TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 1605 مسنداحمد

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 3 of 7 in this chapter
ایک رکعت میں دو یا زائد سورتیںیا ایک سورت کابعض حصہ تلاوت کرنے اور ایک سورت یا بعض آیات کو تکرارکے ساتھ تلاوت کرنے کا بیان
۔ (۱۶۰۵) عَنْ نَہِیْکِ بْنِ سِنَانٍ السَّلَمِیِّ أَنَّہُ أَتٰی عَبْدَاللّٰہِ بْنَ مَسْعُودٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقَالَ: قَرَأْتُ الْمُفَصَّلَ الَّلیْلَۃَ فِی رَکْعَۃٍ، فَقَالَ: ھَذًّا مِثْلَ ھَذِّ الشِّعْرِ أَوْنَثْرًا مِثْلَ نَثْرِ الدَّقَلِ، إِنَّمَا فُصِّلَ لِتُفَصِّلُوا، لَقَدْ عَلِمْتُ النَّظَائِرَ الَّتِیْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہُ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقْرِنُ عِشْرِ یْنَ سُورَۃً، الرَّحْمٰنَ وَالنَّجْمَ عَلٰی تَأْلِیْفِ ابْنِ مَسْعُودٍ کُلَّ سُورَتَیْنِ فِی رَکْعَۃِ، وَذَکَرَ الدُّخَانَ وَعَمَّ یَتَسَائَ لُونَ فِی رَکْعَۃٍ۔ (مسند احمد: ۳۹۵۸)
نہیک بن سنان سلمی کہتے ہیں: میں سیدناعبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا اور کہا: میں نے رات کو ایک رکعت میں مفصل سورتوں کی تلاوت کی ہے، انہوں نے کہا: شعروں کو پڑھنے کی طرح یا ردی کھجوروں کو بکھیرنے کی طرح تیزی تیزی سے پڑھا ہو گا۔ قرآن کو تو اس لیے مفصل بیانکیا گیا کہ تم بھی اس کے الفاظ کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھو۔ یقینا میں اُن ملتی جلتی بیس سورتوں کو جانتا ہوں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جن کو ملا کر پڑھتے تھے۔ سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی تالیف کے مطابق سورۂ رحمن اور سورۂ نجم ایک رکعت میں، پھر سورۂ دخان اور سورۂ {عَمَّ یَتَسَائَ لُونَ} کا ایک رکعت میں پڑھنے کا ذکر کیا۔
1605
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۶۰۵) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ البخاری: ۴۹۹۶، ومسلم: ۸۲۲ (انظر: ۳۶۰۷، ۳۹۵۸)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… قرآن کو تو اس لیے مفصل بیان کیا گیا کہ تم بھی اس کے الفاظ کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھو ۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ قرآن مجید کے معانی و مفاہیم کو انتہائی وضاحت کے ساتھ بیان کیا اور اس کے احکام و مسائل کو بھی ٹھوس بنیادوں پر استوار کیا گیا، اس لیے قاری کو بھی چاہیے کہ اس کلام کو ٹھہر ٹھہر کر اور سوچ سمجھ کر تلاوت کرے۔

Related Chapters

38
1
تکبیر تحریمہ کے بعد، قراء ت سے پہلے، {وَلَاالضَّآلِّیْنَ} کہنے کے بعد اور سورت (کی تلاوت)کے بعد یعنی رکوع سے پہلے سکتوں کا بیان
Musnad Ahmad
2
اس شخص کی دلیل کا بیان جو مفصل سورتوں میں تلاوت کے سجدوں کے نہ ہونے کا قائل ہے
Musnad Ahmad
3
(۶)مفصل سورتوں میں سجدۂ تلاوت کی مشروعیت کے قائلین کی دلیل کا بیان
Musnad Ahmad
4
47جس شخص کی فضیلت جو خود قرآن کے ساتھ(اس کی تلاوت کرتے ہوئے)قیام کرتا ہے اور (دوسروں کو)اس کی تعلیم دیتا ہے اور اس انسان کی فضیلت جس نے فقہ وغیرہ پر مشتمل حکمت (سنت )سیکھی ‘اس پر عمل کیا اور اس کی تعلیم دی
