TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 5019 سنن ابوداؤد

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 3 of 9 in this chapter
CHAPTER: Regarding dreams.
باب: خواب کا بیان ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَيُّوبَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِذَا اقْتَرَبَ الزَّمَانُ لَمْ تَكَدْ رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ أَنْ تَكْذِبَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَصْدَقُهُمْ رُؤْيَا أَصْدَقُهُمْ حَدِيثًا، ‏‏‏‏‏‏وَالرُّؤْيَا ثَلَاثٌ:‏‏‏‏ فَالرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ بُشْرَى مِنَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَرُؤْيَا تَحْزِينٌ مِنَ الشَّيْطَانِ، ‏‏‏‏‏‏وَرُؤْيَا مِمَّا يُحَدِّثُ بِهِ الْمَرْءُ نَفْسَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مَا يَكْرَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَلْيَقُمْ فَلْيُصَلِّ وَلَا يُحَدِّثْ بِهَا النَّاسَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَأُحِبُّ الْقَيْدَ وَأَكْرَهُ الْغُلَّ، ‏‏‏‏‏‏وَالْقَيْدُ ثَبَاتٌ فِي الدِّينِ ،‏‏‏‏ قال أبو داود:‏‏‏‏ إِذَا اقْتَرَبَ الزَّمَانُ:‏‏‏‏ يَعْنِي إِذَا اقْتَرَبَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ:‏‏‏‏ يَعْنِي يَسْتَوِيَانِ.
Abu Hurairah reported the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم as saying: When the time draws near, a believer’s vision can hardly be false. The truer one of them is in his speech, the truer he is in his vision. Visions are of three types: Good visions are glad tidings from Allah, a terrifying vision caused by the devil, and the ideas which come from within a man. So when one sees anything he dislikes, he should get up and pray, and should not tell it to the people. He said: I like a fetter and dislike a shackle on the neck; a fetter indicates being firmly established in religion. Abu Dawud said: “when the time draws near” means that when the day and night are equal.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب زمانہ قریب ہو جائے گا، تو مومن کا خواب جھوٹا نہ ہو گا، اور ان میں سب سے زیادہ سچا خواب اسی کا ہو گا، جو ان میں گفتگو میں سب سے سچا ہو گا، خواب تین طرح کے ہوتے ہیں: بہتر اور اچھے خواب اللہ کی جانب سے خوشخبری ہوتے ہیں اور کچھ خواب شیطان کی طرف سے تکلیف و رنج کا باعث ہوتے ہیں، اور کچھ خواب آدمی کے دل کے خیالات ہوتے ہیں لہٰذا جب تم میں سے کوئی ( خواب میں ) ناپسندیدہ بات دیکھے تو چاہیئے کہ اٹھ کر نماز پڑھ لے اور اسے لوگوں سے بیان نہ کرے، فرمایا: میں قید ( پیر میں بیڑی پہننے ) کو ( خواب میں ) پسند کرتا ہوں اور غل ( گردن میں طوق ) کو ناپسند کرتا ہوں ۱؎ اور قید ( پیر میں بیڑی ہونے ) کا مطلب دین میں ثابت قدم ہونا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جب زمانہ قریب ہو جائے گا کا مطلب یہ ہے کہ جب رات اور دن قریب قریب یعنی برابر ہو جائیں۔
5019
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
Reference : Sunan Abi Dawud 5019 In-book reference : Book 43, Hadith 247 English translation : Book 42, Hadith 5001
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الرؤیا (۲۲۶۳)، سنن الترمذی/الرؤیا ۱ (۲۲۷۰)، سنن الدارمی/الرؤیا ۶ (۲۱۸۹)، (تحفة الأشراف: ۱۴۴۴۴)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/التعبیر ۲۶ (۷۰۷۱)
Explanation
شرح و تفصیل
وضاحت: ۱؎ : کیونکہ اس میں قرض دار رہنے یا کسی کے مظالم کا شکار بننے اور محکوم علیہ ہونے کی جانب اشارہ ہوتا ہے۔

Related Chapters

83
1
(1) CHAPTER. The commencement of the Divine Revelation to Allah's Messenger was in the form of good (righteous) dreams.
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کی ابتداء سچے خواب کے ذریعہ ہوئی
Sahih Bukhari
2
(2) CHAPTER. The dreams of righteous people (faithful believers).
صالحین کے خوابوں کا بیان
Sahih Bukhari
3
(3) CHAPTER. Good dreams are from Allah.
اچھا خواب اللہ کی طرف سے ہوتا ہے
Sahih Bukhari
4
(9) CHAPTER. The dreams of prisoners, evil-doers and Mushrikun.
قیدیوں اور اہل شرک وفساد کے خواب کا بیان
Sahih Bukhari
5
(11) CHAPTER. Night dreams.
رات کے خواب کا بیان
Sahih Bukhari
6
(12) CHAPTER. Dreams (while sleeping) in the daytime.
دن کے خواب کا بیان
Sahih Bukhari
7
(13) CHAPTER. The dreams of women.
عورتوں کے خواب کا بیان
Sahih Bukhari
8
(48) CHAPTER. The interpretation of dreams after the Fajr prayer.
