TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

رات کو روزے کی نیت کر لینے کے وجوب اور اور اس شخص کے حکم کا بیان کہ جس پر رمضان کے مہینےیا اس کے کسی دن کے دوران روزے فرض ہو جاتے ہیں - رات کو روزے کی نیت کر لینے کے وجوب اور اور اس شخص کے حکم کا بیان کہ جس پر رمضان کے مہینےیا اس کے کسی دن کے دوران روزے فرض ہو جاتے ہیں - زکوۃ کی ادائیگی کے متعلق ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 12 of زکوۃ کی ادائیگی کے متعلق ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 12 of 12 · 6 Hadith
۔ (۳۷۰۳) عَنْ حَفْصَۃَ (زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((مَنْ لَمْ یُجْمِعِ الصِّیَامَ مَعَ الْفَجْرِ فَلَا صِیَامَ لہُ۔)) (مسند احمد: ۲۶۹۸۹)
۔ زوجۂ رسول سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے فجر کے ساتھ روزے کی نیت نہیں کی، اس کا کوئی روزہ نہیں ہو گا۔
Takhreej
(۳۷۰۳) تخر یـج: اسنادہ ضعیف، فیہ ابن لھیعۃ سییء الحفظ، ثم انہ اختلف علیہ۔ اخرجہ ابوداود: ۲۴۵۴، والترمذی: ۷۳۰، والنسائی: ۴/ ۱۹۶، وابن ماجہ: ۱۷۰۰(انظر: ۲۶۴۵۷)
Explanation
فوائد:… ابو داود اور ترمذی میں ’’مَعَ الْفَجْرِ‘‘ کی بجائے ’’قَبْلَ الْفَجْرِ‘‘ کے الفاظ ہیں۔ اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ آدمی طلوع فجر سے پہلے روزے کی نیت نہیں کر لے گا، اس کا روزہ نہیں ہو گا، لیکن اگلی روایات اور ان کی شرح سے یہ معلوم ہو گا کہ اس حدیث کا تعلق اس شخص سے ہے، جس نے فرضی روزہ رکھنا ہو اور اس کو اس روزے کا علم بھی ہو اور وہ جاگ بھی رہا ہو۔ مزید آپ بغور اگلی روایات اور ان کی شرح کا مطالعہ کریں گے۔
3703
Zaeef
۔ (۳۷۰۴) عَنْ عَائِشَہَ بِنْتِ طَلْحَۃَ عنَ ْعاَئِشَہَ اُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَاْتِیَہَا وَہُوَ صَائِمٌ، فَیَقُوْلُ: ((اَصْبَحَ عِنْدَکُمْ شَیْئٌ تُطْعِمُوْنِیْہِ؟)) فَتَقُوْلُ: لاَ، مَا اَصْبَحَ عِنْدَنَا شَیْئٌ کَذَاکَ، فَیَقُوْلُ: ((إِنِّی صَائْمٌ۔)) ثُمَّ جَاَء َہَا بَعْدَ ذَلِکَ (وَفِی رِوَایَۃٍ: ثُمَّ جاَئَ یَوْمًا آخَرَ) فَقَالَتْ: اُہْدِیَتْ لَنَا ہَدِیَّۃٌ فَخَبَأْ نَاہَا لَکَ، قَالَ: ((مَا ہِیَ؟)) قَالَتْ: حَیْسٌ، قَالَ: ((قَدْ اَصْبَحْتُ صَائِمًا۔)) فَاَکَلَ۔ (مسند احمد: ۲۴۷۲۴)
۔ ام المومنین سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم روزے کی حالت میں میرے ہاں تشریف لاتے اور پوچھتے: تمہارے ہاں کوئی ایسی چیز ہے جو مجھے کھلا سکو؟ میں کہتی: جی نہیں، ہمارے پاس تو کوئی چیز نہیں ہے، یہ سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرماتے: تو پھر میں روزے دار ہوں۔ پھر ایک دن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس آئے اور میں نے کہا: ہمیں ایک ہدیہ دیا گیا تھا، ہم نے آپ کے لیے چھپا رکھا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ میں نے کہا: حَیْس ہے، (یعنی کھجور، گھی اور پنیر کا حلوہ)۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آج تو میں نے روزہ رکھا ہوا تھا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے کھا لیا۔
Takhreej
(۳۷۰۴) تخر یـج: اخرجہ مسلم: ۱۱۵۴(انظر: ۲۴۲۲۰)
