TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Chapters on tafsir - کتاب: تفسیر قرآن کریم - Book 48 of Jam e Tirmazi with Urdu and English Translation

Book 48 of Jam e Tirmazi, with 93 chapters and 420 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

420 Hadith · 93 Chapters
باب: سورۃ الاحزاب سے بعض آیات کی تفسیر
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ البَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيّ، فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ:‏‏‏‏ مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ سورة الأحزاب آية 40، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَا كَانَ لِيَعِيشَ لَهُ فِيكُمْ وَلَدٌ ذَكَرٌ.
Narrated Dawud bin Abi Hind: from Ash-Sha'bi regarding the saying of Allah [the Mighty and Sublime]: 'Muhammad is not the father of any one of your men (33:40)' he said: No male children of his would live among them.
عامر شعبی اللہ کے اس قول «ما كان محمد أبا أحد من رجالكم» ” ( لوگو! ) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نہیں“ ( الاحزاب: ۴۰ ) ، کے بارے میں کہتے ہیں: اس سے مراد زندہ نہ رہنے والی نرینہ اولاد ہے ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف
Explanation
وضاحت: ۱؎ : ورنہ نرینہ اولاد تو آپ کے یہاں بھی پیدا ہوئی ہے۔
3210
Zaeef
باب: سورۃ الاحزاب سے بعض آیات کی تفسیر
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ حُسَيْنٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ أُمِّ عُمَارَةَ الْأَنْصَارِيَّةِ، أَنَّهَا أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ مَا أَرَى كُلَّ شَيْءٍ إِلَّا لِلرِّجَالِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَا أَرَى النِّسَاءَ يُذْكَرْنَ بِشَيْءٍ، ‏‏‏‏‏‏فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ:‏‏‏‏ إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ سورة الأحزاب آية 35 الْآيَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّمَا نَعْرِفُ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
Narrated Umm 'Umarah Al-Ansariyyah: that she came to the Prophet (ﷺ) and said: I do not see bu that everything is for the men, and I do not see anything being mentioned for the women. So this Ayah was revealed: 'Indeed the Muslim men and the Muslim women, the believing men and the believing women... (33:35)'
ام عمارہ انصاریہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا: کیا بات ہے میں ہر چیز مردوں ہی کے لیے دیکھتی ہوں اور عورتوں کا ( قرآن میں ) کہیں ذکر نہیں ملتا؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی «إن المسلمين والمسلمات والمؤمنين والمؤمنات» آخر آیت تک۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، اور یہ حدیث صرف اسی سند سے جانی جاتی ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ۱۸۳۳۷)
3211
Sahih
باب: سورۃ الاحزاب سے بعض آیات کی تفسیر
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:‏‏‏‏ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةَ:‏‏‏‏ وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى النَّاسَ سورة الأحزاب آية 37 فِي شَأْنِ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ جَاءَ زَيْدٌ يَشْكُو، ‏‏‏‏‏‏فَهَمَّ بِطَلَاقِهَا، ‏‏‏‏‏‏فَاسْتَأْمَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّهَ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated Anas: When this Ayah was revealed: 'But you did hide in yourself that which Allah will make manifest... (33:37)' about Zainab bint Jahsh, Zaid had come to the Prophet (ﷺ) complaining, and he wanted to divorce her, so he consulted with the Prophet (ﷺ). The Prophet (ﷺ) said: 'Keep your wife to yourself, and have Taqwa of Allah (33:37).'
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ آیت «وتخفي في نفسك ما الله مبديه وتخشى الناس» ”تم اس چیز کو اپنے جی میں چھپا کر رکھ رہے ہو جس کو اللہ ظاہر کرنے والا ہے، اور تم ( اللہ سے ڈرنے کی بجائے ) لوگوں سے ڈر رہے ہو“ ( الاحزاب: ۳۷ ) ، زینب بنت جحش رضی الله عنہا کی شان میں نازل ہوئی ہے ( ان کے شوہر ) زید شکایت لے کر ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ) آئے اور انہوں نے زینب کو طلاق دینے کا ارادہ کر لیا، اس پر انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشورہ لیا تو آپ نے فرمایا: «أمسك عليك زوجك واتق الله» ”اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھو ( طلاق نہ دو ) اور اللہ سے ڈرو ( الاحزاب: ۳۷ ) “ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/تفسیر الأحزاب ۶ (۴۷۸۷)، والتوحید ۲۲ (۷۴۲۰) (تحفة الأشراف : ۲۹۶)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : یہاں ایک جھوٹی روایت لوگوں نے گھڑ رکھی ہے کہ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل میں ان کی بات چھپا رکھی تھی وہ یہ کہ وہ زینب سے محبت کرتے تھے اور خود ان سے شادی چاہتے تھے اس لیے چاہتے تھے کہ زید جلد طلاق دے دیں معاذاللہ، حالانکہ جس بات کے چھپانے کی طرف اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اشارہ کر رہا ہے، وہ یہ تھی کہ : اچھا ہوتا کہ زید زینب کو نہیں چھوڑتے، ورنہ بحکم الٰہی زینب سے مجھے ہی شادی کرنی ہو گی، تب لوگ کہیں گے : لو محمد نے اپنے لے پالک بیٹے کی مطلقہ سے شادی کر لی (یہ چیز ان کے یہاں معیوب سمجھی جاتی تھی) اسی کو اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ ایک دن اللہ اس کو ظاہر کر دے گا، اس شادی میں سماج سے ایک غلط روایت کو دور کرنا ہے، اور لوگوں کو صحیح بات بتانی ہے کہ لے پالک بیٹا صلبی بیٹا نہیں ہوتا کہ اس کی مطلقہ یا بیوہ حرام ہو جائے، اسی طرح لے پالک سے، دیگر خونی معاملات میں حرمت و حلت کی بات صحیح نہیں ہے۔
3212
Sahih
باب: سورۃ الاحزاب سے بعض آیات کی تفسیر
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:‏‏‏‏ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ فَلَمَّا قَضَى زَيْدٌ مِنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنَاكَهَا سورة الأحزاب آية 37 قَالَ:‏‏‏‏ فَكَانَتْ تَفْخَرُ عَلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏تَقُولُ:‏‏‏‏ زَوَّجَكُنَّ أَهْلُكُنَّ، ‏‏‏‏‏‏وَزَوَّجَنِي اللَّهُ مِنْ فَوْقِ سَبْعِ سَمَاوَاتٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated Anas: When this Ayah was revealed about Zainab bint Jahsh: 'So when Zaid had completed his aim with her, We gave her to you in marriage (33:37)' - he said: She used to boast to the wives of the Prophet (ﷺ): 'Your families married you (to him) while Allah married me (to him) from above the Seven Heavens.'
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب یہ آیت «فلما قضى زيد منها وطرا زوجناكها» ”زید نے جب ان سے اپنی حاجت پوری کر لی ( انہیں طلاق دے دی ) تو ہم نے تمہاری شادی اس سے کر دی“ ( الاحزاب: ۳۷ ) ، زینب بنت جحش رضی الله عنہا کے بارے میں اتری ہے۔ انس کہتے ہیں: چنانچہ اسی بناء پر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری بیویوں پر یہ کہہ کر فخر کرتی تھیں کہ تمہاری شادیاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تمہارے گھر والوں ( رشتہ داروں ) نے کی ہیں، اور میری شادی تو اللہ نے آپ سے ساتویں آسمان پر کر دی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/التوحید ۲۲ (۷۴۲۱)، سنن النسائی/النکاح ۲۶ (۳۲۵۴) (تحفة الأشراف : ۳۰۷، و مسند احمد (۳/۲۲۶)
3213
Sahih
باب: سورۃ الاحزاب سے بعض آیات کی تفسیر
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ السُّدِّيِّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَتْ:‏‏‏‏ خَطَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَاعْتَذَرْتُ إِلَيْهِ فَعَذَرَنِي، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى:‏‏‏‏ إِنَّا أَحْلَلْنَا لَكَ أَزْوَاجَكَ اللَّاتِي آتَيْتَ أُجُورَهُنَّ وَمَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْكَ وَبَنَاتِ عَمِّكَ وَبَنَاتِ عَمَّاتِكَ وَبَنَاتِ خَالِكَ وَبَنَاتِ خَالاتِكَ اللَّاتِي هَاجَرْنَ مَعَكَ وَامْرَأَةً مُؤْمِنَةً إِنْ وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِيِّ سورة الأحزاب آية 50 الْآيَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ فَلَمْ أَكُنْ أَحِلُّ لَهُ لِأَنِّي لَمْ أُهَاجِرْ، ‏‏‏‏‏‏كُنْتُ مِنَ الطُّلَقَاءِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ السُّدِّيِّ.
Narrated Umm Hani bint Abu Talib: The Messenger of Allah (ﷺ) proposed to me, but I asked him to excuse me. Then Allah [Most High] revealed: 'Verily We have made lawful to you your wives, to whom you have paid their due, and those whom your right hand possess - whom Allah has given to you, and the daughters of your paternal uncles, and the daughters of your paternal aunts, and the daughters of your maternal uncles, and the daughters of your maternal aunts, who migrated with you, and a believing woman if she offers herself to the Prophet... (33:50)' She said: So I was not lawful for him because I did not perform Hijrah; I was one of the Tulaqa (those that accepted Islam after the conquest of Makkah).'
