TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of al-adab (good manners). - کتاب اخلاق کے بیان میں - Book 79 of Sahih Bukhari with Urdu and English Translation

Book 79 of Sahih Bukhari, with 125 chapters and 257 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

257 Hadith · 125 Chapters
(75) CHAPTER. What is allowed to say when one is angry or harsh for Allah's sake.
غصہ سے پرہیز کرنا اللہ تعالیٰ کے فرمان ( سورۃ شوریٰ ) کی وجہ سے
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنِّي لَأَتَأَخَّرُ عَنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ مِنْ أَجْلِ فُلَانٍ مِمَّا يُطِيلُ بِنَا ، قَالَ : فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطُّ أَشَدَّ غَضَبًا فِي مَوْعِظَةٍ مِنْهُ يَوْمَئِذٍ ، قَالَ : فَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ مِنْكُمْ مُنَفِّرِينَ ، فَأَيُّكُمْ مَا صَلَّى بِالنَّاسِ فَلْيَتَجَوَّزْ فَإِنَّ فِيهِمُ الْمَرِيضَ وَالْكَبِيرَ وَذَا الْحَاجَةِ .
Narrated Abu Mas`ud: A man came to the Prophet and said I keep away from the morning prayer only because such and such person prolongs the prayer when he leads us in it. The narrator added: I had never seen Allah's Apostle more furious in giving advice than he was on that day. He said, O people! There are some among you who make others dislike good deeds) cause the others to have aversion (to congregational prayers). Beware! Whoever among you leads the people in prayer should not prolong it, because among them there are the sick, the old, and the needy. (See Hadith No. 670, Vol 1)
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے قیس بن ابی حازم نے اور ان سے ابومسعود نے بیان کیا کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا میں صبح کی نماز جماعت سے فلاں امام کی وجہ سے نہیں پڑھتا کیونکہ وہ بہت لمبی نماز پڑھاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس دن ان امام صاحب کو نصیحت کرنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے جتنا غصہ میں دیکھا ایسا میں نے آپ کو کبھی نہیں دیکھا تھا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے لوگو! تم میں سے کچھ لوگ ( نماز باجماعت پڑھنے سے ) لوگوں کو دور کرنے والے ہیں، پس جو شخص بھی لوگوں کو نماز پڑھائے مختصر پڑھائے، کیونکہ نمازیوں میں کوئی بیمار ہوتا ہے کوئی بوڑھا کوئی کام کاج والا۔
6110
Sahih
(75) CHAPTER. What is allowed to say when one is angry or harsh for Allah's sake.
غصہ سے پرہیز کرنا اللہ تعالیٰ کے فرمان ( سورۃ شوریٰ ) کی وجہ سے
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : بَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي رَأَى فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ نُخَامَةً فَحَكَّهَا بِيَدِهِ فَتَغَيَّظَ ، ثُمَّ قَالَ إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا كَانَ فِي الصَّلَاةِ ، فَإِنَّ اللَّهَ حِيَالَ وَجْهِهِ ، فَلَا يَتَنَخَّمَنَّ حِيَالَ وَجْهِهِ فِي الصَّلَاةِ .
Narrated `Abdullah bin `Umar: While the Prophet was praying, he saw sputum (on the wall) of the mosque, in the direction of the Qibla, and so he scraped it off with his hand, and the sign of disgust (was apparent from his face) and then said, Whenever anyone of you is in prayer, he should not spit in front of him (in prayer) because Allah is in front of him.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے جویریہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں قبلہ کی جانب منہ کا تھوک دیکھا۔ پھر آپ نے اسے اپنے ہاتھ سے صاف کیا اور غصہ ہوئے پھر فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز میں ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے سامنے ہوتا ہے۔ اس لیے کوئی شخص نماز میں اپنے سامنے نہ تھوکے۔
6111
Sahih
(75) CHAPTER. What is allowed to say when one is angry or harsh for Allah's sake.
غصہ سے پرہیز کرنا اللہ تعالیٰ کے فرمان ( سورۃ شوریٰ ) کی وجہ سے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنَا رَبِيعَةُ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اللُّقَطَةِ ، فَقَالَ : عَرِّفْهَا سَنَةً ثُمَّ اعْرِفْ وِكَاءَهَا وَعِفَاصَهَا ، ثُمَّ اسْتَنْفِقْ بِهَا ، فَإِنْ جَاءَ رَبُّهَا فَأَدِّهَا إِلَيْهِ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ فَضَالَّةُ الْغَنَمِ ، قَالَ : خُذْهَا فَإِنَّمَا هِيَ لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ فَضَالَّةُ الْإِبِلِ ، قَالَ : فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ أَوِ احْمَرَّ وَجْهُهُ ، ثُمَّ قَالَ : مَا لَكَ وَلَهَا مَعَهَا حِذَاؤُهَا وَسِقَاؤُهَا حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا .
Narrated Zaid bin Khalid Al-Juhani: A man asked Allah's Apostle about Al-Luqata (a lost fallen purse or a thing picked up by somebody). The Prophet said, You should announce it publicly for one year, and then remember and recognize the tying material of its container, and then you can spend it. If its owner came to you, then you should pay him its equivalent. The man said, O Allah's Apostle! What about a lost sheep? The Prophet said, Take it because it is for you, for your brother, or for the wolf. The man again said, O Allah's Apostle! What about a lost camel? Allah's Apostle became very angry and furious and his cheeks became red (or his face became red), and he said, You have nothing to do with it (the camel) for it has its food and its water container with it till it meets its owner.
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو اسماعیل بن جعفر نے خبر دی، کہا ہم کو ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن نے خبر دی، انہیں زید بن خالد جہنی نے کہ ایک صاحب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لقطہٰ ( راستہ میں گری پڑی چیز جسے کسی نے اٹھا لیا ہو ) کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سال بھر لوگوں سے پوچھتے رہو پھر اس کا سر بندھن اور ظرف پہچان کے رکھ اور خرچ کر ڈال۔ پھر اگر اس کے بعد اس کا مالک آ جائے تو وہ چیز اسے آپس کر دے۔ پوچھا: یا رسول اللہ! بھولی بھٹکی بکری کے متعلق کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے پکڑ لا کیونکہ وہ تمہارے بھائی کی ہے یا پھر بھیڑیئے کی ہو گی۔ پوچھا: یا رسول اللہ! اور کھویا ہوا اونٹ؟ بیان کیا کہ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہو گئے اور آپ کے دونوں رخسار سرخ ہو گئے، یا راوی نے یوں کہا کہ آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا، پھر آپ نے فرمایا کہ تمہیں اس اونٹ سے کیا غرض ہے اس کے ساتھ تو اس کے پاؤں ہیں اور اس کا پانی ہے وہ کبھی نہ کبھی اپنے مالک کو پا لے گا۔
6112
Sahih
(75) CHAPTER. What is allowed to say when one is angry or harsh for Allah's sake.
غصہ سے پرہیز کرنا اللہ تعالیٰ کے فرمان ( سورۃ شوریٰ ) کی وجہ سے
وَقَالَ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَالِمٌ أَبُو النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : احْتَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُجَيْرَةً مُخَصَّفَةً أَوْ حَصِيرًا ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِيهَا فَتَتَبَّعَ إِلَيْهِ رِجَالٌ وَجَاءُوا يُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِ ، ثُمَّ جَاءُوا لَيْلَةً فَحَضَرُوا وَأَبْطَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُمْ فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ ، فَرَفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ وَحَصَبُوا الْباب فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ مُغْضَبًا ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا زَالَ بِكُمْ صَنِيعُكُمْ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُكْتَبُ عَلَيْكُمْ ، فَعَلَيْكُمْ بِالصَّلَاةِ فِي بُيُوتِكُمْ ، فَإِنَّ خَيْرَ صَلَاةِ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ .
Narrated Zaid bin Thabit: Allah's Apostle made a small room (with a palm leaf mat). Allah's Apostle came out (of his house) and prayed in it. Some men came and joined him in his prayer. Then again the next night they came for the prayer, but Allah's Apostle delayed and did not come out to them. So they raised their voices and knocked the door with small stones (to draw his attention). He came out to them in a state of anger, saying, You are still insisting (on your deed, i.e. Tarawih prayer in the mosque) that I thought that this prayer (Tarawih) might become obligatory on you. So you people, offer this prayer at your homes, for the best prayer of a person is the one which he offers at home, except the compulsory (congregational) prayer.
اور مکی بن ابراہیم نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ ہم سے عبداللہ بن سعید نے بیان کیا (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور مجھ سے محمد بن زیاد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبداللہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عمر بن عبیداللہ کے غلام سالم ابوالنضر نے بیان کیا، ان سے بسر بن سعید نے بیان کیا اور ان سے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی شاخوں یا بوریئے سے ایک مکان چھوٹے سے حجرے کی طرح بنا لیا تھا۔ وہاں آ کر آپ تہجد کی نماز پڑھا کرتے تھے، چند لوگ بھی وہاں آ گئے اور انہوں نے آپ کی اقتداء میں نماز پڑھی پھر سب لوگ دوسری رات بھی آ گئے اور ٹھہرے رہے لیکن آپ گھر ہی میں رہے اور باہر ان کے پاس تشریف نہیں لائے۔ لوگ آواز بلند کرنے لگے اور دروازے پر کنکریاں ماریں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غصہ کی حالت میں باہر تشریف لائے اور فرمایا تم چاہتے ہو کہ ہمیشہ یہ نماز پڑھتے رہو تاکہ تم پر فرض ہو جائے ( اس وقت مشکل ہو ) دیکھو تم نفل نمازیں اپنے گھروں میں ہی پڑھا کرو۔ کیونکہ فرض نمازوں کے سوا آدمی کی بہترین نفل نماز وہ ہے جو گھر میں پڑھی جائے۔
6113
Sahih
(75) CHAPTER. What is allowed to say when one is angry or harsh for Allah's sake.
