TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

روزہ رکھنے اور ترک کرنے کے بارے میں چاند کی رؤیت کے سلسلے میں کیسے افراد کی گواہی پر اکتفا کیا جائے؟ - روزہ رکھنے اور ترک کرنے کے بارے میں چاند کی رؤیت کے سلسلے میں کیسے افراد کی گواہی پر اکتفا کیا جائے؟ - زکوۃ کی ادائیگی کے متعلق ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 9 of زکوۃ کی ادائیگی کے متعلق ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 9 of 12 · 5 Hadith
۔ (۳۶۹۳) عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ زَیْدِ بْنِ الْخَطَّابِ اَنَّہُ خَطَبَ فِی الْیَوْمِ الَّذِییُشَکُّ فِیْہِ، فَقَالَ: اَلَا إِنِّی قَدْ جَالَسْتُ اَصْحَابَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَسَأَلْتُہُمْ، اَلَا وَإِنَّہُمْ حَدَّثُوْنِیْ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((صُوْمُوْا لِرُؤْیَتِہِ وَاَفْطِرُوْا لِرُؤْیَتِہِ وَانْسُکُوْا لَہَا، فَإِنْ غُمَّ عَلَیْکُمْ فَاَتِمُّوْا ثَلَاثِیْنَ، وَاِنْ شَھِدَ شَاہِدَانِ مُسْلِمَانِ، فَصُوْمُوا وَاَفْطِرُوْا)) (مسند احمد: ۱۹۱۰۱)
۔ عبد الرحمن بن زید بن خطاب کہتے ہیں: میں نے ایسے دن میں خطبہ دیا کہ جس کے بارے میں یہ شک کیا جا رہا تھا کہ (وہ شعبان کا ہے یا رمضان کا)، میں نے کہا: میں صحابۂ کرام کے ساتھ بیٹھا ہوں اور ان سے سوالات کیے ہیں، انہوںنے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چاند دیکھ کر روزے رکھا کرو اور چاند دیکھ کر ہی روزے رکھنا ترک کیا کرو اور اسی کے حساب سے دوسری عبادات ادا کرو، اگر کسی وجہ سے چاند چھپ جائے، تو تیس دن پورے کر لو اور اگر دو مسلمان چاند کے نظر آنے یا نہ آنے کی گواہی دے دیں تو اس بنیاد پر روزہ رکھنا شروع کر دو اور ترک کردو۔
Takhreej
(۳۶۹۳) تخر یـج: صحیح لغیرہ۔ اخرجہ النسائی: ۴/۱۳۲(انظر: ۱۸۸۹۵)
3693
Sahih
۔ (۳۶۹۴) عَنْ رِبْعِیِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ بَعْضِ اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: اَصْبَحَ النَّاسُ لِتَمَامِ ثَلَاثِیْنَیَوْمًا، فَجَائَ اَعْرَابِیَّانِ فَشَہِدَا اَنَّہُمَا اَہَلاَّہُ بِالاَمْسِ عَشِیَّۃً، فَاَمَر رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم النَّاسَ اَنْ یُفْطِرُوْا۔ (مسند احمد: ۱۹۰۲۹)
۔ ایک صحابی سے روایت ہے کہ لوگوں نے رمضان کی تیس تاریخ کو روزے کی حالت میں صبح کی، اتنے میں دو بدّو آئے اور انھوں نے یہ گواہی دی کہ انہوں نے کل شام کو چاند دیکھا تھا، اس بنا پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کو اسی وقت روزہ افطار کرنے کا حکم دے دیا۔
Takhreej
(۳۶۹۴) تخر یـج: اسنادہ صحیح۔ اخرجہ ابوداود: ۲۳۳۹(انظر: ۱۸۸۲۳)
3694
Sahih
۔ (۳۶۹۵) عَنْ اَبِی عُمَیْرِ بْنِ اَنَسَ حَدَّثَنِی عُمُوْمَۃٌ لِیْ مِنَ الْاَنْصَارِ مِنْ اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: غُمَّ عَلَیْنَا ہِلَالُ شَوَّالٍ فَاَصْبَحْنَا صِیَامًا، فَجَائَ رَکْبٌ مِنْ آخِرِ النَّہَارِ فَشَہِدُوْا عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُمْ رَاَوُ الْہِلَالَ بِالْاَمْسِ، فَاَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنْ یُفْطِرُوْا مِنْ یَوْمِہِمْ وَاَنْ یَخْرُجُوْا لِعِیْدِہِمْ مِنَ الْغَدِ۔ (مسند احمد: ۲۰۸۶۰)
