TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

قرض کے مسائل - قرض کے مسائل - Book 91 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 91 of Musnad Ahmad, with 10 chapters and 52 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

52 Hadith · 10 Chapters
ادائیگی کا ارادہ نہ رکھنے والے یا ادائیگی میں سستی کرنے والے قرض دار شخص کی سخت مذمت اور فاضل آدمی کا فوت ہونے والے مقروض آدمی کی نماز جنازہ نہ پڑھنے کا بیان
۔ (۶۰۲۷)۔ عَنْ اَبِیْ مُوْسَی الْأَشْعَرِیِّ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ اَعْظَمَ الذُّنُوْبِ عِنْدَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ أَنْ یَلْقَاہُ عَبْدٌ بِہَا بَعْدَ الْکَبَائِرِ الَّتِیْ نَہٰی عَنْہَا أَنْ یَمُوْتَ الرَّجُلُ وَعَلَیْہِ دَیْنٌ لَا یَدَعَ لَہُ قَضَائً۔)) (مسند احمد: ۱۹۷۲۴)
۔ سیدنا ابوموسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ہاں (معروف) منہی عنہ کبیرہ گناہوں کے بعد سب سے بڑاگناہ یہ ہے کہ آدمی کو اس حال میں موت آئے کہ وہ مقروض ہو اور اس نے اسے پورا کرنے کے لئے ترکہ بھی نہ چھوڑا ہو۔
Takhreej
(۶۰۲۷) اسنادہ ضعیف لجھالۃ حال ابی عبد اللہ القرشی۔ أخرجہ ابوداود: ۳۳۴۲(انظر: ۱۹۴۹۵)
6027
Zaeef
ادائیگی کا ارادہ نہ رکھنے والے یا ادائیگی میں سستی کرنے والے قرض دار شخص کی سخت مذمت اور فاضل آدمی کا فوت ہونے والے مقروض آدمی کی نماز جنازہ نہ پڑھنے کا بیان
۔ (۶۰۲۸)۔ عَنْ صُہَیْبِ بْنِ سِنَانٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَیُّمَا رَجُلٍ اِدَّانَ مِنْ رَجُلٍ دَیْنًا وَاللّٰہُ یَعْلَمُ مِنْہُ أَنَّہُ لَا یُرِیْدُ أَدَائَہُ إِلَیْہِ فَغَرَّہُ بِاللّٰہِ، وَاسْتَحَلَّ مَالَہُ بِالْبَاطِلِ، لَقِیَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّیَوْمَیَلْقَاہُ وَھُوَ سَارِقٌ۔)) (مسند احمد: ۱۹۱۴۰)
۔ سیدنا صہیب بن سنان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی کسی دوسرے شخص سے قرض لے اور اللہ تعالی اس کے بارے میں جانتا ہو کہ یہ ادا نہیں کرنا چاہتا تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ اس نے اللہ تعالی کے نام پر دھوکہ دیا اور باطل طریقے سے اس کا مال حاصل کیا، ایسا آدمی اللہ تعالی کو اس حال میں ملے گا کہ وہ چور ہو گا۔
Takhreej
(۶۰۲۷) اسنادہ ضعیف لجھالۃ حال ابی عبد اللہ القرشی۔ أخرجہ ابوداود: ۳۳۴۲(انظر: ۱۹۴۹۵)
6028
Zaeef
ادائیگی کا ارادہ نہ رکھنے والے یا ادائیگی میں سستی کرنے والے قرض دار شخص کی سخت مذمت اور فاضل آدمی کا فوت ہونے والے مقروض آدمی کی نماز جنازہ نہ پڑھنے کا بیان
۔ (۶۰۲۹)۔ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ جَحْشٍ قَالَ: کُنَّا جُلُوْسًا بِفِنَائِ الْمَسْجِدِ حَیْثُ تُوْضَعُ الْجَنَائِزُ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَیْنَ ظَہْرَیْنَا فَرَفَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَصَرَہُ قِبلَ السَّمَائِ فَنَظَرَ ثُمَّ طَأْطَأَ بَصَرَہُ وَوَضَعَ یَدَہُ عَلٰی جَبْہَتِہِ ثُمَّ قَالَ: ((سُبْحَانَ اللّٰہِ! سُبْحَانَ اللّٰہِ! مَاذَ اَنْزَلَ مِنَ التَّشْدِیْدِ۔)) قَالَ: فَسَکَتْنَا یَوْمَنَا وَلَیْلَتَنَا فَلَمْ نَرَ اِلَّا خَیْرًا حَتّٰی أَصْبَحْنَا قَالَ مُحَمَّدُ: فَسَاَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا التَّشْدِیْدُ الَّذِیْ نَزَلَ؟ قَالَ: ((فِی الدَّیْنِ، وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ لَوْ أَنَّ رَجُلًا قُتِلَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ثُمَّ عَاشَ ثُمَّ قُتِلَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ثُمَّ عَاشَ ثُمَّ قُتِلَ وَعَلَیْہِ دَیْنٌ مَا دَخَلَ الْجَنَّۃَ حَتّٰییَقْضِیَ دَیْنَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۲۸۶۰)
