TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of al-adab (good manners). - کتاب اخلاق کے بیان میں - Book 79 of Sahih Bukhari with Urdu and English Translation

Book 79 of Sahih Bukhari, with 125 chapters and 257 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

257 Hadith · 125 Chapters
(96) CHAPTER. The signs of loving (others for the sake of) Allah.
اللہ عز وجل کی محبت کس کو کہتے ہیں
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلُ يُحِبُّ الْقَوْمَ وَلَمَّا يَلْحَقْ بِهِمْ قَالَ : الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ ، تَابَعَهُ أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ .
Narrated Abu Musa: It was said to the Prophet; , A man may love some people but he cannot catch up with their good deeds? The Prophet said, Everyone will be with those whom he loves.
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابووائل نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا ایک شخص ایک جماعت سے محبت رکھتا ہے لیکن اس سے مل نہیں سکا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان اس کے ساتھ ہے جس سے وہ محبت رکھتا ہے۔ سفیان کے ساتھ اس روایت کی متابعت ابومعاویہ اور محمد بن عبید نے کی ہے۔
6170
Sahih
(96) CHAPTER. The signs of loving (others for the sake of) Allah.
اللہ عز وجل کی محبت کس کو کہتے ہیں
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، أَخْبَرَنَا أَبِي ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَتَى السَّاعَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : مَا أَعْدَدْتَ لَهَا ؟ قَالَ : مَا أَعْدَدْتُ لَهَا مِنْ كَثِيرِ صَلَاةٍ وَلَا صَوْمٍ وَلَا صَدَقَةٍ وَلَكِنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، قَالَ : أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ .
Narrated Anas bin Malik: A man asked the Prophet When will the Hour be established O Allah's Apostle? The Prophet . said, What have you prepared for it? The man said, I haven't prepared for it much of prayers or fast or alms, but I love Allah and His Apostle. The Prophet said, You will be with those whom you love.
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو ہمارے والد عثمان مروزی نے خبر دی، انہیں شعبہ نے، انہیں عمرو بن مرہ نے، انہیں سالم بن ابی الجعد نے اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یا رسول اللہ! قیامت کب قائم ہو گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تم نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ میں نے اس کے لیے بہت ساری نمازیں، روزے اور صدقے نہیں تیار کر رکھے ہیں، لیکن میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اس کے ساتھ ہو جس سے تم محبت رکھتے ہو۔
6171
Sahih
(97) CHAPTER. The saying of one man to another: Ikhsa.
کسی کا کسی کو یوں کہنا چل دور ہو
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ زَرِيرٍ ، سَمِعْتُ أَبَا رَجَاءٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِابْنِ صَائِدٍ : قَدْ خَبَأْتُ لَكَ خَبِيئًا ، فَمَا هُوَ ؟ قَالَ : الدُّخُّ ، قَالَ : اخْسَأْ .
Narrated Ibn `Abbas: Allah's Apostle said to Ibn Saiyad I have hidden something for you in my mind; What is it? He said, Ad-Dukh. The Prophet said, Ikhsa.
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے مسلم بن زریر نے بیان کیا، کہا میں نے ابورجاء سے سنا اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صیاد سے فرمایا ”میں نے اس وقت اپنے دل میں ایک بات چھپا رکھی ہے، وہ کیا ہے؟“ وہ بولا «الدخ‏.‏» نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چل دور ہو جا۔
6172
Sahih
(97) CHAPTER. The saying of one man to another: Ikhsa.
کسی کا کسی کو یوں کہنا چل دور ہو
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ انْطَلَقَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ مِنْ أَصْحَابِهِ قِبَلَ ابْنِ صَيَّادٍ حَتَّى وَجَدَهُ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ فِي أُطُمِ بَنِي مَغَالَةَ وَقَدْ قَارَبَ ابْنُ صَيَّادٍ يَوْمَئِذٍ الْحُلُمَ ، فَلَمْ يَشْعُرْ حَتَّى ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ظَهْرَهُ بِيَدِهِ ، ثُمَّ قَالَ : أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ فَنَظَرَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ الْأُمِّيِّينَ ، ثُمَّ قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ : أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ، فَرَضَّهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ ثُمَّ قَالَ لِابْنِ صَيَّادٍ : مَاذَا تَرَى ؟ قَالَ : يَأْتِينِي صَادِقٌ وَكَاذِبٌ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خُلِّطَ عَلَيْكَ الْأَمْرُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّي خَبَأْتُ لَكَ خَبِيئًا قَالَ : هُوَ الدُّخُّ ، قَالَ : اخْسَأْ ، فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ قَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَأْذَنُ لِي فِيهِ أَضْرِبْ عُنُقَهُ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنْ يَكُنْ هُوَ لَا تُسَلَّطُ عَلَيْهِ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ هُوَ فَلَا خَيْرَ لَكَ فِي قَتْلِهِ .
Narrated `Abdullah bin `Umar: `Umar bin Al-Khattab set out with Allah's Apostle, and a group of his companions to Ibn Saiyad. They found him playing with the boys in the fort or near the Hillocks of Bani Maghala. Ibn Saiyad was nearing his puberty at that time, and he did not notice the arrival of the Prophet till Allah's Apostle stroked him on the back with his hand and said, Do you testify that I am Allah's Apostle? Ibn Saiyad looked at him and said, I testify that you are the Apostle of the unlettered ones (illiterates) . Then Ibn Saiyad said to the Prophets . Do you testify that I am Allah's Apostle? The Prophet denied that, saying, I believe in Allah and all His Apostles, and then said to Ibn Saiyad, What do you see? Ibn Saiyad said, True people and liars visit me. The Prophet said, You have been confused as to this matter. Allah's Apostle added, I have kept something for you (in my mind). Ibn Saiyad said, Ad-Dukh. The Prophet said, Ikhsa (you should be ashamed) for you can not cross your limits. `Umar said, O Allah's Apostle! Allow me to chop off h is neck. Allah's Apostle said (to `Umar). Should this person be him (i.e. Ad-Dajjal) then you cannot over-power him; and should he be someone else, then it will be no use your killing him.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے کہا کہ مجھے سالم بن عبداللہ نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی، کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ابن صیاد کی طرف گئے۔ بہت سے دوسرے صحابہ بھی ساتھ تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ وہ چند بچوں کے ساتھ بنی مغالہ کے قلعہ کے پاس کھیل رہا ہے۔ ان دنوں ابن صیاد بلوغ کے قریب تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا اسے احساس نہیں ہوا۔ یہاں تک کہ آپ نے اس کی پیٹھ پر اپنا ہاتھ مارا۔ پھر فرمایا کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھ کر کہا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ امیوں کے یعنی ( عربوں کے ) رسول ہیں۔ پھر ابن صیاد نے کہا کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اسے دفع کر دیا اور فرمایا، میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا۔ پھر ابن صیاد سے آپ نے پوچھا، تم کیا دیکھتے ہو؟ اس نے کہا کہ میرے پاس سچا اور جھوٹا دونوں آتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے لیے معاملہ کو مشتبہ کر دیا گیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تمہارے لیے ایک بات اپنے دل میں چھپا رکھی ہے؟ اس نے کہا کہ وہ «الدخ‏.‏» ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دور ہو، اپنی حیثیت سے آگے نہ بڑھ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ مجھے اجازت دیں گے کہ اسے قتل کر دوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اگر یہ وہی ( دجال ) ہے تو اس پر غالب نہیں ہوا جا سکتا اور اگر یہ دجال نہیں ہے تو اسے قتل کرنے میں کوئی خیر نہیں۔
6173
Sahih
(97) CHAPTER. The saying of one man to another: Ikhsa.
