TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نذر کے ابواب - نذر کے ابواب - Book 83 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 83 of Musnad Ahmad, with 8 chapters and 43 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

43 Hadith · 8 Chapters
مباح یا غیر مشروع یا ایسی نذر ماننے والے کا بیان، جس کی وہ طاقت نہ رکھتا ہو اور اس کا کفارہ
۔ (۵۳۷۴)۔ (وَعَنْہٗ اَیْضًا): أَنَّ أُخْتَہُ نَذَرَتْ أَنْ تَمْشِیَ حَافِیَۃً غَیْرَ مُخْتَمِرَۃٍ، فَسَأَلَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((إِنَّ اللّٰہَ لَا یَصْنَعُ بِشَقَائِ أُخْتِکَ شَیْئًا، مُرْہَا فَلْتَخْتَمِرْ وَلْتَرْکَبْ وَلْتَصُمْ ثَلَاثَۃَ أَیَّامٍ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۴۳۹)
۔ سیدنا عقبہ بن عامر جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ان کی بہن نے نذر مانی کہ وہ ننگے پاؤں اور دوپٹہ لیے بغیر چلے گی، جب اس نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تیری بہن کی بدحالی سے کوئی معاملہ سر انجام نہیں دینا، اس کو کہو کہ وہ دوپٹہ اوڑھ لے اور سوار ہو جائے اور تین روزے رکھ لے۔
Takhreej
(۵۳۷۴) تخریج: حدیث صحیح دون قولہ ولتصم ثلاثۃ ایام وھذا اسناد ضعیف، عبید اللہ بن زحر محتلف فیہ، أخرجہ أبوداود: ۳۲۹۴، والترمذی: ۱۵۴۴، وابن ماجہ: ۹۸۳(انظر: ۱۷۳۰۶)
5374
Zaeef
مباح یا غیر مشروع یا ایسی نذر ماننے والے کا بیان، جس کی وہ طاقت نہ رکھتا ہو اور اس کا کفارہ
۔ (۵۳۷۵)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ أُخْتَ عُقْبَۃَ نَذَرَتْ فِی ابْنٍ لَہَا لَتَحُجَّنَّ حَافِیَۃً بِغَیْرِ خِمَارٍ، فَبَلَغَ ذٰلِکَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((تَحُجُّ رَاکِبَۃً مُخْتَمِرَۃً وَلْتَصُمْ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۴۶۳)
۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عقبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بہن نے اپنے ایک بیٹے کے سلسلے میں نذر مانی کہ وہ ضرور ضرور ننگے پاؤں اور بغیر دو پٹے کے حج کرے گی، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس بات کا علم ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ سوار ہو کر حج کے لیے جائے اور دوپٹہ بھی اوڑھ لے، البتہ روزے رکھ لے۔
Takhreej
(۵۳۷۵) تخریج: حدیث صحیح دون قولھا: فی ابن لھا۔ ، أخرجہ أبوداود: ۳۲۹۳، والنسائی: ۷/۲۰، وابن ماجہ: ۲۱۳۴(انظر: ۱۷۳۰۶)
5375
Sahih
مباح یا غیر مشروع یا ایسی نذر ماننے والے کا بیان، جس کی وہ طاقت نہ رکھتا ہو اور اس کا کفارہ
۔ (۵۳۷۶)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ جَدِّہِ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَدْرَکَ رَجُلَیْنِ وَہُمَا مُقْتَرِنَانِ یَمْشِیَانِ إِلَی الْبَیْتِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا بَالُ الْقِرَانِ؟)) قَالَا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! نَذَرْنَا أَنْ نَمْشِیَ إِلَی الْبَیْتِ مُقْتَرِنَیْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَیْسَ ہٰذَا نَذْرًا فَقَطَعَ قِرَانَہُمَا۔)) قَالَ سُرَیْجٌ فِی حَدِیثِہِ: ((إِنَّمَا النَّذْرُ مَا ابْتُغِیَ بِہِ وَجْہُ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ۔)) (مسند أحمد: ۶۷۱۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایسے دو افراد کو پایا کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ بندھے ہوئے تھے اور بیت اللہ کی طرف چل رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’اس رسی کی کیا وجہ ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہم نے نذر مانی تھی کہ ایک دوسرے کے ساتھ بندھ کر بیت اللہ کی طرف چل کر جائیں گے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ تو کوئی نذر نہیں ہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس رسی کو کاٹ دیا، سریج نے اپنی حدیث میں کہا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نذر تو صرف وہ ہوتی ہے، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضامندی تلاش کی جائے۔
Takhreej
(۵۳۷۶) تخریج: حدیث حسن، أخرجہ ابوداود: ۲۱۹۲(انظر: ۶۷۱۴)
5376
Sahih
مباح یا غیر مشروع یا ایسی نذر ماننے والے کا بیان، جس کی وہ طاقت نہ رکھتا ہو اور اس کا کفارہ
۔ (۵۳۷۷)۔ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَہْلِ الْبَادِیَۃِ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ جَدِّہِ، أَنَّہُ حَجَّ مَعَ ذِی قَرَابَۃٍ لَہُ مُقْتَرِنًا بِہِ، فَرَآہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((مَا ہٰذَا؟)) قَالَ: إِنَّہُ نَذْرٌ فَأَمَرَ بِالْقِرَانِ أَنْ یُقْطَعَ۔ (مسند أحمد: ۲۰۸۶۵)
۔ ایک دیہاتی آدمی اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتا ہے کہ وہ اپنے ایک رشتہ دار کے ساتھ اس طرح حج کے لیے جا رہا تھا کہ وہ اس کے ساتھ بندھا ہوا تھا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو دیکھا تو پوچھا: یہ کیاہے؟ اس نے کہا: یہ نذر ہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس رسی کو کاٹ دینے کا حکم دیا۔
Takhreej
(۵۳۷۷) تخریج: حدیث حسن (انظر: ۲۰۵۸۹)
5377
Sahih
مباح یا غیر مشروع یا ایسی نذر ماننے والے کا بیان، جس کی وہ طاقت نہ رکھتا ہو اور اس کا کفارہ
۔ (۵۳۷۸)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ جَدِّہِ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَظَرَ إِلٰی أَعْرَابِیٍّ قَائِمًا فِی الشَّمْسِ وَہُوَ یَخْطُبُ، فَقَالَ: ((مَا شَأْنُکَ؟)) قَالَ: نَذَرْتُ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَنْ لَا أَزَالَ فِی الشَّمْسِ حَتّٰی تَفْرُغَ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَیْسَ ہٰذَا نَذْرًا إِنَّمَا النَّذْرُ مَا ابْتُغِیَ بِہِ وَجْہُ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ۔)) (مسند أحمد: ۶۹۷۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک بدّو کو دیکھا کہ وہ دھوپ میں کھڑا ہے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خطاب فرما رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تجھے کیا ہو گیا ہے؟ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے نذر مانی ہے کہ آپ کے اس خطاب سے فارغ ہونے تک دھوپ میں کھڑا رہوں گا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ کوئی نذر نہیں ہے، نذر تو وہ ہوتی ہے، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی تلاش کی جائے۔
Takhreej
(۵۳۷۸) تخریج: حدیث حسن، أخرجہ ابوداود: ۲۱۹۲(انظر: ۶۹۷۵)
Explanation
فوائد:… جو کام شارع کے ہاں محبوب ہی نہ ہو، اس کی نذر ماننے کا کیا تک ہے، نذر کے ذریعے ایسی چیز کو لازم کیا جاتا ہے، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کاقرب حاصل ہو، مثلا نماز پڑھنا، صدقہ کرنا، حج و عمرہ کرنا، اعتکاف کرنا، وغیرہ۔
