TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 65 جامع ترمزی

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 1 in this chapter
Whole chapter
Previous Hadith Next Hadith
(48)Chapter: [What has Been Related] About Permitting That
باب: عورت کے بچے ہوئے پانی سے غسل کے جائز ہونے کا بیان
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:‏‏‏‏ اغْتَسَلَ بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَفْنَةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَأَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَوَضَّأَ مِنْهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ جُنُبًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ الْمَاءَ لَا يُجْنِبُ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ،‏‏‏‏ وَمَالِكٍ،‏‏‏‏ وَالشَّافِعِيِّ.
Ibn Abbas narrated: One of the wives of the Prophet performed Ghusl with a bowl. Allah's Messenger wanted to perform Wudu with it, so she said: 'O Messenger of Allah! Indeed I am ]unub.' So he said: 'Indeed, water does not become Junub.'
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی ایک بیوی نے ایک لگن ( ٹب ) سے ( پانی لے کر ) غسل کیا، رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے اس ( بچے ہوئے پانی ) سے وضو کرنا چاہا، تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں ناپاک تھی، آپ نے فرمایا: پانی جنبی نہیں ہوتا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہی سفیان ثوری، مالک اور شافعی کا قول ہے۔
65
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
Reference : Jami` at-Tirmidhi 65 In-book reference : Book 1, Hadith 65 English translation : Vol. 1, Book 1, Hadith 65
صحيح، ابن ماجة (370) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 65
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ الطہارة ۳۵ (۶۸) سنن النسائی/المیاہ ۱ (۳۲۶) (بلفظ ’’ لاینجسہ شیٔ ‘‘ ۳۳ (۳۷۰، ۳۷۱) (تحفة الأشراف : ۶۱۰۳) مسند احمد (۱/۲۴۳) سنن الدارمی/الطہارة ۵۷ (۷۶۱)
Explanation
شرح و تفصیل
`وضاحت: ۱؎ : یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ عورت کے بچے ہوئے پانی سے طہارت (غسل اور وضو) حاصل کرنا جائز ہے۔

Related Chapters

1,344
1
Chapter: The amount of water with which it is recommended to perform ghusl in the case of janabah; a man and woman washing from a single vessel; one of them washing with the left-over water of the other
غسل جنابت کے لیے پانی کی مستحب مقدار ، مرد و عورت کا ایک برتن سے ایک ( ہی ) حالت میں غسل کرنا اور دونوں میں سےایک کادوسرے کے بچے ہوئے پانی سےنہانا
Sahih Muslim
2
(47)Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Use The Leftover Water Of A Woman
باب: عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
3
CHAPTER: Wudu’ From The Water Left By A Woman.
باب: عورت کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
4
عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی کے استعمال کی رخصت کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
5
عورت کے وضو کے بچے ہوئے پانی کے استعمال کی ممانعت
Sunnan Ibn e Maja
6
جنبی کے (غسل سے) بچے ہوئے پانی کا حکم
Sunnan Nisai
7
جنبی کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرنے کی ممانعت کا بیان۔
Sunnan Nisai
8
جنبی کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرنے کی رخصت کا بیان۔
Sunnan Nisai
9
عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی کے استعمال کی رخصت کا بیان۔
Sunnan Nisai
10
عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی کے استعمال کی ممانعت کا بیان۔
Sunnan Nisai
11
ایک طہارت سے بچے ہوئے پانی سے مزید طہارت کرنے کی نہی کا بیان
Musnad Ahmad
12
(43) CHAPTER. The performance of ablution by a man along with his wife. The utilization of water remaining after a woman has performed ablution.
خاوند کا اپنی بیوی کے ساتھ وضو کرنا اور عورت کا بچا ہوا پانی استعمال کرنا جائز ہے
Sahih Bukhari
13
(15) CHAPTER. The combing of head-hair by a woman on taking a bath after finishing from the menses.
عورت کا حیض کے غسل کے بعد کنگھا کرنا جائز ہے
Sahih Bukhari
14
(12) CHAPTER. Is the taking of a bath (on Friday) necessary for women, boys, and others who do not present themselves for the Jumuah (prayer).