Sahih Muslim
5
Chapter: What Is Said In The Prostration Of Recitation
باب: سجدہ تلاوت میں آدمی کیا پڑھے؟
Jam e Tirmazi
6
بَاب سُجُود الْقُرْآن
سجدۂ تلاوت کا بیان
Mishkat
7
بَاب آدَاب التِّلَاوَة ودروس الْقُرْآن
(دروس قرآن اور تلاوت قرآن کے آداب کا بیان)
Mishkat
8
وضو کے بغیر اللہ تعالیٰ کاذکر اور قرآن کی تلاوت کرنے کے جواز کا بیان
Musnad Ahmad
9
ان لوگون کا بیان جو یہ کہتے ہیں کہ جنابت والا قرآن مجید کی تلاوت نہ کرے
Musnad Ahmad
10
حائضہ کی گود میں قرآن مجید کی تلاوت کے جواز اور ایسی خاتون کے مسجد میں داخل ہونے کے حکم کا بیان
Musnad Ahmad
11
سورۂ فاتحہ کی تلاوت کرتے وقت {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیْمِ} (پڑھنے) کا بیان
Musnad Ahmad
12
سجدہ تلاوت کی فضیلت اور اس کے مقامات کی تعداد کا بیان
Musnad Ahmad
13
سجدۂ تلاوت میں کیا پڑھا جائے؟
Musnad Ahmad
14
جہری اور سری نماز میں سجدۂ تلاوت والی آیت پڑھنا
Musnad Ahmad
15
قریب الموت کے پاس سورۂ یس کی تلاوت کرنے، شدتِ موت، روح کے عالَم نزع میت کی آنکھیں بند کرنے اور اس کے لیے دعا کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
16
قرآن مجید کے اس حصے کا بیان، جو سونے سے پہلے تلاوت کیا جاتا ہے
Musnad Ahmad
17
قرآن مجید کی تلاوت پر سکینت اور فرشتوں کے نزول کا بیان
Musnad Ahmad
18
(36) CHAPTER. The recitation of Quran or doing other invocations etc. after Hadath.
بےوضو ہونے کی حالت میں تلاوت قرآن کرنا وغیرہ اور جو جائز ہیں ان کا بیان
Sahih Bukhari
19
(1) CHAPTER. What is said about the prostrations during the recitation of the Quran and its legal way.
سجدہ تلاوت اور اس کے سنت ہونے کا بیان
Sahih Bukhari
20
(10) CHAPTER. Whoever thinks that Allah has not made prostration of recitation (i.e., during the recitation of the Quran) compulsory.
اس شخص کی دلیل جس کے نزدیک اللہ تعالیٰ نے سجدہ تلاوت کو واجب نہیں کیا
Sahih Bukhari
21
(11) CHAPTER. Whoever recited the Verse of Sajda during the Salat (prayer) and prostrated (while praying).
جس نے نماز میں آیت سجدہ تلاوت کی اور نماز ہی میں سجدہ کیا
Sahih Bukhari
22
(12) CHAPTER. Whoever dose not find a place for prostration (with the Imam) because of overcrowding.
جو شخص ہجوم کی وجہ سے سجدہ تلاوت کی جگہ نہ پائے
Sahih Bukhari
23
(15) CHAPTER. The descent of As-Sakinah (peace, reassurance and tranquillity) and angels at the time of the recitation of the Quran.
قرآن کی تلاوت کے وقت سکینت اورفرشتوں کے اترنے کا بیان
Sahih Bukhari
24
(22) CHAPTER. The recitation of the Quran by heart.
زبانی قرآنمجید کی تلاوت کرنا
Sahih Bukhari
25
(24) CHAPTER. The recitation of the Quran on an animal.
سواری پر تلاوت کرنا
Sahih Bukhari
26
(28) CHAPTER. The recitation of Quran in Tartil (clearly and in slow style).
قرآنمجید کی تلاوت صاف صاف اور ٹھہر ٹھہر کر کرنا
Sahih Bukhari
27
(35) CHAPTER. To weep while reciting the Quran.