کسی کا کسی کو یوں کہنا چل دور ہو
قَالَ سَالِمٌ : فَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : انْطَلَقَ بَعْدَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ الْأَنْصَارِيُّ يَؤُمَّانِ النَّخْلَ الَّتِي فِيهَا ابْنُ صَيَّادٍ ، حَتَّى إِذَا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ وَهُوَ يَخْتِلُ أَنْ يَسْمَعَ مِنَ ابْنِ صَيَّادٍ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ يَرَاهُ ، وَابْنُ صَيَّادٍ مُضْطَجِعٌ عَلَى فِرَاشِهِ فِي قَطِيفَةٍ لَهُ فِيهَا رَمْرَمَةٌ أَوْ زَمْزَمَةٌ ، فَرَأَتْ أُمُّ ابْنِ صَيَّادٍ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ ، فَقَالَتْ لِابْنِ صَيَّادٍ : أَيْ صَافِ وَهُوَ اسْمُهُ هَذَا مُحَمَّدٌ فَتَنَاهَى ابْنُ صَيَّادٍ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْ تَرَكَتْهُ بَيَّنَ .
Abdullah bin `Umar added: Later on Allah's Apostle and Ubai bin Ka`b Al-Ansari (once again) went to the garden in which Ibn Saiyad was present. When Allah's Apostle entered the garden, he started hiding behind the trunks of the date-palms intending to hear something from Ibn Saiyad before the latter could see him. Ibn Saiyad was Lying on his bed, covered with a velvet sheet from where his mumur were heard. Ibn Saiyad's mother saw the Prophet and said, O Saf (the nickname of Ibn Saiyad)! Here is Muhammad! Ibn Saiyad stopped his murmuring. The Prophet said, If his mother had kept quiet, then I would have learnt more about him.
سالم نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابی بن کعب انصاری رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر اس کھجور کے باغ کی طرف روانہ ہوئے جہاں ابن صیاد رہتا تھا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باغ میں پہنچے تو آپ نے کھجور کی ٹہنیوں میں چھپنا شروع کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ اس سے پہلے کہ وہ دیکھے چھپ کر کسی بہانے ابن صیاد کی کوئی بات سنیں۔ ابن صیاد ایک مخملی چادر کے بستر پر لیٹا ہوا تھا اور کچھ گنگنا رہا تھا۔ ابن صیاد کی ماں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھجور کے تنوں سے چھپ کر آتے ہوئے دیکھ لیا اور اسے بتا دیا کہ اے صاف! ( یہ اس کا نام تھا ) محمد آ رہے ہیں۔ چنانچہ وہ متنبہ ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر اس کی ماں اسے متنبہ نہ کرتی تو بات صاف ہو جاتی۔
6174
Sahih
(97) CHAPTER. The saying of one man to another: Ikhsa.
کسی کا کسی کو یوں کہنا چل دور ہو
قَالَ سَالِمٌ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ، ثُمَّ ذَكَرَ الدَّجَّالَ : فَقَالَ : إِنِّي أُنْذِرُكُمُوهُ ، وَمَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ أَنْذَرَهُ قَوْمَهُ لَقَدْ أَنْذَرَهُ نُوحٌ قَوْمَهُ ، وَلَكِنِّي سَأَقُولُ لَكُمْ فِيهِ قَوْلًا لَمْ يَقُلْهُ نَبِيٌّ لِقَوْمِهِ ، تَعْلَمُونَ أَنَّهُ أَعْوَرُ وَأَنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِأَعْوَرَ قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : خَسَأْتُ الْكَلْبَ ، بَعَّدْتُهُ خَاسِئِينَ مُبْعَدِينَ .
Abdullah added: Allah's Apostle stood up before the people (delivering a sermon), and after praising and glorifying Allah as He deserved, he mentioned the Ad-Dajjal saying, I warn you against him, and there has been no prophet but warned his followers against him. Noah warned his followers against him but I am telling you about him, something which no prophet has told his people of, and that is: Know that he is blind in one eye where as Allah is not so.
سالم نے بیان کیا کہ عبداللہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے مجمع میں کھڑے ہوئے اور اللہ کی اس کی شان کے مطابق تعریف کرنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا ذکر کیا اور فرمایا کہ میں تمہیں اس سے ڈراتا ہوں۔ کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے اپنی قوم کو اس سے نہ ڈرایا ہو۔ نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو اس سے ڈرایا لیکن میں اس کی تمہیں ایک ایسی نشانی بتاؤں گا جو کسی نبی نے اپنی قوم کو نہیں بتائی تم جانتے ہو کہ وہ کانا ہو گا اور اللہ کانا نہیں ہے۔
6175
Sahih
(98) CHAPTER. The saying of somebody to another: “Marhaba (i.e., welcome).
کسی شخص کا مرحبا کہنا
حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : لَمَّا قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَرْحَبًا بِالْوَفْدِ الَّذِينَ جَاءُوا غَيْرَ خَزَايَا وَلَا نَدَامَى فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا حَيٌّ مِنْ رَبِيعَةَ وَبَيْنَنَا وَبَيْنَكَ مُضَرُ ، وَإِنَّا لَا نَصِلُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ ، فَمُرْنَا بِأَمْرٍ فَصْلٍ نَدْخُلُ بِهِ الْجَنَّةَ وَنَدْعُو بِهِ مَنْ وَرَاءَنَا فَقَالَ : أَرْبَعٌ وَأَرْبَعٌ : أَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَصُومُوا رَمَضَانَ وَأَعْطُوا خُمُسَ مَا غَنِمْتُمْ ، وَلَا تَشْرَبُوا فِي الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُزَفَّتِ .
Narrated Ibn `Abbas: When the delegation of `Abdul Qais came to the Prophet, he said, Welcome, O the delegation who have come! Neither you will have disgrace, nor you will regret. They said, O Allah's Apostle! We are a group from the tribe of Ar-Rabi`a, and between you and us there is the tribe of Mudar and we cannot come to you except in the sacred months. So please order us to do something good (religious deeds) so that we may enter Paradise by doing that, and also that we may order our people who are behind us (whom we have left behind at home) to follow it. He said, Four and four: offer prayers perfectly , pay the Zakat, (obligatory charity), fast the month of Ramadan, and give one-fifth of the war booty (in Allah's cause), and do not drink in (containers called) Ad-Duba,' Al-Hantam, An-Naqir and Al-Muzaffat.