جو لوگ جمعہ کی نماز کے لیے نہ آئیں جیسے عورتیں بچے ، مسافر اور معذور وغیرہ ان پر غسل واجب نہیں ہے ۔
Sahih Bukhari
15
وضو کے بچے ہوئے پانی کو کام میں لانے کا بیان۔
Sunnan Nisai
16
ٹھہرے ہوئے پانی میں جنبی کے غسل کرنے کی ممانعت کا بیان۔
Sunnan Nisai
17
ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنا اور اس سے غسل کرنا منع ہے۔
Sunnan Nisai
18
جنبی کے بچے ہوئے پانی کے استعمال کی رخصت کا بیان۔
Sunnan Nisai
19
حائضہ کے بچے ہوئے پانی کے استعمال کا بیان۔
Sunnan Nisai
20
آٹا لگے ہوئے برتن میں پانی بھر کر غسل کرنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
21
(21)Chapter: What Has Been Related About Al-Madmadah And AI-Istinshaq
باب: وضو اور غسل میں کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کا بیان
Jam e Tirmazi
22
(51)Chapter: [What Has Been Related About] It Is Disliked Urinate In Stagnant Water
باب: ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
23
(54)Chapter: [What Has Been Related] About Sprinkling Water On The Urine Of Young Boy Before (He reaches The Age That) He Eats Food
باب: دودھ پیتے بچے کے پیشاب پر پانی چھڑک لینا کافی ہے
Jam e Tirmazi
24
(77)Chapter: Should A Woman Undo Her Hair For Ghusl?
باب: کیا عورت غسل کے وقت اپنے بال کھولے؟
Jam e Tirmazi
25
(80)Chapter: What Has Been Related: When The Two Circumcised Organs Meet, Ghusl Is Required.
باب: مرد اور عورت کی شرمگاہ مل جانے سے غسل کے واجب ہو جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
26
(91)Chapter: [What Has Been Related] About The Man Who Seeks The Warmth Of A Woman After Performing Ghusl
باب: غسل کرنے کے بعد مرد عورت سے چمٹ کر گرمی حاصل کرے اس کا بیان
Jam e Tirmazi
27
(96)Chapter: What Has Been Related About Al-Mustahadah That She Is To Perform Ghusl For Every Salat
باب: مستحاضہ عورت ہر نماز کے وقت غسل کرے
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About Permitting The Earnings Of A Cupper
باب: پچھنا لگانے والے کی کمائی کے جائز ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
29
خاوند کا اپنی بیوی کے ساتھ ایک برتن سے غسل کرنا، اس سے پانی کی طہوریت ختم نہ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
30
ساکن پانی میں پیشاب کرنے اور پھر اس سے وضو یا غسل کرنے کا حکم
Musnad Ahmad
31
وضواور غسل کے پانی کی مقدار کا بیان
Musnad Ahmad
32
غسل اور وضو کے پانی کی مقدار کا بیان
Musnad Ahmad
33
غسل خانے سے باہر آ کر پاؤں کو دھونے، تولیہ وغیرہ سے پانی خشک کرنے کے حکم اور نماز کا ارادہ رکھنے والے کا وضو کی بجائے غسل پر اکتفا کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
34
حیض اور نفاس والی عورت کے غسل کی کیفیت
Musnad Ahmad
35
نابینا آدمی اور بچے کی اور عورت کی عورتوں کی امامت کا بیان
Musnad Ahmad
36
روزے دار کے لیے مسواک کرنے، کلی کرنے، ناک میںپانی چڑھانے اور گرمی کی وجہ سے غسل کرنے کے جواز کا بیان
Musnad Ahmad
37
محرم کے لئے جائز اور ناجائز امور کا بیان محرم کا سلے ہوئے کپڑے اتار دینے کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ کون سے کپڑے اور خوشبو اس کے لیے ناجائز ہے
Musnad Ahmad
38
سوئے ہوئے، نابالغ بچے اور پاگل اور ذہنی خیالات کی طلاق واقع نہ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
39
زندہ جانور سے علیحدہ کئے ہوئے حصے کے مردار ہو نے اور ان ذبیحوں کا بیان، جن کو کھانا جائز نہیں ہے
Musnad Ahmad
40
مدینہ منورہ میں باقی بچے ہوئے یہودیوں کی جلاوطنی اور فتح خیبر کے بعد بطور مصلحت کچھ عرصہ تک ان کو وہاں قیام کی اجازت دینے کا بیان
Musnad Ahmad
41
صحابۂ کرام کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پینے کی جگہ اور وضو سے بچے سے پانی سے تبرک حاصل کرنا
Musnad Ahmad
42
(7) CHAPTER. To wash the face with both hands by a handful of water.
دونوں ہاتھوں سے چہرے کا صرف ایک چلو ( پانی ) سے دھونا بھی جائز ہے
Sahih Bukhari
43
(16) CHAPTER. Getting water carried by somebody else for purification (washing one's private parts).
کسی شخص کے ہمراہ اس کی طہارت کے لیے پانی لے جانا جائز ہے
Sahih Bukhari
44
(33) CHAPTER. What is said regarding the water with which human hair has been washed.
