۔ سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کی بہن نے نذر مانی کہ وہ ننگے پاؤں اور دوپٹہ لیے بغیر چلے گی، جب اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تیری بہن کی بدحالی سے کوئی معاملہ سر انجام نہیں دینا، اس کو کہو کہ وہ دوپٹہ اوڑھ لے اور سوار ہو جائے اور تین روزے رکھ لے۔
Takhreej
(۵۳۷۴) تخریج: حدیث صحیح دون قولہ ولتصم ثلاثۃ ایام وھذا اسناد ضعیف، عبید اللہ بن زحر محتلف فیہ، أخرجہ أبوداود: ۳۲۹۴، والترمذی: ۱۵۴۴، وابن ماجہ: ۹۸۳(انظر: ۱۷۳۰۶)
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ کی بہن نے اپنے ایک بیٹے کے سلسلے میں نذر مانی کہ وہ ضرور ضرور ننگے پاؤں اور بغیر دو پٹے کے حج کرے گی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بات کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ سوار ہو کر حج کے لیے جائے اور دوپٹہ بھی اوڑھ لے، البتہ روزے رکھ لے۔
Takhreej
(۵۳۷۵) تخریج: حدیث صحیح دون قولھا: فی ابن لھا۔ ، أخرجہ أبوداود: ۳۲۹۳، والنسائی: ۷/۲۰، وابن ماجہ: ۲۱۳۴(انظر: ۱۷۳۰۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسے دو افراد کو پایا کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ بندھے ہوئے تھے اور بیت اللہ کی طرف چل رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’اس رسی کی کیا وجہ ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہم نے نذر مانی تھی کہ ایک دوسرے کے ساتھ بندھ کر بیت اللہ کی طرف چل کر جائیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تو کوئی نذر نہیں ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس رسی کو کاٹ دیا، سریج نے اپنی حدیث میں کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نذر تو صرف وہ ہوتی ہے، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضامندی تلاش کی جائے۔
۔ ایک دیہاتی آدمی اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتا ہے کہ وہ اپنے ایک رشتہ دار کے ساتھ اس طرح حج کے لیے جا رہا تھا کہ وہ اس کے ساتھ بندھا ہوا تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو دیکھا تو پوچھا: یہ کیاہے؟ اس نے کہا: یہ نذر ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس رسی کو کاٹ دینے کا حکم دیا۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک بدّو کو دیکھا کہ وہ دھوپ میں کھڑا ہے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطاب فرما رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تجھے کیا ہو گیا ہے؟ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے نذر مانی ہے کہ آپ کے اس خطاب سے فارغ ہونے تک دھوپ میں کھڑا رہوں گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کوئی نذر نہیں ہے، نذر تو وہ ہوتی ہے، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی تلاش کی جائے۔
فوائد:… جو کام شارع کے ہاں محبوب ہی نہ ہو، اس کی نذر ماننے کا کیا تک ہے، نذر کے ذریعے ایسی چیز کو لازم کیا جاتا ہے، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کاقرب حاصل ہو، مثلا نماز پڑھنا، صدقہ کرنا، حج و عمرہ کرنا، اعتکاف کرنا، وغیرہ۔
۔ سیدنا ابو اسرائیل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے، جبکہ ابو اسرائیل نماز پڑھ رہا تھا، کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلایا کہ اے اللہ کے رسول! یہ ابو اسرائیل ہے، یہ نہ بیٹھتا ہے، نہ لوگوں سے بات کرتا ہے، نہ سائے میں آتا ہے اور یہ روزے کا ارادہ بھی رکھتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو چاہیے کہ وہ بیٹھ جائے، لوگوں سے بات کرے، سائے میں آ جائے اور روزہ رکھے لے۔
فوائد:… نہ بیٹھنا، لوگوں سے بات نہ کرنا اور سایہ حاصل نہ کرنا ایسے امور ہیں کہ جن سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل نہیں کیا جا سکتا، البتہ روزہ اللہ تعالیٰ کاقرب حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو برقرار رکھا۔
۔ ایک آدمی نے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا، جس نے مسجد میں نماز کے لیے حاضر نہ ہونے کی نذر مانی، سیدناعمران رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: غصے میں کوئی نذر نہیں ہے اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے۔