غصہ سے پرہیز کرنا اللہ تعالیٰ کے فرمان ( سورۃ شوریٰ ) کی وجہ سے
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ ، إِنَّمَا الشَّدِيدُ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ .
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, The strong is not the one who overcomes the people by his strength, but the strong is the one who controls himself while in anger.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں سعید بن مسیب نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پہلوان وہ نہیں ہے جو کشتی لڑنے میں غالب ہو جائے بلکہ اصلی پہلوان تو وہ ہے جو غصہ کی حالت میں اپنے آپ پر قابو پائے بے قابو نہ ہو جائے۔“
6114
Sahih
(75) CHAPTER. What is allowed to say when one is angry or harsh for Allah's sake.
غصہ سے پرہیز کرنا اللہ تعالیٰ کے فرمان ( سورۃ شوریٰ ) کی وجہ سے
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدٍ ، قَالَ : اسْتَبَّ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ عِنْدَهُ جُلُوسٌ وَأَحَدُهُمَا يَسُبُّ صَاحِبَهُ مُغْضَبًا قَدِ احْمَرَّ وَجْهُهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَةً لَوْ قَالَهَا لَذَهَبَ عَنْهُ مَا يَجِدُ ، لَوْ قَالَ : أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ ، فَقَالُوا لِلرَّجُلِ : أَلَا تَسْمَعُ مَا يَقُولُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنِّي لَسْتُ بِمَجْنُونٍ .
Narrated Sulaiman bin Sarad: Two men abused each other in front of the Prophet while we were sitting with him. One of the two abused his companion furiously and his face became red. The Prophet said, I know a word (sentence) the saying of which will cause him to relax if this man says it. Only if he said, I seek refuge with Allah from Satan, the outcast.' So they said to that (furious) man, 'Don't you hear what the Prophet is saying? He said, I am not mad.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے عدی بن ثابت نے، ان سے سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ دو آدمیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں جھگڑا کیا، ہم بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک شخص دوسرے کو غصہ کی حالت میں گالی دے رہا تھا اور اس کا چہرہ سرخ تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ اگر یہ شخص اسے کہہ لے تو اس کا غصہ دور ہو جائے۔ اگر یہ «أعوذ بالله من الشيطان الرجيم» کہہ لے۔ صحابہ نے اس سے کہا کہ سنتے نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرما رہے ہیں؟ اس نے کہا کہ کیا میں دیوانہ ہوں؟
6115
Sahih
(75) CHAPTER. What is allowed to say when one is angry or harsh for Allah's sake.
غصہ سے پرہیز کرنا اللہ تعالیٰ کے فرمان ( سورۃ شوریٰ ) کی وجہ سے
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ هُوَ ابْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَوْصِنِي ، قَالَ : لَا تَغْضَبْ فَرَدَّدَ مِرَارًا ، قَالَ : لَا تَغْضَبْ .
Narrated Abu Huraira: A man said to the Prophet , Advise me! The Prophet said, Do not become angry and furious. The man asked (the same) again and again, and the Prophet said in each case, Do not become angry and furious.
مجھ سے یحییٰ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو ابوبکر نے خبر دی جو ابن عیاش ہیں، انہیں ابوحصین نے، انہیں ابوصالح نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے آپ کوئی نصیحت فرما دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غصہ نہ ہوا کر۔ انہوں نے کئی مرتبہ یہ سوال کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غصہ نہ ہوا کر۔
6116
Sahih
(77) CHAPTER. Al-Haya.
حیاء اور شرم کا بیان
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي السَّوَّارِ الْعَدَوِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْحَيَاءُ لَا يَأْتِي إِلَّا بِخَيْرٍ فَقَالَ بُشَيْرُ بْنُ كَعْبٍ : مَكْتُوبٌ فِي الْحِكْمَةِ إِنَّ مِنَ الْحَيَاءِ وَقَارًا وَإِنَّ مِنَ الْحَيَاءِ سَكِينَةً ، فَقَالَ لَهُ عِمْرَانُ : أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتُحَدِّثُنِي عَنْ صَحِيفَتِكَ .
Narrated Abu As-Sawar Al-Adawi: `Imran bin Husain said: The Prophet said, Haya' (pious shyness from committing religeous indiscretions) does not bring anything except good. Thereupon Bashir bin Ka`b said, 'It is written in the wisdom paper: Haya' leads to solemnity; Haya' leads to tranquility (peace of mind). `Imran said to him, I am narrating to you the saying of Allah's Apostle and you are speaking about your paper (wisdom book)?
