TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 1606 مسنداحمد

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 4 of 7 in this chapter
ایک رکعت میں دو یا زائد سورتیںیا ایک سورت کابعض حصہ تلاوت کرنے اور ایک سورت یا بعض آیات کو تکرارکے ساتھ تلاوت کرنے کا بیان
۔ (۱۶۰۶)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثاَنٍ) عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الْأَ سْوَدِ بِنْ یَزِیْدَ وَعَلْقَمَۃَ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ (یَعْنِی ابْنَ مَسْعُودٍ)) أَنَّ رَجُلاً أَتَاہُ فَقَالَ: قَرَأَتُ الْمُفَصَّلَ فِی رَکْعَۃٍ، فَقَالَ: بَلْ ھَذَذْتَ کَہَذِّ الشِّعْرِ أَوْ کَنَثْرِ الدَّقَلِ، لٰکِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمْ یَفْعَلْ کَمَا فَعَلْتَ، کَانَ یَقْرَ أُ النُّظُرَ الرَّحْمٰنَ وَالنَّجْمَ فِی رَکْعَۃٍ، قَالَ فَذَکَرَ أَبُوْ إِسْحَاقَ عَشْرَ رَکَعَاتٍ بِعِشْرِیْنَ سُورَۃً عَلٰی تَأْلِیْفِ عَبْدِاللّٰہِ (یَعْنِی ابْنَ مَسْعُوْدٍ) آخِرُ ھُنَّ إِذَا الشَّمْسُ کُوِّرَتْ وَالدُّخَانُ ۔ (مسند احمد: ۳۹۶۸)
۔ (دوسری سند)ایک آدمی سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا اور کہا: میں نے ایک رکعت میں مفصل سورتوں کی تلاوت کی ہے، انہوں نے کہا: تو نے تو پھرشعر کو پڑھنے کی طرح یا ردی کھجوروں کو بکھیرنے کی طرح تیزی تیزی سے پڑھا ہو گا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس طرح تلاوت نہیں کرتے تھے، جیسے تونے کی ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تو ملتی جلتی سورتوں (میں سے دو دو) کو ایک رکعت میں پڑھتے تھے، مثلا سورۂ رحمن اور سورۂ نجم ایک رکعت میں۔ پھر ابو اسحاق نے بیس سورتوں کے ساتھ دس رکعات کا ذکر کیا،یہ ترتیب سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی تالیف کے مطابق تھی، آخری سورتیں سورۂ تکویر اور سورۂ دخان تھیں۔
1606
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۶۰۶) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۱۳۹۶، وانظر الحدیث بالطریق الاول (انظر: ۳۹۶۸)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… ملتی جلتی سورتوں سے مراد وہ سورتیں ہیں جن کا موضوع وعظ و نصیحت اور قصہ و حکمت کے اعتبار سے ایک بنتا ہے۔ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ اگر کوئی آدمی ٹھہر ٹھہر کر تلاوت کرتا ہے تو وہ ایک رکعت میں مفصل سورتوں کی تلاوت کر سکتا ہے، کیونکہیہ مقدار چار پاروں سے کچھ زیادہ ہے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ایک رکعت میں اس مقدار سے زیادہ تلاوت کرنا بھی ثابت ہے، کیونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک مرتبہ ایک رکعت میں سورۂ بقرہ، سورۂ نساء اور سورۂ آل عمران کی تلاوت کی،یہ مقدار پانچ پاروںسے زیادہ ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا مقصد یہہے کہ بعینہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اقتدا کی جائے۔

Related Chapters

38
1
تکبیر تحریمہ کے بعد، قراء ت سے پہلے، {وَلَاالضَّآلِّیْنَ} کہنے کے بعد اور سورت (کی تلاوت)کے بعد یعنی رکوع سے پہلے سکتوں کا بیان
Musnad Ahmad
2
اس شخص کی دلیل کا بیان جو مفصل سورتوں میں تلاوت کے سجدوں کے نہ ہونے کا قائل ہے
Musnad Ahmad
