۔ (۲۵۱)۔عَنْ عَیَاضٍ بْنِ حِمَارٍالْمُجَاشِعِیِّؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فِیْ خُطْبَۃٍ خَطَبَہَا: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ أَمَرَنِیْ أَنْ أُعَلِّمَکُمْ مَا جَہِلْتُمْ مِمَّا عَلَّمَنِیْ یَوْمِیْ ہٰذَا، وَأَنَّہُ قَالَ: اِنَّ کُلَّ مَا نَحَلْتُہُ عِبَادِیْ فَہُوَ لَہُمْ حَلَالٌ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۵۲۹)
سیدنا عیاض بن حمار مجاشعی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک خطبے میں ارشادفرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں ان امور کی تعلیم دے دوں، جن سے تم جاہل ہو، ان امور میں سے جو اس نے مجھے آج سکھائے ہیں، نیز اس نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ہر وہ چیز جو میںنے اپنے بندوںکو عطا کی ہے، وہ ان کے لیے حلال ہے۔
Takhreej
(۲۵۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۸۶۵ (انظر: ۱۸۳۳۹)
Explanation
فوائد: …نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کا مقصد یہی تھا کہ شرعی علم کو عام کریں، دوسری نصوص میں حرام اشیاء کی تفصیل موجود ہے۔
251
Sahih