TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

صحیح اور ضعیف کے سلسلے میں اہلِ حدیث کی معرفت اور علی اکمل الوجوہ ثابت ہونے والی حدیث لینے کا بیان - صحیح اور ضعیف کے سلسلے میں اہلِ حدیث کی معرفت اور علی اکمل الوجوہ ثابت ہونے والی حدیث لینے کا بیان - علم کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 12 of علم کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 12 of 18 · 3 Hadith
۔ (۲۹۰)۔عَنْ عَبْدِالْمَلِکِ بْنِ سَعِیْدِ بْنِ سُوَیْدٍ عَنْ أَبِیْ حُمَیْدٍ وَعَنْ أَبِیْ أَسِیْدٍؓ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا سَمِعْتُمُ الْحَدِیْثَ عَنِّیْ تَعْرِفُہُ قُلُوْبُکُمْ وَتَلِیْنُ لَہُ أَشْعَارُکُمْ وَأَبْشَارُکُمْ وَتَرَوْنَ أَنَّہُ مِنْکُمْ قَرِیْبٌ فَأَنَا أَوْلَاکُمْ بِہِ، وَاِذَا سَمِعْتُمُ الْحَدِیْثَ عَنِّیْ تُنْکِرُہُ قُلُوْبُکُمْ وَتَنْفِرُ مِنْہُ أَشْعَارُکُمْ وَأَبْشَارُکُمْ وَتَرَوْنَ أَنَّہُ مِنْکُمْ بَعِیْدٌ فَأَنَا أَبْعَدُکُمْ مِنْہُ۔)) (مسند أحمد: ۲۴۰۰۵)
سیدنا ابو حمید اور سیدنا ابو اسید ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب تم میری طرف منسوب حدیث سنو (تو دیکھو کہ آیا) تمہارے دل اس سے مانوس ہو رہے ہیں اور تمہارے بال اور چمڑے اس کے لیے نرم ہو رہے ہیں اور تم دیکھ رہے ہو کہ وہ بات تم بھی کر سکتے ہو تو میں ایسی (حدیث بیان کرنے کا) بالاولی مستحق ہوں گا۔ لیکن اگر تم دیکھو کہ جو حدیث میری طرف منسوب ہے، تمہارے دل اس کا انکار کر رہے ہیں اور تمہارے بال اور چمڑے اس سے نفرت کر رہے ہیں اور تم دیکھ رہے ہو کہ تم بھی (اس کی قسم کی) بات نہیں کر سکتے، تو میں اس سے سب سے زیادہ دور رہنے والا ہوں گا۔
Takhreej
(۲۹۰) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم ۔ أخرجہ البزار: ۱۸۷، وابن حبان: ۶۳ (انظر: ۲۳۶۰۶)
290
Sahih
۔ (۲۹۱)۔عَنْ عَلِیٍّؓ قَالَ: اِذَا حَدَّثْتُمْ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: اِذَا حَدَّثْتُکُمْ) عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَدِیْثًا فَظُنُّوْا بِہِ الَّذِیْ أَہْدٰی وَالَّذِیْ ہُوَ أَہْیَا، وَالَّذِیْ ہُوَ أَتْقٰی۔ (مسند أحمد: ۹۸۵)
سیدنا علی ؓ نے کہا: جب تم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے حدیث بیان کرو، ایک روایت میں ہے: جب میں تم کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے کوئی حدیث بیان کروں تو اس بات کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی حدیث خیال کرو جو زیادہ ہدایت والی ہو، ہیئت میں زیادہ اچھی ہو اور زیادہ تقوے والی ہو۔
Takhreej
(۲۹۱) تخریج: صحیح ۔أخرجہ ابن ماجہ: ۲۰ (انظر: ۹۸۵)
291
Sahih
۔ (۲۹۲) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ)۔ بِنَحْوِہِ وَ فِیْہِ: فَظُنُّوْا بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَہْنَاہُ وَ اَتْقَاہُ وَأَہْدَاہُ۔ (مسند أحمد: ۹۸۷)
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں: جو بات زیادہ خوشگوار ، زیادہ تقویٰ والی اور زیادہ ہدایت والی ہو، اس کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی حدیث خیال کرو۔
Takhreej
(۲۹۲) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد: …سب سے پہلے دو باتیں عرض کرنا ضروری ہیں: (۱) صحابہ کرام کے دور سے لے کر آج تک عام طور پر معتبر محدثین کا یہی قانون رہا کہ سند کی روشنی میں حدیث کو پرکھا جائے۔ جہاں کہیں بھی کوئی حدیث پیش کی گئی، اس کی سند کا مطالبہ کیا گیا اور صحیح سند ثابت ہونے کے بعد ہر کسی نے اس کو بحیثیت ِ حدیث قبول کر لیا۔ صحابہ کرام کا تو معیار ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی مقدس زبان تھی، نہ کہ ان کی فطرت و طبیعت۔ ابو بکر کو صدیق کا لقب ملنے کی وجہ یہ تھی کہ انھوں نے بلا تردّد اسرا و معراج کا سفر تسلیم کر لیا تھا۔ (۲) قرآن مجید اور متواتر احادیث میں بھی ایسے امور موجود ہیں، جو کئی لوگوں کے لیے طبعی اور فطرتی لحاظ سے نامنظور ہیں۔ وہ صرف اس بنا پر ان کی صداقت و حقانیت کو تسلیم کرتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ارشادات و فرمودات ہیں۔ قارئین کرام! اس لیے ایک خاص طبقے کو مذکورہ بالا حدیث ِ مبارکہ کا مخاطَب سمجھا جائے گا، یعنی وسیع علم حدیث سے گہری دلچسپی رکھنے والے محدثین اور فقہاء، جن کا اوڑھنا بچھونا حدیث تھا، جو احادیث ِ مبارکہ کا ذوق رکھنے والے اور ان کے ذوق کو پہچاننے والے تھے۔ ایسے لوگ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی طرف منسوب بات کے مزاج کو دیکھ کر اس کے صحیح یا غیر صحیح ہونے کا دعوی کرتے ہیں، پھر جب تحقیق کرتے ہیں تو ان کا دعوی درست ثابت ہو جاتا ہے۔ واللہ اعلم۔ حسان عبد المنان سیدنا علی ؓکے آنے والے قول پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: یعنی وہ حدیث جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌کی کامل ہدایت کے زیادہ لائق، آپ سے زیادہ موافقت کرنے والی اور آپ کے تقوی کے زیادہ مناسب ہے۔ مفہوم یہ ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌کے فرامین درستی اور خیر خواہی پر مشتمل ہونے کی وجہ سے واجب العمل ہیں، کیونکہ ان کا منبع اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور لوگوں تک پہنچانے والے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ہیں، اس لیے اگر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌سے کوئی ایسی حدیث منقول ہو، جس میں دو احتمال پائے جاتے ہوں، تو جو احتمال مقام نبوت کے زیادہ مناسب اور کاملیت والا ہو گا، اس حدیث کو اسی احتمال پر محمول کیا جائے گا۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ ایک آدمی نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌سے اپنی بیوی کی یوں شکایت کی: ((اِنَّ امْرَأَتِیْ لَاتَرُدُّ یَدَ لَامِسٍ۔)) (میری بیوی چھونے والے کا ہاتھ نہیں روکتی)۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌نے فرمایا: اس کو طلاق دے دو۔ اس نے پھر کہا: میں تو اس سے بڑی محبت کرتا ہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌نے فرمایا: تو پھر اسے اپنے پاس روکے رکھ۔ سوال یہ ہے کہ چھونے والے کا ہاتھ نہیں روکتی کا مفہوم کیا ہے؟ دو قول بیان کیے گئے ہیں: (۱) جو آدمی اس سے جو چیز مانگتا ہے، وہ اسے دے دیتی ہے ۔ (۲) وہ ہر زانی کو زنا کرنے کا موقع دیتی ہے۔ امام احمد اور جمہور اہل علم کی رائے یہ ہے کہ پہلا معنی ہی درست اور زیادہ مناسب ہے، کیونکہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌اپنے صحابی کو یہ حکم دیں کہ وہ ایسی عورت کو اپنے عقد میں بحال رکھے جو زنا کرتی ہے۔ (بلوغ الامانی من اسرار الفتح الربانی: ۱/ ۹۸، ۹۹) خلاصۂ کلام یہ ہے کہ جو حدیث ِ مبارکہ سند کے ساتھ ثابت ہو جائے لیکن معنی کے لحاظ سے اس سے مختلف احتمالات نکالے جا سکتے ہوں، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی ذات ِ مقدسہ اور صفات ِ حسنہ کو سامنے رکھ کر اچھے احتمال کو ترجیح دینی چاہیے۔ واللہ اعلم بالصواب (رحم اللہ السلف الصالح رحمۃ واسعۃ)۔
292
Sahih

