باب: سورۃ البقرہ سے بعض آیات کی تفسیر - باب: سورۃ البقرہ سے بعض آیات کی تفسیر - Chapters on tafsir - Jam e Tirmazi with Urdu and English Translation
Chapter 3 of Chapters on tafsir in Jam e Tirmazi. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
Narrated Abu Musa Al-Ash'ari:
that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Indeed Allah Most High created Adam from a handful that He took from all of the earth. So the children of Adam come in according with the earth, some of them come red, and white and black, and between that, and the thin, the thick, the filthy, and the clean.
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے ساری زمین کے ہر حصے سے ایک مٹھی مٹی لے کر اس سے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا، چنانچہ ان کی اولاد میں مٹی کی مناسبت سے کوئی لال، کوئی سفید، کالا اور ان کے درمیان مختلف رنگوں کے اور نرم مزاج و گرم مزاج، بد باطن و پاک طینت لوگ پیدا ہوئے“ ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ السنة ۱۷ (۴۶۹۳) (تحفة الأشراف : ۹۰۲۵)، و مسند احمد (۴/۴۰۰، ۴۰۶)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : یہ حدیث سورۃ البقرہ کی آیت : «إني جاعل في الأرض خليفة» (البقرة : 30) کی تفسیر میں ہے۔
Narrated Abu Hurairah:
that the Messenger of Allah (ﷺ) said, regarding Allah's saying: Enter the gate in prostration (2:58): They entered dragging their behinds meaning they distorted it, and with this chain, from the Prophet (ﷺ): But those who did wrong changed the word from that which had been told to them for another (2:59) - They said: Habbah (a seed) in Sha'irah (in barely).
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کریمہ: «ادخلوا الباب سجدا» ”اور جھکے جھکے دروازہ میں داخل ہونا“ ( البقرہ: ۵۸ ) کے بارے میں فرمایا: ”بنی اسرائیل چوتڑ کے بل کھسکتے ہوئے داخل ہوئے“۔
Narrated 'Abdullah bin 'Amir bin Rabi'ah:
from his father who said: We were with the Messenger of Allah (ﷺ) on a journey on a very dark night and we did not know where the Qiblah was. So each man among us prayed in his own direction. In the morning when we mentioned that to the Messenger of Allah (ﷺ), then the following was revealed: So wherever you turn, there is the Face of Allah. (2:115)
عامر بن ربیعہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم ایک انتہائی اندھیری رات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، کوئی نہ جان سکا کہ قبلہ کدھر ہے۔ چنانچہ جو جس رخ پر تھا اس نے اسی رخ پر نماز پڑھ لی، جب صبح ہوئی تو ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا ذکر کیا تو ( اس وقت ) یہ آیت «فأينما تولوا فثم وجه الله» ”تم جدھر بھی منہ کروا ادھر اللہ کا منہ ہے“ ( البقرہ: ۱۱۵ ) نازل ہوئی۔
Narrated Ibn 'Umar:
The Messenger of Allah (ﷺ) would perform voluntary Salat upon his mount facing whichever direction he was headed, while he was coming from Makkah to Al-Madinah. Then Ibn 'Umar recited: To Allah belong both the east and the west. (2:115) And Ibn 'Umar said: It was about this that the Ayah was revealed.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے مدینہ آتے ہوئے نفل نماز اپنی اونٹنی پر بیٹھے بیٹھے پڑھ رہے تھے۔ اونٹنی جدھر بھی چاہتی منہ پھیرتی ۱؎، ابن عمر نے پھر یہ آیت «ولله المشرق والمغرب» ”اللہ ہی کے لیے مغرب و مشرق ہیں“ ( البقرہ: ۱۱۵ ) پڑھی۔ ابن عمر کہتے ہیں: یہ آیت اسی تعلق سے نازل ہوئی ہے ۳؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- قتادہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں: آیت: «ولله المشرق والمغرب فأينما تولوا فثم وجه الله» ( البقرة: ۱۱۵ ) منسوخ ہے، اور اسے منسوخ کرنے والی آیت «فول وجهك شطر المسجد الحرام» ”آپ اپنا منہ مسجد الحرام کی طرف پھیر لیں“ ( البقرہ: ۱۴۴ ) ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المسافرین ۴ (۷۰۰)، سنن النسائی/الصلاة ۲۳ (۴۹۲)، تحفة الأشراف : ۷۰۵۷)، و مسند احمد (۲/۲۰، ۴۱)، وراجع أیضا: صحیح البخاری/الوتر ۶ (۱۰۰۰) وتقصیر الصلاة ۹ (۱۰۹۸)، ۱۲ (۱۱۰۵)، و سنن ابی داود/ الصلاہ ۲۷۷ (۱۲۲۴)، وسنن النسائی/الصلاة ۲۳ (۴۹۱)، والقبلة ۱ (۷۴۵)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : معلوم ہوا کہ مسافر اپنی سواری پر نفلی نماز پڑھ سکتا ہے، اس سواری کا رخ کسی بھی سمت ہو، شرط یہ ہے کہ تکبیر تحریمہ کے وقت قبلہ رخ ہونا ضروری ہے اس کے بعد جہت قبلہ سے ہٹ جانے میں کوئی حرج نہیں۔ ۲؎ : عموماً ایسا ہوتا ہے کہ ایک آیت کے سبب نزول کے سلسلے میں کئی واقعات منقول ہوتے ہیں، دراصل ان سب پروہ آیت صادق آتی ہے، یا متعدد واقعات پر وہ آیت دوبارہ نازل ہوتی ہے، وغیرہ وغیرہ۔
Narrated Anas:
that 'Umar bin Al-Khattab said: O Messenger of Allah (ﷺ)! I wish that we could perform Salat behind the Maqam: So the following was revealed: And take you the Maqam of Ibrahim as a place of Salat. (2:125).
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! کاش ہم مقام ( مقام ابراہیم ) کے پیچھے نماز پڑھتے، تو آیت: «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» ”تم مقام ابراہیم کو جائے صلاۃ مقرر کر لو“ ( البقرہ: ۱۲۵ ) نازل ہوئی ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
وضاحت: ۱؎ : اور یہ حکم طواف کے بعد کی دو رکعتوں کے سلسلے میں ہے، لیکن طواف میں اگر بھیڑ بہت زیادہ ہو تو حرم میں جہاں بھی جگہ ملے یہ دو رکعتیں پڑھی جا سکتی ہیں، کوئی حرج نہیں ہے۔ ۲؎ : مقام ابراہیم سے مراد وہ پتھر ہے جس پر ابراہیم علیہ السلام نے کھڑے ہو کر خانہ کعبہ کی تعمیر کی تھی۔
Narrated Anas:
that 'Umar bin Al-Khattab [may Allah be pleased with him] said: I said: 'O Messenger of Allah (ﷺ)! I wish that you could perform Salat behind the Maqam of Ibrahim.' So the following was revealed: And take you the Maqam of Ibrahim as a place of Salat.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اگر آپ مقام ابراہیم کو مصلی ( نماز پڑھنے کی جگہ ) بنا لیتے ( تو کیا ہی اچھی بات ہوتی ) تو آیت «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» نازل ہوئی۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے۔
Narrated Abu Sa'eed:
that about Allah's saying: Thus we have made you a Wasata nation (2:143) - the Prophet (ﷺ) said: The meaning of Wasata is just.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت: «وكذلك جعلناكم أمة وسطا» ”ہم نے اسی طرح تمہیں عادل امت بنایا ہے“ ( البقرہ: ۱۴۳ ) کے سلسلے میں فرمایا: ” «وسط» سے مراد عدل ہے“ ( یعنی انصاف پسند ) ۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء ۳ (۳۳۳۹)، وتفسیر سورة البقرة ۱۳ (۴۴۸۷)، والاعتصام ۱۹ (۷۳۴۹)، سنن ابن ماجہ/الزہد ۳۴ (۴۲۸۴) (تحفة الأشراف : ۴۰۰۳)
Narrated Al-Bara bin 'Azib:
When the Messenger of Allah (ﷺ) arrived in Al-Madinah, he performed Salat facing the direction of Bait Al-Maqdis (Jerusalem) for sixteen or seventeen months. The Messenger of Allah (ﷺ) longed to face toward the Ka'bah, so Allah, Might and Sublime is He revealed: Verily, WE have seen the turning of your face towards the heave. Surely, We Shall turn your face in the direction of Al-Masjid Al-Haram (2:144). So he faced the direction of the Ka'bah and he longed for that. (One day) a man performed Salat Al-'Asr along with him. He said: Then he passed by some people of the Ansar performing Salat Al-'Asr, while they were bowing toward Bait Al-Maqdis. He told them that he testifies that he performed Salat with the Messenger of Allah (ﷺ), and he had faced the direction of the Ka'bah. He said: So they turned while they were bowing.