5378
Sahih
مباح یا غیر مشروع یا ایسی نذر ماننے والے کا بیان، جس کی وہ طاقت نہ رکھتا ہو اور اس کا کفارہ
۔ (۵۳۷۹)۔ عَنِ ابْنِ طَاؤُوْسٍ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ أَبِی إِسْرَائِیلَ، قَالَ: دَخَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَسْجِدَ وَأَبُو إِسْرَائِیلَ یُصَلِّی، فَقِیلَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ہُوَ ذَا یَا رَسُولَ اللّٰہِ لَا یَقْعُدُ وَلَا یُکَلِّمُ النَّاسَ وَلَا یَسْتَظِلُّ وَہُوَ یُرِیدُ الصِّیَامَ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لِیَقْعُدْ وَلْیُکَلِّمِ النَّاسَ وَلْیَسْتَظِلَّ وَلْیَصُمْ)) (مسند أحمد: ۱۷۶۷۳)
۔ سیدنا ابو اسرائیل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد میں داخل ہوئے، جبکہ ابو اسرائیل نماز پڑھ رہا تھا، کسی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتلایا کہ اے اللہ کے رسول! یہ ابو اسرائیل ہے، یہ نہ بیٹھتا ہے، نہ لوگوں سے بات کرتا ہے، نہ سائے میں آتا ہے اور یہ روزے کا ارادہ بھی رکھتا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو چاہیے کہ وہ بیٹھ جائے، لوگوں سے بات کرے، سائے میں آ جائے اور روزہ رکھے لے۔
Takhreej
(۵۳۷۹) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ الطبرانی: ۲۲/ ۹۷۳، وعبد الرزاق: ۱۵۸۱۸(انظر: ۱۷۵۳۲)
Explanation
فوائد:… نہ بیٹھنا، لوگوں سے بات نہ کرنا اور سایہ حاصل نہ کرنا ایسے امور ہیں کہ جن سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل نہیں کیا جا سکتا، البتہ روزہ اللہ تعالیٰ کاقرب حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو برقرار رکھا۔
5379
Sahih
ٓپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان غصے میں کوئی نذر نہیں ہے اور اس کا کفارہ قسم والا کفارہ ہے کا بیان
۔ (۵۳۸۰)۔ مُحَمَّدُ بْنُ الزُّبَیْرِ: حَدَّثَنِی أَبِی، أَنَّ رَجُلًا حَدَّثَہُ أَنَّہُ سَأَلَ عِمْرَانَ بْنَ حُصَیْنٍ عَنْ رَجُلٍ نَذَرَ أَنْ لَا یَشْہَدَ الصَّلَاۃَ فِی مَسْجِدٍ، فَقَالَ عِمْرَانُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((لَا نَذْرَ فِی غَضَبٍ وَکَفَّارَتُہُ کَفَّارَۃُ یَمِینٍ۔)) (مسند أحمد: ۲۰۱۹۷)
۔ ایک آدمی نے سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا، جس نے مسجد میں نماز کے لیے حاضر نہ ہونے کی نذر مانی، سیدناعمران ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: غصے میں کوئی نذر نہیں ہے اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے۔
Takhreej
(۵۳۸۰) تخریج: اسنادہ ضعیف جدا، محمد بن الزبیر الحنظلی متروک، وابوہ مجھول، وفیہ رجل مبھم، أخرجہ النسائی: ۷/ ۲۹(انظر: ۱۹۹۵۵)
Explanation
فوائد:… جب تک نذر ماننے والے کا ہوش برقرار رہے گا، اس کی نذر معتبر ہو گی، جس کو پورا نہ کرنے کی صورت کفارہ ادا کرنا پڑے گا۔
5380
Sahih
ٓپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان غصے میں کوئی نذر نہیں ہے اور اس کا کفارہ قسم والا کفارہ ہے کا بیان
۔ (۵۳۸۱)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّمَا النَّذْرُ یَمِینٌ کَفَّارَتُہَا کَفَّارَۃُ الْیَمِینِِِِِ)) (مسند أحمد: ۱۷۴۷۳)
۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نذر تو قسم ہی ہے، اس لیے اس کا کفارہ بھی نذر والا کفارہ ہے ۔
