TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 382 - ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان - ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان - Silsila Sahih in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 178 of 270 in this chapter
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : لَأَنْ يَّمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا حَتَّى يَرِيَهُ خَيْرٌ لَّهُ مِنْ أَنْ يَّمْتَلِئَ شِعْرًا.
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی شخص کا پیٹ بدبو دار پیپ سے بھر جائے حتی کہ وہ اسے دیکھ لے تو یہ اس بات سے بہتر ہے کہ اس کا پیٹ شعروں سے بھرے۔
382
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
الصحيحة رقم (336) صحيح البخاري كِتَاب الْأَدَبِ بَاب مَا يُكْرَهُ أَنْ يَكُونَ الْغَالِبَ...رقم (5688) صحيح مسلم رقم (4191)

Related Chapters

211
1
بَابُ الْوَلِيِّ فِي النِّكَاحِ وَاسْتِئْذَانِ الْمَرْأَةِ
نکاح میں ’’ولی‘‘ ہونے اور عورت سے اجازت طلب کرنے کا بیان
Mishkat
2
بَاب الاسْتِئْذَان
اجازت طلب کرنے کا بیان
Mishkat
3
اجازت طلب کرنے کی کیفیت، اس کے الفاظ اور اس سے پہلے سلام کہنے کا بیان
Musnad Ahmad
4
اس چیز کا بیان کہ تین بار اجازت طلب کی جائے، اگر اجازت نہ دی جائے تو آدمی واپس چلا جائے
Musnad Ahmad
5
Chapter: Seeking Permission To Enter A House
اجازت طلب کرنا
Sahih Muslim
6
Chapter: It Is Disliked For The Person Who Is Seeking Permission To Say Me When Asked Who Is It?
اجازت طلب کرنے والے سے جب پوچھا جا ئے کون ہے تو جواب میں (صرف) میں کہنا مکروہ ہے
Sahih Muslim
7
CHAPTER: Seeking permission to enter.
باب: گھر میں داخل ہونے سے پہلے اجازت طلب کرنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
8
CHAPTER: How is permission to be sought.
باب: گھر میں داخل ہونے کے لیے اجازت کس طرح طلب کی جائے ؟
Sunnan Abu Dawood
9
CHAPTER: Asking permission to enter at the three times of undress.
باب: پردے کے تینوں اوقات میں اجازت طلب کرنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
10
9)Chapter: What Has Been Related About The Permission For That
باب: کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کی اجازت کا بیان
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Mentioned About The Permission For The Sexually Impure (Junub) Person To Eat And Sleep When He Performs Wudu
باب: جنبی وضو کر لے تو اس کو کھانے اور سونے کی اجازت ہے
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked For A Woman To Fast Except With The Permission Of Her Husband
باب: شوہر کی اجازت کے بغیر عورت کے نفل روزہ رکھنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What Has Been Related About: One Who Stays With A People Should Not Fast Without Their Permission
باب: جو کسی جماعت کے یہاں آئے تو ان کی اجازت کے بغیر (نفل) روزہ نہ رکھے
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related About Those Killed At Uhud, and Mention of Hamzah