قرآنمجید کی تلاوت کرتے وقت ( خوف الٰہی سے ) رونا
Sahih Bukhari
28
(92) CHAPTER. It is disliked for one to indulge in poetry to the extent that it diverts him from Allah's remembrance, and from (religious) knowledge and from (recitation of) the Quran.
شعروشاعری میں اس طرح اوقات صرف کرنا منع ہے کہ آدمی اللہ کی یاد اور علم حاصل کرنے اور قرآن شریف کی تلاوت کرنے سے باز رہ جائے ۔ 2
Sahih Bukhari
29
(12) CHAPTER. Taking refuge with Allah (from evil), and the recitation (of Quran) before going to bed.
سوتے وقت شیطان سے پناہ مانگنا اور تلاوت قرآن کرنا
Sahih Bukhari
30
(57) CHAPTER. The recitation of the Quran by an impious person or a hypocrite; and the fact that their voices and recitation do not exceed their throats (i.e., do not benefit them).
فاسق اور منافق کی تلاوت کا بیان اور اس کا بیان کہ ان کی آواز اور ان کی تلاوت ان کے حلق سے نیچے نہیں اترتی ۔
Sahih Bukhari
31
Chapter: The prostration of recitation
سجدہ تلاوت کا بیان
Sahih Muslim
32
قرآن مجید کی تلاوت پرسکینت کا نزول
Sahih Muslim
33
Chapter: The Virtue Of Gathering To Read Quran And To Remember Allah
قرآن کی تلاوت اور اللہ کے ذکر کو سننے سنانے کے لیے اکٹھے ہونے کی فضیلت
Sahih Muslim
34
CHAPTER: How Many Places Are There In The Qur’an Where Prostration Is Required.
باب: سجدہ تلاوت کا بیان اور یہ کہ قرآن کریم میں کتنے سجدے ہیں ؟
Sunnan Abu Dawood
35
CHAPTER: What Should One Say In Prostration?
باب: سجدہ تلاوت میں کیا پڑھے ؟
Sunnan Abu Dawood
36
قرآن کریم میں سجود تلاوت کی تعداد
Sunnan Ibn e Maja
37
Chapter: The rewards associated with the Quran
تلاوت قرآن کے ثواب کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
38
فرض نمازوں میں سجدہ تلاوت کا بیان۔
Sunnan Nisai
No related chapter matched that.

Related Hadith

73
Jam e Tirmazi
826
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ أَهَلَّ فَانْطَلَقَ يُهِلُّ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ:‏‏‏‏ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ قَالَ:‏‏‏‏ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ هَذِهِ تَلْبِيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ يَزِيدُ مِنْ عِنْدِهِ فِي أَثَرِ تَلْبِيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏لَبَّيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. نافع کہتے ہیں: عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما نے تلبیہ پکارا اور تلبیہ پکارتے ہوئے چلے، وہ کہہ رہے تھے: «لبيك اللهم لبيك لا شريك لك لبيك إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك» ۔
Nafi` narrated: When Ibn Umar would say the talbiyah he would continue saying: Labbaik Allahumma labbaik. Labbaik la sharika laka labbaik. Innal-hamda wan-ni`mata laka wal-mulk, la sharika laka (I respond to Your call O Allah! I respond to Your call, You have no partner, I respond to You call. All praise, thanks and blessings are for You. And You have no partners with You). He said: Abdullah bin Umar would say: 'This is the Talbiyah of the Messenger of Allah.' He would himself add the following after the Talbiyah of the Messenger of Allah: Labbaik labbaika wa-sa'daik, wal-khairuu fi yadaik. Labbaika war-raghba'u ilaika wal-amal ('I respond to Your call, and I am obedient to Your orders, all good is in Your Hands. I respond to Your call and the requests and deeds are for You).'
