TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of al-adab (good manners). - کتاب اخلاق کے بیان میں - Book 79 of Sahih Bukhari with Urdu and English Translation

Book 79 of Sahih Bukhari, with 125 chapters and 257 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

257 Hadith · 125 Chapters
(107) CHAPTER. (What is said regarding) the name: Al-Hazn (literally: means hard, rough ground).
” حزن “ نام رکھنا
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ أَبَاهُ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَا اسْمُكَ ؟ قَالَ : حَزْنٌ قَالَ : أَنْتَ سَهْلٌ قَالَ : لَا أُغَيِّرُ اسْمًا سَمَّانِيهِ أَبِي قَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ : فَمَا زَالَتِ الْحُزُونَةُ فِينَا بَعْدُ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَمَحْمُودٌ هُوَ ابْنُ غَيْلانَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، بِهَذَا .
Narrated Al-Musaiyab: That his father (Hazn bin Wahb) went to the Prophet and the Prophet asked (him), What is your name? He replied, My name is Hazn. The Prophet said, You are Sahl. Hazn said, I will not change the name with which my father has named me. Ibn Al-Musaiyab added: We have had roughness (in character) ever since. Narrated Al-Musaiyab: on the authority of his father similarly as above (i.e., 209).
ہم سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا، انہوں نے نے کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں سعید بن مسیب نے اور انہیں ان کے والد مسیب رضی اللہ عنہ نے کہ ان کے والد ( حزن بن ابی وہب ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تمہارا نام کیا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ «حزن» ( بمعنی سختی ) ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم «سهل» ( بمعنی نرمی ) ہو، پھر انہوں نے کہا کہ میرا نام میرے والد رکھ گئے ہیں اسے میں نہیں بدلوں گا۔ ابن مسیب رحمہ اللہ بیان کرتے تھے کہ چنانچہ ہمارے خاندان میں بعد تک ہمیشہ سختی اور مصیبت کا دور رہا۔
6190
Sahih
(108) CHAPTER. To change a name for another name which is better than the first.
کسی برے نام کو بدل کر اچھا نام رکھنا
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلٍ ، قَالَ : أُتِيَ بِالْمُنْذِرِ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ وُلِدَ ، فَوَضَعَهُ عَلَى فَخِذِهِ وَأَبُو أُسَيْدٍ جَالِسٌ ، فَلَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَأَمَرَ أَبُو أُسَيْدٍ بِابْنِهِ ، فَاحْتُمِلَ مِنْ فَخِذِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاسْتَفَاقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَيْنَ الصَّبِيُّ ، فَقَالَ أَبُو أُسَيْدٍ : قَلَبْنَاهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : مَا اسْمُهُ ؟ قَالَ : فُلَانٌ . قَالَ : وَلَكِنْ أَسْمِهِ الْمُنْذِرَ ، فَسَمَّاهُ يَوْمَئِذٍ الْمُنْذِرَ .
Narrated Sahl: When Al-Mundhir bin Abu Usaid was born, he was brought to the Prophet who placed him on his thigh. While Abu Usaid was sitting there, the Prophet was busy with something in his hands so Abu Usaid told someone to take his son from the thigh of the Prophet . When the Prophet finished his job (with which he was busy), he said, Where is the boy? Abu Usaid replied, We have sent him home. The Prophet said, What is his name? Abu Usaid said, (His name is) so-and-so. The Prophet said, No, his name is Al-Mundhir. So he called him Al-Mundhir from that day.
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوغسان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوحازم نے بیان کیا اور ان سے سہل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ منذر بن ابی اسید رضی اللہ عنہ کی ولادت ہوئی تو انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بچہ کو اپنی ران پر رکھ لیا۔ ابواسید رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز میں جو سامنے تھی مصروف ہو گئے ( اور بچہ کی طرف توجہ ہٹ گئی ) ۔ ابواسید رضی اللہ عنہ نے بچہ کے متعلق حکم دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ران سے اٹھا لیا گیا۔ پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم متوجہ ہوئے تو فرمایا کہ بچہ کہاں ہے؟ ابواسید رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم نے اسے گھر بھیج دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اس کا نام کیا ہے؟ عرض کیا کہ فلاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، بلکہ اس کا نام منذر ہے۔ چنانچہ اسی دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا یہی نام منذر رکھا۔
6191
Sahih
(108) CHAPTER. To change a name for another name which is better than the first.
کسی برے نام کو بدل کر اچھا نام رکھنا
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ زَيْنَبَ كَانَ اسْمُهَا بَرَّةَ ، فَقِيلَ : تُزَكِّي نَفْسَهَا ، فَسَمَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ .
Narrated Abu Huraira: Zainab's original name was Barrah, but it was said' By that she is giving herself the prestige of piety. So the Prophet changed her name to Zainab.
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو محمد بن جعفر نے خبر دی، انہیں شعبہ نے، انہیں عطاء بن ابی میمونہ نے، انہیں ابورافع نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ ام المؤمنین زینب رضی اللہ عنہا کا نام برہ تھا، کہا جانے لگا کہ وہ اپنی پاکی ظاہر کرتی ہیں۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام زینب رکھا۔
6192
Sahih
(108) CHAPTER. To change a name for another name which is better than the first.
کسی برے نام کو بدل کر اچھا نام رکھنا
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ أَخْبَرَهُمْ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ ، قَالَ : جَلَسْتُ إِلَى سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، فَحَدَّثَنِي أَنَّ جَدَّهُ حَزْنًا قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَا اسْمُكَ ؟ قَالَ : اسْمِي حَزْنٌ . قَالَ : بَلْ أَنْتَ سَهْلٌ . قَالَ : مَا أَنَا بِمُغَيِّرٍ اسْمًا سَمَّانِيهِ أَبِي . قَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ : فَمَا زَالَتْ فِينَا الْحُزُونَةُ بَعْدُ .
Narrated Sa`id bin Al-Musaiyab: That when his grandfather, Hazn visited the Prophet the Prophet said (to him), What is your name? He said, My name is Hazn. The Prophet said, But you are Sahl. He said, I will not change my name with which my father named me. Ibn Al-Musaiyab added: So we have had roughness (in character) ever since.
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا، انہیں ابن جریج نے خبر دی، کہا مجھ کو عبدالحمید بن جبیر بن شیبہ نے خبر دی، کہا کہ میں سعید بن مسیب کے پاس بیٹھا ہوا تھا تو انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ ان کے دادا حزن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تمہارا نام کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ میرا نام حزن ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم سہل ہو، انہوں نے کہا کہ میں تو اپنے باپ کا رکھا ہوا نام نہیں بدلوں گا۔ سعید بن مسیب نے کہا اس کے بعد سے اب تک ہمارے خاندان میں سختی اور مصیبت ہی رہی۔ «حزونة» سے صعوبت مراد ہے۔
6193
Sahih
(109) CHAPTER. Whoever named (his children) by the names of the Prophets.
جس نے انبیاء کے نام پر نام رکھے
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قُلْتُ لِابْنِ أَبِي أَوْفَى : رَأَيْتَ إِبْرَاهِيمَ ابْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَاتَ صَغِيرًا ، وَلَوْ قُضِيَ أَنْ يَكُونَ بَعْدَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيٌّ عَاشَ ابْنُهُ ، وَلَكِنْ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ .
Narrated Isma`il: I asked Abi `Aufa, Did you see Ibrahim, the son of the Prophet ? He said, Yes, but he died in his early childhood. Had there been a Prophet after Muhammad then his son would have lived, but there is no Prophet after him.
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن بشر نے، ان سے اسماعیل بن ابی خالد بجلی نے، کہ میں نے ابن ابی اوفی سے پوچھا۔ تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم کو دیکھا تھا؟ بیان کیا کہ ان کی وفات بچپن ہی میں ہو گئی تھی اور اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی نبی کی آمد ہوتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے زندہ رہتے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔
6194
Sahih
(109) CHAPTER. Whoever named (his children) by the names of the Prophets.