ام ہانی بنت ابی طالب رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے شادی کا پیغام دیا، تو میں نے آپ سے معذرت کر لی ۱؎ تو آپ نے میری معذرت قبول کر لی، پھر اللہ نے یہ آیت «إنا أحللنا لك أزواجك اللاتي آتيت أجورهن وما ملكت يمينك مما أفاء الله عليك وبنات عمك وبنات عماتك وبنات خالك وبنات خالاتك اللاتي هاجرن معك وامرأة مؤمنة إن وهبت نفسها للنبي» ”اے نبی ہم نے تیرے لیے تیری وہ بیویاں حلال کر دی ہیں جنہیں تو ان کے مہر دے چکا ہے اور وہ لونڈیاں بھی جو اللہ نے غنیمت میں تجھے دی ہیں اور تیرے چچا کی لڑکیاں اور پھوپھیوں کی بیٹیاں اور تیرے ماموؤں کی بیٹیاں اور تیری خالاؤں کی بیٹیاں بھی جنہوں نے تیرے ساتھ ہجرت کی ہے اور وہ باایمان عورت جو اپنا نفس نبی کو ہبہ کر دے“ ( الاحزاب: ۵۰ ) ، نازل فرمائی ام ہانی کہتی ہیں کہ اس آیت کی رو سے میں آپ کے لیے حلال نہیں ہوئی کیونکہ میں نے ہجرت نہیں کی تھی میں ( فتح مکہ کے موقع پر ) «الطلقاء» آزاد کردہ لوگوں میں سے تھی، ( اور اسی موقع پر ایمان لائی تھی ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے اور ہم اس کو سُدّی کی روایت صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ۱۷۹۹۹)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : یہ معذرت اس وجہ سے تھی کہ ان کے پاس چھوٹے چھوٹے بچے تھے اور وہ اس بات سے ڈریں کہ ان کے رونے پیٹنے سے کہیں آپ کو تکلیف نہ ہو۔
3214
Zaeef
باب: سورۃ الاحزاب سے بعض آیات کی تفسیر
حَدَّثَنَا عَبْدٌ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ بَهْرَامَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا نُهِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَصْنَافِ النِّسَاءِ إِلَّا مَا كَانَ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ الْمُهَاجِرَاتِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لا يَحِلُّ لَكَ النِّسَاءُ مِنْ بَعْدُ وَلا أَنْ تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ أَزْوَاجٍ وَلَوْ أَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ إِلا مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ سورة الأحزاب آية 52 فَأَحَلَّ اللَّهُ فَتَيَاتِكُمُ الْمُؤْمِنَاتِ وَامْرَأَةً مُؤْمِنَةً إِنْ وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِيِّ سورة الأحزاب آية 50، ‏‏‏‏‏‏وَحَرَّمَ كُلَّ ذَاتِ دِينٍ غَيْرَ الْإِسْلَامِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ وَمَنْ يَكْفُرْ بِالإِيمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ وَهُوَ فِي الآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ سورة المائدة آية 5 وَقَالَ:‏‏‏‏ يَأَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَحْلَلْنَا لَكَ أَزْوَاجَكَ اللَّاتِي آتَيْتَ أُجُورَهُنَّ وَمَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْكَ إِلَى قَوْلِهِ خَالِصَةً لَكَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ سورة الأحزاب آية 50 وَحَرَّمَ مَا سِوَى ذَلِكَ مِنْ أَصْنَافِ النِّسَاءِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ بَهْرَامَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ الْحَسَنِ يَذْكُرُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا بَأْسَ بِحَدِيثِ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ بَهْرَامَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ.
Narrated Ibn 'Abbas: All types of women were prohibited for the Messenger of ALlah (ﷺ) except for the believing women among those who emigrated. (Allah) said: 'It is not lawful for you (to marry other) women after this, nor to change them for other wives even though their beauty attracts you, except those whom your right hand possesses (33:52). - And Allah made your believing girls lawful 'And a believing woman if she offers herself to the Prophet (33:50)' and He made every woman of a religion other than Islam unlawful. Then He said: And whoever disbelieves in faith then fruitless is his work; and in the Hereafter he will be among the losers (5:5). And he said: Verily We have made lawful to you your wives, to whom you have paid their due, and those whom your right hands possess - whom Allah has given you up to His saying: A privilege to only you, not for the (rest of) the believers (33:50). He made the other types of women unlawful.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مومن اور مہاجر عورتوں کے سوا دوسری عورتوں سے شادی کرنے سے روک دیا گیا، ( جیسا کہ ) اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ” «لا يحل لك النساء من بعد ولا أن تبدل بهن من أزواج ولو أعجبك حسنهن إلا ما ملكت يمينك» ”آپ کے لیے آج کے بعد کوئی عورت حلال نہیں، اور آپ کے لیے یہ بھی حلال نہیں کہ موجودہ بیویوں میں سے کسی بیوی کو ہٹا کر من بھائی عورت سے شادی کر لیں، سوائے ان لونڈیوں کے جن کے آپ مالک بن جائیں“ ( الاحزاب: ۵۲ ) ، اللہ نے ( نبی کے لیے ) تمہاری جوان مومن مسلمان عورتیں حلال کر دی ہیں۔ «وامرأة مؤمنة إن وهبت نفسها للنبي» ”اور وہ ایمان والی عورت بھی اللہ نے حلال کر دی ہیں جو اپنے آپ کو نبی کو پیش کر دے“، اور اسلام کے سوا ہر دین والی عورت کو حرام کر دیا ہے۔ پھر اللہ نے فرمایا: ” «ومن يكفر بالإيمان فقد حبط عمله وهو في الآخرة من الخاسرين» ”جو ایمان کا منکر ہوا اس کا عمل ضائع گیا، اور وہ آخرت میں گھاٹا اٹھانے والوں میں سے ہو گا“ ( المائدہ: ۵ ) ، اور اللہ نے یہ بھی فرمایا ہے «يا أيها النبي إنا أحللنا لك أزواجك اللاتي آتيت أجورهن وما ملكت يمينك مما أفاء الله عليك» سے لے کر «خالصة لك من دون المؤمن» ”اے نبی! ہم نے تیرے لیے تیری وہ بیویاں حلال کر دی ہیں جن کے مہر تم نے ادا کیے ہیں اور وہ باندیاں تمہارے لیے حلال کر دی ہیں جو اللہ نے تمہیں بطور مال فیٔ ( غنیمت ) میں عطا فرمائی ہیں“ ( الاحزاب: ۵۰ ) ، تک، یہ حکم تمہارے لیے خاص ہے ۱؎ اور دوسرے مومنین کے لیے نہیں ( ان کا نکاح بغیر مہر کے نہیں ہو سکتا ) ان کے علاوہ عورتوں کی اور قسمیں حرام کر دی گئی ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے۔ ہم اسے عبدالحمید بن بہرام کی روایت ہی سے جانتے ہیں، ۲- احمد بن حنبل کہتے ہیں: عبدالحمید بن بہرام کی شہر بن حوشب سے روایات کے لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ۵۶۸۳)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : اس خاص حکم سے مراد یہ ہے کہ نبی کے سوا کسی اور مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ بغیر مہر اور بغیر ولی کے عورت سے شادی کر لے، اپنے آپ کو بغیر مہر کے ہبہ کرنا صرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص ہے، اس کا تعلق چچا زاد، پھوپھی زاد خالہ زاد اور ماموں زاد بہنوں سے شادی سے نہیں ہے، جبکہ اس دور کے بعض متجددین نے یہ شوشہ چھوڑا ہے۔
3215
Zaeef
باب: سورۃ الاحزاب سے بعض آیات کی تفسیر
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَتْ عَائِشَةُ:‏‏‏‏ مَا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أُحِلَّ لَهُ النِّسَاءُ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated 'Aishah: The Messenger of Allah (ﷺ) did not die until the women had been made lawful for him.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے پہلے آپ کے لیے سب عورتیں حلال ہو چکی تھیں ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/النکاح ۲ (۳۲۰۶، ۳۲۰۷) (تحفة الأشراف : ۷۳۷۹)، وسنن الدارمی/النکاح ۴۴ (۲۲۸۷)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : یعنی پچھلی حدیث میں مذکور حرام کردہ عورتیں بعد میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حلال کر دی گئیں تھیں، یہ استنباط عائشہ رضی الله عنہا یا دیگر نے اس ارشاد باری سے کیا ہے، «ترجي من تشاء منهن وتؤوي إليك من تشاء» ” (اے ہمارے حبیب و خلیل نبی !) تمہیں یہ بھی اختیار ہے کہ تم ان عورتوں میں سے جس کو چاہو پیچھے رہنے دو (اس سے شادی نہ کرو یا موجود بیویوں میں سے جس کی چاہو باری ٹال دو) اور جس کو چاہو اپنے پاس جگہ دو، (گو اس کو باری نہ بھی ہو) “ (الأحزاب : 51)۔
3216
Sahih
باب: سورۃ الاحزاب سے بعض آیات کی تفسیر
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَشْهَلُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَاهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:‏‏‏‏ كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَى بَابَ امْرَأَةٍ عَرَّسَ بِهَا، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا عِنْدَهَا قَوْمٌ فَانْطَلَقَ فَقَضَى حَاجَتَهُ فَاحْتُبِسَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ رَجَعَ وَعِنْدَهَا قَوْمٌ فَانْطَلَقَ فَقَضَى حَاجَتَهُ فَرَجَعَ وَقَدْ خَرَجُوا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَدَخَلَ وَأَرْخَى بَيْنِي وَبَيْنَهُ سِتْرًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَذَكَرْتُهُ لِأَبِي طَلْحَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ لَئِنْ كَانَ كَمَا تَقُولُ لَيَنْزِلَنَّ فِي هَذَا شَيْءٌ، ‏‏‏‏‏‏فَنَزَلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَعَمْرُو بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏يُقَالُ لَهُ:‏‏‏‏ الْأَصْلَعُ.
