TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2091 - باب: علم فرائض سکھانے کا بیان - Chapters on inheritance - Jam e Tirmazi in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 1 in this chapter
Whole chapter
Previous Hadith Next Hadith
باب: علم فرائض سکھانے کا بیان
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ وَاصِلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الْأَسَدِيُّ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دَلْهَمٍ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ وَالْفَرَائِضَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَلِّمُوا النَّاسَ فَإِنِّي مَقْبُوضٌ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ فِيهِ اضْطِرَابٌ.
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah(S.A.W) said: Learn the laws of inheritance and the Quran, and teach the people, for I am a mortal.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قرآن اور علم فرائض سیکھو اور لوگوں کو سکھاؤ اس لیے کہ میں وفات پانے والا ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس حدیث میں اضطراب ہے۔
2091
Zaeef
Bookmark
Status: Zaeef
:حکم حدیث ضعیف
Reference
حوالہ حکم
English reference : Vol. 4, Book 3, Hadith 2091 Arabic reference : Book 29, Hadith 2234
ضعيف، المشكاة (244) ، الإرواء (1664) // ضعيف الجامع الصغير (2450) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2091
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ۱۳۴۹۸)

Related Chapters

102
1
علم فرائض (میراث) سیکھنے سکھانے کی ترغیب
Sunnan Ibn e Maja
2
علم سکھانے پر رغبت دلانے اور معلم کے آداب کا بیان
Musnad Ahmad
3
(2) CHAPTER. Learning about the Laws of Inheritance (descent and distribution).
فرائض کا علم سیکھنا
Sahih Bukhari
4
CHAPTER: What Has Been Related About Teaching The Knowledge Of Inheritance.
باب: علم فرائض سیکھنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
5
Chapter: What Has Been Related About Disciplining The Son
باب: لڑکے کو ادب سکھانے کا بیان
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What Has Been Related Linking The Obligations To Iman
باب: ایمان میں دوسرے فرائض و واجبات کے داخل ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
7
Chapter: The Virtue Of Seeking Knowledge
باب: علم حاصل کرنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been Related About Concealing Knowledge
باب: علم چھپانے کی مذمت
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What Has Been Related About Exhortation Regarding One Who Seeks Knowledge
باب: علم (دین) حاصل کرنے والوں کے ساتھ خیر خواہی کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Has Been Related About Knowledge Leaving
باب: علم کے ختم ہو جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
11
Chapter: About One Who Seeks The World With His Knowledge
باب: علم (دین) سے دنیا حاصل کرنے والے کا بیان
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What Has Been Related About The Superiority Of Fiqh Over Worship
باب: عبادت پر علم و فقہ کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
13
علم اور علماء کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
14
حصول علم کے لیے سفر کرنے اور طالب علم کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
15
علم کی مجالس اور ان کے آداب اورمتعلم کے آداب کا بیان
Musnad Ahmad
16
بغیر ضرورت کے علم کے بارے میں کثرت ِ سوال کی مذمت کا بیان
Musnad Ahmad
17
علم حاصل کرنے کے بعد اس کو چھپا لینے والے یا اس پر عمل نہ کرنے والے یا کسی غیر اللہ کے لیے وہ علم حاصل کرنے والی کی مذمت کابیان
Musnad Ahmad
18
علم کے اٹھائے جانے کا بیان
Musnad Ahmad
19
نفلی نماز کی فضیلت اور نوافل کے ذریعے فرائض کی کمی کو پورا کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
20
صحابہ کے وصال سے باز آنے سے انکار کرنے پر ان کو عبرت سکھانے کے لیےیا ان کے فعل پر انکار کرنے کے لیے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ان کے ساتھ دو دنوں اور دو راتوں تک وصال کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
21
باطل چیز پر جھگڑنے والے کے گناہ کا بیان، اگرچہ بظاہر اس کے لیے فیصلہ کر دیا گیا ہو اور اس چیز کا بیان کہ کیا قاضی اپنے علم کی روشنی میں فیصلہ کر سکتا ہے یا نہیں
Musnad Ahmad
22
قرآن پاک کو سیکھنے سکھانے، اس کو حفظ کرنے پر رغبت دلانے اور اس کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
23
قرآن مجید کے ساتھ جھگڑا کرنے یا اس کی تاویل کرنے یا بغیر علم کے اپنی رائے کے ساتھ اس کی تفسیر کرنے والے کی وعید کا بیان
Musnad Ahmad
24
سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ذہانت، فطانت، علم اور فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
25
فصل سوم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے علم کی وسعت، قوتِ دین، ان کی نیکی اورزہد کا بیان
Musnad Ahmad
26
فصل ششم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یمن کا قاضی مقرر کرنا اور اس امر کا بیان کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس امت محمدیہ میں سب سے زیادہ علم والے، سب سے زیادہ بردباری والے اور سب (یعنی اکثر) سے پہلے مسلمان ہونے والے تھے
Musnad Ahmad
27
(37) CHAPTER. The asking of (angel) Jibril (Gabriel) from the Prophet about Belief, Islam, Ihsan (perfection) and the knowledge of the Hour (Doomsday) .