جس پانی سے آدمی کے بال دھوئے جائیں اس پانی کا استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں ؟
Sahih Bukhari
45
(68) CHAPTER. Urinating in stagnant water.
اس بارے میں کہ ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنا منع ہے
Sahih Bukhari
46
(72) CHAPTER. Washing blood by a woman off her father's face.
عورت کا اپنے باپ کے چہرے سے خون دھونا جائز ہے
Sahih Bukhari
47
(3) CHAPTER. Taking a bath with a Sa of water or so. (One Sa = 3 kilograms approx.)
اس بارے میں کہ ایک صاع یا اسی طرح کسی چیز کے وزن بھر پانی سے غسل کرنا چاہیے
Sahih Bukhari
48
(5) CHAPTER. To wash the body (parts) once only.
اس بیان میں کہ صرف ایک مرتبہ بدن پر پانی ڈال کر اگر غسل کیا جائے تو کافی ہوگا
Sahih Bukhari
49
(7) CHAPTER. To rinse the mouth and to clean the nose by putting water in it and then blowing it out while taking the bath of Janaba.
اس بیان میں کہ غسل جنابت کرتے وقت کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا چاہیے
Sahih Bukhari
50
(10) CHAPTER. Interval during ablution or bath.
اس بیان میں کہ غسل اور وضو کے درمیان فصل کرنا بھی جائز ہے
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

374
Jam e Tirmazi
882
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ:‏‏‏‏ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى آمَنَ مَا كَانَ النَّاسُ وَأَكْثَرَهُ رَكْعَتَيْنِ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَرُوِيَ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ وَمَعَ عُمَرَ وَمَعَ عُثْمَانَ رَكْعَتَيْنِ صَدْرًا مِنْ إِمَارَتِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي تَقْصِيرِ الصَّلَاةِ بِمِنًى لِأَهْلِ مَكَّةَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ:‏‏‏‏ لَيْسَ لِأَهْلِ مَكَّةَ أَنْ يَقْصُرُوا الصَّلَاةَ بِمِنًى، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا مَنْ كَانَ بِمِنًى مُسَافِرًا، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ ابْنِ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏وَسُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّافِعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ بَعْضُهُمْ:‏‏‏‏ لَا بَأْسَ لِأَهْلِ مَكَّةَ أَنْ يَقْصُرُوا الصَّلَاةَ بِمِنًى، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ الْأَوْزَاعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَمَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏وَسُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ.
Harithah bin Wahb said: I prayed two Rak'ah with the Prophet at Mina, and the people were as secure as they ever were, and even more so.
حارثہ بن وہب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ میں دو رکعت نماز پڑھی جب کہ لوگ ہمیشہ سے زیادہ مامون اور بےخوف تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- حارثہ بن وہب کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن مسعود، ابن عمر اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اور ابن مسعود رضی الله عنہ سے بھی مروی ہے انہوں نے کہا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ میں دو رکعتیں پڑھیں، پھر ابوبکر کے ساتھ، عمر کے ساتھ اور عثمان رضی الله عنہم کے ساتھ ان کے ابتدائی دور خلافت میں دو رکعتیں پڑھیں، ۴- اہل مکہ کے منیٰ میں نماز قصر کرنے کے سلسلے میں اہل علم کے درمیان اختلاف ہے۔ بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اہل مکہ کے لیے جائز نہیں کہ وہ منیٰ میں نماز قصر کریں ۱؎، بجز ایسے شخص کے جو منیٰ میں مسافر کی حیثیت سے ہو، یہ ابن جریج، سفیان ثوری، یحییٰ بن سعید قطان، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ اہل مکہ کے لیے منیٰ میں نماز قصر کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ یہ اوزاعی، مالک، سفیان بن عیینہ، اور عبدالرحمٰن بن مہدی کا قول ہے۔
Jam e Tirmazi
727