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے تھے: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ ہے، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تلبیہ کے اخیر میں اپنی طرف سے ان الفاظ کا اضافہ کرتے: «لبيك لبيك وسعديك والخير في يديك لبيك والرغباء إليك والعمل» ”حاضر ہوں تیری خدمت میں حاضر ہوں تیری خدمت میں اور خوش ہوں تیری تابعداری پر اور ہر طرح کی بھلائی تیرے ہی دونوں ہاتھوں میں ہے اور تیری طرف رغبت ہے اور عمل بھی تیرے ہی لیے ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Musnad Ahmad
152
۔ (۱۵۲)۔عَنْ مُوْسَی بْنِ عَلِیٍّ سَمِعْتُ أَبِیْ یَقُوْلُ: سَمِعْتُ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ عَمْرٍو بْنِ الْعَاصِ یَقُوْلُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((تَدْرُوْنَ مَاالْمُسْلِمُ؟)) قَالُوا: اَللّٰہُ وَ رَسُوْلُہْ أَعْلَمُ،قَالَ: ((مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِسَانِہِ وَ یَدِہِ۔)) قَالَ: ((تَدْرُوْنَ مَنِ الْمُؤْمِنُ؟)) قَالُوْا: اَللّٰہُ وَ رَسُوْلُہُ أَعْلَمُ، قَالَ: ((مَنْ أَمِنَہُ الْمُؤْمِنُوْنَ عَلٰی أَنْفُسِہِمْ وَ أَمْوَالِہِمْ وَالْمُہَاجِرُ مَنْ ہَجَرَ السُّوْئَ فَاجْتَنَبَہُ۔)) (مسند أحمد: ۷۰۱۷)
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ مسلمان کون ہے؟ انھوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: وہ مسلمان ہے کہ جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ مؤمن کون ہوتا ہے؟ انھوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مؤمن وہ ہے کہ دوسرے مؤمن اپنی جانوں اور مالوں کے سلسلے میںجس سے امن میں رہیں اور مہاجر وہ ہے جو برائی کو چھوڑ دے اور اس سے اجتناب کرے۔
Musnad Ahmad
153
۔ (۱۵۲)۔عَنْ مُوْسَی بْنِ عَلِیٍّ سَمِعْتُ أَبِیْ یَقُوْلُ: سَمِعْتُ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ عَمْرٍو بْنِ الْعَاصِ یَقُوْلُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((تَدْرُوْنَ مَاالْمُسْلِمُ؟)) قَالُوا: اَللّٰہُ وَ رَسُوْلُہْ أَعْلَمُ،قَالَ: ((مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِسَانِہِ وَ یَدِہِ۔)) قَالَ: ((تَدْرُوْنَ مَنِ الْمُؤْمِنُ؟)) قَالُوْا: اَللّٰہُ وَ رَسُوْلُہُ أَعْلَمُ، قَالَ: ((مَنْ أَمِنَہُ الْمُؤْمِنُوْنَ عَلٰی أَنْفُسِہِمْ وَ أَمْوَالِہِمْ وَالْمُہَاجِرُ مَنْ ہَجَرَ السُّوْئَ فَاجْتَنَبَہُ۔)) (مسند أحمد: ۷۰۱۷)
اور اس سے ایک اور روایت میں ہے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مسلمان وہ ہے کہ دوسرے مسلمان جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں اور مہاجر وہ ہے جو ان امور کو چھوڑ دے، جن سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے۔
Musnad Ahmad
187
