TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

امام کا سترہ ہی مقتدی کا سترہ ہے او ر کسی چیز کے گزر جانے سے نماز منقطع نہیں ہوتی

Chapter 5 of نمازی کے آگے سترہ رکھنے او راس کے پیچھے سے گزرنے کا حکم in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 5 of 30 · 6 Hadith
۔ (۱۵۰۰) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: جِئْتُ أَنَا وَالْفَضْلُ وَنَحْنُ عَلٰی أَتَانٍ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ بِالنَّاسِ بِعَرَفَۃَ فَمَرَرْنَا عَلٰی بَعْضِ الصَّفِّ فَنَزَلْنَا عَنْہَا وَتَرَکْنَاھَا تَرْتَعُ وَدَخَلْنَا فِی الصَّفِّ فَلَمْ یَقُلْ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَیْئًا۔ (مسند احمد: ۱۸۹۱)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کہتے ہیں:میں اور فضل گدھی پر سوار ہو کر آئے، جبکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عرفہ میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، ہم صف کے کچھ حصے کے سامنے سے گزر کر اس سے اترے، اسے چرنے کے لیے چھوڑ دیا اور ہم صف میں داخل ہوگئے۔ اس پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں کچھ نہ کہا۔
Takhreej
(۱۵۰۰) تخریـج:… أخرجہ البخاری: ۴۴۱۲، ومسلم: ۵۰۴ (انظر: ۱۸۹۱)۔
1500
Sahih
۔ (۱۵۰۱) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) قَالَ: أَقْبَلْتُ وَقَدْ نَاھَزْتُ الْحُلْمَ أَسِیْرُ عَلٰی أَتَانٍ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَائِمٌ یُصَلِّیْ لِلنَّاسِ یَعْنِیْ حَتّٰی صِرْتُ بَیْنَیَدَیْ بَعْضِ الصَّفِّ الْأَوَّلِ ثُمَّ نَزَلْتُ عَنْہَا فَرَتَعَتْ فَصَفَفْتُ مَعَ النَّاسِ وَرَائَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۳۷۶)
(دوسری سند) سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کہتے ہیں: میں گدھی پر سوار ہو کر آیا، اس وقت میں بلوغت کے قریب تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، میں اسی حالت میں پہلی صف کے بعض حصے کے سامنے آ پہنچا، وہاں اس سے اترا، وہ چرنے لگی اور میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کیاقتدا میں لوگوں کے ساتھ صف میں کھڑا ہو گیا۔
Takhreej
(۱۵۰۱) تخریـج:… أخرجہ البخاری: ۱۸۵۷ وانظر الحدیث بالطریق الاول (انظر: ۲۳۷۶)۔
Explanation
فوائد:… یہ شریعت کی کمال رخصت ہے کہ مقتدی لوگوں کو سترہ نہ رکھنے کی رخصت دی گئی ہے، یہی وجہ ہے کہ دورانِ جماعت مقتدی کے سامنے سے گزرنا جائز ہے، حدیث نمبر (۴۲۶) مین یہ بات گزر چکی ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دوران جماعت بکری کے بچے کو اپنے سامنے سے نہ گزرنے دیا، پھر وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے سے یعنی پہلی صف کے لوگوں کے سامنے سے گزر گیا۔
1501
Sahih
۔ (۱۵۰۳) وَعَنْہُ أَیْضًا أَنَّہُ کَانَ عَلٰی حِمَارٍ ھُوَ وَغُلَامٌ مِنْ بَنِی ھَاشِمٍ فَمَرَّ بَیْنَیَدَیِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یُصَلِّیْ فَلَمْ یَنْصَرِفْ، وَجَائَ تْ جَارِیَتَانِ مِنْ بَنِی عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَأَخَذَتَا بِرُ کْبَتَیِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَفَرَّعَ بَیْنَہُمَا أَوْفَرَّقَ بَیْنَہُمَا وَلَمْ یَنْصَرِفْ۔ (مسند احمد: ۳۱۶۷)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: وہ اور بنوہاشم کا ایک لڑکا گدھے پر تھے، وہ گدھا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے سے گزر گیا، جبکہ آپ نماز پڑھ رہے تھے، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز سے نہ نکلے، اتنے میں بنو عبد المطلب کی دو لڑکیوں نے آکر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے گھٹنوں کو پکڑ لیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو علیحدہ علیحدہ کر دیا اورنماز سے نہ نکلے۔
