TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نماز جمعہ اور جمعہ کے دن کی فضیلت اور اس کے متعلقات کے ابواب - نماز جمعہ اور جمعہ کے دن کی فضیلت اور اس کے متعلقات کے ابواب - Book 51 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 51 of Musnad Ahmad, with 16 chapters and 131 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

131 Hadith · 16 Chapters
خطیب کے منبر پر چڑھنے سے پہلے نفل نماز پڑھنے کا بیان اور اس چیز کا بیان کہ جب وہ منبر پر چڑھ جائے تو آنے والا دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھے گا
۔ (۲۷۷۵) عَنْ عَطَائٍ الْخُرَا سَانِیِّ قَالَ: کَانَ نُبَیْشَۃُ الْھُذَلِیُّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یُحَدِّثُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَنَّ الْمُسْلِمَ اِذَا اغْتَسَلَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ ثُمَّ أَقْبَلَ اِلَی الْمَسْجِدِ لَایُؤْذِی أَحَدًا فَاِنْ لَمْ یَجِدِ الْاِمَامَ خَرَجَ صَلّٰی مَا بَدَا لَہُ، وَاِنْ وَجَدَ الْاِمَامَ قَدْ خَرَجَ جَلَسَ فَاسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ حَتّٰی یَقْضِیَ الْاِمَامُ جُمُعَتَہُ وَکَلَامَہُ اِنْ لَمْ یُغْفَرْ لَہُ فِی جُمُعَتِہِ تِلْکَ ذُنُوْبُہُ کُلُّہَا، أَنْ تَکُوُنَ کَفَّارَۃً لِلْجُمُعَۃِ الَّتِی قَبْلَھَا۔)) (مسند احمد: ۲۰۹۹۶)
سیّدنا نبیشہ ہذلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسلمان آدمی جب جمعہ کے دن غسل کرتا ہے، پھر مسجد کی طرف آتا ہے اور کسی کو تکلیف نہیں دیتا، اگر وہ دیکھتا ہے کہ امام نہیں آیا تو جب تک مناسب سمجھتا ہے، نماز پڑھتا رہتا ہے اور اگر وہ دیکھتا کہ امام آ گیا ہے تو وہ بیٹھ جاتا ہے اور غور سے سنتا ہے اور خاموش رہتا ہے، یہاں تک کہ امام جمعہ اور خطاب سے فارغ ہو جاتا ہے، اس عمل سے اگر اس کے اِس جمعہ تک کے سارے گناہ معاف نہ کیے گئے تو (مجھے امید ہے) کہ وہ اِس اور پچھلے جمعہ کے مابین ہونے والے گناہوں کا کفارہ بنے گا۔
Takhreej
(۲۷۷۵) تخریـج: …صحیح لغیرہ، وھذا اسناد منقطع، فان عطاء بن ابی مسلم روایتہ عن الصحابۃ مرسلا انظر: ۲۰۷۲۱)
2775
Sahih
خطیب کے منبر پر چڑھنے سے پہلے نفل نماز پڑھنے کا بیان اور اس چیز کا بیان کہ جب وہ منبر پر چڑھ جائے تو آنے والا دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھے گا
۔ (۲۷۷۶) عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کَانَ یَغْدُوا اِلَی الْمَسْجِدِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ فَیُصَلِّی رَکْعَاتٍ یُطِیْلُ فِیْہِنَّ الْقِیَامَ فَاِذَا انْصَرَفَ الْاِمَامُ رَجَعَ اِلٰی بَیْتِہِ فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ وَقَالَ ھٰکَذَا کَانَ یَفْعَلُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۵۸۰۷)
نافع کہتے ہیں کہ سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جمعہ کے دن صبح صبح مسجد کی طرف چلے جاتے، پھر لمبے قیام کے ساتھ نفلی نماز کی رکعات ادا کرتے، جب امام (خطبہ و نماز سے) فارغ ہو جاتا تو گھر واپس لوٹ جاتے اور دو رکعت سنتیں پڑھتے اور کہتے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اسی طر ح کرتے تھے۔
Takhreej
(۲۷۷۶) تخریـج: …اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین أخرجہ أبوداود: ۱۱۲۸(انظر: ۵۸۰۷)
2776
Zaeef