Narrated Anas bin Malik: I was with the Prophet (ﷺ), and he came to the door of a woman with whom he had consummated marriage, and some people were with her. So, he left to fulfill his need, and was prevented (from her). Then he came back, and some people were still with her. Then he left to fulfill his need and came back and they had gone. He said: So, I mentioned that to Abu Talhah and he said: 'If it is as you say, something shall surely be revealed concerning this,' and the Verse of Hijab was revealed.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ آپ اپنی ایک بیوی کے کمرے کے دروازہ پر تشریف لائے جن کے ساتھ آپ کو رات گزارنی تھی، وہاں کچھ لوگوں کو موجود پایا تو آپ وہاں سے چلے گئے، اور اپنا کچھ کام کاج کیا اور کچھ دیر رکے رہے، پھر آپ دوبارہ لوٹ کر آئے تو لوگ وہاں سے جا چکے تھے، انس رضی الله عنہ کہتے ہیں: پھر آپ اندر چلے گئے اور ہمارے اور اپنے درمیان پردہ ڈال دیا ( لٹکا دیا ) میں نے اس بات کا ذکر ابوطلحہ سے کیا: تو انہوں نے کہا اگر بات ایسی ہی ہے جیسا تم کہتے ہو تو اس بارے میں کوئی نہ کوئی حکم ضرور نازل ہو گا، پھر آیت حجاب نازل ہوئی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے غریب ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف، وراجع: صحیح البخاری/النکاح ۶۷ (۵۱۶۶)، والأطعمة ۵۹ (۵۴۶۶)، والاستئذان ۱۰ (۶۲۳۸)، وصحیح مسلم/النکاح ۱۵ (۱۴۲۸) (تحفة الأشراف : ۱۱۰۹)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : آیت حجاب سے مراد یہ آیت ہے «يا أيها الذين آمنوا لا تدخلوا بيوت النبي إلا أن يؤذن لكم» سے «إن ذلكم كان عند الله عظيما» تک ” یعنی اے ایمان والو ! نبی کے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو، الا یہ کہ تمہیں کھانے کے لیے اجازت دی جائے، لیکن تم پہلے ہی اس کے پکنے کا انتظار نہ کرو، بلکہ جب بلایا جائے تو داخل ہو جاؤ اور جب کھا چکو تو فوراً منتشر ہو جاؤ، …اور جب تم امہات المؤمنین سے کوئی سامان مانگو تو پردے کی اوٹ سے مانگو … “ (الأحزاب : 53)۔
3217
Sahih
باب: سورۃ الاحزاب سے بعض آیات کی تفسیر
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، عَنِ الْجَعْدِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ بِأَهْلِهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَصَنَعَتْ أُمِّي أُمُّ سُلَيْمٍ حَيْسًا فَجَعَلَتْهُ فِي تَوْرٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ يَا أَنَسُ اذْهَبْ بِهَذَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْ لَهُ:‏‏‏‏ بَعَثَتْ إِلَيْكَ بِهَا أُمِّي وَهِيَ تُقْرِئُكَ السَّلَامَ، ‏‏‏‏‏‏وَتَقُولُ:‏‏‏‏ إِنَّ هَذَا لَكَ مِنَّا قَلِيلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَذَهَبْتُ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ إِنَّ أُمِّي تُقْرِئُكَ السَّلَامَ، ‏‏‏‏‏‏وَتَقُولُ:‏‏‏‏ إِنَّ هَذَا مِنَّا لَكَ قَلِيلٌ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ ضَعْهُ ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ اذْهَبْ فَادْعُ لِي فُلَانًا وَفُلَانًا وَفُلَانًا وَمَنْ لَقِيتَ فَسَمَّى رِجَالًا ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَدَعَوْتُ مَنْ سَمَّى وَمَنْ لَقِيتُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ لِأَنَسٍ عَدَدُ كَمْ كَانُوا ؟ قَالَ:‏‏‏‏ زُهَاءَ ثَلَاثِ مِائَةٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يَا أَنَسُ هَاتِ التَّوْرَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَدَخَلُوا حَتَّى امْتَلَأَتْ الصُّفَّةُ وَالْحُجْرَةُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لِيَتَحَلَّقْ عَشَرَةٌ عَشَرَةٌ، ‏‏‏‏‏‏وَلْيَأْكُلْ كُلُّ إِنْسَانٍ مِمَّا يَلِيهِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَخَرَجَتْ طَائِفَةٌ وَدَخَلَتْ طَائِفَةٌ حَتَّى أَكَلُوا كُلُّهُمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَقَالَ لِي:‏‏‏‏ يَا أَنَسُ، ‏‏‏‏‏‏ارْفَعْ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَرَفَعْتُ فَمَا أَدْرِي حِينَ وَضَعْتُ كَانَ أَكْثَرَ أَمْ حِينَ رَفَعْتُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَجَلَسَ مِنْهُمْ طَوَائِفُ يَتَحَدَّثُونَ فِي بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ وَزَوْجَتُهُ مُوَلِّيَةٌ وَجْهَهَا إِلَى الْحَائِطِ، ‏‏‏‏‏‏فَثَقُلُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ عَلَى نِسَائِهِ ثُمَّ رَجَعَ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا رَأَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَجَعَ ظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ ثَقُلُوا عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَابْتَدَرُوا الْبَابَ فَخَرَجُوا كُلُّهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَرْخَى السِّتْرَ وَدَخَلَ وَأَنَا جَالِسٌ فِي الْحُجْرَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمْ يَلْبَثْ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى خَرَجَ عَلَيَّ وَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَاتُ، ‏‏‏‏‏‏فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَهُنَّ عَلَى النَّاسِ:‏‏‏‏ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ وَلَكِنْ إِذَا دُعِيتُمْ فَادْخُلُوا فَإِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوا وَلا مُسْتَأْنِسِينَ لِحَدِيثٍ إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ يُؤْذِي النَّبِيَّ سورة الأحزاب آية 53 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ الْجَعْدُ:‏‏‏‏ قَالَ أَنَسٌ:‏‏‏‏ أَنَا أَحْدَثُ النَّاسِ عَهْدًا بِهَذِهِ الْآيَاتِ، ‏‏‏‏‏‏وَحُجِبْنَ نِسَاءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْجَعْدُ هُوَ ابْنُ عُثْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏وَيُقَالُ:‏‏‏‏ هُوَ ابْنُ دِينَارٍ، ‏‏‏‏‏‏وَيُكْنَى أَبَا عُثْمَانَ بَصْرِيٌّ وَهُوَ ثِقَةٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏رَوَى عَنْهُ يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَشُعْبَةُ وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ.
Narrated Al-Ja'd bin Abi 'Uthman: from Anas bin Malik: The Messenger of Allah (ﷺ) got married, and he went in with his wife. He said: So my mother, Umm Sulaim prepared some Hais in a Tawr (a vessel made of brass and stone) and said: 'O Anas! Take this to the Prophet (ﷺ).' I said to him: 'My mother sent this to you, and she conveys her Salam, and says: 'This is a little something from us for you.' He said: 'Put it down.' Then he said: 'Go and invite so-and-so, so-and-so, and so-and-so for me, and whomever you meet.' He named some people, and said: I invited those he named, and whomever I met. - He (Al-Ja'd) said: I said to Anas: 'How many of you were there?' He said: 'Roughly about three-hundred.' - He (Anas) said: The Messenger of Allah (ﷺ) said to me: 'O Anas! Bring me the Tawr.' He said: They entered until the Suffah (a shaded part of the Masjid in Al-Madinah) and the apartment were full. The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Let groups of ten in, and let each person eat what is near him.' He said: They ate until they were full. He said: A group exited, and another group entered, until all of them ate.' He said: He said to me: 'O Anas! Remove it.' He said: So I took it. I could not tell if there was more when I first put it down, or when I picked it up. He said: Groups of them sat talking in the house of the Messenger of Allah (ﷺ), while the Messenger of Allah (ﷺ) and his wife sat facing the wall. They began to be burdensome on the Messenger of Allah (ﷺ), so the Messenger of Allah (ﷺ) went out to greet his women folk, then he returned, they realized that they had overburdened him, so they hastened for the gate and all of them exited. The Messenger of Allah (ﷺ) came until he lowered the curtain, and entered while I was sitting in the apartment. He did not remain there long before he left me, and these Ayat were revealed. So the Messenger of Allah (ﷺ) went out to recite them to the people: 'O you who believe! Do not enter the Prophet's house unless permission is given to you for a meal, not to wait for its preparation. But when you are invited, enter, and when you have taken your meals, dispense without sitting for a talk. Verily, such annoys the Prophet...' till the end of the Ayah (33:53)' Al-Ja'd said: Anas said: 'I am the earliest of the people to encounter these Ayat, and to be screened from the wives of the Prophet (ﷺ).
