TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 6129 - تمام طریقوں سے زمین کو کرائے پر دینے والوں کی دلیل کا اور ممانعت کو نہی تنزیہی پر محمول کرنے کا بیان - مساقات، مزارعت اور زمین کو کرائے پر دینے کا بیان - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 2 of 4 in this chapter
تمام طریقوں سے زمین کو کرائے پر دینے والوں کی دلیل کا اور ممانعت کو نہی تنزیہی پر محمول کرنے کا بیان
۔ (۶۱۲۹)۔ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: بَعَثَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلٰی قُرًی عَرَبِیَّۃٍ فَأَمَرَنِیْ أَنْ آخُذَ حَظَّ الْأَرْضِ، قَالَ سُفَیَانُ: حَظُّ الْأَرْضِ: اَلثُّلُثُ وَالرُّبُعُ۔ (مسند احمد: ۲۲۴۶۸)
۔ سیدنا معاذبن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے عرب کی چند بستیوں کی طرف بھیجا اور حکم دیاکہ میں وہاں سے زمین کاتہائی اور چوتھائی لے کر آؤں۔
6129
Zaeef
Bookmark
Status: Zaeef
:حکم حدیث ضعیف
Conclusion
تخریج
(۶۱۲۹) تخریج: اسنادہ ضعیف، جابر بن یزید الجعفی ضعیف، ومحمد بن زید الجعفی لم نتبینہ۔ أخرجہ عبد الرزاق: ۱۴۴۷۲(انظر: ۲۲۱۱۷)

Related Chapters

389
1
زمین کو کرائے پر دینے کے بارے میں ابواب مطلق طور پر زمین کو کرایہ پر دینے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
2
زمین کو اس کی بعض پیداوار کے عوض کرائے پر دینے سے منع کرنے والوں اور سونے اور چاندی کے عوض جائز سمجھنے والوں کی دلیل کا بیان
Musnad Ahmad
3
میت کی وصیت کی بناء پر اس کی طرف سے قربانی کرنا اور قربانی کا گوشت اچکنے کی اجازت دینے والوں کا اور اچک لینے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
4
وصیت کرنے پر رغبت دلانے، اس میںظلم کرنے کی ممانعت اور زندگی میں ہی اس کا اہتمام کرلینے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
5
طاعون زدہ زمین میں داخل ہونے کی اور وہاں موجود لوگوں کا فرار ہوتے ہوئے وہاں سے نکل جانے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
6
اس چیز کا بیان کہ فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے، جس میں گھنٹی یا گھونگرو ہو، نیز فرشتے اس قافلے کے ساتھ نہیں چلتے، جس میں یہ چیزیں ہوں اور ان چیزوں کا اہتمام کرنے سے ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
7
(71) CHAPTER. It is forbidden to meet the caravans on the way (to buy the goods away from the market).
پہلے سے آگے جا کر قافلے والوں سے ملنے کی ممانعت اور یہ بیع رد کر دی جاتی ہے
Sahih Bukhari
8
مزارعت (زمین کو پیدا وار کی متعین مقدار کے عوض )اور مؤاجرت (نقدی کے عوض کرائے پر دینے )کا حکم
Sahih Muslim
9
Chapter: Women who take part in military expeditions are to be given a reward but not a regular share; And the prohibition of killing children of the enemy
جہاد میں شریک عورتوں کو عطیہ دیا دائے گا اور (باقاعدہ) حصہ نہیں نکالا جائے گانیز جنگ کرنے والوں کے بچوں کو قتل کرنے کی ممانعت
Sahih Muslim
10
Chapter: The prohibition of travelling with the Mushaf to the land of the disbelievers if there is the fear that it may fall into their hands.
کفار کے ہاتھ لگنے کا ڈر ہو تو کفار کی سر زمین میں قرآن پاک ساتھ لے جانے کی ممانعت
Sahih Muslim
11
Chapter: The Prohibition Of, And Warning Against Seeking Out Verses Of The Quran Whose Meanings Are Not Decisive; The Prohibition Of Arguing About The Qur'an
متشابہاتِ قرآن کے پیچھے لگنے کی ممانعت، ان (متشابہات قرآن) کا اتباع کرنے والوں سے دور رہنے کا حکم اور قرآن مجید میں اختلاف کی ممانعت
Sahih Muslim
12
باب: زمین کو تہائی یا چوتھائی پر بٹائی دینے کی ممانعت کے سلسلے کی مختلف احادیث اور ان کے رواۃ کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
13
6)Chapter: Regarding The Prohibition Of Facing The Qiblah When Defecating And Urinating.