خطیب کے منبر پر چڑھنے سے پہلے نفل نماز پڑھنے کا بیان اور اس چیز کا بیان کہ جب وہ منبر پر چڑھ جائے تو آنے والا دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھے گا
۔ (۲۷۷۷) عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنِ اغْتَسَلَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَلَبِسَ ثِیَابَہُ وَمَسَّ طِیْبًا اِنْ کَانَ عِنْدَہُ ثُمَّ مَشٰی اِلَی الْجُمُعَۃِ وَعَلَیْہِ السَّکِیْنَۃُ وَلَمْ یَتَخَطَّ أَحَدًا وَلَمْ یُؤْذِہِ وَرَکَعَ مَا قُضِیَ لَہُ ثُمَّ انْتَظَرَ حَتّٰی یَنْصَرِفَ الْاِمَامُ غُفِرَلَہُ مَا بَیْنَ الْجُمُعَتَیْنِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۰۷۲)
سیّدنا ابودرداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس شخص نے جمعہ کے دن غسل کیا، کپڑے زیب تن کیے، اگر اس کے پاس خوشبو ہو تو وہ بھی استعمال کی، پھر جمعہ کے لیے مسجد کی طرف سکون اور وقار کے ساتھ چلا اور کسی کے کندھے کو پھلانگا نہ کسی کو تکلیف دی، پھر نماز پڑھی، جتنی اس کے مقدر میں تھی، پھر انتظار کرتا رہا، حتی کہ امام (خطبہ اور نماز سے) فارغ ہو گیا، تو اس کے دو جمعوں کے درمیان کے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔
Takhreej
(۲۷۷۷) تخریـج: …صحیح لغیرہ، وھذا اسناد منقطع، حرب بن قیس لم یسمع من أبی الدرداء أخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘ (انظر: ۲۱۷۲۹)
2777
Sahih
خطیب کے منبر پر چڑھنے سے پہلے نفل نماز پڑھنے کا بیان اور اس چیز کا بیان کہ جب وہ منبر پر چڑھ جائے تو آنے والا دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھے گا
۔ (۲۷۷۸) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ سُلَیْکًا جَائَ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْطُبُ فَجَلَسَ فَأَمَرَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یُصَلِّیَ رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَی النَّاسِ فَقَالَ: ((اِذَا جَائَ أَحَدُکُمْ وَالْاِمَامُ یَخْطُبُ فَلْیُصَلِّ رَکْعَتَیْنِ یَتَجَوَّزْ فِیْہِمَا)) (مسند احمد: ۱۴۲۲۰)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیّدنا سلیک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آئے اور بیٹھ گئے، جبکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو دو رکعت پڑھنے کا حکم دیا اور پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا: جب تم میں سے کوئی (مسجد میں) آئے اور امام خطبہ دے رہا ہو، تو وہ تخفیف کے ساتھ دو رکعت نماز پڑھ لیا کرے۔
Takhreej
(۲۷۷۸) تخریـج: …حدیث صحیح۔ أخرجہ البخاری: ۹۳۱، ومسلم: ۸۷۵ (انظر: ۱۴۱۷۱، ۱۴۳۰۹، ۱۴۴۰۵)
2778
Sahih
جمعہ کی اذان کا بیان جب خطیب منبر پر بیٹھ جائے، نیز اس چیز کا بیان کہ عہد نبوی میں منبر کیسا تھا
۔ (۲۷۷۹) عَنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِیْدَ بْنِ أُخْتِ نَمِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: لَمْ یَکُنْ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلَّا مُؤَذِّنٌ وَاحِدٌ فِی الصَّلَوَاتِ کُلِّھَا فِی الْجُمُعَۃِ وَغَیْرِھَا یُؤَذِّنُ وَیُقِیْمُ، قَالَ: کَانَ بِلَالٌ یُؤَذِّنُ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی الْمِنْبَرِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَیُقِیْمُ اِذَا نَزَلَ وَلِاَبِیْ بَکْرٍ وَعُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ حَتّٰی کَانَ عُثْمَانُ۔ (مسند احمد: ۱۵۸۰۷)
