TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر جھوٹ بولنے کے معاملے میں سختی کا بیان - رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر جھوٹ بولنے کے معاملے میں سختی کا بیان - علم کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 17 of علم کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 17 of 18 · 9 Hadith
۔ (۳۰۶)۔عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((سَیَکُوْنُ فِیْ أُمَّتِیْ دَجَّالُوْنَ کَذَّابُوْنَ یُحَدِّثُوْنَکُمْ بِبِدَعٍ مِنَ الْحَدِیْثِ بِمَا لَمْ تَسْمَعُوْا أَنْتُمْ وَلَا آبَائُ کُمْ، فَاِیَّاکُمْ وَاِیَّاہُمْ! لَا یَفْتِنُوْنَکُمْ۔)) (مسند أحمد:۸۵۸۰)
سیدنا ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: عنقریب میری امت میں دجال اور جھوٹ لوگ پیدا ہوں گے، وہ تم کو ایسی نئی نئی احادیث بیان کریں گے، جو نہ تم نے سنی ہوں گی اور نہ تمہارے آباء و اجداد نے، پس تم ان سے بچ کر رہنا، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ تم کو فتنے میں ڈال دیں۔
Takhreej
(۳۰۶) تخریج: حدیث حسن ۔ أخرج مسلم فی مقدمۃ صحیحہ: ۶ نحوہ(انظر: ۸۵۹۶)
306
Sahih
۔ (۳۰۷)۔عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ رَوٰی عَنِّیْ حَدِیْثًا وَھُوَ یَرٰی أَنَّہُ کَذِبٌ فَہُوَ أَحَدُ الْکَاذِبِیْنَ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: الْکَذَّابِیْنَ۔)))۔ (مسند أحمد: ۲۰۴۲۵)
سیدنا سمرہ بن جندب ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس نے مجھ سے کوئی حدیث بیان کی، جبکہ اس کا خیال یہ ہو کہ وہ جھوٹ ہے، تو وہ جھوٹوں میں سے ایک ہو گا۔
Takhreej
(۳۰۷) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین ۔ أخرجہ مسلم فی مقدمۃ صحیحہ: ۱/ ۹، وابن ماجہ: ۳۹(انظر: ۲۰۱۶۳)
307
Sahih
۔ (۳۰۸)۔عَنِ الُمُغِیْرَۃَ بْنِ شُعْبَۃَؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند أحمد: ::؛)
سیدنا مغیرہ بن شعبہ ؓ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔
Takhreej
(۳۰۸) تخریج: حدیث صحیح ۔ أخرجہ الترمذی: ۲۶۶۲، وابن ماجہ: ۴۱(انظر: ۱۸۱۸۴)
308
Sahih
۔ (۳۰۹)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِتَّقُوْا الْحَدِیْثَ عَنِّی اِلَّا مَا عَلِمْتُمْ، فَاِنَّہُ مَنْ کَذَبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّدًا فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ۔)) (مسند أحمد: ۲۹۷۴)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مجھ سے احادیث بیان کرنے سے بچو، مگر وہ جن کا تم کو علم ہو، پس بیشک جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولا، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم سے تیار کر لے۔
Takhreej
(۳۰۹) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف عبد الاعلی بن عامر الثعلبی۔ أخرجہ الترمذی: ۲۹۵۱، ولقولہ: انہ من کذب … شواھد یصح بھا (انظر: ۲۹۷۴)
309
Zaeef
۔ (۳۱۰)۔عَنْ أَبِیْ قَتَادَۃَؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ عَلَی ھٰذَا الْمِنْبَرِ: ((یَا أَیُّہَا النَّاسُ! اِیَّاکُمْ وَکَثْرَۃَ الْحَدِیْثِ عَنِّیْ، مَنْ قَالَ عَلَیَّ فَـلَا یَقُوْلَنَّ اِلَّا حَقَّا أَوْ صِدْقًا، فَمَنْ قَالَ عَلَیَّ مَالَمْ أَقُلْ فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ)) (مسند أحمد: ۲۲۹۰۶)
سیدنا ابو قتادہ ؓ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو اس منبر پر بیان کرتے ہوئے سنا: لوگو!مجھ سے کثرت سے احادیث بیان کرنے سے بچو، جو آدمی میرے حوالے سے کوئی بات کرے تو وہ صرف حق اور سچ کہے، پس جس نے میری طرف وہ بات منسوب کر دی، جو میں نے نہیں کہی، تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم سے تیار کر لے۔