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، وَقُتَيْبَةُ، قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُ فِي شَهْرِ الصَّوْمِ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ‏‏‏‏‏‏وَحَفْصَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأُمِّ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي هُرَيْرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ فِي الْقُبْلَةِ لِلصَّائِمِ، ‏‏‏‏‏‏فَرَخَّصَ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقُبْلَةِ لِلشَّيْخِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يُرَخِّصُوا لِلشَّابِّ مَخَافَةَ أَنْ لَا يَسْلَمَ لَهُ صَوْمُهُ وَالْمُبَاشَرَةُ عِنْدَهُمْ أَشَدُّ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ:‏‏‏‏ الْقُبْلَةُ تُنْقِصُ الْأَجْرَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا تُفْطِرُ الصَّائِمَ، ‏‏‏‏‏‏وَرَأَوْا أَنَّ لِلصَّائِمِ إِذَا مَلَكَ نَفْسَهُ أَنْ يُقَبِّلَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا لَمْ يَأْمَنْ عَلَى نَفْسِهِ تَرَكَ الْقُبْلَةَ لِيَسْلَمَ لَهُ صَوْمُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّافِعِيِّ
Aishah narrated: The Prophet would kiss during the month of fasting.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ماہ صیام ( رمضان ) میں بوسہ لیتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمر بن خطاب، حفصہ، ابو سعید خدری، ام سلمہ، ابن عباس، انس اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صائم کے بوسہ لینے کے سلسلے میں صحابہ کرام وغیرہم کا اختلاف ہے۔ بعض صحابہ نے بوڑھے کے لیے بوسہ لینے کی رخصت دی ہے۔ اور نوجوانوں کے لیے اس اندیشے کے پیش نظر رخصت نہیں دی کہ اس کا صوم محفوظ و مامون نہیں رہ سکے گا۔ جماع ان کے نزدیک زیادہ سخت چیز ہے۔ بعض اہل علم نے کہا ہے: بوسہ اجر کم کر دیتا ہے لیکن اس سے روزہ دار کا روزہ نہیں ٹوٹتا، ان کا خیال ہے کہ روزہ دار کو اگر اپنے نفس پر قابو ( کنٹرول ) ہو تو وہ بوسہ لے سکتا ہے اور جب وہ اپنے آپ پر کنٹرول نہ رکھ سکے تو بوسہ نہ لے تاکہ اس کا روزہ محفوظ و مامون رہے۔ یہ سفیان ثوری اور شافعی کا قول ہے۔
Jam e Tirmazi
96
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ، قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا إِذَا كُنَّا سَفَرًا أَنْ لَا نَنْزِعَ خِفَافَنَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنْ مِنْ غَائِطٍ وَبَوْلٍ وَنَوْمٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَى الْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ،‏‏‏‏ وَحَمَّادٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يَصِحُّ. قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ:‏‏‏‏ قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ:‏‏‏‏ قَالَ شُعْبَةُ:‏‏‏‏ لَمْ يَسْمَعْ إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ مِنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ حَدِيثَ الْمَسْحِ. وقَالَ زَائِدَةُ:‏‏‏‏ عَنْ مَنْصُورٍ كُنَّا فِي حُجْرَةِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ وَمَعَنَا إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏فَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ التَّيْمِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ. قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل:‏‏‏‏ أَحْسَنُ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثُ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِيِّ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَهُوَ قَوْلُ أَكْثَرِ الْعُلَمَاءِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنَ الْفُقَهَاءِ، ‏‏‏‏‏‏مِثْلِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ الْمُبَارَكِ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّافِعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ يَمْسَحُ الْمُقِيمُ يَوْمًا وَلَيْلَةً، ‏‏‏‏‏‏وَالْمُسَافِرُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُمْ لَمْ يُوَقِّتُوا فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ. قال أبو عيسى:‏‏‏‏ وَالتَّوْقِيتُ أَصَحُّ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ أَيْضًا، ‏‏‏‏‏‏مِنْ غَيْرِ حَدِيثِ عَاصِمٍ.
Safwan bin Assal narrated: 'When we were traveling, Allah's Messenger would order us not to remove our Khuff for three days and nights, except for Janabah, but not for defecating, urinating, and sleep.