جس نے انبیاء کے نام پر نام رکھے
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ، قَالَ : لَمَّا مَاتَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ لَهُ مُرْضِعًا فِي الْجَنَّةِ .
Narrated Al-Bara: When Ibrahim (the son of the Prophet) died, Allah's Apostle said, There is a wet nurse for him in Paradise.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، انہیں عدی بن ثابت نے کہا کہ میں نے براء رضی اللہ عنہ سے سنا، بیان کیا کہ جب آپ کے فرزند ابراہیم علیہ السلام کا انتقال ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اس کے لیے جنت میں ایک دودھ پلانے والی دایہ مقرر ہو گئی ہے۔“
6195
Sahih
(109) CHAPTER. Whoever named (his children) by the names of the Prophets.
جس نے انبیاء کے نام پر نام رکھے
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : سَمُّوا بِاسْمِي ، وَلَا تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي ، فَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ ، وَرَوَاهُ أَنَسٌ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
Narrated Jabir bin `Abdullah Al-Ansari: Allah's Apostle said, Name yourselves after me (by my name) but do not call (yourselves) by my Kuniya (1), for I am Al-Qasim (distributor), and I distribute among you Allah's blessings. This narration has also come on the authority of Anas that the ! Prophet said so.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حصین بن عبدالرحمٰن نے، ان سے سالم بن ابی الجعد نے اور ان سے جریر بن عبداللہ انصاری نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرے نام پر نام رکھو، لیکن میری کنیت نہ اختیار کرو کیونکہ میں قاسم ( تقسیم کرنے والا ) ہوں اور تمہارے درمیان ( علوم دین کو ) تقسیم کرتا ہوں۔“ اور اس روایت کو انس رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا۔
6196
Sahih
(109) CHAPTER. Whoever named (his children) by the names of the Prophets.
جس نے انبیاء کے نام پر نام رکھے
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَصِينٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : سَمُّوا بِاسْمِي ، وَلَا تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي ، وَمَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَمَثَّلُ فِي صُورَتِي ، وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ .
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, Name yourselves after me (by my name), but do not call yourselves by my Kuniya, and whoever sees me in a dream, he surely sees me, for Satan cannot impersonate me (appear in my figure). And whoever intentionally ascribes something to me falsely, he will surely take his place in the (Hell) Fire.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوحصین نے بیان کیا، ان سے ابوصالح نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم میرے نام پر نام رکھو لیکن تم میری کنیت نہ اختیار کرو اور جس نے مجھے خواب میں دیکھا تو اس نے مجھے ہی دیکھا کیونکہ شیطان میری صورت میں نہیں آ سکتا اور جس نے قصداً میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کی اس نے اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لیا۔“
6197
Sahih
(109) CHAPTER. Whoever named (his children) by the names of the Prophets.
جس نے انبیاء کے نام پر نام رکھے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : وُلِدَ لِي غُلَامٌ فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَمَّاهُ إِبْرَاهِيمَ ، فَحَنَّكَهُ بِتَمْرَةٍ وَدَعَا لَهُ بِالْبَرَكَةِ ، وَدَفَعَهُ إِلَيَّ وَكَانَ أَكْبَرَ وَلَدِ أَبِي مُوسَى .
Narrated Abu Musa: I got a son and I took him to the Prophet who named him Ibrahim, and put in his mouth the juice of a date fruit (which be himself had chewed?, and invoked for Allah's blessing upon him, and then gave him back to me. He was the eldest son of Abii Musa.
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے برید بن عبداللہ بن ابی بردہ نے، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرے یہاں ایک بچہ پیدا ہوا تو میں اسے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام ابراہیم رکھا اور ایک کھجور اپنے دہان مبارک میں نرم کر کے اس کے منہ میں ڈالی اور اس کے لیے برکت کی دعا کی پھر اسے مجھے دے دیا۔ یہ ابوموسیٰ کی بڑی اولاد تھی۔
6198
Sahih
(109) CHAPTER. Whoever named (his children) by the names of the Prophets.
جس نے انبیاء کے نام پر نام رکھے
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عِلَاقَةَ ، سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ، قَالَ : انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ، رَوَاهُ أَبُو بَكْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
Narrated Al-Mughira bin Shuba: Solar eclipse occurred on the day of Ibrahim's death (the Prophet's son).
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے زائدہ نے، کہا ہم سے زیاد بن علاقہ نے، کہا ہم نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے سنا، بیان کیا کہ جس دن ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی اس دن سورج گرہن ہوا تھا۔ اس کو ابوبکرہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔
6199
Sahih
(110) CHAPTER. To name 'Al-Walid.'
بچے کا نام ولید رکھنا
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : لَمَّا رَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ قَالَ : اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ ، وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ ، وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ ، وَالْمُسْتَضْعَفِينَ بِمَكَّةَ ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ ، اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ .
Narrated Abu Hurairah (ra): When the Prophet (saws) (once) raised his head after bowing [in the Salat (prayer)] he said, O Allah, save Al-Walid bin Al-Walid and Salama bin Hisham and 'Aiyyash bin Abu Rabi'a and the helpless weak believers of Makkah. O Allah, be hard on the tribe of Mudar. O Allah, send on them (famine-drought) years like the (famine-drought) years of (the Prophet) Yusuf (Joseph).
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے سعید نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر مبارک رکوع سے اٹھایا تو یہ دعا کی «اللهم أنج الوليد بن الوليد وسلمة بن هشام،‏‏‏‏ وعياش بن أبي ربيعة،‏‏‏‏ والمستضعفين بمكة» ”اے اللہ! ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابی ربیعہ اور مکہ میں دیگر موجود کمزور مسلمانوں کو نجات دیدے۔“ «اللهم اشدد وطأتك على مضر،‏‏‏‏ اللهم اجعلها عليهم سنين كسني يوسف» ”اے اللہ! قبیلہ مضر کے کفاروں کو سخت پکڑ، اے اللہ! ان پر یوسف علیہ السلام کے زمانہ جیسا قحط نازل فرما۔“
6200
Sahih
(111) CHAPTER. Whoever, while calling a friend, omits a letter from his name.
جس نے اپنے کسی ساتھی کو اس کے نام میں سے کوئی حرف کم کر کے پکارا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا عَائِشَ ، هَذَا جِبْرِيلُ يُقْرِئُكِ السَّلَامَ ، قُلْتُ : وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ، قَالَتْ : وَهُوَ يَرَى مَا لَا نَرَى .
Narrated `Aisha: (the wife the Prophet) Allah's Apostle said, O Aisha! This is Gabriel sending his greetings to you. I said, Peace, and Allah's Mercy be on him. `Aisha added: The Prophet used to see things which we used not to see.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”یا عائش! یہ جبرائیل علیہ السلام ہیں اور تمہیں سلام کہتے ہیں۔“ میں نے کہا اور ان پر بھی سلام اور اللہ کی رحمت ہو۔ بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہ چیزیں دیکھتے تھے جو ہم نہیں دیکھتے تھے۔
6201
Sahih
(111) CHAPTER. Whoever, while calling a friend, omits a letter from his name.
جس نے اپنے کسی ساتھی کو اس کے نام میں سے کوئی حرف کم کر کے پکارا ۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ فِي الثَّقَلِ وَأَنْجَشَةُ غُلَامُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسُوقُ بِهِنَّ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا أَنْجَشُ رُوَيْدَكَ ، سَوْقَكَ بِالْقَوَارِيرِ .
Narrated Anas: Once Um Sulaim was (with the women who were) in charge of the luggage on a journey, and Anjashah, the slave of the Prophet, was driving their camels (very fast). The Prophet said, O Anjash! Drive slowly (the camels) with the glass vessels (i.e., ladies).