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے ان سے ابوالسوار عدوی نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عمران بن حصین سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”حیاء سے ہمیشہ بھلائی پیدا ہوتی ہے۔“ اس پر بشیر بن کعب نے کہا کہ حکمت کی کتابوں میں لکھا ہے کہ حیاء سے وقار حاصل ہوتا ہے، حیاء سے سکینت حاصل ہوتی ہے۔ عمران نے ان سے کہا میں تجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کرتا ہوں اور تو اپنی ( دو ورقی ) کتاب کی باتیں مجھ کو سناتا ہے۔
6117
Sahih
(77) CHAPTER. Al-Haya.
حیاء اور شرم کا بیان
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، مَرّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ وَهُوَ يُعَاتِبُ أَخَاهُ فِي الْحَيَاءِ ، يَقُولُ : إِنَّكَ لَتَسْتَحْيِي حَتَّى كَأَنَّهُ يَقُولُ : قَدْ أَضَرَّ بِكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : دَعْهُ فَإِنَّ الْحَيَاءَ مِنَ الْإِيمَانِ .
Narrated `Abdullah bin `Umar: The Prophet passed by a man who was admonishing his brother regarding Haya' (pious shyness from committing religeous indiscretions) and was saying, You are very shy, and I am afraid that might harm you. On that, Allah's Apostle said, Leave him, for Haya' is (a part) of Faith.
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابوسلمہ نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے سالم نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک شخص پر سے ہوا جو اپنے بھائی پر حیاء کی وجہ سے ناراض ہو رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ تم بہت شرماتے ہو، گویا وہ کہہ رہا تھا کہ تم اس کی وجہ سے اپنا نقصان کر لیتے ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اسے چھوڑ دو کہ حیاء ایمان میں سے ہے۔
6118
Sahih
(77) CHAPTER. Al-Haya.
حیاء اور شرم کا بیان
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مَوْلَى أَنَسٍ , قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي عُتْبَةَ ، سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ ، يَقُولُ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ حَيَاءً مِنَ الْعَذْرَاءِ فِي خِدْرِهَا .
Narrated Abu Sa`id: The Prophet was more shy (from Haya': pious shyness from committing religeous indiscretions) than a veiled virgin girl. (See Hadith No. 762, Vol. 4)
ہم سے علی بن الجعد نے بیان کیا، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، انہیں قتادہ نے، انہیں انس رضی اللہ عنہ کے غلام قتادہ نے، ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ ان کا نام عبداللہ بن ابی عتبہ ہے، میں نے ابوسعید سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پردہ میں رہنے والی کنواری لڑکی سے بھی زیادہ حیاء والے تھے۔
6119
Sahih
(78) CHAPTER. “And if you do not feel ashamed, then do whatever you like.”
جب حیاء نہ ہو تو جو چاہو کرو
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ مِمَّا أَدْرَكَ النَّاسُ مِنْ كَلَامِ النُّبُوَّةِ الْأُولَى إِذَا لَمْ تَسْتَحْيِ فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ .
Narrated Abu Mas`ud: The Prophet said, 'One of the sayings of the early Prophets which the people have got is: If you don't feel ashamed (from Haya': pious shyness from committing religeous indiscretions) do whatever you like. (See Hadith No 690, 691, Vol 4)
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے منصور نے بیان کیا، ان سے ربعی بن خراش نے بیان کیا، ان سے ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگلے پیغمبروں کا کلام جو لوگوں کو ملا اس میں یہ بھی ہے کہ جب شرم ہی نہ رہی تو پھر جو جی چاہے وہ کرے۔“
6120
Sahih
(79) CHAPTER. One should not feel shy of the truth in the order to comprehend (the knowledge of) the religion.
شریعت کی باتیں پوچھنے میں شرم نہیں کرنی چایئے ۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةَ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحِي مِنَ الْحَقِّ ، فَهَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ غُسْلٌ إِذَا احْتَلَمَتْ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ ، إِذَا رَأَتِ الْمَاءَ .
Narrated Um Salama: Um Sulaim came to Allah's Apostle and said, O Allah's Apostle! Verily, Allah does not feel shy to tell the truth. If a woman gets a nocturnal sexual discharge (has a wet dream), is it essential for her to take a bath? He replied, Yes if she notices a discharge.
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے، ان سے زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا نے اور ان سے ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ حق بات سے حیاء نہیں کرتا کیا عورت کو جب احتلام ہو تو اس پر غسل واجب ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں اگر عورت منی کی تری دیکھے تو اس پر بھی غسل واجب ہے۔
6121
Sahih
(79) CHAPTER. One should not feel shy of the truth in the order to comprehend (the knowledge of) the religion.
