TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

عید کے دن د ف بجانے اور کھیلنے کا بیان

Chapter 11 of عیدین اور ان کے متعلقہ امور مثلا نماز وغیرہ کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 11 of 12 · 6 Hadith
۔ (۲۸۷۴) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ الْحَبَشَۃَ کَانُوا یَلْعَبُوْنَ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی یَوْمِ عِیْدٍ قَالَتْ: فَاطَّلَعْتُ مِنْ فَوْقِ عَاتِقِہِ فَطَأْطَأَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَنْکِبَیْہِ فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ اِلَیْہِمْ مِنْ فَوْقِ عَاتِقِۃِ حَتّٰی شَبِعْتُ ثُمَّ انْصَرَفْتُ۔ (مسند احمد: ۲۴۸۰۰)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: حبشی لوگ عید کے دن (مسجد میں) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس کھیلا کرتے تھے، ایک دن میں بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے کندھے کے اوپر سے دیکھنے لگی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے لیے اپنے کندھے جھکا دیئے، پس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے کندھے کے اوپر سے دیکھتی رہی، حتی کہ میں سیر ہو گئی اور چلی گئی۔
Takhreej
(۲۸۷۴) تخریـج: …أخرجہ بألفاظ مختلفۃ متقاربۃ البخاری: ۵۱۹۰، ومسلم: ۸۹۲، والنسائی: ۳/ ۱۹۵(انظر: ۲۴۲۹۶، ۲۵۳۳۵)
2874
Sahih
۔ (۲۸۷۵) عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ أَبَا بَکْرٍ دَخَلَ عَلَیْھَا وَعِنْدَھَا جَارِیَتَانِ فِی أَیَّامِ مِنًی تَضْرِبَانِ بِدُفَّیْنِ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُسَجًّی عَلَیْہِ بِثَوْبِہِ فَانْتَہَرَھُمَا فَکَشَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَجْہَہُ فَقَالَ: ((دَعْہُمَا یَا أَبَا بَکْرٍ! فَاِنَّہَا أَیَّامُ عِیْدٍ۔)) وَقَالَتْ عَائِشَۃُ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَسْتُرُنِی بِرِدَائِہِ وَأَنَا أَنْظُرُ اِلَی الْحَبَشَۃِ یَلْعَبُوْنَ فِی الْمَسْجِدِ حَتّٰی أَکُوْنَ أَنَا أَسْأَمُ فَأَقْعُدُ، فَاقْدُرُوا قَدْرَ الْجَارِیَۃِ الْحَدِیْثَۃِ السِّنِّ الْحَرِیْصَۃِ عَلَی اللَّہْوِ۔ (مسند احمد: ۲۵۰۴۸)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: سیّدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میرے پاس آئے، جبکہ دو لڑکیاں دف بجا رہی تھیں، یہ مِنٰی والے دن تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کپڑا لپیٹا ہوا تھا، سیّدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کو ڈانٹا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے چہرے سے چادر کو ہٹایا اور فرمایا: ابو بکر! ان کو چھوڑ دو، یہ عید کے دن ہیں۔ پھر سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنی چادر کے ذریعے میرا پردہ کرتے اور میں مسجد میں کھیلنے والے حبشیوں کو دیکھتی رہتی، حتی کہ میں ہی اکتا کر بیٹھ جاتی۔ تم لوگوں کو کم سن اور حریص لڑکی کی قدرت ومنزلت کا اندازہ لگا لینا چاہیے۔
Takhreej
(۲۸۷۵) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۹۴۹، ۹۵۰، ۹۸۷، ۹۸۸، ۳۵۲۹، ۳۵۳۰، ومسلم: ۸۹۲(انظر: ۲۴۵۴۱)
