عبد اللہ بن رافع مخزومی کہتے ہیں: سیدہ ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منبر پر جلوہ افروز ہو کر فرمایا: اے لوگو! جب کہ میں کنگھی کر رہی تھی، میں نے کنگھی کرنے والی خاتون سے کہا: میرا سر ڈھانپ دے، اس نے کہا: میں تجھ پر قربان جاؤں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو فرما رہے ہیں: اے لوگو! میں نے کہا: تیرا ناس ہو، کیا ہم لوگ نہیں ہیں، پس اس نے اس کا سر ڈھانپ دیا اور وہ اپنے حجرے میں کھڑی ہو گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: لوگو! میں حوض پر ہوں گا، تم لوگوں کو گروہوں کی شکل میں لایا جائے گا، پس تمہارے راستے جدا جدا ہو جائیں، (کوئی حوض کے راستے پر چل پڑے گا اور کوئی کسی اور راستے پر) اس لیے میں آ واز دوں گا: خبردار! اس راستے کی طرف آؤ، لیکن میرے پیچھے سے ایک آواز دینے والا مجھے آواز دے گا: بیشک ان لوگوں نے آپ کے بعد دین کو بدل دیا تھا، پس میں کہوں گا: خبردار! بربادی ہو، خبردار! بربادی ہو۔
Takhreej
(۳۴۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۲۹۵(انظر: ۲۶۵۴۶)
Explanation
فوائد:… پچھلے باب میں بدعت کی حقیقت کو واضح کیا جا چکا ہے، اس باب میں بدعتی لوگوں کے انجام بد کا بیان ہے، مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی فکر، قول اور فعل کا قرآن و حدیث کے احکام کے ساتھ موازنہ کریں، اگرچہ فرقہ پرستی اور تعصب کے دور میں یہ موازنہ مشکل ہو گیا ہے، بہرحال فکرمند لوگوں کے لیے آسانیاں ہی آسانیاں ہیں۔
سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ضرور ضرور اپنے سے پہلے والے لوگوں کے طریقوںکی اس طرح پیروی کرو گے، جیسے بالشت کے برابر بالشت اور ہاتھ کے برابر ہاتھ ہوتا ہے، یہاں تک کہ اگر وہ لوگ گو کے بِل میں گھسے تو تم بھی اس میں ان کے پیچھے چلو گے۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا یہودی اور عیسائی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اور کون۔
سیدنا ابو ہریرہ ؓ نے بھی اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس میں وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ کے بعد یہ الفاظ ہیں: اور بَاع کے برابر باع ہوتا ہے، یہاں تک کہ اگر وہ لوگ گو کے بِل میں گھسے تو تم بھی ضرور اس میں گھسو گے۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ کون لوگ ہیں، کیا اہل کتاب ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اور کون ہیں۔
سیدنا سہل بن سعد ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم اپنے سے پہلے والے لوگوںکے طریقوں کو ہو بہو اپناؤ گے۔
سیدنا شداد بن اوس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس امت کے برے لوگ اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقوں کے مطابق ایسے ہی چلیں گے، جیسے تیار کیا ہوا تیر دوسرے تیر کے مطابق ہوتا ہے۔
سیدنا ابو واقد لیثیؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حنین کے لیے مکہ مکرمہ سے نکلے، کافروں کی ایک بیری تھی، وہ اس کے پاس قیام کرتے تھے اور اس کے ساتھ اپنا اسلحہ لٹکاتے تھے (اور مجاور بن کر اس کے اردگرد
بیٹھتے تھے)، اس بیری کو ذات ِ انواط کہتے تھے، پس ہم سبز رنگ کی ایک بڑی بیری کے پاس سے گزرے تو ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارے لیے بھی ایک ذات ِ انواط بنائیں، جیسا کہ کافروں کی ذات ِ انواط ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم نے تو وہی بات کہی، جو موسیٰؑ کی قوم نے کہی تھی، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اے موسی! ہمارے لیے بھی ایک معبود ایسا مقرر کر دیجئے! جیسے ان کے یہ معبود ہیں، آپ نے کہا کہ واقعی تم لوگوں میں بڑی جہالت ہے۔ (اعراف: ۱۳۸) یہ مختلف طریقے ہیں، البتہ تم ضرور ضرور اور ایک ایک کر کے پہلے والے لوگوں کے طریقوں کو اپناؤ گے۔