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کیا اور اپنی بیوی ( زینب بنت جحش رضی الله عنہا ) کے پاس تشریف لے گئے، اس موقع پر میری ماں ام سلیم رضی الله عنہا نے حیس ۱؎ تیار کیا، اسے ایک چھوٹے برتن میں رکھا، پھر ( مجھ سے ) کہا: ( بیٹے ) انس! اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور آپ سے کہو: اسے میری امی جان نے آپ کے پاس بھیجا ہے اور انہوں نے آپ کو سلام عرض کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ تھوڑا سا ہدیہ میری طرف سے آپ کی خدمت میں پیش ہے، اللہ کے رسول! میں اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، میں نے عرض کیا: میری امی جان آپ کو سلام کہتی ہیں اور کہتی ہیں: یہ میری طرف سے آپ کے لیے تھوڑا سا ہدیہ ہے۔ آپ نے فرمایا: ”اسے رکھ دو“، پھر فرمایا: ”جاؤ فلاں فلاں، اور فلاں کچھ لوگوں کے نام لیے اور جو بھی تمہیں ملے سب کو میرے پاس بلا کر لے آؤ“، انس کہتے ہیں: جن کے نام آپ نے لیے تھے انہیں اور جو بھی مجھے آتے جاتے ملا اسے بلا لیا، راوی جعد بن عثمان کہتے ہیں: میں نے انس رضی الله عنہ سے پوچھا: کتنے لوگ رہے ہوں گے؟ انہوں نے کہا: تقریباً تین سو، انس رضی الله عنہ کہتے ہیں: پھر مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انس «تَور» پیالہ لے آؤ“۔ انس کہتے ہیں: لوگ اندر آئے یہاں تک کہ صفہ ( چبوترہ ) اور کمرہ سب بھر گیا، آپ نے فرمایا: ”دس دس افراد کی ٹولی بنا لو اور ہر شخص اپنے قریب سے کھائے“، لوگوں نے پیٹ بھر کر کھایا، ایک ٹولی ( کھا کر ) باہر جاتی اور دوسری ٹولی ( کھانے کے لیے ) اندر آ جاتی اس طرح سبھی نے کھا لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کہا: ”انس: اب ( برتن ) اٹھا لو“۔ میں نے ( پیالہ ) اٹھا لیا، مگر ( صحیح صحیح ) بتا نہ پاؤں گا کہ جب میں نے پیالہ لا کر رکھا تھا تب اس میں حیس زیادہ تھا یا جب اٹھایا تھا تب؟ کچھ لوگ کھانے سے فارغ ہو کر آپ کے گھر میں بیٹھ کر آپس میں باتیں کرنے لگ گئے۔ ( انہوں نے کچھ بھی خیال نہ کیا کہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہیں اور آپ کی اہلیہ محترمہ دیوار کی طرف منہ پھیرے بیٹھی ہیں، وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بوجھ بن گئے، آپ وہاں سے اٹھ کر اپنی دوسری بیویوں کی طرف چلے گئے اور انہیں سلام کیا ( مزاج پرسی کی ) اور پھر لوٹ آئے، جب لوگوں نے دیکھا کہ آپ لوٹ آئے ہیں تو انہیں احساس و گمان ہوا کہ وہ لوگ آپ کے لیے باعث اذیت بن گئے ہیں، تو وہ لوگ تیزی سے دروازہ کی طرف بڑھے اور سب کے سب باہر نکل گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے دروازہ کا پردہ گرا دیا اور خود اندر چلے گئے، میں کمرے میں بیٹھا ہوا تھا۔ تھوڑی ہی دیر بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور آپ پر یہ آیتیں اتریں پھر آپ نے باہر آ کر لوگوں کو یہ آیتیں «يا أيها الذين آمنوا لا تدخلوا بيوت النبي إلا أن يؤذن لكم إلى طعام غير ناظرين إناه ولكن إذا دعيتم فادخلوا فإذا طعمتم فانتشروا ولا مستأنسين لحديث إن ذلكم كان يؤذي النبي» ”اے ایمان والو! جب تک تمہیں اجازت نہ دی جائے تم نبی کے گھروں میں نہ جایا کرو کھانے کے لیے ایسے وقت میں کہ اس کے پکنے کا انتظار کرتے رہو، بلکہ جب بلایا جائے تب جاؤ اور جب کھا چکو نکل کھڑے ہو، وہیں باتوں میں مشغول نہ ہو جایا کرو، نبی کو تمہاری اس بات سے تکلیف ہوتی ہے“ ( الاحزاب: ۵۳ ) ، آخر تک پڑھ کر سنائیں۔ میں ان آیات سے سب سے پہلا واقف ہونے والا ہوں، اور اسی وقت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں پردہ کرنے لگیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- جعد: عثمان کے بیٹے ہیں، اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ دینار کے بیٹے ہیں اور ان کی کنیت ابوعثمان بصریٰ ہے، اور یہ محدثین کے نزدیک ثقہ ( قوی ) ہیں، ان سے یونس بن عبید، شعبہ اور حماد بن زید نے روایت کی ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/النکاح ۶۵ (تعلیقا) صحیح مسلم/النکاح ۱۵ (۱۴۲۱/۹۴)، وانظر ماقبلہ (تحفة الأشراف : ۵۱۳)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : حیس ایک قسم کا کھانا ہے جو کھجور، گھی اور ستو سے تیار کیا جاتا ہے۔
3218
Sahih
باب: سورۃ الاحزاب سے بعض آیات کی تفسیر
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ مُجَالِدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ بَيَانٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ بَنَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِامْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَرْسَلَنِي فَدَعَوْتُ قَوْمًا إِلَى الطَّعَامِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا أَكَلُوا وَخَرَجُوا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْطَلِقًا قِبَلَ بَيْتِ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَرَأَى رَجُلَيْنِ جَالِسَيْنِ فَانْصَرَفَ رَاجِعًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَامَ الرَّجُلَانِ فَخَرَجَا، ‏‏‏‏‏‏فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ:‏‏‏‏ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ سورة الأحزاب آية 53 ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ بَيَانٍ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ هَذَا الْحَدِيثَ بِطُولِهِ.
Narrated Anas bin Malik: The Messenger of Allah (ﷺ) was staying with one of his wives, so he sent me to invite people for a meal. When they ate and left, the Messenger of Allah (ﷺ) stood and went off in the direction of 'Aishah's house. He saw two men (still) sitting, so he turned to come back, then the two men stood up to leave. So Allah [the Mighty and Sublime] revealed: 'O you who believe! Do not enter the Prophet's house unless permission is given to you for a meal, not to wait for its preparation (33:53). And there is a long story with the narration.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں میں سے ایک بیوی کے ساتھ شادی والی رات گزاری، پھر آپ نے مجھے کچھ لوگوں کو کھانے پر بلانے کے لیے بھیجا۔ جب لوگ کھا پی کر چلے گئے، تو آپ اٹھے، عائشہ رضی الله عنہا کے گھر کا رخ کیا پھر آپ کی نظر دو بیٹھے ہوئے آدمیوں پر پڑی۔ تو آپ ( فوراً ) پلٹ پڑے ( انہیں اس کا احساس ہو گیا ) وہ دونوں اٹھے اور وہاں سے نکل گئے۔ اسی موقع پر اللہ عزوجل نے آیت «يا أيها الذين آمنوا لا تدخلوا بيوت النبي إلا أن يؤذن لكم إلى طعام غير ناظرين إناه» نازل فرمائی، اس حدیث میں ایک طویل قصہ ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- بیان کی روایت سے یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ثابت نے انس کے واسطہ سے یہ حدیث پوری کی پوری بیان کی ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/النکاح ۶۹ (۵۱۷۰)، وانظر ماقبلہ (تحفة الأشراف : ۲۵۷)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : یہ قصہ پچھلی حدیث میں گزرا۔
3219
Sahih
باب: سورۃ الاحزاب سے بعض آیات کی تفسیر
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيَّ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ الَّذِي كَانَ أُرِيَ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ أَخْبَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي مَجْلِسِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُ بَشِيرُ بْنُ سَعْدٍ:‏‏‏‏ أَمَرَنَا اللَّهُ أَنْ نُصَلِّيَ عَلَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَمَنَّيْنَا أَنَّهُ لَمْ يَسْأَلْهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ قُولُوا:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ فِي الْعَالَمِينَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالسَّلَامُ كَمَا قَدْ عُلِّمْتُمْ ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي الْبَابِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي حُمَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَكَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَطَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَزَيْدِ بْنِ خَارِجَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَيُقَالُ:‏‏‏‏ ابْنُ جَارِيَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَبُرَيْدَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated Abu Mas'ud Al-Ansari: The Messenger of Allah (ﷺ) came to us while we were sitting in a gathering of Sa'd bin 'Ubadah. Bashir bin Sa'd said: 'Allah ordered us to say Salat upon you, so how do we say Salat upon you?' The Messenger of Allah (ﷺ) was silent, until we thought that we had not even asked him. Then the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Say: O Allah! Send Salat upon Muhammad and upon Muhammad's family just as you have sent [upon Ibrahim and] upon Ibrahim's family. And bless Muhammad and Muhammad's family just as you have blessed [Ibrahim and] Ibrahim's family among the nations. Indeed you are praised, the glorious.' And the Salam is as you have learned.'