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے مدینہ تشریف لے آئے تو سولہ یا سترہ مہینے تک آپ بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے رہے، حالانکہ آپ کی خواہش یہی تھی کہ قبلہ کعبہ کی طرف کر دیا جائے، تو اللہ نے آپ کی اس خواہش کے مطابق «قد نرى تقلب وجهك في السماء فلنولينك قبلة ترضاها فول وجهك شطر المسجد الحرام» ”ہم آپ کے چہرے کو باربار آسمان کی طرف اٹھتے ہوئے دیکھ رہے ہیں، اب ہم آپ کو اس قبلہ کی جانب پھیر دیں گے جس سے آپ خوش ہو جائیں، آپ اپنا منہ مسجد الحرام کی طرف پھیر لیں“ ( البقرہ: ۱۴۴ ) ، پھر آپ کعبہ کی طرف پھیر دئیے گئے، اور آپ یہی چاہتے ہی تھے۔ ایک آدمی نے آپ کے ساتھ نماز عصر پڑھی، پھر وہ کچھ انصاری لوگوں کے پاس سے گزرا وہ لوگ بیت المقدس کی طرف رخ کئے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے۔ اور رکوع کی حالت میں تھے، اس شخص نے ( اعلان کرتے ہوئے ) کہا کہ وہ گواہی دیتا ہے کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ہے اور آپ کو کعبہ کی طرف منہ پھیر کر نماز پڑھنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ یہ سن کر لوگ حالت رکوع ہی میں ( کعبہ کی طرف ) پھر گئے۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسے سفیان ثوری نے بھی ابواسحاق سے روایت کیا ہے۔
Narrated Ibn 'Umar:
They were bowing during Salat Al-Fajr.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ لوگ فجر کی نماز ۱؎ میں حالت رکوع میں تھے۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمرو بن عوف مزنی، ابن عمر، عمارہ بن اوس اور انس بن مالک رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم ۳۴۱
Explanation
وضاحت: ۱؎ : یہ مسجد قباء کا واقعہ ہے صحیح بخاری میں اس کی صراحت آئی ہے، وہاں تحویل قبلہ کی خبر فجر میں ملی تھی، اور پچھلی حدیث میں جو واقعہ ہے وہ بنو حارثہ کی مسجد کا واقعہ ہے۔ جسے مسجد قبلتین کہا جاتا ہے۔
Narrated Ibn 'Abbas:
When the Prophet (ﷺ) began facing the Ka'bah they said: 'O Messenger of Allah! How about our brothers who died while they were praying toward Bait Al-Maqdis?' So Allah Most High revealed: Allah would not allow your faith to be wasted. (2:143)
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا تو لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہمارے ان بھائیوں کا کیا بنے گا جو بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے، اور وہ گزر گئے تو ( اسی موقع پر ) اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «وما كان الله ليضيع إيمانكم» ”اللہ تعالیٰ تمہارا ایمان ضائع نہ کرے گا“ ( البقرہ: ۱۴۳ ) ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
وضاحت: ۱؎ : یعنی : بیت المقدس کی طرف منہ کر کے پڑھی گئی نمازوں کو ضائع نہیں کرے گا کیونکہ اس وقت یہی حکم الٰہی تھا، اس آیت میں «ایمان» سے مراد «صلاۃ» ہے نہ کہ بعض بزعم خود مفسر قرآن بننے والے نام نہاد مفسرین کا یہ کہنا کہ یہاں «ایمان» ہی مراد ہے، یہ صحیح حدیث کا صریح انکار ہے، «عفا اللہ عنہ» ۔
Narrated Az-Zuhri:
that 'Urqah said: I said to 'Aishah: 'I do not see anything wrong if someone does not go between As-Safa and Al-Marwah, nor any harm if I do not go between them.' She said: 'How horrible is what you have said O my nephew! The Messenger of Allah (ﷺ) would go between them, and the Muslims go between them. It was only that the people who assumed Ihram in the name of the false deity Mannah, which was in Al-Mushallal, would not go between As-Safa and Al-Marwah. So, Allah Blessed and Most High revealed: So it is not a sin for those who perform Hajj or go 'Umrah to the House to go between them (2:158). And if it were as you say, then it would be: Then there is no harm on him if he does not go between them. Az-Zuhri said: I mentioned that to Abu Bakr bin 'Abdur-Rahman bin Al-Harith bin Hisham. He was surprised at that and he said: 'Indeed this is knowledge. I had heard some men among the people of knowledge saying that those Arabs who would not go between As-Safa and Al-Marwah said, that going between these two rocks is a matter from Jahiliyyah. And others among the Ansar said: We have only been ordered with going around the House, we were not ordered to do so with As-Safa and Al-Marwah. So Allah Most High revealed: Indeed As-Safa and Al-Marwah are of the symbols of Allah...' (2.158) Abu Bakr bin 'Abdur-Rahman said: 'So I thought that it was revealed about these people, and those people.'
عروہ بن زبیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے کہا: میں اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتا کہ کوئی شخص صفا و مروہ کے درمیان طواف نہ کرے، اور میں خود اپنے لیے ان کے درمیان طواف نہ کرنے میں کوئی حرج نہیں پاتا۔ تو عائشہ نے کہا: اے میرے بھانجے! تم نے بری بات کہہ دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف کیا اور مسلمانوں نے بھی کیا ہے۔ ہاں ایسا زمانہ جاہلیت میں تھا کہ جو لوگ مناۃ ( بت ) کے نام پر جو مشلل ۱؎ میں تھا احرام باندھتے تھے وہ صفا و مروہ کے درمیان طواف نہیں کرتے تھے، تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے یہ آیت: «فمن حج البيت أو اعتمر فلا جناح عليه أن يطوف بهما» ۲؎ نازل فرمائی۔ اگر بات اس طرح ہوتی جس طرح تم کہہ رہے ہو تو آیت اس طرح ہوتی «فلا جناح عليه أن لا يطوف بهما» ( یعنی اس پر صفا و مروہ کے درمیان طواف نہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ) ۔ زہری کہتے ہیں: میں نے اس بات کا ذکر ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام سے کیا تو انہیں یہ بات بڑی پسند آئی۔ کہا: یہ ہے علم و دانائی کی بات۔ اور ( بھئی ) میں نے تو کئی اہل علم کو کہتے سنا ہے کہ جو عرب صفا و مروہ کے درمیان طواف نہ کرتے تھے وہ کہتے تھے کہ ہمارا طواف ان دونوں پتھروں کے درمیان جاہلیت کے کاموں میں سے ہے۔ اور کچھ دوسرے انصاری لوگوں نے کہا: ہمیں تو خانہ کعبہ کے طواف کا حکم ملا ہے نہ کہ صفا و مروہ کے درمیان طواف کا۔ ( اسی موقع پر ) اللہ تعالیٰ نے آیت: «إن الصفا والمروة من شعائر الله» نازل فرمائی ۳؎۔ ابوبکر بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں: میں سمجھتا ہوں کہ یہ آیت انہیں لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحج ۷۹ (۱۶۴۳)، والعمرة ۱۰ (۱۷۹۰)، وتفسیر البقرة ۲۱ (۴۴۹۵)، وتفسیر النجم ۳ (۴۸۶۱)، صحیح مسلم/الحج ۴۳ (۱۲۷۷)، سنن ابی داود/ الحج ۵۶ (۱۹۰۱)، سنن النسائی/الحج ۴۳ (۲۹۸۶) (تحفة الأشراف : ۱۶۴۳۸)، وط/الحج ۴۲ (۱۲۹)، و مسند احمد (۶/۱۴۴، ۱۶۲، ۲۲۷)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : مشلل مدینہ سے کچھ دوری پر ایک مقام کا نام ہے جو قُدید کے پاس ہے۔ ۲؎ : (صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں) اس لیے بیت اللہ کا حج اور عمرہ کرنے والے پر ان کا طواف کر لینے میں بھی کوئی گناہ نہیں (البقرہ : ۱۵۸)۔ ۳؎ : خلاصہ یہ ہے کہ آیت کے سیاق کا یہ انداز انصار کی ایک غلط فہمی کا ازالہ ہے جو اسلام لانے کے بعد حج و عمرہ میں صفا و مروہ کے درمیان سعی کو معیوب سمجھتے تھے کیونکہ صفا پر ایک بت ” اِساف “ نام کا تھا، اور مروہ پر ” نائلہ “ نام کا، اس پر اللہ نے فرمایا : ارے اب اسلام میں ان دونوں کو توڑ دیا گیا ہے، اب ان کے درمیان سعی کرنے میں شرک کا شائبہ نہیں رہ گیا، بلکہ اب تو یہ سعی فرض ہے، ارشاد نبوی ہے «اسعوا فإن اللہ کتب علیکم السعی» ” (احمد والحاکم بسند حسن) “ (یعنی : سعی کرو، کیونکہ اللہ نے اس کو تم پر فرض کر دیا ہے)۔
Narrated 'Asim Al-Ahwal:
I asked Anas bin Malik about As-Safa and Al-Marwah, and he said: 'They were among the rites of Jahiliyyah.' He said: 'So during Islam, we refrained from them, then Allah, Blessed and Most High, revealed: Indeed As-Safa and Al-Marwah are of the symbols of Allah. So it is not a sin for those who perform Hajj or 'Umrah to the house to go between them. (2:158)' He said: 'So it is voluntarily then verily, Allah is the All-Recogniser, the All-Knowing. (2:158)'
عاصم الأحول کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی الله عنہ سے صفا اور مروہ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: یہ دونوں جاہلیت کے شعائر میں سے تھے ۱؎، پھر جب اسلام آیا تو ہم ان دونوں کے درمیان طواف کرنے سے رک گئے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت «إن الصفا والمروة من شعائر الله» ( صفا و مروہ شعائر الٰہی میں سے ہیں ) نازل فرمائی۔ تو جو شخص بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ کرے اس کے لیے ان دونوں کے درمیان طواف ( سعی ) کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ان کے درمیان طواف ( سعی ) نفل ہے اور جو کوئی بھلائی کام ثواب کی خاطر کرے تو اللہ تعالیٰ اس کا قدردان اور علم رکھنے والا ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated Jabir bin 'Abdullah:
When the Messenger of Allah (ﷺ) arrived in Makkah, performing Tawaf around the House seven times, I heard him reciting: And take the Maqam of Ibrahim as a place of prayer (2:125). So he performed Salat behind the Maqam, then he came to the (Black) Stone, then he said: 'We begin with what Allah began with.' So he began at As-Safa and recited: Indeed As-Safa and Al-Marwah are among the Symbols of Allah (2:158).