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا مسافروں کے سامان کے ساتھ تھیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام انجشہ عورتوں کے اونٹ کو ہانک رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”انجش! ذرا اس طرح آہستگی سے لے چل جیسے شیشوں کو لے کر جاتا ہے۔“
6202
Sahih
(112) CHAPTER. A child may be given AI-Kunyah and one may be given Al-Kunyah before one has children.
بچہ کی کنیت رکھنا اس سے پہلے کہ وہ صاحب اولاد ہو
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا ، وَكَانَ لِي أَخٌ يُقَالُ لَهُ : أَبُو عُمَيْرٍ قَالَ : أَحْسِبُهُ فَطِيمًا ، وَكَانَ إِذَا جَاءَ قَالَ : يَا أَبَا عُمَيْرٍ ، مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ ؟ نُغَرٌ كَانَ يَلْعَبُ بِهِ ، فَرُبَّمَا حَضَرَ الصَّلَاةَ وَهُوَ فِي بَيْتِنَا ، فَيَأْمُرُ بِالْبِسَاطِ الَّذِي تَحْتَهُ فَيُكْنَسُ وَيُنْضَحُ ، ثُمَّ يَقُومُ وَنَقُومُ خَلْفَهُ ، فَيُصَلِّي بِنَا .
Narrated Anas: The Prophet was the best of all the people in character. I had a brother called Abu `Umar, who, I think, had been newly weaned. Whenever he (that child) was brought to the Prophet the Prophet used to say, O Abu `Umar! What did Al-Nughair (nightingale) (do)? It was a nightingale with which he used to play. Sometimes the time of the Prayer became due while he (the Prophet) was in our house. He would order that the carpet underneath him be swept and sprayed with water, and then he would stand up (for the prayer) and we would line up behind him, and he would lead us in prayer.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے ابوالتیاح نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حسن اخلاق میں سب لوگوں سے بڑھ کر تھے، میرا ایک بھائی ابوعمیر نامی تھا۔ بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ بچہ کا دودھ چھوٹ چکا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب تشریف لاتے تو اس سے مزاحاً فرماتے «يا أبا عمير ما فعل النغير» اکثر ایسا ہوتا کہ نماز کا وقت ہو جاتا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر میں ہوتے۔ آپ اس بستر کو بچھانے کا حکم دیتے جس پر آپ بیٹھے ہوئے ہوتے، چنانچہ اسے جھاڑ کر اس پر پانی چھڑک دیا جاتا۔ پھر آپ کھڑے ہوتے اور ہم آپ کے پیچھے کھڑے ہوتے اور آپ ہمیں نماز پڑھاتے۔
6203
Sahih
(113) CHAPTER. To be called Abu Turab (father of dust), though one already has another Kunyah name.
ایک کنیت ہوتے ہوئے دوسری ابوتراب کنیت رکھنا جائز ہے
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : إِنْ كَانَتْ أَحَبَّ أَسْمَاءِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَيْهِ لَأَبُو تُرَابٍ ، وَإِنْ كَانَ لَيَفْرَحُ أَنْ يُدْعَى بِهَا ، وَمَا سَمَّاهُ أَبُو تُرَابٍ إِلَّا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَاضَبَ يَوْمًا فَاطِمَةَ ، فَخَرَجَ فَاضْطَجَعَ إِلَى الْجِدَارِ إِلَى الْمَسْجِدِ ، فَجَاءَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتْبَعُهُ ، فَقَالَ : هُوَ ذَا مُضْطَجِعٌ فِي الْجِدَارِ ، فَجَاءَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَامْتَلَأَ ظَهْرُهُ تُرَابًا ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ التُّرَابَ عَنْ ظَهْرِهِ وَيَقُولُ : اجْلِسْ يَا أَبَا تُرَابٍ .
Narrated Sahl bin Sa`d: The most beloved names to `Ali was Abu Turab, and he used to be pleased when we called him by it, for none named him Abu Turab (for the first time), but the Prophet. Once `Ali got angry with (his wife) Fatima, and went out (of his house) and slept near a wall in the mosque. The Prophet came searching for him, and someone said, He is there, Lying near the wall. The Prophet came to him while his (`Ali's) back was covered with dust. The Prophet started removing the dust from his back, saying, Get up, O Abu Turab!
ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے ابوحازم نے بیان کیا، ان سے سہل بن سعد نے کہ علی رضی اللہ عنہ کو ان کی کنیت ابوتراب سب سے زیادہ پیاری تھی اور اس کنیت سے انہیں پکارا جاتا تو بہت خوش ہوتے تھے کیونکہ یہ کنیت ابوتراب خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھی تھی۔ ایک دن فاطمہ رضی اللہ عنہا سے خفا ہو کر وہ باہر چلے آئے اور مسجد کی دیوار کے پاس لیٹ گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے آئے اور فرمایا کہ یہ تو دیوار کے پاس لیٹے ہوئے ہیں۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو علی رضی اللہ عنہ کی پیٹھ مٹی سے بھر چکی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی پیٹھ سے مٹی جھاڑتے ہوئے ( پیار سے ) فرمانے لگے ابوتراب اٹھ جاؤ۔
6204
Sahih
(114) CHAPTER. The name which is most disliked by Allah.
اللہ کو جو نام بہت ہی زیادہ ناپسند ہیں ان کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَخْنَى الْأَسْمَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ اللَّهِ رَجُلٌ تَسَمَّى مَلِكَ الْأَمْلَاكِ .
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, The most awful name in Allah's sight on the Day of Resurrection, will be (that of) a man calling himself Malik Al-Amlak (the king of kings).
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے بدترین نام اس کا ہو گا جو اپنا نام ملک الاملاک ( شہنشاہ ) رکھے۔“
6205
Sahih
(114) CHAPTER. The name which is most disliked by Allah.
اللہ کو جو نام بہت ہی زیادہ ناپسند ہیں ان کا بیان
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، رِوَايَةً قَالَ : أَخْنَعُ اسْمٍ عِنْدَ اللَّهِ ، وَقَالَ سُفْيَانُ غَيْرَ مَرَّةٍ : أَخْنَعُ الْأَسْمَاءِ عِنْدَ اللَّهِ رَجُلٌ تَسَمَّى بِمَلِكِ الْأَمْلَاكِ ، قَالَ سُفْيَانُ : يَقُولُ غَيْرُهُ تَفْسِيرُهُ شَاهَانْ شَاهْ .
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, The most awful (meanest) name in Allah's sight. Sufyan said more than once, The most awful (meanest) name in Allah's sight is (that of) a man calling himself king of kings. Sufyan said, Somebody else (i.e. other than Abu Az-Zinad, a sub-narrator) says: What is meant by 'The king of kings' is 'Shahan Shah.,
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے نزدیک سب سے بدترین نام۔ اور کبھی سفیان نے ایک سے زیادہ مرتبہ یہ روایت اس طرح بیان کیا کہ اللہ کے نزدیک سب سے بدترین ناموں ( جمع کے صیغے کے ساتھ ) میں اس کا نام ہو گا جو ”ملک الاملاک“ اپنا نام رکھے گا۔ سفیان نے بیان کیا کہ ابوالزناد کے غیر نے کہا کہ اس کا مفہوم ہے ”شاہان شاہ“۔
6206
Sahih
(115) CHAPTER. The Kunyah of Al-Mushrik.