ابومسعود انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم سعد بن عبادہ کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ سے بشیر بن سعد نے کہا: اللہ نے ہمیں آپ پر صلاۃ ( درود ) بھیجنے کا حکم دیا ہے۔ تو ہم کیسے آپ پر صلاۃ ( درود ) بھیجیں، راوی کہتے ہیں: آپ ( یہ سن کر ) خاموش رہے۔ یہاں تک کہ ہم سوچنے لگے کہ انہوں نے نہ پوچھا ہوتا تو ہی ٹھیک تھا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہو: «اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم وبارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم في العالمين إنك حميد مجيد» اور سلام تو ویسا ہی ہے جیسا کہ تم ( التحیات میں ) جانتے ہو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی، ابوحمید، کعب بن عجرہ اور طلحہ بن عبیداللہ اور ابو سعید خدری اور زید بن خارجہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ اور زید کو ابن جاریہ اور ابن بریدہ بھی کہا جاتا ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة ۱۷ (۴۰۵)، سنن ابی داود/ الصلاة ۱۸۳ (۹۸۰)، سنن النسائی/السھو ۴۹ (۱۲۸۶) (تحفة الأشراف : ۱۰۰۰۷)، موطا امام مالک/ صلاة السفر ۲۲ (۶۷)، و مسند احمد (۵/۲۷۴)، وسنن الدارمی/الصلاة ۸۵ (۱۳۸۲)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : مولف یہ حدیث ارشاد باری تعالیٰ «إن الله وملائكته يصلون على النبي يا أيها الذين آمنوا صلوا عليه وسلموا تسليما» (الأحزاب : ۵۶) کے تفسیر میں ذکر کی ہے۔
3220
Sahih
باب: سورۃ الاحزاب سے بعض آیات کی تفسیر
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ عَوْفٍ، عَنِ الْحَسَنِ، وَمُحَمَّدٍ، وَخِلَاسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَنَّ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام كَانَ رَجُلًا حَيِيًّا سَتِيرًا مَا يُرَى مِنْ جِلْدِهِ شَيْءٌ اسْتِحْيَاءً مِنْهُ، ‏‏‏‏‏‏فَآذَاهُ مَنْ آذَاهُ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ مَا يَسْتَتِرُ هَذَا السِّتْرَ إِلَّا مِنْ عَيْبٍ بِجِلْدِهِ، ‏‏‏‏‏‏إِمَّا بَرَصٌ، ‏‏‏‏‏‏وَإِمَّا أُدْرَةٌ، ‏‏‏‏‏‏وَإِمَّا آفَةٌ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَرَادَ أَنْ يُبَرِّئَهُ مِمَّا قَالُوا، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام خَلَا يَوْمًا وَحْدَهُ فَوَضَعَ ثِيَابَهُ عَلَى حَجَرٍ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ اغْتَسَلَ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا فَرَغَ أَقْبَلَ إِلَى ثِيَابِهِ لِيَأْخُذَهَا، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّ الْحَجَرَ عَدَا بِثَوْبِهِ فَأَخَذَ مُوسَى عَصَاهُ فَطَلَبَ الْحَجَرَ، ‏‏‏‏‏‏فَجَعَلَ يَقُولُ:‏‏‏‏ ثَوْبِي حَجَرُ ثَوْبِي حَجَرُ، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى انْتَهَى إِلَى مَلَإٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَرَأَوْهُ عُرْيَانًا أَحْسَنَ النَّاسِ خَلْقًا، ‏‏‏‏‏‏وَأَبْرَأَهُ مِمَّا كَانُوا يَقُولُونَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَقَامَ الْحَجَرُ فَأَخَذَ ثَوْبَهُ وَلَبِسَهُ وَطَفِقَ بِالْحَجَرِ ضَرْبًا بِعَصَاهُ فَوَاللَّهِ إِنَّ بِالْحَجَرِ لَنَدَبًا مِنْ أَثَرِ عَصَاهُ ثَلَاثًا أَوْ أَرْبَعًا أَوْ خَمْسًا فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى:‏‏‏‏ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَى فَبَرَّأَهُ اللَّهُ مِمَّا قَالُوا وَكَانَ عِنْدَ اللَّهِ وَجِيهًا سورة الأحزاب آية 69 . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَفِيهِ عَنْ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
Narrated Abu Hurairah: that the Prophet (ﷺ) said: Verily Musa, peace be upon him, was a shy and modest man, who would never show anything of his skin out of modesty. Some of the Children of Isra'il annoyed him by saying: 'He only keeps himself covered because of some defect in his skin, either leprosy, a scrotal hernia or some other defect.' Allah [the Mighty and Sublime] wanted to free Musa from what they were saying about him. One day Musa, [peace be upon him], was alone. He took off his garment, and put it on a rock, then he took a bath. When he had finished, he turned back to pick up his garment, but the rock moved away, taking his garment with it. Musa picked up his staff, and chased the rock saying: 'My garment, O you rock! My garment, O you rock!' Until he reached a group of the Children of Isra'il who saw him naked, and discovered that he was the best of those whom Allah had created. He said: The rock stood still, he took his garment and put it on. He started striking the rock with his staff, and by Allah, the marks of that beating were left on the rock; three, four, or five. This is what is referred to in the Ayah: ' O you who believe! Be not like those who annoyed Musa, but Allah freed him from what they had alleged, and he was honourable before Allah (33:69).'
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”موسیٰ علیہ السلام باحیاء، پردہ پوش انسان تھے، ان کے بدن کا کوئی حصہ ان کے شرما جانے کے ڈر سے دیکھا نہ جا سکتا تھا، مگر انہیں تکلیف پہنچائی جس کسی بھی اسرائیلی نے تکلیف پہنچائی، ان لوگوں نے کہا: یہ شخص ( اتنی زبردست ) ستر پوشی محض اس وجہ سے کر رہا ہے کہ اسے کوئی جلدی بیماری ہے: یا تو اسے برص ہے، یا اس کے خصیے بڑھ گئے ہیں، یا اسے کوئی اور بیماری لاحق ہے۔ اللہ نے چاہا کہ ان پر جو تہمت اور جو الزامات لگائے جا رہے ہیں ان سے انہیں بری کر دے۔ ( تو ہوا یوں کہ ) موسیٰ علیہ السلام ایک دن تنہا تھے، کپڑے اتار کر ایک پتھر پر رکھ کر نہانے لگے، جب نہا چکے اور اپنے کپڑے لینے کے لیے آگے بڑھے تو پتھر ان کے کپڑے لے کر بھاگا۔ موسیٰ علیہ السلام نے اپنی لاٹھی اٹھائی، پتھر کو بلانے اور کہنے لگے «ثوبي حجر ثوبي حجر» ”پتھر: میرا کپڑا دے، پتھر! میرا کپڑا دے“ اور یہ کہتے ہوئے پیچھے پیچھے دوڑتے رہے یہاں تک کہ وہ پتھر بنی اسرائیل کی ایک جماعت ( ایک گروہ ) کے پاس جا پہنچا، دوسروں نے انہیں ( مادر زاد ) ننگا اپنی خلقت و بناوٹ میں لوگوں سے اچھا دیکھا۔ اللہ نے انہیں ان تمام عیبوں اور خرابیوں سے پاک و صاف دکھا دیا جو عیب وہ ان میں بتا رہے تھے“۔ آپ نے فرمایا: ”پھر وہ پتھر رک گیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے اپنے کپڑے لے کر پہن لیے، پھر اپنی لاٹھی سے پتھر کو پیٹنے لگے۔ تو قسم اللہ کی پتھر پر لاٹھی کی مار سے تین، چار یا پانچ چوٹ کے نشان تھے۔ یہی مطلب ہے اللہ تعالیٰ کی اس آیت «يا أيها الذين آمنوا لا تكونوا كالذين آذوا موسى فبرأه الله مما قالوا وكان عند الله وجيها» ”اے ایمان لانے والو! تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے موسیٰ علیہ السلام کو اپنے جھوٹے الزامات سے تکلیف پہنچائی، تو اللہ نے انہیں اس تہمت سے بری قرار دیا، وہ اللہ کے نزدیک بڑی عزت و مرتبت والا تھا“ ( الاحزاب: ۶۹ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث کئی سندوں سے ابوہریرہ رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے، اور اس میں ایک حدیث انس کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء ۲۸ (۳۴۰۴)، وتفسیر سورة الأحزاب ۱۱ (۴۷۹۹) (تحفة الأشراف : ۱۲۲۴۲، و۱۲۳۰۲، و۱۴۴۸۰)
3221
Sahih
باب: سورۃ سبا سے بعض آیات کی تفسیر
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَعَبْدُ بْنُ حميد، وغير واحد، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحَكَمِ النَّخَعِيِّ، قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي أَبُو سَبْرَةَ النَّخَعِيُّ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ مُسَيْكٍ الْمُرَادِيِّ، قَالَ:‏‏‏‏ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَلَا أُقَاتِلُ مَنْ أَدْبَرَ مِنْ قَوْمِي بِمَنْ أَقْبَلَ مِنْهُمْ ؟ فَأَذِنَ لِي فِي قِتَالِهِمْ وَأَمَّرَنِي، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا خَرَجْتُ مِنْ عِنْدِهِ، ‏‏‏‏‏‏سَأَلَ عَنِّي:‏‏‏‏ مَا فَعَلَ الْغُطَيْفِيُّ ؟ فَأُخْبِرَ أَنِّي قَدْ سِرْتُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَأَرْسَلَ فِي أَثَرِي فَرَدَّنِي، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ ادْعُ الْقَوْمَ، ‏‏‏‏‏‏فَمَنْ أَسْلَمَ مِنْهُمْ فَاقْبَلْ مِنْهُ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ لَمْ يُسْلِمْ فَلَا تَعْجَلْ حَتَّى أُحْدِثَ إِلَيْكَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَأُنْزِلَ فِي سَبَإٍ مَا أُنْزِلَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَجُلٌ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا سَبَأٌ أَرْضٌ أَوِ امْرَأَةٌ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ لَيْسَ بِأَرْضٍ وَلَا امْرَأَةٍ، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنَّهُ رَجُلٌ وَلَدَ عَشْرَةً مِنَ الْعَرَبِ فَتَيَامَنَ مِنْهُمْ سِتَّةٌ وَتَشَاءَمَ مِنْهُمْ أَرْبَعَةٌ، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَّا الَّذِينَ تَشَاءَمُوا:‏‏‏‏ فَلَخْمٌ، ‏‏‏‏‏‏وَجُذَامُ، ‏‏‏‏‏‏وَغَسَّانُ، ‏‏‏‏‏‏وَعَامِلَةُ، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا الَّذِينَ تَيَامَنُوا:‏‏‏‏ فَالْأُزْدُ، ‏‏‏‏‏‏وَالْأَشْعَرِيُّونَ، ‏‏‏‏‏‏وَحِمْيَرٌ، ‏‏‏‏‏‏وَكِنْدَةُ، ‏‏‏‏‏‏وَمَذْحِجٌ، ‏‏‏‏‏‏وَأنْمَارٌ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَجُلٌ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَا أَنْمَارُ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ الَّذِينَ مِنْهُمْ خَثْعَمُ، ‏‏‏‏‏‏وَبَجِيلَةُ ، ‏‏‏‏‏‏وَرُوِيَ هَذَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
Narrated Farwah bin Musaik Al-Muradi: I went to the Prophet (ﷺ) and said: 'O Messenger of Allah! Shall I not fight those who turn away among my people, along with those who believe? So he permitted me to fight them and made me their commander.' When I left him, he asked me, saying: 'What has Al-Ghutaifi done?' He was informed that I set off on my journey. He said: So he sent a message on my route that I should return. I went to him and he was with a group of his Companions. He said: 'Invite your people. Whoever accepts Islam among them then accept it from him. And whoever does not accept Islam, then do not be hasty until new news reaches you.' He said: And what was revealed about Saba was revealed, so a man said: 'O Messenger of Allah! What is Saba; is it a land or a woman?' He said: 'It is neither a land nor a woman, but it is a man who had ten sons among the Arabs. Six of them went south (in Yemen) and four of them went north (toward Ash-Sham). As for those who went north, they are Lakhm, Judham, Ghassan and 'Amilah. As for those who sent south, they are Azad, Al-'Ash'ariyyun, Himyar, Kindah, Madhhij, and Anmar.' A man said: 'O Messenger of Allah! Who are Anmar?' He said: 'Those among whom are Khath'am and Bajilah.' [This Hadith has been related from Ibn 'Abbas from the Prophet (ﷺ)].