Explanation
فوائد:… سنن نسائی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہ کھانا کھا لیا، تو سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو بڑا تعجب ہوا اور انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ میرے پاس روزے کی حالت میں تشریف لائے، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حَیْس کھا لیا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((نَعَمْ، یَا عَائِشَۃُ! اِنَّمَا مَنْزِلَۃُ مَنْ صَامَ فِیْ غَیْرِ رَمَضَانَ أَوْ غَیْرِ قَضَائِ رَمَضَانَ اَوْ فِیْ التَّطَوُّعِ بِمَنْزِلَۃِ رَجُلٍ اَخْرَجَ صَدَقَۃَ مَالِہٖفَجَادَمِنْھَابِمَاشَائَفَاَمْضَاہُوَبَخِلَمِنْھَابِمَابَقِیَ فَاَمْسَکَہٗ۔)) ’’جی ہاں، عائشہ! جس آدمی نے رمضان اور قضائے رمضان کے علاوہ کوئی نفلی روزہ رکھا ہوا ہو تو وہ اس آدمی کی طرح ہے، جو اپنے مال میں سے صدقہ کے لیے (کچھ رقم) نکالے، لیکن پھر اس میں سے جتنی مقدار چاہے صدقہ کر دے اور جتنی مقدار چاہے روک لے۔‘‘ نسائی کی ایک اور روایت میں ہے: فَاَکَلَ مِنْہُ ثُمَّ قَالَ: ((اِنَّمَا مِثْلُ صَوْمِ الْمُتَطَوِّعِ مِثْلُ الرَّجُلِ یُخْرِجُ مِنْ مَالِہٖ الصَّدَقَۃَ فَاِنْ شَائَ اَمْضَاھَا وَاِنْ شَائَ حَبَسَھَا۔) پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہ کھانا کھایا اور فرمایا: ’’نفلی روزہ رکھنے والے کی مثال اس آدمی کی طرح ہے، جو اپنے مال سے صدقہ کے لیے کچھ مال نکالتا ہے، لیکن پھر چاہے تو اسے صدقہ کر دے اور چاہے تو روک لے۔‘‘ اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ آدمی صدقہ کی نیت سے اپنے مال میں سے کچھ مال علیحدہ کرتا ہے، لیکن ابھی تک اسے یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اس سارے معین مال کا صدقہ کر دے یا سارے کو روک لے، یا کچھ روک لے اور کچھ صدقہ کر دے۔ بالکل اسی طرح نفلی روزہ رکھنے والے کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ روزہ توڑ بھی سکتا ہے اور پورا بھی کر سکتا ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نفلی روزے کی نیت طلوع فجر کے بعد بھی کسی جا سکتی ہے، لیکنیہ اس صورت میں ہو گا کہ متعلقہ آدمی نے سحری سے لے کر اس وقت تک کھایا پیا نہ ہو اور دوسرا مسئلہ یہ ثابت ہوا کہ نفلی روزہ بلا عذر توڑا جا سکتا ہے، اگرچہ افضل یہی ہے کہ اس کو پورا کیا جائے۔ درج ذیل احادیث میں ایک انتہائی مسئلے کا بیان ہے اور وہ یہ ہے کہ جس آدمی پر سحری کے وقت کے گزر جانے کے بعد روزہ فرض ہو، مثلا: سحری کا وقت گزر جانے کے بعد کسی وقت میں پاگل کی دیوانگی کا دور ہو جانا، بچے کا بالغ ہو جانا، کافر کا مشرّف باسلام ہونا اور رمضان کے چاند کے نظر آنے کی اطلاع موصول ہونا، ایسی صورتوں میں متعلقہ لوگ کیا کریں گے؟ درج ذیل احادیث میں ان سوالات کے جوابات ملاحظہ فرمائیں۔
3704
Sahih
۔ (۳۷۰۵) عَنْ خَالِدِ بْنِ ذَکْوَانِ قَالَ: سَاَلْتُ الرُّبَیِّعَ بِنْتَ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَائَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا عَنْ صَوْمِ عَاشُوْرَائَ فَقَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ عَاشُوْرَائَ: ((مَنْ اَصْبَحَ مِنْکُمْ صَائِمًا؟)) قَالَ: قَالُوْا: مِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ، قَالَ: ((فَاَتِمُّوا بَقِیَّۃَیَوْمِکُمْ وَاَرْسِلُوْا إِلٰی مَنْ حَوْلَ الْمَدِیْنَۃِ فَلْیُتِمُّوْا بَقِیَّۃَیَوْمِہِمْ۔)) (مسند احمد: ۲۷۵۶۶)