ہم سے عمران بن میسرہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے ابوالتیاح یزید بن حمید نے بیان کیا، ان سے ابوحمزہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب قبیلہ عبدالقیس کا وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مرحبا ان لوگوں کو جو آن پہنچے تو نہ وہ ذلیل ہوئے، نہ شرمندہ ( خوشی سے مسلمان ہو گئے ورنہ مارے جاتے شرمندہ ہوتے ) انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم قبیلہ ربیع کی شاخ سے تعلق رکھتے ہیں اور چونکہ ہمارے اور آپ کے درمیان قبیلہ مضر کے کافر لوگ حائل ہیں اس لیے ہم آپ کی خدمت میں صرف حرمت والے مہینوں ہی میں حاضر ہو سکتے ہیں ( جن میں لوٹ کھسوٹ نہیں ہوتی ) آپ کچھ ایسی جچی تلی بات بتا دیں جس پر عمل کرنے سے ہم جنت میں داخل ہو جائیں اور جو لوگ نہیں آ سکے ہیں انہیں بھی اس کی دعوت پہنچائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چار چار چیزیں ہیں۔ نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو، رمضان کے روزے رکھو اور غنیمت کا پانچواں حصہ ( بیت المال کو ) ادا کرو اور دباء، حنتم، نقیر اور مزفت میں نہ پیو۔
6176
Sahih
(99) CHAPTER. Calling the people by their father's name (on the Day of Resurrection).
لوگوں کو ان کے باپ کانام لے کر قیامت کے دن بلایا جانا
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّ الْغَادِرَ يُرْفَعُ لَهُ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُقَالُ : هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ .
Narrated Ibn `Umar: The Prophet said, For every betrayer (perfidious person), a flag will be raised on the Day of Resurrection, and it will be announced (publicly) 'This is the betrayal (perfidy) of so-and-so, the son of so-and-so.'
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ عمری نے، ان سے نافع نے ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”عہد توڑنے والے کے لیے قیامت میں ایک جھنڈا اٹھایا جائے گا اور پکار دیا جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کی دغا بازی کا نشان ہے۔“
6177
Sahih
(99) CHAPTER. Calling the people by their father's name (on the Day of Resurrection).
لوگوں کو ان کے باپ کانام لے کر قیامت کے دن بلایا جانا
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّ الْغَادِرَ يُنْصَبُ لَهُ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُقَالُ : هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ .
Narrated Ibn `Umar: Allah's Apostle said, A flag will be fixed on the Day of Resurrection for every betrayer, and it will be announced (publicly in front of everybody), 'This is the betrayal (perfidy) so-and-so, the son of soand- so.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے، ان سے عبداللہ بن دینار نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”عہد توڑنے والے کے لیے قیامت میں ایک جھنڈا اٹھایا جائے گا اور پکارا جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کی دغا بازی کا نشان ہے۔“
6178
Sahih
(100) CHAPTER. One should not say, 'Khabuthat nafsi' (i.e., I have been overcome by nausea).
آدمی کو یہ نہیں کہنا چاہیے کہ میرا نفس پلید ہو گیا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ خَبُثَتْ نَفْسِي ، وَلَكِنْ لِيَقُلْ لَقِسَتْ نَفْسِي .
Narrated `Aisha: The Prophet said, None of you should say Khabuthat Nafsi, but he is recommended to say 'Laqisat Nafsi.
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم میں کوئی شخص یہ نہ کہے کہ میرا نفس پلید ہو گیا ہے بلکہ یہ کہے کہ میرا دل خراب یا پریشان ہو گیا۔“
6179
Sahih
(100) CHAPTER. One should not say, 'Khabuthat nafsi' (i.e., I have been overcome by nausea).
آدمی کو یہ نہیں کہنا چاہیے کہ میرا نفس پلید ہو گیا
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ خَبُثَتْ نَفْسِي ، وَلَكِنْ لِيَقُلْ لَقِسَتْ نَفْسِي ، تَابَعَهُ عُقَيْلٌ .
Narrated Sal: The Prophet said, None of you should say Khabuthat Nafsi but he is recommended to say 'Laqisat Nafsi (See Hadith No. 202)
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، وہ یونس سے روایت کرتے ہیں، وہ زہری سے، وہ ابوامامہ بن سہل سے، وہ اپنے باپ سے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم میں سے کوئی ہرگز یوں نہ کہے کہ میرا نفس پلید ہو گیا لیکن یوں کہہ سکتا ہے کہ میرا دل خراب یا پریشان ہو گیا۔“ اس حدیث کو عقیل نے بھی ابن شہاب سے روایت کیا ہے۔
6180
Sahih
(101) CHAPTER. Do not abuse Ad-Dahr (the Time).
زمانہ کو برا کہنا منع ہے
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، قَالَ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : اللَّهُ يَسُبُّ بَنُو آدَمَ الدَّهْرَ وَأَنَا الدَّهْرُ بِيَدِي اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ .
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, Allah said, The offspring of Adam abuse the Dahr (Time), and I am the Dahr; in My Hands are the night and the day. !
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں ابوسلمہ نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسان زمانہ کو گالی دیتا ہے حالانکہ میں ہی زمانہ ہوں، میرے ہی ہاتھ میں رات اور دن ہیں۔“
6181
Sahih
(101) CHAPTER. Do not abuse Ad-Dahr (the Time).
زمانہ کو برا کہنا منع ہے
حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَا تُسَمُّوا الْعِنَبَ الْكَرْمَ ، وَلَا تَقُولُوا خَيْبَةَ الدَّهْرِ ، فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الدَّهْرُ .
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, Don't call the grapes Al-Karm, and don't say 'Khaibat-ad-Dahri, for Allah is the Dahr. (See Hadith No. 202.)
ہم سے عیاش بن ولید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے معمر نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”انگور «عنب» کو «كرم» نہ کہو اور یہ نہ کہو کہ ہائے زمانہ کی نامرادی۔ کیونکہ زمانہ تو اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔“
6182
Sahih
(102) CHAPTER. The statement of the Prophet : “Al-Karm is only the heart of a believer.”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یوں فرمانا کہ ” کرم “ تو مومن کا دل ہے
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَيَقُولُونَ الْكَرْمُ إِنَّمَا الْكَرْمُ قَلْبُ الْمُؤْمِنِ .
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, They say Al-Karm (the generous), and in fact Al-Karm is the heart of a believer.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے سعید بن مسیب نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”لوگ ( انگور کو ) «كرم» کہتے ہیں، «كرم» تو مومن کا دل ہے۔“
6183
Sahih
(103) CHAPTER. The saying of someone (to another): “Let my father and mother be sacrificed for you.