حضرت جبرائیل علیہ السلام کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ایمان ، اسلام ، احسان اور قیامت کے علم کے بارے میں پوچھنا
Sahih Bukhari
28
(2) CHAPTER. Whoever is asked about knowledge while he is busy in some conversation, so he finished his talk, and then answered the questioner.
اس بیان میں کہ جس شخص سے علم کی کوئی بات پوچھی جائے
Sahih Bukhari
29
(3) CHAPTER. Whoever raises his voice in (conveying) knowledge.
اس کے بارے میں جس نے علمی مسائل کے لیے اپنی آواز کو بلند کیا
Sahih Bukhari
30
(5) CHAPTER. The Imam questioning his companions in order to test their knowledge.
استاد اپنے شاگردوں کا علم آزمانے کے لیے ان سے کوئی سوال کرے ۔ ( یعنی امتحان لینے کا بیان )
Sahih Bukhari
31
(7) CHAPTER. What is said regarding the hand to hand exchange (of books of knowledge), and the writing of knowledge by religious scholars to different countries.
مناولہ کا بیان اور اہل علم کا علمی باتیں لکھ کر ( دوسرے ) شہروں کو بھیجنا
Sahih Bukhari
32
(12) CHAPTER. Whoever fixed a special day for giving (a religious talk) to the students.
اس بارے میں کہ کوئی شخص اہل علم کے لیے کچھ دن مقرر کر دے ( تو یہ جائز ہے ) یعنی استاد اپنے شاگردوں کے لیے اوقات مقرر کر سکتا ہے ۔
Sahih Bukhari
33
(14) CHAPTER. (The superiority of) comprehending knowledge.
علم میں سمجھداری سے کام لینے کے بیان میں
Sahih Bukhari
34
(15) CHAPTER. Wish to be like the one who has knowledge and Al-Hikmah [wisdom i.e., the knowledge of the Quran and the Sunna (legal ways) of the Prophet ].
علم و حکمت میں رشک کرنے کے بیان میں
Sahih Bukhari
35
(17) CHAPTER. The statement of the Prophet : “O Allah! Bestow on him (Ibn Abbas) the knowledge of the Book (the Quran).”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ ” اللہ اسے قرآن کا علم عطا فرمائیو ! “
Sahih Bukhari
36
(19) CHAPTER. To go out in search of knowledge.
علم کی تلاش میں نکلنے کے بارے میں
Sahih Bukhari
37
(21) CHAPTER. (What is said regarding) the disappearance of the (religious) knowledge and the appearance of (religious) ignorance.
علم کے زوال اور جہل کی اشاعت کے بیان میں
Sahih Bukhari
38
(22) CHAPTER. The superiority of (religious) knowledge.
علم کی فضیلت کے بیان میں
Sahih Bukhari
39
(25) CHAPTER. The Prophet urged the people (mission) of Abdul Qais to memorize the faith and the (religious) knowledge (as he explained to them) and to inform (convey) to their people whom they have left behind (at home).
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قبیلہ عبدالقیس کے وفد کو اس پر آمادہ کرنا کہ وہ ایمان لائیں اور علم کی باتیں یاد رکھیں اور اپنے پیچھے رہ جانے والوں کو بھی خبر کر دیں
Sahih Bukhari
40
(27) CHAPTER. To fix the duties in rotation for learning (religious) knowledge.
اس بارے میں کہ ( طلباء کا حصول ) علم کے لیے ( استاد کی خدمت میں ) اپنی اپنی باری مقرر کرنا درست ہے ۔
Sahih Bukhari
41
(33) CHAPTER. Eagerness to (learn) the Hadith.
علم حدیث حاصل کرنے کی حرص کے بارے میں
Sahih Bukhari
42
(34) CHAPTER. How the (religious) knowledge will be taken away?
اس بیان میں کہ علم کس طرح اٹھا لیا جائے گا ؟
Sahih Bukhari
43
(37) CHAPTER. It is incumbent on those who are present [in a religious meeting (or conference)] to convey the knowledge to those who are absent.