مشرک کی کنیت کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ . ح حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَخِي ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكِبَ عَلَى حِمَارٍ عَلَيْهِ قَطِيفَةٌ فَدَكِيَّةٌ وَأُسَامَةُ وَرَاءَهُ يَعُودُ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ فِي بَنِي حَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ قَبْلَ وَقْعَةِ بَدْرٍ ، فَسَارَا حَتَّى مَرَّا بِمَجْلِسٍ فِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ، فَإِذَا فِي الْمَجْلِسِ أَخْلَاطٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُشْرِكِينَ عَبَدَةِ الْأَوْثَانِ وَالْيَهُودِ ، وَفِي الْمُسْلِمِينَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ ، فَلَمَّا غَشِيَتِ الْمَجْلِسَ عَجَاجَةُ الدَّابَّةِ ، خَمَّرَ ابْنُ أُبَيٍّ أَنْفَهُ بِرِدَائِهِ وَقَالَ : لَا تُغَبِّرُوا عَلَيْنَا ، فَسَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ ، ثُمَّ وَقَفَ فَنَزَلَ فَدَعَاهُمْ إِلَى اللَّهِ ، وَقَرَأَ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ : أَيُّهَا الْمَرْءُ لَا أَحْسَنَ مِمَّا تَقُولُ ، إِنْ كَانَ حَقًّا فَلَا تُؤْذِنَا بِهِ فِي مَجَالِسِنَا ، فَمَنْ جَاءَكَ فَاقْصُصْ عَلَيْهِ . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَاغْشَنَا فِي مَجَالِسِنَا فَإِنَّا نُحِبُّ ذَلِكَ ، فَاسْتَبَّ الْمُسْلِمُونَ وَالْمُشْرِكُونَ وَالْيَهُودُ حَتَّى كَادُوا يَتَثَاوَرُونَ ، فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَفِّضُهُمْ حَتَّى سَكَتُوا ، ثُمَّ رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَابَّتَهُ ، فَسَارَ حَتَّى دَخَلَ عَلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيْ سَعْدُ ، أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالَ أَبُو حُباب ؟ يُرِيدُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ ، قَالَ : كَذَا وَكَذَا ، فَقَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ : أَيْ رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ اعْفُ عَنْهُ وَاصْفَحْ ، فَوَالَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ لَقَدْ جَاءَ اللَّهُ بِالْحَقِّ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ ، وَلَقَدِ اصْطَلَحَ أَهْلُ هَذِهِ الْبَحْرَةِ عَلَى أَنْ يُتَوِّجُوهُ وَيُعَصِّبُوهُ بِالْعِصَابَةِ ، فَلَمَّا رَدَّ اللَّهُ ذَلِكَ بِالْحَقِّ الَّذِي أَعْطَاكَ شَرِقَ بِذَلِكَ فَذَلِكَ فَعَلَ بِهِ مَا رَأَيْتَ ، فَعَفَا عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ يَعْفُونَ عَنِ الْمُشْرِكِينَ وَأَهْلِ الْكِتَابِ كَمَا أَمَرَهُمُ اللَّهُ ، وَيَصْبِرُونَ عَلَى الْأَذَى ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى : وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ سورة آل عمران آية 186 الْآيَةَ وَقَالَ : وَدَّ كَثِيرٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ سورة البقرة آية 109 ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَأَوَّلُ فِي الْعَفْوِ عَنْهُمْ مَا أَمَرَهُ اللَّهُ بِهِ حَتَّى أَذِنَ لَهُ فِيهِمْ ، فَلَمَّا غَزَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدْرًا ، فَقَتَلَ اللَّهُ بِهَا مَنْ قَتَلَ مِنْ صَنَادِيدِ الْكُفَّارِ وَسَادَةِ قُرَيْشٍ ، فَقَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ مَنْصُورِينَ غَانِمِينَ مَعَهُمْ أُسَارَى مِنْ صَنَادِيدِ الْكُفَّارِ ، وَسَادَةِ قُرَيْشٍ . قَالَ ابْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ وَمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ عَبَدَةِ الْأَوْثَانِ : هَذَا أَمْرٌ قَدْ تَوَجَّهَ ، فَبَايِعُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْإِسْلَامِ ، فَأَسْلَمُوا .
Narrated Usama bin Zaid: That Allah's Apostle rode over a donkey covered with a Fadakiya (velvet sheet) and Usama was riding behind him. He was visiting Sa`d bin 'Ubada (who was sick) in the dwelling place of Bani Al-Harith bin Al-Khazraj and this incident happened before the battle of Badr. They proceeded till they passed by a gathering in which `Abdullah bin Ubai bin Salul was present., and that was before `Abdullah bin Ubat embraced Islam. In that gathering there were Muslims, pagan idolators and Jews, and among the Muslims there was `Abdullah bin Rawaha. When a cloud of dust raised by (the movement of ) the animal covered that gathering, `Abdullah bin Ubai covered his nose with his garment and said, Do not cover us with dust. Allah's Apostle greeted them, stopped, dismounted and invited them to Allah (i.e. to embrace Islam) and recited to them the Holy Qur'an. On that `Abdullah bin Ubai bin Salul said to him, O man! There is nothing better than what you say, if it is the truth. So do not trouble us with it in our gatherings, but if somebody comes to you, you can preach to him. On that `Abdullah bin Rawaha said Yes, O Allah's Apostle! Call on us in our gathering, for we love that. So the Muslims, the pagans and the Jews started abusing one another till they were about to fight with one another. Allah's Apostle kept on quietening them till all of them became quiet, and then Allah's Apostle rode his animal and proceeded till he entered upon Sa`d bin 'Ubada. Allah's Apostle said, O Sa`d! Didn't you hear what Abu Habab said? (meaning `Abdullah bin Unbar). He said so-and-so. Sa`d bin Ubada said, O Allah's Apostle! Let my father be sacrificed for you ! Excuse and forgive him for, by Him Who revealed to you the Book, Allah sent the Truth which was revealed to you at the time when the people of this town had decided to crown him (`Abdullah bin Ubai) as their ruler. So when Allah had prevented that with the Truth He had given you, he was choked by that, and that caused him to behave in such an impolite manner which you had noticed. So Allah's Apostle excused him. (It was the custom of) Allah's Apostle and his companions to excuse the pagans and the people of the scripture (Christians and Jews) as Allah ordered them, and they used to be patient when annoyed (by them). Allah said: 'You shall certainly hear much that will grieve you from those who received the Scripture before you.....and from the pagans (3.186) He also said: 'Many of the people of the scripture wish that if they could turn you away as disbelievers after you have believed. .... (2.109) So Allah's Apostle used to apply what Allah had ordered him by excusing them till he was allowed to fight against them. When Allah's Apostle had fought the battle of Badr and Allah killed whomever He killed among the chiefs of the infidels and the nobles of Quraish, and Allah's Apostle and his companions had returned with victory and booty, bringing with them some of the chiefs of the infidels and the nobles of the Quraish as captives. `Abdullah bin Ubai bin Salul and the pagan idolators who were with him, said, This matter (Islam) has now brought out its face (triumphed), so give Allah's Apostle the pledge of allegiance (for embracing Islam.) . Then they became Muslims.