Chapters

18
01
علم اور علماء کی فضیلت کا بیان
7 Hadith
02
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے فرمان اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اس کو دین میں سمجھ عطا کر دیتا ہے۔ کا بیان
7 Hadith
03
حصول علم کے لیے سفر کرنے اور طالب علم کی فضیلت کا بیان
4 Hadith
04
علم سکھانے پر رغبت دلانے اور معلم کے آداب کا بیان
8 Hadith
05
علم کی مجالس اور ان کے آداب اورمتعلم کے آداب کا بیان
4 Hadith
06
عربی کے علاوہ کوئی اور زبان سیکھنے کا بیان
1 Hadith
07
بغیر ضرورت کے علم کے بارے میں کثرت ِ سوال کی مذمت کا بیان
8 Hadith
08
دین و دنیا کے لیے ضرورت پڑنے والی ہر چیز کے بارے میں واجبی طور پر سوال کرنے کا بیان
1 Hadith
09
علم حاصل کرنے کے بعد اس کو چھپا لینے والے یا اس پر عمل نہ کرنے والے یا کسی غیر اللہ کے لیے وہ علم حاصل کرنے والی کی مذمت کابیان
6 Hadith
10
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی حدیث کی تبلیغ اور اس کو جیسے سنا، ایسے ہی نقل کر دینے کی فضیلت کا بیان
4 Hadith
11
روایت ِ حدیث میں محتاط رہنے اور الفاظ کو اسی طرح عمدگی کے ساتھ ادا کرنے کا بیان، جیسے وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے صادر ہوئے
7 Hadith
12
صحیح اور ضعیف کے سلسلے میں اہلِ حدیث کی معرفت اور علی اکمل الوجوہ ثابت ہونے والی حدیث لینے کا بیان
3 Hadith
13
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی حدیث کو لکھنے سے منع کرنے اور اس کی رخصت دینے کا بیان
3 Hadith
14
حدیث لکھنے کی رخصت کا بیان
4 Hadith
15
اہل کتاب سے ان کی روایات بیان کرنے کی نہی اور اس کی رخصت کا بیان
4 Hadith
16
اہل کتاب سے روایات بیان کرنے کی رخصت کا بیان
2 Hadith
17
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر جھوٹ بولنے کے معاملے میں سختی کا بیان
9 Hadith
18
علم کے اٹھائے جانے کا بیان
7 Hadith
No chapter matched that.