3
(۶)مفصل سورتوں میں سجدۂ تلاوت کی مشروعیت کے قائلین کی دلیل کا بیان
Musnad Ahmad
4
47جس شخص کی فضیلت جو خود قرآن کے ساتھ(اس کی تلاوت کرتے ہوئے)قیام کرتا ہے اور (دوسروں کو)اس کی تعلیم دیتا ہے اور اس انسان کی فضیلت جس نے فقہ وغیرہ پر مشتمل حکمت (سنت )سیکھی ‘اس پر عمل کیا اور اس کی تعلیم دی
Sahih Muslim
5
Chapter: What Is Said In The Prostration Of Recitation
باب: سجدہ تلاوت میں آدمی کیا پڑھے؟
Jam e Tirmazi
6
بَاب سُجُود الْقُرْآن
سجدۂ تلاوت کا بیان
Mishkat
7
بَاب آدَاب التِّلَاوَة ودروس الْقُرْآن
(دروس قرآن اور تلاوت قرآن کے آداب کا بیان)
Mishkat
8
وضو کے بغیر اللہ تعالیٰ کاذکر اور قرآن کی تلاوت کرنے کے جواز کا بیان
Musnad Ahmad
9
ان لوگون کا بیان جو یہ کہتے ہیں کہ جنابت والا قرآن مجید کی تلاوت نہ کرے
Musnad Ahmad
10
حائضہ کی گود میں قرآن مجید کی تلاوت کے جواز اور ایسی خاتون کے مسجد میں داخل ہونے کے حکم کا بیان
Musnad Ahmad
11
سورۂ فاتحہ کی تلاوت کرتے وقت {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیْمِ} (پڑھنے) کا بیان
Musnad Ahmad
12
سجدہ تلاوت کی فضیلت اور اس کے مقامات کی تعداد کا بیان
Musnad Ahmad
13
سجدۂ تلاوت میں کیا پڑھا جائے؟
Musnad Ahmad
14
جہری اور سری نماز میں سجدۂ تلاوت والی آیت پڑھنا
Musnad Ahmad
15
قریب الموت کے پاس سورۂ یس کی تلاوت کرنے، شدتِ موت، روح کے عالَم نزع میت کی آنکھیں بند کرنے اور اس کے لیے دعا کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
16
قرآن مجید کے اس حصے کا بیان، جو سونے سے پہلے تلاوت کیا جاتا ہے
Musnad Ahmad
17
قرآن مجید کی تلاوت پر سکینت اور فرشتوں کے نزول کا بیان
Musnad Ahmad
18
(36) CHAPTER. The recitation of Quran or doing other invocations etc. after Hadath.
بےوضو ہونے کی حالت میں تلاوت قرآن کرنا وغیرہ اور جو جائز ہیں ان کا بیان
Sahih Bukhari
19
(1) CHAPTER. What is said about the prostrations during the recitation of the Quran and its legal way.
سجدہ تلاوت اور اس کے سنت ہونے کا بیان
Sahih Bukhari
20
(10) CHAPTER. Whoever thinks that Allah has not made prostration of recitation (i.e., during the recitation of the Quran) compulsory.
اس شخص کی دلیل جس کے نزدیک اللہ تعالیٰ نے سجدہ تلاوت کو واجب نہیں کیا
Sahih Bukhari
21
(11) CHAPTER. Whoever recited the Verse of Sajda during the Salat (prayer) and prostrated (while praying).
جس نے نماز میں آیت سجدہ تلاوت کی اور نماز ہی میں سجدہ کیا
Sahih Bukhari
22
(12) CHAPTER. Whoever dose not find a place for prostration (with the Imam) because of overcrowding.
جو شخص ہجوم کی وجہ سے سجدہ تلاوت کی جگہ نہ پائے
Sahih Bukhari
23
(15) CHAPTER. The descent of As-Sakinah (peace, reassurance and tranquillity) and angels at the time of the recitation of the Quran.
قرآن کی تلاوت کے وقت سکینت اورفرشتوں کے اترنے کا بیان
Sahih Bukhari
24
(22) CHAPTER. The recitation of the Quran by heart.
زبانی قرآنمجید کی تلاوت کرنا
Sahih Bukhari
25
(24) CHAPTER. The recitation of the Quran on an animal.
سواری پر تلاوت کرنا
Sahih Bukhari
26
(28) CHAPTER. The recitation of Quran in Tartil (clearly and in slow style).