باب: شہدائے احد اور حمزہ بن عبدالمطلب رضی الله عنہ کا ذکر
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What Has Been Related About Seeking The Permission Of The Virgin And The Matron
باب: کنواری اور ثیبہ (شوہر دیدہ) سے اجازت لینے کا بیان
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Has Been Related About A Slave Marrying Without The Permission Of His Owner
باب: مالک کی اجازت کے بغیر غلام کے نکاح کر لینے کا بیان
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What Has Been Related About Milking Livestock Without Permission Of The Owners
باب: مالک کی اجازت کے بغیر جانور کے دوہنے کا بیان
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About One Who Farms A Prople's Land Without Their Permission
باب: دوسرے کی زمین میں بغیر اجازت فصل بونے کا بیان
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About One Who Fights For Show And For Worldly Matters
باب: ریا و نمود اور دنیا طلبی کے لیے جہاد کرنے والے کا بیان
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What Has Been Related About Seeking Assistance (From Allah) By The Destitute Muslims
باب: غریب اور مسکین مسلمانوں کی دعا کے ذریعہ مدد طلب کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About The Permission To Eat Cooked Garlic
باب: پکا ہوا لہسن کھانے کی اجازت کا بیان
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Been Related About Disciplining The Son
باب: لڑکے کو ادب سکھانے کا بیان
Jam e Tirmazi
23
باب: جھاڑ پھونک کی اجازت کا بیان
Jam e Tirmazi
24
Chapter: The Hadith: Two Wolves Free Among Sheep
باب: دولت کی ہوس اور جاہ طلبی دین کے لیے انتہائی خطرناک ہیں
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Related About Permitting That
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی طرف سے احادیث لکھنے کی اجازت
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About Narrations From The Children of Isra'il
باب: اسرائیلی روایات کے بیان کرنے کی اجازت
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What Has Been Related About That Seeking Permission Is Three Times
باب: کسی کے گھر داخل ہونے کے لیے تین بار اجازت حاصل کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About Seeking Permission To Enter From In Front Of The House
باب: گھر کے (دروازے) کے سامنے کھڑے ہو کر اجازت مانگنے کا بیان
Jam e Tirmazi
29
Chapter: Whoever Gazed Into a People's Home Without Their Permission
باب: کسی کے گھر میں بغیر اجازت جھانکنا کیسا ہے؟
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About Giving The Salam Before Seeking Permission Enter
باب: گھر میں داخلہ کی اجازت لینے سے پہلے سلام کرنا (کیسا ہے؟)
Jam e Tirmazi
31
باب: بغیر اجازت دو آدمیوں کے بیچ میں بیٹھنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
32
باب: شوہر کی اجازت کے بغیر ان کی عورتوں کے پاس جانے کی ممانعت
Jam e Tirmazi
