TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2591 - امام کا مقتدیوں کو سنانے کے لیے نماز میں اونچی آواز سے تکبیر کہنے کے جواز کا بیان اور امام کے علاوہ کسی دوسرے کا تکبیر سنانے کا حکم - امامت کا بیان،اماموں کی صفات اور ان سے متعلقہ مزید احکام - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 2 of 2 in this chapter
امام کا مقتدیوں کو سنانے کے لیے نماز میں اونچی آواز سے تکبیر کہنے کے جواز کا بیان اور امام کے علاوہ کسی دوسرے کا تکبیر سنانے کا حکم
۔ (۲۵۹۱) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اِشْتَکٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَصَلَّیْنَا وَرَائَ ہُ وَھُوَ قَاعِدٌ وَأَبُوْبَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یُکَبِّرُ یُسْمِعُ النَّاسَ تَکْبِیْرَہُ، …۔ الحدیث۔ (مسند احمد: ۱۴۶۴۴)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیمار ہوگئے تو ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیٹھے ہوئے تھے اور ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تکبیر کہتے اور لوگوں کو اپنی تکبیر کی آواز سناتے تھے ۔
2591
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۲۵۹۱) تخریـج: …أخرجہ مسلم: ۴۱۳ (انظر: ۱۴۵۹۰)

Related Chapters

104
1
CHAPTER: On The Imam Standing In A Location Above The Level Of Congregation.
باب: امام مقتدیوں سے اونچی جگہ پر کھڑا ہو کر نماز پڑھائے تو اس کے حکم کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
2
(22) CHAPTER. When should the people get up for the Salat (prayer) if they see the Imam (the person leading Salat) during the Iqama?
نماز کی تکبیر کے وقت جب لوگ امام کو دیکھیں تو کس وقت کھڑے ہوں
Sahih Bukhari
3
(48) CHAPTER. If somebody is leading the Salat (prayer) and (in the meanwhile) the first (usual) Imam comes, the Salat is valid whether the former retreats or does not retreat.
ایک شخص نے امامت شروع کر دی پھر پہلا امام آ گیا اب پہلا شخص ( مقتدیوں میں ملنے کے لیے ) پیچھے سرک گیا یا نہیں سرکا ، بہرحال اس کی نماز جائز ہو گی اس بارے میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے
Sahih Bukhari
4
(67) CHAPTER. One who repeats the Takbir (Allahu Akbar) of the Imam so that the people may hear it.
باب اس سے متعلق جو مقتدیوں کو امام کی تکبیر سنائے ۔
Sahih Bukhari
5
Chapter: What Has Been Related That The Imam Has be Greatest Right To The Iqamah
باب: امام کا اقامت (تکبیر) کا حق زیادہ ہے
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What Has Been Related About The Takbir For the Funeral (Prayer)
باب: نماز جنازہ کی تکبیرات کا بیان
Jam e Tirmazi
7
اسی باب کی ایک فصل اس شخص کی دلیل کے متعلق جس کے خیال کے مطابق تکبیرۂ تحریمہ کے علاوہ رفع الیدین نہیں ہے
Musnad Ahmad
8
نمازوں کے بعد تسبیح، تحمید، تکبیر اوراستغفار کا بیان
Musnad Ahmad
9
مقتدیوں کو لمبی نماز پڑھانے کے بارے میں سیّدنا معاذ بن جبل Bکا قصہ اور عذر کی وجہ سے مقتدی کا اکیلے نماز پڑھنے کا جواز
Musnad Ahmad
10
امام کا مقتدیوں سے اونچا کھڑا ہونے اور اس کے برعکس کا بیان
Musnad Ahmad
11
عید کی نماز میں تکبیرات کی تعداد اور ان کے محل کا بیان
Musnad Ahmad
12
نماز جنازہ میں تکبیرات کی تعداد اور سلام کا بیان
Musnad Ahmad
13
(90) CHAPTER. The Sutra of the Imam is also a Sutra for those who are behind him.