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے (دوسری سند) اور ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے میرے بھائی عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے سلیمان نے بیان کیا، ان سے محمد بن ابی عتیق نے بیان کیا، ان سے ابن ابی شہاب نے بیان کیا، ان سے عروہ بن زبیر نے اور انہیں اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گدھے پر سوار ہوئے جس پر فدک کا بنا ہوا ایک کپڑا بچھا ہوا تھا، اسامہ آپ کے پیچھے سوار تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنی حارث بن خزرج میں سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے تشریف لے جا رہے تھے، یہ واقعہ غزوہ بدر سے پہلے کا ہے یہ دونوں روانہ ہوئے اور راستے میں ایک مجلس سے گزرے جس میں عبداللہ بن ابی ابن سلول بھی تھا۔ عبداللہ نے ابھی تک اپنے اسلام کا اعلان نہیں کیا تھا۔ اس مجلس میں کچھ مسلمان بھی تھے۔ بتوں کی پرستش کرنے والے کچھ مشرکین بھی تھے اور کچھ یہودی بھی تھے۔ مسلمان شرکاء میں عبداللہ بن رواحہ بھی تھے۔ جب مجلس پر ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ) سواری کا غبار اڑ کر پڑا تو عبداللہ بن ابی نے اپنی چادر ناک پر رکھ لی اور کہنے لگا کہ ہم پر غبار نہ اڑاؤ، اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( قریب پہنچنے کے بعد ) انہیں سلام کیا اور کھڑے ہو گئے۔ پھر سواری سے اتر کر انہیں اللہ کی طرف بلایا اور قرآن مجید کی آیتیں انہیں پڑھ کر سنائیں۔ اس پر عبداللہ بن ابی ابن سلول نے کہا کہ بھلے آدمی جو کلام تم نے پڑھا اس سے بہتر کلام نہیں ہو سکتا۔ اگرچہ واقعی یہ حق ہے مگر ہماری مجلسوں میں آ کر اس کی وجہ سے ہمیں تکلیف نہ دیا کرو۔ جو تمہارے پاس جائے بس اس کو یہ قصے سنا دیا کرو۔ عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ضرور، یا رسول اللہ! آپ ہماری مجلسوں میں بھی تشریف لایا کریں کیونکہ ہم اسے پسند کرتے ہیں۔ اس معاملہ پر مسلمانوں، مشرکوں اور یہودیوں کا جھگڑا ہو گیا اور قریب تھا کہ ایک دوسرے کے خلاف ہاتھ اٹھا دیں۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں خاموش کرتے رہے آخر جب سب لوگ خاموش ہو گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر بیٹھے اور روانہ ہوئے۔ جب سعد بن عبادہ کے یہاں پہنچے تو ان سے فرمایا کہ اے سعد! تم نے نہیں سنا آج ابوحباب نے کس طرح باتیں کی ہیں۔ آپ کا اشارہ عبداللہ بن ابی کی طرف تھا کہ اس نے یہ باتیں کہی ہیں سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ بولے، میرا باپ آپ پر صدقے ہو، یا رسول اللہ! آپ اسے معاف فرما دیں اور اس سے درگذر فرمائیں، اس ذات کی قسم جس نے آپ پر کتاب نازل کی ہے اللہ نے آپ کو سچا کلام دے کر یہاں بھیجا جو آپ پر اتارا۔ آپ کے تشریف لانے سے پہلے اس شہر ( مدینہ منورہ ) کے باشندے اس پر متفق ہو گئے تھے کہ اسے ( عبداللہ بن ابی کو ) شاہی تاج پہنا دیں اور شاہی عمامہ باندھ دیں لیکن اللہ نے سچا کلام دے کر آپ کو یہاں بھیج دیا اور یہ تجویز موقوف رہی تو وہ اس کی وجہ سے چڑ گیا اور جو کچھ آپ نے آج ملاحظہ کیا، وہ اسی جلن کی وجہ سے ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن ابی کو معاف کر دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ، مشرکین اور اہل کتاب سے جیسا کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ درگزر کیا کرتے تھے اور ان کی طرف سے پہنچنے والی تکلیفوں پر صبر کیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے بھی ارشاد فرمایا ہے کہ ”تم ان لوگوں سے جنہیں کتاب دی گئی ہے ( اذیت دہ باتیں ) سنو گے۔“ دوسرے موقع پر ارشاد فرمایا ”بہت سے اہل کتاب خواہش رکھتے ہیں۔“ الخ۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں معاف کرنے کے لیے اللہ کے حکم کے مطابق توجیہ کیا کرتے تھے۔ بالآخر آپ کو ( جنگ کی ) اجازت دی گئی۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بدر کیا اور اللہ کے حکم سے اس میں کفار کے بڑے بڑے بہادر اور قریش کے سردار قتل کئے گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ فتح مند اور غنیمت کا مال لیے ہوئے واپس ہوئے، ان کے ساتھ کفار قریش کے کتنے ہی بہادر سردار قید بھی کر کے لائے تو اس وقت عبداللہ بن ابی بن سلول اور اس کے بت پرست مشرک ساتھی کہنے لگے کہ اب ان کا کام جم گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کر لو، اس وقت انہوں نے اسلام پر بیعت کی اور بظاہر مسلمان ہو گئے ( مگر دل میں نفاق رہا ) ۔
6207
Sahih
(115) CHAPTER. The Kunyah of Al-Mushrik.
مشرک کی کنیت کا بیان
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ نَفَعْتَ أَبَا طَالِبٍ بِشَيْءٍ ؟ فَإِنَّهُ كَانَ يَحُوطُكَ وَيَغْضَبُ لَكَ ، قَالَ : نَعَمْ ، هُوَ فِي ضَحْضَاحٍ مِنْ نَارٍ ، لَوْلَا أَنَا لَكَانَ فِي الدَّرَكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ .
Narrated `Abdullah bin Al-Harith bin Naufal: `Abbas bin `Abdul Muttalib said, O Allah's Apostle! Did you benefit Abu Talib with anything as he used to protect and take care of you, and used to become angry for you? The Prophet said, Yes, he is in a shallow place of Fire. But for me he would have been in the lowest part of the Fire.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالملک نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن حارث بن نوفل نے اور ان سے عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے کہ انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ نے جناب ابوطالب کو ان کی وفات کے بعد کوئی فائدہ پہنچایا، وہ آپ کی حفاظت کیا کرتے تھے اور آپ کے لیے لوگوں پر غصہ ہوا کرتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں وہ دوزخ میں اس جگہ پر ہیں جہاں ٹخنوں تک آگ ہے اگر میں نہ ہوتا تو وہ دوزخ کے نیچے کے طبقے میں رہتے۔
6208
Sahih
(116) CHAPTER. AI-Maarid (indirect speech) is a safe way to avoid a lie.
تعریض کے طور پر بات کہنے میں جھوٹ سے بچاؤ ہے
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ لَهُ فَحَدَا الْحَادِي ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ارْفُقْ يَا أَنْجَشَةُ وَيْحَكَ بِالْقَوَارِيرِ .
Narrated Anas bin Malik: Once the Prophet was on one of his journeys, and the driver of the camels started chanting (to let the camels go fast). The Prophet said to him. (Take care) Drive slowly with the glass vessels, O Anjasha! Waihaka (May Allah be Merciful to you).
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، ان سے ثابت بنانی نے، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے، راستہ میں حدی خواں نے حدی پڑھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے انجشہ! شیشوں کو آہستہ آہستہ لے کر چل، تجھ پر افسوس۔“
6209
Sahih

Chapters

125
01
(1) CHAPTER. Al-Birr (piety, righteousness), and As-Sila (good relations).
احسان اور رشتہ ناطہٰ پروری کی فضیلت
1 Hadith
02
(2) CHAPTER. Who is more entitled to be treated with the best companionship?
رشتہ والوں میں اچھے سلوک کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے ؟
1 Hadith
03
(3) CHAPTER. One should not go for Jihad (fighting in Allah's Cause) without the permission of the parents.
والدین کی اجازت کے بغیر کسی کو جہاد کے لیے نہ جانا چاہیئے
1 Hadith
04
(4) CHAPTER. A man should not abuse his parents.
کوئی شخص اپنے ماں باپ کو گالی گلوچ نہ دے
1 Hadith
05
(5) CHAPTER. The invocation of the person who is dutiful to his parents is fulfilled (i.e., accepted by Allah).
جس شخص نے اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کیا اس کی دعا قبول ہوتی ہے
1 Hadith
06
(6) CHAPTER. To be undutiful to one's parents is one of the greatest sins.
والدین کی نافرمانی بہت ہی بڑے گناہ میں سے ہے
3 Hadith
07
(7) CHAPTER. To be good to a father who is a Mushrik.
والد کافر یا مشرک ہو تب بھی اس کے ساتھ نیک سلوک کرنا
1 Hadith
08
(8) CHAPTER. The kindness shown by a lady who has a husband, to her mother.