باب: پیشاب یا پاخانہ کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنے کی ممانعت​
Jam e Tirmazi
14
7)Chapter: What Has Been Related About The Permission for That
باب: کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کی ممانعت​
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What Has Been Related About Prohibiting Recitations While Bowing and Prostrating
باب: رکوع اور سجدے میں قرأت کی ممانعت
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Al-Ikhtisar (Holding The Hip) In Salat
باب: نماز میں کوکھ پر ہاتھ رکھنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Begging
باب: دوسروں سے مانگنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About: Do Not Precede The Month With Fasting
باب: رمضان کے استقبال کی نیت سے ایک دو روز پہلے روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About the Prohibition Against Wishing For Death
باب: موت کی تمنا کرنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What Has Been Related About the Prohibition Of Slapping The Cheeks And Tearing The Clothes During A Calamity
باب: مصیبت کے وقت چہرہ پیٹنے اور گریبان پھاڑنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Plaster Graves And Write On Them
باب: قبریں پختہ کرنے اور ان پر لکھنے کی ممانعت
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What has been related about it being disliked for women to visit the graves
باب: عورتوں کے لیے قبروں کی زیارت کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Celibacy
باب: بے شادی زندگی گزارنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What Has Been Related About Coercing A Female Orphan To Marry
باب: یتیم لڑکی کو شادی کرنے پر مجبور کرنے کی ممانعت
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Muhaqalah and Muzabanah
باب: محاقلہ اور مزابنہ کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Two Sales In One
باب: ایک بیع میں دو بیع کرنے کی ممانعت
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What Has Been Related About Someone Who Purchases A Slave And He Profited From him, Then He Found A Defect In Him
باب: غلام خریدے اور اس سے مزدوری کرائے پھر اس میں کوئی عیب پا جائے تو کیا کرے؟
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition From Making Exceptions
باب: بیع میں استثناء کرنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What Has Been Related About The Sale Of Wine And The Prohibition Of That
باب: شراب کی بیع اور اس کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
30
Chapter: The Prohibition Of Selling In The Masjid
باب: مسجد میں خرید و فروخت کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition of Mutilation
باب: مردہ کے مثلے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Killing Women And Children
باب: عورتوں اور بچوں کے قتل کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Combing Except Every Other Day
باب: ہر روز گنگھی کرنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What Has Been Related About The Riding Mayathir
باب: ریشمی زین پر سوار ہونے کی ممانعت
Jam e Tirmazi
35
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Predator Skins
باب: درندے کی کھال استعمال کرنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
36
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Eating And Drinking With The Left Hand
باب: بائیں ہاتھ سے کھانے پینے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
37
Chapter: What Has Been Related About It Is Disliked To Prepare Nabidh In Ad-Dubba', An-Naqir, And An-Hantam