کسی شخص کا کہنا کہ ” میرے باپ اور ماں تم پر قربان ہوں “ اس میں زبیر نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُفَدِّي أَحَدًا غَيْرَ سَعْدٍ سَمِعْتُهُ يَقُولُ : ارْمِ فَدَاكَ أَبِي وَأُمِّي أَظُنُّهُ يَوْمَ أُحُدٍ .
Narrated `Ali: I never heard Allah's Apostle saying, Let my father and mother be sacrificed for you, except for Sa`d (bin Abi Waqqas). I heard him saying, Throw! (arrows), Let my father and mother be sacrificed for you ! (The sub-narrator added, I think that was in the battle of Uhud. )
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے، ان سے سعد بن ابراہیم نے، ان سے عبداللہ بن شداد نے اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی کے لیے اپنے آپ کو قربان کرنے کا لفظ کہتے نہیں سنا، سوا سعد بن ابی وقاص کے۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے۔ تیر مار، اے سعد! میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں، میرا خیال ہے کہ یہ غزوہ احد کے موقع پر فرمایا۔
6184
Sahih
(104) CHAPTER. The saying of somebody (to another): “May Allah sacrifice me for you.”
کسی کا یہ کہنا اللہ مجھے آپ پر قربان کرے اور حضرت ابوبکر رضیاللہعنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا ہم نے آپ پر اپنے باپوں اور ماؤں کو قربان کیا
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ أَقْبَلَ هُوَ وَأَبُو طَلْحَةَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفِيَّةُ مُرْدِفُهَا عَلَى رَاحِلَتِهِ ، فَلَمَّا كَانُوا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ عَثَرَتِ النَّاقَةُ ، فَصُرِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمَرْأَةُ ، وَأَنَّ أَبَا طَلْحَةَ قَالَ : أَحْسِبُ اقْتَحَمَ عَنْ بَعِيرِهِ ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ ، هَلْ أَصَابَكَ مِنْ شَيْءٍ ؟ قَالَ : لَا ، وَلَكِنْ عَلَيْكَ بِالْمَرْأَةِ فَأَلْقَى أَبُو طَلْحَةَ ثَوْبَهُ عَلَى وَجْهِهِ فَقَصَدَ قَصْدَهَا ، فَأَلْقَى ثَوْبَهُ عَلَيْهَا ، فَقَامَتِ الْمَرْأَةُ ، فَشَدَّ لَهُمَا عَلَى رَاحِلَتِهِمَا ، فَرَكِبَا فَسَارُوا حَتَّى إِذَا كَانُوا بِظَهْرِ الْمَدِينَةِ ، أَوْ قَالَ أَشْرَفُوا عَلَى الْمَدِينَةِ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ ، فَلَمْ يَزَلْ يَقُولُهَا حَتَّى دَخَلَ الْمَدِينَةَ .
Narrated Anas bin Malik: That he and Abu Talha were coming in the company of the Prophet towards Medina), while Safiya (the Prophet's wife) was riding behind him on his she-camel. After they had covered a portion of the way suddenly the foot of the she-camel slipped and both the Prophet and the woman (i.e., his wife, Safiya) fell down. Abu Talha jumped quickly off his camel and came to the Prophet (saying.) O Allah's Apostle! Let Allah sacrifice me for you! Have you received any injury? The Prophet said, No, but take care of the woman (my wife). Abu Talha covered his face with his garment and went towards her and threw his garment over her. Then the woman got up and Abu Talha prepared their she camel (by tightening its saddle, etc.) and both of them (the Prophet and Safiya) mounted it. Then all of them proceeded and when they approached near Medina, or saw Medina, the Prophet said, Ayibun,' abidun, taibun, liRabbina hamidun (We are coming back (to Medina) with repentance, worshipping (our Lord) and celebrating His (our Lord's) praises . The Prophet continued repeating these words till he entered the city of Medina.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر بن مفضل نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن ابی اسحاق نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ وہ اور ابوطلحہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( مدینہ منورہ کے لیے ) روانہ ہوئے۔ ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر آپ کے پیچھے تھیں، راستہ میں کسی جگہ اونٹنی کا پاؤں پھسل گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ام المؤمنین گر گئے۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرا خیال ہے ابوطلحہ نے اپنی سواری سے فوراً اپنے کو گرا دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ گئے اور عرض کیا: یا نبی اللہ! اللہ آپ پر مجھے قربان کرے کیا آپ کو کوئی چوٹ آئی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں، البتہ عورت کو دیکھو۔ چنانچہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کپڑا اپنے چہرے پر ڈال لیا، پھر ام المؤمنین کی طرف بڑھے اور اپنا کپڑا ان کے اوپر ڈال دیا۔ اس کے بعد وہ کھڑی ہو گئیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ام المؤمنین کے لیے ابوطلحہ نے پالان مضبوط باندھا۔ اب آپ نے سوار ہو کر پھر سفر شروع کیا، جب مدینہ منورہ کے قریب پہنچے ( یا یوں کہا کہ مدینہ دکھائی دینے لگا ) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «آيبون تائبون،‏‏‏‏ عابدون لربنا حامدون» ”ہم لوٹنے والے ہیں توبہ کرتے ہوئے اپنے رب کی عبادت کرتے ہوئے اور اس کی حمد بیان کرتے ہوئے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے برابر کہتے رہے یہاں تک کہ مدینہ میں داخل ہو گئے۔
6185
Sahih
(105) CHAPTER. The most beloved names to Allah.
اللہ پاک کوکون سے نام زیادہ پسند ہیں اورکسی شخص کا کسی کو یوں کہنا بیٹا
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَّا غُلَامٌ ، فَسَمَّاهُ الْقَاسِمَ ، فَقُلْنَا : لَا نَكْنِيكَ أَبَا الْقَاسِمِ وَلَا كَرَامَةَ ، فَأَخْبَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : سَمِّ ابْنَكَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ .
Narrated Jabir: A boy was born for a man among us, and the man named him Al-Qasim. We said to him, We will not call you Abu-l-Qasim, nor will we respect you for that. The Prophet was informed about that, and he said, Name your son `Abdur-Rahman.
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان بن عیینہ نے خبر دی، ان سے ابن المنکدر نے بیان کیا اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم میں سے ایک صاحب کے یہاں بچہ پیدا ہوا تو انہوں نے اس کا نام قاسم رکھا۔ ہم نے ان سے کہا کہ ہم تم کو ابوالقاسم کہہ کر نہیں پکاریں گے ( کیونکہ ابوالقاسم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیت تھی ) اور نہ ہم تمہاری عزت کے لیے ایسا کریں گے۔ ان صاحب نے اس کی خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے بیٹے کا نام عبدالرحمٰن رکھ لے۔
6186
Sahih
(106) CHAPTER. The statement of the Prophet : “Name yourselves by my name, but do not call yourselves by my Kunyah.”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ میرے نام پر نام رکھو ، لیکن میری کنیت نہ رکھو ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَّا غُلَامٌ ، فَسَمَّاهُ الْقَاسِمَ ، فَقَالُوا : لَا نَكْنِيهِ حَتَّى نَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : سَمُّوا بِاسْمِي ، وَلَا تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي .
Narrated Jabi: A man among us begot a boy whom he named Al-Qasim. The people said, We will not call him (i.e., the father) by that Kuniya (Abu-l-Qasim) till we ask the Prophet about it. The Prophet said. Name yourselves by my name, but do not call (yourselves) by my Kuniya.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے حصین نے بیان کیا، ان سے سالم نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم میں سے ایک شخص کے یہاں بچہ پیدا ہوا تو انہوں نے اس کا نام قاسم رکھا۔ صحابہ نے ان سے کہا کہ جب تک ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ پوچھ لیں۔ ہم اس نام پر تمہاری کنیت نہیں ہونے دیں گے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے نام پر نام رکھو لیکن میری کنیت نہ اختیار کرو۔
6187
Sahih
(106) CHAPTER. The statement of the Prophet : “Name yourselves by my name, but do not call yourselves by my Kunyah.”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ میرے نام پر نام رکھو ، لیکن میری کنیت نہ رکھو ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمُّوا بِاسْمِي وَلَا تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي .
Narrated Abu Huraira: Abu-l-Qasim (The Prophet) said, Name yourselves by my name, but do not call yourselves by my Kuniya.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے محمد بن سیرین نے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرے نام پر نام رکھو لیکن میری کنیت نہ رکھو۔“
6188
Sahih
(106) CHAPTER. The statement of the Prophet : “Name yourselves by my name, but do not call yourselves by my Kunyah.”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ میرے نام پر نام رکھو ، لیکن میری کنیت نہ رکھو ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ الْمُنْكَدِرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَّا غُلَامٌ ، فَسَمَّاهُ الْقَاسِمَ ، فَقَالُوا لَا نَكْنِيكَ بِأَبِي الْقَاسِمِ ، وَلَا نُنْعِمُكَ عَيْنًا فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : أَسْمِ ابْنَكَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ .
Narrated Jabir bin `Abdullah: A man among us begot a boy whom he named Al-Qasim. The people said (to him), We will not call you Abul-l-Qasim, nor will we please you by calling you so. The man came to the Prophet and mentioned that to him. The Prophet said to him, Name your son `Abdur-Rahman.
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا کہ میں نے محمد بن المنکدر سے سنا کہ کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے سنا کہ ہم میں سے ایک آدمی کے یہاں بچہ پیدا ہوا تو انہوں نے اس کا نام قاسم رکھا۔ صحابہ نے کہا کہ ہم تمہاری کنیت ابوالقاسم نہیں رکھیں گے اور نہ تیری آنکھ اس کنیت سے پکار کر ٹھنڈی کریں گے۔ وہ شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے اس کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے لڑکے کا نام عبدالرحمٰن رکھ لو۔
6189
Sahih

Chapters

125
01
(1) CHAPTER. Al-Birr (piety, righteousness), and As-Sila (good relations).
احسان اور رشتہ ناطہٰ پروری کی فضیلت
1 Hadith
02
(2) CHAPTER. Who is more entitled to be treated with the best companionship?
رشتہ والوں میں اچھے سلوک کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے ؟
1 Hadith
03
(3) CHAPTER. One should not go for Jihad (fighting in Allah's Cause) without the permission of the parents.
والدین کی اجازت کے بغیر کسی کو جہاد کے لیے نہ جانا چاہیئے
1 Hadith
04
(4) CHAPTER. A man should not abuse his parents.
کوئی شخص اپنے ماں باپ کو گالی گلوچ نہ دے
1 Hadith
05
(5) CHAPTER. The invocation of the person who is dutiful to his parents is fulfilled (i.e., accepted by Allah).
جس شخص نے اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کیا اس کی دعا قبول ہوتی ہے
1 Hadith
06
(6) CHAPTER. To be undutiful to one's parents is one of the greatest sins.
والدین کی نافرمانی بہت ہی بڑے گناہ میں سے ہے
3 Hadith
07
(7) CHAPTER. To be good to a father who is a Mushrik.
والد کافر یا مشرک ہو تب بھی اس کے ساتھ نیک سلوک کرنا
1 Hadith
08
(8) CHAPTER. The kindness shown by a lady who has a husband, to her mother.
اگر خاوند والی مسلمان عورت اپنے کافر ماں کے ساتھ نیک سلوک کرے
2 Hadith
09
(9) CHAPTER. To be good to one's brother who is a Mushrik.
کافرومشرک بھائی کے ساتھ اچھا سلوک کرنا
2 Hadith
10
(10) CHAPTER. The superiority of keeping good relations with one's relatives.
ناطہٰ والوں سے صلہرحمی کی فضیلت
1 Hadith
11
(11) CHAPTER. The sin of Al-Qati (the person who severs the blood of kinship).
قطعرحمی کرنے والے کا گناہ
1 Hadith
12
(12) CHAPTER. Whoever was made wealthy because of keeping good relations with his kith and kin.
ناطہٰ والوں سے نیک سلوک کرنا رزق میں فراخی کا ذریعہ بنتا ہے
2 Hadith
13
(13) CHAPTER. Allah will keep good relations with the one who will keep good relations with his kith and kin.
جو شخص ناطہٰ جوڑے گا اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملاپ رکھے گا
4 Hadith
14
(15) CHAPTER. Al-Wasil (the one who keeps good relations with his kith and kin) is not the one who recompenses the good done to him by his relatives.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا ناطہٰ اگر قائم رکھ کر تروتازہ رکھا جائے ( یعنی ناطہٰ کی رعایت کی جائے ) تو دوسرا بھی ناطہٰ کو تروتازہ رکھے گا ۔
1 Hadith
15
(16) CHAPTER. Whosoever kept good relations with his kith and kin while he was a Mushrik (pagan) and then embraced Islam.
ناطہٰ جوڑنے کے یہ معنی نہیں ہیں کہ صرف بدلہ ادا کر دے
1 Hadith
16
(17) CHAPTER. Whoever allowed a small girl of another person to play with him, or kissed her or had a joke with her.
جس نے کفر کی حالت میں صلہرحمی کی اور پھر اسلام لایا تو اس کا ثواب قائم رہے گا
1 Hadith
17
(18) CHAPTER. To be merciful to one's children kiss them and embrace them.
بچے کے ساتھ رحم و شفقت کرنا ، اسے بوسہ دینا اور گلے سے لگانا
6 Hadith
18
(19) CHAPTER. Allah divided mercy into one hundred parts.
اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کے سو حصے بنائے ہیں
1 Hadith
19
(20) CHAPTER. The killing of one's own children for the fear that they will share his meals.
اولاد کو اس ڈر سے مار ڈالنا کہ ان کو اپنے ساتھ کھلانا پڑے گا
1 Hadith
20
(21) CHAPTER. To take a child in one's lap.