صفوان بن عسال رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم مسافر ہوتے تو رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم ہمیں حکم دیتے کہ ہم اپنے موزے تین دن اور تین رات تک، پیشاب، پاخانہ یا نیند کی وجہ سے نہ اتاریں، الا یہ کہ جنابت لاحق ہو جائے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- محمد بن اسماعیل ( بخاری ) کہتے ہیں کہ اس باب میں صفوان بن عسال مرادی کی حدیث سب سے عمدہ ہے، ۳- اکثر صحابہ کرام، تابعین اور ان کے بعد کے فقہاء میں سے اکثر اہل علم مثلاً: سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے کہ مقیم ایک دن اور ایک رات موزوں پر مسح کرے، اور مسافر تین دن اور تین رات، بعض علماء سے مروی ہے کہ موزوں پر مسح کے لیے وقت کی تحدید نہیں کہ ( جب تک دل چاہے کر سکتا ہے ) یہ مالک بن انس رحمہ اللہ کا قول ہے، لیکن تحدید والا قول زیادہ صحیح ہے۔
Jam e Tirmazi
177
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ ذَكَرُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَوْمَهُمْ عَنِ الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّهُ لَيْسَ فِي النَّوْمِ تَفْرِيطٌ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّمَا التَّفْرِيطُ فِي الْيَقَظَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا نَسِيَ أَحَدُكُمْ صَلَاةً أَوْ نَامَ عَنْهَا، ‏‏‏‏‏‏فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا . وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ،‏‏‏‏ وَأَبِي مَرْيَمَ،‏‏‏‏ وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ،‏‏‏‏ وَجُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ،‏‏‏‏ وَأَبِي جُحَيْفَةَ،‏‏‏‏ وَأَبِي سَعِيدٍ،‏‏‏‏ وَعَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ،‏‏‏‏ وَذِي مِخْبَرٍ وَيُقَالُ:‏‏‏‏ ذِي مِخْمَرٍ وَهُوَ ابْنُ أَخِي النَّجَاشِيِّ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَحَدِيثُ أَبِي قَتَادَةَ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الرَّجُلِ يَنَامُ عَنِ الصَّلَاةِ أَوْ يَنْسَاهَا، ‏‏‏‏‏‏فَيَسْتَيْقِظُ أَوْ يَذْكُرُ وَهُوَ فِي غَيْرِ وَقْتِ صَلَاةٍ عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ أَوْ عِنْدَ غُرُوبِهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ بَعْضُهُمْ يُصَلِّيهَا إِذَا اسْتَيْقَظَ أَوْ ذَكَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ كَانَ عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ أَوْ عِنْدَ غُرُوبِهَا، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق،‏‏‏‏ وَالشَّافِعِيِّ،‏‏‏‏ وَمَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ بَعْضُهُمْ:‏‏‏‏ لَا يُصَلِّي حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ أَوْ تَغْرُبَ.
Abu Qatadah narrated: They asked the Prophet about when they sIept past the Salat. He said: 'There is no negligence in sleep, negligence is only while one is awake. So when one of you forgets a Salat, or sleeps through it, then let him pray it when he remembers it.'
ابوقتادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ لوگوں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے نماز سے اپنے سو جانے کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ”سو جانے میں قصور اور کمی نہیں۔ قصور اور کمی تو جاگنے میں ہے، ( کہ جاگتا رہے اور نہ پڑھے ) لہٰذا تم میں سے کوئی جب نماز بھول جائے، یا نماز سے سو جائے، تو جب اسے یاد آئے پڑھ لے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوقتادہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن مسعود، ابومریم، عمران بن حصین، جبیر بن مطعم، ابوجحیفہ، ابوسعید، عمرو بن امیہ ضمری اور ذومخمر ( جنہیں ذومخبر بھی کہا جاتا ہے، اور یہ نجاشی کے بھتیجے ہیں ) رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کے درمیان اس شخص کے بارے میں اختلاف ہے کہ جو نماز سے سو جائے یا اسے بھول جائے اور ایسے وقت میں جاگے یا اسے یاد آئے جو نماز کا وقت نہیں مثلاً سورج نکل رہا ہو یا ڈوب رہا ہو تو بعض لوگ کہتے ہیں کہ اسے پڑھ لے جب جاگے یا یاد آئے گو سورج نکلنے کا یا ڈوبنے کا وقت ہو، یہی احمد، اسحاق بن راہویہ، شافعی اور مالک کا قول ہے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ جب تک سورج نکل نہ جائے یا ڈوب نہ جائے نہ پڑھے۔ پہلا قول ہی راجح ہے، کیونکہ یہ نماز سبب والی ( قضاء ) ہے اور سبب والی میں وقت کی پابندی نہیں ہے۔
Jam e Tirmazi
230
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، قَالَ:‏‏‏‏ أَخَذَ زِيَادُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ بِيَدِي وَنَحْنُ بِالرَّقَّةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَامَ بِي عَلَى شَيْخٍ يُقَالُ لَهُ:‏‏‏‏ وَابِصَةُ بْنُ مَعْبَدٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ زِيَادٌ، حَدَّثَنِي هَذَا الشَّيْخُ، أَنَّ رَجُلًا صَلَّى خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَهُ وَالشَّيْخُ يَسْمَعُ، ‏‏‏‏‏‏ فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعِيدَ الصَّلَاةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَانَ وَابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَحَدِيثُ وَابِصَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ كَرِهَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالُوا:‏‏‏‏ يُعِيدُ إِذَا صَلَّى خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ:‏‏‏‏ أَحْمَدُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ قَالَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ:‏‏‏‏ يُجْزِئُهُ إِذَا صَلَّى خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ الْمُبَارَكِ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّافِعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ ذَهَبَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ إِلَى حَدِيثِ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ أَيْضًا، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ مَنْ صَلَّى خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَهُ يُعِيدُ، ‏‏‏‏‏‏مِنْهُمْ حَمَّادُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ،‏‏‏‏ وَابْنُ أَبِي لَيْلَى وَوَكِيعٌ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى حَدِيثَ حُصَيْنٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ غَيْرُ وَاحِدٍ، ‏‏‏‏‏‏مِثْلَ رِوَايَةِ أَبِي الْأَحْوَصِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي حَدِيثِ حُصَيْنٍ مَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ هِلَالًا قَدْ أَدْرَكَ وَابِصَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْحَدِيثِ فِي هَذَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ بَعْضُهُمْ:‏‏‏‏ حَدِيثُ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ رَاشِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ أَصَحُّ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ بَعْضُهُمْ:‏‏‏‏ حَدِيثُ حُصَيْنٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ أَصَحُّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَهَذَا عِنْدِي أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ عَمْرِو ابْنِ مُرَّةَ، ‏‏‏‏‏‏لِأَنَّهُ قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ حَدِيثِ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ وَابِصَةَ.