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ تشریف لائے اور آپ بیت اللہ کا سات طواف کیا تو میں نے آپ کو یہ آیت پڑھتے سنا: «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» ”مقام ابراہیم کو نماز پڑھنے کی جگہ بنا لو“۔ آپ نے مقام ابراہیم کے پیچھے نماز پڑھی، پھر حجر اسود کے پاس آ کر اسے چوما، پھر فرمایا: ”ہم ( سعی ) وہیں سے شروع کریں گے جہاں سے اللہ نے ( اس کا ذکر ) شروع کیا ہے۔ اور آپ نے پڑھا «إن الصفا والمروة من شعائر الله» ۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated Al-Bara bin 'Azib:
It was the custom among the Companions of Muhammad (ﷺ), that if any of them was fasting and the food was presented but he had slept before eating, he would not eat that night, nor the following day until the evening. Qais bin Sirmah Al-Ansari fasted and came to his wife at the time of Iftar, and said to her: 'No, but I will go and bring something for you.' He worked during the day, so his eyes (sleep) overcame him. Then his wife came, and when she saw him she said: 'You shall be disappointed.' About the middle of the next day he fainted. That was mentioned to the Prophet (ﷺ), so this Ayah was revealed: 'It is made lawful for you to have sexual relations with your women on the night of the fasts. So they were very happy about that. 'And eat and drink until the white thread (light) of dawn appears distinct to you from the black thread (of night). (2:187)'
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ شروع میں کے صحابہ کا طریقہ یہ تھا کہ جب کوئی آدمی روزہ رکھتا اور افطار کا وقت ہوتا اور افطار کرنے سے پہلے سو جاتا، تو پھر وہ ساری رات اور سارا دن نہ کھاتا یہاں تک کہ شام ہو جاتی۔ قیس بن صرمہ انصاری کا واقعہ ہے کہ وہ روزے سے تھے جب افطار کا وقت آیا تو وہ اپنی اہلیہ کے پاس آئے اور پوچھا کہ تمہارے پاس کچھ کھانے کو ہے؟ انہوں نے کہا: ہے تو نہیں، لیکن میں جاتی ہوں اور آپ کے لیے کہیں سے ڈھونڈھ لاتی ہوں، وہ دن بھر محنت مزدوری کرتے تھے اس لیے ان کی آنکھ لگ گئی۔ وہ لوٹ کر آئیں تو انہیں سوتا ہوا پایا، کہا: ہائے رے تمہاری محرومی و بدقسمتی۔ پھر جب دوپہر ہو گئی تو قیس پر غشی طاری ہو گئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات ذکر کی گئی تو اس وقت یہ آیت: «أحل لكم ليلة الصيام الرفث إلى نسائكم» ”روزے کی راتوں میں اپنی بیویوں سے ملنا تمہارے لیے حلال کیا گیا“ ( البقرہ: ۱۸۷ ) ، نازل ہوئی، لوگ اس آیت سے بہت خوش ہوئے۔ ( اس کے بعد یہ حکم نازل ہو گیا ) «وكلوا واشربوا حتى يتبين لكم الخيط الأبيض من الخيط الأسود من الفجر» تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ صبح کی سفید دھاری سیاہ دھاری سے ظاہر ہو جائے“ ( البقرہ: ۱۸۷ ) ۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح۔
Narrated An-Nu'man bin Bashir:
from the Prophet (ﷺ) regarding Allah's saying: Your Lord said: Invoke Me, I shall respond to you (40:60, it appears that the author intended to apply it to Al-Baqarah 2:186). - he said: The supplication is the worship. And he recited: 'Your Lord said: Invoke Me, I shall respond to you.' up to His saying: 'in humiliation.'
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت: «وقال ربكم ادعوني أستجب لكم» ”اور تمہارے رب کا فرمان ہے کہ مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا، یقین مانو کہ جو لوگ میری عبادت سے اعراض کرتے ہیں وہ عنقریب ذلیل ہو کر جہنم میں پہنچ جائیں گے“ ( المؤمن: ۶۰ ) ، کی تفسیر میں فرمایا کہ دعا ہی عبادت ہے۔ پھر آپ نے سورۃ مومن کی آیت «وقال ربكم ادعوني أستجب لكم» سے «داخرين» ۱؎ تک پڑھی۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اسے منصور نے روایت کیا ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ الصلاة ۳۵۸ (۱۴۷۹)، سنن ابن ماجہ/الدعاء ۱ (۳۸۲۸) (تحفة الأشراف : ۱۱۶۴۳)، و مسند احمد (۴/۲۷۱، ۲۷۶)، ویأتي برقم ۳۲۴۷)
Narrated 'Adi bin Hatim:
When 'Until the white (light) thread of dawn appears distinct to you from the black thread (of night)' was revealed, the Prophet (ﷺ) said to me: 'That only refers to the whiteness of the day from the blackness of the night.'
عدی بن حاتم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت: «حتى يتبين لكم الخيط الأبيض من الخيط الأسود من الفجر» نازل ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اس سے مراد رات کی تاریکی سے دن کی سفیدی ( روشنی ) کا نمودار ہو جانا ہے“۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated 'Adi bin Hatim:
I asked the Messenger of Allah (ﷺ) about the fast, he said: 'Until the white (light) thread of dawn appears distinct to you from the black thread (of night)' - he said: So I took two ropes, one white and the other black to look at them. So the Messenger of Allah (ﷺ) said to me - it was something that Sufyan (a sub narrator) did not remember - so he said: It is only the night and the day.