صبح کی نماز کے بعد خواب کی تعبیر بیان کرنا
Sahih Bukhari
9
Chapter: Interpretation Of Dreams
خواب کی تعبیر:۔
Sahih Muslim
10
Chapter: The Dreams Of The Prophet (SAW)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خواب:۔
Sahih Muslim
11
CHAPTER: A Woman Has Dreams Like A Man Has Dreams.
باب: عورت کو مرد ہی کی طرح ( خواب میں ) احتلام ہوتا ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
12
Chapter: Dreams are of Three Types
خواب کی تین قسمیں ہیں
Sunnan Ibn e Maja
13
Chapter: How Should Dreams be Interpreted
خواب کی تعبیر کس طرح بیان کی جائے؟۔
Sunnan Ibn e Maja
14
Chapter: The People who see the Truest Dreams are those who are truest in speech
جو شخص جتنا ہی زیادہ سچا ہو گا اسی قدر اس کا خواب بھی سچا ہو گا
Sunnan Ibn e Maja
15
Chapter: Interpretation Of Dreams
خواب کی تعبیر کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
16
(90)Chapter: What Has Been Related About A Woman Who Sees In A Dream, Similar To What A Man Sees
باب: عورت کے خواب میں وہی چیز دیکھنے کا بیان جو مرد دیکھتا ہے
Jam e Tirmazi
17
باب: مومن کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے
Jam e Tirmazi
18
باب: خواب میں کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھنے پر کیا کرنا چاہئے؟
Jam e Tirmazi
19
باب: خواب کی تعبیر کا بیان
Jam e Tirmazi
20
باب: خوابوں کی تعبیر اور اچھے برے خواب کا بیان
Jam e Tirmazi
21
باب: خواب کے بارے میں جھوٹ بولنے والے کا بیان
Jam e Tirmazi
22
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا خواب میں دودھ اور قمیص دیکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
23
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا خواب میں ترازو اور ڈول دیکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What One Says Upon Seeing A Dream He Dislikes
باب: برے اور ناپسندیدہ خواب دیکھے تو کیا کہے؟
Jam e Tirmazi
25
اذان کی ابتدا کا بیان اور عبد اللہ بن زید کا خواب اور فجر میں’ ’اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ کی مشروعیت
Musnad Ahmad
26
ان دعاؤںکا بیان، جو نیند میں گھبراہٹ، بے خوابی اور وحشت کی صورت میں کی جائیںگی
Musnad Ahmad
27
اس چیز کا بیان کہ اچھا خواب نبوت کی خوشخبریوں میں سے ہے
Musnad Ahmad
28
اس امر کا بیان کہ مومن کا خواب نبوت کے اجزاء میں سے ہے
Musnad Ahmad
29
خوابوں کی اقسام اور اس چیز کا بیان کہ مکروہ خواب دیکھنے والا کیا کرے
Musnad Ahmad
30
خواب دیکھنے کے بہترین اوقات اور خواب کے بارے میں جان بوجھ کر جھوٹ بولنے والے کی وعید کا بیان
Musnad Ahmad
31
خوابوں کی تعبیر کا بیان
Musnad Ahmad
32
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خوابوں کا بیان
Musnad Ahmad
33
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا خواب میں اللہ تعالی کو دیکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
34
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس خواب کا بیان جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے غزوۂ احد سے قبل دیکھا تھا۔
Musnad Ahmad
35
سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا اپنے خواب کے بارے خطبہ اور اپنی وفات کے قریب ہونے کی صورت میں اس کی تعبیر کرنا
Musnad Ahmad
36
باب پنجم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے خواب کی تعبیر کا ثابت ہونا، عجمی کا ان پر حملہ کرنا، ان کی کچھ وصیتوں کا بیان، لوگوں کا ان کی تعریف کرنا اور ان کے پاس رونا اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا کسی خلیفہ نامزد نہ کرنا
Musnad Ahmad
37
فصل چہارم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا خواب اور اپنے قتل کے دن سے دوسروں کو مطلع کرنا اور شہادت کی تیاری اور صبر کا بیان
Musnad Ahmad
38
فصل سوم: سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت کے دن سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کا خواب
Musnad Ahmad
39
(10) CHAPTER. The Statement of Allah: “...And We made not the vision which We showed you [O Muhammad as an actual eye witness and not a dream on the night of Al-Isra], but a trial for the mankind...” (V.17:60)
آیت اور وہ خواب جو ہم نے تم کو دکھایا ہے ، اسے ہم نے صرف لوگوں کے لیے آزمائش بنایا ہے ، کی تفسیر
Sahih Bukhari
40
(4) CHAPTER. “A righteous good dream that comes true is one of the forty-six parts of An-Nubuwwa (Prophethood).”
اچھا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے
Sahih Bukhari
41
(8) CHAPTER. If a number of persons have the same dream.
خواب کا توارد یعنی ایک ہی خواب کئی آدمی دیکھیں
Sahih Bukhari
42
(10) CHAPTER. Whoever saw the Prophet in a dream.
جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا
Sahih Bukhari
43
(14) CHAPTER. A bad dream is from Satan.