Takhreej
(۵۳۸۱) تخریج: حدیث صحیح لکن بلفظ: کفارۃ النذر کفارۃ الیمین کما سیأتی فی الحدیث الآتی، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر :۱۷/۸۶۶(انظر: ۱۷۳۴۰)
5381
Sahih
ٓپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان غصے میں کوئی نذر نہیں ہے اور اس کا کفارہ قسم والا کفارہ ہے کا بیان
۔ (۵۳۸۲)۔ عن عُقْبَۃَ بْنَ عَامِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((کَفَّارَۃُ النَّذْرِ کَفَّارَۃُ الْیَمِینِِِِِ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۴۵۲)
۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نذر کا کفارہ قسم والا ہے۔
Takhreej
(۵۳۸۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۶۴۵(انظر: ۱۷۳۱۹)
Explanation
فوائد:… قسم کا کفارہ حدیث نمبر (۵۳۳۸) والے باب میں بیان کیا جا چکا ہے۔
5382
Sahih
اس شخص کا بیان جس نے سارا مال صدقہ کر دینے کی نذر مانی
۔ (۵۳۸۳)۔ عَنْ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّہٗ قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّ مِنْ تَوْبَتِی أَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِی صَدَقَۃً إِلَی اللّٰہِ تَعَالٰی وَإِلٰی رَسُولِہِ، قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَمْسِکْ بَعْضَ مَالِکَ فَہُوَ خَیْرٌ لَکَ۔)) قَالَ: فَقُلْتُ: إِنِّی أُمْسِکُ سَہْمِی الَّذِی بِخَیْبَرَ۔ (مسند أحمد: ۲۷۷۱۷)
۔ سیدنا کعب بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک میری توبہ کے قبول ہونے کا تقاضا ہے کہ میں اپنے مال کے بیچ سے نکل جاؤں اور اس کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے لیے صدقہ کردوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کچھ مال اپنے پاس رہنے دو، اس میں تمہارے لیے بہتری ہو گی۔ میں نے کہا: تو پھر میں وہ حصہ اپنے پاس رکھ لیتا ہوں،جو مجھے خیبر میںملا تھا۔
Takhreej
(۵۳۸۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۹۵۰، ۳۸۸۹، ۴۶۷۶، ومسلم: ۲۷۶۹(انظر: ۲۷۱۷۵)
Explanation
فوائد:… اس حدیث میںنذر کی وضاحت تو نہیں ہے، لیکن جب سیدنا کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے قبولیت ِ توبہ کی وجہ سے
5383
Sahih
اس شخص کا بیان جس نے سارا مال صدقہ کر دینے کی نذر مانی
۔ (۵۳۸۴)۔ عَنِ الْحُسَیْنِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ أَبِی لُبَابَۃَ أَخْبَرَ أَنَّ أَبَا لُبَابَۃَ بْنَ عَبْدِ الْمُنْذِرِ لَمَّا تَابَ اللّٰہُ عَلَیْہِ قَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّ مِنْ تَوْبَتِی أَنْ أَہْجُرَ دَارَ قَوْمِی وَأُسَاکِنَکَ، وَإِنِّی أَنْخَلِعُ مِنْ مَالِی صَدَقَۃً لِلّٰہِ وَلِرَسُولِہِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یُجْزِئُ عَنْکَ الثُّلُثُ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۱۷۸)
۔ سیدنا ابو لبابہ بن عبد المنذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کی تو انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک میرے توبہ قبول ہونے کا تقاضا یہ ہے کہ میں اپنی قوم کا علاقہ چھوڑ کر آپ کے پاس رہوں اوراپنے مال کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے لیے صدقہ کرتے ہوئے اس کے بیچ سے نکل جاؤں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک تہائی مال کا صدقہ تجھ سے کفایت کرے گا۔