فروہ بن مسیک مرادی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میں اپنی قوم کے ان لوگوں کے ساتھ مل کر جو ایمان لے آئے ہیں ان لوگوں سے نہ لڑوں جو ایمان نہیں لائے ہیں، تو آپ نے مجھے ان سے لڑنے کی اجازت دے دی، اور مجھے میری قوم کا امیر بنا دیا، جب میں آپ کے پاس سے اٹھ کر چلا گیا تو آپ نے میرے متعلق پوچھا کہ غطیفی نے کیا کیا؟ آپ کو بتایا گیا کہ میں تو جا چکا ہوں، مجھے لوٹا لانے کے لیے میرے پیچھے آپ نے آدمی دوڑائے، تو میں آپ کے پاس آ گیا، آپ اس وقت اپنے کچھ صحابہ کے درمیان تشریف فرما تھے، آپ نے فرمایا: ”لوگوں کو تم دعوت دو، تو ان میں سے جو اسلام لے آئے اس کے اسلام و ایمان کو قبول کر لو، اور جو اسلام نہ لائے تو اس کے معاملے میں جلدی نہ کرو، یہاں تک کہ میں تمہیں نیا ( و تازہ ) حکم نہ بھیجوں“۔ راوی کہتے ہیں: سبا کے متعلق ( کلام پاک میں ) جو نازل ہوا سو ہوا ( اسی مجلس کے ) ایک شخص نے پوچھا: اللہ کے رسول! سبا کیا ہے، سبا کوئی سر زمین ہے، یا کسی عورت کا نام ہے؟ آپ نے فرمایا: ”وہ نہ کوئی ملک ہے اور نہ ہی وہ کسی عورت کا نام بلکہ سبا نام کا ایک عربی شخص تھا جس کے دس بچے تھے، جن میں سے چھ کو اس نے باعث خیر و برکت جانا اور چار سے بدشگونی لی ( انہیں منحوس جانا ) تو جنہیں اس نے منحوس سمجھا وہ: لخم، جذام، غسان اور عاملہ ہیں، اور جنہیں مبارک سمجھا وہ ازد، اشعری، حمیر، مذحج، انمار اور کندہ ہیں“، ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! انمار کون سا قبیلہ ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اسی قبیلہ کی شاخیں خشعم اور بجیلہ ہیں“۔ یہ حدیث ابن عباس سے مروی ہے، وہ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ الحروف ۲۰ (۳۹۸۸) (تحفة الأشراف : ۱۱۰۲۳)
3222
Sahih
باب: سورۃ سبا سے بعض آیات کی تفسیر
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِذَا قَضَى اللَّهُ فِي السَّمَاءِ أَمْرًا ضَرَبَتِ الْمَلَائِكَةُ بِأَجْنِحَتِهَا خُضْعَانًا لِقَوْلِهِ، ‏‏‏‏‏‏كَأَنَّهَا سِلْسِلَةٌ عَلَى صَفْوَانٍ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ ؟ قَالُوا:‏‏‏‏ الْحَقَّ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَالشَّيَاطِينُ بَعْضُهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated Abu Hurairah: that the Prophet (ﷺ) said: When Allah decrees a matter in the Heavens, the angels beat their wings in submission to His saying, (sounding) as if it is a chain (being dragged) upon a rock. When the fear resides from their hearts, they say (to each other): 'What did your Lord say?' They reply: 'The truth, and He is the Most High the Great (34:23).' He said: 'And the Shayatin are one atop another.'
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ آسمان پر کسی معاملے کا حکم و فیصلہ صادر فرماتا ہے تو فرشتے عجز و انکساری کے ساتھ ( حکم برداری کے جذبہ سے ) اپنے پر ہلاتے ہیں۔ ان کے پر ہلانے سے پھڑپھڑانے کی ایسی آواز پیدا ہوتی ہے تو ان زنجیر پتھر پر گھسٹ رہی ہے، پھر جب ان کے دلوں کی گھبراہٹ جاتی رہتی ہے تو وہ ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں: تمہارے رب نے کیا فرمایا ہے؟ وہ جواب دیتے ہیں: حق بات کہی ہے۔ وہی بلند و بالا ہے“، آپ نے فرمایا: ”شیاطین ( زمین سے آسمان تک ) یکے بعد دیگرے ( اللہ کے احکام اور فیصلوں کو اچک کر اپنے چیلوں تک پہنچانے کے لیے تاک و انتظار میں ) لگے رہتے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/تفسیر سورة الحجر ۱ (۴۷۰۱)، والتوحید ۳۲ (۷۴۸۱)، سنن ابی داود/ الحروف ۲۱ (۳۹۸۹)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ۱۳ (۱۹۴) (تحفة الأشراف : ۱۴۲۴۹)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : یہ ارشاد باری تعالیٰ «ولا تنفع الشفاعة عنده إلا لمن أذن له حتى إذا فزع عن قلوبهم قالوا ماذا قال ربكم قالوا الحق وهو العلي الكبير» (سبأ : 23) کی طرف اشارہ ہے۔
3223
Sahih
باب: سورۃ سبا سے بعض آیات کی تفسیر
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:‏‏‏‏ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ إِذْ رُمِيَ بِنَجْمٍ فَاسْتَنَارَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَا كُنْتُمْ تَقُولُونَ لِمِثْلِ هَذَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِذَا رَأَيْتُمُوهُ ؟ قَالُوا:‏‏‏‏ كُنَّا نَقُولُ:‏‏‏‏ يَمُوتُ عَظِيمٌ أَوْ يُولَدُ عَظِيمٌ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ فَإِنَّهُ لَا يُرْمَى بِهِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنَّ رَبَّنَا عَزَّ وَجَلَّ إِذَا قَضَى أَمْرًا سَبَّحَ لَهُ حَمَلَةُ الْعَرْشِ ثُمَّ سَبَّحَ أَهْلُ السَّمَاءِ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ حَتَّى يَبْلُغَ التَّسْبِيحُ إِلَى هَذِهِ السَّمَاءِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ سَأَلَ أَهْلُ السَّمَاءِ السَّادِسَةِ أَهْلَ السَّمَاءِ السَّابِعَةِ:‏‏‏‏ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ فَيُخْبِرُونَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَسْتَخْبِرُ أَهْلُ كُلِّ سَمَاءٍ حَتَّى يَبْلُغَ الْخَبَرُ أَهْلَ السَّمَاءِ الدُّنْيَا، ‏‏‏‏‏‏وَتَخْتَطِفُ الشَّيَاطِينُ السَّمْعَ فَيُرْمَوْنَ فَيَقْذِفُونَهُ إِلَى أَوْلِيَائِهِمْ فَمَا جَاءُوا بِهِ عَلَى وَجْهِهِ فَهُوَ حَقٌّ وَلَكِنَّهُمْ يُحَرِّفُونَهُ وَيَزِيدُونَ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated Ibn 'Abbas: We were with the Messenger of Allah (ﷺ), while he was sitting with a group of his Companions, when they saw a glowing shooting star. The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'When you saw the likes of this during Jahiliyyah, what would you say about it?' They said: 'We would say that a great man died, or that a great man has been born.' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'It is not shot due to the death of anyone, nor his coming into life. Rather when our Lord [Blessed is His Name and Most High] decrees a matter, He is glorified by the bearers of the Throne. Then He is glorified by the inhabitants who are below them, then those below them, until such glorification reaches this Heaven. Then the inhabitants of the sixth Heaven ask the inhabitants of the seventh Heaven: What did your Lord say? He said: 'So they inform them; then the inhabitants of each Heaven seek the information, until the news is conveyed to the inhabitants of the Heavens of the earth. The Shayatin try to overhear so they are shot at, so they cast it down to their friends. Whatever they came with is true, as it is, but they distort it and add to it.'
