TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے فرمان اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اس کو دین میں سمجھ عطا کر دیتا ہے۔ کا بیان - آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے فرمان اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اس کو دین میں سمجھ عطا کر دیتا ہے۔ کا بیان - علم کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 2 of علم کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 2 of 18 · 7 Hadith
۔ (۲۴۰)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ یُرِدِ اللّٰہُ بِہِ خَیْرًا یُفَقِّہْہُ فِی الدِّیْنِ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۹۰)
سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ خیر و بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اس کو دین میں سمجھ عطا کر دیتا ہے۔
Takhreej
(۲۴۰) تخریج: اسنادہ صحیح ۔ أخرجہ الترمذی: ۲۶۴۵(انظر: ۲۷۹۰)
Explanation
فوائد: …فقہ سے مراد دین کے علوم کا فہم ہے اور اِن علوم کا سرچشمہ قرآن اور حدیث ہیں، اللہ تعالیٰ جس کو خیر و بھلائی عطا کرنا چاہتا ہو، وہ اس کو شرعی علم عطا کر دیتا ہے اور یہی وہ علم ہے ، جس کی وجہ سے دل میں خشیت پیدا ہوتی ہے اور پھر اس کا اثرات اعضاء و جوارح پر نظر آنے لگتے ہیں۔ اچھی طرح ذہن نشین کر لیں کہ احادیث ِ مبارکہ میں فقہ سے مراد اصطلاحی اور عرفی فقہ نہیں ہوتی، پھر فقہ کی جو مروّجہ صورت لوگوں کے سامنے ہے اور جس پر بعض لوگوں کو بڑا ناز بھی ہے، اس صورت نے تو لوگوں کو قرآن و حدیث اور اس کے فہم سے دور کر دیا ہے۔ ان احادیث میں قرآن و حدیث کا علم رکھنے والوں کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے، ایسے لوگوں کو چاہیے کہ وہ صبر کے ساتھ اپنے مشن کو جاری رکھیں اور حرص و طمع اور تہمت گاہوں سے اپنے دامن کو محفوظ رکھیں، انجام خیر ایسے لوگوں کا منتظر ہے۔
240
Sahih
۔ (۲۴۱)۔عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ أَبِیْ سُفْیَانَ(ؓ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوَہُ۔ (مسند أحمد: ۱۷۰۵۵)
سیدنا معاویہ بن ابو سفیان ؓ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔
Takhreej
(۲۴۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۷۱، ۳۱۱۶، ومسلم: ۱۰۳۷(انظر: ۱۶۹۳۱)
241
Sahih
۔ (۲۴۲)۔عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ وَزَادَ: ((وَ اِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ وَیُعْطِی اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند أحمد: ۷۱۹۴)
سیدنا ابو ہریرہؓ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس میں یہ زائد بات ہے: صرف اور صرف میں تو تقسیم کرنے والا ہوں اور عطا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے۔
Takhreej
(۲۴۲) تخریج: صحیح علی شرط الشیخین ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۲۰(انظر: ۷۱۹۴)
Explanation
فوائد: …یعنی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تو علم شرعی کو تقسیم کرنے والے ہیں، کبھی قرآن کی تعلیم دیتے ہیں اور کبھی احادیث بیان کرتے ہیں، رہا مسئلہ فہم و فقہ اور استدلال و استنباط کا، تو یہ اللہ تعالیٰ کی عطا ہے اور اُس نے اِس کو کسی زمانے یا شخصیت کے ساتھ خاص نہیں کیا۔
242
Sahih