امام کا سترہ مقتدیوں کو بھی کفایت کرتا ہے
Sahih Bukhari
14
(16) CHAPTER. Between every two calls (Adhan and Iqama) there is a Salat (prayer) (that is optional), for the one who wants to offer it.
ہر اذان اور تکبیر کے بیچ میں جو کوئی چاہے ( نفل ) نماز پڑھ سکتا ہے
Sahih Bukhari
15
(18) CHAPTER. If there are many travellers, Adhan and Iqama should be pronounced, (the same is to be observed) in Arafat and Al-Muzdalifa too.
اگر کئی مسافر ہوں تو نماز کے لیے اذان دیں اور تکبیر بھی کہیں اور عرفات اور مزدلفہ میں بھی ایسا ہی کریں
Sahih Bukhari
16
(25) CHAPTER. If the Imam says, “Remain at your places till I return”, then wait for him.
اگر امام مقتدیوں سے کہے کہ تم لوگ اسی حالت میں ٹھہرے رہو تو جب تک وہ لوٹ کر آئے اس کا انتظار کریں ( اور اپنی حالت پر ٹھہرے رہیں )
Sahih Bukhari
17
(27) CHAPTER. If the Imam is confronted with a problem after the Iqama.
اگر امام کو تکبیر ہو چکنے کے بعد کوئی ضرورت پیش آئے تو کیا کرے ؟
Sahih Bukhari
18
(38) CHAPTER. No Salat (prayer) (is to be offered) except the compulsory Salat after the Iqama has been pronounced for that compulsory Salat.
جب نماز کی تکبیر ہونے لگے تو فرض نماز کے سوا اور کوئی نماز نہیں پڑھ سکتا
Sahih Bukhari
19
(42) CHAPTER. (What should one do) if the meal has been served and Iqama has been pronounced for As-Salat (the prayer).
جب کھانا حاضر ہو اور نماز کی تکبیر ہو جائے تو کیا کرنا چاہئے ؟
Sahih Bukhari
20
(44) CHAPTER. If somebody was busy with his domestic work and Iqama was pronounced and then he came out [for offering the Salat (prayer)].
اس آدمی کے بارے میں جو اپنے گھر کے کام کاج میں مصروف تھا کہ تکبیر ہوئی اور نماز کے لیے نکل کھڑا ہوا
Sahih Bukhari
21
(69) CHAPTER. Can the Imam depend on the people's saying if he is in doubt (about a certain matter)?
اس بارے میں کہ اگر امام کو شک ہو جائے تو کیا مقتدیوں کی بات پر عمل کر سکتا ہے ؟
Sahih Bukhari
22
(80) CHAPTER. If there is a wall or a Sutra between the Imam and followers.
جب امام اور مقتدیوں کے درمیان کوئی دیوار حائل ہو یا پردہ ہو ( تو کچھ قباحت نہیں )
Sahih Bukhari
23
(82) CHAPTER. The necessity of saying the Takbir, i.e., Allahu Akbar (Allah is the Most Great) and the commencement of As-Salat (the prayer).
تکبیر کا واجب ہونا اور نماز کا شروع کرنا
Sahih Bukhari
24
(83) CHAPTER. To raise both hands on saying the first Takbir simultaneously with opening the Salat (prayer).
تکبیر تحریمہ میں نماز شروع کرتے ہی برابر دونوں ہاتھوں کا ( کندھوں یا کانوں تک ) اٹھانا
Sahih Bukhari
25
(64) CHAPTER. There are four Takbir in the funeral prayers.
نماز جنازہ میں چار تکبیریں کہنا
Sahih Bukhari
26
(97) CHAPTER. Whoever pronounced (one) Adhan (for both) and Iqama for each of them (the Maghrib and the Isha prayer).