اگر خاوند والی مسلمان عورت اپنے کافر ماں کے ساتھ نیک سلوک کرے
2 Hadith
09
(9) CHAPTER. To be good to one's brother who is a Mushrik.
کافرومشرک بھائی کے ساتھ اچھا سلوک کرنا
2 Hadith
10
(10) CHAPTER. The superiority of keeping good relations with one's relatives.
ناطہٰ والوں سے صلہرحمی کی فضیلت
1 Hadith
11
(11) CHAPTER. The sin of Al-Qati (the person who severs the blood of kinship).
قطعرحمی کرنے والے کا گناہ
1 Hadith
12
(12) CHAPTER. Whoever was made wealthy because of keeping good relations with his kith and kin.
ناطہٰ والوں سے نیک سلوک کرنا رزق میں فراخی کا ذریعہ بنتا ہے
2 Hadith
13
(13) CHAPTER. Allah will keep good relations with the one who will keep good relations with his kith and kin.
جو شخص ناطہٰ جوڑے گا اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملاپ رکھے گا
4 Hadith
14
(15) CHAPTER. Al-Wasil (the one who keeps good relations with his kith and kin) is not the one who recompenses the good done to him by his relatives.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا ناطہٰ اگر قائم رکھ کر تروتازہ رکھا جائے ( یعنی ناطہٰ کی رعایت کی جائے ) تو دوسرا بھی ناطہٰ کو تروتازہ رکھے گا ۔
1 Hadith
15
(16) CHAPTER. Whosoever kept good relations with his kith and kin while he was a Mushrik (pagan) and then embraced Islam.
ناطہٰ جوڑنے کے یہ معنی نہیں ہیں کہ صرف بدلہ ادا کر دے
1 Hadith
16
(17) CHAPTER. Whoever allowed a small girl of another person to play with him, or kissed her or had a joke with her.
جس نے کفر کی حالت میں صلہرحمی کی اور پھر اسلام لایا تو اس کا ثواب قائم رہے گا
1 Hadith
17
(18) CHAPTER. To be merciful to one's children kiss them and embrace them.
بچے کے ساتھ رحم و شفقت کرنا ، اسے بوسہ دینا اور گلے سے لگانا
6 Hadith
18
(19) CHAPTER. Allah divided mercy into one hundred parts.
اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کے سو حصے بنائے ہیں
1 Hadith
19
(20) CHAPTER. The killing of one's own children for the fear that they will share his meals.
اولاد کو اس ڈر سے مار ڈالنا کہ ان کو اپنے ساتھ کھلانا پڑے گا
1 Hadith
20
(21) CHAPTER. To take a child in one's lap.
بچے کو گود میں بٹھلانا
1 Hadith
21
(22) CHAPTER. Putting the child on the thigh.
بچے کو ران پر بٹھانا
1 Hadith
22
(23) CHAPTER. To keep one's covenant is a part of Faith.
صحبت کا حق یاد رکھنا ایمان کی نشانی ہے
1 Hadith
23
(24) CHAPTER. The superiority of the one who looks after and sustains an orphan.
یتیم کی پرورش کرنے والے کی فضیلت کا بیان
1 Hadith
24
(25 ) CHAPTER. The one who looks after and works for a widow.
بیوہ عورتوں کی پرورش کرنے والے کا ثواب
1 Hadith
25
(26) CHAPTER. The one who looks after and works for AI-Miskin (a poor person).
مسکین اور محتاجوں کی پرورش کرنے والا
1 Hadith
26
(27) CHAPTER. (What is said regarding) being merciful to the people and to the animals.
انسانوں اور جانوروں سب پر رحم کرنا
6 Hadith
27
(28) CHAPTER. To recommend to be kind to one's neighbour.
پڑوسی کے حقوق کا بیان ۔
2 Hadith
28
(29) CHAPTER. The sin of that person whose neighbour does not feel safe from his evil.
اس شخص کا گناہ جس کا پڑوسی اس کے شرسے امن میں نہ رہتا ہو
1 Hadith
29
(30) CHAPTER. A lady-neighbour should not degrade anything given to her by her lady-neighbour.
کوئی عورت اپنی پڑوسن کے لیے کسی چیز کے دینے کو حقیر نہ سمجھے
4 Hadith
30
(33) CHAPTER. Enjoining all that is Al-Maruf (i.e., Islamic Monotheism and all that Islam has ordained) is considered as a Sadaqa (charitable gift).
جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ پہنچائے
1 Hadith
31
(33) CHAPTER. Enjoining all that is Al-Maruf (i.e., Islamic Monotheism and all that Islam has ordained) is considered as a Sadaqa (charitable gift).
پڑوسیوں میں کون ساپڑوسی مقدم ہے ؟
1 Hadith
32
(34) CHAPTER. Pleasant friendly speech.
ہر نیک کام صدقہ ہے
1 Hadith
33
(35) CHAPTER. To be kind and lenient in all matters.
خوش کلامی کا ثواب ۔
2 Hadith
34
(36) CHAPTER. The co-operation between the believers.
ہر کام میں نرمی اور عمدہ اخلاق اچھی چیز ہے
2 Hadith
35
(37) CHAPTER. The Statement of Allah: “Whosoever intercedes for a good cause will have the reward thereof, and whosoever intercedes for an evil cause will have a share in its burden. And Allah is Ever All-Able to do (and also an All-Witness to) everything. (V.4:85)
۔ ۔ ۔
1 Hadith
36
(38) CHAPTER. The Prophet was neither a Fahish (one who speaks bad words) nor a Mutafahhish (one who speaks obscene evil words to make people laugh).
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سختگو اور بدزبان نہ تھے
4 Hadith
37
(39) CHAPTER. (What is said regarding) good character and generosity and what sort of miserliness is disliked.
خوش خلقی اور سخاوت کا بیان اور بخل کا ناپسندیدہ ہونا
6 Hadith
38
(40) CHAPTER. How should a man be with his family?
آدمی اپنے گھر میں کیا کرتا رہے
1 Hadith
39
(41) CHAPTER. Love is from Allah.
نیک آدمی کی محبت اللہ پاک لوگوں کے دلوں میں ڈال دیتا ہے
1 Hadith
40
(42) CHAPTER. To love for Allah's sake (only).
اللہ کے لیے محبت رکھنے کی فضیلت
1 Hadith
41
(43) CHAPTER. The Statement of Allah: “O you who believe! Let not a group scoff at another group...” (V.49:11)
اللہ تعالیٰ کا فرمان ( سورۃ الحجرات میں )
2 Hadith
42
(44) CHAPTER. What is forbidden as regards calling bad names and cursing.
گالی دینے اور لعنت کرنے کی ممانعت
7 Hadith
43
(45) CHAPTER. What is allowed of mentioning other people, for example, describing somebody as tall or short.
کسی آدمی کی نسبت یہ کہنا کہ لمبا یا چھوٹا ہے ، جائز ہے ( بشرطیکہ اس کی تحقیر کی نیت نہ ہو غیبت نہیں ہے )
1 Hadith
44
(46) CHAPTER. Backbiting, and the Statement of Allah: ...And spy not, neither backbite one another... (V.49:12)
غیبت کا بیان
1 Hadith
45
(47) CHAPTER. The Statement of Prophet : “The best family (house) among the Ansar
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا انصار کے سب گھروں میں فلانا گھرانہ بہتر ہے
1 Hadith
46
(48) CHAPTER. What is allowed as regards backbitings wicked and suspicious people.
مفسد اور شریر لوگوں کی یا جن پرگمان غالب برائی کا ہو ، ان کی غیبت درست ہونا
1 Hadith
47
(49) CHAPTER. An-Namima is one of the great sins. [It means to go about with calumnies (the conveyance of disagreeable false information from one person to another to creat hostility between them)].
