TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نذر کے ابواب - نذر کے ابواب - Book 83 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 83 of Musnad Ahmad, with 8 chapters and 43 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

43 Hadith · 8 Chapters
مسجد ِ اقصی میں نماز کی ادائیگی کی نذر ماننے کو یہ عمل کافی ہو گا کہ وہ مسجد ِ حرام یا مسجد ِ نبوی میں نماز پڑھ لے
۔ (۵۳۹۴)۔ (وَعَنْہٗ اَیْضًا): اَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ سَأَلَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ نَذْرِ کَانَ عَلٰی اُمِّہِ تُوُفِّیَتْ قَبْلَ اَنْ تَقْضِیَہٗ فَقَالَ: ((اقْضِہِ عَنْھَا۔)) (مسند أحمد: ۱۸۹۳)
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا سعد بن عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس نذر کے بارے میں سوال کیا جو اس کی ماں نے مانی تھی، لیکن اس کو پورا کرنے سے پہلے فوت ہو گئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو تو اس کی طرف سے پورا کر دے۔
Takhreej
(۵۳۹۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۷۶۱، ۶۶۹۸، ومسلم: ۱۶۳۸(انظر: ۱۸۹۳)
5394
Sahih
مسجد ِ اقصی میں نماز کی ادائیگی کی نذر ماننے کو یہ عمل کافی ہو گا کہ وہ مسجد ِ حرام یا مسجد ِ نبوی میں نماز پڑھ لے
۔ (۵۳۹۵)۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ أَنَّہُ أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: إِنَّ أُمِّی مَاتَتْ وَعَلَیْہَا نَذْرٌ أَفَیُجْزِئُ عَنْہَا أَنْ أُعْتِقَ عَنْہَا؟ قَالَ: ((أَعْتِقْ عَنْ أُمِّکَ۔)) (مسند أحمد: ۲۴۳۴۷)
۔ سیدنا سعد بن عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور کہا: میری ماں وفات پا گئی ہے، جبکہ ان پر ایک نذر بھی تھی، تو اب اگر میں ان کی طرف سے گردن آزاد کر دوں، توکیا یہ عمل ان کو کفایت کرے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اپنی ماں کی طرف سے آزاد کرو۔
Takhreej
(۵۳۹۵) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ النسائی: ۶/ ۲۵۳(انظر: ۲۳۸۴۶)
5395
Sahih
مسجد ِ اقصی میں نماز کی ادائیگی کی نذر ماننے کو یہ عمل کافی ہو گا کہ وہ مسجد ِ حرام یا مسجد ِ نبوی میں نماز پڑھ لے
۔ (۵۳۹۶)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ امْرَأَۃً نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ فَمَاتَتْ، فَأَتٰی أَخُوہَا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَأَلَہُ عَنْ ذٰلِکَ، فَقَالَ: ((أَرَأَیْتَ لَوْ کَانَ عَلٰی أُخْتِکَ دَیْنٌ أَکُنْتَ قَاضِیَہُ؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((فَاقْضُوا اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ فَہُوَ أَحَقُّ بِالْوَفَائِ)) (مسند أحمد: ۲۱۴۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ ایک خاتون نے حج ادا کرنے کی نذر مانی، لیکن وہ اس نذر کو پورا کرنے سے پہلے فوت ہو گئی، اس کا بھائی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس بارے میں دریافت کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس بارے میں تیرا کیا خیال ہے کہ اگر تیری بہن پر قرض ہوتا تو کیا تو ادا کرتا؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمایا: تو پھر اللہ تعالیٰ کا قرض بھی ادا کرو، کیونکہ وہ ادائیگی کے زیادہ لائق ہے۔
Takhreej
(۵۳۹۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۶۹۹۹ (انظر: ۲۱۴۰)
Explanation
فوائد:… معلوم ہوا کہ میت جس نذر کو پورا نہ کر سکے، اس کے لواحقین کو چاہیے کہ وہ اس کی نذر کو پورا کر دیں۔
5396
Sahih

Chapters

8