عدی بن حاتم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روزے کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: «حتى يتبين لكم الخيط الأبيض من الخيط الأسود» ”یہاں تک کہ سفید دھاگا سیاہ دھاگے سے نمایاں ہو جائے“ تو میں نے دو ڈوریاں لیں۔ ایک سفید تھی دوسری کالی، میں انہیں کو دیکھ کر ( سحری کے وقت ہونے یا نہ ہونے کا ) فیصلہ کرنے لگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کچھ باتیں کہیں ( ابن ابی عمر کہتے ہیں: میرے استاد ) سفیان انہیں یاد نہ رکھ سکے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے مراد رات اور دن ہے“۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated Aslam bin 'Imran At-Tujibi:
We were in a Roman city, when a large column of Romans came out to us. So about the same number or more of the Muslims went towards them. The commander of the people of Egypt was 'Uqbah bin 'Amir, and the commenter of the (our) group was Fadalah bin 'Ubaid. One man among the Muslims reached the Roman line until he entered amidst them, so the people started screaming: 'Subhan Allah! He has thrown himself into destruction!' Abu Ayyub Al-Ansari said: 'O you people! You give this interpretation for this Ayah, while this Ayah was only revealed about us, the people among the Ansar, when Allah made Islam might, and increased its supporters. Some of us secretly said to each other, outside of the presence of the Messenger of Allah (ﷺ): Our wealth has been ruined, and Allah has strengthened Islam, and increased its supporters, so if we tend to our wealth then what we lost of it shall be revitalized for us. So Allah, Blessed and Most High, revealed to His Prophet (ﷺ), rebuking what we said: 'And spend in the cause of Allah, and do not throw yourselves into destruction. (2:195)' So the destruction was tending to the wealth and maintaining it.' Abu Ayyub did not cease traveling in Allah's cause, until he was buried in the land of the Romans.
اسلم ابوعمران تجیبی کہتے ہیں کہ ہم روم شہر میں تھے، رومیوں کی ایک بڑی جماعت ہم پر حملہ آور ہونے کے لیے نکلی تو مسلمان بھی انہی جیسی بلکہ ان سے بھی زیادہ تعداد میں ان کے مقابلے میں نکلے، عقبہ بن عامر رضی الله عنہ اہل مصر کے گورنر تھے اور فضالہ بن عبید رضی الله عنہ فوج کے سپہ سالار تھے۔ ایک مسلمان رومی صف پر حملہ آور ہو گیا اور اتنا زبردست حملہ کیا کہ ان کے اندر گھس گیا۔ لوگ چیخ پڑے، کہنے لگے: سبحان اللہ! اللہ پاک و برتر ہے اس نے تو خود ہی اپنے آپ کو ہلاکت میں جھونک دیا ہے۔ ( یہ سن کر ) ابوایوب انصاری رضی الله عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: لوگو! تم اس آیت کی یہ تاویل کرتے ہو، یہ آیت تو ہم انصار کے بارے میں اتری ہے، جب اللہ نے اسلام کو طاقت بخشی اور اس کے مددگار بڑھ گئے تو ہم میں سے بعض لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے چھپا کر رازداری سے آپس میں کہا کہ ہمارے مال برباد ہو گئے ہیں ( یعنی ہماری کھیتی باڑیاں تباہ ہو گئی ہیں ) اللہ نے اسلام کو قوت و طاقت بخش دی۔ اس کے ( حمایتی ) و مددگار بڑھ گئے، اب اگر ہم اپنے کاروبار اور کھیتی باڑی کی طرف متوجہ ہو جاتے تو جو نقصان ہو گیا ہے اس کمی کو پورا کر لیتے، چنانچہ ہم میں سے جن لوگوں نے یہ بات کہی تھی اس کے رد میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر یہ آیت نازل فرمائی۔ اللہ نے فرمایا: «وأنفقوا في سبيل الله ولا تلقوا بأيديكم إلى التهلكة» ”اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں نہ ڈالو“ ( البقرہ: ۱۹۵ ) ، تو ہلاکت یہ تھی کہ مالی حالت کو سدھار نے کی جدوجہد میں لگا جائے، اور جہاد کو چھوڑ دیا جائے ( یہی وجہ تھی کہ ) ابوایوب انصاری رضی الله عنہ ہمیشہ اللہ کی راہ میں جہاد کی ایک علامت و ہدف کی حیثیت اختیار کر گئے تھے یہاں تک کہ سر زمین روم میں مدفون ہوئے۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Narrated Mujahid:
that Ka'b bin 'Ujrah said: By the one in Whose Hand is my soul! This Ayah was revealed referring to my case: 'And whosoever of you is ill or has an ailment on his scalp (necessitating shaving) he must pay Fidyah of either fasting or giving charity, or a sacrifice. (2:196)' He said: We were with the Messenger of Allah (ﷺ) at Al-Hudaibiyyah and we were in a state of Ihram. The idolaters had held us back, and I had a good deal of hair, and the lice were falling on my face. The Prophet (ﷺ) passed by me and said: 'The lice on your head are bothering you?' He said: I said: 'Yes.' He said: 'Then shave.' And this Ayah was revealed. Mujahid said: The fasting is for three days, the feeding is six needy people, and the sacrifice is a sheep or more.
مجاہد کہتے ہیں کہ کعب بن عجرہ رضی الله عنہ نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یہ آیت: «فمن كان منكم مريضا أو به أذى من رأسه ففدية من صيام أو صدقة أو نسك» ”البتہ تم میں سے جو بیمار ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو ( جس کی وجہ سے سر منڈا لے ) تو اس پر فدیہ ہے، خواہ روزے رکھ لے، خواہ صدقہ دے، خواہ قربانی کرے“ ( البقرہ: ۱۹۶ ) ، میرے بارے میں اتری ہم حدیبیہ میں تھے، احرام باندھے ہوئے تھے، مشرکوں نے ہمیں روک رکھا تھا، میرے بال کانوں کے لو کے برابر تھے، سر کے جوئیں چہرے پر گرنے لگیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ہمارے پاس سے ہوا ( ہمیں دیکھ کر ) آپ نے فرمایا: ”لگتا ہے تمہارے سر کی جوئیں تمہیں تکلیف پہنچا رہی ہیں؟“ میں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”سر لو مونڈ ڈالو“، پھر یہ آیت ( مذکورہ ) اتری۔ مجاہد کہتے ہیں: روزے تین دن ہیں، کھانا چھ مسکینوں ۱؎ کو کھلانا ہے۔ اور قربانی ( کم از کم ) ایک بکری، اور اس سے زیادہ بھی ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم ۹۶۳ (تحفة الأشراف : ۱۱۱۱۴، و۱۱۱۱۶)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : ایک دوسری حدیث میں صراحت آ گئی ہے کہ تین صاع چھ مسکین کو کھلائے یعنی فی مسکین آدھا صاع (جو بھی کھانا وہاں کھایا جاتا ہو)۔
Narrated 'Abdur-Rahman bin Abi Laila:
from Ka'b bin 'Ujrah who said: The Messenger of Allah (ﷺ) came to me while I was lighting a fire under a pot, and lice were falling on my face, or on my eye-brows. He said: 'Are your lice bothering you?' [He said:] I said: 'Yes.' He said: 'Then shave your head and offer a sacrifice, or fast three days, or feed six needy people.' Ayyub said: I do not know which of them he started with.
کعب بن عجرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے۔ اس وقت میں ایک ہانڈی کے نیچے آگ جلا رہا تھا اور جوئیں میری پیشانی یا بھوؤں پر بکھر رہی تھیں، آپ نے فرمایا: ”کیا تمہارے سر کی جوئیں تمہیں تکلیف پہنچا رہی ہیں؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”اپنا سر مونڈ ڈالو اور بدلہ میں قربانی کر دو، یا تین دن روزہ رکھ لو، یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو“۔ ایوب ( راوی ) کہتے ہیں: مجھے یاد نہیں رہا کہ ( میرے استاذ نے ) کون سی چیز پہلے بتائی۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