۔ سیدنا محمد بن عبداللہ بن جحش ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم مسجد کے صحن میں اس مقام پر بیٹھے ہوئے تھے، جہاں جنازے رکھے جاتے تھے،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی ہمارے درمیان تشریف فرماتھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اچانک اپنی نگاہ کو آسمان کی جانب اٹھاکر دیکھا، پھر اپنی نظر جھکا لی اور اپنا دست مبارک اپنی پیشانی پر رکھا اور فرمایا: سبحان اللہ ! کتنی سختی نازل ہو رہی ہے۔ ہم ایک دن رات تک تو خاموش رہے، جبکہ ہم نے خیر ہی پائی، اگلے دن جب صبح ہوئی تو سیدنا محمد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے پوچھا: وہ نازل ہونے والی سختی کون سی تھی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ قرض کے بارے تھی، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی جان ہے!اگر کوئی اللہ کی راہ میں قتل ہوجائے، پھر زندہ ہو، پھر اللہ کی راہ میں قتل ہو جائے، پھر زندہ ہو، پھر قتل ہو، پھر زندہ ہو اور اس پر قرض ہو، تو وہ جب تک قرض ادا نہیں کرے گا، اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہو سکے گا۔
Takhreej
(۶۰۲۹) تخریج: ضعیف بھذہ السیاقۃ، ابو کثیر مولی محمد بن عبد اللہ روی عنہ جمع وذکرہ ابن حبان فی الثقات، وقد اختلف علیہ فیہ۔ أخرجہ النسائی: ۷/ ۳۱۴ (انظر: ۲۲۴۹۳)
Explanation
فوائد:… آخرت کے لحاظ سے قرض کا معاملہ انتہائی خطرناک ہے، اگر کسی اشد ضرورت کی وجہ سے قرض لینا پڑ جائے تو پہلی فرصت میں اس کی ادائیگی کی کوشش کرنی چاہیے۔
6029
Sahih
قرض کی وجہ سے میت کے نفس کو جنت سے روک لینے کا بیان
۔ (۶۰۳۰)۔ عَنْ سَمُرَۃَ ْبِن جُنْدُبٍ قَالَ: کُنَّا مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ جَنَازَۃٍ فَقَالَ: ((أَھَاھُنَا مِنْ بَنِیْ فُلَانٍ أَحَدٌ؟۔)) قَالَھا ثَلَاثًا، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَامَنَعَکَ فِی الْمَرَّتَیْنِ الْأُوْلَیَیْنِ أَنْ تَکُوْنَ أَجَبْتَنِیْ؟ أَمَا اِنِّیْ لَمْ أُنَوِّہْ بِکَ اِلَّا لِخَیْرٍ، إِنَّ فُلَانًا لِرَجُلٍ مِنْہُمْ مَاتَ، إِنَّہُ مَأْسُوْرٌ (وَفِیْ لَفْظٍ: إِنَّہُ مَحْبُوْسٌ عَنِ الْجَنَّۃِ) بِدَیْنِہِ۔)) قَالَ: قَالَ: لَقَدْ رَأَیْتُ أَھْلَہُ وَمَنْ یَتَحَزَّنَ لَہُ قَضَوْا عَنْہُ حَتّٰی مَاجَائَ أَحَدٌ یَطْلُبُہُ بِشَیْئٍ۔ (مسند احمد: ۲۰۴۹۴)
۔ سیدنا سمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ایک دن ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں شریک تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بنی فلا ں کا کوئی آدمییہاں موجو د ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین دفعہ یہ بات دوہرائی، بالآخر ایک آدمی کھڑا ہوا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: کس چیز نے تجھے پہلی دو بار جواب دینے سے روکے رکھا، میں نے تیرے ساتھ بھلائی ہی کرنی تھی، بات یہ ہے کہ تمہارا فلاں آدمی اپنے قرضے کی وجہ سے جنت سے روک دیا گیا ہے۔ وہ کہتے ہیں: میں نے اس میت کے گھر والوں کو اور اس کے لیے غمزدہ ہونے والوں کو دیکھا کہ انھوں نے اس کا قرضہ اس طرح ادا کیا کہ کسی چیز کا مطالبہ کرنے والا کوئی شخص بھی باقی نہیں رہا تھا۔
Takhreej
(۶۰۳۰) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ النسائی: ۷/ ۳۱۵ (انظر: ۲۰۲۳۱)
6030
Sahih
قرض کی وجہ سے میت کے نفس کو جنت سے روک لینے کا بیان
۔ (۶۰۳۱)۔ وَعَنْہُ أَیْضًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((عَلَی الْیَدِ مَا أَخَذَتْ حَتّٰی تُوَدِّیَہُ۔)) وَفِیْ لَفْظٍ: ((حَتّٰی تُؤَدِّیَ)) (مسند احمد: ۲۰۳۴۶)
۔ سیدنا سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاتھ جو کچھ لیتاہے، وہ ادائیگی تک اس کے ذمے ہی رہتا ہے۔
Takhreej
(۶۰۳۱) حسن لغیرہ۔ أخرجہ ابوداود: ۳۵۶۱، وابن ماجہ: ۲۴۰۰، والترمذی: ۱۲۶۶(انظر: ۲۰۰۸۶)
6031
Sahih
قرض کی وجہ سے میت کے نفس کو جنت سے روک لینے کا بیان
۔ (۶۰۳۲)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نَفْسُ الْمُؤْمِنِ مُعَلَّقَۃٌ مَا کَانَ عَلَیْہِ دَیْنٌ۔)) (مسند احمد: ۱۰۱۵۹)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مؤمن کی روح اس وقت تک معلق رہتی ہے، جب تک اس پرقر ض باقی رہتا ہے۔
Takhreej
(۶۰۳۲) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۴۱۳ (انظر: ۱۰۱۵۶)
6032
Sahih
قرض کی وجہ سے میت کے نفس کو جنت سے روک لینے کا بیان