باب: تونبی، مٹکا (سبز رنگ کے برتن) اور لکڑی کے برتن میں نبیذ بنانے کی ممانعت
Jam e Tirmazi
38
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Drinking While Standing
باب: کھڑے ہو کر پینے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
39
باب: نشہ آور چیزوں سے دوا کرنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
40
Chapter: What has been Related About The Prohibition From Selling The Wala' And From Conferring it
باب: ولاء کے بیچنے اور اسے ہبہ کرنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
41
Chapter: What has been Related About The Prohibition of Passing an Unsheathed Sword
باب: ننگی تلوار لینے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
42
باب: شوہر کی اجازت کے بغیر ان کی عورتوں کے پاس جانے کی ممانعت
Jam e Tirmazi
43
باب: بڑھاپے کے (سفید) بال اکھیڑنے کی ممانعت
Jam e Tirmazi
44
بَاب سنَن الْوضُوء
وضو کے طریقوں کا بیان
Mishkat
45
بَاب مَالا يدعى على الْمَحْدُود
جس شخص پر حد قائم کی جائے اس پر بددعا کرنے کی ممانعت کا بیان
Mishkat
46
بَابُ مَا يُنْهَى
ہجر ، قطع تعلقی اور عیب جوئی کی ممانعت کا بیان
Mishkat
47
آپ کے ارشاد تم پہلے لوگوں کے طریقوں کی پیروی کرو گے کا بیان
Musnad Ahmad
48
اذان پر اجرت لینے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
49
تبرک و تعظیم کے لیے انبیاء وصالحین کی قبروں کو مساجد بنانے کی ممانعت
Musnad Ahmad
50
نماز میں مسلمانوں کے ننگا ہونے کی ممانعت اور ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کا جواز
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

50
Musnad Ahmad
983
۔ (۹۸۳)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا أَبُوْمُعَاوِیَۃَ ثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِیْقٍ قَالَ: کُنْتُ جَالِسًا مَعَ أَبِیْ مُوْسٰی وَعَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ: فَقَالَ أَبُوْمُوْسٰی: یَا أَبَا عَبْدِالرَّحْمَانِ! أرَأَیْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا لَمْ یَجِدِ الْمَائَ وَقَدْ أَجْنَبَ شَہْرًا أَمَا کَانَ یَتَیَمَّمُ؟ قَالَ: لَا، وَلَوْ لَمْ یَجِدِ الْمَائَ شَہْرًا (فَذَکَرَ نَحْوَ الْحَدِیْثِ الْمُتَقَدِّمِ وَفِیْہِ) قَالَ لَہُ أَبُوْ مُوْسٰی: أَلَمْ تَسْمَعْ لِقَوْلِ عَمَّارٍ؟ بَعَثَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ حَاجَۃٍ فَأجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدِ الْمَائَ فَتَمَرَّغْتُ فِی الصَّعِیْدِ کَمَا تَمَرَّغُ الدَّابَۃُ، ثُمَّ أَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لَہُ، فَقَالَ: ((اِنَّمَا کَانَ یَکْفِیْکَ أَنْ تَقُوْلَ وَضَرَبَ بِیَدِہِ عَلَی الْأَرْضِ، ثُمَّ مَسَحَ کُلَّ وَاحِدَۃٍ مِنْہُمَا بِصَاحِبَتِہَا ثُمَّ مَسَحَ بِہِمَا وَجْہَہُ (وَفِیْہِ) قَالَ عَبْدُالرَّحْمَانِ: قَالَ أَبِیْ: وَقَالَ أَبُوْ مُعَاوِیَۃِ مَرَّۃً: قَالَ: فَضَرَبَ بِیَدِہِ عَلَی الْاََرْضِ ثُمَّ ضَرَبَ بِشِمَالِہِ عَلٰی یَمِیْنِہِ وَیَمِیْنِہِ عَلٰی شِمَالِہِ عَلَی الْکَفَّیْنِ ثُمَّ مَسَحَ وَجْہَہُ۔ (مسند أحمد: ۱۸۵۱۸)
۔ (دوسری سند) شقیق کہتے ہیں: میں سیدنا ابو موسی ؓاور سیدنا عبد اللہ ؓ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، سیدنا ابو موسی ؓ نے کہا: اے ابو عبد الرحمن! اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ ایک آدمی کو (غسل کے لیے) پانی نہیں ملتا، جبکہ وہ ایک مہینہ سے جنبی ہے، کیا وہ تیمم نہیں کرے گا؟ انھوںنے کہا: جی نہیں، اگرچہ اس کو ایک ماہ تک پانی نہ ملے۔ پھر سابق حدیث کی مانند حدیث ذکر کی، البتہ اس میں ہے: سیدنا ابو موسی ؓ نے کہا: کیا آپ نے سیدنا عمار ؓکی بات نہیں سنی؟ وہ کہتے ہیں: مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ایک کام کے لیے بھیجا، پس میں جنبی ہو گیا اور غسل کے لیے پانی نہ ملا، پس میں جانور کی طرح مٹی میں لیٹا اور پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ بات بتلائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تجھے تو یہ کافی تھا کہ تو اس طرح کرتا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنے ہاتھ زمین پر مارے، پھر ہر ہاتھ کو دوسرے پر پھیرا اور دونوں ہاتھوں کو چہرے پر پھیر لیا۔ اس میں مزید یہ الفاظ بھی ہیں: ایک دفعہ ابو معاویہ نے یہ طریقہ یوں بیان کیا: پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنے ہاتھ زمین پر مارے، پھر بائیں ہاتھ کو دائیں پر اور دائیں کو بائیں پر ہتھیلیوں پر پھیرا اور پھر اپنے چہرے پر پھیر لیا۔
Musnad Ahmad
323
۔ (۳۲۳)۔عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ نِ الْخُدْرِیِّؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِنِّیْ تَارِکٌ فِیْکُمُ الثَّقَلَیْنِ، أَحَدُہُمَا أَکْبَرُ مِنَ الْآخَرِ، کِتَابُ اللّٰہِ حَبْلٌ مَمْدُوْدٌ مِنَ السَّمَائِ اِلَی الْأَرْضِ، وَعِتْرَتِیْ أَھْلُ بَیْتِیْ وَإِنَّہُمَا لَنْ یَفْتَرِقَا حَتَّی یَرِدَا عَلَیَّ الْحَوْضَ)) (مسند أحمد:۱۱۱۲۰)
سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میں تم میں دو بیش قیمت چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں، ان میں سے ایک دوسری سے بڑی ہے، اللہ تعالیٰ کی کتاب ایک رسی ہے، جس کو آسمان سے زمین کی طرف لٹکایا گیا ہے اور میری نسل میرے اہل بیت ہیں اور یہ دونوں چیزیں جدا نہیں ہوں گی، یہاں تک کہ دونوں میرے حوض پر آ جائیں گی۔
Musnad Ahmad
1854
۔ (۱۸۵۴) عَنْ زَیْدِ بْنِ أَرْقَمَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ فِیْ دُبُرِ صَلاَتِہِ: ((اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ کُلِّ شَیْئٍ أَنَاشَہِیْدٌ أَنَّکَ أَنْتَ الرَّبُّ وَحْدَکَ لاَشَرِیْکَ لَکَ (قَالَ أِبْرَاھِیْمُ مَرَّتَیْنِ )رَبَّنَا وَرَبَّ کُلِّ شَیْئٍ، أَنَا شَہِیْدٌ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُکَ وَرَسُوْلُکَ، رَبَّنَا وَرَبَّ کُلِّ شَیْئٍ، أَنَا شَہِیْدٌ أَنَّ العِبَادَ کُلَّہُمْ إِخْوَۃٌ، اَللّٰہُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ کُلِّ شَیْئٍ! اِجْعَلْنِیْ مُخْلِصًا لَکَ وَأَھْلِیْ فِیْ کُلِّ سَاعَۃٍ مِنَ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ، ذَاالْجَلاَلِ وَالْإِکْرَامِ! اِسْمَعْ وَاسْتَجِبْ، اَللّٰہُ الْأَکْبَرُ الْأَکْبَرُ نُوْرُ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ، اَللّٰہُ الْأَکْبَرُ الْأَ کْبَرُ حَسْبِیَ اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ، اَللّٰہُ الْأَ کْبَرُ الْأَ کْبَرُ۔)) (مسند احمد: ۱۹۵۰۸)
سیدنازید بن ارقم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی نماز کے بعد یہ دعا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ کُلِّ شَیْئٍ أَنَاشَہِیْدٌ أَنَّکَ أَنْتَ الرَّبُّ وَحْدَکَ لاَشَرِیْکَ لَکَ رَبَّنَا وَرَبَّ کُلِّ شَیْئٍ، أَنَا شَہِیْدٌ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُکَ وَرَسُوْلُکَ، رَبَّنَا وَرَبَّ کُلِّ شَیْئٍ، أَنَا شَہِیْدٌ أَنَّ العِبَادَ کُلَّہُمْ إِخْوَۃٌ، اَللّٰہُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ کُلِّ شَیْئٍ! اِجْعَلْنِیْ مُخْلِصًا لَکَ وَأَھْلِیْ فِیْ کُلِّ سَاعَۃٍ مِنَ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ، ذَاالْجَلاَلِ وَالْإِکْرَامِ! اِسْمَعْ وَاسْتَجِبْ، اَللّٰہُ الْأَکْبَرُ الْأَکْبَرُ نُوْرُ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ، اَللّٰہُ الْأَکْبَرُ الْأَ کْبَرُ حَسْبِیَ اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ، اَللّٰہُ الْأَ کْبَرُ الْأَ کْبَرُ۔ (اے اللہ! ہمارے رب اور ہرچیز کے رب میںگواہ ہوں کہ تو ہی اکیلا رب ہے، تیرا کوئی شریک نہیں، اے ہمارے رب اور ہر چیز کے رب! میں گواہ ہوں کہ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تیرے بندے اور رسول ہیں، اے ہمارے رب اور ہر چیز کے رب! میں گواہ ہوں کہ سارے بندے بھائی بھائی ہیں، اے اللہ! ہمارے رب اور ہر چیز کے رب! مجھے اور میرے اہل کو دنیا و آخرت کی ہر گھڑی میں اپنے لئے مخلص بنادے، اے جلال و اکرام والے! سن لے اور قبول کرلے، اللہ سب سے بڑا ہے، سب سے بڑا ہے، آسمانوں اور زمین کا نور ہے اللہ سب سے بڑا ہے، سب سے بڑا ہے، مجھے اللہ ہی کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے، اللہ سب سے بڑاہے، سب سے بڑا ہے۔)
Musnad Ahmad
2695
۔ (۲۶۹۵) حدثنا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی ثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُالْمَلِکِ بْنُ عَمْرٍو قَالَ ثَنَا زُھَیْرٌ یَعْنِی ابْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیْلٍ عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ یَزِیْدَ الْأَنْصَارِیِّ عَنْ أَبِی لُبَابَۃَ الْبَدْرِیِّ بْنِ عَبْدِ الْمُنْذِرِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((سَیِّدُ الْأَیَّامِ یَوْمُ الْجُمُعَۃِ وَأَعْظَمُہَا عِنْدَ اللّٰہِ تَعَالٰی، وَأَعْظَمُ عِنْدَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ مِنْ یَوْمِ الْفِطْرِ وَیَوْمِ الْأَضْحٰی وَفِیْہِ خَمْسُ خِلَالٍ: خَلَقَ اللّٰہُ فِیْہِ آدَمَ، وَأَھْبَطَ اللّٰہُ فِیْہِ آدَمَ اِلَی الْأَرْضِ، وَفِیْہِ تَوَفَّی اللّٰہُ آدَمَ، وَفِیْہِ سَاعَۃٌ لَا یَسْأَلُ الْعَبْدُ فِیْہَا شَیْئًا اِلَّا آتَاہُ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی اِیَّاہُ، مَالَمْ یَسْأَلْ حَرَامًا وَفِیْہِ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ، مَا مِنْ مَلَکٍ مُقَرَّبٍ وَلَا سَمَائٍ وَلَا أَرْضٍ وَلَا رِیَاحٍ وَلَا جِبَالٍ وَلَا بَحْرٍ اِلَّا ھُنَّ یُشْفِقْنَ مِنْ یَوْمِ الْجُمُعَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۶۳۳)
سیّدنا ابولبابہ بدری بن عبد المنذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جمعہ کا دن اللہ تعالیٰ کے ہاں دنوں کا سردار اور عظیم ترین ہے، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے ہاں عید الفطر اور عید الاضحی کے دنوں سے بھی عظیم ہے، اس میں پانچ خصائل ہیں: (۱) اللہ تعالیٰ نے اس میں آدم علیہ السلام کو پیدا کیا،(۲) اسی میں ان کو زمین پر اتارا، (۳) اور اسی میں ان کو فوت کیا، (۴)اس میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ جس میں بندہ اللہ تعالیٰ سے جس چیز کا بھی سوال کرتا ہے، وہ اسے عطا کر دیتا ہے، جب تک حرام کاسوال نہ کرے، اور (۵)اسی دن میں قیامت قائم ہوگی، یہی وجہ ہے کہ مقرب فرشتے، آسمان، زمین، ہوائیں، پہاڑ، سمندر، یہ تمام جمعہ کے دن سے ڈرتے ہیں (کہ کہیں اسی جمعہ کو قیامت برپا نہ ہو جائے)۔
Musnad Ahmad
2911
۔ (۲۹۱۱) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ الْأَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی یَوْمٍ شَدِیْدِ الْحَرِّ فَصَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِأَصْحَابِہِ فَأَطَالَ الْقِیَامَ حَتّٰی جَعَلُوْا یَخِرُّوْنَ ثُمَّ رَکَعَ فَأَطَالَ الرُّکُوْعَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ فَأَطَالَ، ثُمَّ رَکَعَ فَأَطَالَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ فَأَطَالَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَیْنِ، ثُمَّ قَامَ فَصَنَعَ مِثْلَ ذٰلِکَ، ثُمَّ جَعَلَ یَتَقَدَّمُ ثُمَّ جَعَلَ یَتَأَخَّرُ، فَکَانَتْ أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ، ثُمَّ قَالَ اِنَّہُ عُرِضَ عَلَیَّ کُلُّ شَیْئٍ تُوْعَدُوْنَہُ فَعُرِضَتْ عَلَیَّ الْجَنَّۃُ حَتّٰی لَوْ تَنَاوَلْتُ مِنْہَا قِطْفًا أَخَذْتُہُ أَوْ قَالَ تَنَاوَلْتُ مِنْھَا