سیّدنا سائب بن یزید سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جمعہ سمیت تمام نمازوں کے لیے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ایک مؤذن تھا، وہی اذان دیتا اور اقامت کہتا تھا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جمعہ والے دن منبر پر تشریف فرما ہوتے تو تب سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ذان دیتے اور جب اترتے تو تب وہ اقامت کہتے، سیّدنا ابو بکر اور سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بھی (ایک ہی مؤذن ہوتا تھا) حتیٰ کہ سیّدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا دور آگیا۔
Takhreej
(۲۷۷۹) تخریـج: …صحیح۔ أخرجہ أبوداود: ۱۰۸۸، وأخرج بنحوہ البخاری: ۹۱۳، ۹۱۵، ۹۱۶ (انظر: ۱۵۷۱۶)
2779
Sahih
جمعہ کی اذان کا بیان جب خطیب منبر پر بیٹھ جائے، نیز اس چیز کا بیان کہ عہد نبوی میں منبر کیسا تھا
۔ (۲۷۸۰) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: کَانَ اَلْأَذَانُ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَذَا نَیْنِ حَتّٰی کَانَ زَمَنُ عُثْمَانَ فَکَثُرَ النَّاسُ فَأَمَرَ بِالْأَذَانِ الْأَوَّلِ بِالزَّوْرَائِ۔ (مسند احمد: ۱۵۸۱۹)
سیّدنا سائب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیّدنا ابوبکر اور سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے زمانے میں دو اذانیں ہوتی تھیں، یہاں تک کہ سیّدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا دور آ گیا اور لوگ زیادہ ہو گئے، اس لیے انھوں نے زوراء پر پہلی اذان کا حکم دے دیا۔
Takhreej
(۲۷۸۰) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۹۱۲(انظر: ۱۵۷۲۸)
2780
Sahih
جمعہ کی اذان کا بیان جب خطیب منبر پر بیٹھ جائے، نیز اس چیز کا بیان کہ عہد نبوی میں منبر کیسا تھا
۔ (۲۷۸۱) عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا خَطَبَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ یُسْنِدُ ظَھْرَہُ اِلَی خَشَبَۃٍ فَلَمَّا کَثُرَ النَّاسُ قَالَ ابْنُولِیْ مِنْبَرًا أَرَادَ أَنْ یُسْمِعَہُمْ فَبَنَوْا لَہُ عَتَبَتَیْنِ فَتَحَوَّلَ مِنَ الْخَشَبَۃٍ اِلَی الْمِنْبَرِ، قَالَ: فَأَخْبَرَنِی أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّہُ سَمِعَ الْخَشَبَۃَ تَحِنُّ حَنِیْنَ الْوَالِہِ قَالَ فَمَا زَالَتْ تَحِنُّ حَتّٰی نَزَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الْمِنْبَرِ فَمَشٰی اِلَیْہَا فَاحْتَضَنَہَا فَسَکَنَتْ ۔ (مسند احمد: ۱۳۳۹۶)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب جمعہ کے دن خطبہ ارشاد فرماتے تو ایک لکڑی کے ساتھ اپنی پیٹھ کی ٹیک لگا لیتے، لیکن جب لوگ زیادہ ہوگئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے لیے ایک منبر تیار کرو۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ارادہ یہ تھا کہ ان کو اپنی بات سنا سکیں، پس صحابہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے دو سیڑھیوں والا منبر تیار کیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس لکڑی والے منبر پر منتقل ہو گئے۔ سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بتلایا کہ انہوں نے (اس پہلے والی) لکڑی کے لیے انتہائی غمگین کی رونے کی سی آواز سنی، وہ لگاتار روتی رہی، یہاں تک کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم منبر سے اترے، اس کی طرف گئے اور اس کو اپنے ساتھ لگایا، سو وہ خاموش ہو گئی۔
Takhreej