Takhreej
(۵۳۸۰) تخریج: اسنادہ ضعیف جدا، محمد بن الزبیر الحنظلی متروک، وابوہ مجھول، وفیہ رجل مبھم، أخرجہ النسائی: ۷/ ۲۹(انظر: ۱۹۹۵۵)
Explanation
فوائد:… جب تک نذر ماننے والے کا ہوش برقرار رہے گا، اس کی نذر معتبر ہو گی، جس کو پورا نہ کرنے کی صورت کفارہ ادا کرنا پڑے گا۔
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نذر تو قسم ہی ہے، اس لیے اس کا کفارہ بھی نذر والا کفارہ ہے ۔
۔ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک میری توبہ کے قبول ہونے کا تقاضا ہے کہ میں اپنے مال کے بیچ سے نکل جاؤں اور اس کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے لیے صدقہ کردوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کچھ مال اپنے پاس رہنے دو، اس میں تمہارے لیے بہتری ہو گی۔ میں نے کہا: تو پھر میں وہ حصہ اپنے پاس رکھ لیتا ہوں،جو مجھے خیبر میںملا تھا۔
۔ سیدنا ابو لبابہ بن عبد المنذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کی تو انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک میرے توبہ قبول ہونے کا تقاضا یہ ہے کہ میں اپنی قوم کا علاقہ چھوڑ کر آپ کے پاس رہوں اوراپنے مال کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے لیے صدقہ کرتے ہوئے اس کے بیچ سے نکل جاؤں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک تہائی مال کا صدقہ تجھ سے کفایت کرے گا۔
Takhreej
(۵۳۸۴) تخریج: اسنادہ ضعیف، الحسین بن السائب، روی عنہ اثنان وذکرہ ابن حبان فی الثقات وقال: یروی عن ابیہ المراسیل، ثم ان فی الاسناد اضطرابا، أخرجہ ابوداود: ۳۳۲۰ (انظر: ۱۶۰۸۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: نذر، ابن آدم کے حق میں وہ چیز نہیں لاتی، جو میں نے اس کے مقدّر میں نہیں لکھی ہوتی، بلکہ میں اس کے ذریعے بخیل سے مال نکال لیتا ہوں، کیونکہ وہ اس کے ذریعے مجھے وہ چیز دے دیتا ہے، جو عام حالات میں بخل کی وجہ سے نہیں دیتا۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نذر سے منع کیا اور فرمایا: بیشک یہ کسی چیز کو مقدم نہیں کرتی، البتہ بخیل سے کچھ مال نکال لیتی ہے۔
Takhreej
(۵۳۸۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۶۴۰ (انظر: ۷۲۰۸)
Explanation
فوائد:… نذر سے اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور مشیت آگے پیچھے نہیں ہو سکتی۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نذر نہ مانا کرو، کیونکہ نذر تقدیر میں سے کسی چیز کا ردّ نہیں کرتی، البتہ اس کے ذریعے بخیل سے مال نکال لیا جاتا ہے۔
فوائد:… اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں: نَہٰی رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عَنِ النَّذْرِ وَقَالَ: ((إِنَّہُ لَا یَرُدُّ مِنَ الْقَدَرِ شَیْئًا وَإِنَّمَا یُسْتَخْرَجُ بِہِ مِنْ الْبَخِیلِ۔)) … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نذر سے منع کیا اور فرمایا: یہ تقدیر کے کسی معاملے کو پیچھے نہیںکر سکتی، بس اس کے ذریعے تو بخیل سے کچھ مال نکال لیا جاتا ہے۔
۔ زیاد بن جبیر سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے ایک آدمی کو دیکھا، وہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اس نے کہا: میں نے ہر بدھ کو روزہ رکھنے کی نذر مانی ہے اور اب یہ دن عید الاضحی یا عید الفطر کو آ گیا ہے، اب میں کیا کروں؟ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اللہ تعالیٰ نے تو نذر کو پورا کرنے کا حکم دیا ہے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قربانی والے دن (یعنی دس ذوالحجہ کو) روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔
فوائد:… اس حدیث کا تعلق اس آدمی سے ہے جس نے ایک معین دن کو روزہ رکھنے کی نذر مانی، لیکن اتفاق سے وہ عید کا دن تھا۔ جو آدمی جانتے بوجھتے ہوئے عید کے دن کا روزہ رکھنے کی نذر مانے گا، اس کی نذر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر مشتمل ہو گی اور اس کو پورا نہیں کیا جائے گا۔
