۔ (۲۳۳)۔عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((لَا حَسَدَ اِلَّا فِیْ اثْنَتَیْنِ، رَجُلٌ آتَاہُ اللّٰہُ مَالًا فَسَلَّطَہُ عَلَی ہَلَکَتِہِ فِیْ الْحَقِّ، وَرَجُلٌ آتاہ اللّٰہُ حِکْمَۃً فَہُوَ یَقْضِی بِہَا وَیُعَلِّمُہَاالنَّاسَ۔)) (مسند أحمد: ۳۶۵۱)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صرف دو چیزوں میں رشک ہے، ایک وہ آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور پھر اس کو حق کے لیے بھرپور خرچ کرنے کی توفیق بھی دی اور دوسرا وہ آدمی کہ اللہ تعالیٰ نے جس کو حکمت (یعنی علمِ نافع) عطا اور وہ اس کے ذریعے فیصلے کرتا ہے اور لوگوں کو اس کی تعلیم دیتا ہے۔
Takhreej
(۲۳۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۷۳، ۱۴۰۹، ومسلم: ۸۱۶ (انظر: ۳۶۵۱)
Explanation
فوائد: …حسد کا اطلاق دو چیزوں پر ہوتا ہے: (۱) کسی شخص کے بارے میں یہ تمنا کرنا کہ وہ فلاں نعمت سے محروم ہو جائے، یہ حرام ہے۔ (۲) کسی کی نعمت کو دیکھ کر یہ تمنا کرنا کہ اسے بھی یہ نعمت مل جائے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے، اس کو رشک کہتے ہیں اور یہ ہر اس نعمت کے بارے میں کیا جا سکتا ہے ، جس کا گناہ سے تعلق نہ ہو ۔
اس حدیث میں رشک کو صرف دو چیزوں کے ساتھ پابند کیا گیا ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ قابل تعریف اور عظمت و فضیلت والا رشک ان دو چیزوں میں ہی ہوتا ہے۔
233
Sahih