۔ (۶۰۳۳)۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ الْأَطْوَلِ قَالَ: مَاتَ أَخِیْ وَتَرَکَ ثَلَاثَمِائَۃِ دِیْنَارٍ وَتَرَکَ صِغَارًا، فَأَرَدْتُّ أَنْ أُنْفِقَ عَلَیْہِمْ، فَقَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ أَخَاکَ مَحْبُوْسٌ بِدَیْنِہِ فَاذْھَبْ فَاقْضِ عَنْہُ۔)) قَالَ: فَذَھَبْتُ فَقَضَیْتُ عَنْہُ ثُمَّ جِئْتُ فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَدْ قَضَیْتُ عَنْہُ وَلَمْ یَبْقَ اِلَّا امْرَأَۃٌ تَدَّعِیْ دِیْنَارَیْنِ وَلَیْسَتْ لَھَا بَیِّنَۃٌ، قَالَ: ((أَعْطِہَا، فَاِنَّہَا صَادِقَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۱۷۳۵۹)
۔ سیدنا سعد بن اطول ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میرابھائی فوت ہو گیا اورتین سو دینا ر ترکہ چھوڑا ہے، اس نے چھوٹے چھوٹے بچے بھی چھوڑے ہیں، میں نے ارادہ کیا کہ یہ دینار ان پر خرچ کروں گا، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا: تیرا بھائی قرض کی وجہ سے روکا ہوا ہے، اس لیے جا اوراس کا قرض اداکر۔ پس میں گیااور اس کا سارا قرض اداکر کے پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میںنے اپنے بھائی کاتمام قرض چکا دیا ہے، البتہ ایک عورت رہ گئی ہے، وہ دودیناروںکادعوی کرتی ہے، لیکن اس کے پاس کوئی دلیل نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو اسے بھی دے، کیونکہ وہ سچی ہے۔
Takhreej
(۶۰۳۳) تخریج: صحیح۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۴۳۳(انظر: ۱۷۲۲۷)
6033
Sahih
مقروض آدمی کی نماز جنازہ ادا نہ کرنے کے حکم کا منسوخ ہونا
۔ (۶۰۳۴)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَا یُصَلِّیْ عَلٰی رَجُلٍ عَلَیْہِ دَیْنٌ، فَأُتِیَ بِمَیِّتٍ فَسَأَلَ: ((ھَلْ عَلَیْہِ دَیْنٌ؟)) قَالُوْا: نَعَمْ، دِیْنَارَانَ، قَالَ: ((صَلُّوْا عَلٰی صَاحِبِکُمْ۔)) فَقَالَ أَبُوْقَتَادَۃَ: ھُمَا عَلَیَّیَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فصَلّٰی عَلَیْہِ، فَلَمَّا فَتَحَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَلٰی رَسُوْلِہِ قَالَ: ((أَنَا أَوْلٰی بِکُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِہِ فَمَنْ تَرَکَ دَیْنًا فَعَلَیَّ وَمَنْ تَرَکَ مَالًا فَلِوَرَثَتِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۲۰۶)
۔ سیدنا جابربن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مقروض آدمی کی نماز جنازہ نہیں پڑھتے تھے، ایک دفعہ آپ کے پاس ایک میت لائی گئی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا کہ کیا اس پر قرض ہے ۔ لوگوں نے کہا: جی ہاں، یہ دو دینار کامقروض ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر تم خود ہی اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو۔ اتنے میں سیدنا ابو قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسو ل! وہ میرے ذمہ ہیں، تب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھی، جب اللہ تعالی نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پرفتوحات کے دروازے کھولے توآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں ہر مؤمن کے اس کی جان سے بھی زیادہ قریب ہوں، اس لیے اب جو قرض چھوڑ کر مرے گا، اس کی ادائیگی میرے ذمے ہو گی اورجو مال چھوڑ کر مرے گا، وہ اس کے ورثاء کاہوگا۔
Takhreej
(۶۰۳۴) اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین۔ أخرجہ ابوداود: ۳۳۴۳، والنسائی: ۴/ ۶۵ (انظر: ۱۴۱۵۹)
6034
Sahih
مقروض آدمی کی نماز جنازہ ادا نہ کرنے کے حکم کا منسوخ ہونا
۔ (۶۰۳۵)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: کَانَ رَسُوْل اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا شَہِدَ جَنَازَۃً سَأَلَ: ((عَلٰی صَاحِبِکُمْ دَیْنٌ؟)) فَاِنْ قَالُوْا: نَعَمْ، قَالَ: ((ھَلْ لَہُ وَفَائٌ؟۔)) فَاِنْ قَالُوْا: نَعَمْ، صَلّٰی عَلَیْہِ، وَإِنْ قَالُوْا: لَا، قَالَ: ((صَلُّوْا عَلٰی صَاحِبِکُمْ۔)) فَلَمَّا فَتَحَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَلَیْہِ الْفُتُوْحَ، قَالَ: ((أَنَا أَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ أَنْفُسِہِمْ، فَمَنْ تَرَکَ دَیْنًا فَعَلَیَّ وَمَنْ تَرَکَ مَالًا فَلِوَرَثَتِہِ۔)) (مسند احمد: ۷۸۸۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب کسی جنازہ میں شرکت کرتے توپو چھتے: تمہارے اس ساتھی پر کوئی قر ض تو نہیں ہے؟ اگر لوگ کہتے: جی ہاں ہے، تو پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پو چھتے: تو کیا اس نے قرض پورا کرنے کے لیے کچھ مال بھی چھوڑ اہے؟ اگرلوگ کہتے کہ جی ہاں تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کی نماز جنازہ پڑھا دیتے اور اگر لوگ کہتے کہ اس نے کوئی مال نہیںچھوڑا تو آ پ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرماتے: خود اپنے ساتھی پرنماز پڑھ لو۔ پھر جب اللہ تعالی نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لئے فتوحات کے دروازے کھول دئیے توآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں ایمانداروں کی جانوں سے بھی زیادہ ان کے قریب ہوں، اس لیے جوقر ض چھوڑ کر مرے گا، اس کی ادائیگی میرے ذمہ ہو گی اور جو مال چھو ڑ کر مرے گا، وہ اس کے ورثا ء کا ہوگا۔
Takhreej
(۶۰۳۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۷۳۱، ومسلم: ۱۶۱۹(انظر: ۷۸۹۹)
Explanation
فوائد:… اس حدیث سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ جب فتوحات کی وجہ سے آمدنی کے ذرائع بڑھ گئے تو آپa فوت ہونے والے مقروض صحابہ کی ادائیگی کر دیتے تھے، اس طرح ان کا قرضہ ادا ہو جاتا، پس ان کی نمازِ جنازہ کی ادائیگی کے بارے میں سختی بھی زائل ہو جاتی۔ نمازِ جنازہ کی عدم ادائیگی کا منسوخ ہونا، اس حدیث سے یہ استدلال تو نہیں کیا جا سکتا۔
6035
Sahih
قرضے کو وصیت اور ورثاء کے حقوق پر مقدم کرنے کا بیان، اگرچہ ورثاء چھوٹی عمر والے ہوں
۔ (۶۰۳۶)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: إِنَّکُمْ تَقْرَئُ وْنَ {مِنْ بَعْدِ وَصِیَّۃٍیُّوْصٰی بِہَا أَوْ دَیْنٍ} وَإِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَضٰی بِالدَّیْنِ قَبْلَ الْوَصِیَّۃِ وَأَنَّ أَعْیَانَ بَنِیْ الْأُمِّ یَتَوَارَثُوْنَ دُوْنَ بَنِیْ الْعَلَّاتِ، یَرِثُ الرَّجُلُ أَخَاہُ لِاَبِیْہِ وَأُمِّہِ دُوْنَ أَخِیْہِ لِاَبِیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۲۲۲)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ تم یہ آیت پڑھتے ہو میت کی طرف سے کی گئی وصیت اور قرضے کے بعد (ترکہ تقسیم کرو) لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وصیت کو پورا کرنے سے پہلے قرضے کی ادائیگی کا فیصلہ کیا ہے، نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ حکم بھی فرمایا ہے کہ عینی بھائی وارث بنیں گے، نہ کہ علاتی بھائی، بندے کا عینی بھائی وارث بنتا ہے، نہ کہ علاتی بھائی۔
Takhreej
(۶۰۳۶) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف الحارث الاعور۔ أخرجہ الترمذی: ۲۰۹۵، ۲۱۲۲، وابن ماجہ: ۲۷۳۹(انظر: ۱۲۲۲)
Explanation
فوائد:… یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن مسئلہ ایسے ہی ہے، بلکہ حافظ ابن کثیر نے کہا: علمائے سلف و خلف کا اجماع ہے کہ قرض کو وصیت پر مقدم کیا جائے گا۔ عینی اور علاتی بھائیوں میں قوی القرابہ اول الذکر ہیں، اس لیے جس مسئلہ میں بھائیوں کییہ دو قسمیں جمع ہو جائیں تو عینی بھائی علاتیوں کو محجوب کر دیں گے۔
6036
Zaeef
ادھار کی وجہ سے کسی چیز کو فروخت کرنے اور تنگدست سے کچھ قرضہ معاف کر دینے کے مستحب ہونے کا بیان
۔ (۶۰۳۷)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ أَنَّ رَجُلًا مَاتَ وَتَرَکَ مُدَبَّرًا وَدَیْنًا فَأَمَرَھُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یَبِیْعُوْہُ فِیْ دَیْنِہِ فبَاعُوْہُ بِثَمَانِ مِائَۃٍ۔ (مسند احمد: ۱۴۹۹۶)
۔ سیدنا جابربن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی فوت ہوا اور مدبر غلام اپنے ورثے میں چھوڑا، جبکہ وہ مقرو ض بھی تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوںکو حکم دیا کہ اس غلام کو اس کے قرض کی ادائیگی میں فروخت کردیں، پس انہوں نے اس کو آٹھ سو درہم میں فروخت کیا تھا۔
Takhreej
(۶۰۳۷) حدیث صحیح دون قولہ ’’مات وترک دینا‘‘ وھذا اسناد ضعیف، شریک بن عبد اللہ النخعی سییء الحفظ۔ أخرجہ بنحوہ البخاری:۲۲۳۰، ومسلم: ۹۹۷، لکن دون اللفظۃ الضعیفۃ (انظر: ۱۴۹۳۴)
Explanation