۔ (۱۸۷)۔عَنْ أَبِیْ نَضْرَۃَ قَالَ: مَرِضَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَدَخَلَ عَلَیْہِ أَصْحَابُہُ یَعُوْدُوْنَہُ فَبَکبٰی، فَقِیْلَ لَہُ مَا یُبْکِیْکَ یَا عَبْدَاللّٰہِ؟ أَلَمْ یَقُلْ لَکَ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((خُذْ مِنْ شَارِبِکَ ثُمَّ أَقِرَّہُ حَتَّی تَلْقَانِیْ)) قَالَ: بَلٰی، وَلَکِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی قَبَضَ قَبْضَۃً بِیَمِیْنِہِ فقَالَ: ہٰذِہِ لِہٰذِہِ وَلَا أُبَالِیْ وَ قَبَضَ قَبْضَۃً أُخْرٰی یَعْنِیْ بِیِدِہِ الْأُخْرٰی فَقَالَ: ہٰذِہِ لِہٰذِہِ وَلَا أُبَالِیْ۔)) فَـلَا أَدْرِیْ فِیْ أَیِّ الْقَبْضَتَیْنِ أَنَا۔ (مسند أحمد:۱۷۷۳۷)
ابو نضرہ کہتے ہیں: ایک صحابی بیمار ہوا، جب اس کے ساتھی اس کی تیمارداری کرنے کے لیے اس کے پاس گئے تو وہ رونے لگ گیا، کسی نے اس سے کہا: اللہ کے بندے! تو کیوں رو رہا ہے؟ کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے تجھے یہ نہیں فرمایا تھا کہ اپنی مونچھوں کو کاٹ دے، پھر اسی حالت پر برقرار رہنا، یہاں تک کہ مجھے آ ملے۔ ؟ اس نے کہا: جی کیوں نہیں، ایسے ہی ہوا تھا، لیکن میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا تھا: بیشک اللہ تعالیٰ نے دائیں ہاتھ سے مٹھی بھری اور کہا: یہ جنت کے لیے ہیں اور میں بے پروا ہوں، پھر دوسرے ہاتھ سے ایک مٹھی بھری اور کہا: یہ جہنم کے لیے ہیں اور مجھے کوئی پروا نہیں ہے۔ اب میں یہ نہیں جانتا کہ میں کون سی مٹھی میں تھا۔
Musnad Ahmad
362
۔ (۳۶۲) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ)۔ أَنَّہُ کَانَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیْلَۃَ الْجِنِّ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((یَا عَبْدَاللّٰہِ! أَمَعَکَ مَائٌ؟)) قَالَ: مَعِیَ نَبِیْذٌ فِیْ اِدَاوَۃٍ، فَقَالَ: ((اُصْبُبْ عَلَیَّ۔)) فَتَوَضَّأَ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: (یَاعَبْدَ اللّٰہِ بْنَ مَسْعُوْدٍ! شَرَابٌ طَہُوْرٌ)) (مسند أحمد)
۔ (تیسری سند) سیدنا ابن مسعود ؓ جنوں والی رات کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ تھے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان سے فرمایا: عبد اللہ! کیا تمہارے پاس پانی ہے؟ انھوں نے کہا: میرے پاس تو ایک برتن میں نبیذ ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مجھ پر بہاؤ۔ پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے وضو کیا۔نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اے عبد اللہ بن مسعود! یہ پاکیزہ مشروب ہے۔
Musnad Ahmad
663
۔ (۶۶۳)۔حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا سُرَیْجُ بْنُ نُعْمَانَ قَالَ: ثَنَا عَبْدُاللّٰہِ بْنُ وَہْبٍ الْمِصْرِیُّ عَنْ عَمْرٍوبْنِ الْحَارِثِ بْنِ یَعْقُوبَ الْأَنْصَارِیِّ أَنَّ حِبَّانَ بْنَ وَاسِعٍ الْأَنْصَارِیَّ حَدَّثَہُ أَنَّہُ سَمِعَ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ زَیْدِ بْنِ عَاصِمٍ الْمَازِنِیَّ یَذْکُرُ أَ نَّہُ رَاٰی رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَوَضَّأَ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثُمَّ غَسَلَ وَجْہَہُ ثَـلَاثًا وَیَدَہُ الْیُمْنٰی ثَـلَاثًا وَالْأُخْرٰی ثَـلَاثًا وَمَسَحَ رَأْسَہُ بِمَائٍ غَیْرِ فَضْلِ یَدِہِ وَغَسَلَ رِجْلَیْہِ حَتّٰی أَنْقَاہُمَا۔ (مسند أحمد: ۱۶۵۸۱)