دودھ کو خواب میں دیکھنا
Sahih Bukhari
44
(16) CHAPTER. (If one sees in a dream) that milk is flowing in his limbs or nails.
خواب میں قمیص دیکھنا
Sahih Bukhari
45
(17) CHAPTER. (The seeing of) a shirt in a dream.
خواب میں کرتے کا گھیسٹنا ۔
Sahih Bukhari
46
(18) CHAPTER. What is said as regards dragging (a long Shirt) on the ground in a dream.
خواب میں سبزی یا ہرا بھرا باغ دیکھنا
Sahih Bukhari
47
(20) CHAPTER. Removing the veil of a woman in a dream.
خواب میں عورت کا منہ کھولنا
Sahih Bukhari
48
(21) CHAPTER. The seeing of silken garments in a dream.
خواب میں ریشم کے کپڑے کا دیکھنا
Sahih Bukhari
49
(22) CHAPTER. The seeing of keys in one's hand (in a dream).
ہاتھ میں کنجیاں خواب میں دیکھنا
Sahih Bukhari
50
(23) CHAPTER. Taking hold or handhold or a ring.
کنڈے یا حلقے کو ( خواب میں ) پکڑ کر اس سے لٹک جانا
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

143
Jam e Tirmazi
2270
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِذَا اقْتَرَبَ الزَّمَانُ لَمْ تَكَدْ رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ تَكْذِبُ وَأَصْدَقُهُمْ رُؤْيَا أَصْدَقُهُمْ حَدِيثًا، ‏‏‏‏‏‏وَرُؤْيَا الْمُسْلِمِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ، ‏‏‏‏‏‏وَالرُّؤْيَا ثَلَاثٌ:‏‏‏‏ فَالرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ بُشْرَى مِنَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَالرُّؤْيَا مِنْ تَحْزِينِ الشَّيْطَانِ، ‏‏‏‏‏‏وَالرُّؤْيَا مِمَّا يُحَدِّثُ بِهَا الرَّجُلُ نَفْسَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مَا يَكْرَهُ فَلْيَقُمْ فَلْيَتْفُلْ وَلَا يُحَدِّثْ بِهَا النَّاسَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَأُحِبُّ الْقَيْدَ فِي النَّوْمِ وَأَكْرَهُ الْغُلَّ، ‏‏‏‏‏‏الْقَيْدُ ثَبَاتٌ فِي الدِّينِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said: When time draws near, the dreams of a believer will hardly ever fail to come true, and the most truthful of them in dreams will be the truest in speech among them. The dream of a Muslim is a portion among the forty-six portions of Prophet-hood. And dreams are of three types: The righteous dream which is good news from Allah, dreams in which the Shaithan frightens someone, and dreams about something that has happened to the man himself. So when one of you sees what he dislikes, then he should get up and spit, and not tell any of the people- he said:- and I like the fetters in a dream while I dislike the iron collar. And the interpretation of fetters is being firm in the religion .
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب زمانہ قریب ہو جائے گا ۱؎ تو مومن کے خواب کم ہی جھوٹے ہوں گے، ان میں سب سے زیادہ سچے خواب والا وہ ہو گا جس کی باتیں زیادہ سچی ہوں گی، مسلمان کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے ۲؎ خواب تین قسم کے ہوتے ہیں، بہتر اور اچھے خواب اللہ کی طرف سے بشارت ہوتے ہیں، کچھ خواب شیطان کی طرف سے تکلیف و رنج کا باعث ہوتے ہیں، اور کچھ خواب آدمی کے دل کے خیالات ہوتے ہیں، لہٰذا جب تم میں سے کوئی ایسا خواب دیکھے جسے وہ ناپسند کرتا ہے تو کھڑا ہو کر تھوکے اور اسے لوگوں سے نہ بیان کرے“، آپ نے فرمایا: ”میں خواب میں قید ( پیر میں بیڑی پہننا ) پسند کرتا ہوں اور طوق کو ناپسند کرتا ہوں ۳؎، قید سے مراد دین پر ثابت قدمی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Jam e Tirmazi
2291
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ فِي آخِرِ الزَّمَانِ لَا تَكَادُ رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ تَكْذِبُ وَأَصْدَقُهُمْ رُؤْيَا أَصْدَقُهُمْ حَدِيثًا، ‏‏‏‏‏‏وَالرُّؤْيَا ثَلَاثٌ:‏‏‏‏ الْحَسَنَةُ بُشْرَى مِنَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَالرُّؤْيَا يُحَدِّثُ الرَّجُلُ بِهَا نَفْسَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَالرُّؤْيَا تَحْزِينٌ مِنَ الشَّيْطَانِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ رُؤْيَا يَكْرَهُهَا فَلَا يُحَدِّثُ بِهَا أَحَدًا، ‏‏‏‏‏‏وَلْيَقُمْ فَلْيُصَلِّ . (حديث موقوف) (حديث موقوف) قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ:‏‏‏‏ يُعْجِبُنِي الْقَيْدُ وَأَكْرَهُ الْغُلَّ، ‏‏‏‏‏‏الْقَيْدُ ثَبَاتٌ فِي الدِّينِ . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَقَدْ رَوَى عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَيُّوبَ مَرْفُوعًا، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَيُّوبَ وَوَقَفَهُ.