شریعت کی باتیں پوچھنے میں شرم نہیں کرنی چایئے ۔
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا مُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ شَجَرَةٍ خَضْرَاءَ لَا يَسْقُطُ وَرَقُهَا وَلَا يَتَحَاتُّ ، فَقَالَ الْقَوْمُ : هِيَ شَجَرَةُ كَذَا هِيَ شَجَرَةُ كَذَا ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَقُولَ هِيَ النَّخْلَةُ وَأَنَا غُلَامٌ شَابٌّ فَاسْتَحْيَيْتُ ، فَقَالَ : هِيَ النَّخْلَةُ وَعَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، مِثْلَهُ . وَزَادَ فَحَدَّثْتُ بِهِ عُمَرَ ، فَقَالَ : لَوْ كُنْتَ قُلْتَهَا لَكَانَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ كَذَا وَكَذَا .
Narrated Ibn `Umar: The Prophet said, The example of a believer is like a green tree, the leaves of which do not fall. The people said. It is such-and-such tree: It is such-and-such tree. I intended to say that it was the datepalm tree, but I was a young boy and felt shy (to answer). The Prophet said, It is the date-palm tree. Ibn `Umar added, I told that to `Umar who said, 'Had you said it, I would have preferred it to such-and such a thing.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے محارب بن دثار نے، کہا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہا سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مومن کی مثال اس سرسبز درخت کی ہے، جس کے پتے نہیں جھڑتے۔ صحابہ نے کہا کہ یہ فلاں درخت ہے، یہ فلاں درخت ہے۔ میرے دل میں آیا کہ کہوں کہ یہ کھجور کا درخت ہے لیکن چونکہ میں نوجوان تھا، اس لیے مجھ کو بولتے ہوئے حیاء آئی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ کھجور کا درخت ہے۔ اور اسی سند سے شعبہ سے روایت ہے کہ کہا ہم سے خبیب بن عبدالرحمٰن نے، ان سے حفص بن عاصم نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اسی طرح بیان کیا اور یہ اضافہ کیا کہ پھر میں نے اس کا ذکر عمر رضی اللہ عنہ سے کیا تو انہوں نے کہا اگر تم نے کہہ دیا ہوتا تو مجھے اتنا اتنا مال ملنے سے بھی زیادہ خوشی حاصل ہوتی۔
6122
Sahih
(79) CHAPTER. One should not feel shy of the truth in the order to comprehend (the knowledge of) the religion.
شریعت کی باتیں پوچھنے میں شرم نہیں کرنی چایئے ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا مَرْحُومٌ ، سَمِعْتُ ثَابِتًا ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعْرِضُ عَلَيْهِ نَفْسَهَا فَقَالَتْ : هَلْ لَكَ حَاجَةٌ فِيَّ ؟ فَقَالَتِ ابْنَتُهُ : مَا أَقَلَّ حَيَاءَهَا ، فَقَالَ : هِيَ خَيْرٌ مِنْكِ ، عَرَضَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفْسَهَا .
Narrated Thabit: that he heard Anas saying, A woman came to the Prophet offering herself to him in marriage, saying, Have you got any interest in me (i.e. would you like to marry me?) Anas's daughter said, How shameless that woman was! On that Anas said, She is better than you, for she presented herself to Allah's Apostle (for marriage).
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے مرحوم بن عبدالعزیز نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے کہا کہ میں نے ثابت سے سنا اور انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور اپنے آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح کے لیے پیش کیا اور عرض کیا: کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مجھ سے نکاح کی ضرورت ہے؟ اس پر انس رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی بولیں، وہ کتنی بےحیا تھی۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ وہ تم سے تو اچھی تھیں انہوں نے اپنے آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح کے لیے پیش کیا۔
6123
Sahih
(80) CHAPTER. The statement of the Prophet , “Make things easy for the people and do not make things difficult for them.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ آسانی کرو ، سختی نہ کرو ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں پر تخفیف اور آسانی کو پسند فرمایا کرتے تھے
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : لَمَّا بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ قَالَ لَهُمَا : يَسِّرَا وَلَا تُعَسِّرَا ، وَبَشِّرَا وَلَا تُنَفِّرَا ، وَتَطَاوَعَا قَالَ أَبُو مُوسَى : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا بِأَرْضٍ يُصْنَعُ فِيهَا شَرَابٌ مِنَ الْعَسَلِ يُقَالُ لَهُ : الْبِتْعُ ، وَشَرَابٌ مِنَ الشَّعِيرِ يُقَالُ لَهُ : الْمِزْرُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ .
Narrated Abu Musa: that when Allah's Apostle sent him and Mu`adh bin Jabal to Yemen, he said to them, Facilitate things for the people (treat the people in the most agreeable way), and do not make things difficult for them, and give them glad tidings, and let them not have aversion (i.e. to make the people hate good deeds) and you should both work in cooperation and mutual understanding, obey each other. Abu Musa said, O Allah's Apostle! We are in a land in which a drink named Al Bit' is prepared from honey, and another drink named Al-Mizr is prepared from barley. On that, Allah's Apostle said, All intoxicants (i.e. all alcoholic drinks) are prohibited.