۔ (۲۴۳)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا رَوْحٌ قَالَ: ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ جَبْلَۃَ بْنِ عَطِیَّۃَ عَنِ ابْنِ مُحَیْرِیْزٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ (بْنِ أَبِیْ سُفْیَانؓ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا أَرَادَ اللّٰہُ بِعَبْدٍ خَیْرًا یُفَقِّہْہُ فِی الدِّیْنِ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۹۵۹)
سیدنا معاویہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ خیر و بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو دین میں سمجھ بوجھ عطا کر دیتا ہے۔
Takhreej
(۲۴۳) تخریج: اسنادہ صحیح ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۲۱(انظر: ۱۶۸۳۴)
243
Sahih
۔ (۲۴۳)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا رَوْحٌ قَالَ: ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ جَبْلَۃَ بْنِ عَطِیَّۃَ عَنِ ابْنِ مُحَیْرِیْزٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ (بْنِ أَبِیْ سُفْیَانؓ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا أَرَادَ اللّٰہُ بِعَبْدٍ خَیْرًا یُفَقِّہْہُ فِی الدِّیْنِ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۹۵۹)
عبد اللہ بن امام احمد کہتے ہیں: میں نے اس حدیث کے ساتھ متصل یہ کلام بھی اپنے باپ کی کتاب میں ان کے ہاتھ کے ساتھ لکھا ہوا پایا اور انھوں نے اس پر لکیر بھی لگائی ہے، لیکن اب میں یہ نہیں جانتا کہ کیا انھوں نے مجھ پر یہ پڑھا تھا یا نہیں، وہ کلام یہ ہے: اور بیشک سننے والے اور اطاعت کرنے والے کے خلاف کوئی حجت نہیں ہے اور سننے والے اور نافرمانی کرنے والے کے حق میں کوئی حجت نہیں ہے۔
Takhreej
(۲۴۴) تخریج: اسنادہ صحیح ۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۱۹/ ۷۸۵ (انظر: ۱۶۸۷۵)
244
Sahih
۔ (۲۴۵)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((النَّاسُ مَعَادِنُ، فَخَیَارُہُمْ فِی الْجَاہِلِیِّۃِ خِیَارُہُمْ فِی الْاِسْلَامِ اِذَا فَقِہُوْا۔)) (مسند أحمد: ۱۵۰۰۸)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: لوگ بھی کان ہوتے ہیں، پس جو (خاندان اور قبیلے) جاہلیت کے زمانے میں بہتر شمار کیے جاتے ہیں، وہی زمانۂ اسلام میں بھی بہتر ہوتے ہیں، بشرطیکہ دین میں فقہ اور سمجھ بوجھ حاصل کر لیں۔
Takhreej
(۲۴۵) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم (انظر: ۱۴۹۴۵)
Explanation
فوائد: …جیسے سونے، چاندی اور دوسری قیمتی اور گھٹیاں چیزوںکی کانیں ہوتی ہیں، اسی طرح بعض خاندانوں کے لوگ عمدہ، شریف النفس اور بہادر ہوتے ہیں اور بعض قبیلوں کے لوگ نامرد، گھٹیا اور بخیل قسم کے ہوتے ہیں، لیکن اگر اعلی خاندان والے بھی بے علم اور جاہل ہوں تو پھر خاندانی شرافت سے کچھ نہیں ہوتا، اس کا مطلب یہ ہوا کہ گھٹیا خاندان کا ایک عالم، عالی خاندانوں کے جاہلوں سے بہتر ہوتا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اسلام میں علوم شرعیہ کی فقہ اور فہم برتری کی علامت قرار دے رہے ہیں، لیکن افسوس اس بات پر ہے کہ ہم جس دور سے گزر رہے ہیں، اس کے وڈیروں نے قرآن و حدیث کے فہم کو عزت کی علامت ہی نہیں سمجھا، ظاہر پرستی اور مادیت پرستی اس قدر غالب آ گئی کہ جس ڈگری کی بنا پر تنخواہ زیادہ ملتی ہے، اس کو اعزاز سمجھا جا رہا ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ جو لوگ بہت کم معاوضے لے کر مساجد اور مدارس میں دینِ اسلام کے لیے خدمات سرانجام دے رہے، ان کو بھی یہی مشورے دیئے جاتے ہیں کہ وہ اپنے فیلڈ کو تبدیل کر لیں، تاکہ دنیا بہتر ہو جائے۔
245
Sahih