Abu Hurrairah narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said: In the end of time, the dreams of a believer will hardly ever fail to come true, and the most truthful of them in dreams will be the truest in speech among them. And dreams are three types: The good dreams wihich is glad tidings from Allah, dreams about something that has happened to the man himself, and dreams in which the Shaitan frightens someone. So when one of you sees what he dislikes, then he should get up and perform Salat. Abu Hurairah said: I like fetters and dislikes, the iron collar. And fetters refers to being firm in the religion. He said: The Prophet (s. a. w) said: 'Dreams are a portion among the forty_six portions of Prophethood.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آخر وقت میں مومن کے خواب کم ہی جھوٹے ہوں گے، اور خواب ان لوگوں کا سچا ہو گا جن کی باتیں زیادہ سچی ہوں گی، خواب تین قسم کے ہوتے ہیں: اچھے خواب جو اللہ کی طرف سے بشارت ہوتے ہیں، وہ خواب جسے انسان دل میں سوچتا رہتا ہے، اور وہ خواب جو شیطان کی طرف سے ہوتا ہے اور غم کا سبب ہوتا ہے، لہٰذا جب تم میں سے کوئی ناپسندیدہ خوب دیکھے تو اسے کسی سے بیان نہ کرے، اسے چاہیئے کہ اٹھ کر نماز پڑھے“، ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں: میں خواب میں قید دیکھنا اچھا سمجھتا ہوں اور بیڑی دیکھنا برا سمجھتا ہوں، قید کی تعبیر ثابت قدمی ہے، ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: عبدالوہاب ثقفی نے ایوب سے یہ حدیث مرفوعاً روایت کی ہے اور حماد بن زید نے ایوب سے اسے موقوفاً روایت کیا ہے۔
Sahih Muslim
5902
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ مِنَ اللهِ، وَالرُّؤْيَا السَّوْءُ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَمَنْ رَأَى رُؤْيَا فَكَرِهَ مِنْهَا شَيْئًا فَلْيَنْفُثْ عَنْ يَسَارِهِ، وَلْيَتَعَوَّذْ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ، لَا تَضُرُّهُ وَلَا يُخْبِرْ بِهَا أَحَدًا، فَإِنْ رَأَى رُؤْيَا حَسَنَةً، فَلْيُبْشِرْ وَلَا يُخْبِرْ إِلَّا مَنْ يُحِبُّ»
Abu Qatada reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: The good vision are from Allah and the evil dreams are from the satan. If one sees a dream which one does not like, one should spit on one's left side and seek the refuge of Allah from the satan; it will not do one any harm, and one should not disclose it to anyone and if one sees a good vision one should feel pleased but should not disclose it to anyone but whom one loves.
عمرو بن حارث نے عبد ربہ بن سعید سے ، انھوں نے ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن سے ، انھوں نے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، کہ آپ نے فر ما یا : " اچھا خواب اللہ تعا لیٰ کی طرف سے ہے ، اور برا خواب شیطان کی جانب سے ہے ، جس شخص نے کو ئی خواب دیکھا اور اس میں سے کو ئی چیز اس کو بری لگی تو وہ ( تین بار ) اپنی بائیں جانب تھوکے اور شیطان کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے تو وہ خواب اس کو کو ئی نقصان نہیں پہنچا ئے گا اور یہ خواب وہ کسی کو بیان نہ کرے ۔ اگر اچھا خواب دیکھے تو خوش ہو اورصرف اس کو بتا ئے جو اس سے محبت کرتا ہے ۔ "
Sahih Muslim
5905
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا اقْتَرَبَ الزَّمَانُ لَمْ تَكَدْ رُؤْيَا الْمُسْلِمِ تَكْذِبُ، وَأَصْدَقُكُمْ رُؤْيَا أَصْدَقُكُمْ حَدِيثًا، وَرُؤْيَا الْمُسْلِمِ جُزْءٌ مِنْ خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ، وَالرُّؤْيَا ثَلَاثَةٌ: فَرُؤْيَا الصَّالِحَةِ بُشْرَى مِنَ اللهِ، وَرُؤْيَا تَحْزِينٌ مِنَ الشَّيْطَانِ، وَرُؤْيَا مِمَّا يُحَدِّثُ الْمَرْءُ نَفْسَهُ، فَإِنْ رَأَى أَحَدُكُمْ مَا يَكْرَهُ فَلْيَقُمْ فَلْيُصَلِّ، وَلَا يُحَدِّثْ بِهَا النَّاسَ قَالَ: «وَأُحِبُّ الْقَيْدَ وَأَكْرَهُ الْغُلَّ وَالْقَيْدُ ثَبَاتٌ فِي الدِّينِ» فَلَا أَدْرِي هُوَ فِي الْحَدِيثِ أَمْ قَالَهُ ابْنُ سِيرِينَ
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: When the time draws near (when the Resurrection is near) a believer's dream can hardly be false. And the truest vision will be of one who is himself the most truthful in speech, for the vision of a Muslim is the forty-fifth part of Prophecy, and dreams are of three types: one good dream which is a sort of good tidings from Allah; the evil dream which causes pain is from the satan; and the third one is a suggestion of one's own mind; so if any one of you sees a dream which he does not like he should stand up and offer prayer and he should not relate it to people, and he said: I would love to see fetters (in the dream), but I dislike wearing of necklace, for the fetters is (an indication of) one's steadfastness in religion. The narrator said: I do not know whether this is a part of the hadith or the words of Ibn Sirin.