چغلخوری کرنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے
1 Hadith
48
(50) CHAPTER. What is disliked of Namima (calumnies).
چغلخوری کی ناپسندیدگی کا بیان
1 Hadith
49
(51) CHAPTER. The Statement of Allah: “...And shun lying speech (false statements).” (V.22:30)
اللہ تعالیٰ کا فرمان ” اے ایمان والو ! جھوٹی بات سے بچو “
1 Hadith
50
(52) CHAPTER. What is said about a double-faced person.
دوغلی بات کرنے والے کے بارے میں جو کہا گیا ہے
1 Hadith
51
(53) CHAPTER. Whoever informs his friend what has been said about him.
جو اپنے ساتھی کو وہ بات بتائے جو اس کے بارے میں کی جاتی ہو
1 Hadith
52
(54) CHAPTER. What is disliked of praising a person.
تعریف میں مبالغہ کرنا منع ، مکروہ ہے
2 Hadith
53
(55) CHAPTER. Whoever praises his brother with that he knows.
اللہ تعالیٰ کا سورۃ النحل میں فرمانا
2 Hadith
54
(57) CHAPTER. Jealousy and mutual estrangement are forbidden.
حسد اور پیٹھ پیچھے برائی کی ممانعت
2 Hadith
55
(58) CHAPTER. The Statement of Allah: “O you who believe! Avoid much suspicion, indeed some suspicions are sins. And spy not, neither backbite one another... (V.49:12)
سورۃ الحجرات میں اللہ کا فرمان
1 Hadith
56
(59) CHAPTER. What sort of suspicion is allowed.
گمان سے کوئی بات کہنا
2 Hadith
57
(60) CHAPTER. (It is recommended that) a believer should conceal what sins he may commit.
مومن کا پنے ( عیب ) پر پردہ ڈالنا
2 Hadith
58
(61) CHAPTER. Pride and arrogance.
تکبر کے بارے میں
2 Hadith
59
(62) CHAPTER. Al-Hijra [(to desert or) cut one's relation with another Muslim (i.e., not to speak to him on meeting him)].
ترک ملاقات کا بیان
5 Hadith
60
(63) CHAPTER. The desertion of a sinful person (disobedient to Allah and His Messenger ).
نافرمانی کرنے والے سے تعلق توڑنے کا جواز
1 Hadith
61
(64) CHAPTER. May a person visit his friend daily, or visit him in the morning and in the evening?
کیا اپنے ساتھی کی ملاقات کے لئے ہر دن جا سکتا ہے یا صبح اور شام ہی کے اوقات میں جائے
1 Hadith
62
(65) CHAPTER. The paying of a visit. And whoever visited some people and ate in their houses.
ملاقات کے لئے جانا اور جو لوگوں سے ملنے گیا اور انہیں کے یہاں کھانا کھایا تو یہ جائز ہے
1 Hadith
63
(66) CHAPTER. Whoever spruced himself up for the delegates.
جس نے لوگوں سے ملاقات کے لیے خوبصورتی اپنائی
1 Hadith
64
(67) CHAPTER. The establishment of a bond of brotherhood and the conclusion of a treaty.
کسی سے بھائی چارہ اور دوستی کا اقرار کرنا
2 Hadith
65
(68) CHAPTER. (What is said about) smiling and laughing.
مسکرانا اور ہنسنا
10 Hadith
66
(69) CHAPTER. The Staement of Allah: “O you who believe! Be afraid of Allah, and be with those who are true (in words and deeds).” (V.9:119) And what is forbidden as regards telling of lies.
اللہ تعالیٰ کا سورۃ الحجرات میں ارشاد فرمانا
3 Hadith
67
(70) CHAPTER. The righteous way or guidance.
اچھے چال چلن کے بارے میں
2 Hadith
68
(71) CHAPTER. To be patient when one is harmed (by others).
تکلیف پر صبر کرنے کا بیان
2 Hadith
69
(72) CHAPTER. Whoever did not admonish people in their faces (i.e., directly).
غصہ میں جن پر عتاب ہے ان کو مخاطب نہ کرنا
2 Hadith
70
(73) CHAPTER. Whoever calls his brother a Kafir (disbeliever) without any grounds, and he does not think that he is such, then he himself is such, what he says.
جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کو جس میں کفر کی وجہ نہ ہو کافر کہے وہ خود کافر ہو جاتا ہے
4 Hadith
71
(74) CHAPTER. Whoever does not consider as Kafir the person who says that (i.e., O Kafir), if he thinks that what he says is true, or if he is ignorant of the seriousness of such saying.
اگر کسی نے کوئی وجہ معقول رکھ کر کسی کو کافر کہا یا نادانستہ تو وہ کافر ہو گا ۔
2 Hadith
72
(75) CHAPTER. What is allowed to say when one is angry or harsh for Allah's sake.
خلاف شرع کام پر غصہ اور سختی کرنا
1 Hadith
73
(75) CHAPTER. What is allowed to say when one is angry or harsh for Allah's sake.
غصہ سے پرہیز کرنا اللہ تعالیٰ کے فرمان ( سورۃ شوریٰ ) کی وجہ سے
7 Hadith
74
(77) CHAPTER. Al-Haya.
حیاء اور شرم کا بیان
3 Hadith
75
(78) CHAPTER. “And if you do not feel ashamed, then do whatever you like.”
جب حیاء نہ ہو تو جو چاہو کرو
1 Hadith
76
(79) CHAPTER. One should not feel shy of the truth in the order to comprehend (the knowledge of) the religion.
شریعت کی باتیں پوچھنے میں شرم نہیں کرنی چایئے ۔
3 Hadith
77
(80) CHAPTER. The statement of the Prophet , “Make things easy for the people and do not make things difficult for them.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ آسانی کرو ، سختی نہ کرو ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں پر تخفیف اور آسانی کو پسند فرمایا کرتے تھے
5 Hadith
78
(81) CHAPTER. To be cheerful with the people.
لوگوں کے ساتھ فراخی سے پیش آنا
2 Hadith
79
(82) CHAPTER. To be gentle and polite with the people.
لوگوں کے ساتھ خاطر تواضع سے پیش آنا
2 Hadith
80
(83) CHAPTER. A believer is not to be stung twice (by something) out of one and the same hole.
مومن ایک سوراخ سے دوبارہ نہیں ڈسا جا سکتا
1 Hadith
81
(84) CHAPTER. The right of the guest.
مہمان کے حق کے بیان میں
1 Hadith
82
(85) CHAPTER. To honour one's guest and to serve him with one's own hands.
مہمان کی عزت اور خود اس کی خدمت کرنا اور اللہ تعالیٰ کے فرمان ” ابراہیم علیہالسلام کے مہمان جن کی عزت کی گئی “ کی تفسیر ۔
4 Hadith
83
(86) CHAPTER. To prepare the meals and to trouble oneself for the guest.
مہمان کے لئے پرتکلف کھانا تیار کرنا
1 Hadith
84
(87) CHAPTER. What is disliked as regards anger and impatience before a guest.
مہمان کے سامنے غصہ اور رنج کا ظاہر کرنا مکروہ ہے
1 Hadith
85
(88) CHAPTER. The saying of a guest to his host: “By Allah, I will not eat till you eat.”
مہمان کو اپنے میزبان سے کہنا کہ جب تک تم ساتھ نہ کھاؤگے میں بھی نہیں کھاؤں گا ۔
1 Hadith
86
(89) CHAPTER. To respect the old ones, and the elder one should start talking or asking.
جو عمر میں بڑا ہو اس کی تعظیم کرنا اورپہلے اسی کو بات کرنے اور پوچھنے دینا
3 Hadith
87
(90) CHAPTER. What kinds of poetry, Rajaz and Huda is allowed and what kinds thereof are disliked.
شعر ، رجز اورحدی خوانی کاجائز ہونا
5 Hadith
88
(91) CHAPTER. Lampooning Al-Mushrikin.