قِطْفًا فَقَصُرَتْ یَدِیَ عَنْہُ شَکَّ ھِشَامٌ (أَحَدُالرُّوَاۃِ) وَعُرِضَتْ عَلَیَّ النَّارُ فَجَعَلْتُ أَتَأَخَّرُ رَھْبَۃَ أَنْ تَغْشَاکُمْ فَرَأَیْتُ فِیْہَا امْرَأَۃً حِمْیَرِیَّۃً سَوْدَائَ طَوِیْلَۃً تُعَذَّبُ فِی ھِرَّۃٍ لَھَا رَبَطَتْہَا فَلَمْ تُطْعِمْہَا وَلَمْ تَسْقِہَا، وَلَمْ تَدَعْہَا تَأْکُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ، وَرَأَیْتُ أَبَا ثُمَامَۃَ عَمْرَو بْنَ مَالِکٍ یَجُرُّ قُصْبَہُ فِی النَّارِ، وَاِنَّہُمَا آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ یُرِیْکُمُوْھَا، فَاِذَا خَسَفَتْ فَصَلُّوْا حَتّٰی تَنْجَلِیَ۔)) (مسند احمد: ۱۵۰۸۲)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں سخت گرمی والے دن سورج بے نور ہوگیا، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صحابہ کرام کو نماز پڑھائی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اتنا لمبا قیام کیا کہ لوگ گرنے لگے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رکوع کیا اورلمبا رکوع کیا، پھر اپناسر اٹھایا اورلمبا قیام کیا، اس کے بعد طویل رکوع کیا، پھر سر اٹھایا اور لمبی دیر تک کھڑے رہے، پھر دو سجدے کیے اور کھڑے ہو گئے اور(دوسری رکعت بھی) اسی طریقے سے ادا کی، اس نماز میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آگے کو بڑھے تھے اور پھر پیچھے ہٹ آئے تھے، یہ چار رکوع اور چار سجدوں والی (دو رکعت) نماز تھی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھ پر ہر وہ چیز پیش کی گئی ہے، جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔ مجھ پر جنت پیش کی گئی اور (اتنی قریب کی گئی کہ) اگر میں اس سے خوشہ پکڑنا چاہتا تو پکڑ لیتا۔ یا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یوں فرمایا: میں نے اس سے ایک خوشہ پکڑنا چاہا، لیکن میرے ہاتھ کو روک دیا گیا۔ مجھ پر آگ بھی پیش کی گئی اور میں اس ڈرسے پیچھے ہونے لگ گیا کہ کہیں ایسا نہ کہ وہ تم کو ڈھانپ لے، پھر میں نے اس میں حمیر اس نے قبیلے کی ایک سیاہ رنگ کی لمبی عورت دیکھی، اس کو اُس بلی کی وجہ سے عذاب ہو رہا تھا، جس کو اس نے باندھ دیا تھا، نہ اسے خود کھلایا اور نہ پلایا اور نہ اسے چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیتی۔ میں نے ابوثمامہ عمرو بن مالک کو بھی دیکھا وہ آگ میں اپنی انتڑیاں کھنچ رہا تھا۔ یہ سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، وہ تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے، پس جب یہ بے نور ہوجائے تو تم نماز پڑھا کرو، حتیٰ کہ وہ صاف ہوجائے۔
Musnad Ahmad
3237
۔ (۳۲۳۷) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: مَرُّوْا بِجَنَازَۃٍ فَأَثْنَوْا عَلَیْہَا خَیْرًا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَجَبَتْ، وَجَبَتْ، وَجَبَتْ۔)) وَمَرُّوْا بِجَنَازَۃٍ فَأَثْنَوْا عَلَیْہَا شَرًّا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَجَبَتْ، وَجَبَتْ، وَجَبَتْ۔)) فَقَالَ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: فِدَاکَ أَبِی وَأُمِّی مُرَّ بِجَنَازَۃٍ فَاُثْنِیَ عَلَیْہَا خَیْرًا، فَقُلْتُ: ((وَجَبَتْ، وَجَبَتْ، وَجَبَتْ۔)) وَمُرَّ بِجَنَازَۃٍ فَاُثْنِیَ عَلَیْہَا شَرًّا فَقُلْتَ: ((وَجَبَتْ وَجَبَتِْ وَجَبْ)) فَقَالَ: ((مَنْ أَثْنَیْتُمْ عَلَیْہِ خَیْرًا، وَجَبَتْ لَہُ الْجَنَّۃُ، وَمَنْ أَثْنَیْتُمْ عَلَیْہِ شَرًّا وَجَبَتْ لَہُ النَّارُ، أَنْتُمْ شُہَدَائُ اللّٰہِ فِی الْأَرْضِ، أَنْتُمْ شُہَدَائُ اللّٰہِ فِی الْأَرْضِ، أَنْتُمْ شُہَدَائُ اللّٰہِ فِی الْأَرْضِ۔)) (مسند احمد: ۱۲۹۶۹)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ لوگ ایک جنازہ لے کر گزرے تو لوگوں نے اس کے حق میں کلمۂ خیر کہا، یہ سن کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: واجب ہو گئی، واجب ہو گئی، واجب ہو گئی۔ اور لوگ ایک اور جنازہ لے کر گزرے اور لوگوں نے اس کے حق میں برا تذکرہ کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: واجب ہو گئی، واجب ہو گئی، واجب ہو گئی۔ سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: آپ پر میرے ماں باپ فدا ہوں، جب ایک جنازہ گزارا گیا اور اس کے حق میں تعریفی کلمات کہے گئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: واجب ہو گئی، واجب ہو گئی، واجب ہو گئی۔ اور جب دوسرا جنازہ گزارا گیا اور اس کے حق میں برا تذکرہ کیا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: واجب ہو گئی، واجب ہو گئی، واجب ہو گئی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے (وضاحت کرتے ہوئے) فرمایا: جس کے حق میں تم لوگوں نے اچھے کلمات کہے، اس کے لیے جنت واجب ہو گئی اور جس کے حق میں تم نے برے کلمات کہے، اس کے لیے جہنم واجب ہو گئی۔ دراصل تم زمین پر اللہ کے گواہ ہو، تم زمین پر اللہ کے گواہ ہو، تم زمین پر اللہ کے گواہ ہو۔
Musnad Ahmad
5238
۔ (۵۲۳۸)۔ عَنْ زَاذَانَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ دَعَا غُلَامًا لَہُ فَأَعْتَقَہُ فَقَالَ: مَا لِی مِنْ أَجْرِہِ مِثْلُ ہٰذَا لِشَیْئٍ رَفَعَہُ مِنَ الْأَرْضِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَنْ لَطَمَ غُلَامَہُ فَکَفَّارَتُہُ عِتْقُہُ۔)) (مسند أحمد: ۴۷۸۴)
۔ زاذان کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے ایک غلام کو بلایا اور اس کو آزاد کیا اور زمین سے ایک چیز اٹھاتے ہوئے اور اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اس عمل میں اس کے بقدر بھی میرے لیے اجر نہیں ہے، کیونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ جس نے اپنے غلام کو تھپڑ مارا، اس کا کفارہ یہ ہے کہ وہ اس کو آزاد کر دے۔
Musnad Ahmad
5400
۔ (۵۴۰۰)۔ عَنْ أَبِی صَالِحٍ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَوْ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ہُوَ شَکَّ یَعْنِی الْأَعْمَشَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ لِلّٰہِ مَلَائِکَۃً سَیَّاحِینَ فِی الْأَرْضِ، فَضْلًا عَنْ کُتَّابِ النَّاسِ، فَإِذَا وَجَدُوا قَوْمًا یَذْکُرُونَ اللّٰہَ تَنَادَوْا ہَلُمُّوا إِلٰی بُغْیَتِکُمْ، فَیَجِیئُونَ فَیَحُفُّونَ بِہِمْ إِلَی السَّمَائِ الدُّنْیَا، فَیَقُولُ اللّٰہُ: أَیَّ شَیْئٍ تَرَکْتُمْ عِبَادِی یَصْنَعُونَ؟ فَیَقُولُونَ: تَرَکْنَاہُمْ یَحْمَدُونَکَ وَیُمَجِّدُونَکَ وَیَذْکُرُونَکَ، فَیَقُولُ: ہَلْ رَأَوْنِی؟ فَیَقُولُونَ: لَا، فَیَقُولُ: فَکَیْفَ لَوْ رَأَوْنِی؟ فَیَقُولُونَ: لَوْ رَأَوْکَ لَکَانُوا أَشَدَّ تَحْمِیدًا وَتَمْجِیدًا وَذِکْرًا، فَیَقُولُ: فَأَیَّ شَیْئٍ یَطْلُبُونَ؟ فَیَقُولُونَ: یَطْلُبُونَ الْجَنَّۃَ، فَیَقُولُ: وَہَلْ رَأَوْہَا؟ قَالَ: فَیَقُولُونَ: لَا، فَیَقُولُ: فَکَیْفَ لَوْ رَأَوْہَا؟ فَیَقُولُونَ: لَوْ رَأَوْہَا کَانُوا أَشَدَّ عَلَیْہَا حِرْصًا وَأَشَدَّ لَہَا طَلَبًا؟ قَالَ: فَیَقُولُ: وَمِنْ أَیِّ شَیْئٍ یَتَعَوَّذُونَ؟ فَیَقُولُونَ: مِنَ النَّارِ، فَیَقُولُ: وَہَلْ رَأَوْہَا؟ فَیَقُولُونَ: لَا، قَالَ: فَیَقُولُ: فَکَیْفَ لَوْ رَأَوْہَا؟ فَیَقُولُونَ: لَوْ رَأَوْہَا کَانُوا أَشَدَّ مِنْہَا ہَرَبًا وَأَشَدَّ مِنْہَا خَوْفًا؟ قَالَ: فَیَقُولُ: إِنِّی أُشْہِدُکُمْ أَنِّی قَدْ غَفَرْتُ لَہُمْ، قَالَ: فَیَقُولُونَ: فَإِنَّ فِیہِمْ فُلَانًا الْخَطَّائَ لَمْ یُرِدْہُمْ إِنَّمَا جَائَ لِحَاجَۃٍ، فَیَقُولُ: ہُمْ الْقَوْمُ لَا یَشْقٰی بِہِمْ جَلِیسُہُمْ۔)) (مسند أحمد: ۷۴۱۸)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں کے اعمال لکھنے والے فرشتوں کے علاوہ کچھ اور فرشتے بھی ہیں جو اہلِ ذکر کی تلاش میں زمیں میں گھومتے رہتے ہیں، جب وہ محوِ ذکر لوگوںکی جماعت کو پاتے ہیں تو ایک دوسرے کو بآواز بلند پکارتے ہیں: اپنے مقصود کی طرف آ جاؤ۔ سو وہ آتے ہیںاور انھیں آسمان دنیا تک گھیر لیتے ہیں۔ (جب یہ فرشتے واپس جاتے ہیں تو)اللہ تعالیٰ پوچھتے ہیں: جب تم نے میرے بندوں کو الوداع کہا تو وہ کیا کر رہے تھے؟ وہ کہتے ہیں: جب ہم نے ان کو چھوڑا تو وہ تیری تعریف کر رہے تھے، تیری بزرگی بیان کر رہے تھے اور تیرا ذکر کر رہے تھے۔ (آسانی کے لیے اللہ تعالیٰ اور فرشتوں کی گفتگو مکالمے کی صورت میں پیش کی جاتی ہے): اللہ تعالی: کیا انھوں نے مجھے دیکھا ہے؟ فرشتے: نہیں۔ اللہ تعالی: اگر وہ مجھے دیکھ لیں تو (ان کا رویہ کیا ہو گا)؟ فرشتے: اگر وہ تجھے دیکھ لیں تو تیری تعریف کرنے، بزرگی بیان کرنے اورذکر کرنے میں زیادہ سختی اور پابندی کر یں گے۔ اللہ تعالی: کون سی چیز ہے جو وہ طلب کر رہے تھے؟ فرشتے: وہ جنت کا مطالبہ کر رہے تھے۔اللہ تعالی: کیا انھوں نے جنت دیکھی ہے؟ فرشتے: نہیں۔ اللہ تعالی: اگر وہ جنت دیکھ لیں تو؟ فرشتے: اگر وہ جنت دیکھ لیں تو ان کی حرص اور طلب بڑھ جائے گی۔اللہ تعالی: کون سی چیز ہے جس سے وہ پناہ طلب کرتے تھے؟ فرشتے: آگ سے۔اللہ تعالی: کیا انھوں نے آگ دیکھی ہے؟فرشتے: نہیں۔للہ تعالی: اگر وہ آگ کو دیکھ لیں تو؟ فرشتے: اگر وہ دیکھ لیں تو اس سے دور بھاگنے میں زیادہ سخت ہو جائیں گے اور اس سے زیادہ ڈریں گے۔اللہ تعالی: (فرشتو!) میں تمھیں اس بات پر گواہ بناتا ہوں کہ میں نے ان کو بخش دیا ہے۔ فرشتے: ان میں فلاں آدمی تو بہت خطاکا ر تھا، وہ کسی ضرورت کے لیے آیا تھا، اس کا مقصود ان کے ساتھ بیٹھنا نہیں تھا (تو اسے کیسے بخش دیا گیا)؟اللہ تعالیـ: وہ ایسی قوم ہیں کہ ان کا ہم نشین بھی نامراد نہیں ہوتا۔
Musnad Ahmad
5443
۔ (۵۴۴۳)۔ عَنْ أُمِّ ہَانِئٍ بِنْتِ أَبِی طَالِبٍ قَالَتْ: مَرَّ بِی ذَاتَ یَوْمٍ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنِّی قَدْ کَبِرْتُ وَضَعُفْتُ أَوْ کَمَا قَالَتْ: فَمُرْنِی بِعَمَلٍ أَعْمَلُہُ وَأَنَا جَالِسَۃٌ، قَالَ: ((سَبِّحِی اللّٰہَ مِائَۃَ تَسْبِیحَۃٍ، فَإِنَّہَا تَعْدِلُ لَکِ مِائَۃَ رَقَبَۃٍ تُعْتِقِینَہَا مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِیلَ، وَاحْمَدِی اللّٰہَ مِائَۃَ تَحْمِیدَۃٍ تَعْدِلُ لَکِ مِائَۃَ فَرَسٍ مُسْرَجَۃٍ مُلْجَمَۃٍ تَحْمِلِینَ عَلَیْہَا فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، وَکَبِّرِی اللّٰہَ مِائَۃَ تَکْبِیرَۃٍ فَإِنَّہَا تَعْدِلُ لَکِ مِائَۃَ بَدَنَۃٍ مُقَلَّدَۃٍ مُتَقَبَّلَۃٍ، وَہَلِّلِی اللّٰہَ مِائَۃَ تَہْلِیلَۃٍ۔)) قَالَ ابْنُ خَلَفٍ: أَحْسِبُہُ قَالَ: ((تَمْلَأُ مَا بَیْنَ السَّمَائِ وَالْأَرْضِ، وَلَا یُرْفَعُ یَوْمَئِذٍ لِأَحَدٍ عَمَلٌ إِلَّا أَنْ یَأْتِیَ بِمِثْلِ مَا أَتَیْتِ بِہِ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۴۵۰)
۔ سیدہ ام ہانی بنت ابو طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ایک دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس سے گزرے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں عمر رسیدہ ہو گئی ہوں اور کمزور ہو گئی ہوں، اس لیے مجھے کوئی ایسا بتائیں کہ بیٹھ کر کر لیا کروں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سو (۱۰۰) بار سُبْحَانَ اللّٰہ کہو، یہ عمل تمہارے لیے اولادِ اسماعیل سے سو گردنیں آزاد کرنے کے برابر ہو گا، سو (۱۰۰) دفعہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہو، یہ عمل تمہارے لیے اللہ کے راستے میں سو لگام شدہ اور زین شدہ گھوڑے دینے کے برابر ہو گا، سو (۱۰۰) بار اَللّٰہُ اَکْبَر کہو، یہ عمل تیرے لیے ان سو (۱۰۰) اونٹوں کے برابر ہو گا، جن کو قلادے ڈال کر حج کے زمانے میں مکہ مکرمہ کی طرف بھیج دیا جائے اور وہ اللہ تعالیٰ کی طرف قبول بھی کر لیے جائیں اور سو (۱۰۰) بار لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کہو، یہ عمل آسمان و زمین کے درمیانی خلا کو ثواب سے بھر دے گا، اس دن کسی آدمی کا ایسا عظیم عمل اوپر کی طرف نہیں اٹھایا جائے گا، الا یہ کہ وہ اسی طرح کا عمل کرے، جیسے تو نے کیا ہے۔