۔ کچھ انصاری صحابہ سے مروی ہے کہ انصاری آدمی فتح مکہ والے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مقام ابراہیم کے قریب ایک مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام کیا اور کہا: اے اللہ کے نبی! میں نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اور مومنوں کو مکہ کی فتح عطا کی تو میں بیت المقدس میں جا کر نماز پڑھوں گا، اور اب مجھے اہل شام میں سے ایک آدمی مل گیا ہے، وہ میرے ساتھ جائے گا بھی سہی اور واپس بھی آئے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو یہیں نماز پڑھ لے۔ اس بندے تین بار اپنی بات دوہرائی، ہربار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہی جواب دیا کہ تو یہیں نماز پڑھ لے۔ جب اس نے چوتھی دفعہ اپنی بات کو دوہرایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر چلا جا اور وہیں نماز ادا کر، اس ذات کی قسم جس نے محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو حق کے ساتھ مبعوث کیا، اگر تو یہاں نماز پڑھ لیتا تو یہ عمل تجھے بیت المقدس کی ہر نماز سے کفایت کرتا۔
Takhreej
(۵۳۹۰) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ ابوداود: ۳۳۰۶(انظر: ۲۳۱۶۹)
Explanation
فوائد:… مسجد ِ حرام کی فضیلت بیت المقدس سے زیادہ ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس صحابی کو حکم دیا کہ وہ مسجد ِ حرام میں نماز ادا کر کے اپنی نذر پوری کر سکتا ہے، لیکن جب سائل نے تعنّت اور تکلّف سے کام لیتے ہوئے اپنے لیے سختی کو پسند کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اس کو یہی مشکل کام کرنے کا حکم دے دیا۔ مسجد ِ اقصی، مسجد ِ حرام سے چالیس دنوں کی مسافت پر ہے۔
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے فتح مکہ والے دن کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے یہ نذر مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے مکہ فتح کر دیا تو میں بیت المقدس میں نماز پڑھوں گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہیں نماز پڑھ لو۔ اس نے پھر سوال دوہرایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں کہہ رہا ہوں کہ یہیں نماز پڑھ لو۔ اس نے پھر یہی سوال دوہرا دیا، اس بار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مرضی کر۔
۔ ابراہیم بن عبد اللہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ ایک خاتون بیمار ہو گئی اور اس نے یہ نذر مانی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے شفا دی تو میں ضرور جاؤں گی اور بیت المقدس میں نماز ادا کروں گی، جب وہ شفایاب ہو گئی اور روانہ ہونے لگی تو سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی، اس نے ام المومنین کو سلام کہا اور اپنی ساری بات بتلائی، سیدہ نے کہا: تو بیٹھ جا، میں نے جو کھانا تیار کیا، وہ کھا اور مسجد ِ نبوی میں نماز پڑھ لے، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: میری مسجد میں ایک نماز، دوسری مسجدوں کی ایک ہزار نماز سے افضل ہے، ما سوائے مسجد ِ حرام کے۔
Takhreej
(۵۳۹۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۳۹۶(انظر: ۲۶۸۲۶)
Explanation
فوائد:… اس باب کی پہلی حدیث کی روشنی میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کا استدلال درست ہے، یہ صورت بھی سابقہ احادیث سے ملتی جلتی ہے اور مسجد ِ نبوی کی اور اس میں نماز پڑھنے کی فضیلت بیت المقدس سے زیادہ ہے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک خاتون نے بحری سفر کیا اور یہ نذر مانی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اس کو اس سفر سے نجات دی تو وہ ایک ماہ کے روزے رکھے گی، جب اللہ تعالیٰ نے اس کو نجات دلا دی تو ابھی اس نے روزے نہیں رکھے تھے کہ وہ فوت ہو گئی، اس کی ایک رشتہ دار خاتون، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور اس کا سارا ماجرا سنایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اس کی طرف سے روزے رکھ۔
Explanation
فوائد:… سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ مَاتَ وَعَلَیْہِ صِیَامٌ، صَامَ عَنْہُ وَلِیُّہٗ۔)) جو آدمی مرجائے اور اس پر روزے ہوں، تو اس کا ولی اس کی طرف سے روزے رکھے۔ (بخاری، مسلم)