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کی ایک جماعت میں تشریف فرما تھے کہ یکایک ایک تارہ ٹوٹا جس سے روشنی پھیل گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے پوچھا: ”زمانہ جاہلیت میں جب تم لوگ ایسی کوئی چیز دیکھتے تو کیا کہتے تھے؟“ انہوں نے کہا: ہم کہتے تھے کوئی بڑا آدمی مرے گا یا کوئی بڑی شخصیت جنم لے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کسی کے مرنے کی وجہ سے نہیں ٹوٹتا، بلکہ اللہ بزرگ و برتر جب کسی امر کا فیصلہ کرتا ہے تو عرش کو اٹھانے والے فرشتے تسبیح و تہلیل کرتے ہیں، پھر ان سے قریبی آسمان کے فرشتے تسبیح کرتے ہیں، پھر ان سے قریبی، اس طرح تسبیح کا یہ غلغلہ ہمارے اس آسمان تک آ پہنچتا ہے، چھٹے آسمان والے فرشتے ساتویں آسمان والے فرشتوں سے پوچھتے ہیں: تمہارے رب نے کیا کہا ہے؟ ( کیا حکم صادر فرمایا ہے؟ ) تو وہ انہیں بتاتے ہیں، پھر اسی طرح ہر نیچے آسمان والے اوپر کے آسمان والوں سے پوچھتے ہیں، اس طرح بات دنیا سے قریبی آسمان والوں تک آ پہنچتی ہے۔ اور کی جانے والی بات چیت کو شیاطین اچک لیتے ہیں۔ ( جب وہ اچکنے کی کوشش کرتے ہیں تو سننے سے باز رکھنے کے لیے تارہ پھینک کر ) انہیں مارا جاتا ہے اور وہ اسے ( اچکی ہوئی بات کو ) اپنے یاروں ( کاہنوں ) کی طرف پھینک دیتے ہیں تو وہ جیسی ہے اگر ویسی ہی اسے پہنچاتے ہیں تو وہ حق ہوتی ہے، مگر لوگ اسے بدل دیتے اور گھٹا بڑھا دیتے ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ۶۲۸۵)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : مولف نے یہ حدیث سابقہ آیت ہی کی تفسیر میں ذکر کی ہے۔
3224
Sahih
باب: سورۃ فاطر (ملائکہ) سے بعض آیات کی تفسیر
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَيْزَارِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا مِنْ ثَقِيفٍ يُحَدِّثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَجُلٍ مِنْ كِنَانَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ:‏‏‏‏ ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ سورة فاطر آية 32 قَالَ:‏‏‏‏ هَؤُلَاءِ كُلُّهُمْ بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ وَكُلُّهُمْ فِي الْجَنَّةِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
Narrated Abu Sa'eed Al-Khudri: from the Prophet (ﷺ), that he said about this Ayah: 'Then We gave the Book the as inheritance to such of Our worshipers whom We chose. Then of them are some who wrong themselves, and of them are some who follow a middle course, and of them are some who are, by Allah's Leave, foremost in good deeds (35:32). He said: All of these people are of the same rank, and all of them are in Paradise.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت «ثم أورثنا الكتاب الذين اصطفينا من عبادنا فمنهم ظالم لنفسه ومنهم مقتصد ومنهم سابق بالخيرات» ”پھر ہم نے اللہ کے حکم سے کتاب کا وارث ان لوگوں کو بنا دیا جن کو ہم نے اپنے بندوں میں سے منتخب کیا تھا، تو ان میں سے بعض تو خود اپنے آپ پر ظلم کرنے والے ہیں، اور بعض میانہ روی اختیار کرنے والے ہیں اور ان میں سے بعض نیکی و بھلائی کے کاموں میں سبقت لے جانے والے لوگ ہیں“ ( فاطر: ۳۲ ) ، کے سلسلے میں فرمایا: ”یہ سب ایک ہی درجے میں ہوں گے اور یہ سب کے سب جنت میں جانے والے لوگ ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ۴۴۴۶)
3225
Sahih
باب: سورۃ یس سے بعض آیات کی تفسیر
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَزِيرٍ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ:‏‏‏‏ كَانَتْ بَنُو سَلِمَةَ فِي نَاحِيَةِ الْمَدِينَةِ فَأَرَادُوا النُّقْلَةَ إِلَى قُرْبِ الْمَسْجِدِ، ‏‏‏‏‏‏فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةَ:‏‏‏‏ إِنَّا نَحْنُ نُحْيِي الْمَوْتَى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوا وَآثَارَهُمْ سورة يس آية 12، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ آثَارَكُمْ تُكْتَبُ فَلَا تَنْتَقِلُوا ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو سُفْيَانَ هُوَ طَرِيفٌ السَّعْدِيُّ.
Narrated Abu Sa'eed Al-Khudri: Banu Salamah's dwellings were on the outskirts of Al-Madinah, so they wanted to relocate closer to the Masjid. Then this Ayah was revealed: 'Verily, We give life to the dead, and We record that which they send before (them), and their traces... (36:12)' So the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Your steps are recorded, so do not relocate.'
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ بنو سلمہ ( قبیلہ کے لوگ ) مدینہ کے کسی نواحی علاقہ میں رہتے تھے۔ انہوں نے وہاں سے منتقل ہو کر مسجد ( نبوی ) کے قریب آ کر آباد ہونے کا ارادہ کیا تو یہ آیت «إنا نحن نحي الموتى ونكتب ما قدموا وآثارهم» ”ہم مردوں کو زندہ کرتے ہیں اور وہ جو آگے بھیجتے ہیں اسے ہم لکھ لیتے ہیں اور ( مسجد کی طرف آنے و جانے والے ) آثار قدم بھی ہم ( گن کر ) لکھ لیتے ہیں“ ( یس: ۱۲ ) نازل ہوئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے قدم لکھے جاتے ہیں، اس لیے تم اپنے گھر نہ بدلو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ثوری سے مروی یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ۴۳۵۸)
3226
Sahih
باب: سورۃ یس سے بعض آیات کی تفسیر
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ:‏‏‏‏ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَتَدْرِي يَا أَبَا ذَرٍّ أَيْنَ تَذْهَبُ هَذِهِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَإِنَّهَا تَذْهَبُ فَتَسْتَأْذِنُ فِي السُّجُودِ فَيُؤْذَنُ لَهَا، ‏‏‏‏‏‏وَكَأَنَّهَا قَدْ قِيلَ لَهَا اطْلَعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ فَتَطْلُعُ مِنْ مَغْرِبِهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ثُمَّ قَرَأَ وَذَلِكَ مُسْتَقَرٌّ لَهَا ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَذَلِكَ فِي قِرَاءَةِ عَبْدِ اللَّهِ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated Abu Dharr: I entered the Masjid when the sun had set, and the Prophet (ﷺ) was sitting. He said: 'O Abu Dharr! Do you know where this goes?' I said: 'Allah and His Messenger know better.' He said: 'Indeed it goes to seek permission to prostrate, so it is permitted. And it is as if it has been said to it: Rise from its setting place.' Then he recited: 'That is its fixed course.' He said: That is the recitation of 'Abdullah bin Mas'ud.
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں مسجد میں سورج ڈوبنے کے وقت داخل ہوا، آپ وہاں تشریف فرما تھے۔ آپ نے فرمایا: ”ابوذر! کیا تم جانتے ہو یہ ( سورج ) کہاں جاتا ہے؟“، ابوذر کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول ہی کو معلوم، آپ نے فرمایا: ”وہ جا کر سجدہ کی اجازت مانگتا ہے تو اسے اجازت دے دی جاتی ہے تو ان اس سے کہا جاتا ہے وہیں سے نکلو جہاں سے آئے ہو۔ پھر وہ ( قیامت کے قریب ) اپنے ڈوبنے کی جگہ سے نکلے گا“۔ ابوذر کہتے ہیں: پھر آپ نے «وذلك مستقر لها» ”یہی اس کے ٹھہرنے کی جگہ ہے“ پڑھا۔ راوی کہتے ہیں: یہی عبداللہ بن مسعود کی قرأت ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم ۲۱۸۶
Explanation
وضاحت: ۱؎ : مشہور قراءت ہے «والشمس تجري لمستقر لها ذلك تقدير العزيز العليم» (یس : ۳۸)۔
3227
Sahih
باب: سورۃ الصافات سے بعض آیات کی تفسیر
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ بِشْرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَا مِنْ دَاعٍ دَعَا إِلَى شَيْءٍ إِلَّا كَانَ مَوْقُوفًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَازِمًا لَهُ لَا يُفَارِقُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ دَعَا رَجُلٌ رَجُلًا ثُمَّ قَرَأَ قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ:‏‏‏‏ وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْئُولُونَ ‏‏‏‏ 24 ‏‏‏‏ مَا لَكُمْ لا تَنَاصَرُونَ ‏‏‏‏ 25 ‏‏‏‏ سورة الصافات آية 24-25 . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
Narrated Anas bin Malik: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: No caller invites to anything except that he is detained along with, on the Day of Resurrection, without parting from it, even if a man invites another man. Then he recited the saying of Allah, the Mighty and Sublime: 'But stop them, verily they are to be questioned. What is the matter with you? Why do you not help one another (37:24 & 25).'
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کسی نے بھی کسی چیز کی طرف دعوت دی قیامت کے دن وہ اسی کے ساتھ چمٹا اور ٹھہرا رہے گا، وہ اسے چھوڑ کر آگے نہیں جا سکتا اگرچہ ایک آدمی نے ایک آدمی ہی کو بلایا ہو“ پھر آپ نے آیت «وقفوهم إنهم مسئولون ما لكم لا تناصرون» ”انہیں روک لو، ان سے پوچھا جائے گا: کیا بات ہے؟ تم لوگ ایک دوسرے کی مدد کیوں نہیں کرتے؟“ ( الصافات: ۲۴-۲۵ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ۲۴۸)
3228
Zaeef
باب: سورۃ الصافات سے بعض آیات کی تفسیر
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ:‏‏‏‏ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى:‏‏‏‏ وَأَرْسَلْنَاهُ إِلَى مِائَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ سورة الصافات آية 147 قَالَ:‏‏‏‏ عِشْرُونَ أَلْفًا . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
Narrated Ubayy bin Ka'b: I asked the Messenger of Allah (ﷺ) about the saying of Allah, Most High: 'And We sent him to a hundred thousand, or even more (37:147). He said: 'Twenty thousand (more).'