جس نے کہا کہ ہر نماز کے لیے اذان اور تکبیر کہنی چاہئے اس کی دلیل
Sahih Bukhari
27
Chapter: It Is Recommended To Raise The Hands Level With The Shoulders When Saying The Opening Takbir, When Bowing And When Rising From Bowing. But That Is Not To Be Done When Rising From The Prostration
تکبیرتحریمہ اور رکوع کی تکبیر کے ساتھ اور رکوع سے اٹھتے وقت کندھوں کے برابر ہاتھ اٹھانا مستحب ہےاور یہ کہ جب (نمازی) سجدے سے سر اٹھائے تو رفع الیدین نہ کرے
Sahih Muslim
28
Chapter: Affirming The Takbir For Every Movement Up Or Down In The Prayer, Except When Rising From Ruku' When One Should Say: Sami'aAllahu Liman Hamidah (Allah Hears Those Who Praise Him)
نماز میں ہر بار جھکتے اور اٹھتے وقت تکبیر کہنا ثابت ہے، سوائے رکوع سے سر اٹھانے کے، وہاں صرف سمع الله لمن حمده کہا جائے گا
Sahih Muslim
29
Chapter: The Prohibition Of Preceding The Imam In Saying The Takbir Or Anything Else
تکبیر وغیرہ میں امام سے سبقت لے جانے کی ممانعت
Sahih Muslim
30
اذان اور تکبیر کے درمیان نفل نماز
Sahih Muslim
31
CHAPTER: The Imam Should Turn Around After The Taslim.
باب: سلام پھیرنے کے بعد امام کے ( مقتدیوں کی طرف ) مڑنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
32
CHAPTER: The One Behind The Imam Has Been Commanded To Follow The Imam.
باب: مقتدیوں کو حکم ہے کہ وہ امام کی اتباع کریں ۔
Sunnan Abu Dawood
33
CHAPTER: The Sutrah Of The Imam Acts As A Sutrah For Those behind Him.
باب: امام کا سترہ مقتدیوں کے لیے بھی سترہ ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
34
CHAPTER: Remaining Silent After The Beginning Of The Prayer.
باب: نماز شروع کرنے کے وقت ( تکبیر تحریمہ کے بعد ) سکتہ کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
35
CHAPTER: The Takbir After The Salat.
باب: نماز کے بعد تکبیر کہنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
36
عیدین کی نماز میں تکبیرات کی تعداد کتنی ہو گی؟۔
Sunnan Ibn e Maja
37
نماز جنازہ میں چار تکبیرات کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
38
نماز جنازہ میں پانچ تکبیریں کہنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
39
سلام پھیرنے اور مقتدیوں کی طرف پلٹنے کے درمیان امام کی بیٹھک کا بیان۔
Sunnan Nisai
40
امام کے سلام پھیرنے کے بعد تکبیر کہنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
41
نماز سے سلام پھیر کر مقتدیوں کی طرف پلٹنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
42
باب: نماز جنازہ میں تکبیروں کی تعداد کا بیان۔
Sunnan Nisai
43
Chapter: [What Has Been Related] About the Virtue Of the First Takbir
باب: تکبیر اولیٰ کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
44
Chapter: [What Has Been Related] About The Takbir On The Two Eid
باب: عیدین کی تکبیرات کا بیان
Jam e Tirmazi
45
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of At-Tasbih, At-Takbir, At-Tahlil, And At-Tahmid
باب: تسبیح، تکبیر، تہلیل اور تحمید کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
46
بَابُ مَا يُقْرَأُ بَعْدَ التَّكْبِيرِ
تکبیر تحریمہ کے بعد پڑھی جانے والی چیزوں کا بیان
Mishkat
47
بَاب ثَوَابُ التَّسْبِيحِ وَالتَّحْمِيدِ
تسبیح ، تحمید ، تہلیل اور تکبیر کے ثواب کا بیان
Mishkat
48