Takhreej
(۱۵۰۳) تخریـج:… اسنادہ حسن، أخرجہ ابوداود: ۷۱۶، ۷۱۷، والنسائی: ۲/ ۶۵ (انظر: ۳۱۶۷)۔
1503
Sahih
۔ (۱۵۰۵) عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِیِّ قَالَ ذُکِرَ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما یَقْطَعُ الصَّلَاۃَ الْکَلْبُ وَالْحِمَارُ وَالْمَرْأَۃُ، قَالَ: بِئْسَمَا عَدَلْتُمْ بِامْرَأَۃٍ مُسْلِمَۃٍ کَلْباًوَحِمَارًا، لَقَدْ رَأَیْتُنِیْ أَقْبَلْتُ عَلٰی حِمَارٍ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ بِالنَّاسِ حَتّٰی إِذَا کُنْتُ قَرِیْبًا مِنْہُ مُسْتَقْبِلَہُ نَزَلْتُ عَنْہُ وَخَلَّیْتُ عَنْہُ وَدَخَلْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی صَلَاتِہِ فَمَا أَعَادَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَاتَہُ وَلَا نَہَانِیْ عَمَّا صَنَعْتُ، وَلَقَدْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ بِالنَّاسِ فَجَائَ تْ وَلِیْدَۃٌ تَخَلَّلُ الصُّفُوفَ حَتّٰی عَاذَتْ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَمَا أَعَاَدَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَاتَہُ وَلَا نَہَاھَا عَمَّا صَنَعَتْ، وَلَقَدْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ فِیْ مَسْجِدٍ فَخَرَجَ جَدْیٌ مِنْ بَعْضِ حُجُرَاتِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَھَبَ یَجَتْازُ بَیْنَیَدَیْہِ فَمَنَعَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسِ: أَفَـلَا تَقُوْلُوْنَ: الْجَدْیُیَقْطَعُ الصَّلَاۃَ؟ (مسند احمد: ۲۲۲۲)
حسن عرنی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کہتے ہیں: سیّدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس یہ بات ذکر کی گئی کہ کتا، گدھا اور عورت نماز کو قطع کر دیتی ہیں، وہ کہنے لگے: بری بات ہے کہ تم نے مسلمان عورت کو کتے اور گدھے کے برابر کردیا ہے، میں نے اپنے آپ کو دیکھا ہے کہ میںگدھے پر آیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، جب میں آپ کے سامنے قریب ہوگیا تو میں اس سے اترا اور اسے چھوڑ دیا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز میں داخل ہوگیا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نہ اپنی نماز دہرائی اور نہ مجھے ایسا کرنے سے منع کیااور ایک دفعہ یوں ہوا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے کہ ایک بچی صفوںکے بیچ سے گزرتے ہوئے آئی اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پناہ لی، اس سے بھی نہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز دہرائی اور نہ اسے ایسا کرنے سے منع کیا۔ ایک اور واقعہ یہ ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد میں نماز پڑھ رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے کسی حجرے سے ایک بکری کا بچہ نکل آیا اور آپ کے سامنے سے گزر نے لگا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے روک دیا۔ سیّدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: اب تم یہ کیوں نہیں کہتے کہ بکری کا بچہ نماز توڑ دیتا ہے؟
Takhreej
(۱۵۰۵) تخریـج:… حدیث حسن، وھذا اسناد ضعیف لضعف علی بن عاصم، لکنہ متابع، ثم ھو منقطع۔ أخرجہ الطبرانی: ۱۲۷۰۳ (انظر: ۲۲۲۲، ۲۸۰۴)۔
Explanation