سیدنا عبد اللہ بن زید بن عاصمؓ بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو اس طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے کلی کی، ناک میں پانی چڑھایا، پھر تین بار چہرہ دھویا، اس کے بعد دایاں بازو تین بار اور پھر بایاں باز تین مرتبہ دھویا، پھر سر کا مسح اس پانی سے کیا جو ہاتھوں سے بچا ہوا نہیں تھا، پھر دونوں پاؤں کو دھویا، یہاں تک کہ ان کو صاف کر دیا۔
Musnad Ahmad
715
۔ (۷۱۵)۔عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیٰی بْنِ حِبَّانَ الْأَنْصَارِیِّ ثُمَّ الْمَازِنِیِّ مَازِنِ بَنِی النَّجَّارِ عَنْ عُبَیْدِاللّٰہِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ؓ قَالَ: قُلْتُ لَہُ: أَرَأَیْتَ وُضُوئَ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ لِکُلِّ صَلَاۃٍ طَاہِرًا کَانَ أَوْ غَیْرَ طَاہِرٍ عَمَّ ہُوَ؟ فَقَالَ: حَدَّثَتْہُ أَسْمَائُ بِنْتُ زَیْدِ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ حَنْظَلَۃَ بْنِ أَبِیْ عَامِرِ بْنِ الْغَسِیْلِ حَدَّثَہَا أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ أُمِرَ بِالْوُضُوئِ لِکُلِّ صَلَاۃٍ طَاہِرًا کَانَ أَوْ غَیْرَ طَاہِرٍ، فَلَمَّا شَقَّ ذَالِکَ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أُمِرَ بِالسِّوَاکِ عِنْدَ کُلِّ صَلَاۃٍ وَوُضِعَ عَنْہُ الْوُضُوئُ الَّا مِنْ حَدَثٍ، قَالَ: فَکَانَ عَبْدُاللّٰہِ یَرٰی أَنَّ بِہِ قُوَّۃً عَلٰی ذَالِکَ کَانَ یَفْعَلُہُ حَتّٰی مَاتَ۔ (مسند أحمد: ۲۲۳۰۶)
عبید اللہ بن عبد اللہ بن عمر کہتے ہیں: میں نے اس سے پوچھا کہ اس بارے میں تیرا خیال ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ باوضو ہوں یا بے وضو، وہ ہر نماز کے لیے وضو کرتے ہیں، ایسے کیوں ہے؟ اس نے کہا: سیدہ اسماءؓ نے ان کو بیان کیاکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ باوضو ہوتے یا بے وضو، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو ہر نماز کے لیے وضو کرنے کا حکم دیا گیا تھا، لیکن جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر یہ حکم گراں گزرا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو ہر نماز کے لیے مسواک کا حکم دے دیا گیا اور وضو کی رخصت دے دی گئی، الا یہ کہ بے وضو ہوں۔ تو سیدنا عبد اللہؓ یہ سمجھتے تھے کہ ان میں ہر نماز کے وضو کرنے کی طاقت ہے، اس لیے وہ اسی طرح عمل کرتے رہے، یہاں تک کہ فوت ہو گئے۔
Musnad Ahmad
891
۔ (۸۹۱)۔ عَنْ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ قَالَ: بَلَغَ عَائِشَۃَ أَنَّ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ عَمْرٍو یَأْمُرُ النِّسَائَ اِذَا اغْتَسَلْنَ أَنْ یَنْقُضْنَ رُؤُوْسَہُنَّ، فَقَالَتْ: یَا عَجَبًا لِابْنِ عَمْرٍو، ہُوَ یَأْمُرُ النِّسَائَ اِذَا اغْتَسَلْنَ أَنْ یَنْقُضْنَ رُؤُوْسَہُنَّ، اَع فَـلَا یَأْمُرُہُنَّ أَنْ یَحْلِقْنَ، لَقَدْ کُنْتُ أَنَا وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَغْتَسِلُ مِنْ اِنَائٍ وَاحِدٍ فَمَا أَزِیْدُ عَلٰی أَنْ أُفْرِغَ عَلٰی رَأْسِی ثَلَاثَ اِفْرَاغَاتٍ۔ (مسند أحمد: ۲۴۶۶۱)