اس بارے میں کہ جو لوگ موجود ہیں وہ غائب شخص کو علم پہنچائیں ، یہ قول حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جناب حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے ۔ ( اور بخاری کتاب الحج میں یہ تعلیق باسناد موجود ہے )
Sahih Bukhari
44
(39) CHAPTER. The writing of knowledge.
( دینی ) علم کو قلم بند کرنے کے جواز میں
Sahih Bukhari
45
(41) CHAPTER. To speak about (religious) knowledge at night.
اس بارے میں کہ سونے سے پہلے رات کے وقت علمی باتیں کرنا جائز ہے
Sahih Bukhari
46
(42) CHAPTER. (What is said regarding) the memorization of the (religious) knowledge.
علم کو محفوظ رکھنے کے بیان میں
Sahih Bukhari
47
(44) CHAPTER. When a religious learned man is asked, “Who is the most learned person,” it is better for him to attribute or entrust absolute knowledge to Allah and to say, “Allah is the Most Learned (than anybody else) .”
اس بیان میں کہ جب کسی عالم سے یہ پوچھا جائے کہ لوگوں میں کو ن سب سے زیادہ علم رکھتا ہے ؟ تو بہتر یہ ہے کہ اللہ کے حوالے کر دے یعنی یہ کہہ دے کہ اللہ سب سے زیادہ علم رکھتا ہے یا یہ کہ اللہ ہی جانتا ہے کہ کو ن سب سے بڑا عالم ہے ۔
Sahih Bukhari
48
(47) CHAPTER. The Statement of Allah: “And of knowledge you (mankind) have been given only a little.” (V. 17:85)
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تشریح میں کہ تمہیں تھوڑا علم دیا گیا ہے
Sahih Bukhari
49
(49) CHAPTER. Whoever selected some people to teach them (religious) knowledge preferring them over others for fear that the others may not understand it.
اس بارے میں کہ علم کی باتیں کچھ لوگوں کو بتانا اور کچھ لوگوں کو نہ بتانا اس خیال سے کہ ان کی سمجھ میں نہ آئیں گی ( یہ عین مناسب ہے کیونکہ )
Sahih Bukhari
50
(50) CHAPTER. (What is said as regards): To be shy (Al-Haya) while learning (religious) knowledge.
اس بیان میں کہ حصول علم میں شرمانا مناسب نہیں ہے !
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

20
Jam e Tirmazi
358
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ وَاصِلِ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الْأَسَدِيُّ، عَنْ الْفَضْلِ بْنِ دَلْهَمٍ، عَنْ الْحَسَنِ، قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ:‏‏‏‏ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةً:‏‏‏‏ رَجُلٌ أَمَّ قَوْمًا وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ، ‏‏‏‏‏‏وَامْرَأَةٌ بَاتَتْ وَزَوْجُهَا عَلَيْهَا سَاخِطٌ، ‏‏‏‏‏‏وَرَجُلٌ سَمِعَ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ ثُمَّ لَمْ يُجِبْ قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ،‏‏‏‏ وَطَلْحَةَ،‏‏‏‏ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍ وَأَبِي أُمَامَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَنَسٍ لَا يَصِحُّ لِأَنَّهُ قَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنِ الْحَسَنِ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلٌ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ تَكَلَّمَ فِيهِ، ‏‏‏‏‏‏أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَضَعَّفَهُ وَلَيْسَ بِالْحَافِظِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ كَرِهَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنْ يَؤُمَّ الرَّجُلُ قَوْمًا وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا كَانَ الْإِمَامُ غَيْرَ ظَالِمٍ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّمَا الْإِثْمُ عَلَى مَنْ كَرِهَهُ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ أَحْمَدُ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق فِي هَذَا:‏‏‏‏ إِذَا كَرِهَ وَاحِدٌ أَوِ اثْنَانِ أَوْ ثَلَاثَةٌ، ‏‏‏‏‏‏فَلَا بَأْسَ أَنْ يُصَلِّيَ بِهِمْ حَتَّى يَكْرَهَهُ أَكْثَرُ الْقَوْمِ.