فوائد:… ’’مُدَبَّر‘‘ اس غلام کو کہتے ہیں، جس کا آقا اپنی زندگی میںیہ کہہ دیتا ہے کہ وہ اس کے مرنے کے بعد آزاد ہو گا۔ اس روایت کی اصل شکل درج ذیل حدیث میں بیان کی گئی ہے: سیدنا جابر bسے مروی ہے کہ ایک ابومذکور نامی انصاری آدمی نے اپنے غلام کو مدبَّر بنا دیا، جبکہ اِس کے علاوہ اس کے پاس کوئی مال نہیں تھا، رسول اللہ a نے اس غلام کو اپنے پاس بلایا اور فرمایا: ’’اس کو کون آدمی خریدے گا، اس کو کون آدمی خریدے گا؟‘‘ پس سیدنا نُعیم بن عبد اللہ bنے آٹھ سو درہم میں اُس کو خرید لیا، آپ a نے ابو مذکور کو اس کی قیمت دی اور فرمایا: ’’جب کوئی آدمی فقیر ہو تو وہ سب سے پہلے اپنی ذات پر خرچ کرے، اگر زائد مال ہو تو اس کو اپنے اہل و عیال پر خرچ کرے، اگر ان سے بھی بچ جائے تو اپنے رشتہ داروں پر خرچ کرے اور پھر بھی کوئی مال بچ جائے تو اِدھر اُدھر خرچ کر دے۔‘‘ (صحیح مسلم: ۹۹۷، مسند احمد: ۳/ ۳۰۵)
6037
Sahih
ادھار کی وجہ سے کسی چیز کو فروخت کرنے اور تنگدست سے کچھ قرضہ معاف کر دینے کے مستحب ہونے کا بیان
۔ (۶۰۳۸)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ اَبِیْیَحْیٰی عَنْ اَبِیْہِ عَنِ ابْنِ اَبِیْ حَدْرَدٍ الْاَسْلَمِیِّ أَنَّہُ کَانَ لِیَہُوْدِیٍّ عَلَیْہِ أَرْبَعَۃُ دَرَاھِمَ فَاسْتَعْدٰی عَلَیْہِ فقَالَ: یَا مُحَمَّدُ! إِنَّ لِیْ عَلٰی ھٰذَا أَرْبَعَۃَ دَرَاھِمَ وَقَدْ غَلَبَنِیْ عَلَیْہَا، فَقَالَ: ((أَعْطِہِ حَقَّہُ۔)) قَالَ: وَالَّذِیْ بَعَثَکَ بِالْحَقِّ مَا أَقْدِرُ عَلَیْہَا، قَالَ: ((أَعْطِہِ حَقَّہُ۔)) قَالَ: وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَِدِہِ مَا أَقْدِرُ عَلَیْہَا، قَدْ أَخْبَرْتُہُ أَنَّکَ تَبْعَثُنَا اِلٰی خَیْبَرَ فَأَرْجُوْ أَنْ تُغْنِمَنَا شَیْئًا فَأَرْجِعُ فَأَقْضِیْہِ، قَالَ: ((أَعْطِہِ حَقَّہُ۔)) قَالَ: وَکَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا قَالَ ثَلَاثًا لَمْ یُرَاجِعْ، فَخَرَجَ بِہٖابْنُاَبِیْ حَدْرَدٍ اِلَی السُّوْقِ وَ عَلٰی رَأْسِہِ عِصَابَۃٌ وَھُوَ مُتَّزِرٌ بِبُرْدَۃٍ فَنَزَعَ الْعِمَامَۃَ عَنْ رَأْسِہِ فَاَتَّّزَرَ بِہَا وَنَزَعَ الْبُرْدَۃَ فقَالَ: اشْتَرِ مِنِّیْ ھٰذِہٖالْبُرْدَۃَ، فَبَاعَہَا مِنْہُ بِأَرْبَعَۃِ الدَّرَاھِمِ، فَمَرَّتْ عَجُوْزٌ، فَقَالَتْ: مَالَکَ یَا صَاحِبَ رَسُوْلِ اللّٰہِ؟ فَاَخْبَرَھَا، فَقَالَتْ: دُوْنَکَ ھٰذَا بِبُرْدٍ عَلَیْہَا طَرَحَتْہُ عَلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۵۵۷۰)
۔ سیدنا ابو حدر د اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے ایکیہودی کے چاردرہم دینے تھے، وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس میری شکایت لے کرگیااورکہا: اے محمد! ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) اس آدمی نے میرے چار درہم دینے ہیں، لیکن اب یہ مجھ پر غالب آ گیا ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا ابو حدرد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: اس کو اس کا حق ادا کرو۔ انھوں نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا، میرے پاس گنجائش نہیں ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے پھر فرمایا: اس کا حق اداکرو۔ انھوں نے دوبارہ کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میرے پاس گنجائش نہیں ہے، میں نے اس یہودی کو بتایاہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں خیبر کی جانب بھیج رہے ہیں، اس لیے ہمیں امید ہے کہ مال غنیمت حاصل ہوگا اور میں واپس آکر قر ض اداکر دوں گا، لیکن آ پ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے پھر حکم دیا اور فرمایا: اس کا حق اداکر دو۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب کوئی بات تین دفعہ ارشاد فرما دیتے تو اس کے بعد مزید تکرار نہیں کرتے تھے۔ سیدنا ابن ابی حدرد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بازار گئے، سرپر ایک پگڑ ی تھی اور چادر کا تہبند باند ھ رکھاتھا، سر سے پگڑی اتاری اور اس کا تہبند باندھالیا اور چاد ر اتارلی اور آکر یہودی سے کہا: یہ چادر مجھ سے خرید لو، پس اس نے چار درہم میںیہ چادر خرید لی، اتنے میں وہاں سے ایک بڑھیا کا گزر ہوا، اس نے پوچھا: اے صحابیٔ رسول! تجھے کیا ہو گیا ہے؟ انھوں نے اس کو ساری بات بتلائی، بڑھیا کے پاس ایک چادر تھی، اس نے اس کی بات سن کر وہ اس کی طرف پھینک دی اور کہا: یہ لے چادر۔