33
باب: مردوں کے لیے سرخ لباس پہننے کی اجازت کا بیان
Jam e Tirmazi
34
Chapter: The Supplication: “O Allah, I Seek Refuge In You From Sadness And Grief”
باب: بعض چیزوں سے پناہ طلب کرنے کا باب
Jam e Tirmazi
35
Chapter: Concerning The Virtue Of Asking For Al-Afiyah And Al-Mu’afah
باب: اللہ سے عافیت طلب کرنے کا باب
Jam e Tirmazi
36
Chapter: Concerning Pardon And Al-Afiyah
باب: دنیا و آخرت میں عافیت طلبی کا بیان
Jam e Tirmazi
37
باب: عباس بن عبدالمطلب رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
38
باب: صحابہ کی شان میں گستاخی اور بےادبی کرنے والوں کا بیان
Jam e Tirmazi
39
بَاب الْكسْب وَطلب الْحَلَال
کسب اور طلب حلال کا بیان
Mishkat
40
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی سنت کو تھامنے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی سیرت سے رہنمائی طلب کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
41
ان جگہوں کا بیان جن میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا اور جن میں نماز پڑھنے کی اجازت دی گئی ہے
Musnad Ahmad
42
عورتوں کو مسجد میں جانے کے لیے اجازت کا بیان
Musnad Ahmad
43
نیک لوگوں اور جن کی برکت کی امید رکھی جاتی ہو، کے واسطے سے بارش طلب کرنا
Musnad Ahmad
44
بیوی کا اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر اس کے گھر سے صدقہ کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
45
خاوند کی موجودگی میں بیوی کا اس کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ نہ رکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
46
میت کی وصیت کی بناء پر اس کی طرف سے قربانی کرنا اور قربانی کا گوشت اچکنے کی اجازت دینے والوں کا اور اچک لینے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
47
بخشش طلب کرنے کی اور قرضہ ادا کرنے کی دعاؤں کا بیان
Musnad Ahmad
48
بیع عرایا کی اجازت اور اسثناء والی بیع کی ممانعت کابیان، الا یہ کہ اس کو معین کر دیا جائے
Musnad Ahmad
49
اس شخص کا بیان جس نے مالک کی اجازت کے بغیر بکری پکڑ کر اس کو ذبح کیا اور اس کو بھونا یا پکایا
Musnad Ahmad
50
دوسروں کی زمین میں ان کی اجازت کے بغیر کھیتی کاشت کرنے والے اور مالکوں کی اجازت کے بغیر پھل یا کھیتی میں سے کچھ لینے والے کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

240
Jam e Tirmazi
2851
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عِيسَى الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا عَمِّي يَحْيَى بْنُ عِيسَى الرَّمْلِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا يَرِيَهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي الْبَابِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي الدَّرْدَاءِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated Muhammad bin Sa'd bin Abi Waqqas: from his father that the Messenger of Allah (ﷺ) said: It is better that one of you fill his insides with puss than to fill it with poetry.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی شخص کے پیٹ کا خون آلود مواد سے بھر جانا جسے وہ گلا، سڑا دے، یہ کہیں بہتر ہے اس سے کہ اس کے پیٹ ( و سینے ) میں ( کفریہ شرکیہ اور گندے ) اشعار بھرے ہوئے ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں سعد، ابن عمر، اور ابو الدرداء رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Silsila Sahih
