TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

آمین کہنے او رقراء ت میں اسے بلند آواز یاآہستہ کہنے کا بیان

Chapter 18 of نمازی کے آگے سترہ رکھنے او راس کے پیچھے سے گزرنے کا حکم in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 18 of 30 · 5 Hadith
۔ (۱۵۹۲) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِذَا قَالَ الإِْمَامُ {غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلَا الْضَّالِّیْنَ} فَقُوْلُوْا آمِیْنَ فَإِنَّ الْمَلَائِکَۃَیَقُوْلُوْنَ آمِیْنَ، وَإِنَّ الإِْمَامَ یَقُوْلُ آمِیْنَ، فَمَنْ وَّافَقَ تَأْمِیْنُہُ تَأْمِیْنَ الْمَلَائِکَۃِ عُفِرَ لَہُ مَاتَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ۔)) (مسند احمد: ۷۱۸۷)
سیدناابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی ٔکریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب امام {غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلَا الْضَّالِّیْنَ} کہے تو تم آمین کہو، کیونکہ فرشتے بھی آمین کہتے ہیں اور امام بھی آمین کہتا ہے تو جس کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہوگیا اس کے پچھلے گناہ بخش دیے جائیں گے۔
Takhreej
(۱۵۹۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۷۸۰، ومسلم: ۴۱۰ (انظر: ۷۱۸۷، ۹۹۲۱)
1592
Sahih
۔ (۱۵۹۳) وَعَنْہُ أَیْضًا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِذَا أَمَّنَ الْقَارِیئُ فَأَمِّنُوْا فَإِنَّہُ مَنْ وَّافَقَ تَأَمِیْنُہُ تَأْمِیْنَ الْمَلَائِکَۃِ غُفْرِلَہُ مَاتَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ۔)) (مسند احمد: ۹۹۲۳)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب قراء ت کرنے والا(امام) آمین کہے تو تم بھی آمین کہو، کیونکہ جس کی آمین فرشتوں کی آمین سے موافقت کر گئی تو اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جائیں گے۔
Takhreej
(۱۵۹۳) تخریج: انظر الحدیث السابق (انظر: ۹۹۲۱)
Explanation
فوائد:… پہلی حدیث میں ہے کہ جب امام {وَلَا الْضَّالِّیْنَ} کہے تو مقتدی آمین کہیں، لیکن دوسری حدیث میں ہے کہ جب امام آمین کہے تو مقتدی آمین کہیں۔ ان دونوں احادیث کا ایک مفہوم ہی ہے، پہلی حدیث کا معنییہ ہے کہ جب امام {وَلَا الْضَّالِّیْنَ} سے فارغ ہو جائے اور دوسری حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جب امام آمین کہنے لگے تو مقتدی آمین کہیں، اس طرح امام، مقتدی اور فرشتے، سب کی آمین ایک وقت میں ہو گی۔
1593
Sahih
۔ (۱۵۹۴) وَعَنْہُ فِیْ أُخْرٰی أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِذَا قَالَ أَحَدُ کُمْ آمِیْنَ، قَالَتِ الْمَلَائِکَۃُ فِی السَّمَائِ آمِیْنَ، فَوَافَقَتْ إِحْدَ اھُمَا الْأُخْرَی غُفِرَلَہُ مَاتَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ۔)) (مسند احمد: ۹۹۲۶)
اور سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آمین کہتا ہے تو فرشتے آسمان میں آمین کہتے ہیں۔ اگر اس کی آمین ان کی آمین سے موافقت کر جائے تو اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔
Takhreej
(۱۵۹۴) تخریج: انظر الحدیث رقم: ۵۴۲ (انظر: ۹۹۲۴)
1594
Sahih
۔ (۱۵۹۵) عَنْ وَائِلِ بِنْ حُجْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَرَأَ {وَلَا الضَّالِّیْنَ} فَقَالَ آمِیْنَیَمُدُّ بِہَا صَوْتَہُ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۹۰۴۸)
سیدنا وائل بن حجر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے سنا کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے {وَلَا الضَّالِّیْنَ} پڑھا تو آمین کہا اور اس (آمین) کے ساتھ اپنی آواز کو لمبا کرتے تھے۔
Takhreej
(۱۵۹۵) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۹۳۲، ۹۳۳، والترمذی: ۲۴۸، ۲۴۹، وابن ابی شیبۃ: ۲/ ۴۲۵، والدارقطنی: ۱/ ۳۳۳، والبیھقی: ۲/ ۵۷ (انظر: ۱۸۸۴۲)