فوائد:… سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا مقصد یہ ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بکری کے بچے کو بھی دورانِ نماز سامنے سے گزرنے سے روکا ہے، اس لیے لوگوں کو یہ بھی کہنا چاہیے کہ اس سے بھی نماز منقطع ہو جاتی ہے۔ حقیقت ِ حال یہ ہے کہ یہ حدیث تو ثابت ہے کہ کتا، گدھا اور عورت نماز کو قطع کر دیتے ہیں۔ سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اس کا علم نہیں تھا، جس کی وجہ سے وہ مختلف الزامی امور کا تذکرہ کر رہے ہیں، گدھے کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے قریب ہوجانا، اس سے گزرنا لازم نہیں آتا، بچی کامعاملہ تو اسے شعور نہ ہونے کی وجہ سے واضح ہے۔ کون سے امور نماز کو قطع کر دیتے ہیں؟ اس تفصیل کا بیان باب مبطلات الصلاۃ میں ہو گا۔
1505
Sahih

Chapters

30
01
نمازی کے لیے سترے کے مستحب ہونے اور اس کے قریب ہونے کا بیان اور اس کی وضاحت کہ وہ کس چیز کا ہو اور نمازی کی کس طرف ہونا چاہیے؟
10 Hadith
02
نمازی کے آگے گزرنے والے آدمی وغیرہ کو روکنے کا بیان
11 Hadith
03
نمازی اور اُس کے سترہ کے در میان سے گزرنے کے متعلق سختی کا بیان
3 Hadith
04
جو شخص اس حالت میں نماز پڑھے کہ ا س کے آگے کوئی انسان یا چوپایہ ہو
3 Hadith
05
امام کا سترہ ہی مقتدی کا سترہ ہے او ر کسی چیز کے گزر جانے سے نماز منقطع نہیں ہوتی
6 Hadith
06
سترے کے بغیر نماز پڑھنے کا بیان
4 Hadith
07
نماز کے جامع طریقے کا بیان
14 Hadith
08
نماز کے افتتاح او ر اس میںخشوع کا بیان
7 Hadith
09
تکبیر تحریمہ وغیرہ کے وقت رفع الیدین کرنے کا بیان (رفع الیدین قبل از رکوع و بعد از رکوع)
7 Hadith
10
اسی باب کی ایک فصل اس شخص کی دلیل کے متعلق جس کے خیال کے مطابق تکبیرۂ تحریمہ کے علاوہ رفع الیدین نہیں ہے
9 Hadith
11
تکبیر تحریمہ کے بعد، قراء ت سے پہلے، {وَلَاالضَّآلِّیْنَ} کہنے کے بعد اور سورت (کی تلاوت)کے بعد یعنی رکوع سے پہلے سکتوں کا بیان
4 Hadith
12
دعائے استفتاح اور قراء ت سے پہلے تعوذ کا بیان
8 Hadith
13
سورۂ فاتحہ کی تلاوت کرتے وقت {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیْمِ} (پڑھنے) کا بیان
8 Hadith
14
سورۃ الفاتحہ کی تفسیر اور اس کی دلیل جس کا یہ خیال ہے کہ {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ} فاتحہ کی آیت نہیں ہے
2 Hadith
15
فاتحہ پڑھنے کے وجوب کا بیان
8 Hadith
16
مقتدی کی قراء ت اور جب اپنے امام کو سنے تو اس کے خاموش ہونے کا بیان
9 Hadith
17
نماز میں بلند آواز سے قراء ت کرنے کی ممانعت، جب وہ دوسرے نمازی پر (قراء ت) گڈ مڈ کر رہا ہو
6 Hadith
18
آمین کہنے او رقراء ت میں اسے بلند آواز یاآہستہ کہنے کا بیان
5 Hadith
19
اس شخص کے حکم کا بیان جو قراء ت کا فریضہ اچھی طرح ادا نہیں کر سکتا
1 Hadith
20
پہلی دو رکعتوں میں فاتحہ کے بعد سورت پڑھنے اور دوسری دو رکعتوں میں اس کا پڑھنے کا مسنون ہونے یا نہ ہونے کا بیان
5 Hadith
21
ایک رکعت میں دو یا زائد سورتیںیا ایک سورت کابعض حصہ تلاوت کرنے اور ایک سورت یا بعض آیات کو تکرارکے ساتھ تلاوت کرنے کا بیان
7 Hadith
22
نمازوں میں قراء ت کے متعلق جامع بیان
5 Hadith
23
ظہر و عصر میں قراء ت کا بیان
11 Hadith
24
مغرب میں قراء ت کا بیان
7 Hadith
25
عشا میں قراء ت کرنے کا بیان
5 Hadith
26
صبح میں اور جمعہ کی دن کی صبح میں قراء ت کا بیان
11 Hadith
27
قراء ت کے سری اورجہری ہونے کا اور ترتیل وغیرہ کا بیان
7 Hadith
28
امام پر طاری ہونے والے (امور) اور اس کو لقمہ دینے کا حکم
3 Hadith
29
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اور سیّدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کی قراء ت کا نماز میں حجت ہونے کا بیان جن کی قراء ت پر تعریف کی گئی ہے
4 Hadith
30
تکبیرات الانتقال کا بیان
14 Hadith
No chapter matched that.