مشرکوں کی ہجو کرنا درست ہے
4 Hadith
89
(92) CHAPTER. It is disliked for one to indulge in poetry to the extent that it diverts him from Allah's remembrance, and from (religious) knowledge and from (recitation of) the Quran.
شعروشاعری میں اس طرح اوقات صرف کرنا منع ہے کہ آدمی اللہ کی یاد اور علم حاصل کرنے اور قرآن شریف کی تلاوت کرنے سے باز رہ جائے ۔ 2
2 Hadith
90
(93) CHAPTER. The statement of the Prophet : Taribat yaminuka (may your right hand be in dust)! an Aqra halqa. (it is just an exclamatory expression, the literal meaning of which is not meant here. It expresses disapproval.)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فر مانا کہ تیرے ہاتھ کو مٹی لگے یا تجھ کو زخم پہنچے ، تیرے حلق میں بیماری ہو ۔
2 Hadith
91
(94) CHAPTER. (What is said regarding) “They assumed or claimed that...”
” زعموا “ کہنے کا بیان
1 Hadith
92
(95) CHAPTER. What is said about one's saying: “Wailaka (woe to you).”
لفظ ” ویلک “ یعنی تجھ پر افسوس ہے کہنا درست ہے ۔
9 Hadith
93
(96) CHAPTER. The signs of loving (others for the sake of) Allah.
اللہ عز وجل کی محبت کس کو کہتے ہیں
4 Hadith
94
(97) CHAPTER. The saying of one man to another: Ikhsa.
کسی کا کسی کو یوں کہنا چل دور ہو
4 Hadith
95
(98) CHAPTER. The saying of somebody to another: “Marhaba (i.e., welcome).
کسی شخص کا مرحبا کہنا
1 Hadith
96
(99) CHAPTER. Calling the people by their father's name (on the Day of Resurrection).
لوگوں کو ان کے باپ کانام لے کر قیامت کے دن بلایا جانا
2 Hadith
97
(100) CHAPTER. One should not say, 'Khabuthat nafsi' (i.e., I have been overcome by nausea).
آدمی کو یہ نہیں کہنا چاہیے کہ میرا نفس پلید ہو گیا
2 Hadith
98
(101) CHAPTER. Do not abuse Ad-Dahr (the Time).
زمانہ کو برا کہنا منع ہے
2 Hadith
99
(102) CHAPTER. The statement of the Prophet : “Al-Karm is only the heart of a believer.”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یوں فرمانا کہ ” کرم “ تو مومن کا دل ہے
1 Hadith
100
(103) CHAPTER. The saying of someone (to another): “Let my father and mother be sacrificed for you.
کسی شخص کا کہنا کہ ” میرے باپ اور ماں تم پر قربان ہوں “ اس میں زبیر نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے
1 Hadith
101
(104) CHAPTER. The saying of somebody (to another): “May Allah sacrifice me for you.”
کسی کا یہ کہنا اللہ مجھے آپ پر قربان کرے اور حضرت ابوبکر رضیاللہعنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا ہم نے آپ پر اپنے باپوں اور ماؤں کو قربان کیا
1 Hadith
102
(105) CHAPTER. The most beloved names to Allah.
اللہ پاک کوکون سے نام زیادہ پسند ہیں اورکسی شخص کا کسی کو یوں کہنا بیٹا
1 Hadith
103
(106) CHAPTER. The statement of the Prophet : “Name yourselves by my name, but do not call yourselves by my Kunyah.”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ میرے نام پر نام رکھو ، لیکن میری کنیت نہ رکھو ۔
3 Hadith
104
(107) CHAPTER. (What is said regarding) the name: Al-Hazn (literally: means hard, rough ground).
” حزن “ نام رکھنا
1 Hadith
105
(108) CHAPTER. To change a name for another name which is better than the first.
کسی برے نام کو بدل کر اچھا نام رکھنا
3 Hadith
106
(109) CHAPTER. Whoever named (his children) by the names of the Prophets.
جس نے انبیاء کے نام پر نام رکھے
6 Hadith
107
(110) CHAPTER. To name 'Al-Walid.'
بچے کا نام ولید رکھنا
1 Hadith
108
(111) CHAPTER. Whoever, while calling a friend, omits a letter from his name.
جس نے اپنے کسی ساتھی کو اس کے نام میں سے کوئی حرف کم کر کے پکارا ۔
2 Hadith
109
(112) CHAPTER. A child may be given AI-Kunyah and one may be given Al-Kunyah before one has children.
بچہ کی کنیت رکھنا اس سے پہلے کہ وہ صاحب اولاد ہو
1 Hadith
110
(113) CHAPTER. To be called Abu Turab (father of dust), though one already has another Kunyah name.
ایک کنیت ہوتے ہوئے دوسری ابوتراب کنیت رکھنا جائز ہے
1 Hadith
111
(114) CHAPTER. The name which is most disliked by Allah.
اللہ کو جو نام بہت ہی زیادہ ناپسند ہیں ان کا بیان
2 Hadith
112
(115) CHAPTER. The Kunyah of Al-Mushrik.
مشرک کی کنیت کا بیان
2 Hadith
113
(116) CHAPTER. AI-Maarid (indirect speech) is a safe way to avoid a lie.
تعریض کے طور پر بات کہنے میں جھوٹ سے بچاؤ ہے
4 Hadith
114
(117) CHAPTER. The description of something by a man as ‘nothing' while he means that it is not true.
کسی شخص کا کسی چیز کے بارے میں یہ کہنا کہ یہ کچھ نہیں اور مقصد یہ ہو کہ اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے
1 Hadith
115
(118) CHAPTER. To raise the sight towards the sky.
آسمان کی طرف نظر اٹھانا
2 Hadith
116
(119) CHAPTER. Whoever dipped a stick in water and mud.
کیچڑ پانی میں لکڑی مارنا
1 Hadith
117
(120) CHAPTER. One may scrape up the ground with something in hand.
کسی شخص کا زمین پر کسی چیز کو مارنا
1 Hadith
118
(121) CHAPTER. The saying of Takbir and Tasbih at the time of wonder.
تعجب کے وقت اللہاکبر اور سبحاناللہ کہنا
2 Hadith
119
(122) CHAPTER. It is forbidden to throw stones (with the thumb and the index or middle finger).
انگلیوں سے پتھر یا کنکری پھینکنے کی ممانعت
1 Hadith
120
(123) CHAPTER. To say Al-Hamdu-lillah (praise be to Allah) on sneezing.
چھینکنے والے کا الحمدللہ کہنا
1 Hadith
121
(124) CHAPTER. Tashmit (i.e., to say Yarhamukallah) to the sneezer if he praises Allah (i.e., if he says, 'Al-Hamdu-lillah')
چھینکنے والا الحمدللہ کہے تو اس کا جواب یرحمکاللہ سے دینا چاہئے یعنی اللہ تجھ پر رحم کرے ۔
1 Hadith
122
(125) CHAPTER. What is liked regarding sneezing, and what is disliked regarding yawning.
چھنیک اچھی ہے اورجمائی میں برائی ہے
1 Hadith
123
(126) CHAPTER. When somebody sneezes, what should one say to him?
چھینکنے والے کا کس طرح جواب دیا جائے ؟
1 Hadith
124
(127) CHAPTER. Tashmit (may Allah be Merciful to you) should not be said to a sneezer if he does not say ‘AI-Hamdu-lillah' (praise be to Allah).
جب چھنیکنے والا الحمدللہ نہ کہے تو اس کے لئے ” یرحمکاللہ “ بھی نہ کہا جائے
1 Hadith
125
(128) CHAPTER. If someone yawns, he should put his hand over his mouth (i.e., cover his mouth).
جب جمائی آئے تو چاہیے کہ منہ پر ہاتھ رکھ لے
1 Hadith
No chapter matched that.