(۲۷۸۱) تخریـج: …حدیث صحیح۔ أخرجہ الترمذی: ۳۶۲۷ (انظر: ۱۳۳۶۳)
2781
Sahih
جمعہ کی اذان کا بیان جب خطیب منبر پر بیٹھ جائے، نیز اس چیز کا بیان کہ عہد نبوی میں منبر کیسا تھا
۔ (۲۷۸۲) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ النَّبِیّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عِنْدَ ھٰذِہِ السَّارِیَۃِ وَھِیَ یَوْمَئِذٍ جِذْعُ نَخْلَۃٍ یَعْنِی یَخْطُبُ۔ (مسند احمد: ۴۷۵۵)
سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس ستون کے پاس خطبہ دیتے تھے، جبکہ یہ کھجور کا تنا ہی تھی۔
Takhreej
(۲۷۸۲) تخریـج: …اسنادہ ضعیف لضعف أبی جناب یحیی بن أبی حیۃ الکلبی، وأبوہ أبو حیۃ فی عداد المجھولین (انظر: ۴۷۵۵)
2782
Sahih
دو خطبوں، ان کی کیفیات اورآداب اور ان کے درمیان بیٹھنے کا بیان
۔ (۲۷۸۳) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کُلُّ خُطْبَۃِ لَیْسَ فِیْہَا شَہَادَۃٌ کَالْیَدِ الْجَذْمَائِ)) (مسند احمد: ۸۴۹۹)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر وہ خطبہ، جس میں شہادت نہ ہو، کٹے ہوئے ہاتھ کی طرح ہے۔
Takhreej
(۲۷۸۳) تخریـج: …اسنادہ قوی۔ أخرجہ أبوداود: ۴۸۴۱، والترمذی: ۱۱۰۶ (انظر: ۸۵۱۸، ۸۰۱۸)
2783
Sahih
دو خطبوں، ان کی کیفیات اورآداب اور ان کے درمیان بیٹھنے کا بیان
۔ (۲۷۸۴(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْخُطْبَۃُ الَّتِی لَیْسَ فِیْہَا شَہَادَۃٌ کَالْیَدِ الْجَذْمَائِ)) (مسند احمد: ۸۰۰۴)
(دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس خطبہ میں شہادت نہ ہو، وہ کٹے ہوئے ہاتھ کی طرح ہے۔
Takhreej
(۲۷۸۴تخریـج: …انظر الحدیث بالطریق الأول
2784
Sahih
دو خطبوں، ان کی کیفیات اورآداب اور ان کے درمیان بیٹھنے کا بیان
۔ (۲۷۸۵) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: خَطَبَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَحَمِدَ اللّٰہِ وَأَثْنَی عَلَیْہِ بِمَا ھُوَ لَہُ أَھْلٌ، ثُمَّ قَالَ: ((أَمَّا بَعْدُ فَاِنَّ أَصْدَقَ الْحَدِیْثِ کِتَابُ اللّٰہِ، وَاِنَّ أَفْضَلَ الْھُدٰی ھُدٰی مُحَمَّدٍ ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) وَشَرَّ الْأُمُوْرِ مُحْدَثَاتُہَا وَکُلَّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٌ)) ثُمَّ یَرْفَعُ صَوْتَہُ وَتَحْمَرُّ وَجْنَتَاہُ وَیَشْتَدُّ غَضَبُہُ اِذَا ذَکَرَ السَّاعَۃَ کَأَنَّہُ مُنْذِرُ جَیْشٍ، قَالَ: ثُمَّ یَقُوْلُ: ((أَتَتْکُمُ السَّاعَۃُ، بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَۃُ ھٰکَذَا وَأَشَارَ بِاِصْبَعَیْہِ السَّبَّابَۃِ وَالْوُسْطٰی صَبَّحَتْکُمْ السَّاعَۃُ وَمَسَّتْکُمْ مَنْ تَرَکَ مَالًا فَلِأَھْلِہِ وَمَنْ تَرَکَ دَیْنًا أَوْ ضَیَاعًا فَاِلَیَّ وَعَلَیَّ۔)) وَالضَّیَاعُ یَعْنِی وَلدَہُ الْمَسَاکِیْنَ۔ (مسند احمد: ۱۴۳۸۶)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں خطبہ ارشادفرمایا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اللہ کے لائق اس کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: بے شک سچی ترین بات اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے، سب سے زیادہ فضیلت والا طریقہ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا طریقہ ہے، بدترین امور بدعات ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قیامت کا ذکر کرتے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آواز بلند ہوجاتی، رخسار سرخ ہو جاتے اور غصہ بڑھ جاتا اور یوں لگتا کہ کسی لشکر سے ڈرا رہے ہیں، پھر