2875
Sahih
۔ (۲۸۷۶) عَنْ ھِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ أَبَا بَکْرٍ دَخَلَ عَلَیْہَا وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عِنْدَھَا یَوْمَ فِطْرٍ أَوْ أَضْحٰی وَعِنْدَھَا جَارِیَتَانِ تَضْرِبَانِ بِدُفَّیْنِ فَانْتَہَرَھُمَا أَبُوْبَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((دَعْنَا یَا أَبَا بَکْرٍ! اِنَّ لِکُلِّ قَوْمٍ عِیْدًا، وَاِنَّ عِیْدَنَا ھٰذَا الْیَوْمُ۔)) (مسند احمد: ۲۵۱۸۹)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: سیّدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میرے پاس آئے، جبکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی میرے پاس تھے اور دو لڑکیاں دف بجا رہی تھیں، یہ عید الفطر یا عید الاضحی کا دن تھا، پس انھوں نے ان کو ڈانٹا، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابوبکر! ہمیں چھوڑ دو، بے شک ہر قوم کے لیے عید ہوتی ہے اور آج ہماری عید ہے۔
Takhreej
(۲۸۷۶) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۹۵۲، ۳۹۳۱، ومسلم: ۸۹۲ (انظر: ۲۴۶۸۲، ۲۵۰۲۸)
2876
Sahih
۔ (۲۸۷۷) (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: دَخَلَ عَلَیْنَا أَبُوْبَکْرٍ فِی یَوْمِ عِیْدٍ وَعِنْدَنَا جَارِیَتَانِ تَذْکُرَانِ یَوْمَ بُعَاثَ، یَوْمٌ قُتِلَ فِیْہِ صَنَادِیْدُ الْأَوْسِ وَالْخَزْرَجِ، فَقَالَ أَبُوْبَکْرٍ: عِبَادَاللّٰہِ أَمُزْمُوْرُ الشَّیْطَانِ؟ عِبَادَ اللّٰہِ أَمُزْمُوْرُ الشَّیْطَانِ؟ عِبَادَ اللّٰہِ أَمُزْمُوْرُ الشَّیْطَانِ؟ قَالَھَا ثَـلَاثًا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا أَبَا بَکْرٍ اِنَّ لِکُلِّ قَوْمٍ عِیْدًا، وَاِنَّ الْیَوْمَ عِیْدُنَا)) (مسند احمد: ۲۵۵۴۲)
(دوسری سند) وہ کہتی ہیں: سیّدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ عید والے دن ہمارے پاس آئے، جبکہ ہمارے پاس دو بچیاں یومِ بُعَاث کاذکر کر رہی تھیں، اوس اور خزرج کے سردار اس دن قتل کیے گئے تھے۔ پس سیّدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے فرمایا: اللہ کے بندو! کیا شیطان کی بانسری؟اللہ کے بندو!کیا شیطان کی بانسری؟ اللہ کے بندو! کیا (یہاں پر) شیطان کی بانسری۔تین مرتبہ یہ بات کہی، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابوبکر! بے شک ہر قوم کے لیے ایک عید ہوتی ہے اور آج ہماری عید ہے۔
Takhreej
(۲۸۷۷) تخریـج: …انظر الحدیث بالطریق الأول
2877
Sahih
۔ (۲۸۷۸) عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی حُسَیْنٍ قَالَ: کَانَ یَوْمٌ لِأَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ یَلْعَبُوْنَ فَدَخَلْتُ عَلَی الرُّبَیِِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْن عَفْرَائَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فَقَالَتْ: دَخَلَ عَلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَعَدَ عَلٰی مَوْضِعِ فِرَاشِیْ ھٰذَا وَعِنْدِی جَارِیَتَانِ تَنْدُبَانِ آبَائِیَ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا یَوْمَ بَدْرٍ تَضْرِبَانِ بِالدُّفُوْفِ، وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّۃً: بِالدُّفِّ فَقَالَتَا فِیْمَا تَقُوْلَانِ: وَفِیْنَا نَبِیٌّ یَعْلَمُ مَا یَکُوْنُ فِیْ غَدٍ۔ فَقَالَ: ((أَمَّا ھٰذَا فَـلَا تَقُوْلَاہُ۔)) (مسند احمد: ۲۷۵۶۷)