Takhreej
(۶۰۳۸) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، محمد بن ابییحیی الاسلمی لم یدرک ابن ابی حدرد الاسلمی۔ أخرجہ الطبرانی فی ’’الصغیر‘‘ وفی ’’الاوسط‘‘ (انظر: ۱۵۴۸۹)
6038
Zaeef
ادھار کی وجہ سے کسی چیز کو فروخت کرنے اور تنگدست سے کچھ قرضہ معاف کر دینے کے مستحب ہونے کا بیان
۔ (۶۰۳۹)۔ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ أَبَاہُ أَخْبَرَہُ أَنَّہُ تَقَاضَی ابْنَ أَبِی حَدْرَدٍ دَیْنًا کَانَ لَہُ عَلَیْہِ فِی عَہْدِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْمَسْجِدِ فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُہُمَا حَتّٰی سَمِعَہَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہِ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ فِی بَیْتِہِ فَخَرَجَ إِلَیْہِمَا حَتّٰی کَشَفَ سِجْفَ حُجْرَتِہِ فَنَادَی: ((یَا کَعْبُ بْنَ مَالِکٍ!)) فَقَالَ: لَبَّیْکَیَا رَسُولَ اللّٰہِ! وَأَشَارَ إِلَیْہِ أَنْ ضَعْ مِنْ دَیْنِکَ الشَّطْرَ، قَالَ: قَدْ فَعَلْتُیَا رَسُولَ اللّٰہِ ! قَالَ: ((قُمْ فَاقْضِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۷۷۱۹)
۔ عبد اللہ بن کعب سے مروی ہے کہ ان کے باپ سیدنا کعب بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا ابن ابی حدرد سے قرض کا مطالبہ کیا،یہ عہد ِ نبوی کی بات ہے، اس سلسلے میں ان کی آوازیں اتنی بلند ہوئیں، جبکہ وہ مسجد میں تھے، کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سن لیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم گھر میں تشریف فرماتھے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کی طرف آئے اور اپنے حجرہ کا پردہ ہٹایا اور یوں آواز دی: اے کعب بن مالک! انھوں نے کہا: جی اے اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی طرف اشارہ کیا کہ آدھا قرضہ معاف کر دو، انھوں نے کہا: جی میںنے کردیا ہے، اے اللہ کے رسول! آپ نے ابن ابی حدرد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: اٹھو اور باقی قرض اداکردو۔
Takhreej
(۶۰۳۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۵۵۸(انظر: ۲۷۱۷۷)
Explanation
فوائد:… آپa نے قرض خواہ کو حکم دیا کہ وہ آدھا قرض معاف کر دے، یہ آپa کی رحم دلی کا ثبوت ہے۔ معلوم ہوا کہ امیر اور ذمہ دار قرض خواہ کو کہہ سکتا ہے کہ قرضہ کچھ معاف کر دو۔ قرض خواہ کو بھی امیر کی بات کا لحاظ کرکے شرح صدر کا ثبوت دیتے ہوئے بات کی تعمیل کرنی چاہیے۔ (عبداللہ رفیق)
6039
Sahih
ادھار کی وجہ سے کسی چیز کو فروخت کرنے اور تنگدست سے کچھ قرضہ معاف کر دینے کے مستحب ہونے کا بیان
۔ (۶۰۴۰)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: أُصِیْبَ رَجْلٌ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ ثِمَارٍ اِبْتَاعَہَا فَکَثُرَ دَیْنُہُ، قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تَصَدَّقُوْا عَلَیْہِ۔)) قَالَ: فَتَصَدَّقَ النَّاسُ عَلَیْہِ فَلَمْ یَبْلُغْذٰلِکَ وَفَائَ دَیْنِہِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خُذُوْا مَاوَجَدْتُمْ وَلَیْسَ لَکُمْ اِلَّا ذٰلِکَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۳۳۷)
۔ سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہد ِ مبارک میں ایک آدمی نے پھل خریدا، لیکن اس پھل پر کوئی آفت پڑی، جس کی وجہ سے وہ آدمی بہت زیادہ مقروض ہو گیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس پر صدقہ کرو۔ لوگوں نے صدقہ تو کیا، لیکن اس کی مقدار اس کے قرضے سے کم رہی، بالآخر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قرض خواہوں سے فرمایا: جو کچھ تمہیں مل رہا ہے، اُس کو لے لو اور اس کے علاوہ مزید کچھ نہیں ہے۔
Takhreej
(۶۰۴۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۵۵۶(انظر: ۱۱۳۱۷)
Explanation
فوائد:… اس حدیث کے مطابق بھی آپa نے قرض خواہوں سے سفارش کی کہ وہ باقی قرض معاف کر دیں۔
6040
Sahih
اس چیز کا بیان کہ جس آدمی نے کسی حادثے یا ضرورت کی بنا پر قرضہ لیا، جبکہ وہ ادا کرنے کی نیت رکھتا ہو اور ادا نہ کر سکے تو اللہ تعالی اس کی طرف سے ادا کر دے گا