Takhreej
(۳۱۰) تخریج: اسنادہ حسن ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۳۵ (انظر: ۲۲۵۳۸)
310
Sahih
۔ (۳۱۱)۔عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((حَدِّثُوْا عَنِّیْ وَلَا تَکْذِبُوْا عَلَیَّ، وَمَنْ کَذَبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّدًا فَقَدْ تَبَوَّأَ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ، وَحَدِّثُوْا عَنْ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ وَلَا حَرَجَ)) (مسند أحمد: ۱۱۴۴۴)
سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مجھ سے بیان کرو اور مجھ پر جھوٹ نہ بولو، جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ بولا، اس نے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لیا، اور بنی اسرائیل سے بھی بیان کر لیا کرو، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
Takhreej
(۳۱۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۳۰۰۴ (انظر: ۱۱۴۲۴)
311
Sahih
۔ (۳۱۲)۔عَنْ یَحْیَی بْنِ مَیْمُوْنٍ الْحَضْرَمِیِّ أَنَّ أبامُوْسَی الْغَافِقِیَّؓ سَمِعَ عُقْبَۃَ بْنَ عَامِرٍ الْجُہَنِیَّؓ یُحَدِّثُ عَلَی الْمِنْبَرِ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَحَادِیْثَ، فَقَالَ أَبُوْ مُوْسٰی: اِنَّ صَاحِبَکُمْ ھٰذَا لَحَافِظٌ أَوْ ہَالِکٌ، اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ آخِرُ مَا عَہِدَ اِلَیْنَا أَنْ قَالَ: ((عَلَیْکُمْ بکِتَابِ اللّٰہِ، وَسَتَرْجِعُوْنَ اِلَی قَوْمٍ یُحِبُّوْنَ الْحَدِیْثَ عَنِّیْ، فَمَنْ قَالَ عَلَیَّ مَالَمْ أَقُلْ فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ، وَمَنْ حَفِظَ عَنِّیْ شَیْئًا فَلْیُحَدِّثْہُ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۱۵۴)
یحییٰ بن میمون حضرمی کہتے ہیں: سیدنا ابو موسی غافقی ؓ نے سیدنا عقبہ بن عامر جہنی ؓ کو منبر پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی احادیث بیان کرتے ہوئے سنا، پھر ابو موسی نے کہا: یہ تمہارا ساتھی (واقعی احادیث کو) یاد کرنے والا ہے یا پھر ہلاک ہونے والا ہے، بیشک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہمیں آخری نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا: تم اللہ تعالیٰ کی کتاب کو لازم پکڑنا اور عنقریب تم ایسی قوم کی طرف لوٹو گے، جو مجھ سے احادیث بیان کرنے کی مشتاق ہو گی، پس جس نے مجھ پر ایسی بات کہہ دی، جو میں نے نہ کہی، تو وہ اپنا ٹھکانہ آگ میں تیار کر لے، اور جس نے میری بعض احادیث یاد کر رکھی ہوں، وہ ان کو بیان کرے۔
Takhreej
(۳۱۲) تخریج: اسنادہ ضعیف، یحییٰ بن میمون الحضرمی لم یسمعہ من ابی موسی الغافقی، بینھما وداعۃ الغافقی وھو مجھول۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۱۹/ ۶۵۷، والبزار: ۲۱۶، والحاکم: ۱/ ۱۱۳(انظر: ۱۸۹۴۶)
312
Zaeef
۔ (۳۱۳)۔عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: خَرَجَ عَلَیْنَا أَبُوْقَتَادَۃَ ؓ وَنَحْنُ نَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَذَا، وَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَذَا،فَقَالَ: شَاہَتِ الْوُجُوْہُ، أَتَدْرُوْنَ مَا تَقُوْلُوْنَ؟ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ قَالَ عَلَیَّ مَالَمْ أَقُلْ فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۰۱۶)
محمد بن کعب کہتے ہیں: سیدنا ابو قتادہ ؓہمارے پاس تشریف لائے، جبکہ ہم احادیث بیان کرتے ہوئے کہہ رہے تھے: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا، انھوں نے یہ دیکھ کر کہا: قبیح ہو جائیں یہ چہرے، کیا تم اپنی کہی ہوئی اِن باتوں کو جانتے بھی ہو؟ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو فرماتے ہوئے سنا تھا: جس نے مجھ پر ایسی بات کہہ دی، جو میں نے نہیں کہی، تو وہ اپنا ٹھکانہ آگ سے تیار کر لے۔
