VerbPersonal Pronoun

سَأَلْتُمْ

you have asked (for)"

سوال کیا تم نے / مانگا تم نے

Verb Form 1
Perfect Tense Imperfect Tense Imperative Active Participle Passive Participle Noun Form
سَأَلَ
يَسْئَلُ
إْسْئَل،سَلْ
سَائِل
مَسْئُوْل
سُوَال
Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَلسُّؤالُ کے معنیٰ کسی چیز کی معرفت حاصل کرنے کی استدعا یا اس چیز کی استدعا کرنے کے ہیں جو مؤدی الی المعرفۃ ہو۔ نیز مال کی استدعا یا اس چیز کی استدعا کرنے کو بھی سُؤَالٌ کہا جاتا ہے جو موَدی المال ہو پھر کسی چیز کی معرفت کی استدعا کا جواب اصل میں تو زبان سے دیا جاتا ہے لیکن کتابت یا اشارہ اس کا قائم مقام بن سکتا ہے اور مال کی استدعا کا جواب اصل میں تو ہاتھ سے ہوتا ہے لیکن زبان سے وعدہ یا انکار اس کے قائم مقام بن سکتا ہے پھر اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ سوال کے معنیٰ استدعا معرفت کیسے صحیح ہوسکتے ہیں جب کہ یہ ثابت ہے کہ قیامت کے دن اﷲ تعالیٰ اپنے بندوں سے سوال کرے گا۔ جیسے فرمایا: (وَ اِذۡ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیۡسَی ابۡنَ مَرۡیَمَ ءَاَنۡتَ قُلۡتَ لِلنَّاسِ) (۵:۱۱۶) اور (اس وقت) کو بھی یاد رکھو۔ جب اﷲ فرمائے گا کہ اے عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ کا اپنے بندوں سے سوال کرنا کسی قسم کی معرفت حاصل کرنے کے لئے نہیں ہوگا اس لئے کہ وہ تو علام الغیوب ہے۔ (وَلَا تَخْفٰی عَلَیْہٖ خَافِیَۃٌ) بلکہ لوگوں کو بتلانے اور انہیں سرزنش کرنے کی غرض سے ہوگا لیکن پھر بھی یہ سوال عن المعرفۃ، کبھی کسی چیز سے آگاہی حاصل کرنے کے لئے ہوتا ہے اور کبھی محض سرزنش کے لئے جیساکہ قرآن پاک میں ہے: (وَ اِذَا الۡمَوۡءٗدَۃُ سُئِلَتۡ ۪) (۸۱:۸) جب لڑکی سے جو زندہ دفنائی گئی ہے پوچھا جائے گا۔ اور کبھی صرف مسؤل (جس سے سوال کیا جائے) کو جتلانے کے لئے (نہ کہ خود کسی چیز سے آگاہی حاصل کرنے کے لئے) اور سوال جب کسی چیز کی معرفت حاصل کرنے کے لئے ہو تو مفعول ثانی کی طرف کبھی تو وہ متعدی بنفسہٖ ہوتا ہے اور کبھی حرف جار کے ذریعہ چنانچہ تم کہوگے: سَأَلْتُہٗ کَذَا وَسَائَلْتُہٗ عَنْ کَذَا وَبِکَذَا: لیکن زیادہ تر بواسطۂ عن کے متعدی ہوتا ہے جیسے کہ قرآن پاک میں ہے: (وَ یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الرُّوۡحِ) (۱۷:۸۵) اور تم سے روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ (وَ یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنۡ ذِی الۡقَرۡنَیۡنِ) (۱۸:۸۳) اور تم سے ذی القرنین کے بارے میں دریافت کرتے ہیں۔ (یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الۡاَنۡفَالِ) (۸:۱) (اے محمد ﷺ! مجاہد لوگ) تم سے غنیمت کے مال کے بارے میں دریافت کرتے ہیں۔ اور فرمایا: (وَ اِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیۡ عَنِّیۡ) (۲:۱۸۶) اور (اے پیغمبر) جب تم سے میرے بندے میرے بارے میں دریافت کریں۔ (سَاَلَ سَآئِلٌۢ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ ) (۷۰:۱) ایک طلب کرنے والے نے عذاب طلب کیا جو نازل ہوکر رہے گا۔ اور جب سوال طلب مال کے لئے ہو تو وہ متعدی بنفسہٖ بھی ہوتا ہے۔ اور بذریعہ ’’مِنْ‘‘ کے بھی چناچنہ فرمایا: (وَ اِذَا سَاَلۡتُمُوۡہُنَّ مَتَاعًا فَسۡـَٔلُوۡہُنَّ مِنۡ وَّرَآءِ حِجَابٍ) (۳۳:۵۳) اور جب پیغمبروں کی بیویوں سے کوئی سامان مانگو تو پردے کے باہر سے مانگو۔ (وَ سۡـَٔلُوۡا مَاۤ اَنۡفَقۡتُمۡ وَ لۡیَسۡـَٔلُوۡا مَاۤ اَنۡفَقُوۡا) (۶۰:۱۰) اور جو کچھ تم نے ان پر خرچ کیا ہو تم ان سے طلب کرو۔ اور جو کچھ انہوں نے (اپنی عورتوں پر) خرچ کیا ہو وہ تم سے طلب کرلیں۔ (وَ سۡئَلُوا اللّٰہَ مِنۡ فَضۡلِہٖ) (۴:۳۲) اور خدا سے اس کا فضل (وکرم) مانگتے رہو۔ فقیر کو بھی جب وہ کسی چیز کی استدعا کرے تو اسے سائل کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ چنانچہ فرمایا: (وَ اَمَّا السَّآئِلَ فَلَا تَنۡہَرۡ ) (۹۳:۱۰) اور مانگنے والے کو جھڑکی نہ دینا۔ (لِّلسَّآئِلِ وَ الۡمَحۡرُوۡمِ) (۵۱:۱۹) مانگنے والے اور نہ مانگنے والے۔

Lemma/Derivative

106 Results
سَأَلَ
Surah:14
Verse:34
اس چیز میں سےمانگی تم نے اس سے
you asked of Him
Surah:15
Verse:92
البتہ ہم ضرور سوال کریں گے ان سے
surely We will question them
Surah:16
Verse:43
پس پوچھ لو
so ask
Surah:16
Verse:56
البتہ تم ضرور سوال کیے جاؤ گے
surely you will be asked
Surah:16
Verse:93
اور البتہ تم ضرور سوال کیے جاؤ گے
And surely you will be questioned
Surah:17
Verse:85
اور وہ سوال کرتے ہیں آپ سے
And they ask you
Surah:17
Verse:101
تو پوچھ لو
so ask
Surah:18
Verse:70
تم سوال کرنا مجھ سے
ask me
Surah:18
Verse:76
میں سوال کروں تجھ سے
I ask you
Surah:18
Verse:83
اور وہ سوال کرتے ہیں آپ سے
And they ask you