قرآنمجید کی تلاوت صاف صاف اور ٹھہر ٹھہر کر کرنا
Sahih Bukhari
27
(35) CHAPTER. To weep while reciting the Quran.
قرآنمجید کی تلاوت کرتے وقت ( خوف الٰہی سے ) رونا
Sahih Bukhari
28
(92) CHAPTER. It is disliked for one to indulge in poetry to the extent that it diverts him from Allah's remembrance, and from (religious) knowledge and from (recitation of) the Quran.
شعروشاعری میں اس طرح اوقات صرف کرنا منع ہے کہ آدمی اللہ کی یاد اور علم حاصل کرنے اور قرآن شریف کی تلاوت کرنے سے باز رہ جائے ۔ 2
Sahih Bukhari
29
(12) CHAPTER. Taking refuge with Allah (from evil), and the recitation (of Quran) before going to bed.
سوتے وقت شیطان سے پناہ مانگنا اور تلاوت قرآن کرنا
Sahih Bukhari
30
(57) CHAPTER. The recitation of the Quran by an impious person or a hypocrite; and the fact that their voices and recitation do not exceed their throats (i.e., do not benefit them).
فاسق اور منافق کی تلاوت کا بیان اور اس کا بیان کہ ان کی آواز اور ان کی تلاوت ان کے حلق سے نیچے نہیں اترتی ۔
Sahih Bukhari
31
Chapter: The prostration of recitation
سجدہ تلاوت کا بیان
Sahih Muslim
32
قرآن مجید کی تلاوت پرسکینت کا نزول
Sahih Muslim
33
Chapter: The Virtue Of Gathering To Read Quran And To Remember Allah
قرآن کی تلاوت اور اللہ کے ذکر کو سننے سنانے کے لیے اکٹھے ہونے کی فضیلت
Sahih Muslim
34
CHAPTER: How Many Places Are There In The Qur’an Where Prostration Is Required.
باب: سجدہ تلاوت کا بیان اور یہ کہ قرآن کریم میں کتنے سجدے ہیں ؟
Sunnan Abu Dawood
35
CHAPTER: What Should One Say In Prostration?
باب: سجدہ تلاوت میں کیا پڑھے ؟
Sunnan Abu Dawood
36
قرآن کریم میں سجود تلاوت کی تعداد
Sunnan Ibn e Maja
37
Chapter: The rewards associated with the Quran
تلاوت قرآن کے ثواب کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
38
فرض نمازوں میں سجدہ تلاوت کا بیان۔
Sunnan Nisai
No related chapter matched that.

Related Hadith

466
Musnad Ahmad
1603
۔ (۱۶۰۳) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ شَقِیْقٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا : ھَلْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَجَمْعُ بَیْنَ السُّوَرِ فِیْ رَکْعَۃٍ قَالَتْ: الْمُفَصَّلَ۔ (مسند احمد: ۲۶۲۰۶)
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے سوال کیا کہ کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک رکعت میں زیادہ سورتوںکو جمع کر لیتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: مفصل (سورتوں کو جمع کر لیتے تھے)۔
Musnad Ahmad
1678
۔ (۱۶۷۸) عَنِ الْأَسْوَدِ وَعَلْقَمَۃَ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ (بْنِ مَسْعُودٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ) قَالَ: إِذَا رَکَعَ أَحَدُ کُمْ فَلْیَفْرُشْ ذِرَاعَیْہِ فَخِذَیْہِ وَلْیَحْنَأْ ثُمَّ طَبَّقَ بَیْنَ کَفَّیْہِ، فَکَأَنِّی أَنْظُرُ إِلَی اخْتِلاَفِ أَصَابِعِ رَسُوْلِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: ثُمَّ طَبَّقَ بَیْنَ کَفَّیْہِ فَأَرَاھُمْ۔ (مسند احمد: ۳۵۸۸)