Anas bin Malik narrated: Allah's Messenger cursed three people: A man who leads people (in Salat) while they dislike him, a woman who spends a night while her husband with her, and a man who hears: 'Hayya Alal Falah (come to success)' then does not respond.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین لوگوں پر لعنت فرمائی ہے: ایک وہ شخص جو لوگوں کی امامت کرے اور لوگ اسے ناپسند کرتے ہوں۔ دوسری وہ عورت جو رات گزارے اور اس کا شوہر اس سے ناراض ہو، تیسرا وہ جو «حي على الفلاح» سنے اور اس کا جواب نہ دے ( یعنی جماعت میں حاضر نہ ہو ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس رضی الله عنہ کی یہ حدیث صحیح نہیں ہے کیونکہ حقیقت میں یہ حدیث حسن ( بصریٰ ) سے بغیر کسی واسطے کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً مروی ہے، ۲- محمد بن قاسم کے سلسلہ میں احمد بن حنبل نے کلام کیا ہے، انہوں نے انہیں ضعیف قرار دیا ہے۔ اور یہ کہ وہ حافظ نہیں ہیں ۱؎، ۳- اس باب میں ابن عباس، طلحہ، عبداللہ بن عمرو اور ابوامامہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- بعض اہل علم کے یہاں یہ مکروہ ہے کہ آدمی لوگوں کی امامت کرے اور وہ اسے ناپسند کرتے ہوں اور جب امام ظالم ( قصوروار ) نہ ہو تو گناہ اسی پر ہو گا جو ناپسند کرے۔ احمد اور اسحاق بن راہویہ کا اس سلسلہ میں یہ کہنا ہے کہ جب ایک یا دو یا تین لوگ ناپسند کریں تو اس کے انہیں نماز پڑھانے میں کوئی حرج نہیں، الا یہ کہ لوگوں کی اکثریت اسے ناپسند کرتی ہو۔
Jam e Tirmazi
248
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ حُجْرِ بْنِ عَنْبَسٍ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ:‏‏‏‏ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7 فَقَالَ:‏‏‏‏ آمِينَ وَمَدَّ بِهَا صَوْتَهُ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ،‏‏‏‏ وَأَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ:‏‏‏‏ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ بَعْدَهُمْ يَرَوْنَ أَنَّ الرَّجُلَ يَرْفَعُ صَوْتَهُ بِالتَّأْمِينِ وَلَا يُخْفِيهَا، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ:‏‏‏‏ الشَّافِعِيُّ،‏‏‏‏ وَأَحْمَدُ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق وَرَوَى شُعْبَةُ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ حُجْرٍ أَبِي الْعَنْبَسِ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ:‏‏‏‏ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7 فَقَالَ:‏‏‏‏ آمِينَ وَخَفَضَ بِهَا صَوْتَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وسَمِعْت مُحَمَّدًا، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ حَدِيثُ سُفْيَانَ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ فِي هَذَا وَأَخْطَأَ شُعْبَةُ فِي مَوَاضِعَ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ عَنْ حُجْرٍ أَبِي الْعَنْبَسِ وَإِنَّمَا هُوَ حُجْرُ بْنُ عَنْبَسٍ وَيُكْنَى أَبَا السَّكَنِ وَزَادَ فِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ وَلَيْسَ فِيهِ عَنْ عَلْقَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّمَا هُوَ عَنْ حُجْرِ بْنِ عَنْبَسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ وَخَفَضَ بِهَا صَوْتَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّمَا هُوَ وَمَدَّ بِهَا صَوْتَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَسَأَلْتُ أَبَا زُرْعَةَ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ حَدِيثُ سُفْيَانَ فِي هَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَة، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَرَوَى الْعَلَاءُ بْنُ صَالِحٍ الْأَسَدِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ نَحْوَ رِوَايَةِ سُفْيَانَ.
Wa'il bin Hujr narrated: I heard the Prophet recite: (Not (the way) of those who earned Your anger, nor those who went astray) and he said: 'Amin.' And he stretched it out with his voice.