تکبیر تحریمہ وغیرہ کے وقت رفع الیدین کرنے کا بیان (رفع الیدین قبل از رکوع و بعد از رکوع)
Musnad Ahmad
49
تکبیر تحریمہ کے بعد، قراء ت سے پہلے، {وَلَاالضَّآلِّیْنَ} کہنے کے بعد اور سورت (کی تلاوت)کے بعد یعنی رکوع سے پہلے سکتوں کا بیان
Musnad Ahmad
50
تکبیرات الانتقال کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

470
Musnad Ahmad
2610
۔ (۲۶۱۰) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اِشْتَکٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَصَلَّیْنَا وَرَائَ ہُ وَھُوَ قَاعِدٌ وَأَبُوْبَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یُکَبِّرُ یُسْمِعُ النَّاسَ تَکْبِیْرَہُ فَالْتَفَتَ اِلَیْنَا فَرَآنَا قِیَامًا فَأَشَارَ اِلَیْنَا فَقَعَدْنَا فَصَلَّیْنَا بِصَلَاتِہٖ قُعُوْدًا، فَلَمَّا صَلّٰی قَالَ: ((اِنْ کِدْتُّمْ آنِفًا تَفْعَلُوْنَ فِعْلَ فَارِسَ وَالرُّومِ یَقُوْمُوْنَ عَلٰی مُلُوْکِہِمْ وَھُمْ قُعُوْدٌ فَـلَا تَفْعَلُوْا وَائْتَمُّوْا بِأَئِمَّتِکُمْ، اِنْ صَلّٰی قَائِمًا فَصَلَّوا قِیَامًا وَاِنَّ صَلّٰی قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُوْدًا۔)) (مسند احمد: ۱۴۶۴۴)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ایک دفعہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیمار ہوگئے، اس لیے ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، جبکہ آپ بیٹھے ہوئے تھے اور لوگوں کو سنانے کے لیے سیّدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تکبیر کہہ رہے تھے۔جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہماری طرف توجہ کی تو ہمیں کھڑے پا کر ہماری طرف اشارہ کیا (کہ ہم بیٹھ جائیں)، پس ہم نے بیٹھ کر نماز ادا کی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز سے فارغ ہوئے توفرمایا: قریب تھا کہ تم وہ کام کرو جوفارسی اور رومی کرتے ہیں، وہ اس طرح کہ ان کے بادشاہ بیٹھے ہوتے ہیں اور وہ ان کے پاس کھڑے ہوتے ہیں، سو تم ایسا نہ کرو اور اپنے اماموں کی اقتدا کیا کرو، اگر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھیں تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھا کرو اور اگر وہ بیٹھ کر نماز پڑھیں تو تم بھی بیٹھ کر پڑھو۔
Musnad Ahmad
1905
۔ (۱۹۰۵) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو (ابْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَصِفُ صَلَاۃَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی کُسُوْفِ الشَّمْسِ قَالَ …… وَجَعَلَ یَنْفُخُ فِیْ الْأَرْضِ وَیَبْکِیْ وَھُوَ سَاجِدٌ فِیْ الرَّکْعَۃِ الثَّانِیْۃِ وَجَعَلَ یَقُوْلُ: ((رَبِّ لِمَ تُعَذِّبُہُمْ وَأَنَا فِیْہِمْ، رَبِّ لِمَ تُعَذِّبُنَا وَنَحْنُ نَسْتَغْفِرُکَ۔)) فَرَفَعَ رَأْسَہُ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ، الحدیث۔ (مسند احمد: ۶۴۸۳)
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سورج گرہن کے موقع پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز کی کیفیت بیان کرتے کہا: … … پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دوسری رکعت میں سجدے کی حالت میں زمین پر پھونک مارنا ، رونا اور یہ کہنا شروع کر دیا: رَبِّ لِمَ تُعَذِّبُہُمْ وَأَنَا فِیْہِمْ، رَبِّ لِمَ تُعَذِّبُنَا وَنَحْنُ نَسْتَغْفِرُکَ۔ (اے میرے ربّ! تو ان کو کیوں عذاب دیتا ہے، جب کہ میں ان میں موجود ہوں، تو ہمیں کیوں عذاب دیتا ہے، جبکہ ہم تجھ سے بخشش طلب کر رہے ہیں)۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سر اٹھایا تو سورج صاف ہو چکا تھا، …۔ الحدیث