اسود اور علقمہ دونوں سے مروی ہے کہ: سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جب تم میں سے کوئی رکوع کرے تو وہ اپنے بازؤں کو اپنی رانوں پر بچھائے اور کمر کو جھکا لے، پھر انھوں نے اپنی ہتھیلیوں کے درمیان تطبیق ڈالی اور کہا: گویا میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی انگلیوں کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ ایک دوسرے میں داخل ہیں، پھر انھوں نے اپنی ہتھیلیوں کے درمیان تطبیق ڈال کر انہیں دکھایا۔
Musnad Ahmad
2624
۔ (۲۶۲۴) (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ اِبْرَاھِیْمَ أَنَّ الْأَسْوَدَ وَعَلْقَمَۃَ کَانَا مَعَ عَبْدِاللّٰہِ (یَعْنِی ابْنَ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) فِی الدَّارِ فَقَالَ عَبْدُاللّٰہِ: أَصَلّٰی ھٰؤُلَائِ؟ قَالُوْا: نَعَمْ، قَالَ: فَصَلّٰی بِہِمْ بِغَیْرِ أَذَانٍ وَلَا اِقَامَۃٍ وَقَامَ وَسَطَہُمْ وَقَالَ: اِذَا کُنْتُمْ ثَـلَاثَۃً فَاصْنَعُوا ھٰکَذَا، فَاِذَا کُنْتُمْ أَکْثَرَ فَلْیَؤُمَّکُمْ أَحَدُکُمْ وَلْیَضَعْ أَحَدُکُمْ یَدَیْہِ بَیْنَ فَخِذَیْہِ اِذَا رَکَعَ فَلْیَحْنَأْ فَکَأَنَّمَا أَنْظُرُ اِلٰی اخْتِلَافِ أَصَابِِعِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۴۲۷۲)
(دوسری سند) اسود اور علقمہ دونوں سیّدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھر میں تھے، انھوں نے پوچھا: کیا ان لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ پھر سیّدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کو اذان و اقامت کے بغیر نماز پڑھائی اور وہ ان کے درمیان کھڑے ہوئے اور کہا: جب تم تین لوگ ہو تو اس طرح کیا کرو اور جب زیادہ ہو تو تم میں سے ایک امامت کروائے (اور آگے کھڑا ہو)، جب کوئی رکوع کرے تو اسے چاہئے کہ وہ اپنے ہاتھ اپنی رانوں کے درمیان رکھے اور رکوع کے لیے جھکے، میں اب بھی گویا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی انگلیوں کے مختلف ہونے کی طرف دیکھ رہا ہوں۔
Musnad Ahmad
8426
۔ (۸۴۲۶)۔ عَنْ شَقِیْقِ بْنِ سَلَمَۃَ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلَی عَبْدِ اللّٰہِ (یَعْنِی: ابْنَ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) مِنْ بَنِیْ بُجَیْلَۃَیُقَالُ لَہُ: نَہِیْکُ بْنُ سِنَانٍ، فَقَالَ: یَا اَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ! کَیْفَ تَقْرَاُ ھٰذِہِ الْاٰیَۃَ اَیَائً تَجِدُھَا اَوْ اَلِفًا {مِنْ مَائٍ غَیْرِ آسِنٍ}؟ فَقَالَ لَہُ عَبْدُ اللّٰہِ: وَکُلُّ الْقُرْآنِ اَحْصَیْتَ غَیْرَ ھٰذِہٖ،قَالَ: اِنِّیْ لَاَقْرَاُ الْمُفَصَّلَ فِیْ رَکْعَتَیْنِ، فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: ھَذًّا کَہَذِّ الشِّعْرِ اِنَّ مِنَ اَحْسَنِ الصَّلَاۃِ الَرُّکُوْعَ وَالسُّجودَ، وَلَیَقْرَاَنَّ الْقُرْآنَ اَقْوَامٌ لَایُجَاوِزُ تَرَاقِیَہِمْ، وَلٰکِنَّہُ اِذَا قَرَأَہٗفَرَسَخَفِی الْقَلَبِ نَفعَ اِنِّیْ لَاَعْرِفُ النَّظَائِرَ الَّتِیْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقْرَاُ سُوْرَتَیْنِ فِیْ رَکْعَۃٍ، قَالَ: ثُمَّ قَامَ فَدَخَلَ فَجَائَ عَلْقَمَۃُ فَدَخَلَ عَلَیْہِ قَالَ: فَقُلْنَا لَہُ: سَلْہُ عَنِ النَّظَائِرِ الَّتِیْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقْرَئُ سُوْرَتَیْنِ فِیْ رَکْعَۃٍ، قَالَ: فَدَخَلَ فَسَاَلَہُ ثُمَّ خَرَجَ اِلَیْنَا، فَقَالَ: عِشْرُوْنَ سُوْرَۃً مِنْ اَوَّلِ الْمُفَصَّلِ فِیْ تَاْلِیْفِ عَبْدِاللّٰہِ (یَعْنِیْ: ابْنَ مَسْعُوْدٍ)۔ (مسند احمد: ۳۶۰۷)