وائل بن حجر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» پڑھ کر، آمین کہتے سنا، اور اس کے ساتھ آپ نے اپنی آواز کھینچی ( یعنی بلند کی ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- وائل بن حجر رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں علی اور ابوہریرہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے کئی اہل علم کا یہی قول ہے کہ آدمی آمین کہنے میں اپنی آواز بلند کرے اسے پست نہ رکھے۔ شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں۔ ( شاذ ) ۴- شعبہ نے یہ حدیث بطریق «سلمة بن كهيل، عن حُجر أبي العنبس، عن علقمة بن وائل، عن أبيه وائل» روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» پڑھا تو آپ نے آمین کہی اور اپنی آواز پست کی، ۵- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ سفیان کی حدیث شعبہ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔ شعبہ نے اس حدیث میں کئی مقامات پر غلطیاں کی ہیں ۱؎ انہوں نے حجر ابی عنبس کہا ہے، جب کہ وہ حجر بن عنبس ہیں اور ان کی کنیت ابوالسکن ہے اور اس میں انہوں نے «عن علقمة بن وائل» کا واسطہ بڑھا دیا ہے جب کہ اس میں علقمہ کا واسطہ نہیں ہے، حجر بن عنبس براہ راست حجر سے روایت کر رہے ہیں، اور «وخفض بها صوته» ( آواز پست کی ) کہا ہے، جب کہ یہ «ومدّ بها صوته» ( اپنی آواز کھینچی ) ہے، ۶- میں نے ابوزرعہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: سفیان کی حدیث شعبہ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔ اور علاء بن صالح اسدی نے بھی سلمہ بن کہیل سے سفیان ہی کی حدیث کی طرح روایت کی ہے ۲؎۔
Jam e Tirmazi
3339
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ الْيَوْمُ الْمَوْعُودُ:‏‏‏‏ يَوْمُ الْقِيَامَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْيَوْمُ الْمَشْهُودُ:‏‏‏‏ يَوْمُ عَرَفَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّاهِدُ:‏‏‏‏ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ وَلَا غَرَبَتْ عَلَى يَوْمٍ أَفْضَلَ مِنْهُ، ‏‏‏‏‏‏فِيهِ سَاعَةٌ لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُؤْمِنٌ يَدْعُو اللَّهَ بِخَيْرٍ إِلَّا اسْتَجَابَ اللَّهُ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يَسْتَعِيذُ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا أَعَاذَهُ اللَّهُ مِنْهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَمُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَغَيْرُهُ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا قُرَّانُ بْنُ تَمَّامٍ الْأَسَدِيُّ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، ‏‏‏‏‏‏نَحْوَهُ. وَمُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ يُكْنَى أَبَا عَبْدِ الْعَزِيزِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ وَغَيْرُهُ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَى شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏وَالثَّوْرِيُّ وَغَيْرُ وَاحِدٍ مَنِ الْأَئِمَّةِ عَنْهُ.
Abu Hurairah narrated that : the Messenger of Allah said: “Al-Yawmul-Maw’ud (the Promised Day) is the Day of Resurrection, and Al-Yawmul-Mashhud (the Attended Day) is the Day of Arafah, and Ash-Shahid (the witness) is Friday.” He said: “The sun does not rise nor set, upon a day that is more virtuous than it. In it, there is an hour in which no believing worshipper makes a supplication to Allah for good, except that Allah answers it for him, and he does not seek Allah’s aid for something, except that He aids him in it.”
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «اليوم الموعود» سے مراد قیامت کا دن ہے، اور «واليوم المشهود» سے مراد عرفہ کا دن اور ( «شاہد» ) سے مراد جمعہ کا دن ہے، اور جمعہ کے دن سے افضل کوئی دن نہیں ہے جس پر سوج کا طلوع و غروب ہوا ہو، اس دن میں ایک ایسی گھڑی ( ایک ایسا وقت ) ہے کہ اس میں جو کوئی بندہ اپنے رب سے بھلائی کی دعا کرتا ہے تو اللہ اس کی دعا قبول کر لیتا ہے، اور اس گھڑی میں جو کوئی مومن بندہ کسی چیز سے پناہ چاہتا ہے تو اللہ اسے اس سے بچا لیتا اور پناہ دے دیتا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ہم سے علی بن حجر نے بیان کیا: وہ کہتے ہیں: ہم سے قران بن تمام اسدی نے بیان کیا، اور قران نے موسیٰ بن عبیدہ سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت کی، ۲- موسیٰ بن عبیدہ ربذی کی کنیت ابوعبدالعزیز ہے، ان کے بارے میں ان کے حافظہ کے سلسلے میں یحییٰ بن سعید قطان وغیرہ نے کلام کیا ہے، شعبہ، ثوری اور کئی اور ائمہ نے ان سے روایت کی ہے، ۳- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۴- ہم اسے صرف موسیٰ بن عبیدہ کی روایت سے ہی جانتے ہیں۔ موسیٰ بن عبیدہ حدیث بیان کرنے میں ضعیف مانے جاتے ہیں، انہیں یحییٰ بن سعید وغیرہ نے ضعیف ٹھہرایا ہے۔
Sahih Muslim
317
وَحَدَّثَنَا هُرَيْمُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الْأَسَدِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، يَذْكُرُ عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ، وَلَمْ يَذْكُرْ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ، وَزَادَ فَكُنَّا نَرَاهُ يَمْشِي بَيْنَ أَظْهُرِنَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ
This hadith is narrated on the authority of Anas by another chain of transmitters in which there is no mention of Sa'd b. Mu'adh, but the following words are there: We observed a man, one of the dwellers of Paradise, walking about amongst us.