Musnad Ahmad
2419
۔ (۲۴۱۹) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صُرِعَ النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ فَرَسٍ عَلٰی جِذْع نَخْلَۃٍ فَانْفَکَّتْ قَدمُہُ، فَدَخَلْنَا عَلَیْہِ نَعُوْدُہُ فَوَجَدْنَاہُ یُصَلِّی، فَصَلَّیْنَا بِصَلَاتِہِ وَنَحْنُ قِیَامٌ فَلَمَّا صَلّٰی قَالَ: ((اِنَّمَا جُعِلَ الْاِمَامُ لِیُؤْتَمَّ بِہِ فَاِنْ صَلّٰی قَائِمًا فَصَلُّوا قِیَامًا، وَاِنْ صَلّٰی جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوْسًا، وَلَا تَقُومُوا وَھُوَ جَالِسٌ کَمَا یَفْعَلُ أَھْلُ فَارِسَ بِعُظَمَائِہَا۔)) (مسند احمد: ۱۴۲۵۴)
سیّدناجابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم گھوڑے سے کھجور کے ایک تنے پر گر پڑے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قدم کا جوڑ اتر گیا، ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تیمارداری کرنے کے لیے آپ کے پاس گئے، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (بیٹھ کر) نماز پڑھ رہے تھے، ہم بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز کے ساتھ نماز پڑھنے لگ گئے، جبکہ ہم کھڑے تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز پڑھ لی تو فرمایا: بے شک امام اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، اس لیے اگر وہ کھڑا ہو کر نمازپڑھے تو تم بھی کھڑے ہوکر نماز پڑھو اور اگر وہ بیٹھ کر پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو، جب وہ بیٹھا ہو تو تم کھڑے نہ ہوا کرو، جیسے فارسی لوگ اپنے بڑوں (کی تعظیم کرتے ہوئے ان) کے ساتھ کرتے ہیں۔
Jam e Tirmazi
826
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ أَهَلَّ فَانْطَلَقَ يُهِلُّ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ:‏‏‏‏ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ قَالَ:‏‏‏‏ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ هَذِهِ تَلْبِيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ يَزِيدُ مِنْ عِنْدِهِ فِي أَثَرِ تَلْبِيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏لَبَّيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. نافع کہتے ہیں: عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما نے تلبیہ پکارا اور تلبیہ پکارتے ہوئے چلے، وہ کہہ رہے تھے: «لبيك اللهم لبيك لا شريك لك لبيك إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك» ۔
Nafi` narrated: When Ibn Umar would say the talbiyah he would continue saying: Labbaik Allahumma labbaik. Labbaik la sharika laka labbaik. Innal-hamda wan-ni`mata laka wal-mulk, la sharika laka (I respond to Your call O Allah! I respond to Your call, You have no partner, I respond to You call. All praise, thanks and blessings are for You. And You have no partners with You). He said: Abdullah bin Umar would say: 'This is the Talbiyah of the Messenger of Allah.' He would himself add the following after the Talbiyah of the Messenger of Allah: Labbaik labbaika wa-sa'daik, wal-khairuu fi yadaik. Labbaika war-raghba'u ilaika wal-amal ('I respond to Your call, and I am obedient to Your orders, all good is in Your Hands. I respond to Your call and the requests and deeds are for You).'