Hilal bin Yasar said: Ziyad bin Abi Al-Ja'd took me by the hand while we were in Ar Raqqah, he made me stand before a Shaikh who was called Wabisah bin Ma'bad, from Bani Asad. Ziyad said: 'This Shaikh narrated to me that a prayed alone behind the row' - and the Shaikh was listening - 'so Allah's Messenger ordered him to repeat the Salat.'
ہلال بن یساف کہتے ہیں کہ زیاد بن ابی الجعد نے میرا ہاتھ پکڑا، ( ہم لوگ رقہ میں تھے ) پھر انہوں نے مجھے لے جا کر بنی اسد کے وابصہ بن معبد نامی ایک شیخ کے پاس کھڑا کیا اور کہا: مجھ سے اس شیخ نے بیان کیا اور شیخ ان کی بات سن رہے تھے کہ ایک شخص نے صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے صلاۃ دہرانے کا حکم دیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- وابصہ بن معبد رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں علی بن شیبان اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم میں سے کچھ لوگوں نے مکروہ سمجھا ہے کہ آدمی صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھے اور کہا ہے کہ اگر اس نے صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھی ہے تو وہ نماز دہرائے، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں، ۴- اہل علم میں سے بعض لوگوں نے کہا ہے کہ اسے کافی ہو گا جب وہ صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھے، سفیان ثوری، ابن مبارک اور شافعی کا بھی یہی قول ہے، ۵- اہل کوفہ میں سے کچھ لوگ وابصہ بن معبد کی حدیث کی طرف گئے ہیں، ان لوگوں کا کہنا ہے کہ جو صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھے، وہ اسے دہرائے۔ انہیں میں سے حماد بن ابی سلیمان، ابن ابی لیلیٰ اور وکیع ہیں، ۶- مولف نے اس حدیث کے طرق کے ذکر کے بعد فرمایا کہ عمرو بن مرہ کی حدیث جسے انہوں نے بطریق «هلال بن يساف، عن عمرو بن راشد، عن وابصة» روایت کی ہے، زیادہ صحیح ہے، اور بعض نے کہا ہے کہ حصین کی حدیث جسے انہوں نے بطریق «هلال بن يساف، عن زياد بن أبي الجعد عن وابصة» روایت کی ہے زیادہ صحیح ہے۔ اور میرے نزدیک یہ عمرو بن مرہ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، اس لیے کہ یہ ہلال بن یساف کے علاوہ طریق سے بھی زیاد بن ابی الجعد کے واسطے سے وابصہ سے مروی ہے۔
Jam e Tirmazi
331
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى الْخُمْرَةِ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ وَابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَأُمِّ سُلَيْمٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَمَيْمُونَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الْأَسَدِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ تَسْمَعْ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُمِّ سَلَمَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ:‏‏‏‏ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ أَحْمَدُ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق:‏‏‏‏ قَدْ ثَبَتَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةُ عَلَى الْخُمْرَةِ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَالْخُمْرَةُ هُوَ:‏‏‏‏ حَصِيرٌ قَصِيرٌ.