مجھ سے اسحاق نے بیان کیا، کہا ہم سے نضر نے بیان کیا، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، انہیں سعید بن ابی بردہ نے، انہیں ان کے والد نے اور ان سے ان کے دادا نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ( ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ) اور معاذ بن جبل کو ( یمن ) بھیجا تو ان سے فرمایا کہ ( لوگوں کے لیے ) آسانیاں پیدا کرنا، تنگی میں نہ ڈالنا، انہیں خوشخبری سنانا، دین سے نفرت نہ دلانا اور تم دونوں آپس میں اتفاق سے کام کرنا، ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم ایسی سر زمین میں جا رہے ہیں جہاں شہد سے شراب بنائی جاتی ہے اور اسے «بتع» کہا جاتا ہے اور جَو سے شراب بنائی جاتی ہے اور اسے «مزر‏.‏» کہا جاتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے۔
6124
Sahih
(80) CHAPTER. The statement of the Prophet , “Make things easy for the people and do not make things difficult for them.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ آسانی کرو ، سختی نہ کرو ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں پر تخفیف اور آسانی کو پسند فرمایا کرتے تھے
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا وَسَكِّنُوا وَلَا تُنَفِّرُوا .
Narrated Anas bin Malik: The Prophet said, Make things easy for the people, and do not make it difficult for them, and make them calm (with glad tidings) and do not repulse (them ).
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابوالتیاح نے بیان کیا، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”آسانی پیدا کرو، تنگی نہ پیدا کرو، لوگوں کو تسلی اور تشفی دو نفرت نہ دلاؤ۔“
6125
Sahih
(80) CHAPTER. The statement of the Prophet , “Make things easy for the people and do not make things difficult for them.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ آسانی کرو ، سختی نہ کرو ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں پر تخفیف اور آسانی کو پسند فرمایا کرتے تھے
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّهَا قَالَتْ : مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ قَطُّ إِلَّا أَخَذَ أَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَكُنْ إِثْمًا ، فَإِنْ كَانَ إِثْمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ ، وَمَا انْتَقَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ فِي شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا أَنْ تُنْتَهَكَ حُرْمَةُ اللَّهِ فَيَنْتَقِمَ بِهَا لِلَّهِ .
Narrated `Aisha: Whenever Allah's Apostle was given the choice of one of two matters he would choose the easier of the two as long as it was not sinful to do so, but if it was sinful, he would not approach it. Allah's Apostle never took revenge over anybody for his own sake but (he did) only when Allah's legal bindings were outraged, in which case he would take revenge for Allah's sake. (See Hadith No. 760. Vol. 4)
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے مالک نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو چیزوں میں سے ایک کو اختیار کرنے کا اختیار دیا گیا تو آپ نے ہمیشہ ان میں آسان چیزوں کو اختیار فرمایا، بشرطیکہ اس میں گناہ کا کوئی پہلو نہ ہوتا۔ اگر اس میں گناہ کا کوئی پہلو ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے سب سے زیادہ دور رہتے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی سے بدلہ نہیں لیا، البتہ اگر کوئی شخص اللہ کی حرمت و حد کو توڑتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے تو محض اللہ کی رضا مندی کے لیے بدلہ لیتے۔
6126
Sahih
(80) CHAPTER. The statement of the Prophet , “Make things easy for the people and do not make things difficult for them.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ آسانی کرو ، سختی نہ کرو ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں پر تخفیف اور آسانی کو پسند فرمایا کرتے تھے
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : كُنَّا عَلَى شَاطِئِ نَهَرٍ بِالْأَهْوَازِ قَدْ نَضَبَ عَنْهُ الْمَاءُ ، فَجَاءَ أَبُو بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيُّ عَلَى فَرَسٍ فَصَلَّى وَخَلَّى فَرَسَهُ ، فَانْطَلَقَتِ الْفَرَسُ فَتَرَكَ صَلَاتَهُ وَتَبِعَهَا حَتَّى أَدْرَكَهَا فَأَخَذَهَا ، ثُمَّ جَاءَ فَقَضَى صَلَاتَهُ ، وَفِينَا رَجُلٌ لَهُ رَأْيٌ ، فَأَقْبَلَ يَقُولُ : انْظُرُوا إِلَى هَذَا الشَّيْخِ تَرَكَ صَلَاتَهُ مِنْ أَجْلِ فَرَسٍ ، فَأَقْبَلَ فَقَالَ : مَا عَنَّفَنِي أَحَدٌ مُنْذُ فَارَقْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : إِنَّ مَنْزِلِي مُتَرَاخٍ فَلَوْ صَلَّيْتُ وَتَرَكْتُهُ لَمْ آتِ أَهْلِي إِلَى اللَّيْلِ ، وَذَكَرَ أَنَّهُ قَدْ صَحِبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَى مِنْ تَيْسِيرِهِ .