Takhreej
(۲۷۸۵) تخریـج: …أخرجہ مسلم: ۸۶۷ (انظر: ۱۴۳۳۴)
2785
Sahih
دو خطبوں، ان کی کیفیات اورآداب اور ان کے درمیان بیٹھنے کا بیان
۔ (۲۷۸۶) عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ الطَّائِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَجُلًا خَطَبَ عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: مَنْ یُطِعِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہُ فَقَدْ رَشَدَ وَمَنْ یَعْصِہِمَا فَقَدْ غَوٰی۔ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بِئْسَ الْخَطِیْبُ أَنْتَ، قُلْ وَمَنْ یَعْصِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۸۴۳۶)
سیّدنا عدی بن حاتم طائی سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس خطاب کیا اور کہا: جس نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی، تحقیق وہ ہدایت پاگیا، اور جس نے ان دونوں کی نافرمانی کی، تحقیق وہ گمراہ ہوگیا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے فرمایا: توبرا خطیب ہے، یہ کہہ اور جس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔
Takhreej
(۲۷۸۶) تخریـج: …أخرجہ مسلم: ۸۷۰ (انظر: ۱۸۲۴۷)
2786
Sahih
دو خطبوں، ان کی کیفیات اورآداب اور ان کے درمیان بیٹھنے کا بیان
۔ (۲۷۸۷) عَنْ أَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَطَبَ قَائِمًا عَلٰی رِجْلَیْہِ ۔ (مسند احمد: ۱۱۲۸۳)
سیّدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی دونوں ٹانگوں پر کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرمایا۔
Takhreej
(۲۷۸۷) تخریـج: …اسنادہ صحیح علی شرط مسلم (انظر: ۱۱۲۶۳)
2787
Sahih
دو خطبوں، ان کی کیفیات اورآداب اور ان کے درمیان بیٹھنے کا بیان
۔ (۲۷۸۸) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ کَانَ یَخْطُبُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ قَائِمًا ثُمَّ یَقْعُدُ ثُمَّ یَقُوْمُ فَیَخْطُبُ۔ (مسند احمد: ۲۳۲۲)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جمعہ کے روز کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرماتے، پھر بیٹھ جاتے اور پھر کھڑے ہو کر (دوسرا) خطبہ دیتے۔
Takhreej
(۲۷۸۸) تخریـج: …حسن، ومدلسا ھذا السند توبعا أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۲/ ۱۱۳، وأبویعلی: ۲۴۹۰، والطبرانی: ۱۲۰۹۱، والبزار: ۶۴۰ (انظر: ۲۳۲۲)
2788
Sahih
دو خطبوں، ان کی کیفیات اورآداب اور ان کے درمیان بیٹھنے کا بیان
۔ (۲۷۸۹) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْطُبُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ مَرَّتَیْنِ بَیْنَہُمَا جَلْسَۃٌ۔ (مسند احمد: ۴۹۱۹)
سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جمعہ کے دن دو مرتبہ خطبہ ارشاد فرماتے اور ان کے درمیان ایک مرتبہ بیٹھتے تھے۔
Takhreej
(۲۷۸۹) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۹۲۰، ۹۲۸، ومسلم: ۸۶۱ (انظر: ۴۹۱۹)
2789
Sahih
دو خطبوں، ان کی کیفیات اورآداب اور ان کے درمیان بیٹھنے کا بیان
۔ (۲۷۹۰)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَجْلِسُ بَیْنَ الْخُطْبَتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۵۶۵۷)یَجْلِسُ (وَفِی رِوَایَۃٍ: ثُمَّ یَقْعُدُ قَعْدَۃً لَا یَتَکَلَّمُ) ثُمَّ یَقُوْمُ فَیَخْطُبُ قَائِمًا۔ قَالَ: فَقَالَ لِی جَابِرٌ: فَمَنْ نَبَّأَکَ أَنَّہُ کَانَ یَخْطُبُ قَاعِدًا فَقَدْ کَذَبَ، فَقَدْ وَاللّٰہِ صَلَّیْتُ مَعَہُ أَکْثَرَ مِنْ أَلْفَی صَلَاۃٍ۔ (مسند احمد: ۲۱۱۳۱)