Takhreej
(۵۳۸۴) تخریج: اسنادہ ضعیف، الحسین بن السائب، روی عنہ اثنان وذکرہ ابن حبان فی الثقات وقال: یروی عن ابیہ المراسیل، ثم ان فی الاسناد اضطرابا، أخرجہ ابوداود: ۳۳۲۰ (انظر: ۱۶۰۸۰)
5384
Sahih
نذر ماننے سے ممانعت کا بیان اور اس چیز کی وضاحت کہ نذر تقدیر میں سے کسی چیز کو ردّ نہیں کر سکتی
۔ (۵۳۸۵)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنْ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((قَالَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: لَا یَأْتِی النَّذْرُ عَلَی ابْنِ آدَمَ بِشَیْئٍ لَمْ أُقَدِّرْہُ عَلَیْہِ، وَلٰکِنَّہُ شَیْئٌ أَسْتَخْرِجُ بِہِ مِنَ الْبَخِیلِ یُؤْتِینِی عَلَیْہِ مَا لَا یُؤْتِینِی عَلَی الْبُخْلِ۔)) (مسند أحمد: ۷۲۹۵)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: نذر، ابن آدم کے حق میں وہ چیز نہیں لاتی، جو میں نے اس کے مقدّر میں نہیں لکھی ہوتی، بلکہ میں اس کے ذریعے بخیل سے مال نکال لیتا ہوں، کیونکہ وہ اس کے ذریعے مجھے وہ چیز دے دیتا ہے، جو عام حالات میں بخل کی وجہ سے نہیں دیتا۔
Takhreej
(۵۳۸۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۶۹۴، ومسلم: ۱۶۴۰(انظر: ۷۲۹۷)
Explanation
فوائد:… بخیل آدمی نذر کی وجہ سے اللہ کی راہ میں خرچ کر دیتا ہے، وگرنہ اس کا بخل اس پر غالب رہتاہے۔
5385
Sahih
نذر ماننے سے ممانعت کا بیان اور اس چیز کی وضاحت کہ نذر تقدیر میں سے کسی چیز کو ردّ نہیں کر سکتی
۔ (۵۳۸۶)۔ (وَعَنْہٗ اَیْضًا) أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہٰی عَنِ النَّذْرِ وَقَالَ: ((إِنَّہُ لَا یُقَدِّمُ شَیْئًا وَلٰکِنَّہُ یَسْتَخْرِجُ مِنْ الْبَخِیلِ۔)) وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ: یُسْتَخْرَجُ بِہِ مِنْ الْبَخِیلِ۔ (مسند أحمد: ۷۲۰۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نذر سے منع کیا اور فرمایا: بیشک یہ کسی چیز کو مقدم نہیں کرتی، البتہ بخیل سے کچھ مال نکال لیتی ہے۔
Takhreej
(۵۳۸۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۶۴۰ (انظر: ۷۲۰۸)
Explanation
فوائد:… نذر سے اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور مشیت آگے پیچھے نہیں ہو سکتی۔
5386
Sahih
نذر ماننے سے ممانعت کا بیان اور اس چیز کی وضاحت کہ نذر تقدیر میں سے کسی چیز کو ردّ نہیں کر سکتی
۔ (۵۳۸۷)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا تَنْذِرُوا فَإِنَّ النَّذْر لَا یَرُدُّ شَیْئًا مِنَ الْقَدَرِ، وَإِنَّمَا یُسْتَخْرَجُ بِہِ مِنَ الْبَخِیلِ۔)) (مسند أحمد: ۹۹۶۴)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نذر نہ مانا کرو، کیونکہ نذر تقدیر میں سے کسی چیز کا ردّ نہیں کرتی، البتہ اس کے ذریعے بخیل سے مال نکال لیا جاتا ہے۔
Takhreej
(۵۳۸۷) تخریج: انظر الحدیث السابق
5387
Sahih
نذر ماننے سے ممانعت کا بیان اور اس چیز کی وضاحت کہ نذر تقدیر میں سے کسی چیز کو ردّ نہیں کر سکتی
۔ (۵۳۸۸)۔ عَنِ ابْنِ عَمَرَ عَنِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہ۔ (مسند أحمد: ۵۲۷۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے بھی اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔
Takhreej
(۵۳۸۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۶۰۸، ۶۶۹۳، ومسلم: ۱۶۳۹(انظر: ۵۲۷۵)
Explanation