۔ (۶۰۴۱)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ بَکْرٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَدْعُو اللّٰہُ بِصَاحِبِ الدَّیْنِیَوْمَ الْقِیَامَۃِ حَتّٰییُوْقَفَ بَیْنَیَدَیْہِ، فَیُقَالُ: یَا ابْنَ آدَمَ! فِیْمَ أَخَذْتَ ھٰذَا الدَّیْنَ؟ وَفِیْمَ ضَیَّعْتَ حُقُوْقَ النَّاسِ؟ فَیَقُوْلُ: یَارَبِّ! اِنَّکَ تَعْلَمُ أَنِّیْ أَخَذْتُہُ فَلَمْ آکُلْ وَلَمْ أَشْرَبْ وَلَمْ أَلْبَسْ وَلَمْ أُضَیِّعْ، وَلٰکِنْ أَتٰی عَلٰییَدَیَّ إِمَّا حَرَقٌ وَإِمَّا سَرَقَ وَإِمَّا وَضِیْعَۃٌ، فَیَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: صَدَقَ عَبْدِیْ، أَنَا أَحَقُّ مَنْ قَضٰی عَنْکَ الْیَوْمَ، فَیَدْعُو اللّٰہُ بِشَیْئٍ فَیَضَعَہُ فِیْ کِفَّۃِ مِیْزَانِہِ فَتَرْجَحُ حَسَنَاتُہُ عَلٰی سَیِّئَاتِہِ فَیَدْخُلَ الْجَنَّۃَ بِفَضْلِ رَحْمَتِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۰۸)
۔ سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ مقروض آدمی کو روزِ قیامت بلا کر اپنے سامنے کھڑاکرکے کہیں گے: اے آدم کے بیٹے! یہ قرض کیوں لیا تھا؟ تو نے کس لیے لوگوں کے حقوق ضائع کئے تھے؟ وہ آدمی کہے گا: اے میرے پروردگار! تجھے معلوم ہے میں نے یہ قرض کھانے پینے، پہننے اور فضول ضائع کرنے کے لئے نہیں لیاتھا، بلکہ اپنے مال کے جل جانے یا چوری ہو جانے یا تجارت میں گھاٹا پڑنے کی وجہ سے لیا تھا، اللہ تعالیٰ کہے گا: میرے بندے نے سچ کہا ہے، لہٰذاآج میں اس کی طرف سے اس کا قرض پورا کرنے کا زیادہ حق رکھتا ہوں، پھر اللہ تعالیٰ کچھ منگوا کر اس آدمی کے ترازوکے پلڑے میںرکھے گے، جس کی وجہ سے اس کی نیکیاں اس کی برائیوں پر بھاری ہو جائیں گی، اس طرح اللہ تعالیٰ اس کو اپنی رحمت کی وجہ سے جنت میںداخل کردے گا۔
Takhreej
(۶۰۴۱) تخریج: اسنادہ ضعیف، صدقۃ بن موسی الدقیقی ضعیف۔ أخرجہ البزار: ۱۳۳۲، والطیالسی: ۱۳۲۶ (انظر: ۱۷۰۸)
6041
Zaeef
اس چیز کا بیان کہ جس آدمی نے کسی حادثے یا ضرورت کی بنا پر قرضہ لیا، جبکہ وہ ادا کرنے کی نیت رکھتا ہو اور ادا نہ کر سکے تو اللہ تعالی اس کی طرف سے ادا کر دے گا
۔ (۶۰۴۲)۔ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ قَالَ: کَانَتْ عَائِشَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا تَدَّانُ، فَقِیْلَ لَھَا: مَا لَکِ وَلِلدَّیْنِ؟ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْ عَبْدٍ کَانَتْ لَہُ نِیّۃٌ فِیْ أَدَائِ دَیْنِہِ اِلَّا کَانَ لَہُ مِنَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ عَوْنٌ۔)) فَاَنَا اَلْتَمِسُ ذٰلِکَ الْعَوْنَ۔ (مسند احمد: ۲۵۵۰۷)
۔ محمد بن علی کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قرض لیا کرتی تھیں، جب ان سے کہاگیا کہ آپ کا قرض سے کیا تعلق ہے تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جوشخص قرض لینے کے بعد اس کو ادا کرنے کی نیت رکھے گا، تو اللہ تعالی کی طرف اس کو خصوص مدد حاصل ہو گی۔ پس میں وہ مدد تلاش کر رہی ہوں۔
Takhreej
(۶۰۴۲) تخریج: حدیث حسن۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۴۰۹ (انظر: ۲۴۹۹۳)
6042
Sahih
اس چیز کا بیان کہ جس آدمی نے کسی حادثے یا ضرورت کی بنا پر قرضہ لیا، جبکہ وہ ادا کرنے کی نیت رکھتا ہو اور ادا نہ کر سکے تو اللہ تعالی اس کی طرف سے ادا کر دے گا
۔ (۶۰۴۳)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ حَمَلَ مِنْ أُمَّتِیْ دَیْنًا ثُمَّ جَہَدَ فِیْ قَضَائِہِ فَمَاتَ وَلَمْ یَقْضِہِ فَأَنَا وَلِیُّہُ۔)) (مسند احمد: ۲۵۷۲۶)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت میںسے جس انسان نے قرضہ لیا اور پھر اس کو ادا کرنے کی کوشش کی، لیکن ادا کرنے سے پہلے مر گیا تو میں اس کا ذمہ دار ہوں۔
Takhreej
(۶۰۴۳) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ ابویعلی: ۴۸۳۸، والطبرانی ’’’فی الاوسط‘‘: ۹۳۳۴، والبیھقی: ۷/ ۲۲ (انظر: ۲۵۲۱۱)
6043
Sahih
اس چیز کا بیان کہ جس آدمی نے کسی حادثے یا ضرورت کی بنا پر قرضہ لیا، جبکہ وہ ادا کرنے کی نیت رکھتا ہو اور ادا نہ کر سکے تو اللہ تعالی اس کی طرف سے ادا کر دے گا