بچے کو گود میں بٹھلانا
1 Hadith
21
(22) CHAPTER. Putting the child on the thigh.
بچے کو ران پر بٹھانا
1 Hadith
22
(23) CHAPTER. To keep one's covenant is a part of Faith.
صحبت کا حق یاد رکھنا ایمان کی نشانی ہے
1 Hadith
23
(24) CHAPTER. The superiority of the one who looks after and sustains an orphan.
یتیم کی پرورش کرنے والے کی فضیلت کا بیان
1 Hadith
24
(25 ) CHAPTER. The one who looks after and works for a widow.
بیوہ عورتوں کی پرورش کرنے والے کا ثواب
1 Hadith
25
(26) CHAPTER. The one who looks after and works for AI-Miskin (a poor person).
مسکین اور محتاجوں کی پرورش کرنے والا
1 Hadith
26
(27) CHAPTER. (What is said regarding) being merciful to the people and to the animals.
انسانوں اور جانوروں سب پر رحم کرنا
6 Hadith
27
(28) CHAPTER. To recommend to be kind to one's neighbour.
پڑوسی کے حقوق کا بیان ۔
2 Hadith
28
(29) CHAPTER. The sin of that person whose neighbour does not feel safe from his evil.
اس شخص کا گناہ جس کا پڑوسی اس کے شرسے امن میں نہ رہتا ہو
1 Hadith
29
(30) CHAPTER. A lady-neighbour should not degrade anything given to her by her lady-neighbour.
کوئی عورت اپنی پڑوسن کے لیے کسی چیز کے دینے کو حقیر نہ سمجھے
4 Hadith
30
(33) CHAPTER. Enjoining all that is Al-Maruf (i.e., Islamic Monotheism and all that Islam has ordained) is considered as a Sadaqa (charitable gift).
جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ پہنچائے
1 Hadith
31
(33) CHAPTER. Enjoining all that is Al-Maruf (i.e., Islamic Monotheism and all that Islam has ordained) is considered as a Sadaqa (charitable gift).
پڑوسیوں میں کون ساپڑوسی مقدم ہے ؟
1 Hadith
32
(34) CHAPTER. Pleasant friendly speech.
ہر نیک کام صدقہ ہے
1 Hadith
33
(35) CHAPTER. To be kind and lenient in all matters.
خوش کلامی کا ثواب ۔
2 Hadith
34
(36) CHAPTER. The co-operation between the believers.
ہر کام میں نرمی اور عمدہ اخلاق اچھی چیز ہے
2 Hadith
35
(37) CHAPTER. The Statement of Allah: “Whosoever intercedes for a good cause will have the reward thereof, and whosoever intercedes for an evil cause will have a share in its burden. And Allah is Ever All-Able to do (and also an All-Witness to) everything. (V.4:85)
۔ ۔ ۔
1 Hadith
36
(38) CHAPTER. The Prophet was neither a Fahish (one who speaks bad words) nor a Mutafahhish (one who speaks obscene evil words to make people laugh).
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سختگو اور بدزبان نہ تھے
4 Hadith
37
(39) CHAPTER. (What is said regarding) good character and generosity and what sort of miserliness is disliked.
خوش خلقی اور سخاوت کا بیان اور بخل کا ناپسندیدہ ہونا
6 Hadith
38
(40) CHAPTER. How should a man be with his family?
آدمی اپنے گھر میں کیا کرتا رہے
1 Hadith
39
(41) CHAPTER. Love is from Allah.
نیک آدمی کی محبت اللہ پاک لوگوں کے دلوں میں ڈال دیتا ہے
1 Hadith
40
(42) CHAPTER. To love for Allah's sake (only).
اللہ کے لیے محبت رکھنے کی فضیلت
1 Hadith
41
(43) CHAPTER. The Statement of Allah: “O you who believe! Let not a group scoff at another group...” (V.49:11)
اللہ تعالیٰ کا فرمان ( سورۃ الحجرات میں )
2 Hadith
42
(44) CHAPTER. What is forbidden as regards calling bad names and cursing.
گالی دینے اور لعنت کرنے کی ممانعت
7 Hadith
43
(45) CHAPTER. What is allowed of mentioning other people, for example, describing somebody as tall or short.
کسی آدمی کی نسبت یہ کہنا کہ لمبا یا چھوٹا ہے ، جائز ہے ( بشرطیکہ اس کی تحقیر کی نیت نہ ہو غیبت نہیں ہے )
1 Hadith
44
(46) CHAPTER. Backbiting, and the Statement of Allah: ...And spy not, neither backbite one another... (V.49:12)
غیبت کا بیان
1 Hadith
45
(47) CHAPTER. The Statement of Prophet : “The best family (house) among the Ansar
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا انصار کے سب گھروں میں فلانا گھرانہ بہتر ہے
1 Hadith
46
(48) CHAPTER. What is allowed as regards backbitings wicked and suspicious people.
مفسد اور شریر لوگوں کی یا جن پرگمان غالب برائی کا ہو ، ان کی غیبت درست ہونا
1 Hadith
47
(49) CHAPTER. An-Namima is one of the great sins. [It means to go about with calumnies (the conveyance of disagreeable false information from one person to another to creat hostility between them)].
چغلخوری کرنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے
1 Hadith
48
(50) CHAPTER. What is disliked of Namima (calumnies).
چغلخوری کی ناپسندیدگی کا بیان
1 Hadith
49
(51) CHAPTER. The Statement of Allah: “...And shun lying speech (false statements).” (V.22:30)
اللہ تعالیٰ کا فرمان ” اے ایمان والو ! جھوٹی بات سے بچو “
1 Hadith
50
(52) CHAPTER. What is said about a double-faced person.
دوغلی بات کرنے والے کے بارے میں جو کہا گیا ہے
1 Hadith
51
(53) CHAPTER. Whoever informs his friend what has been said about him.
جو اپنے ساتھی کو وہ بات بتائے جو اس کے بارے میں کی جاتی ہو
1 Hadith
52
(54) CHAPTER. What is disliked of praising a person.
تعریف میں مبالغہ کرنا منع ، مکروہ ہے
2 Hadith
53
(55) CHAPTER. Whoever praises his brother with that he knows.
اللہ تعالیٰ کا سورۃ النحل میں فرمانا
2 Hadith
54
(57) CHAPTER. Jealousy and mutual estrangement are forbidden.
حسد اور پیٹھ پیچھے برائی کی ممانعت
2 Hadith
55
(58) CHAPTER. The Statement of Allah: “O you who believe! Avoid much suspicion, indeed some suspicions are sins. And spy not, neither backbite one another... (V.49:12)
سورۃ الحجرات میں اللہ کا فرمان
1 Hadith
56
(59) CHAPTER. What sort of suspicion is allowed.
گمان سے کوئی بات کہنا
2 Hadith
57
(60) CHAPTER. (It is recommended that) a believer should conceal what sins he may commit.
مومن کا پنے ( عیب ) پر پردہ ڈالنا
2 Hadith
58
(61) CHAPTER. Pride and arrogance.