عبد الو ہاب ثقفیٰ نے ایوب سختیانی سے ، انھوں نے محمد بن سیرین سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرما یا : " ( قیامت کا ) زمانہ قریب آجا ئے گا تو کسی مسلمان کا خواب جھوٹا نہ نکلے گا ۔ تم میں سے ان کے خواب زیادہ سچے ہوں گے جو بات میں زیادہ سچے ہوں گے ۔ ۔ مسلمان کا خواب نبوت کے پنتالیس حصوں میں سے ایک ( پنتالیسواں ) حصہ ہے خواب تین طرح کے ہو تے ہیں ۔ اچھا خواب اللہ کی طرف سے خوش خبری ہو تی ہے ۔ ایک خواب شیطان کی طرف سے غمگین کرنے کے لیے ہوتا ہے ۔ اور ایک خواب وہ جس میں انسان خود اپنے آپ سے بات کرتا ہے ۔ ( اس کے اپنے تخیل کی کا ر فرما ئی ہو تی ہے ۔ ) اگر تم میں سے کو ئی شخص ناپسندیدہ سخواب دیکھے تو کھڑا ہو جا ئے اور نماز پڑھے اور لوگوں کو اس کے بارے میں کچھ نہ بتا ئے ۔ " فرما یا : " ( پاؤں کی ) بیڑی خواب میں دیکھنا ) مجھے پسند ہے اور گلے کا ) طوق ناپسند ہے ۔ بیڑی دین میں ثابت قدمی ( کی علامت ) ہے ۔ " ( ثقفی نے ایوب سختیانی سے نقل کرتے ہو ئے کہا : ) تو مجھے معلوم نہیں کہ یہ بات حدیث ( نبوی ) میں ہے یا بن سیرین نے کہی ہے ۔
Jam e Tirmazi
128
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامَرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَمِّهِ عِمْرَانَ بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أُمِّهِ حَمْنَةَ بِنْتِ جَحْشٍ، قَالَتْ:‏‏‏‏ كُنْتُ أُسْتَحَاضُ حَيْضَةً كَثِيرَةً شَدِيدَةً، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْتَفْتِيهِ وَأُخْبِرُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَوَجَدْتُهُ فِي بَيْتِ أُخْتِي زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُسْتَحَاضُ حَيْضَةً كَثِيرَةً شَدِيدَةً فَمَا تَأْمُرُنِي فِيهَا قَدْ مَنَعَتْنِي الصِّيَامَ وَالصَّلَاةَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ أَنْعَتُ لَكِ الْكُرْسُفَ فَإِنَّهُ يُذْهِبُ الدَّمَ ،‏‏‏‏ قَالَتْ:‏‏‏‏ هُوَ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَتَلَجَّمِي ،‏‏‏‏ قَالَتْ:‏‏‏‏ هُوَ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَاتَّخِذِي ثَوْبًا ،‏‏‏‏ قَالَتْ:‏‏‏‏ هُوَ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ إِنَّمَا أَثُجُّ ثَجًّا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ سَآمُرُكِ بِأَمْرَيْنِ أَيَّهُمَا صَنَعْتِ أَجْزَأَ عَنْكِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ قَوِيتِ عَلَيْهِمَا فَأَنْتِ أَعْلَمُ ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا هِيَ رَكْضَةٌ مِنَ الشَّيْطَانِ، ‏‏‏‏‏‏فَتَحَيَّضِي سِتَّةَ أَيَّامٍ أَوْ سَبْعَةَ أَيَّامٍ فِي عِلْمِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ اغْتَسِلِي، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا رَأَيْتِ أَنَّكِ قَدْ طَهُرْتِ وَاسْتَنْقَأْتِ، ‏‏‏‏‏‏فَصَلِّي أَرْبَعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً أَوْ ثَلَاثًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً وَأَيَّامَهَا وَصُومِي وَصَلِّي، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ ذَلِكِ يُجْزِئُكِ، ‏‏‏‏‏‏وَكَذَلِكِ فَافْعَلِي كَمَا تَحِيضُ النِّسَاءُ وَكَمَا يَطْهُرْنَ لِمِيقَاتِ حَيْضِهِنَّ وَطُهْرِهِنَّ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ قَوِيتِ عَلَى أَنْ تُؤَخِّرِي الظُّهْرَ وَتُعَجِّلِي الْعَصْرَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ تَغْتَسِلِينَ حِينَ تَطْهُرِينَ وَتُصَلِّينَ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ تُؤَخِّرِينَ الْمَغْرِبَ وَتُعَجِّلِينَ الْعِشَاءَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ تَغْتَسِلِينَ وَتَجْمَعِينَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏فَافْعَلِي وَتَغْتَسِلِينَ مَعَ الصُّبْحِ وَتُصَلِّينَ، ‏‏‏‏‏‏وَكَذَلِكِ فَافْعَلِي وَصُومِي إِنْ قَوِيتِ عَلَى ذَلِكَ ،‏‏‏‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ وَهُوَ أَعْجَبُ الْأَمْرَيْنِ إِلَيَّ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَاهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ،‏‏‏‏ وَابْنُ جُرَيْجٍ،‏‏‏‏ وَشَرِيكٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمِّهِ عِمْرَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أُمِّهِ حَمْنَةَ، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا أَنَّ ابْنَ جُرَيجٍ يَقُولُ:‏‏‏‏ عُمَرُ بْنُ طَلْحَةَ وَالصَّحِيحُ:‏‏‏‏ عِمْرَانُ بْنُ طَلْحَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ هُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهَكَذَا قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ:‏‏‏‏ هُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ أَحْمَدُ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق فِي الْمُسْتَحَاضَةِ:‏‏‏‏ إِذَا كَانَتْ تَعْرِفُ حَيْضَهَا بِإِقْبَالِ الدَّمِ وَإِدْبَارِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِقْبَالُهُ أَنْ يَكُونَ أَسْوَدَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِدْبَارُهُ أَنْ يَتَغَيَّرَ إِلَى الصُّفْرَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَالْحُكْمُ لَهَا عَلَى حَدِيثِ فَاطِمَةَ بِنْتِ أَبِي حُبَيْشٍ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ كَانَتِ الْمُسْتَحَاضَةُ لَهَا أَيَّامٌ مَعْرُوفَةٌ قَبْلَ أَنْ تُسْتَحَاضَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّهَا تَدَعُ الصَّلَاةَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ تَغْتَسِلُ وَتَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ وَتُصَلِّي، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا اسْتَمَرَّ بِهَا الدَّمُ وَلَمْ يَكُنْ لَهَا أَيَّامٌ مَعْرُوفَةٌ وَلَمْ تَعْرِفْ الْحَيْضَ بِإِقْبَالِ الدَّمِ وَإِدْبَارِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَالْحُكْمُ لَهَا عَلَى حَدِيثِ حَمْنَةَ بِنْتِ جَحْشٍ،‏‏‏‏ وَكَذَلِكَ قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ الشَّافِعِيُّ:‏‏‏‏ الْمُسْتَحَاضَةُ إِذَا اسْتَمَرَّ بِهَا الدَّمُ فِي أَوَّلِ مَا رَأَتْ فَدَامَتْ عَلَى ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّهَا تَدَعُ الصَّلَاةَ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا طَهُرَتْ فِي خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا أَوْ قَبْلَ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّهَا أَيَّامُ حَيْضٍ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا رَأَتِ الدَّمَ أَكْثَرَ مِنْ خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّهَا تَقْضِي صَلَاةَ أَرْبَعَةَ عَشَرَ يَوْمًا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ تَدَعُ الصَّلَاةَ بَعْدَ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏أَقَلَّ مَا تَحِيضُ النِّسَاءُ وَهُوَ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي أَقَلِّ الْحَيْضِ وَأَكْثَرِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ:‏‏‏‏ أَقَلُّ الْحَيْضِ ثَلَاثَةٌ وَأَكْثَرُهُ عَشَرَةٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَأَهْلِ الْكُوفَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَأْخُذُ ابْنُ الْمُبَارَكِ، ‏‏‏‏‏‏وَرُوِيَ عَنْهُ خِلَافُ هَذَا،‏‏‏‏ وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْهُمْ عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ:‏‏‏‏ أَقَلُّ الْحَيْضِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ، ‏‏‏‏‏‏وَأَكْثَرُهُ خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالْأَوْزَاعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّافِعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي عُبَيْدٍ.
Hamnah bint Jahsh narrated: I had a case of blood flow that was severe and excessive. So I went to the Prophet to inform him and ask him about it. I found him in the house of my sister Zainab bint Jahsh. I said, 'O Messenger of Allah! I suffer from a case of severe and excessive blood flow. So what do you order me to do for it, and does this prevent me from fasting and performing Salat?' He said: 'Tie a cotton rag around yourself and the bIood will go away.' I said, 'It is more than that.' He said: 'Make it tight.' I said, 'It is more than that.' He said: 'Then use a cloth (to bind it).' I said, it is more than that. It flows too much.' So the Prophet said: 'I will order you to do one of two things, which ever of them you do, it will be acceptable for you. You should know which of them you are able to do.' Then he said: 'This is only a blow from Shaitan. Menstruate for six or seven days, which Allah knows, then perform Ghusl. When you see that you have become pure and clean, then perform Salat for twenty-three or twenty-four nights and their days. Perform Salat and fast, and that will be acceptable for you. So do this (if you can) just as (other) women who menstruate and become pure during their periods of menstruation and purity. If (not, and) you are able to delay Zuhr and hasten Asr then perform Ghusl when you have become pure, and pray Zuhr and Asr together. Then delay Maghrib and hasten Isha, then perform Ghusl and combine the two prayers. So do this (if you are able). Then perform Ghusl with the dawn and pray. Do this, and fast if you are able to do so.' Then Allah's Messenger said: 'That is what is preferable to me of the two.'