معتمر کے والد سلیمان بن طرخان نے ثابت کے واسطے سے حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی روایت بیان کی کہ جب یہ آیت اتری ( آگے گزشتہ حدیث بیان کی ) لیکن سعد بن معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کا ذکر نہیں کیا اور یہ اضافہ کیا : ہم انہیں ( اس طرح ) دیکھتے کہ ہمارے درمیان اہل جنت میں سے ایک فرد چل پھر رہا ہے
Sunnan Abu Dawood
2752
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَغَارَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُيَيْنَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَلَى إِبِلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَتَلَ رَاعِيَهَا فَخَرَجَ يَطْرُدُهَا هُوَ وَأُنَاسٌ مَعَهُ فِي خَيْلٍ، ‏‏‏‏‏‏فَجَعَلْتُ وَجْهِي قِبَلَ الْمَدِينَةِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ نَادَيْتُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ:‏‏‏‏ يَا صَبَاحَاهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ اتَّبَعْتُ الْقَوْمَ فَجَعَلْتُ أَرْمِي وَأَعْقِرُهُمْ فَإِذَا رَجَعَ إِلَيَّ فَارِسٌ، ‏‏‏‏‏‏جَلَسْتُ فِي أَصْلِ شَجَرَةٍ حَتَّى مَا خَلَقَ اللَّهُ شَيْئًا مِنْ ظَهْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا جَعَلْتُهُ وَرَاءَ ظَهْرِي، ‏‏‏‏‏‏وَحَتَّى أَلْقَوْا أَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثِينَ رُمْحًا وَثَلَاثِينَ بُرْدَةً يَسْتَخِفُّونَ مِنْهَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَتَاهُمْ عُيَيْنَةُ مَدَدًا فَقَالَ:‏‏‏‏ لِيَقُمْ إِلَيْهِ نَفَرٌ مِنْكُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَامَ إِلَيَّ أَرْبَعَةٌ مِنْهُمْ فَصَعِدُوا الْجَبَلَ فَلَمَّا أَسْمَعْتُهُمْ قُلْتُ:‏‏‏‏ أَتَعْرِفُونِي قَالُوا:‏‏‏‏ وَمَنْ أَنْتَ قُلْتُ:‏‏‏‏ أَنَا ابْنُ الْأَكْوَعِ وَالَّذِي كَرَّمَ وَجْهَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏لَا يَطْلُبُنِي رَجُلٌ مِنْكُمْ فَيُدْرِكُنِي وَلَا أَطْلُبُهُ فَيَفُوتُنِي فَمَا بَرِحْتُ حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى فَوَارِسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَلَّلُونَ الشَّجَرَ أَوَّلُهُمْ الْأَخْرَمُ الْأَسَدِيُّ، ‏‏‏‏‏‏فَيَلْحَقُ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُيَيْنَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَيَعْطِفُ عَلَيْهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَاخْتَلَفَا طَعْنَتَيْنِ فَعَقَرَ الْأَخْرَمُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏وَطَعَنَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقَتَلَهُ فَتَحَوَّلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَلَى فَرَسِ الْأَخْرَمِ، ‏‏‏‏‏‏فَيَلْحَقُ أَبُو قَتَادَةَ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ فَاخْتَلَفَا طَعْنَتَيْنِ فَعَقَرَ بِأَبِي قَتَادَةَ وَقَتَلَهُ أَبُو قَتَادَةَ فَتَحَوَّلَ أَبُو قَتَادَةَ عَلَى فَرَسِ الْأَخْرَمِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ جِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمَاءِ الَّذِي جَلَّيْتُهُمْ عَنْهُ ذُو قَرَدٍ فَإِذَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَمْسِ مِائَةٍ فَأَعْطَانِي سَهْمَ الْفَارِسِ وَالرَّاجِلِ.
Salamah (bin Al Akwa) said “Abd Al rahman bin ‘Uyainah raided the Camels of the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم and killed their herdsman. He and some people who were with him on horses proceeded on driving them away. I turned my face towards Madeenah and shouted three times. A morning raid, I then went after the people shooting arrows at them and hamstringing them (their beasts). When a horseman returned to me, I sat in the foot of a tree till there was no riding beast of the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم created by Allaah which I had not kept behind my back. They threw away more than thirty lance and thirty cloaks to lighten themselves. Then ‘Uyainah came to them with reinforcement and said “A few of you should go to him. Four of them stood and came to me. They ascended a mountain. Then they came near me till they could hear my voice. I told them “Do you know me?” They said “Who are you? I replied “I am Ibn Al Akwa. By Him Who honored the face of Muhammad صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم if any man of you pursues he cannot catch me and if I pursue him, I will not miss him. This went on with me till I saw the horsemen of the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم coming through the trees. Al Akhram Al Asadi was at their head. He then joined Abd Al Rahman bin ‘Uyainah and Abd Al Rahman turned over him. They attacked each other with lances. Al Akhram hamstrung Abd Al Rahman’s horse and Abd Al Rahman pierced a lance in his body and killed him. Abd al Rahman then returned on the horse of Al Akhram. I then came to the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم who was present at the same water from where I drove them away and which is known as Dhu Qarad. The Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم was among five hundred people. He then gave me two portions a horseman’s and a footman’s.