Ibn Abbas narrated: Allah's Messenger performed Salat on a Khumrah.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «خمرہ» ”چھوٹی چٹائی“ پر نماز پڑھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ام حبیبہ، ابن عمر، ام سلیم، عائشہ، میمونہ، ام کلثوم بنت ابی سلمہ بن عبدالاسد ( ام کلثوم بنت ابی سلمہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا ہے ) اور ام سلمہ رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں، ۳- بعض اہل علم کا یہی خیال ہے، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے «خمرہ» پر نماز ثابت ہے، ۴- «خمرہ» چھوٹی چٹائی کو کہتے ہیں۔
Jam e Tirmazi
361
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ خَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ فَرَسٍ، ‏‏‏‏‏‏فَجُحِشَ، ‏‏‏‏‏‏فَصَلَّى بِنَا قَاعِدًا فَصَلَّيْنَا مَعَهُ قُعُودًا ثُمَّ انْصَرَفَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا الْإِمَامُ أَوْ إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقُولُوا:‏‏‏‏ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا أَجْمَعُونَ قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَجَابِرٍ وَابْنِ عُمَرَ وَمُعَاوِيَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَحَدِيثُ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَّ عَنْ فَرَسٍ فَجُحِشَ . حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى هَذَا الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏مِنْهُمْ جَابِر بْنُ عَبْدِ اللَّهِ،‏‏‏‏ وَأُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ،‏‏‏‏ وَأَبُو هُرَيْرَةَ وَغَيْرُهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهَذَا الْحَدِيثِ يَقُولُ أَحْمَدُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق:‏‏‏‏ وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ:‏‏‏‏ إِذَا صَلَّى الْإِمَامُ جَالِسًا لَمْ يُصَلِّ مَنْ خَلْفَهُ إِلَّا قِيَامًا، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ صَلَّوْا قُعُودًا لَمْ تُجْزِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ سفيان الثوري،‏‏‏‏ وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ،‏‏‏‏ وَابْنِ الْمُبَارَكِ،‏‏‏‏ وَالشَّافِعِيِّ.
Anas bin Malik narrated: Allah's Messenger fell from a horse and got injured, so he led Salat sitting and we also offered Salat sitting. When he completed the Salat he said: The Imam is appointed to be followed; when he says the Takbir then say the Takbir, when he bows, then bow, and when he raises his head, then raise your heads. When he says: Sami' Allahu liman hamidah (Allah listens to those who praise him) then say: Rabbana wa lakal-hamd. (O our Lord! And all praise is Yours.) and when he prostrates, then prostrate, and when he performs Salat sitting, then pray sitting altogether.'
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے گر پڑے، آپ کو خراش آ گئی ۱؎ تو آپ نے ہمیں بیٹھ کر نماز پڑھائی، ہم نے بھی آپ کے ساتھ بیٹھ کر نماز پڑھی۔ پھر آپ نے ہماری طرف پلٹ کر فرمایا: ”امام ہوتا ہی اس لیے ہے یا امام بنایا ہی اس لیے گیا ہے تاکہ اس کی اقتداء کی جائے، جب وہ «الله أكبر» کہے تو تم بھی «الله أكبر» کہو، اور جب وہ رکوع کرے، تو تم بھی رکوع کرو، اور جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ، اور جب وہ «سمع الله لمن حمده‏» کہے تو تم «ربنا لك الحمد‏» کہو، اور جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز پڑھو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عائشہ، ابوہریرہ، جابر، ابن عمر اور معاویہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- بعض صحابہ کرام جن میں میں جابر بن عبداللہ، اسید بن حضیر اور ابوہریرہ رضی الله عنہم وغیرہ ہیں اسی حدیث کی طرف گئے ہیں اور یہی قول احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی ہے، ۴- بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ جب امام بیٹھ کر پڑھے تو مقتدی کھڑے ہو کر ہی پڑھیں، اگر انہوں نے بیٹھ کر پڑھی تو یہ نماز انہیں کافی نہ ہو گی، یہ سفیان ثوری، مالک بن انس، ابن مبارک اور شافعی کا قول ہے ۲؎۔
Jam e Tirmazi
437
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى فَإِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ وَاجْعَلْ آخِرَ صَلَاتِكَ وِتْرًا . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ صَلَاةَ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ سفيان الثوري،‏‏‏‏ وَابْنِ الْمُبَارَكِ،‏‏‏‏ وَالشَّافِعِيِّ،‏‏‏‏ وَأَحْمَدَ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاقَ.