تکبر کے بارے میں
2 Hadith
59
(62) CHAPTER. Al-Hijra [(to desert or) cut one's relation with another Muslim (i.e., not to speak to him on meeting him)].
ترک ملاقات کا بیان
5 Hadith
60
(63) CHAPTER. The desertion of a sinful person (disobedient to Allah and His Messenger ).
نافرمانی کرنے والے سے تعلق توڑنے کا جواز
1 Hadith
61
(64) CHAPTER. May a person visit his friend daily, or visit him in the morning and in the evening?
کیا اپنے ساتھی کی ملاقات کے لئے ہر دن جا سکتا ہے یا صبح اور شام ہی کے اوقات میں جائے
1 Hadith
62
(65) CHAPTER. The paying of a visit. And whoever visited some people and ate in their houses.
ملاقات کے لئے جانا اور جو لوگوں سے ملنے گیا اور انہیں کے یہاں کھانا کھایا تو یہ جائز ہے
1 Hadith
63
(66) CHAPTER. Whoever spruced himself up for the delegates.
جس نے لوگوں سے ملاقات کے لیے خوبصورتی اپنائی
1 Hadith
64
(67) CHAPTER. The establishment of a bond of brotherhood and the conclusion of a treaty.
کسی سے بھائی چارہ اور دوستی کا اقرار کرنا
2 Hadith
65
(68) CHAPTER. (What is said about) smiling and laughing.
مسکرانا اور ہنسنا
10 Hadith
66
(69) CHAPTER. The Staement of Allah: “O you who believe! Be afraid of Allah, and be with those who are true (in words and deeds).” (V.9:119) And what is forbidden as regards telling of lies.
اللہ تعالیٰ کا سورۃ الحجرات میں ارشاد فرمانا
3 Hadith
67
(70) CHAPTER. The righteous way or guidance.
اچھے چال چلن کے بارے میں
2 Hadith
68
(71) CHAPTER. To be patient when one is harmed (by others).
تکلیف پر صبر کرنے کا بیان
2 Hadith
69
(72) CHAPTER. Whoever did not admonish people in their faces (i.e., directly).
غصہ میں جن پر عتاب ہے ان کو مخاطب نہ کرنا
2 Hadith
70
(73) CHAPTER. Whoever calls his brother a Kafir (disbeliever) without any grounds, and he does not think that he is such, then he himself is such, what he says.
جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کو جس میں کفر کی وجہ نہ ہو کافر کہے وہ خود کافر ہو جاتا ہے
4 Hadith
71
(74) CHAPTER. Whoever does not consider as Kafir the person who says that (i.e., O Kafir), if he thinks that what he says is true, or if he is ignorant of the seriousness of such saying.
اگر کسی نے کوئی وجہ معقول رکھ کر کسی کو کافر کہا یا نادانستہ تو وہ کافر ہو گا ۔
2 Hadith
72
(75) CHAPTER. What is allowed to say when one is angry or harsh for Allah's sake.
خلاف شرع کام پر غصہ اور سختی کرنا
1 Hadith
73
(75) CHAPTER. What is allowed to say when one is angry or harsh for Allah's sake.
غصہ سے پرہیز کرنا اللہ تعالیٰ کے فرمان ( سورۃ شوریٰ ) کی وجہ سے
7 Hadith
74
(77) CHAPTER. Al-Haya.
حیاء اور شرم کا بیان
3 Hadith
75
(78) CHAPTER. “And if you do not feel ashamed, then do whatever you like.”
جب حیاء نہ ہو تو جو چاہو کرو
1 Hadith
76
(79) CHAPTER. One should not feel shy of the truth in the order to comprehend (the knowledge of) the religion.
شریعت کی باتیں پوچھنے میں شرم نہیں کرنی چایئے ۔
3 Hadith
77
(80) CHAPTER. The statement of the Prophet , “Make things easy for the people and do not make things difficult for them.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ آسانی کرو ، سختی نہ کرو ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں پر تخفیف اور آسانی کو پسند فرمایا کرتے تھے
5 Hadith
78
(81) CHAPTER. To be cheerful with the people.
لوگوں کے ساتھ فراخی سے پیش آنا
2 Hadith
79
(82) CHAPTER. To be gentle and polite with the people.
لوگوں کے ساتھ خاطر تواضع سے پیش آنا
2 Hadith
80
(83) CHAPTER. A believer is not to be stung twice (by something) out of one and the same hole.
مومن ایک سوراخ سے دوبارہ نہیں ڈسا جا سکتا
1 Hadith
81
(84) CHAPTER. The right of the guest.
مہمان کے حق کے بیان میں
1 Hadith
82
(85) CHAPTER. To honour one's guest and to serve him with one's own hands.
مہمان کی عزت اور خود اس کی خدمت کرنا اور اللہ تعالیٰ کے فرمان ” ابراہیم علیہالسلام کے مہمان جن کی عزت کی گئی “ کی تفسیر ۔
4 Hadith
83
(86) CHAPTER. To prepare the meals and to trouble oneself for the guest.
مہمان کے لئے پرتکلف کھانا تیار کرنا
1 Hadith
84
(87) CHAPTER. What is disliked as regards anger and impatience before a guest.
مہمان کے سامنے غصہ اور رنج کا ظاہر کرنا مکروہ ہے
1 Hadith
85
(88) CHAPTER. The saying of a guest to his host: “By Allah, I will not eat till you eat.”
مہمان کو اپنے میزبان سے کہنا کہ جب تک تم ساتھ نہ کھاؤگے میں بھی نہیں کھاؤں گا ۔
1 Hadith
86
(89) CHAPTER. To respect the old ones, and the elder one should start talking or asking.
جو عمر میں بڑا ہو اس کی تعظیم کرنا اورپہلے اسی کو بات کرنے اور پوچھنے دینا
3 Hadith
87
(90) CHAPTER. What kinds of poetry, Rajaz and Huda is allowed and what kinds thereof are disliked.
شعر ، رجز اورحدی خوانی کاجائز ہونا
5 Hadith
88
(91) CHAPTER. Lampooning Al-Mushrikin.
مشرکوں کی ہجو کرنا درست ہے
4 Hadith
89
(92) CHAPTER. It is disliked for one to indulge in poetry to the extent that it diverts him from Allah's remembrance, and from (religious) knowledge and from (recitation of) the Quran.
شعروشاعری میں اس طرح اوقات صرف کرنا منع ہے کہ آدمی اللہ کی یاد اور علم حاصل کرنے اور قرآن شریف کی تلاوت کرنے سے باز رہ جائے ۔ 2
2 Hadith
90
(93) CHAPTER. The statement of the Prophet : Taribat yaminuka (may your right hand be in dust)! an Aqra halqa. (it is just an exclamatory expression, the literal meaning of which is not meant here. It expresses disapproval.)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فر مانا کہ تیرے ہاتھ کو مٹی لگے یا تجھ کو زخم پہنچے ، تیرے حلق میں بیماری ہو ۔
2 Hadith
91
(94) CHAPTER. (What is said regarding) “They assumed or claimed that...”