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عبدالرحمٰن بن عیینہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کو لوٹ لیا، آپ کے چرواہے کو مار ڈالا، اور اونٹوں کو ہانکتا ہوا وہ اور اس کے ساتھ کچھ لوگ جو گھوڑوں پر سوار تھے چلے، تو میں نے اپنا رخ مدینہ کی طرف کیا، اور تین بار پکار کر کہا «يا صباحاه» ( اے صبح کا حملہ ) ۱؎، اس کے بعد میں لٹیروں کے پیچھے چلا، ان کو تیر مارتا اور زخمی کرتا جاتا تھا، جب ان میں سے کوئی سوار میری طرف پلٹتا تو میں کسی درخت کی جڑ میں بیٹھ جاتا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سارے اونٹوں کو میں نے اپنے پیچھے کر دیا، انہوں نے اپنا بوجھ کم کرنے کے لیے تیس سے زائد نیزے اور تیس سے زیادہ چادریں نیچے پھینک دیں، اتنے میں عیینہ ان کی مدد کے لیے آ پہنچا، اور اس نے کہا: تم میں سے چند آدمی اس شخص کی طرف ( یعنی سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ ) کی طرف جائیں ( اور اسے قتل کر دیں ) چنانچہ ان میں سے چار آدمی میری طرف آئے اور پہاڑ پر چڑھ گئے، جب اتنے فاصلہ پر ہوئے کہ میں ان کو اپنی آواز پہنچا سکوں تو میں نے کہا: تم مجھے پہچانتے ہو، انہوں نے کہا: تم کون ہو؟ میں نے کہا: میں اکوع کا بیٹا ہوں، قسم اس ذات کی جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بزرگی عنایت کی، تم میں سے کوئی شخص مجھے پکڑنا چاہے تو کبھی نہ پکڑ سکے گا، اور میں جس کو چاہوں گا وہ بچ کر جا نہ سکے گا، پھر تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سواروں کو دیکھا کہ درختوں کے بیچ سے چلے آ رہے ہیں، ان میں سب سے آگے اخرم اسدی رضی اللہ عنہ تھے، وہ عبدالرحمٰن بن عیینہ فزاری سے جا ملے، عبدالرحمٰن نے ان کو دیکھا تو دونوں میں بھالا چلنے لگا، اخرم رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمٰن کے گھوڑے کو مار ڈالا، اور عبدالرحمٰن نے اخرم رضی اللہ عنہ کو مار ڈالا، پھر عبدالرحمٰن اخرم رضی اللہ عنہ کے گھوڑے پر سوار ہو گیا، اس کے بعد ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمٰن کو جا لیا، دونوں میں بھالا چلنے لگا، تو اس نے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے گھوڑے کو مار ڈالا، اور ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمٰن کو مار ڈالا، پھر ابوقتادہ اخرم کے گھوڑے پر سوار ہو گئے، اس کے بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گیا، آپ ذو قرد نامی چشمے پر تھے جہاں سے میں نے لٹیروں کو بھگایا تھا تو دیکھتا ہوں کہ آپ پانچ سو آدمیوں کے ساتھ موجود ہیں، آپ نے مجھے سوار اور پیدل دونوں کا حصہ دیا ۲؎۔
Sunnan Abu Dawood
4150
حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الْأَسَدِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏بِهَذَا الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَكَانَ سِتْرًا مَوْشِيًّا.
The tradition mentioned above has also been transmitted through a different chain of narrators by Ibn Fudail on his father's authority. This version has: The curtain was embellished.