حمنہ بنت جحش رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں سخت قسم کے استحاضہ میں مبتلا رہتی تھی، میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں مسئلہ پوچھنے اور آپ کو اس کی خبر دینے کے لیے حاضر ہوئی، میں نے آپ صلی الله علیہ وسلم کو اپنی بہن زینب بنت حجش کے گھر پایا تو عرض کیا: اللہ کے رسول! میں سخت قسم کے استحاضہ میں مبتلا رہتی ہوں، اس سلسلہ میں آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں، اس نے تو مجھے صوم و صلاۃ دونوں سے روک دیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”میں تجھے روئی رکھنے کا حکم دے رہا ہوں اس سے خون بند ہو جائے گا“، انہوں نے عرض کیا: وہ اس سے زیادہ ہے ( روئی رکھنے سے نہیں رکے گا ) آپ نے فرمایا: ”تو لنگوٹ باندھ لیا کرو“، کہا: خون اس سے بھی زیادہ آ رہا ہے، تو آپ نے فرمایا: ”تم لنگوٹ کے نیچے ایک کپڑا رکھ لیا کرو“، کہا: یہ اس سے بھی زیادہ ہے، مجھے بہت تیزی سے خون بہتا ہے، تو نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو میں تجھے دو باتوں کا حکم دیتا ہوں ان دونوں میں سے تم جو بھی کر لو تمہارے لیے کافی ہو گا اور اگر تم دونوں پر قدرت رکھ سکو تو تم زیادہ بہتر جانتی ہو“، آپ نے فرمایا: ”یہ تو صرف شیطان کی چوٹ ( مار ) ہے تو چھ یا سات دن جو اللہ کے علم میں ہیں انہیں تو حیض کے شمار کر پھر غسل کر لے اور جب تو سمجھ لے کہ تو پاک و صاف ہو گئی ہو تو چوبیس یا تئیس دن نماز پڑھ اور روزے رکھ، یہ تمہارے لیے کافی ہے، اور اسی طرح کرتی رہو جیسا کہ حیض والی عورتیں کرتی ہیں: حیض کے اوقات میں حائضہ اور پاکی کے وقتوں میں پاک رہتی ہیں، اور اگر تم اس بات پر قادر ہو کہ ظہر کو کچھ دیر سے پڑھو اور عصر کو قدرے جلدی پڑھ لو تو غسل کر کے پاک صاف ہو جا اور ظہر اور عصر کو ایک ساتھ پڑھ لیا کرو، پھر مغرب کو ذرا دیر کر کے اور عشاء کو کچھ پہلے کر کے پھر غسل کر کے یہ دونوں نمازیں ایک ساتھ پڑھ لے تو ایسا کر لیا کرو، اور صبح کے لیے الگ غسل کر کے فجر پڑھو، اگر تم قادر ہو تو اس طرح کرو اور روزے رکھو“، پھر رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان دونوں باتوں ۱؎ میں سے یہ دوسری صورت ۲؎ مجھے زیادہ پسند ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- محمد بن اسماعیل بخاری نے اس حدیث کو حسن صحیح کہا ہے اور اسی طرح احمد بن حنبل نے بھی کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۳- احمد اور اسحاق بن راہویہ مستحاضہ کے بارے میں کہتے ہیں کہ عورت جب اپنے حیض کے آنے اور جانے کو جانتی ہو، اور آنا یہ ہے کہ خون کالا ہو اور جانا یہ ہے کہ وہ زردی میں بدل جائے تو اس کا حکم فاطمہ بن ابی حبیش رضی الله عنہا کی حدیث کے مطابق ہو گا ۳؎ اور اگر مستحاضہ کے لیے استحاضہ سے پہلے ( حیض کے ) ایام معروف ہیں تو وہ اپنے حیض کے دنوں میں نماز چھوڑ دے گی پھر غسل کرے گی اور ہر نماز کے لیے وضو کرے گی۔ اور جب خون جاری رہے اور ( حیض کے ) ایام معلوم نہ ہوں اور نہ ہی وہ حیض کے آنے جانے کو جانتی ہو تو اس کا حکم حمنہ بنت جحش رضی الله عنہا کی حدیث کے مطابق ہو گا ۴؎ اسی طرح ابو عبید نے کہا ہے۔ شافعی کہتے ہیں: جب مستحاضہ کو پہلی بار جب اس نے خون دیکھا تبھی سے برابر خون جاری رہے تو وہ خون شروع ہونے سے لے کر پندرہ دن تک نماز چھوڑے رہے گی، پھر اگر وہ پندرہ دن میں یا اس سے پہلے پاک ہو جاتی ہے تو گویا یہی اس کے حیض کے دن ہیں اور اگر وہ پندرہ دن سے زیادہ خون دیکھے، تو وہ چودہ دن کی نماز قضاء کرے گی اور اس کے بعد عورتوں کے حیض کی اقل مدت جو ایک دن اور ایک رات ہے، کی نماز چھوڑ دے گی، ۴- حیض کی کم سے کم مدت اور سب سے زیادہ مدت میں اہل علم کے درمیان اختلاف ہے، بعض اہل علم کہتے ہیں: حیض کی سب سے کم مدت تین دن اور سب سے زیادہ مدت دس دن ہے، یہی سفیان ثوری، اور اہل کوفہ کا قول ہے اور اسی کو ابن مبارک بھی اختیار کرتے ہیں۔ ان سے اس کے خلاف بھی مروی ہے، بعض اہل علم جن میں عطا بن ابی رباح بھی ہیں، کہتے ہیں کہ حیض کی کم سے کم مدت ایک دن اور ایک رات ہے اور اس کی زیادہ سے زیادہ مدت پندرہ دن ہے، اور یہی مالک، اوزاعی، شافعی، احمد، اسحاق بن راہویہ اور ابو عبید کا قول ہے۔
Jam e Tirmazi
160