Ibn Umar narrated that: The Prophet (S) said: Salat in the night is two by two. So when you fear the dawn (is near) then make it odd by one, and make that the last of your Salat odd.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات کی نفلی نماز دو دو رکعت ہے، جب تمہیں نماز فجر کا وقت ہو جانے کا ڈر ہو تو ایک رکعت پڑھ کر اسے وتر بنا لو، اور اپنی آخری نماز وتر رکھو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمرو بن عبسہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۳- اسی پر اہل علم کا عمل ہے کہ رات کی نماز دو دو رکعت ہے، سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے ۱؎۔
Jam e Tirmazi
464
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ السَّعْدِيِّ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا:‏‏‏‏ عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏كَلِمَاتٍ أَقُولُهُنَّ فِي الْوِتْرِ اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، ‏‏‏‏‏‏وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، ‏‏‏‏‏‏وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، ‏‏‏‏‏‏وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ، ‏‏‏‏‏‏تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الْحَوْرَاءِ السَّعْدِيِّ وَاسْمُهُ:‏‏‏‏ رَبِيعَةُ بْنُ شَيْبَانَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا نَعْرِفُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقُنُوتِ فِي الْوِتْرِ شَيْئًا أَحْسَنَ مِنْ هَذَا، ‏‏‏‏‏‏وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الْقُنُوتِ فِي الْوِتْرِ، ‏‏‏‏‏‏فَرَأَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ الْقُنُوتَ فِي الْوِتْرِ فِي السَّنَةِ كُلِّهَا، ‏‏‏‏‏‏وَاخْتَارَ الْقُنُوتَ قَبْلَ الرُّكُوعِ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ:‏‏‏‏ سفيان الثوري،‏‏‏‏ وَابْنُ الْمُبَارَكِ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق وَأَهْلُ الْكُوفَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ كَانَ لَا يَقْنُتُ إِلَّا فِي النِّصْفِ الْآخِرِ مِنْ رَمَضَانَ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ يَقْنُتُ بَعْدَ الرُّكُوعِ وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَى هَذَا، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ:‏‏‏‏ الشافعي وَأَحْمَدُ.
Al-Hasan bin Ali [may Allah be pleased with him] said: Allah's Messenger taught me some phrases to say during Al-Witr (Allahummahdini fiman hadait, wa a'fini fiman afait, wa tawallani fiman tawallait, wa barik Li fima atait, wa qini sharra ma qadait, fa Innaka taqdi wa la yuqda Alaik, wa innahu la yadhillu man walait, tabarakta Rabbana wa ta'alait.) 'O Allah guide me among those You have guided, pardon me among those You have pardoned, befriend me among those You have befriended, bless me in what You have granted, and save me from the evil that You decreed. Indeed You decree, and none can pass decree, and none can pass decree upon You, indeed he is not humiliated whom You have befriended, blessed are You our Lord and Exalted.'
حسن بن علی رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کلمات سکھائے جنہیں میں وتر میں پڑھا کروں، وہ کلمات یہ ہیں: «اللهم اهدني فيمن هديت وعافني فيمن عافيت وتولني فيمن توليت وبارك لي فيما أعطيت وقني شر ما قضيت فإنك تقضي ولا يقضى عليك وإنه لا يذل من واليت تباركت ربنا وتعاليت» ”اے اللہ! مجھے ہدایت دے کر ان لوگوں کے زمرہ میں شامل فرما جنہیں تو نے ہدایت سے نوازا ہے، مجھے عافیت دے کر ان لوگوں میں شامل فرما جنہیں تو نے عافیت بخشی ہے، میری سرپرستی فرما کر، ان لوگوں میں شامل فرما جن کی تو نے سرپرستی کی ہے، اور جو کچھ تو نے مجھے عطا فرمایا ہے اس میں برکت عطا فرما، اور جس شر کا تو نے فیصلہ فرما دیا ہے اس سے مجھے محفوظ رکھ، یقیناً فیصلہ تو ہی صادر فرماتا ہے، تیرے خلاف فیصلہ صادر نہیں کیا جا سکتا، اور جس کا تو والی ہو وہ کبھی ذلیل و خوار نہیں ہو سکتا، اے ہمارے رب! تو بہت برکت والا اور بہت بلند و بالا ہے۔“ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اسے ہم صرف اسی سند سے یعنی ابوالحوراء سعدی کی روایت سے جانتے ہیں، ان کا نام ربیعہ بن شیبان ہے، ۳- میرے علم میں وتر کے قنوت کے سلسلے میں اس سے بہتر کوئی اور چیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہو معلوم نہیں، ۴- اس باب میں علی رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۵- اہل علم کا وتر کے قنوت میں اختلاف ہے۔ عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کا خیال ہے کہ وتر میں قنوت پورے سال ہے، اور انہوں نے رکوع سے پہلے قنوت پڑھنا پسند کیا ہے، اور یہی بعض اہل علم کا قول ہے سفیان ثوری، ابن مبارک، اسحاق اور اہل کوفہ بھی یہی کہتے ہیں، ۶- علی بن ابی طالب رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ وہ صرف رمضان کے نصف آخر میں قنوت پڑھتے تھے، اور رکوع کے بعد پڑھتے تھے، ۷- بعض اہل علم اسی طرف گئے ہیں، شافعی اور احمد بھی یہی کہتے ہیں ۱؎۔