۔ خالد بن ذکوان کہتے ہیں: میں نے سیدہ ربیع بنت معوذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے یومِ عاشورکے روزے کے بارے میں پوچھا، انہوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عاشوراء کے دن پوچھا تھا: تم میں سے کس کس نے روزہ رکھا ہوا ہے؟ صحابہ نے کہا: جی ہم میں سے کسی نے روزہ رکھا ہوا ہے اور کسی نے نہیں رکھا ہوا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم بقیہ دن کا روزہ پورا کرو اور مدینہ منورہ کے گرد و نواح میں بھی اعلان کرا دو کہ وہ بھی بقیہ دن کا روزہ رکھ لیں۔
Takhreej
(۳۷۰۵) اسنادہ ضعیف لضعف علی بن عاصم الواسطی، لکن انظر الحدیث بالطریق الثانی (انظر: ۲۷۰۲۶)
3705
Zaeef
۔ (۳۷۰۶) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: حَدَّثَتْنِیْ رُبَیِّعُ بِنْتُ مُعَوِّذٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: بعَثَ َرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ قُرَی الْاَنْصَارِ قَالَ: ((مَنْ کَانَ مِنْکُمْ صَائِمًا فَلْیُتِمَّ صَوْمَہُ وَمَنْ کَانَ اَکَلَ فَلْیَصُمْ بَقِیَّۃَ عَشِیَّۃِیَوْمِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۷۵۶۵)
۔ (دوسری سند) سیدہ ربیع بنت معوذ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انصار کی بستیوں میں یہ اعلان کرنے کے لیے ایک بندے کو بھیجا: جس نے روزہ رکھاہوا ہو، وہ تو اپنا روزہ پورا کرے اور جس نے کچھ کھا پی لیا ہو، وہ بھی دن کے پچھلے پہر یعنی بقیہ حصے کا روزہ رکھ لے۔
Takhreej
(۳۷۰۶) تخر یـج: اخرجہ البخاری: ۱۹۶۰، ومسلم: ۱۱۳۶(انظر: ۲۷۰۲۵))
3706
Sahih
۔ (۳۷۰۷) عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہُ۔ (مسند احمد: ۸۷۰۱)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے گزشتہ حدیث جیسی حدیث بیان کی ہے۔
Takhreej
(۳۷۰۷) تخر یـج: صحیح لغیرہ (انظر: ۸۷۱۶)
3707
Sahih
۔ (۳۷۰۸) عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ اَبِی الْمِنْہَالِ بْنِ مَسْلَمَۃَ الْخُزَاعِیِّ عَنْ عَمِّہِ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لِاَسْلَمَ: ((صُوْمُوا الْیَوْمَ۔)) قَالُوْا: إِنَّا قَدْ اَکَلْنَا قَالَ: ((صُوْمُوْا بَقِیَّۃَیَوْمِکُمْ۔)) یَعْنِییَوْمَ عَاشُوْرَائَ۔ (مسند احمد: ۲۰۵۹۵)
۔ ا بو منہال عبد الرحمن اپنے چچا سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یومِ عاشورا کو بنو اسلم کے قبیلہ کے لوگوں سے فرمایا: آج روزہ رکھو۔ انہوں نے کہا: ہم نے تو کھا پی لیا ہے،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بقیہ دن کا روزہ رکھ لو۔
Takhreej
(۳۷۰۸) تخر یـج: صحیح لغیرہ۔ اخرجہ ابوداود: ۲۴۴۷، والنسائی: ۲۸۵۰ (انظر: ۲۰۳۲۹)
Explanation