۔ ابو عمیر بن انس کہتے ہیں: مجھے میرے انصاری چچوں، جو کہ صحابہ میں سے تھے، نے بیان کیاکہ (۲۹ رمضان کو) ان کو شوال کا چاند نظر نہ آیا، اس لیے لوگوں نے صبح کو روزہ رکھ لیا، پھر دن کے پچھلے پہر ایک قافلہ آیا اور انہوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس یہ گواہی دی کہ انہوں نے کل شام کو چاند دیکھا تھا، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ روزہ توڑ دیں اور اگلے دن عید کے لیے نکلیں۔
Takhreej
(۳۶۹۵) اسنادہ جیّد۔ اخرجہ ابوداود: ۱۱۵۷، والنسائی: ۳/ ۱۸۰، وابن ماجہ: ۱۶۵۳(انظر: ۲۰۵۸۴)
Explanation
فوائد:… ان احادیث سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ اگر چاند کی خبر ملنے پر نماز عید کا وقت ختم ہو چکا ہو تو دوسرے دن یہ نماز ادا کی جائے گی۔
3695
Sahih
۔ (۲۶۹۶) عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ عُمُوْمَہً لَہُ شَہِدُوا عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی رُؤْیَۃِ الْہِلَالِ، فَاَمَرَ النَّاسَ اَنْ یُفْطِرُوْا وَاَنْ یَخْرُجُوْا لِعِیْدِہِمْ مِنَ الْغَدِ۔ (مسند احمد:۱۴۰۱۹)
۔ سیدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ان کے چچوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس چاند نظر آ جانے کی گواہی دی، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ روزہ توڑ دیں اور کل کو عید کے لیے نکلیں۔
Takhreej
(۲۶۹۶) صحیح لغیرہ۔ اخرجہ البزار: ۹۷۲، وابن حبان: ۳۴۵۶، والبیھقی: ۴/ ۲۴۹(انظر: ۱۳۹۷۴)
3696
Sahih
۔ (۳۶۹۷) عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِی لَیْلٰی قَالَ: کُنْتُ مَعَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌فَاَتَاہُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنِّی رَاَیْتُ الْہِلَالَ ہِلَالَ شَوَّالٍ۔ فَقَالَ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: یَااَیُّہَا النَّاسُ اَفْطِرُوْا۔ (مسند احمد: ۱۹۳)
۔ عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں: میں سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہمراہ تھا کہ ایک آدمی ان کے پاس آیا اور کہا کہ اس نے کل شوال کا چاند دیکھ لیا تھا، تو سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: لوگو! روزہ توڑ دو۔
Takhreej
(۳۶۹۷) تخر یـج: اسنادہ ضعیف، لضعف عبد الاعلی بن عامر الثعلبی، ثم ھو منقطع، عبد الرحمن بن ابی لیلی لم یسمع من عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قولہ فی ھذا الحدیث ’’کنت مع عمر…‘‘ وہم من عبد الاعلی۔ اخرجہ البیھقی: ۴/ ۲۴۹، والدارقطنی: ۲/ ۱۶۸، والبزار: ۲۴۰(انظر: ۱۹۳)
Explanation
فوائد:… اس باب کی صحیح اور مرفوع احادیث سے معلوم ہوا کہ رؤیت ِ ہلال کے لیے کم از کم دو عادل مسلمانوں کی شہادت ضروری ہے، لیکن درج ذیل حدیث سے ایک مسلمان کی شہادت کی قبولیت کا ثبوت مل رہا ہے: سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کہتے ہیں: تَرَائَ ی النَّاسُ الْھِلَالَ فَأَخْبَرْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِنِّیْ رَأَیْتُہٗ، فَصَامَ وَأَمَرَ النَّاسَ بِصِیَامِہٖ۔ لوگوں نے (رمضان کا) چانددیکھنے کی کوشش کی، میں نے اللہ کے رسول کو خبر دی کہ میں نے چاند دیکھ لیا ہے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خود بھی روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ (ابوداود: ۲۳۴۲) اب رؤیت ِ ہلال کے لیے ایک شخص پر اعتبار کیا جائے یا دو کی گواہی ضروری ہے، اس بارے میں کل تین آراء سامنے آ گئیں: (۱) ایک مسلمان کی شہادت بھی جائز اور درست ہے، کیونکہ جن احادیث میں دو افراد کی گواہی کا حکم دیا ہے گیا، ان کا مفہوم یہ ہے کہ ایک کی شہادت قبول نہ کی جائے، جبکہ مذکورہ بالا سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کی روایت کا منطوق یہ ہے کہ ایک کی گواہی بھی قبول کی جا سکتی ہے اور اصول فقہ کا یہ مسلمہ قاعدہ ہے کہ جب مفہوم اور منطوق میں تضاد آ جائے تو منطوق کو ترجیح دی جائے گی۔ (۲)دو افراد کی شہادت ضروری ہے، جیسا کہ اس باب کی احادیث کا تقاضہ ہے، جن احادیث میں ایک فرد کی گواہی کا ذکر ہے، اِن کے نزدیک ان کی تاویل کی جاتی ہے کہ ممکن ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دوسرے لوگوں نے بھی چاند کے نظر آنے کی اطلاع دی ہو۔ (۳)ابتدائے رمضان کے لیے ایک فرد کی شہادت کافی ہے، لیکن انتہائے رمضان کے لیے دو گواہوں کا ہونا ضروری ہے، تاکہ جھوٹ کی تہمت کا شبہ دور ہو جائے، کیونکہ طبعی طور پر لوگوں کا میلانیہ ہوتا ہے کہ رمضان (۲۹) تاریخ کی شام کو ہی ختم ہو جائے۔ ہمارے نزدیک پہلا قول راجح ہے، دوسرے مسلک والوں نے ایک فرد کی شہادت والی احادیث کی جو تاویل کی ہے، یہ خواہ مخواہ کا احتمال ہے، اِن احادیث کے ظاہری الفاظ اس کی اجازت نہیں دیتے، اسی طرح رمضان کی ابتداء و انتہاء میں فرق کرنا بلا دلیلہے، جیسے ایک فرد کی شہادت کی بنا پر رمضان کو شروع کیا جا سکتا ہے، اسی طرح ختم بھی کیا جا سکتا ہے۔ عادل: اس شخص کو عادل کہتے ہیں، جو مسلمان ہو، عاقل ہو، بالغ ہو اور فسق و فجور سے محفوظ ہو۔
3697
Zaeef

Chapters

12
01
روزوں کی فضیلت، تعداد اور نیت کا بیان مطلق طور پر روزوں کی فضیلت کا بیان
16 Hadith
02
رمضان کے روزوں اور قیام کی فضیلت کا بیان
9 Hadith
03
ماہِ رمضان اور اس میں کیے گئے عمل کی فضیلت کا بیان
8 Hadith
04
ماہِ رمضان کے روزوں اور اس میںکیے جانے والے دوسرے اعمال میں سستی کرنے والے کے لیے وعید کا بیان
1 Hadith
05
روزے کی فرضیت میں پیش آنے والے مختلف احوال، رمضان کے روزوں کے وجوب اور ان کی فرضیت کی ابتدا کا بیان
3 Hadith
06
ماہِ رمضان کا آغاز اور اختتام چاند کو دیکھ کر کرنے اور بادل وغیرہ کی وجہ سے چاند نظر نہ آنے کی صورت میں تیس دن پورے کرنے کا بیان
9 Hadith
07
جب بادلوں کی وجہ سے رمضان کا چاندنظر نہ آئے تو شعبان کے تیس دن پورے کرنے کا خصوصی طور پر بیان
6 Hadith
08
ماہِ رمضان سے پہلے ایکیا دو دن روزے رکھنے اور شک والے دن کا روزہ رکھنے کا بیان
2 Hadith
09
روزہ رکھنے اور ترک کرنے کے بارے میں چاند کی رؤیت کے سلسلے میں کیسے افراد کی گواہی پر اکتفا کیا جائے؟
5 Hadith
10
اس بات کا بیان کہ جب ایک علاقے میں چاند نظر آ جائے اور دوسرے میں نہ آئے تو کیا دوسرے علاقے والوں کے لیے روزہ رکھنا لازم ہو گا یا نہیں؟
1 Hadith
11
خاص طور پر مہینے کا (۲۹) دنوں کا ہونے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان ’’دو مہینے ناقص نہیں ہوتے‘‘کے درمیان جمع و تطبیق کا بیان
4 Hadith
12
رات کو روزے کی نیت کر لینے کے وجوب اور اور اس شخص کے حکم کا بیان کہ جس پر رمضان کے مہینےیا اس کے کسی دن کے دوران روزے فرض ہو جاتے ہیں
6 Hadith
No chapter matched that.