Narrated Al-Azraq bin Qais: We were in the city of Al-Ahwaz on the bank of a river which had dried up. Then Abu Barza Al- Aslami came riding a horse and he started praying and let his horse loose. The horse ran away, so Abu Barza interrupted his prayer and went after the horse till he caught it and brought it, and then he offered his prayer. There was a man amongst us who was (from the Khawari) having a different opinion. He came saying. Look at this old man! He left his prayer because of a horse. On that Abu Barza came to us and said, Since the time I left Allah's Apostle, nobody has admonished me; My house is very far from this place, and if I had carried on praying and left my horse, I could not have reached my house till night. Then Abu Barza mentioned that he had been in the company of the Prophet, and that he had seen his leniency.
ہم سے ابوالنعمان بن محمد بن فضل سدوسی نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ازرق بن قیس نے کہ اہواز نامی ایرانی شہر میں ہم ایک نہر کے کنارے تھے جو خشک پڑی تھی، پھر ابوبرزہ اسلمی صحابی گھوڑے پر تشریف لائے اور نماز پڑھی اور گھوڑا چھوڑ دیا۔ گھوڑا بھاگنے لگا تو آپ نے نماز توڑ دی اور اس کا پیچھا کیا، آخر اس کے قریب پہنچے اور اسے پکڑ لیا۔ پھر واپس آ کر نماز قضاء کی، وہاں ایک شخص خارجی تھا، وہ کہنے لگا کہ اس بوڑھے کو دیکھو اس نے گھوڑے کے لیے نماز توڑ ڈالی۔ ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ نماز سے فارغ ہو کر آئے اور کہا جب سے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا ہوا ہوں، کسی نے مجھ کو ملامت نہیں کی اور انہوں نے کہا کہ میرا گھر یہاں سے دور ہے، اگر میں نماز پڑھتا رہتا اور گھوڑے کو بھاگنے دیتا تو اپنے گھر رات تک بھی نہ پہنچ پاتا اور انہوں نے بیان کیا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہے ہیں اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آسان صورتوں کو اختیار کرتے دیکھا ہے۔
6127
Sahih
(80) CHAPTER. The statement of the Prophet , “Make things easy for the people and do not make things difficult for them.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ آسانی کرو ، سختی نہ کرو ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں پر تخفیف اور آسانی کو پسند فرمایا کرتے تھے
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ . ح وَقَالَ اللَّيْثُ ، حَدَّثَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَعْرَابِيًّا بَالَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَثَارَ إِلَيْهِ النَّاسُ ليَقَعُوا بِهِ ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : دَعُوهُ وَأَهْرِيقُوا عَلَى بَوْلِهِ ذَنُوبًا مِنْ مَاءٍ أَوْ سَجْلًا مِنْ مَاءٍ ، فَإِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِينَ وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَسِّرِينَ .
Narrated Abu Huraira: A bedouin urinated in the mosque, and the people rushed to beat him. Allah's Apostle ordered them to leave him and pour a bucket or a tumbler (full) of water over the place where he has passed urine. The Prophet then said, You have been sent to make things easy (for the people) and you have not been sent to make things difficult for them.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے (دوسری سند) اور لیث بن سعد نے بیان کیا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ ایک دیہاتی نے مسجد میں پیشاب کر دیا، لوگ اس کی طرف مارنے کو بڑھے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے چھوڑ دو اور جہاں اس نے پیشاب کیا ہے اس جگہ پر پانی کا ایک ڈول بھرا ہوا بہا دو، کیونکہ تم آسانی کرنے والے بنا کر بھیجے گئے ہو تنگی کرنے والے بنا کر نہیں بھیجے گئے۔
6128
Sahih
(81) CHAPTER. To be cheerful with the people.
لوگوں کے ساتھ فراخی سے پیش آنا
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : إِنْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُخَالِطُنَا حَتَّى يَقُولَ لِأَخٍ لِي صَغِيرٍ : يَا أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ .
Narrated Anas bin Malik: The Prophet used to mix with us to the extent that he would say to a younger brother of mine, 'O Aba `Umair! What did the Nughair (a kind of bird) do?
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوالتیاح نے، کہا میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم بچوں سے بھی دل لگی کرتے، یہاں تک کہ میرے چھوٹے بھائی ابوعمیر نامی سے ( مزاحاً ) فرماتے «يا أبا عمير ما فعل النغير‏ ‏‏.‏» ”اے ابو عمیر! تیری نغیر نامی چڑیا تو بخیر ہے؟“
6129
Sahih

Chapters

125
01
(1) CHAPTER. Al-Birr (piety, righteousness), and As-Sila (good relations).
احسان اور رشتہ ناطہٰ پروری کی فضیلت
1 Hadith
02
(2) CHAPTER. Who is more entitled to be treated with the best companionship?
رشتہ والوں میں اچھے سلوک کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے ؟
1 Hadith
03
(3) CHAPTER. One should not go for Jihad (fighting in Allah's Cause) without the permission of the parents.