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی حدیث مروی ہے ، البتہ اس میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواباً فرمایا: اَللّٰہُ أَکْبَرُ ، یہ تو وہی بات ہے جو بنو اسرائیل نے موسیٰؑ سے سے کہی تھی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے موسی! ہمارے لیے بھی ایک معبود ایسا مقرر کر دیجئے! جیسے ان کے یہ معبود ہیں، آپ نے کہا کہ واقعی تم لوگوں میں بڑی جہالت ہے۔ (اعراف: ۱۳۸) بیشک تم لوگ اپنے سے پہلے والے لوگوں کے طریقوں کو اپناؤ گے۔
Takhreej
(۳۵۰) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… ان احادیث کا مفہوم یہ ہے کہ جیسے یہودو نصاری نافرمانیوں، بغاوتوں اور اپنے انبیاء ورسل کی مخالفت پر تُل گئے، ایسے ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کے افراد بھی قرآن و حدیث کے ساتھ یہی رویہ اختیار کرلیں گے، آخری حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود ایک مثال کی وضاحت کر دی ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ پیشین گوئی حرف بحرف ثابت ہوئی اور اہل کتاب کی طرح امت ِ اسلامیہ کے افراد نے ہر قسم کی معصیت کا ارتکاب کر دیا، مثلا: شرک و بدعت کی کئی صورتیں، اماموں کی تقلید نا سدید، رشوت، خیانت، حدودِ الٰہی کے نفاذ میں معاشرے کے اعلی اور ادنی افراد میں فرق، ذاتی مقصد کی خاطر آیات و احادیث کو چھپانا اور ان میں اضافہ کرنا اور ان میں باطل تاویل کرنا، حرام و حلال کے خود ساختہ معیار بنانا، غیر اللہ کے نام پر نذر و نیاز، ترکِ نماز، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف جھوٹی باتیں منسوب کرنا، وغیرہ وغیرہ۔
ابو عمران جونی کہتے ہیں کہ سیدنا انس بن مالک ؓ نے کہا: ہم عہد ِ نبوی میں جن امور پر کاربند تھے، آج تو ان میں سے کوئی چیز بھی نظر نہیں آتی۔ ہم نے کہا: پس نماز کہاں ہے؟ انھوں نے کہا: کیا تم نے نماز میں وہ کچھ نہیں کیا جن کو تم خود جانتے ہو؟
ثابت بنانی کہتے ہیں کہ سیدنا سیدنا انس بن مالک ؓ نے کہا: میں جن امور کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں دیکھتا ہے، آج تم میں تو ان میں سے کوئی چیز بھی نظر نہیں آتی، البتہ تمہارا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہنا وہی ہے۔ میں نے کہا: اے ابو حمزہ! نماز (بھی تو وہی ہے)؟ انھوں نے کہا: تو نے تو (عصر کی) نماز غروبِ آفتاب کے وقت پڑھی ہے، کیا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز تھی؟ پھر انھوں نے کہا: اس کے باوجود یہ بات تو ہے کہ میں نے کوئی ایسا زمانہ نہیں دیکھا، جوعامل کے لیے تمہارے اس زمانے سے بہتر ہو، الّا یہ کہ وہ زمانہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت والا ہو۔
Takhreej
(۳۵۲) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم ۔ أخرجہ ابو یعلی: ۳۳۳۰ (انظر: ۱۳۸۶۱)
سیدہ ام درداء ؓ کہتی ہیں: سیدنا ابودرداء ؓمیرے پاس غصے کی حالت میں آئے، میں نے کہا: کس نے آپ کو غصہ دلایا ہے؟ انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! اِن لوگوں میں تو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم پر مشتمل کوئی چیز نظر نہیں آتی، سوائے اس کے کہ یہ نماز اکٹھی پڑھتے ہیں۔ ایک روایت میں ہے: سوائے نماز کے۔
Takhreej
(۳۵۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۵۰ (انظر: ۲۷۵۰۰)
Explanation
فوائد:… آخری صحابی تو۱۱۰ھ میں فوت ہوا، لیکن مختلف وجوہات کی بنا پر اس سے بہت پہلے کئی ایسے امورِ خیر مفقود ہو گئے تھے، جو عہد ِنبوی اور خلافت ِ راشدہ کے ابتدائی دور میں موجود تھے، مطالعہ کرنے والے لوگ جانتے ہیں،اسباب کی تفصیل بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے، پھر آہستہ آہستہ تنزّل آتا گیا اور پندرہویں صدی ہجری شروع ہو گئی، جس میں شرّ، فسا د اور بگاڑ بہت عروج پر ہے۔