فوائد:… اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں: نَہٰی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ النَّذْرِ وَقَالَ: ((إِنَّہُ لَا یَرُدُّ مِنَ الْقَدَرِ شَیْئًا وَإِنَّمَا یُسْتَخْرَجُ بِہِ مِنْ الْبَخِیلِ۔)) … رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نذر سے منع کیا اور فرمایا: یہ تقدیر کے کسی معاملے کو پیچھے نہیںکر سکتی، بس اس کے ذریعے تو بخیل سے کچھ مال نکال لیا جاتا ہے۔
5388
Sahih
اس شخص کا بیان جس نے معین دن کے روزے کی نذر مانی اور وہ دن ، یومِ عید سے موافق ہو گیا
۔ (۵۳۸۹)۔ عَنْ زِیَادِ بْنِ جُبَیْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: رَأَیْتُ رَجُلًا جَائَ ابْنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَسَأَلَہُ فَقَالَ: إِنَّہُ نَذَرَ أَنْ یَصُومَ کُلَّ یَوْمِ أَرْبِعَائَ، فَأَتٰی ذٰلِکَ عَلٰی یَوْمِ أَضْحٰی أَوْ فِطْرٍ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: أَمَرَ اللّٰہُ بِوَفَائِ النَّذْرِ، وَنَہَانَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ صَوْمِ یَوْمِ النَّحْرِ۔ (مسند أحمد: ۴۴۴۹)
۔ زیاد بن جبیر سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے ایک آدمی کو دیکھا، وہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا اور اس نے کہا: میں نے ہر بدھ کو روزہ رکھنے کی نذر مانی ہے اور اب یہ دن عید الاضحی یا عید الفطر کو آ گیا ہے، اب میں کیا کروں؟ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا: اللہ تعالیٰ نے تو نذر کو پورا کرنے کا حکم دیا ہے، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قربانی والے دن (یعنی دس ذوالحجہ کو) روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔
Takhreej
(۵۳۸۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۷۰۵، ومسلم: ۱۱۳۹(انظر: ۴۴۴۹)
Explanation
فوائد:… اس حدیث کا تعلق اس آدمی سے ہے جس نے ایک معین دن کو روزہ رکھنے کی نذر مانی، لیکن اتفاق سے وہ عید کا دن تھا۔ جو آدمی جانتے بوجھتے ہوئے عید کے دن کا روزہ رکھنے کی نذر مانے گا، اس کی نذر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر مشتمل ہو گی اور اس کو پورا نہیں کیا جائے گا۔
5389
Sahih
مسجد ِ اقصی میں نماز کی ادائیگی کی نذر ماننے کو یہ عمل کافی ہو گا کہ وہ مسجد ِ حرام یا مسجد ِ نبوی میں نماز پڑھ لے
۔ (۵۳۹۰)۔ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ وَعَنْ رِجَالٍ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ جَائَ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ الْفَتْحِ، وَالنَّبِیُّ فِی مَجْلِسٍ قَرِیبٍ مِنَ الْمَقَامِ، فَسَلَّمَ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ قَالَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! إِنِّی نَذَرْتُ لَئِنْ فَتَحَ اللّٰہُ لِلنَّبِیِّ وَالْمُؤْمِنِینَ مَکَّۃَ لَأُصَلِّیَنَّ فِی بَیْتِ الْمَقْدِسِ، وَإِنِّی وَجَدْتُ رَجُلًا مِنْ أَہْلِ الشَّامِ ہَاہُنَا فِی قُرَیْشٍ مُقْبِلًا مَعِی وَمُدْبِرًا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ہَاہُنَا فَصَلِّ)) فَقَالَ الرَّجُلُ قَوْلَہُ ہٰذَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، کُلَّ ذٰلِکَ یَقُولُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ہَاہُنَا فَصَلِّ۔)) ثُمَّ قَالَ الرَّابِعَۃَ مَقَالَتَہُ ہٰذِہِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اذْہَبْ فَصَلِّ فِیہِ، فَوَالَّذِی بَعَثَ مُحَمَّدًا بِالْحَقِّ! لَوْ صَلَّیْتَ ہَاہُنَا لَقَضٰی عَنْکَ ذٰلِکَ کُلَّ صَلَاۃٍ فِی بَیْتِ الْمَقْدِسِ)) (مسند أحمد: ۲۳۵۵۶)