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے تھے: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ ہے، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تلبیہ کے اخیر میں اپنی طرف سے ان الفاظ کا اضافہ کرتے: «لبيك لبيك وسعديك والخير في يديك لبيك والرغباء إليك والعمل» ”حاضر ہوں تیری خدمت میں حاضر ہوں تیری خدمت میں اور خوش ہوں تیری تابعداری پر اور ہر طرح کی بھلائی تیرے ہی دونوں ہاتھوں میں ہے اور تیری طرف رغبت ہے اور عمل بھی تیرے ہی لیے ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Musnad Ahmad
32
۔ (۳۲)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ؓ قَالَ: أَنَا مِمَّنْ شَہِدَ مُعَاذًا حِیْنَ حَضَرَتْہُ الْوَفَاۃُ یَقُوْلُ: اِکْشِفُوْا عَنِّی سَجْفَ الْقُبَّۃِ، أُحَدِّثُکُمْ حَدِیْثًا سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، لَمْ یَمْنَعْنِیْ أَنْ أُحَدِّثَکُمُوْہُ إِلَّا أَنْ تَتَّکِلُوْا، سَمِعْتُہُ یَقُوْلُ: ((مَنْ شَہِدَ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ مُخْلِصًا مِنْ قَلْبِہِ أَوْ یَقِیْنًا مِنْ قَلْبِہِ لَمْ یَدْخُلِ النَّارَ، وَقَالَ مَرَّۃً: دَخَلَ الْجَنَّۃَ وَلَمْ تَمَسَّہُ النَّارُ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۴۱۰)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ کہتے ہیں: میں بھی لوگوں کے ساتھ سیدنا معاذ ؓکی وفات کے وقت ان کے پاس حاضر تھا، انھوں نے کہا: قبّے کا پردہ اٹھا دو، میں تمہیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سنی ہوئی ایک حدیث بیان کرتا ہوں، اس سے پہلے یہ حدیث بیان کرنے سے یہ مانع تھا کہ تم توکل کر لو گے، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جو آدمی دل کے اخلاص یا (راوی نے کہا) یقین سے یہ شہادت دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، تو وہ آگ میں داخل نہیں ہو گا، اور ایک دفعہ کہا: تو وہ جنت میں داخل ہو گا اور آگ اس کو نہیں چھو سکے گی۔
Musnad Ahmad
44
۔ (۴۴)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْمُوْجِبَتَانِ، مَنْ لَقِیَ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ لَا یُشْرِکُ بِہِ شَیْئًا دَخَلَ الْجَنَّۃَ، وَمَنْ لَقِیَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَ ہُوَ یُشْرِکُ بِہِ دَخَلَ النَّارَ۔)) (مسند أحمد: ۱۴۷۶۸)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: دو واجب کر دینے والی خصلتیں ہیں، جو آدمی اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملا کہ وہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہو جائے گا اور جو شخص اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے کہ وہ اس کے ساتھ شرک کرتا ہو تو وہ جہنم میں داخل ہو گا۔
Musnad Ahmad
79
۔ (۷۹)۔عَنْ جَرِیْرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بُنِیَ الْاِسْلَامُ عَلٰی خَمْسٍ: شَہَادَۃِ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَ إِقَامِ الصَّلَاۃِ وَ إِیْتَائِ الزَّکَاۃِ وَحَجِّ الْبَیْتِ وَ صَوْمِ رَمَضَانَ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۴۳۹)
سیدنا جریر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے: اللہ تعالیٰ کے ہی معبودِ برحق ہونے کی شہادت دینا، نماز قائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔
Musnad Ahmad
89
۔ (۸۹)۔عَنْ سُفْیَانَ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ الثَّقَفِیِّ ؓ قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قُلْ لِیْ فِیْ الْاِسُلَامِ قَوْلًا لَا أَسْأَلُ عَنْہُ أَحَدًا غَیْرَکَ، قَالَ أَبُوْ مُعَاوِیَۃَ: بَعْدَکَ، قَالَ: ((قُلْ آمَنْتُ بِاللّٰہِ ثُمَّ اسْتَقِمْ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۴۹۴)
سیدنا سفیان بن عبد اللہ ثقفیؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اسلام کے بارے میں کوئی ایسی بات بتائیں کہ آپ کے علاوہ (ابو معاویہ نے آپ کے بعد کے لفظ بولے ہیں) کسی سے اس کے بارے میں سوال کرنے کی گنجائش باقی نہ رہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم کہو کہ میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا ہوں اور پھر اس پر ڈٹ جاؤ۔
Musnad Ahmad
98
۔ (۹۸)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ (ؓ) أَنَّ رَجُلًا قَالَ: یَا رَسُْولَ اللّٰہِ! أَیُّ الْاِسْلَامِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِسَانِہِ وَ یَدِہِ۔)) (مسند أحمد: ۶۷۵۳)
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاصؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا اسلام افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: وہ مسلمان کہ جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ اور سالم رہیں۔