” زعموا “ کہنے کا بیان
1 Hadith
92
(95) CHAPTER. What is said about one's saying: “Wailaka (woe to you).”
لفظ ” ویلک “ یعنی تجھ پر افسوس ہے کہنا درست ہے ۔
9 Hadith
93
(96) CHAPTER. The signs of loving (others for the sake of) Allah.
اللہ عز وجل کی محبت کس کو کہتے ہیں
4 Hadith
94
(97) CHAPTER. The saying of one man to another: Ikhsa.
کسی کا کسی کو یوں کہنا چل دور ہو
4 Hadith
95
(98) CHAPTER. The saying of somebody to another: “Marhaba (i.e., welcome).
کسی شخص کا مرحبا کہنا
1 Hadith
96
(99) CHAPTER. Calling the people by their father's name (on the Day of Resurrection).
لوگوں کو ان کے باپ کانام لے کر قیامت کے دن بلایا جانا
2 Hadith
97
(100) CHAPTER. One should not say, 'Khabuthat nafsi' (i.e., I have been overcome by nausea).
آدمی کو یہ نہیں کہنا چاہیے کہ میرا نفس پلید ہو گیا
2 Hadith
98
(101) CHAPTER. Do not abuse Ad-Dahr (the Time).
زمانہ کو برا کہنا منع ہے
2 Hadith
99
(102) CHAPTER. The statement of the Prophet : “Al-Karm is only the heart of a believer.”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یوں فرمانا کہ ” کرم “ تو مومن کا دل ہے
1 Hadith
100
(103) CHAPTER. The saying of someone (to another): “Let my father and mother be sacrificed for you.
کسی شخص کا کہنا کہ ” میرے باپ اور ماں تم پر قربان ہوں “ اس میں زبیر نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے
1 Hadith
101
(104) CHAPTER. The saying of somebody (to another): “May Allah sacrifice me for you.”
کسی کا یہ کہنا اللہ مجھے آپ پر قربان کرے اور حضرت ابوبکر رضیاللہعنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا ہم نے آپ پر اپنے باپوں اور ماؤں کو قربان کیا
1 Hadith
102
(105) CHAPTER. The most beloved names to Allah.
اللہ پاک کوکون سے نام زیادہ پسند ہیں اورکسی شخص کا کسی کو یوں کہنا بیٹا
1 Hadith
103
(106) CHAPTER. The statement of the Prophet : “Name yourselves by my name, but do not call yourselves by my Kunyah.”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ میرے نام پر نام رکھو ، لیکن میری کنیت نہ رکھو ۔
3 Hadith
104
(107) CHAPTER. (What is said regarding) the name: Al-Hazn (literally: means hard, rough ground).
” حزن “ نام رکھنا
1 Hadith
105
(108) CHAPTER. To change a name for another name which is better than the first.
کسی برے نام کو بدل کر اچھا نام رکھنا
3 Hadith
106
(109) CHAPTER. Whoever named (his children) by the names of the Prophets.
جس نے انبیاء کے نام پر نام رکھے
6 Hadith
107
(110) CHAPTER. To name 'Al-Walid.'
بچے کا نام ولید رکھنا
1 Hadith
108
(111) CHAPTER. Whoever, while calling a friend, omits a letter from his name.
جس نے اپنے کسی ساتھی کو اس کے نام میں سے کوئی حرف کم کر کے پکارا ۔
2 Hadith
109
(112) CHAPTER. A child may be given AI-Kunyah and one may be given Al-Kunyah before one has children.
بچہ کی کنیت رکھنا اس سے پہلے کہ وہ صاحب اولاد ہو
1 Hadith
110
(113) CHAPTER. To be called Abu Turab (father of dust), though one already has another Kunyah name.
ایک کنیت ہوتے ہوئے دوسری ابوتراب کنیت رکھنا جائز ہے
1 Hadith
111
(114) CHAPTER. The name which is most disliked by Allah.
اللہ کو جو نام بہت ہی زیادہ ناپسند ہیں ان کا بیان
2 Hadith
112
(115) CHAPTER. The Kunyah of Al-Mushrik.
مشرک کی کنیت کا بیان
2 Hadith
113
(116) CHAPTER. AI-Maarid (indirect speech) is a safe way to avoid a lie.
تعریض کے طور پر بات کہنے میں جھوٹ سے بچاؤ ہے
4 Hadith
114
(117) CHAPTER. The description of something by a man as ‘nothing' while he means that it is not true.
کسی شخص کا کسی چیز کے بارے میں یہ کہنا کہ یہ کچھ نہیں اور مقصد یہ ہو کہ اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے
1 Hadith
115
(118) CHAPTER. To raise the sight towards the sky.
آسمان کی طرف نظر اٹھانا
2 Hadith
116
(119) CHAPTER. Whoever dipped a stick in water and mud.
کیچڑ پانی میں لکڑی مارنا
1 Hadith
117
(120) CHAPTER. One may scrape up the ground with something in hand.
کسی شخص کا زمین پر کسی چیز کو مارنا
1 Hadith
118
(121) CHAPTER. The saying of Takbir and Tasbih at the time of wonder.
تعجب کے وقت اللہاکبر اور سبحاناللہ کہنا
2 Hadith
119
(122) CHAPTER. It is forbidden to throw stones (with the thumb and the index or middle finger).
انگلیوں سے پتھر یا کنکری پھینکنے کی ممانعت
1 Hadith
120
(123) CHAPTER. To say Al-Hamdu-lillah (praise be to Allah) on sneezing.
چھینکنے والے کا الحمدللہ کہنا
1 Hadith
121
(124) CHAPTER. Tashmit (i.e., to say Yarhamukallah) to the sneezer if he praises Allah (i.e., if he says, 'Al-Hamdu-lillah')
چھینکنے والا الحمدللہ کہے تو اس کا جواب یرحمکاللہ سے دینا چاہئے یعنی اللہ تجھ پر رحم کرے ۔
1 Hadith
122
(125) CHAPTER. What is liked regarding sneezing, and what is disliked regarding yawning.
چھنیک اچھی ہے اورجمائی میں برائی ہے
1 Hadith
123
(126) CHAPTER. When somebody sneezes, what should one say to him?
چھینکنے والے کا کس طرح جواب دیا جائے ؟
1 Hadith
124
(127) CHAPTER. Tashmit (may Allah be Merciful to you) should not be said to a sneezer if he does not say ‘AI-Hamdu-lillah' (praise be to Allah).
جب چھنیکنے والا الحمدللہ نہ کہے تو اس کے لئے ” یرحمکاللہ “ بھی نہ کہا جائے
1 Hadith
125
(128) CHAPTER. If someone yawns, he should put his hand over his mouth (i.e., cover his mouth).
جب جمائی آئے تو چاہیے کہ منہ پر ہاتھ رکھ لے
1 Hadith
No chapter matched that.