۔ کچھ انصاری صحابہ سے مروی ہے کہ انصاری آدمی فتح مکہ والے دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مقام ابراہیم کے قریب ایک مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے، اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر سلام کیا اور کہا: اے اللہ کے نبی! میں نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اور مومنوں کو مکہ کی فتح عطا کی تو میں بیت المقدس میں جا کر نماز پڑھوں گا، اور اب مجھے اہل شام میں سے ایک آدمی مل گیا ہے، وہ میرے ساتھ جائے گا بھی سہی اور واپس بھی آئے گا۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو یہیں نماز پڑھ لے۔ اس بندے تین بار اپنی بات دوہرائی، ہربار آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہی جواب دیا کہ تو یہیں نماز پڑھ لے۔ جب اس نے چوتھی دفعہ اپنی بات کو دوہرایا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر چلا جا اور وہیں نماز ادا کر، اس ذات کی قسم جس نے محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کو حق کے ساتھ مبعوث کیا، اگر تو یہاں نماز پڑھ لیتا تو یہ عمل تجھے بیت المقدس کی ہر نماز سے کفایت کرتا۔
Takhreej
(۵۳۹۰) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ ابوداود: ۳۳۰۶(انظر: ۲۳۱۶۹)
Explanation
فوائد:… مسجد ِ حرام کی فضیلت بیت المقدس سے زیادہ ہے، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس صحابی کو حکم دیا کہ وہ مسجد ِ حرام میں نماز ادا کر کے اپنی نذر پوری کر سکتا ہے، لیکن جب سائل نے تعنّت اور تکلّف سے کام لیتے ہوئے اپنے لیے سختی کو پسند کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بھی اس کو یہی مشکل کام کرنے کا حکم دے دیا۔ مسجد ِ اقصی، مسجد ِ حرام سے چالیس دنوں کی مسافت پر ہے۔
5390
Sahih
مسجد ِ اقصی میں نماز کی ادائیگی کی نذر ماننے کو یہ عمل کافی ہو گا کہ وہ مسجد ِ حرام یا مسجد ِ نبوی میں نماز پڑھ لے
۔ (۵۳۹۱)۔ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ یَوْمَ الْفَتْحِ: یَا رَسُولَ اللَّہِ! إِنِّی نَذَرْتُ إِنْ فَتَحَ اللّٰہُ عَلَیْکَ مَکَّۃَ أَنْ أُصَلِّیَ فِی بَیْتِ الْمَقْدِسِ، فَقَالَ: ((صَلِّ ہَاہُنَا۔)) فَسَأَلَہُ فَقَالَ: ((صَلِّ ہَاہُنَا۔)) فَسَأَلَہُ، فَقَالَ: ((شَأْنَکَ إِذًا۔)) (مسند أحمد: ۱۴۹۸۱)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے فتح مکہ والے دن کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے یہ نذر مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے مکہ فتح کر دیا تو میں بیت المقدس میں نماز پڑھوں گا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہیں نماز پڑھ لو۔ اس نے پھر سوال دوہرایا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں کہہ رہا ہوں کہ یہیں نماز پڑھ لو۔ اس نے پھر یہی سوال دوہرا دیا، اس بار آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو مرضی کر۔
Takhreej
(۵۳۹۱) تخریج: اسنادہ قوی، أخرجہ ابوداود: ۳۳۰۵(انظر: ۱۴۹۱۹)
5391
Sahih
مسجد ِ اقصی میں نماز کی ادائیگی کی نذر ماننے کو یہ عمل کافی ہو گا کہ وہ مسجد ِ حرام یا مسجد ِ نبوی میں نماز پڑھ لے
