعلق جس کے خیال کے مطابق تکبیرۂ تحریمہ کے علاوہ رفع الیدین نہیں ہے
9 Hadith
11
تکبیر تحریمہ کے بعد، قراء ت سے پہلے، {وَلَاالضَّآلِّیْنَ} کہنے کے بعد اور سورت (کی تلاوت)کے بعد یعنی رکوع سے پہلے سکتوں کا بیان
4 Hadith
12
دعائے استفتاح اور قراء ت سے پہلے تعوذ کا بیان
8 Hadith
13
سورۂ فاتحہ کی تلاوت کرتے وقت {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیْمِ} (پڑھنے) کا بیان
8 Hadith
14
سورۃ الفاتحہ کی تفسیر اور اس کی دلیل جس کا یہ خیال ہے کہ {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ} فاتحہ کی آیت نہیں ہے
2 Hadith
15
فاتحہ پڑھنے کے وجوب کا بیان
8 Hadith
16
مقتدی کی قراء ت اور جب اپنے امام کو سنے تو اس کے خاموش ہونے کا بیان
9 Hadith
17
نماز میں بلند آواز سے قراء ت کرنے کی ممانعت، جب وہ دوسرے نمازی پر (قراء ت) گڈ مڈ کر رہا ہو
6 Hadith
18
آمین کہنے او رقراء ت میں اسے بلند آواز یاآہستہ کہنے کا بیان
5 Hadith
19
اس شخص کے حکم کا بیان جو قراء ت کا فریضہ اچھی طرح ادا نہیں کر سکتا
1 Hadith
20
پہلی دو رکعتوں میں فاتحہ کے بعد سورت پڑھنے اور دوسری دو رکعتوں میں اس کا پڑھنے کا مسنون ہونے یا نہ ہونے کا بیان
5 Hadith
21
ایک رکعت میں دو یا زائد سورتیںیا ایک سورت کابعض حصہ تلاوت کرنے اور ایک سورت یا بعض آیات کو تکرارکے ساتھ تلاوت کرنے کا بیان
7 Hadith
22
نمازوں میں قراء ت کے متعلق جامع بیان
5 Hadith
23
ظہر و عصر میں قراء ت کا بیان
11 Hadith
24
مغرب میں قراء ت کا بیان
7 Hadith
25
عشا میں قراء ت کرنے کا بیان
5 Hadith
26
صبح میں اور جمعہ کی دن کی صبح میں قراء ت کا بیان
11 Hadith
27
قراء ت کے سری اورجہری ہونے کا اور ترتیل وغیرہ کا بیان
7 Hadith
28
امام پر طاری ہونے والے (امور) اور اس کو لقمہ دینے کا حکم
3 Hadith
29
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اور سیّدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کی قراء ت کا نماز میں حجت ہونے کا بیان جن کی قراء ت پر تعریف کی گئی ہے
4 Hadith
30
تکبیرات الانتقال کا بیان
14 Hadith
No chapter matched that.