(دوسری سند)بے شک نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دو خطبوں کے درمیان بیٹھتے تھے۔
Takhreej
(۲۷۹۰)تخریـج: …انظر الحدیث بالطریق الأول
2790
Sahih
دو خطبوں، ان کی کیفیات اورآداب اور ان کے درمیان بیٹھنے کا بیان
۔ (۲۷۹۱) عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ: نَبَّأَنِی جَابِرُ بْنُ سَمُرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ رَاٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَطَبَ قَائِمًا عَلَی الْمِنْبَرِ ثُمَّ یَجْلِسُ (وَفِی رِوَایَۃٍ: ثُمَّ یَقْعُدُ قَعْدَۃً لَا یَتَکَلَّمُ) ثُمَّ یَقُوْمُ فَیَخْطُبُ قَائِمًا۔ قَالَ: فَقَالَ لِی جَابِرٌ: فَمَنْ نَبَّأَکَ أَنَّہُ کَانَ یَخْطُبُ قَاعِدًا فَقَدْ کَذَبَ، فَقَدْ وَاللّٰہِ صَلَّیْتُ مَعَہُ أَکْثَرَ مِنْ أَلْفَی صَلَاۃٍ۔ (مسند احمد: ۲۱۱۳۱)
سماک بن حرب کہتے ہیں: سیّدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے بتلایا کہ اس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے منبر پر کھڑے ہو کر خطبہ دیا، پھر بیٹھ گئے اور اس بیٹھک میں کوئی کلام نہ کی، پھر کھڑے ہوئے (دوسرا) خطبہ دیا۔ پھر سیّدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے کہا: جس نے تجھے یہ خبر دی کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیٹھ کر خطبہ دیتے تھے، تو یقینا اس نے جھوٹ بولا ہے، اللہ کی قسم! میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ دو ہزار سے زیادہ نمازیں پڑھی ہیں۔
Takhreej
(۲۷۹۱) تخریـج: …أخرجہ مسلم: ۸۶۲ (انظر: ۲۰۸۴۲)
2791
Sahih
دو خطبوں، ان کی کیفیات اورآداب اور ان کے درمیان بیٹھنے کا بیان
۔ (۲۷۹۲)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ بَعْدَ قَوْلِہِ فَقَدْ کَذَبَ) قَالَ: وَلٰکِنَّہُ رُبَّمَا خَرَجَ وَرَأَی النَّاسَ فِی قِلَّۃٍ فَجَلَسَ ثُمَّ یَثُوبُونَ ثُمَّ یَقُوْمُ فَیَخْطُبُ قَائِمًا۔ (مسند احمد: ۲۱۱۱۲)
(دوسری سند) اس میں اس نے یقینا جھوٹ بولا کے بعد یہ الفاظ ہیں: لیکن بسا اوقات ایسے ہوتا کہ آپ تشریف لاتے اور دیکھتے کہ لوگ کم ہیں، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیٹھ جاتے، حتی کہ لوگ مسجد میں آتے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوتے اور کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرماتے۔
Takhreej
(۲۷۹۲)تخریـج: … اس سند کے ساتھ مروی زائد الفاظ ضعیف ہے، کیونکہ سلیمان بن قرم ضعیف ہے۔ (انظر: ۲۰۸۲۷)
2792
Zaeef
دو خطبوں، ان کی کیفیات اورآداب اور ان کے درمیان بیٹھنے کا بیان
۔ (۲۷۹۳) وَعَنْہُ أَیْضًا عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ قَالَ: مَا رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَطُّ یَخْطُبُ فِی الْجُمُعَۃِ اِلَّا قَائِمًا، فَمَنْ حَدَّثَکَ أَنَّہُ جَلَسَ فَکَذِّبْہُ فَاِنَّہُ لَمْ یَفْعَلْ، کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْطُبُ ثُمَّ یَقْعُدُ ثُمَّ یَقُوْمُ فَیَخْطُبُ، کَانَ یَخْطُبُ خُطْبَتَیْنِ یَقْعُدُ بَیْنَہُمَا فِی الْجُمُعَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۱۱۵۵)