Takhreej
(۳۱۳) تخریج: المرفوع منہ صحیح لغیرہ، وھذا اسناد ضعیف لجھالۃ ابی محمد بن معبد (انظر: ۲۲۶۳۹)
313
Sahih
۔ (۳۱۴)۔عَنِ ابْنِ عُمَرَؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ الَّذِیْ یَکْذِبُ عَلَیَّ یُبْنٰی لَہُ بَیْتٌ فِی النَّارِ)) (مسند أحمد: ۶۳۰۹)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک جو شخص مجھ پرجھوٹ بولتا ہے، اس کے لیے آگ میں ایک گھر تیار کیا جاتا ہے۔
Takhreej
(۳۱۴) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین ۔ أخرجہ البزار: ۲۱۰(انظر: ۶۳۰۹)
Explanation
فوائد: …نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر جھوٹ بولنے کا مفہوم یہ ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی طرف ایسے قول یا فعل کو منسوب کر دیا جائے، جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے کہا یا کیا نہ ہو۔ ان لوگوں کا نظریہ باطل ہے جو یہ کہتے ہیں کہ وہ لوگ تو لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں ترغیب دلانے اور اس کی نافرمانی سے بچانے کے لیے جھوٹی احادیث گھڑتے ہیں، جیسا کہ ابو عصمہ نوح بن ابی مریم نے عن عکرمۃ عن ابن عباس کے طریق سے قرآن مجید کی ہر سورت کی فضیلت میں احادیث گھڑنا شروع کیں، جب اس سے اِن احادیث کی حقیقت کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے کہا: جب میں نے دیکھا کہ لوگ ابو حنیفہ کی فقہ اور ابو اسحاق کے مغازی میں مشغول ہو کر قرآن مجید سے اعراض کر رہے ہیں تو میں نے یہ سلسلہ شروع کر دیا، تاکہ وہ قرآن مجید کی طرف لوٹ آئیں۔ حافظ ابن حجر نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے فرمان مجھ پر جھوٹ نہ بولو میں ہر جھوٹے کے حق میں عام حکم ہے اور یہ جھوٹ کی ہر قسم کو شامل ہے، کیونکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ جھوٹ کو میری طرف منسوب نہ کرو، یہاں عَلَیَّ میں اس قسم کا مفہوم نہیں پایا جاتا، کیونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس جھوٹ سے مطلق طور پر منع کر دیا ہے۔ بعض جاہل لوگوں کو دھوکہ ہوا اور انھوں نے ترغیب و ترہیب کے باب میں احادیث گھڑیں اور کہا: ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے خلاف جھوٹ نہیں بول رہے، بلکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی شریعت کی تائید و نصرت کے لیے یہ کام کر رہے ہیں۔ ان بیچاروں کو یہ معلوم نہ ہو سکا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی طرف جھوٹ کو منسوب کرنے کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولا جا رہا ہے، کیونکہ اس جھوٹ سے شرعی حکم ثابت کیا جا رہا ہے، اس کا تعلق واجب اور مندوب سے ہو یا حرام اور مکروہ سے۔ اس مقام پر کرامیہ کے نظریے سے دھوکہ نہیں ہونا چاہیے، جنھوں نے ترغیب و ترہیب کے باب میں جھوٹی احادیث بیان کرنے کو جائز قرار دیتے ہوئے کہا: ہم لوگ تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی خاطر جھوٹ بول رہے ہیں، نہ کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی مخالفت میں، یعنی ہمارا جھوٹ لَہٗ ہے، نہ کہ عَلَیْہ دراصل یہ دلیل پیش کرنے والے عربی زبان سے جاہل ہیں۔ اسی طرح بعض لوگوں نے مسند بزار کی سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓسے مروی اس حدیث سے جھوٹی احادیث بیان کرنے کے جواز کا استدلال کیا ہے: ((مَنْ کَذَبَ عَلَیَّ لِیُضِلَّ بِہِ النَّاسَ)) … جو آدمی مجھ پر اس نظریے سے جھوٹ بولے کہ وہ لوگوں کو گمراہ کرنا چاہے۔ جواباً گزارش ہے کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ اس حدیث کے موصول اور مرسل ہونے میں اختلاف ہے، امام دارقطنی اور امام حاکم نے اس کے مرسل ہونے کو راجح قرار دیا ہے اور امام دارمی نے اس کو یعلی بن مرہ کی حدیث سے ضعیف سند کے ساتھ بیان کیا ہے، دوسری بات یہ ہے کہ اگر اس حدیث کو صحیح تسلیم کر بھی لیا جائے تو اس میں لام علت کے لیے نہیں ہے، بلکہ صیرورت کے لیے ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ہے: {فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا لِّیُضِلَّ النَّاسَ} … اس آدمی سے بڑا ظالم کون ہو سکتا ہے، جس نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا تاکہ وہ لوگوں کو گمراہ کرے۔ اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اس کے جھوٹ کا انجام لوگوں کا گمراہ کرنا ہے۔ اور (تیسرا جواب یہ ہے کہ) اس قسم کی قید کا تعلق عموم کے بعض افراد کی تخصیص کر دینے کے ساتھ ہے، جس کا خارج میں کوئی مفہوم نہیں ہوتا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {لَاتَأْکُلُوْا الرِّبَا اَضْعَافًا مُّضَاعَفَۃً}(سورۂ آل عمران: ۱۳۰) … بڑھا چڑھا کر سود نہ کھاؤ۔ {وَلَاتَقْتُلُوْا اَوْلَادَکُمْ مِّنْ اِمْلَاقٍ} (سورۂ انعام: ۱۵۱) … اور اپنی اولاد کو افلاس کے سبب قتل مت کرو۔ اب گزارش یہ ہے کہ بھوک کے ڈر سے اولاد کو قتل کرنا، سود کو کئی گنا بڑھا کر کھانا اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنا، یہ سب قیدیں حکم کو خاص کرنے کے لیے نہیں ہیں، بلکہ معاملے میں تاکید پیدا کرنے کے لیے ہیں۔ (فتح الباری: ۱/ ۲۶۶) خلاصۂ کلام یہ ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی طرف صرف وہ بات منسوب کی جائے، جس کی سند کے صحیح ہونے کا یقین یا ظن غالب ہو۔
314
Sahih

Chapters

18
01
علم اور علماء کی فضیلت کا بیان
7 Hadith
02
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے فرمان اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اس کو دین میں سمجھ عطا کر دیتا ہے۔ کا بیان
7 Hadith
03
حصول علم کے لیے سفر کرنے اور طالب علم کی فضیلت کا بیان
4 Hadith
04
علم سکھانے پر رغبت دلانے اور معلم کے آداب کا بیان
8 Hadith
05
علم کی مجالس اور ان کے آداب اورمتعلم کے آداب کا بیان
4 Hadith
06
عربی کے علاوہ کوئی اور زبان سیکھنے کا بیان
1 Hadith
07
بغیر ضرورت کے علم کے بارے میں کثرت ِ سوال کی مذمت کا بیان
8 Hadith
08
دین و دنیا کے لیے ضرورت پڑنے والی ہر چیز کے بارے میں واجبی طور پر سوال کرنے کا بیان
1 Hadith
09
علم حاصل کرنے کے بعد اس کو چھپا لینے والے یا اس پر عمل نہ کرنے والے یا کسی غیر اللہ کے لیے وہ علم حاصل کرنے والی کی مذمت کابیان
6 Hadith
10
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی حدیث کی تبلیغ اور اس کو جیسے سنا، ایسے ہی نقل کر دینے کی فضیلت کا بیان
4 Hadith
11
روایت ِ حدیث میں محتاط رہنے اور الفاظ کو اسی طرح عمدگی کے ساتھ ادا کرنے کا بیان، جیسے وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے صادر ہوئے
7 Hadith
12
صحیح اور ضعیف کے سلسلے میں اہلِ حدیث کی معرفت اور علی اکمل الوجوہ ثابت ہونے والی حدیث لینے کا بیان
3 Hadith
13
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی حدیث کو لکھنے سے منع کرنے اور اس کی رخصت دینے کا بیان
3 Hadith
14
حدیث لکھنے کی رخصت کا بیان
4 Hadith
15
اہل کتاب سے ان کی روایات بیان کرنے کی نہی اور اس کی رخصت کا بیان
4 Hadith
16
اہل کتاب سے روایات بیان کرنے کی رخصت کا بیان
2 Hadith
17
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر جھوٹ بولنے کے معاملے میں سختی کا بیان
9 Hadith
18
علم کے اٹھائے جانے کا بیان
7 Hadith
No chapter matched that.