عبیدہ بن عمیر کہتے ہیں: جب سیدہ عائشہ ؓ کو یہ بات پہنچی کہ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ؓعورتوں کو یہ حکم دیتے ہیں کہ وہ غسل کے وقت اپنے بال کھول دیا کریں، تو انھوں نے کہا: ابن عمرو پر بڑا تعجب ہے، وہ عورتوں کو غسل کے وقت بال کھول دینے کا حکم دیتا ہے، وہ یہ حکم کیوں نہیں دیتا کہ خواتین اپنے سر ہی منڈوا دیں، مسئلہ تو یوں ہے کہ میں اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ایک برتن میں اکٹھا غسل کرتے تھے، میں اپنے سر پر صرف تین بار پانی ڈالتی تھی۔
Musnad Ahmad
1059
۔ (۱۰۵۹)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔ عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ عَنْ مُطَرِّفٍ قَالَ: قَعَدْتُ اِلَی نَفَرٍ مِنْ قُرَیْشٍ، فَجَائَ رَجُلٌ فَجَعَلَ یُصَلِّی یَرْکَعُ وَیَسْجُدُ ثُمَّ یَقُوْمُ ثُمَّ یَرْکَعُ وَیَسْجُدُ لَا یَقْعُدُ، فَقُلْتُ: وَاللّٰہِ! مَا أَرٰی ھٰذَا یَدْرِیْ یَنْصَرِفُ عَلٰی شَفْعٍ أَوْ وَتْرٍ، فَقَالُوْا: أَلَا تَقُوْمُ اِلَیْہِ فَتَقُوْلُ لَہُ، قَالَ: فَقُلْتُ: یَا عَبْدَاللّٰہِ! مَا أُرَاکَ تَدْرِیْ تَنْصَرِفُ عَلٰی شَفْعٍ أَوْ وَتْرٍ، قَالَ: وَلٰـکِنَّ اللّٰہَ یَدْرِیْ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ سَجَدَ لِلّٰہِ سَجْدَۃً کَتَبَ اللّٰہُ لَہُ بِہَا حَسَنَۃً وَحَطَّ بِہَا عَنْہُ خَطِیْئَۃً وَرَفَعَ لَہُ بِہَا دَرَجَۃً۔)) فَقُلْتُ: مَنْ أَنْتَ؟ فَقَالَ: أَبُوْذَرٍّ، فَرَجَعْتُ اِلٰی أَصْحَابِیْ فَقُلْتُ: جَزَاکُمُ اللّٰہُ مِنْ جُلَسَائِ شَرًّا، أَمَرْتُمُوْنِیْ أَنْ أُعَلِّمَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم۔ (مسند أحمد: ۲۱۶۴۳)
۔ (دوسری سند) مطرف کہتے ہیں: میں کچھ قریشی افراد کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، پس ایک آدمی آ کر نماز پڑھنے لگا اور رکوع و سجود کرنے لگا، پھر نماز پڑھنے لگا اور رکوع و سجود کرنے لگا اور بیٹھانہیں۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! میرا خیال ہے کہ اس بندے کو تو اتنا بھی پتہ نہیں ہو گا کہ اس نے جفت رکعتیں پڑھیں یا طاق۔ لوگوں نے کہا: کیا تم اس کی طرف جا کر اس کو کہہ نہیں دیتے۔ پس میں نے کہا: اے اللہ کے بندے! میرا تو یہ خیال ہے کہ تجھے یہ بھی پتہ نہیں ہو گا کہ تو نے جفت رکعتیں پڑھ لی ہیں یا طاق۔ اس نے کہا: لیکن اللہ تعالیٰ تو جانتا ہے، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے اللہ تعالیٰ کیلئے سجدہ کیا، اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے اس کیلئے ایک نیکی لکھ دے گا، ایک برائی مٹا دے گا اور ایک درجہ بلند کر دے گا۔ میں نے کہا: تم کون ہو؟ اس نے کہا: میں ابو ذر ہوں، یہ سن کر میں اپنے دوستوں کی طرف واپس آ گیا اور کہا: اللہ تعالیٰ تم کو بیٹھنے والوں کی طرف سے برا بدلہ دے، تم نے مجھے حکم دیا کہ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے صحابہ میں سے ایک فرد کو تعلیم دوں۔