سیّدنا جابر بن سمرۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کبھی نہیں دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جمعہ کا خطبہ دیتے ہوں، مگر کھڑے ہو کر، اس لیے جو شخص تجھے یہ بیان کرے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیٹھ کر خطبہ دیتے تھے تو تو اسے جھٹلا دے، کیونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایسے نہیں کیا۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خطبہ دیتے، پھر بیٹھ جاتے، پھر کھڑے ہو کر خطبہ دیتے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جمعہ میں دو خطبے ارشاد فرماتے اور اِ ن دو کے درمیان بیٹھتے۔
Takhreej
(۲۷۹۳) تخریـج: …صحیح لغیرہ، وانظر: ۱۵۹۰ (انظر: ۲۰۸۶۵)
2793
Sahih
دو خطبوں، ان کی کیفیات اورآداب اور ان کے درمیان بیٹھنے کا بیان
۔ (۲۷۹۴) عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَکَانَتْ صَلَاتُہُ قَصْدًا وَخُطْبَتُہُ قَصْدًا وَبِہٰذَا الْاِسْنَادِ قَالَ: کَانَتْ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خُطْبَتَانِ یَجْلِسُ بَیْنَہُمَا یَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَیُذَکِّرُ النَّاسَ۔ (مسند احمد: ۲۱۱۷۰)
سیّدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز بھی درمیانی ہوتی تھی اور خطبہ بھی درمیانہ ہوتا تھا۔ اسی سند کے ساتھ وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دو خطبے دیا کرتے تھے، ان کے درمیان بیٹھتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان میں قرآن مجید کی تلاوت کرتے اور لوگوں کو وعظ و نصیحت کرتے تھے۔
Takhreej
(۲۷۹۴) تخریـج: …صحیح لغیرہ، وانظر: ۱۵۹۰ (انظر: ۲۰۸۷۸)
2794
Sahih

Chapters

16
01
یوم جمعہ کی فضیلت کا بیان
6 Hadith
02
فصل: جمعہ کے دن نبی کریم aپر کثرت سے درود بھیجنے کی ترغیب کا بیان
2 Hadith
03
جمعہ کے دن قبولیت کی گھڑی اور اس کے وقت کا بیان
8 Hadith
04
جمعہ کی فرضیت اور اس کو ترک کرنے پر تشدید کا بیان، نیز یہ کن لوگوں پر واجب ہے
11 Hadith
05
عید یا بارش کے دن جمعہ ترک کرنے کے جواز کا بیان
3 Hadith
06
جمعہ کے وقت کا بیان
10 Hadith
07
جمعہ کے لیے غسل کرنے، اچھے کپڑے پہن کر خوبصورتی اختیار کرنے اور خوشبو لگانے کا بیان
22 Hadith
08
جمعہ کے لیے جلدی جانے، پیدل چل کر جانے، نہ کہ سواری پر، امام کے قریب ہو کر بیٹھنے اور خطبہ کے لیے خاموش ہونے وغیرہ کی فضیلت کا بیان
18 Hadith
09
خطیب کے منبر پر چڑھنے سے پہلے نفل نماز پڑھنے کا بیان اور اس چیز کا بیان کہ جب وہ منبر پر چڑھ جائے تو آنے والا دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھے گا
4 Hadith
10
جمعہ کی اذان کا بیان جب خطیب منبر پر بیٹھ جائے، نیز اس چیز کا بیان کہ عہد نبوی میں منبر کیسا تھا
4 Hadith
11
دو خطبوں، ان کی کیفیات اورآداب اور ان کے درمیان بیٹھنے کا بیان
18 Hadith
12
دوران خطبہ باتیں کرنے سے رکے رہنے، لیکن کسی مصلحت کے لیے امام سے بات کرنے یا امام کا بات کرنے کی رخصت اور کسی معاملے کے واقع ہو جانے کی وجہ سے خطبہ منقطع کر دینے کا بیان
10 Hadith
13
جو لوگ خطبۂ جمعہ کے دوران نبی کریمaسے بھاگ گئے تھے، ان کے قصے کا بیان
1 Hadith
14
دو رکعت نماز جمعہ ہونے کا بیان، اس آدمی کا حکم جس سے ایک رکعت رہ جائے یا ہجوم کر دیا جائے اور جمعہ کے صحیح ہونے کے لیے مسجد کی شرط لگانے والے کا بیان
3 Hadith
15
نماز جمعہ میں قراء ت کا بیان
6 Hadith
16
جمعہ کی نماز کے بعد نفل پڑھنے اور ان کو فرض نماز کے ساتھ نہ ملانے کا بیان حتی کہ نمازی کسی سے کلام کرلے یا وہاں سے نکل جائے
5 Hadith
No chapter matched that.