Explanation
فوائد:… سنن بیہقی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: یَرْفَعُ بِھَا صَوْتَہٗ۔ یعنی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آمین کے ساتھ اپنی آواز کو بلند کرتے تھے۔ دونوں روایات میں کوئی تضاد نہیں بلکہ مفہوم یہ ہے کہ آپ آمین کہتے ہوئے اپنی آواز کو لمبا بھی کرتے اور بلند بھی کرتے۔ (عبداللہ رفیق)
1595
Sahih
۔ (۱۵۹۶) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: صَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمَّا قَرَأَ {غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَا الضَّالِّیْنَ} قَالَ آمِیْنَ وَأَخْفٰی بِہَا صَوْتَہُ وَوَضَعَ یَدَہُ الْیُمْنٰی عَلَییَدِہِ الْیُسْرٰی وَسَلَّمَ عَنْ یَمِیْنِہِ وَعَنْیَسَارِہِ۔ (مسند احمد: ۱۹۰۶۰)
اور سیدنا وائل بن حجر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، پس جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے {غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَا الضَّالِّیْنَ} پڑھا تو آمین کہا اور اس کے ساتھ اپنی آواز کو آہستہ کیا اور اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھا اور دائیں بائیں سلام پھیرا۔
Takhreej
(۱۵۹۶) تخریج: حدیث صحیح دون قولہ: واخفی بھا صوتہ فقد أخطأ فیہا شعبۃ۔ أخرجہ الطیالسی: ۱۰۲۴، والبیھقی: ۲/ ۵۷، والدار قطنی: ۱/ ۳۳۴ (انظر: ۱۸۸۵۴)
Explanation
فوائد:… مذکورہ بالا حدیث غور طلب ہے، امام سفیان نے اس کو یوں بیان کیا ہے: سیدنا وائل بن حجر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سنا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے {وَلَا الضَّالِّیْنَ} پڑھا تو آمین کہا اور اپنی آواز کو لمبا کیا۔ (مسند احمد: ۱۸۸۴۲، ابوداود: ۹۳۲، ترمذی: ۲۴۸، دارقطنی: ۱/ ۳۳۳، دارمی: ۱۲۴۷، ابن ابی شیبہ: ۲/ ۴۲۵) لیکن جب امام شعبہ نے بیان کیا تو ان کے الفاظ یہ تھے: جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے {وَلَا الضَّالِّیْنَ} پڑھا تو آمین کہا اور اپنی آواز کو پست کیا۔ (حوالہ اوپر گزر چکا ہے) یہ کوئی پریشان کن صورت نہیں ہے، کیونکہ جب امام سفیان اور امام شعبہ کا اختلاف ہو جائے تو امام سفیان کے قول کو ترجیح دی جاتی ہے۔ ائمہ کرام نے اسی اصول کو ترجیح دی ہے۔ امام بخاری نے اپنی تاریخ میں امام شعبہ کی اس خطا پر تنبیہ کی ہے، پھر امام ترمذی نے اپنی جامع اور العلل الکبیر میں ان سے نقل کیا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ علاء بن صالح نے امام سفیان کی آمین بالجہر والی روایت پر متابعت کی ہے، اس متابعت کا ذکر ابن ابی شیبہ: ۱/ ۲۹۹، ابوداود: ۹۳۳، ترمذی: ۲۴۹ میں موجود ہے۔ (انظر: ۱۸۸۴۲، وشرحہ) خلاصۂ کلام: سیدنا وائل بن حجر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی روایت سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا بلند آواز سے آمین کہنا ثابت ہوتا ہے۔ آمین بالجہر کے مزید دلائل درج ذیل ہیں: سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا فَرَغَ مِنْ قِرَائَ ۃِ أُمِّ الْقُرْآنِ رَفَعَ صَوْتَہٗوَقَالَ: ((آمِیْن۔))… جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ام القرآن (سورۂ فاتحہ) کی قرائـت سے فارغ ہوتے تو آواز کو بلند کرتے ہوئے آمین کہتے۔ (ابن حبان:۴۶۲، دارقطنی: ۱۲۷، حاکم: ۱/۲۲۳، بیھقی: ۲/ ۵۸،صحیحہ:۴۶۴) شیخ البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ لکھتے ہیں: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ امام کا بلند آواز سے آمین کہنا مشروع ہے۔ امام شافعی، امام احمد اور امام اسحق وغیرہ کا یہی مسلک ہے، البتہ امام ابوحنیفہ اور ان کے پیروکار اس کے قائل نہیں ہیں۔ سیدھی سی بات ہے کہ اِن لوگوں کے پاس کوئی دلیل نہیں، سوائے ان عمومات کے جو اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ ذکر میں اصل قانون یہ ہے کہ آواز کو پست رکھا جائے۔ لیکن اس قسم کے عام دلائل، اس باب کی خاص اور واضح روایات کے مقابلے میں مفید ثابت نہیں ہو سکتے۔ بہرحال اس حقیقت کو ایسے اہل علم سمجھ پائیں گے، جن کو اللہ تعالیٰ نے عقلی جمود اور مذہبی تعصب سے پاک رکھا ہے۔ (صحیحہ: ۴۶۴) سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((مَا حَسَدَتْکُمُ الْیَہُوْدُ عَلٰی شَیْئٍ مَا حَسَدَتْکُمْ عَلٰی آمِیْن، فَأَکْثِرُوْا مِنْ قَوْلِ آمِیْن۔))… جس قدر تم پر یہودی، آمین سے چڑتے ہیں، اتنا کسی اور چیز سے تم پر نہیں چڑتے، لہٰذا تم کثرت سے آمین کہنا۔ (ابن ماجہ، صحیح ابن خزیمہ) امام ابو حنیفہ کے استاد امام عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں: میں نے دو سو (۲۰۰) صحابہ کو دیکھا کہ بیت اللہ میں جب امام {وَلَا الضَّالِّیْنَ} کہتا تو سب بلند آواز سے آمین کہتے۔ (بیہقی) نعیم مجمر کہتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہمیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے طریقے کے مطابق نماز پڑھائی، پھر نعیم اس طریقے کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انھوں نے آمین کہی اور جو لوگ آپ کی اقتدا میں نماز پڑھ رہے تھے انھوں نے بھی آمین کہی۔ (نسائی) ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((إِذَا قَرَأَ الإِْمَامُ: {غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلاالضَّالِیْنَ} فَأَمَّنَ الإِمَامُ فَأَمِّنُوْا، فَإِنَّ الْمَلَائِکَۃَ تُؤَمِّنُ عَلٰی دُعَائِہٖ،فَمَنْوَافَقَتَأْمِیْنُہُ تَأْمِیْنَ الْمَلَائِکَۃِ غُفِرَ لَہُ مَاتَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ۔)) … جبامام {غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَا الضَّالِّیْنَ} پڑھ کر آمین کہے تو تم آمین کہو، کیونکہ فرشتے بھی امام کی دعا پر آمین کہتے ہیں اور جس کی آمین فرشتوں کی آمین سے موافقت کر گئی اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جائیں گے۔ (أبو یعلی :۴/۱۴۰۸، صحیحہ:۲۵۳۴) شیخ البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے کہا: اس حدیث سے یہ استدلال کرنا بھی درست ہے کہ مقتدیوں کو آمین بآواز بلند کہنا چاہیے، ایک دوسری کتاب میں میں نے اسی استنباط کی طرف اپنے میلان کا اظہار کیا ہے، کیونکہیہ استدلال سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے اثر اور سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی مرفوع حدیث کے مطابق ہے۔ (صحیحہ: ۲۵۳۴) سیدناعبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کاکون سا اثر مراد ہے؟ اس کے بارے میں امام البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے خود کہا: پھر میں نے امام بخاری کو دیکھا، انھوں نے صیغۂ جزم کے ساتھ سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا معلق اثر ذکر کیا۔ جس پر کلام کرتے ہوئے حافظ ابن حجر نے (فتح الباری: ۲/ ۲۰۸) میں کہا: عبد الرزاق نے اس اثر کو ابن جریج عن عطاء کی سند سے موصول بیان کیا ہے، ابن جریج نے عطاء سے پوچھا: کیا عبد اللہ بن زبیر سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد آمین کہتے تھے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، اور اس کے مقتدی بھی آمین کہتے تھے، حتی کہ مسجد گونج اٹھتی تھی۔ پھر انھوں نے کہا: آمین دعا ہے۔ میں (البانی) کہتا ہوں کہ یہ روایت مصنف عبد الرزاق (۲۶۴۰) میں ہے اور امام ابن حزم نے انہی کی سند کے ساتھ (المحلی: ۳/ ۳۶۴) میں بیان کی ہے۔ چونکہ ابن جریج نے یہ روایت عطاء سے براہِ راست لینے کی وضاحت کی ہے، اس لیے ان کی تدلیس کا خطرہ ٹل گیا ہے اور ابن زبیر کا اثر ثابت ہو گیا ہے۔ اسی قسم کا اثر سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بھی مروی ہے، ابو رافع کہتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مروان بن حکم کے مؤذن تھے۔ انھوں نے مروان پر شرط لگائی ہوئی تھی کہ وہ اس وقت تک {وَلَاالضَّآلِیْن} نہیں کہہ سکتا، جب ان کے آنے کا علم نہ ہو جائے۔ پس جب مروان {وَلَا الضَّاْلِیْن} کہتا تھا تو سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آمین کہتے اور اپنی آواز کو لمبا کرتے اور کہتے تھے: جب زمین والوں کی آمین، آسمان والوں کی آمین سے موافقت کرتی ہے تو ان کو بخش دیا جاتا ہے۔ (بیہقی: ۲/ ۵۹) اس کی سند صحیح ہے۔ سیّدنا ابوہریرہ اور سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے آمین بالجہر کہنا صحیح ثابت ہوگیا ہے، اس کے برعکس کسی صحابی سے کوئی اثر ثابت نہیں ہے، اس لیے اسی بات پر دل مطمئن ہو جاتا ہے کہ بلند آواز سے آمین کہنا چاہیے۔ واللہ اعلم۔ (سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ: ۹۵۲)
1596
Sahih

Chapters

30
01
نمازی کے لیے سترے کے مستحب ہونے اور اس کے قریب ہونے کا بیان اور اس کی وضاحت کہ وہ کس چیز کا ہو اور نمازی کی کس طرف ہونا چاہیے؟
10 Hadith
02
نمازی کے آگے گزرنے والے آدمی وغیرہ کو روکنے کا بیان
11 Hadith
03
نمازی اور اُس کے سترہ کے در میان سے گزرنے کے متعلق سختی کا بیان
3 Hadith
04
جو شخص اس حالت میں نماز پڑھے کہ ا س کے آگے کوئی انسان یا چوپایہ ہو
3 Hadith
05
امام کا سترہ ہی مقتدی کا سترہ ہے او ر کسی چیز کے گزر جانے سے نماز منقطع نہیں ہوتی
6 Hadith
06
سترے کے بغیر نماز پڑھنے کا بیان
4 Hadith
07
نماز کے جامع طریقے کا بیان
14 Hadith
08
نماز کے افتتاح او ر اس میںخشوع کا بیان
7 Hadith
09
تکبیر تحریمہ وغیرہ کے وقت رفع الیدین کرنے کا بیان (رفع الیدین قبل از رکوع و بعد از رکوع)
7 Hadith
10
اسی باب کی ایک فصل اس شخص کی دلیل کے متعلق جس کے خیال کے مطابق تکبیرۂ تحریمہ کے علاوہ رفع الیدین نہیں ہے
9 Hadith
11
تکبیر تحریمہ کے بعد، قراء ت سے پہلے، {وَلَاالضَّآلِّیْنَ} کہنے کے بعد اور سورت (کی تلاوت)کے بعد یعنی رکوع سے پہلے سکتوں کا بیان
4 Hadith
12
دعائے استفتاح اور قراء ت سے پہلے تعوذ کا بیان
8 Hadith
13
سورۂ فاتحہ کی تلاوت کرتے وقت {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیْمِ} (پڑھنے) کا بیان
8 Hadith
14
سورۃ الفاتحہ کی تفسیر اور اس کی دلیل جس کا یہ خیال ہے کہ {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ} فاتحہ کی آیت نہیں ہے
2 Hadith
15
فاتحہ پڑھنے کے وجوب کا بیان
8 Hadith
16
مقتدی کی قراء ت اور جب اپنے امام کو سنے تو اس کے خاموش ہونے کا بیان
9 Hadith
17
نماز میں بلند آواز سے قراء ت کرنے کی ممانعت، جب وہ دوسرے نمازی پر (قراء ت) گڈ مڈ کر رہا ہو
6 Hadith
18
آمین کہنے او رقراء ت میں اسے بلند آواز یاآہستہ کہنے کا بیان
5 Hadith
19
اس شخص کے حکم کا بیان جو قراء ت کا فریضہ اچھی طرح ادا نہیں کر سکتا
1 Hadith
20
پہلی دو رکعتوں میں فاتحہ کے بعد سورت پڑھنے اور دوسری دو رکعتوں میں اس کا پڑھنے کا مسنون ہونے یا نہ ہونے کا بیان
5 Hadith
21
ایک رکعت میں دو یا زائد سورتیںیا ایک سورت کابعض حصہ تلاوت کرنے اور ایک سورت یا بعض آیات کو تکرارکے ساتھ تلاوت کرنے کا بیان
7 Hadith
22
نمازوں میں قراء ت کے متعلق جامع بیان
5 Hadith
23
ظہر و عصر میں قراء ت کا بیان
11 Hadith
24
مغرب میں قراء ت کا بیان
7 Hadith
25
عشا میں قراء ت کرنے کا بیان
5 Hadith
26
صبح میں اور جمعہ کی دن کی صبح میں قراء ت کا بیان
11 Hadith
27
قراء ت کے سری اورجہری ہونے کا اور ترتیل وغیرہ کا بیان
7 Hadith
28
امام پر طاری ہونے والے (امور) اور اس کو لقمہ دینے کا حکم
3 Hadith
29
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اور سیّدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کی قراء ت کا نماز میں حجت ہونے کا بیان جن کی قراء ت پر تعریف کی گئی ہے
4 Hadith
30
تکبیرات الانتقال کا بیان
14 Hadith
No chapter matched that.