۔ (۲۴۶)۔عَنْ أَبِیْ الدَّرْدَائِؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((فَضْلُ الْعَالِمِ عَلَی الْعَابِدِ کَفَضْلِ الْقَمَرِ عَلَی سَائِرِ الْکَوَاکِبِ، اِنَّ الْعُلَمَائَ ہُمْ وَرَثَۃُ الْأَنْبِیَائِ، لَمْ یَرِثُوْا دِیْنَارًا وَلَا دِرْہَمًا وَاِنّمَا وَرِثُوْا الْعِلْمَ، فَمَنْ أَخَذَہُ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۰۵۸)
سیدنا ابو درداءؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: علم والے کو عبادت گزار پر اتنی فضیلت حاصل ہے، جیسے چاند کی بقیہ ستاروں پر ہے، بیشک اہل علم ہی انبیائے کرام کے وارث ہیں، انھوں نے ورثے میں درہم و دینار نہیں لیے، بلکہ علم وصول کیا، پس جس شخص نے علم حاصل کیا، اس نے (نبوی میراث سے) بھرپور حصہ لے لیا۔
Takhreej
(۲۴۶) تخریج: حسن لغیرہ ۔ أخرجہ ابوداود ۳۶۴۲، والترمذی: ۲۶۸۲، وابن ماجہ: ۲۳۹ (انظر: ۲۱۷۱۵)
Explanation
فوائد: …قرآن و حدیث کا علم، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی میراث ہے، کتنے خوش بخت ہیں وہ لوگ، جو اس میراث سے بڑی مقدار میں حصہ حاصل کرتے ہیں، لیکن اس موقع میں یہ گزارش ضرور کروں گا کہ اہل علم لوگ اپنی اصلاح کریں، اپنے اندر عاجزی و انکساری پیدا کریں، لوگوں کے سرمائیوں سے مستغنی ہو جائیں، صبر کے ساتھ شب وروز گزاریں، ہم کوئی اصحاب ِ صفہ سے برتر نہیں ہے کہ ہمارے لیے فوراً روسیع روزیوں کے دروازے کھل جائیں اور ان کا علم اُن کے وجود سے جو تقاضے کرتا ہے، وہ ان کو پورا کریں، حقیقی عزت اور بقا اسی شعبے میں ہے۔
246
Sahih

Chapters

18
01
علم اور علماء کی فضیلت کا بیان
7 Hadith
02
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے فرمان اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اس کو دین میں سمجھ عطا کر دیتا ہے۔ کا بیان
7 Hadith
03
حصول علم کے لیے سفر کرنے اور طالب علم کی فضیلت کا بیان
4 Hadith
04
علم سکھانے پر رغبت دلانے اور معلم کے آداب کا بیان
8 Hadith
05
علم کی مجالس اور ان کے آداب اورمتعلم کے آداب کا بیان
4 Hadith
06
عربی کے علاوہ کوئی اور زبان سیکھنے کا بیان
1 Hadith
07
بغیر ضرورت کے علم کے بارے میں کثرت ِ سوال کی مذمت کا بیان
8 Hadith
08
دین و دنیا کے لیے ضرورت پڑنے والی ہر چیز کے بارے میں واجبی طور پر سوال کرنے کا بیان
1 Hadith
09
علم حاصل کرنے کے بعد اس کو چھپا لینے والے یا اس پر عمل نہ کرنے والے یا کسی غیر اللہ کے لیے وہ علم حاصل کرنے والی کی مذمت کابیان
6 Hadith
10
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی حدیث کی تبلیغ اور اس کو جیسے سنا، ایسے ہی نقل کر دینے کی فضیلت کا بیان
4 Hadith
11
روایت ِ حدیث میں محتاط رہنے اور الفاظ کو اسی طرح عمدگی کے ساتھ ادا کرنے کا بیان، جیسے وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے صادر ہوئے
7 Hadith
12
صحیح اور ضعیف کے سلسلے میں اہلِ حدیث کی معرفت اور علی اکمل الوجوہ ثابت ہونے والی حدیث لینے کا بیان
3 Hadith
13
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی حدیث کو لکھنے سے منع کرنے اور اس کی رخصت دینے کا بیان
3 Hadith
14
حدیث لکھنے کی رخصت کا بیان
4 Hadith
15
اہل کتاب سے ان کی روایات بیان کرنے کی نہی اور اس کی رخصت کا بیان
4 Hadith
16
اہل کتاب سے روایات بیان کرنے کی رخصت کا بیان
2 Hadith
17
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر جھوٹ بولنے کے معاملے میں سختی کا بیان
9 Hadith
18
علم کے اٹھائے جانے کا بیان
7 Hadith
No chapter matched that.