ابی بن کعب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آیت کریمہ: «وأرسلناه إلى مائة ألف أو يزيدون» ”ہم نے انہیں ( یعنی یونس کو ) ایک لاکھ بلکہ اس سے کچھ زیادہ کی طرف بھیجا“ ( الصافات: ۷۷ ) ، کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”ایک لاکھ بیس ہزار تھے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ۱۵)
3229
Zaeef

Chapters

93
01
باب: اپنی رائے سے قرآن کی تفسیر کرنے والے کا بیان
3 Hadith
02
باب: سورۃ فاتحہ سے بعض آیات کی تفسیر
2 Hadith
03
باب: سورۃ البقرہ سے بعض آیات کی تفسیر
38 Hadith
04
باب: سورۃ آل عمران سے بعض آیات کی تفسیر
22 Hadith
05
باب: سورۃ نساء سے بعض آیات کی تفسیر
28 Hadith
06
باب: سورۃ المائدہ سے بعض آیات کی تفسیر
21 Hadith
07
باب: سورۃ الانعام سے بعض آیات کی تفسیر
10 Hadith
08
باب: سورۃ الاعراف سے بعض آیات کی تفسیر
5 Hadith
09
باب: سورۃ الانفال سے بعض آیات کی تفسیر​
7 Hadith
10
باب: سورۃ التوبہ سے بعض آیات کی تفسیر
19 Hadith
11
باب: سورۃ یونس سے بعض آیات کی تفسیر
4 Hadith
12
باب: سورۃ ہود سے بعض آیات کی تفسیر
7 Hadith
13
باب: سورۃ یوسف سے بعض آیات کی تفسیر
1 Hadith
14
باب: سورۃ الرعد سے بعض آیات کی تفسیر
2 Hadith
15
باب: سورۃ ابراہیم سے بعض آیات کی تفسیر
3 Hadith
16
باب: سورۃ الحجر سے بعض آیات کی تفسیر
6 Hadith
17
باب: سورۃ النحل سے بعض آیات کی تفسیر
2 Hadith
18
باب: سورۃ بنی اسرائیل سے بعض آیات کی تفسیر
19 Hadith
19
باب: سورۃ الکہف سے بعض آیات کی تفسیر
6 Hadith
20
باب: سورۃ مریم سے بعض آیات کی تفسیر
8 Hadith
21
باب: سورۃ طہٰ سے بعض آیات کی تفسیر
1 Hadith
22
باب: سورۃ انبیاء سے بعض آیات کی تفسیر
4 Hadith
23
باب: سورۃ الحج سے بعض آیات کی تفسیر
5 Hadith
24
باب: سورۃ المومنون سے بعض آیات کی تفسیر
4 Hadith
25
باب: سورۃ النور سے بعض آیات کی تفسیر
5 Hadith
26
باب: سورۃ الفرقان سے بعض آیات کی تفسیر
2 Hadith
27
باب: سورۃ الشعراء سے بعض آیات کی تفسیر
3 Hadith
28
باب: سورۃ النمل سے بعض آیات کی تفسیر
1 Hadith
29
باب: سورۃ قص سے بعض آیات کی تفسیر
1 Hadith
30
باب: سورۃ العنکبوت کی بعض آیات کی تفسیر
2 Hadith
31
باب: سورۃ الروم سے بعض آیات کی تفسیر
4 Hadith
32
باب: سورۃ لقمان سے بعض آیات کی تفسیر
1 Hadith
33
باب: سورۃ السجدہ سے بعض آیات کی تفسیر
3 Hadith
34
باب: سورۃ الاحزاب سے بعض آیات کی تفسیر
23 Hadith
35
باب: سورۃ سبا سے بعض آیات کی تفسیر
3 Hadith
36
باب: سورۃ فاطر (ملائکہ) سے بعض آیات کی تفسیر
1 Hadith
37
باب: سورۃ یس سے بعض آیات کی تفسیر
2 Hadith
38
باب: سورۃ الصافات سے بعض آیات کی تفسیر
4 Hadith
39
باب: سورۃ ص سے بعض آیات کی تفسیر
4 Hadith
40
باب: سورۃ الزمر سے بعض آیات کی تفسیر
11 Hadith
41
باب: سورۃ مومن سے بعض آیات کی تفسیر
1 Hadith
42
باب: سورۃ حم سجدہ (سورۃ فصلت) سے بعض آیات کی تفسیر
3 Hadith
43
باب: سورۃ حم عسق (سورۃ شوریٰ) سے بعض آیات کی تفسیر
2 Hadith
44
باب: سورۃ الزخرف سے بعض آیات کی تفسیر
1 Hadith
45
باب: سورۃ الدخان سے بعض آیات کی تفسیر
2 Hadith
46
باب: سورۃ الاحقاف سے بعض آیات کی تفسیر
3 Hadith
47
باب: سورۃ محمد سے بعض آیات کی تفسیر
3 Hadith
48
باب: سورۃ الفتح سے بعض آیات کی تفسیر
4 Hadith
49
باب: سورۃ الحجرات سے بعض آیات کی تفسیر
6 Hadith
50
باب: سورۃ قٓ سے بعض آیات کی تفسیر
1 Hadith
51
باب: سورۃ الذاریات سے بعض آیات کی تفسیر
2 Hadith
52
باب: سورۃ الطور سے بعض آیات کی تفسیر
1 Hadith
53
باب: سورۃ النجم سے بعض آیات کی تفسیر
9 Hadith
54
باب: سورۃ القمر سے بعض آیات کی تفسیر
6 Hadith
55
باب: سورۃ الرحمن سے بعض آیات کی تفسیر
1 Hadith
56
باب: سورۃ الواقعہ سے بعض آیات کی تفسیر
6 Hadith
57
باب: سورۃ الحدید سے بعض آیات کی تفسیر
1 Hadith
58
باب: سورۃ المجادلہ سے بعض آیات کی تفسیر
3 Hadith
59
باب: سورۃ الحشر سے بعض آیات کی تفسیر
3 Hadith
60
باب: سورۃ الممتحنہ سے بعض آیات کی تفسیر
4 Hadith
61
باب: سورۃ الصف سے بعض آیات کی تفسیر
1 Hadith
62
باب: سورۃ الجمعہ سے بعض آیات کی تفسیر
2 Hadith
63
باب: سورۃ منافقین سے بعض آیات کی تفسیر
5 Hadith
64
باب: سورۃ التغابن سے بعض آیات کی تفسیر
1 Hadith
65
باب: سورۃ التحریم سے بعض آیات کی تفسیر
1 Hadith
66
باب: سورۃ نٓ والقلم سے بعض آیات کی تفسیر
1 Hadith
67
باب: سورۃ الحاقہ سے بعض آیات کی تفسیر
2 Hadith
68
باب: سورۃ المعارج سے بعض آیات کی تفسیر
1 Hadith
69
باب: سورۃ الجن سے بعض آیات کی تفسیر
2 Hadith
70
باب: سورۃ المدثر سے بعض آیات کی تفسیر
4 Hadith
71
باب: سورۃ القیامہ سے بعض آیات کی تفسیر
2 Hadith
72
باب: سورۃ عبس سے بعض آیات کی تفسیر
2 Hadith
73
باب: سورۃ «إذا الشمس کورت» سے بعض آیات کی تفسیر
1 Hadith
74
باب: سورۃ المطففین سے بعض آیات کی تفسیر
3 Hadith
75
باب: سورۃ «إذا السماء انشقت» سے بعض آیات کی تفسیر
2 Hadith
76
باب: سورۃ البروج سے بعض آیات کی تفسیر
2 Hadith
77
باب: سورۃ الغاشیہ سے بعض آیات کی تفسیر
1 Hadith
78
باب: سورۃ الفجر سے بعض آیات کی تفسیر
1 Hadith
79
باب: سورۃ «والشمس وضحاھا» سے بعض آیات کی تفسیر
1 Hadith
80
باب: سورۃ «واللیل إذا یغشی» سے بعض آیات کی تفسیر
1 Hadith
81
باب: سورۃ والضحی سے بعض آیات کی تفسیر
1 Hadith
82
باب: سورۃ الم نشرح سے بعض آیات کی تفسیر
1 Hadith
83
باب: سورۃ والتین سے بعض آیات کی تفسیر
1 Hadith
84
باب: سورۃ «اقرأ باسم ربک» سے بعض آیات کی تفسیر
2 Hadith
85
باب: سورۃ القدر سے بعض آیات کی تفسیر
2 Hadith
86
باب: سورۃ «لم یکن» سے بعض آیات کی تفسیر
1 Hadith
87
باب: سورۃ «إذا زلزلت» سے بعض آیات کی تفسیر
1 Hadith
88
باب: سورۃ اتکاثر سے بعض آیات کی تفسیر
5 Hadith
89
باب: سورۃ الکوثر سے بعض آیات کی تفسیر
3 Hadith
90
باب: سورۃ النصر سے بعض آیات کی تفسیر
1 Hadith
91
باب: سورۃ «تبت یدا» سے بعض آیات کی تفسیر
1 Hadith
92
باب: سورۃ الاخلاص سے بعض آیات کی تفسیر
2 Hadith
93
باب: معوذتین سے بعض آیات کی تفسیر
4 Hadith
No chapter matched that.