۔ (۵۳۹۲)۔ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّہُ قَالَ: إِنَّ امْرَأَۃً اشْتَکَتْ شَکْوٰی، فَقَالَتْ: لَئِنْ شَفَانِی اللّٰہُ لَأَخْرُجَنَّ فَلَأُصَلِّیَنَّ فِی بَیْتِ الْمَقْدِسِ، فَبَرِئَتْ فَتَجَہَّزَتْ تُرِیدُ الْخُرُوجَ، فَجَائَ تْ مَیْمُونَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تُسَلِّمُ عَلَیْہَا فَأَخْبَرَتْہَا ذٰلِکَ، فَقَالَتْ: اجْلِسِی فَکُلِی مَا صَنَعْتُ وَصَلِّی فِی مَسْجِدِ الرَّسُولِ، فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((صَلَاۃٌ فِیہِ أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاۃٍ فِیمَا سِوَاہُ مِنَ الْمَسَاجِدِ إِلَّا مَسْجِدَ الْکَعْبَۃِ)) (مسند أحمد: ۲۷۳۶۳)
۔ ابراہیم بن عبد اللہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ ایک خاتون بیمار ہو گئی اور اس نے یہ نذر مانی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے شفا دی تو میں ضرور جاؤں گی اور بیت المقدس میں نماز ادا کروں گی، جب وہ شفایاب ہو گئی اور روانہ ہونے لگی تو سیدہ میمونہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس آئی، اس نے ام المومنین کو سلام کہا اور اپنی ساری بات بتلائی، سیدہ نے کہا: تو بیٹھ جا، میں نے جو کھانا تیار کیا، وہ کھا اور مسجد ِ نبوی میں نماز پڑھ لے، کیونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: میری مسجد میں ایک نماز، دوسری مسجدوں کی ایک ہزار نماز سے افضل ہے، ما سوائے مسجد ِ حرام کے۔
Takhreej
(۵۳۹۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۳۹۶(انظر: ۲۶۸۲۶)
Explanation
فوائد:… اس باب کی پہلی حدیث کی روشنی میں سیدہ میمونہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا استدلال درست ہے، یہ صورت بھی سابقہ احادیث سے ملتی جلتی ہے اور مسجد ِ نبوی کی اور اس میں نماز پڑھنے کی فضیلت بیت المقدس سے زیادہ ہے۔
5392
Sahih
مسجد ِ اقصی میں نماز کی ادائیگی کی نذر ماننے کو یہ عمل کافی ہو گا کہ وہ مسجد ِ حرام یا مسجد ِ نبوی میں نماز پڑھ لے
۔ (۵۳۹۳)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ امْرَأَۃً رَکِبَتِ الْبَحْرَ فَنَذَرَتْ إِنِ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی أَنْجَاہَا أَنْ تَصُومَ شَہْرًا، فَأَنْجَاہَا اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ فَلَمْ تَصُمْ حَتّٰی مَاتَتْ فَجَاء َتْ قَرَابَۃٌ لَہَا اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَکَرَتْ لَہٗ ذٰلِکَ فَقَالَ: ((صُوْمِیْ۔))(مسند أحمد: ۱۸۶۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ ایک خاتون نے بحری سفر کیا اور یہ نذر مانی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اس کو اس سفر سے نجات دی تو وہ ایک ماہ کے روزے رکھے گی، جب اللہ تعالیٰ نے اس کو نجات دلا دی تو ابھی اس نے روزے نہیں رکھے تھے کہ وہ فوت ہو گئی، اس کی ایک رشتہ دار خاتون، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور اس کا سارا ماجرا سنایا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو اس کی طرف سے روزے رکھ۔
Explanation
فوائد:… سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((مَنْ مَاتَ وَعَلَیْہِ صِیَامٌ، صَامَ عَنْہُ وَلِیُّہٗ۔)) جو آدمی مرجائے اور اس پر روزے ہوں، تو اس کا ولی اس کی طرف سے روزے رکھے۔ (بخاری، مسلم)
5393
Sahih

Chapters

8