۔ (۶۰۴۴)۔ وَعَنْہَا أَیْضًا قَالَتْ: سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ کَانَ عَلَیْہِ دَیْنٌ ھَمَّہُ قَضَاؤُہُ أَوْھَمَّ بِقَضَائِہِ لَمْ یَزَلْ مَعَہُ مِنَ اللّٰہِ حَارِسٌ۔)) (مسند احمد: ۲۶۷۱۷)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ ابوالقاسم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس انسان پر قرض ہو اوراس کو چکا دینے کا ارادہ رکھتا ہو تو اللہ تعالی کی طر ف سے اس پر ایک نگہبان مقرر ہو گا۔
Takhreej
(۶۰۴۴) تخریج: حدیث حسن۔ أخرجہ الطبرانی فی ’’الاوسط‘‘: ۳۷۷۱ (انظر: ۲۶۱۸۷)
6044
Sahih
اس چیز کا بیان کہ جس آدمی نے کسی حادثے یا ضرورت کی بنا پر قرضہ لیا، جبکہ وہ ادا کرنے کی نیت رکھتا ہو اور ادا نہ کر سکے تو اللہ تعالی اس کی طرف سے ادا کر دے گا
۔ (۶۰۴۵)۔ عَنْ مَیْمُوْنَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّھَا اسْتَدَانَتْ دَیْنًا فَقِیْلَ لَھَا: تَسْتَدِیْنِیْنَ وَلَیْسَ عِنْدَکِ وَفَائُہُ؟ قَالَتْ: إِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَا مِنْ أَحَدٍ یَسْتَدِیْنُ دَیْنًایَعْلَمُ اللّٰہُ أَنَّہُیُرِیْدُ أَدَائَہُ اِلَّا أَدَّاہُ۔)) (مسند احمد: ۲۷۳۵۳)
۔ زوجۂ رسول سیدہ میمونہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے قرض لیا، کسی نے ان سے کہا: آپ قرض لیتی ہیں، جبکہ آپ میں واپس کرنے کی طاقت نہیں ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جب کوئی آدمی قر ض لیتا ہے اور اس کے بارے میں اللہ تعالییہ جانتا ہے کہیہ شخص ادا کرنا چاہتا ہے تو اللہ تعالی اس کو ادا کر وا دیتا ہے۔
Takhreej
(۶۰۴۵) تخریج: صحیح بشواہدہ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۴۲۸۸، والنسائی: ۷/ ۳۱۵ (انظر: ۲۶۸۱۶)
Explanation
فوائد:… ان احادیث کا مفہوم یہ ہے کہ جو آدمی ایسی ضرورت کے لیے قرض لیتا ہے ، جس کے بغیر اس کا کوئی چارۂ کار نہ ہو اور پھر اس کی ادائیگی کا سچا عزم رکھتا ہو اور پہلی فرصت میں اس ذمہ داری سے عہدہ برآ ہونے کی کوشش کرنے والا ہے، لیکن اگر وہ پھر بھی قرض ادا نہ کر سکا تو حسن ظن یہی ہے کہ اللہ تعالی قیامت والے دن اس کامؤاخذہ نہیں کرے گا اور اگر قرض خواہ نے اپنی زندگی میں اس کو معاف نہ کیا تو اللہ تعالی اس کو اپنی طرف سے راضی کر دے گا۔
6045
Sahih
اس چیز کا بیان کہ جس آدمی نے کسی حادثے یا ضرورت کی بنا پر قرضہ لیا، جبکہ وہ ادا کرنے کی نیت رکھتا ہو اور ادا نہ کر سکے تو اللہ تعالی اس کی طرف سے ادا کر دے گا
۔ (۶۰۴۶)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ تَرَکَ مَالًا فَلِأَھْلِہِ، وَمَنْ تَرَکَ دَیْنًا فَعَلٰی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَ عَلٰی رَسُوْلِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۳۲۸۴)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے مال چھوڑا، وہ اس کے اہل وعیال کے لیے ہو گا اور جس نے قرض چھوڑا وہ اللہ تعالی اور اس کے رسو ل کے ذمے ہو گا۔
Takhreej
(۶۰۴۶) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابویعلی: ۴۳۴۳ (انظر: ۱۳۲۵۱)
6046
Sahih

Chapters

10
01
قر ض دینے کی فضیلت اور تنگدست پر آسانی کرنے کا بیان
3 Hadith
02
اچھے انداز میں قرض کی ادائیگی اور اس کا مطالبہ کرنے، قرض دار کی قرض خواہ کے لیے دعا کرنے اور لیے ہوئے قرض سے زیادہ مقدار دے دینے کے مستحب ہونے کا بیان
8 Hadith
03
قر ض سے محتاط رہنے، بوقت ضرورت اس کے جائز ہونے اور نبی کریمa کے قرض لینے کا بیان
6 Hadith
04
ادائیگی کا ارادہ نہ رکھنے والے یا ادائیگی میں سستی کرنے والے قرض دار شخص کی سخت مذمت اور فاضل آدمی کا فوت ہونے والے مقروض آدمی کی نماز جنازہ نہ پڑھنے کا بیان
6 Hadith
05
قرض کی وجہ سے میت کے نفس کو جنت سے روک لینے کا بیان
4 Hadith
06
مقروض آدمی کی نماز جنازہ ادا نہ کرنے کے حکم کا منسوخ ہونا
2 Hadith
07
قرضے کو وصیت اور ورثاء کے حقوق پر مقدم کرنے کا بیان، اگرچہ ورثاء چھوٹی عمر والے ہوں
1 Hadith
08
ادھار کی وجہ سے کسی چیز کو فروخت کرنے اور تنگدست سے کچھ قرضہ معاف کر دینے کے مستحب ہونے کا بیان
4 Hadith
09
اس چیز کا بیان کہ جس آدمی نے کسی حادثے یا ضرورت کی بنا پر قرضہ لیا، جبکہ وہ ادا کرنے کی نیت رکھتا ہو اور ادا نہ کر سکے تو اللہ تعالی اس کی طرف سے ادا کر دے گا
7 Hadith
10
تنگدست کو مہلت دینے والے یا اس کومعاف کر دینے والے کی فضیلت کا بیان
11 Hadith
No chapter matched that.