۔ شفیق بن عبداللہ کہتے ہیں: بنو بجیلہ قبیلے کا ایک آدمی، سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا، اس کو نہیک بن سنان کہا جاتا تھا، اس نے کہا: اے ابو عبدالرحمن! اس آیت کو آپ کس طرح پڑھتے ہیں،یاء کے ساتھ یا الف کے ساتھ {مِنْ مَائٍ غَیْرِ آسِنٍ}؟ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس سے کہا: اس کے علاوہ تو نے سارا قرآن مجید پڑھ لیا ہے؟ اس نے کہا: میں دو رکعت نماز میں مفصل سورتیں پڑھتا ہوں، سیدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا:کیا شعروں کی طرح جلدی جلدی پڑھتے ہو، بہترین نماز وہ ہے، جس میں رکوع و سجود اچھے انداز میں کئے جائیں،کچھ لوگ قرآن تو پڑھیں گے، مگر وہ ان کی ہنسلیوں کی ہڈیوں سے نیچے نہیں اترے گا، جب آدمی قرآن پڑھتا اور وہ اس کے دل میں راسخ ہو جاتا ہے تو تب قرآن فائدہ دیتا ہے، میں ان آپس میں ملتی جلتی سورتوں کو پہچانتا ہوں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جن میں سے دو دو سورتیں ایک رکعت میں پڑھتے تھے۔ پھر سیدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کھڑے ہوئے اور اندر چلے گئے، اتنے میں علقمہ آئے اور وہ بھی ان کے پیچھے اندر چلے گئے، ہم نے علقمہ سے کہا: ان سے ان ملتی جلتی سورتوں کے بارے میں دریافت کرو، جن میں سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دو دو سورتیں پڑھا کرتے تھے، پس علقمہ ان کے پاس گئے اور پھر ہمارے پاس آ کر کہا: مفصل کی ابتدائی بیس سورتیں،یہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی تالیف ِ قرآن کے مطابق تھا۔
Jam e Tirmazi
826
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ أَهَلَّ فَانْطَلَقَ يُهِلُّ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ:‏‏‏‏ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ قَالَ:‏‏‏‏ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ هَذِهِ تَلْبِيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ يَزِيدُ مِنْ عِنْدِهِ فِي أَثَرِ تَلْبِيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏لَبَّيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. نافع کہتے ہیں: عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما نے تلبیہ پکارا اور تلبیہ پکارتے ہوئے چلے، وہ کہہ رہے تھے: «لبيك اللهم لبيك لا شريك لك لبيك إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك» ۔
Nafi` narrated: When Ibn Umar would say the talbiyah he would continue saying: Labbaik Allahumma labbaik. Labbaik la sharika laka labbaik. Innal-hamda wan-ni`mata laka wal-mulk, la sharika laka (I respond to Your call O Allah! I respond to Your call, You have no partner, I respond to You call. All praise, thanks and blessings are for You. And You have no partners with You). He said: Abdullah bin Umar would say: 'This is the Talbiyah of the Messenger of Allah.' He would himself add the following after the Talbiyah of the Messenger of Allah: Labbaik labbaika wa-sa'daik, wal-khairuu fi yadaik. Labbaika war-raghba'u ilaika wal-amal ('I respond to Your call, and I am obedient to Your orders, all good is in Your Hands. I respond to Your call and the requests and deeds are for You).'