فضیل سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ وہ ایک منقش پردہ تھا۔
Sunnan Abu Dawood
4258
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبِي، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شِهَابُ بْنُ خِرَاشٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ غَزْوَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِسْحَاق بْنِ رَاشِدٍ الْجَزَرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَالِمٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ وَابِصَةَ الْأَسَدِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ وَابِصَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ فَذَكَرَ بَعْضَ حَدِيثِ أَبِي بَكْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَتْلَاهَا كُلُّهُمْ فِي النَّارِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ فِيهِ:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ مَتَى ذَلِكَ يَا ابْنَ مَسْعُودٍ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ تِلْكَ أَيَّامُ الْهَرْجِ حَيْثُ لَا يَأْمَنُ الرَّجُلُ جَلِيسَهُ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ فَمَا تَأْمُرُنِي إِنْ أَدْرَكَنِي ذَلِكَ الزَّمَانُ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ تَكُفُّ لِسَانَكَ وَيَدَكَ وَتَكُونُ حِلْسًا مِنْ أَحْلَاسِ بَيْتِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا قُتِلَ عُثْمَانُ طَارَ قَلْبِي مَطَارَهُ فَرَكِبْتُ حَتَّى أَتَيْتُ دِمَشْقَ، ‏‏‏‏‏‏فَلَقِيتُ خُرَيْمَ بْنَ فَاتِكٍ فَحَدَّثْتُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَحَلَفَ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَسَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا حَدَّثَنِيهِ ابْنُ مَسْعُودٍ.
Narrated Abdullah ibn Masud ; Khuraym ibn Fatik: The tradition mentioned above (No. 4243) has also been transmitted by Ibn Masud through a different chain of narrators. Ibn Masud said: I heard the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم say: He then mentioned a portion of the tradition narrated by Abu Bakrah (No. 4243). This version adds: He (the Prophet) said: All their slain will go to Hell. I (Wabisah) asked: When will this happen Ibn Masud? He replied: This is the period of turmoil (harj) when a man will not be safe from his associates. I asked: What do you command me (to do) if I happen to live during that period? He replied: You should restrain your tongue and hand and stay at home. When Uthman was slain, I recollected this tradition. I then rode (on a camel) and came to Damascus. There I met Khuraym ibn Fatik and mentioned this tradition to him. He swore by Allah, there was no god but He, he had heard it from the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم, as Ibn Masud transmitted it to me (Wabisah).
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا پھر انہوں نے ابی بکرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کی بعض باتیں ذکر کیں اس میں یہ اضافہ ہے: اس فتنہ میں جو لوگ قتل کئے جائیں گے وہ جہنم میں جائیں گے اور اس میں مزید یہ ہے کہ میں نے پوچھا: ابن مسعود! یہ فتنہ کب ہو گا؟ کہا: یہ وہ زمانہ ہو گا جب قتل شروع ہو چکا ہو گا، اس طرح سے کہ آدمی اپنے ساتھی سے بھی مامون نہ رہے گا، میں نے عرض کیا: اگر میں یہ زمانہ پاؤں تو آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: تم اپنی زبان اور ہاتھ روکے رکھنا، اور اپنے گھر کے کمبلوں میں کا ایک کمبل بن جانا ۱؎، پھر جب عثمان رضی اللہ عنہ قتل کئے گئے تو میرے دل میں یکایک خیال گزرا کہ شاید یہ وہی فتنہ ہو جس کا ذکر ابن مسعود نے کیا تھا، چنانچہ میں سواری پر بیٹھا اور دمشق آ گیا، وہاں خریم بن فاتک سے ملا اور ان سے بیان کیا تو انہوں نے اس اللہ کی قسم کھا کر کہا جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں کہ اسے انہوں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنا ہے جیسے ابن مسعود نے اسے مجھ سے بیان کیا تھا۔
Sunnan Ibn e Maja
260
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، ‏‏‏‏‏‏أَنْبَأَنَا وَهْبُ بْنُ إِسْمَاعِيل الْأَسَدِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَدِّهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ تَعَلَّمَ الْعِلْمَ لِيُبَاهِيَ بِهِ الْعُلَمَاءَ، ‏‏‏‏‏‏وَيُجَارِيَ بِهِ السُّفَهَاءَ، ‏‏‏‏‏‏وَيَصْرِفَ بِهِ وُجُوهَ النَّاسِ إِلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏أَدْخَلَهُ اللَّهُ جَهَنَّمَ .
It was narrated that Abu Hurairah said: The Messenger of Allah said: 'Whoever seeks knowledge in order to argue with the foolish, or to show off before the scholars, or to attract people's attention, Allah will admit him to Hell.'
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے علم کو علماء پر فخر کرنے، اور بیوقوفوں سے بحث و تکرار کرنے، اور لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے سیکھا، اللہ اسے جہنم میں داخل کرے گا ۔
Jam e Tirmazi
249
قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ صَالِحٍ الْأَسَدِيُّ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ حُجْرِ بْنِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏نَحْوَ حَدِيثِ سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ.
(Another chain) from Wa'il bin Hujr who narrated it from : the Prophet, and it is similar to the narrations of Sufyan from Salamah bin Kuhail
اس سند سے بھی وائل حجر رضی الله عنہ سے سفیان کی ( پچھلی ) روایت جیسی روایت ہے۔