ابوحسین کہتے ہیں: مدینے والوں کے لیے ایک دن ہوتا تھا، اس میں وہ کھیلتے تھے، میںسیدہ ربیع بنت معوذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس گیا، انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھ پر داخل ہوئے اور میرے اس بستر پر بیٹھ گئے، جبکہ میرے پاس دو بچیاں تھیں، جو دف بجا کر بدر میں شہید ہونے والے ہمارے آباء کے اوصاف بیان کر رہی تھیں۔ اتنے میں وہ یہ بھی کہنے لگیں: اور ہم میں ایک ایسا نبی ہے جو کل کی بات بھی جانتا ہے۔ لیکن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ بات نہ کہو۔
Takhreej
(۲۸۷۸) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۴۰۰۱، ۵۱۴۷ (انظر: ۲۷۰۲۱)
2878
Sahih
۔ (۲۸۷۹) عَنْ جَابِرٍ عَنْ عَامِرٍ أَنَّ قَیْسَ بْنَ سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: مَا مِنْ شَیْئٍ کَانَ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلَّا وَقَدْ رَأَیْتُہُ اِلَّا شَیْئًا وَاحِدًا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُقَلَّسُ لَہُ یَوْمَ الْفِطْرِ، قَالَ جَابِرٌ ھُوَ اللَّعِبُ۔ (مسند احمد: ۱۵۵۵۸)
سیّدنا قیس بن سعد بن عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں جو چیز بھی تھی، وہ میں نے دیکھ لی ہے، سوائے ایک چیزکے اور وہ یہ ہے کہ عید الفطر والے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے دف بجا کر گایا جاتا تھا۔ جابر کہتے ہیں: اس سے مراد کھیلنا ہے۔
Takhreej
(۲۸۷۹) تخریـج: …اسنادہ ضعیف لضعف جابر بن یزید الجعفی أخرجہ ابن ماجہ: ۱۳۰۳(انظر: )
2879
Zaeef

Chapters

12
01
ان دونوں کی مشروعیت کے سبب، ان کے لیے غسل اور تجمّل کے مستحب ہونے اور واپسی پر راستہ تبدیل کرنے کا بیان
5 Hadith
02
عورتوں کا عیدین کی طرف جانے کی مشروعیت
5 Hadith
03
عید الفطر کے موقع پر نکلنے سے پہلے کھانے کا مستحب ہونا، نہ کہ عید الاضحی میں اور ان دونوں میں نماز کے وقت پر کلام کرنے کا بیان
6 Hadith
04
خطبہ سے قبل اذان و اقامت کے بغیر نماز عید کے دو رکعت کے ہونے کا اور عیدگاہ میں امام کے سامنے سترہ رکھنے کا بیان
9 Hadith
05
عیدین کے دن امام کے سامنے برچھی یا نیزہ گاڑھنے کا بیان
1 Hadith
06
عید کی نماز میں تکبیرات کی تعداد اور ان کے محل کا بیان
5 Hadith
07
عیدین میں قرا ء ت کا بیان
4 Hadith
08
عیدین کے خطبہ اور اس کے احکامات کا بیان، اور عورتوں کو وعظ کرنے اور ان کو صدقہ کرنے پر ابھارنے کا بیان
9 Hadith
09
عید کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد امام کا لوگوں کے سامنے کھڑا ہونے ان کی طرف دیکھنے اور عید کی مبارک دینے کا بیان
1 Hadith
10
’’سیّدناعبد اللہ بن عمرd عید والے دن نکلے اور نمازِ عید سے پہلے یا بعد میں کوئی نفلی نماز نہ پڑھی، پھر انھوں نے کہا کہ نبی کریمaنے ایسے ہی کیا تھا۔‘‘
3 Hadith
11
عید کے دن د ف بجانے اور کھیلنے کا بیان
6 Hadith
12
عیدین، دس دنوں اور ایام تشریق میں ذکر کرنے، اطاعت کے کام کرنے اور تکبیرات کہنے پر ابھارنے کا بیان
5 Hadith
No chapter matched that.