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے تھے: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ ہے، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تلبیہ کے اخیر میں اپنی طرف سے ان الفاظ کا اضافہ کرتے: «لبيك لبيك وسعديك والخير في يديك لبيك والرغباء إليك والعمل» ”حاضر ہوں تیری خدمت میں حاضر ہوں تیری خدمت میں اور خوش ہوں تیری تابعداری پر اور ہر طرح کی بھلائی تیرے ہی دونوں ہاتھوں میں ہے اور تیری طرف رغبت ہے اور عمل بھی تیرے ہی لیے ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Musnad Ahmad
32
۔ (۳۲)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ؓ قَالَ: أَنَا مِمَّنْ شَہِدَ مُعَاذًا حِیْنَ حَضَرَتْہُ الْوَفَاۃُ یَقُوْلُ: اِکْشِفُوْا عَنِّی سَجْفَ الْقُبَّۃِ، أُحَدِّثُکُمْ حَدِیْثًا سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، لَمْ یَمْنَعْنِیْ أَنْ أُحَدِّثَکُمُوْہُ إِلَّا أَنْ تَتَّکِلُوْا، سَمِعْتُہُ یَقُوْلُ: ((مَنْ شَہِدَ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ مُخْلِصًا مِنْ قَلْبِہِ أَوْ یَقِیْنًا مِنْ قَلْبِہِ لَمْ یَدْخُلِ النَّارَ، وَقَالَ مَرَّۃً: دَخَلَ الْجَنَّۃَ وَلَمْ تَمَسَّہُ النَّارُ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۴۱۰)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ کہتے ہیں: میں بھی لوگوں کے ساتھ سیدنا معاذ ؓکی وفات کے وقت ان کے پاس حاضر تھا، انھوں نے کہا: قبّے کا پردہ اٹھا دو، میں تمہیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سنی ہوئی ایک حدیث بیان کرتا ہوں، اس سے پہلے یہ حدیث بیان کرنے سے یہ مانع تھا کہ تم توکل کر لو گے، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جو آدمی دل کے اخلاص یا (راوی نے کہا) یقین سے یہ شہادت دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، تو وہ آگ میں داخل نہیں ہو گا، اور ایک دفعہ کہا: تو وہ جنت میں داخل ہو گا اور آگ اس کو نہیں چھو سکے گی۔
Musnad Ahmad
44
۔ (۴۴)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْمُوْجِبَتَانِ، مَنْ لَقِیَ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ لَا یُشْرِکُ بِہِ شَیْئًا دَخَلَ الْجَنَّۃَ، وَمَنْ لَقِیَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَ ہُوَ یُشْرِکُ بِہِ دَخَلَ النَّارَ۔)) (مسند أحمد: ۱۴۷۶۸)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: دو واجب کر دینے والی خصلتیں ہیں، جو آدمی اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملا کہ وہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہو جائے گا اور جو شخص اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے کہ وہ اس کے ساتھ شرک کرتا ہو تو وہ جہنم میں داخل ہو گا۔
Musnad Ahmad
79
۔ (۷۹)۔عَنْ جَرِیْرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بُنِیَ الْاِسْلَامُ عَلٰی خَمْسٍ: شَہَادَۃِ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَ إِقَامِ الصَّلَاۃِ وَ إِیْتَائِ الزَّکَاۃِ وَحَجِّ الْبَیْتِ وَ صَوْمِ رَمَضَانَ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۴۳۹)
سیدنا جریر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے: اللہ تعالیٰ کے ہی معبودِ برحق ہونے کی شہادت دینا، نماز قائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔
Musnad Ahmad
89
۔ (۸۹)۔عَنْ سُفْیَانَ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ الثَّقَفِیِّ ؓ قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قُلْ لِیْ فِیْ الْاِسُلَامِ قَوْلًا لَا أَسْأَلُ عَنْہُ أَحَدًا غَیْرَکَ، قَالَ أَبُوْ مُعَاوِیَۃَ: بَعْدَکَ، قَالَ: ((قُلْ آمَنْتُ بِاللّٰہِ ثُمَّ اسْتَقِمْ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۴۹۴)
سیدنا سفیان بن عبد اللہ ثقفیؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اسلام کے بارے میں کوئی ایسی بات بتائیں کہ آپ کے علاوہ (ابو معاویہ نے آپ کے بعد کے لفظ بولے ہیں) کسی سے اس کے بارے میں سوال کرنے کی گنجائش باقی نہ رہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم کہو کہ میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا ہوں اور پھر اس پر ڈٹ جاؤ۔