248
أَبُو سُفْيَانَ (عَنْ جَابِرٍ) قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌رَجُلٌ وَّهُوَ يَخْطُبُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ! رَأَيْتُ الْبَارِحَةَ فِيمَا رَأَى النَّائِمُ كَأَنَّ عُنُقِي ضُرِبَتْ وَسَقَطَ رَأْسِي (فَتدحرج) فَاتَّبَعْتُهُ فَأَخَذْتُهُ فَأَعَدْتُهُ (فَضَحِك النَبِي صلی اللہ علیہ وسلم ) فَقَالَ: إِذَا لَعِبَ الشَّيْطَانُ بِأَحَدِكُمْ فِي مَنَامِهِ فَلَا يُحَدِّث بِهِ النَّاسَ.
ابو سفیان (جابر سے)بیان کرتے ہیں انہوں نے کہا:ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ خطبہ دے رہے تھے، اس نے کہا:اے اللہ کے رسول! میں نے رات ایک خواب دیکھا کہ میری گردن کاٹ دی گئی اور میرا سرگرگیا ہے(اور لڑھک گیا ہے)میں اس کے پیچھے گیا اور اسے پکڑ کر واپس لگا لیا (نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیئے)اورفرمانے لگے، جب شیطان تم میں سے کسی کے ساتھ نیند میں کھیلے تو وہ اسے لوگوں سے بیان نہ کرے
Silsila Sahih
506
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخدري قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا خَلَصَ الْمُؤْمِنُونَ مِنَ النَّارِ وَأَمِنُوا فَ (والذي نفسي بيده) مَا مُجَادَلَةُ أَحَدِكُمْ لِصَاحِبِهِ فِي الْحَقِّ يَكُونُ لَهُ فِي الدُّنْيَا بِأَشَدَّ مُجَادَلَةً لَهُ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ لِرَبِّهِمْ فِي إِخْوَانِهِمْ الَّذِينَ أُدْخِلُوا النَّارَ قَالَ: يَقُولُونَ: رَبَّنَا إِخْوَانُنَا كَانُوا يُصَلُّونَ مَعَنَا وَيَصُومُونَ مَعَنَا وَيَحُجُّونَ مَعَنَا (ويجاهدون معنا) فَأَدْخَلْتَهُمُ النَّارَ قَالَ: فَيَقُولُ: اذْهَبُوا فَأَخْرِجُوا مَنْ عَرَفْتُمْ منهم فَيَأْتُونَهُمْ فَيَعْرِفُونَهُمْ بِصُوَرِهِمْ لَا تَأْكُلُ النَّارُ صُوَرَهُمْ فَمِنْهُمْ مَّنْ أَخَذَتْهُ النَّارُ إِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ وَمِنْهُمْ مَّنْ أَخَذَتْهُ إِلَى كَعْبَيْهِ فَيُخْرِجُونَهُمْ فَيَقُولُونَ: رَبَّنَا أَخْرَجْنَا مَنْ أَمَرْتَنَا ثُمَّ يَقُولُ: أَخْرِجُوا مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ وَزْنُ دِينَارٍ مِنْ الْإِيمَانِ ثُمَّ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ وَزْنُ نِصْفِ دِينَارٍ حَتَّى يَقُولَ: مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَمَنْ لَّمْ يُصَدِّقْ بِهَذَا فَلْيَقْرَأْ هَذِهِ الْآيَةَ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَظۡلِمُ مِثۡقَالَ ذَرَّۃٍ ۚ وَ اِنۡ تَکُ حَسَنَۃً یُّضٰعِفۡہَا وَ یُؤۡتِ مِنۡ لَّدُنۡہُ اَجۡرًا عَظِیۡمًا ﴿۴۰﴾ النساء قَالَ: فَيَقُولُونَ: رَبَّنَا قَدْ أَخْرَجْنَا مَنْ أَمَرْتَنَا فَلَمْ يَبْقَ فِي النَّارِ أَحَدٌ فِيهِ خَيْرٌ قَالَ: ثُمَّ يَقُولُ الله: شَفَعَتِ الْمَلَائِكَةُ، وَشَفَعَ الْأَنْبِيَاءُ، وَشَفَعَ الْمُؤْمِنُونَ وَبَقِيَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ قَالَ: فَيَقْبِضُ قَبْضَةً مِّنَ النَّارِ أَوْ قَالَ: قَبْضَتَيْنِ نَاسٌ لَّمْ يَعْمَلُوا لِلهِ خَيْرًا قَطُّ قَدْ احْتَرَقُوا حَتَّى صَارُوا حُمَمًا قَالَ فَيُؤْتَى بِهِمْ إِلَى مَاءٍ يُقَالُ لَهُ مَاءُ الْحَيَاةِ، فَيُصَبُّ عَلَيْهِمْ فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ الْحَبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ فَيَخْرُجُونَ مِنْ أَجْسَادِهِمْ مِثْلَ اللُّؤْلُؤِ فِي أَعْنَاقِهِمُ الْخَاتَمُ عُتَقَاءُ اللهِ قَالَ: فَيُقَالُ لَهُمْ: ادْخُلُوا الْجَنَّةَ فَمَا تَمَنَّيْتُمْ أَوْ رَأَيْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ لَكُمْ عِنْدِي أَفْضَلُ مِنْ هَذَا قَالَ: فَيَقُولُونَ: رَبَّنَا وَمَا أَفْضَلُ مِنْ ذَلِكَ؟ قَالَ: فَيَقُولُ: رِضَائِي عَلَيْكُمْ فَلَا أَسْخَطُ عَلَيْكُمْ أَبَدًا
ابو سعید خدری‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مومن لوگ آگ سے خلاصی پالیں گے، اور بے خوف ہو جائیں گے، تو ( اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میں میری جان ہے) تم میں سے كوئی شخص دنیا میں اپنے ساتھی سے اتنا سخت جھگڑا نہیں كرتا جتنا شدید جھگڑا مومنین اپنے رب سے اپنے ان بھائیوں كے بارے میں كریں گے جو آگ میں ڈال دیئے گئے ہونگے ۔ كہیں گے اے ہمارے رب ہمارے بھائی ہمارے ساتھ نماز پڑھا كرتے تھے، روزہ ركھا كرتے تھے، حج كیا كرتے تھے( اور ہمارے ساتھ جہاد كیا كرتے تھے) پھر بھی آپ نے انہیں آگ میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جاؤ، ان میں سے جن كو پہچانتے ہو آگ سے نكال لو۔ جنتی ان كے پاس آئیں گے ، وہ انہیں ان كے چہروں سے پہچانیں گے۔ آگ ان كے چہروں كو نہیں جلائے گی۔ ان میں ایسے بھی ہونگے جنہیں آگ نصف پنڈلیوں تك جلائے گی، ان میں ایسے بھی ہونگے جنہیں ٹخنوں تك جلائے گی( جنتی) ان میں سے (بے شمار) لوگوں كو نكال لیں گے وہ كہیں گے: اے ہمارے رب جن كے بارے میں تو نے ہمیں حكم دیا ہم نے انہیں نكال لیا۔ پھر( وہ دوبارہ آئیں گے، اور بات چیت كریں گے) اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جس كے دل میں ایک دینار جنان بھی ایمان ہے اسے آگ سے نكال لو۔ (جنتی بے شمار لوگوں كو نكالیں گے) ۔پھر(وہ كہیں گے: اے ہمارے رب جن كے بارے میں تو نے ہمیں حكم دیا ہم نے ان میں سے آگ میں ایك بھی نہیں چھوڑا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: لوٹ جاؤ)جس شخص كے دل میں نصف دینار كے وزن كے برابر ایمان ہو( اسے بھی آگ سے نكال لو، جنتی اس میں سے بے شمار لوگوں كو نكالیں گے، جنتی كہیں گے: اے ہمارے رب جن كے بارے میں تو نے ہمیں حكم دیا ہم نے ایك بھی نہیں چھوڑا ۔) حتیٰ كہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جس كے دل میں ذرہ برابر ایمان ہے اسے بھی نكال لو(جنتی بے شمار لوگوں كو نكال لیں گے۔) ابو سعید نے كہا: جو شخص اس حدیث كی تصدیق نہ كرے وہ یہ آیت پڑھ لے: ﴿النساء:۴۰﴾ ترجمہ: یقینا اللہ تعالیٰ ذرّہ برابر بھی ظلم نہیں كرتا ، اور اگر نیكی ہو تو اسے کئی گناہ بڑھا دے گا، اور اپنے پاس سے اجر عظیم عنایت كرتا ہے ۔ جنتی لوگ كہیں گے: اے ہمارے رب جن كے بارے میں تو نے ہمیں حكم دیا ہم نے ان سب كو نكال لیا، اب آگ میں كوئی بھی شخص ایسا نہیں جس میں كوئی بھلائی ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: فرشتوں نے سفارش كی، انبیاءنے سفارش كی، مومنین نے سفارش كی، اب ارحم الراحمین باقی رہ گیا۔ اللہ آگ میں سے ایك مٹھی، یا دو مٹھی ایسے لوگوں كی بھر كر نكالے گا، جنہوں نے كبھی كوئی نیكی نہیں كی ہوگی، جو جل كر كوئلہ ہو چكے ہونگے۔ انہیں اس پانی تك لایا جائے گا جسے( آب حیات) كہا جاتا ہے۔ ان پر پانی ڈالا جائے گا وہ اس طرح اُگ آئیں گے جس طرح دانہ سیلاب كے كچرے میں پھوٹ آتا ہے۔(جسےا تم نے چٹان كے اطراف میں دیكھا ہوگا، اور درختوں كے اطراف میں، ان میں سے جو سورج كی طرف ہوتا ہے، وہ سر سبز ہوجاتا ہے، اور جو سائے كی طرف ہوتاہے وہ سفید رہ جاتاہے)۔ ان كے جسم موتی كی طرح ہوجائیں گے ، اور ان كی گردنوں پر مہر لگی ہوگی( اور ایك روایت میں ہے، مہریں لگی ہونگی) یہ اللہ كے آزاد كردہ ہیں۔ ان سے كہا جائے گا: جنت میں داخل ہو جاؤ، جس چیز كی تمنا كرو گے ، اور جو چیز دیكھو گے وہ تمہارے لئے ہے۔ (اہل جنت كہیں گے: یہ رحمن كے آزاد كردہ ہیں، اس نے کسی عمل اور نیکی کے بغیر انہیں جنت میں داخل كیا ہے)، وہ كہیں گے: اے ہمارے رب تو نے ہمیں وہ دے دیا جو دنیا والوں میں سے كسی كو نہیں دیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میرے پاس تمہارے لئے اس سے بھی عمدہ چیز ہے۔ وہ كہیں گے: اے ہمارے رب اس سے عمدہ كیا چیز ہو سکتی ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں تم سے راضی ہو گیا، اب میں كبھی بھی تم سے ناراض نہیں ہونگا۔
Silsila Sahih
535
عَنْ عُثْمَان قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ بِفِنَاءِ أَحَدِكُمْ نَهَرٌ يَّجْرِي يَغْتَسِلُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ خَمْـسَ مَرَّاتٍ مَا كَانَ يَبْقَى مِنْ دَرَنِـهِ؟ قَالُوا: لَا شَيْءَ قَالَ: إِنَّ الصَّلَوَاتِ تُذْهِبُ الذُّنُوبَ كَمَا يُذْهِـبُ الْمَـاءُ الدَّرَنَ
عثمان‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے: تمہارا كیا خیال ہے، اگر تم میں سے كسی شخص كے صحن میں سے ایك نہر گزر رہی ہو ، جس میں وہ روزانہ پانچ مرتبہ غسل كرے، كیا اس پر كوئی میل كچیل باقی رہے گا؟ صحابہ نے كہا: كچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نمازیں گناہوں كو اس طرح ختم كر دیتی ہیں جس طرح پانی میل كچیل كو ختم كر دیتا ہے۔
Silsila Sahih
605
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم : تَفْضُلُ صَلَاةُ الْجَمِيعِ صَلَاةَ أَحَدِكُمْ وَحْدَهُ بِخَمْسٍ وَعِشْرِينَ جُزْءًا وَتَجْتَمِعُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ وَمَلَائِكَةُ النَّهَارِ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جماعت كی نماز، اكیلے شخص كی نماز سے پچیس گناافضل ہے، اور رات اور دن كے فرشتے فجر كی نماز میں جمع ہوتے ہیں۔( )
Silsila Sahih
799
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: إِذَا جَاءَ خَادِمُ أَحَدِكُمْ بِطَعَامِهِ فَلَيُجْلِسْهُ مَعَهُ فَليُنَاوِلْهُ أُكْلَةً أَوأُكْلَتَيْنِ فَإِنَّهُ وَلِيَ عِلَاجَهُ وَحَرَّهُ.
ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب تماُرا خادم كھانا لائے تواسے اپنے ساتھ بٹا لو، (اگر اپنے ساتھ نہ بٹھاؤ) تواسے ایك یا دولقمے دے دو۔ كیونكہ اس نے گرمی اور پكانے كی مشقت برداشت كی ہے۔
Silsila Sahih
1016
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فِي سَرِيَّةٍ مِنْ سَرَايَاهُ قَالَ: فَمَرَّ رَجُلٌ بِغَارٍ فِيهِ شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ قَالَ: فَحَدَّثَ نَفْسَهُ بِأَنْ يُقِيمَ فِي ذَلِكَ الْغَارِ فَيَقُوتُهُ مَا كَانَ فِيهِ مِنْ مَاءٍ وَيُصِيبُ مَا حَوْلَهُ مِنْ الْبَقْلِ وَيَتَخَلَّى مِنْ الدُّنْيَا! ثُمَّ قَالَ: لَوْ أَنِّي أَتَيْتُ نَبِيَّ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَإِنْ أَذِنَ لِي فَعَلْتُ وَإِلَّا لَمْ أَفْعَلْ فَأَتَاهُ فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ! إِنِّي مَرَرْتُ بِغَارٍ فِيهِ مَا يَقُوتُنِي مِنْ الْمَاءِ وَالْبَقْلِ فَحَدَّثَتْنِي نَفْسِي بِأَنْ أُقِيمَ فِيهِ وَأَتَخَلَّى مِنْ الدُّنْيَا قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنِّي لَمْ أُبْعَثْ بِالْيَهُودِيَّةِ وَلَا بِالنَّصْرَانِيَّةِ وَلَكِنِّي بُعِثْتُ بِالْحَنِيفِيَّةِ السَّمْحَةِ وَالَّذِي نَفْسي بِيَدِهِ لَغَدْوَةٌ أَوْ رَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللهِ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا وَلَمُقَامُ أَحَدِكُمْ فِي الصَّفِّ خَيْرٌ مِنْ صَلَاتِهِ سِتِّينَ سَنَةً.
ابو امامہ سے مروی ہے كہ ہم رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے ساتھ ایك معركے كے لئے نكلے ایك آدمی ایك غار كے پاس سے گزرا جس میں كچھ پانی تھا۔ اس نے دل میں سوچا كہ وہ اس غار میں قیام كر لے، اس غار میں موجود پانی پیتا رہے اور اردگرد سبزیاں وغیرہ كھاکرگذارہ کرتا رہےگا، دنیا سےکنارہ کش ہو جائے، پھر كہنے لگا ، اگر میں نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس جا كر ان سے اس بات كا تذكرہ كروں تو بہتر رہے گا۔ اگر آپ مجھے اجازت دے دیں تو میں ایسا كر لوں گا اور اگر اجازت نہ دیں تو رك جاؤں گا۔ وہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پا س آیا اور كہنے لگا: اے اللہ كے نبی میں ایك غار كے پاس سے گزرا اس میں میری كفایت كے لئے پانی اور سبزی موجود ہے، میں نے دل میں سوچا كہ میں اس میں قیام كروں اور دنیا سے الگ ہو جاؤں۔ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: مجھے یہودیت و نصرانیت دے كر مبعوث نہیں كیا گیا۔ مجھے دینِ حنیف دے كر مبعوث كیا گیا ہے۔ اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میں میری جان ہے ایك اللہ کے راستے میں ایک صبح یا ایک شام نکلنا دنیا اور جو كچھ اس میں ہے سب سے بہتر ہے اور تم میں سے كوئی شخص جنگی صف میں كھڑا ہو تو یہ اس كے لئے ساٹھ سال كی نماز سے بہتر ہے۔( )
Silsila Sahih
1036
عَنْ ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : الْجَنَّةُ أَقْرَبُ إِلَى أَحَدِكُمْ مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ وَالنَّارُ مِثْلُ ذَلِكَ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جنت تمہارے نزدیك تمہارے جوتے كے تسمے سےبھی زیادہ قریب ہے، اور آگ بھی اسی طرح ہے۔( )
Silsila Sahih
1170
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ رَأْسِي ضُرِبَ فَرَأَيْتُهُ يَتَدَهْدَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : يَعْمِدُ الشَّيْطَانُ إِلَى أَحَدِكُمْ فَيَتَهَوَّلُ لَهُ ثُمَّ يَغْدُو يُخْبِرُ النَّاسَ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ ایك آدمی آیا اور كہنے لگا میں نے (خواب میں)اپنا سر كچلتے ہوئے دیكھا، اور دیكھا كہ وہ لڑھك رہا ہے۔رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: شیطان تم میں سے كسی بھی شخص كے پاس آ كر خوف دلاتا ہے، پھر وہ شخص صبح كے وقت لوگوں كو بتاتا پھرتا ہے۔( )