فوائد:… شیخ البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کہتے ہیں: یہ حدیث ِ مبارکہ دو اہم فوائد پر مشتمل ہے: (اول):… ابتدائے اسلام میں عاشورا (محرم کی دس تاریخ) کا روزہ فرض تھا، جیسا کہ اس کے لیے کیے گئے اہتمام اور کھانا کھا لینے والوں کو دن کے باقی حصے کا روزہ رکھنے کے حکم سے عیاں ہو رہا ہے، کیونکہ نفلی روزے میں اس قسم کا کوئی تصور نہیں پایا جاتا کہ صبح کھانا کھا لینے کے بعد اس کی تکمیل کی جائے، جیسا کہ ابن قیم ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے (تہذیب السنن: ۳/ ۳۲۷)میں اس کی وضاحت کی ہے۔ نیز اس موضوع کی دیگر احادیث سے بھی معلوم ہوتاہے کہ یہ عاشورا کا روزہ فرض تھا، رمضان کے روزوں کی فرضیت کے بعد عاشورا کا روزہ مستحب قرار دیا گیا۔ (دوم):… جس آدمی پر روزہ سحری کے وقت کے گزر جانے کے بعد فرض ہو، مثلا: سحری کا وقت گزر جانے کے بعد کسی وقت پاگل کی دیوانگی کا دور ہو جانا، بچے کا بالغ ہو جانا، کافر کا مشرّف باسلام ہونا اور رمضان کے چاند کے نظر ٓنے کی اطلاع موصول ہونا۔ ان تمام صورتوں میں ان تمام افراد پر جب روزہ فرض ہو گا، اسی وقت ان کا نیت کر لینا کافی ہو گا، اگرچہ انھوں نے کھا پی بھی لیا ہو، مجبوری کییہ حالتیں درج ذیل حدیث سے مستثنی ہوں گی: ((مَنْ لَمْ یُجْمِعِ الصِّیَامَ قَبْلَ الْفَجْرِ فَلَا صِیَامَ لَہٗ۔)) ’’جسنےطلوعفجرسےپہلےپہلےروزےکی نیت نہ کی، اس کا کوئی روزہ نہیں ہو گا۔‘‘ یہ صحیح حدیث ہے، میں نے (صحیح أبی داود: ۲۱۱۸) میں اس کی تحقیق پیش کی ہے۔ ہم نے اس حدیث سے جو استدلال پیش کیا ہے، امام ابن حزم، امام ابن تیمیہ امام شوکانی اور دیگر محققین کی بھییہی رائے ہے۔ اعتراض:… اس حدیث کا تعلق تو یوم عاشورا سے ہے، جبکہ اس سے استدلال کر کے رمضان کے بارے میں جو دعوی پیش کیا گیا ہے، وہ عام ہے؟ جواب:… لفظوں کی حد تک یہ اعتراض درست ہے، حقیقتیہ ہے کہ عاشورا کا روزہ بھی فرض تھا اور رمضان کے روزے بھی فرض ہیں، دونوں کا مشترک وصف فرضیت ہے، اس لیے ہمارا استدلال درست ہے۔ ابو الحسن سندھی نے سنن ابن ماجہ کے حاشیہ میں کہا: جو احادیث عاشورا کے روزے کی فرضیت پر دلالت کرتی ہیں، ان میں سے ایک حدیثیہ بھی ہے، جس کے مطابق آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس روزے کا اتنا اہتمام کیا کہ اس سے اس کا فرض ہونا لازم آتا ہے۔ ہاں یہ بات درست ہے کہ دوسری احادیث اس روزے کے منسوخ ہونے کی شہادت دیتی ہیں اور اس کی منسوخیت پر علمائے امت کا اتفاق ہے۔ لیکن اس روزے کے منسوخ ہونے کے باوجود اس سے یہ استدلال کرنا درست ہے کہ دن کو فرضی روزے کی نیت کی جا سکتی ہے۔ اس استدلال کے جواب میں یہ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ عاشورا کا روزہ تو منسوخ ہو چکا ہے، اس لیے اس حدیث سے کوئی استدلال کرنا بے معنی ہو گا، کیونکہ ہم یہکہتے ہیں کہ یہ حدیث دو امور پر دلالت کرتی ہے: (۱) عاشورا کا روزہ فرض ہے اور (۲) دن کو بھی فرضی روزے کی نیت کی جا سکتی ہے۔ پہلا حکم منسوخ ہو چکا ہے، لیکن اس کے نسخ سے دوسرے حکم کا منسوخ ہونا لازم نہیں آتا۔ ابھی تک ایک مسئلہ باقی ہے اور وہ یہ کہ مسلمانوں پر رات کو روزے کی نیت کرنا اس وقت فرض ہوتا ہے، جب ان کو روزے کا علم ہو، اگر طلوع فجر کے بعد دن کے کسی حصے میں پتہ چلے کہ آج تو یکم رمضان ہے، تو ایسی صورت میں اسی وقت نیت کرنا ضروری ہو جاتا ہے، اگر رات کو ہیرمضان کا چاند نظر آنے کا علم ہو جائے تو سحری سے پہلے روزے کی نیت کرنا فرض ہو جاتا ہے۔ میں (البانی) کہتا ہوں کہ مختلف نصوصِ شرعیہ میں یہی جمع و تطبیق حق ہے۔ امام ابن حزم کی (المحلی: ۶/ ۱۱۶) میں پیش کی گئی بحث کا خلاصہ بھییہی ہے، انھوں نے اپنی بحث کے آخر میں کہا: سلف کی ایک جماعت کابھییہی مسلک ہے، جیسا کہ عبد الکریم جزری بیان کرتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے یکم رمضان کی صبح ہو جانے کے بعد یہ گواہی دی کہ انھوں نے رات کو چاند دیکھا تھا۔ ان کی اس شہادت کو معتبر سمجھتے ہوئے عمر بن عبد العزیز نے یہ حکم نافذ کیا: جس نے کچھ کھا پی لیا ہے، وہ دن کے بقیہ حصے میں (کھانے پینے سے) رکا رہے اور جس نے کھایا پیانہیں، وہ اس دن کا روزہ پورا کرے۔ (المصنف لابن ابی شیبہ: ۳/ ۶۹ وسندہ صحیح علی شرط الشیخین) شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کا بھییہی مسلک ہے، وہ (الاختیارات العلمیۃ: ۴/۶۳) میں کہتے ہیں: دن کو فرض روزے کی نیت کر لینا بھی درست ہے، لیکنیہ حکم اس شخص کے لیے جسے رات کو روزوں کی فرضیت کا علم نہ ہو سکا اور طلوع فجر کے بعد دن کے کسی وقت میں شہادتوں کے ذریعے رات کو رمضان کا چاند نظر آنے کا پتہ چلا، ایسا شخص بقیہ دن کا روزہ پورا کرے، اس پر کوئی قضا نہیں ہو گی، اگرچہ اس نے کچھ کھا پی بھی لیا ہو۔‘‘ پھر امام ابن قیم اور امام شوکانی نے بھییہی مسلک اختیار کیا، تفصیلی بحث کا خواہشمند درج ذیل کتب کامطالعہ کرے: مجموع الفتاوی: ۲۵/۱۰۹ ، ۱۱۷۔ ۱۱۸، زاد المعاد: ۱/۲۳۵، تھذیب السنن: ۳/۳۲۸، نیل الاوطار: ۴/۱۶۷ (صحیحہ: ۲۶۲۴)
3708
Sahih

Chapters

12
01
روزوں کی فضیلت، تعداد اور نیت کا بیان مطلق طور پر روزوں کی فضیلت کا بیان
16 Hadith
02
رمضان کے روزوں اور قیام کی فضیلت کا بیان
9 Hadith
03
ماہِ رمضان اور اس میں کیے گئے عمل کی فضیلت کا بیان
8 Hadith
04
ماہِ رمضان کے روزوں اور اس میںکیے جانے والے دوسرے اعمال میں سستی کرنے والے کے لیے وعید کا بیان
1 Hadith
05
روزے کی فرضیت میں پیش آنے والے مختلف احوال، رمضان کے روزوں کے وجوب اور ان کی فرضیت کی ابتدا کا بیان
3 Hadith
06
ماہِ رمضان کا آغاز اور اختتام چاند کو دیکھ کر کرنے اور بادل وغیرہ کی وجہ سے چاند نظر نہ آنے کی صورت میں تیس دن پورے کرنے کا بیان
9 Hadith
07
جب بادلوں کی وجہ سے رمضان کا چاندنظر نہ آئے تو شعبان کے تیس دن پورے کرنے کا خصوصی طور پر بیان
6 Hadith
08
ماہِ رمضان سے پہلے ایکیا دو دن روزے رکھنے اور شک والے دن کا روزہ رکھنے کا بیان
2 Hadith
09
روزہ رکھنے اور ترک کرنے کے بارے میں چاند کی رؤیت کے سلسلے میں کیسے افراد کی گواہی پر اکتفا کیا جائے؟
5 Hadith
10
اس بات کا بیان کہ جب ایک علاقے میں چاند نظر آ جائے اور دوسرے میں نہ آئے تو کیا دوسرے علاقے والوں کے لیے روزہ رکھنا لازم ہو گا یا نہیں؟
1 Hadith
11
خاص طور پر مہینے کا (۲۹) دنوں کا ہونے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان ’’دو مہینے ناقص نہیں ہوتے‘‘کے درمیان جمع و تطبیق کا بیان
4 Hadith
12
رات کو روزے کی نیت کر لینے کے وجوب اور اور اس شخص کے حکم کا بیان کہ جس پر رمضان کے مہینےیا اس کے کسی دن کے دوران روزے فرض ہو جاتے ہیں
6 Hadith
No chapter matched that.