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فِي دَارِهِ بِالْبَصْرَةِ حِينَ انْصَرَفَ مِنَ الظُّهْرِ وَدَارُهُ بِجَنْبِ الْمَسْجِدِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ قُومُوا فَصَلُّوا الْعَصْرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَقُمْنَا فَصَلَّيْنَا، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا انْصَرَفْنَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ تِلْكَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِ يَجْلِسُ يَرْقُبُ الشَّمْسَ حَتَّى إِذَا كَانَتْ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ، ‏‏‏‏‏‏قَامَ فَنَقَرَ أَرْبَعًا لَا يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Al-Ala bin Abdur-Raman narrated that : he visited Anas bin Malik in his home in Al Basrah after finishing Zuhr, and his home was next to the Masjid. So he said: 'Stand to pray Asr. He (Al-Ala) said: So we stood to pray. When we were finished he (Anas) said: 'I heard Allah's Messenger saying: That is the prayer of the hypocrite. He sits watching the sun, until when it is between the horns of the Shaitan he stands and pecks out four (units of prayer), not remembering Allah in them but a little.
علاء بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ وہ بصرہ میں جس وقت ظہر پڑھ کر لوٹے تو وہ انس بن مالک رضی الله عنہ کے پاس ان کے گھر آئے، ان کا گھر مسجد کے بغل ہی میں تھا۔ انس بن مالک نے کہا: اٹھو چلو عصر پڑھو، تو ہم نے اٹھ کر نماز پڑھی، جب پڑھ چکے تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”یہ منافق کی نماز ہے کہ بیٹھا سورج کو دیکھتا رہے، یہاں تک کہ جب وہ شیطان کی دونوں سینگوں کے درمیان آ جائے تو اٹھے اور چار ٹھونگیں مار لے، اور ان میں اللہ کو تھوڑا ہی یاد کرے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Jam e Tirmazi
370
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ التَّثَاؤُبُ فِي الصَّلَاةِ مِنَ الشَّيْطَانِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَكْظِمْ مَا اسْتَطَاعَ قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَجَدِّ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ كَرِهَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ التَّثَاؤُبَ فِي الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ إِبْرَاهِيمُ:‏‏‏‏ إِنِّي لَأَرُدُّ التَّثَاؤُبَ بِالتَّنَحْنُحِ.
Abu Hurairah narrated that the : Prophet (S) said: Yawning is from the Shaitan, so when one of you yawns then let him suppress (it) as much as possible.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز میں جمائی آنا شیطان کی طرف سے ہے، جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو جہاں تک ہو سکے اسے روکے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابو سعید خدری اور عدی بن ثابت کے دادا ( عبید بن عازب ) سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم میں سے کچھ لوگوں نے نماز میں جمائی لینے کو مکروہ کہا ہے، ابراہیم کہتے ہیں کہ میں جمائی کو کھنکھار سے لوٹا دیتا ہوں۔
Jam e Tirmazi
1187
أَنْبَأَنَا بِذَلِكَ بُنْدَارٌ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ، عَنْ ثَوْبَانَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَيُّمَا امْرَأَةٍ سَأَلَتْ زَوْجَهَا طَلَاقًا مِنْ غَيْرِ بَأْسٍ فَحَرَامٌ عَلَيْهَا رَائِحَةُ الْجَنَّةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ. وَيُرْوَى هَذَا الْحَدِيثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ ثَوْبَانَ وَرَوَاهُ بَعْضُهُمْ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَيُّوبَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَرْفَعْهُ.
Thawban narrated that : The Messenger of Allah said: Whichever woman seeks a Khul from her husband without harm (cause), then the scent of Paradise will be unlawful for her.
ثوبان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس عورت نے بغیر کسی بات کے اپنے شوہر سے طلاق طلب کی تو اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اور یہ «عن أيوب عن أبي قلابة عن أبي أسماء عن ثوبان» کے طریق سے بھی روایت کی جاتی ہے، ۳- بعض نے ایوب سے اسی سند سے روایت کی ہے لیکن انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔
Jam e Tirmazi
1379
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ،‏‏‏‏ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ،‏‏‏‏ عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ،‏‏‏‏ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ أَحْيَى أَرْضًا مَيِّتَةً فَهِيَ لَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated Jabir bin 'Abdullah: that the Prophet (ﷺ) said: Whoever revives a barren land, then it is for him.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص غیر آباد زمین ( جو کسی کی ملکیت میں نہ ہو ) آباد کرے تو وہ اسی کی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