والدین کی اجازت کے بغیر کسی کو جہاد کے لیے نہ جانا چاہیئے
1 Hadith
04
(4) CHAPTER. A man should not abuse his parents.
کوئی شخص اپنے ماں باپ کو گالی گلوچ نہ دے
1 Hadith
05
(5) CHAPTER. The invocation of the person who is dutiful to his parents is fulfilled (i.e., accepted by Allah).
جس شخص نے اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کیا اس کی دعا قبول ہوتی ہے
1 Hadith
06
(6) CHAPTER. To be undutiful to one's parents is one of the greatest sins.
والدین کی نافرمانی بہت ہی بڑے گناہ میں سے ہے
3 Hadith
07
(7) CHAPTER. To be good to a father who is a Mushrik.
والد کافر یا مشرک ہو تب بھی اس کے ساتھ نیک سلوک کرنا
1 Hadith
08
(8) CHAPTER. The kindness shown by a lady who has a husband, to her mother.
اگر خاوند والی مسلمان عورت اپنے کافر ماں کے ساتھ نیک سلوک کرے
2 Hadith
09
(9) CHAPTER. To be good to one's brother who is a Mushrik.
کافرومشرک بھائی کے ساتھ اچھا سلوک کرنا
2 Hadith
10
(10) CHAPTER. The superiority of keeping good relations with one's relatives.
ناطہٰ والوں سے صلہرحمی کی فضیلت
1 Hadith
11
(11) CHAPTER. The sin of Al-Qati (the person who severs the blood of kinship).
قطعرحمی کرنے والے کا گناہ
1 Hadith
12
(12) CHAPTER. Whoever was made wealthy because of keeping good relations with his kith and kin.
ناطہٰ والوں سے نیک سلوک کرنا رزق میں فراخی کا ذریعہ بنتا ہے
2 Hadith
13
(13) CHAPTER. Allah will keep good relations with the one who will keep good relations with his kith and kin.
جو شخص ناطہٰ جوڑے گا اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملاپ رکھے گا
4 Hadith
14
(15) CHAPTER. Al-Wasil (the one who keeps good relations with his kith and kin) is not the one who recompenses the good done to him by his relatives.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا ناطہٰ اگر قائم رکھ کر تروتازہ رکھا جائے ( یعنی ناطہٰ کی رعایت کی جائے ) تو دوسرا بھی ناطہٰ کو تروتازہ رکھے گا ۔
1 Hadith
15
(16) CHAPTER. Whosoever kept good relations with his kith and kin while he was a Mushrik (pagan) and then embraced Islam.
ناطہٰ جوڑنے کے یہ معنی نہیں ہیں کہ صرف بدلہ ادا کر دے
1 Hadith
16
(17) CHAPTER. Whoever allowed a small girl of another person to play with him, or kissed her or had a joke with her.
جس نے کفر کی حالت میں صلہرحمی کی اور پھر اسلام لایا تو اس کا ثواب قائم رہے گا
1 Hadith
17
(18) CHAPTER. To be merciful to one's children kiss them and embrace them.
بچے کے ساتھ رحم و شفقت کرنا ، اسے بوسہ دینا اور گلے سے لگانا
6 Hadith
18
(19) CHAPTER. Allah divided mercy into one hundred parts.
اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کے سو حصے بنائے ہیں
1 Hadith
19
(20) CHAPTER. The killing of one's own children for the fear that they will share his meals.
اولاد کو اس ڈر سے مار ڈالنا کہ ان کو اپنے ساتھ کھلانا پڑے گا
1 Hadith
20
(21) CHAPTER. To take a child in one's lap.
بچے کو گود میں بٹھلانا
1 Hadith
21
(22) CHAPTER. Putting the child on the thigh.
بچے کو ران پر بٹھانا
1 Hadith
22
(23) CHAPTER. To keep one's covenant is a part of Faith.
صحبت کا حق یاد رکھنا ایمان کی نشانی ہے
1 Hadith
23
(24) CHAPTER. The superiority of the one who looks after and sustains an orphan.
یتیم کی پرورش کرنے والے کی فضیلت کا بیان
1 Hadith
24
(25 ) CHAPTER. The one who looks after and works for a widow.
بیوہ عورتوں کی پرورش کرنے والے کا ثواب
1 Hadith
25
(26) CHAPTER. The one who looks after and works for AI-Miskin (a poor person).
مسکین اور محتاجوں کی پرورش کرنے والا
1 Hadith
26
(27) CHAPTER. (What is said regarding) being merciful to the people and to the animals.
انسانوں اور جانوروں سب پر رحم کرنا
6 Hadith
27
(28) CHAPTER. To recommend to be kind to one's neighbour.
پڑوسی کے حقوق کا بیان ۔
2 Hadith
28
(29) CHAPTER. The sin of that person whose neighbour does not feel safe from his evil.
اس شخص کا گناہ جس کا پڑوسی اس کے شرسے امن میں نہ رہتا ہو
1 Hadith
29
(30) CHAPTER. A lady-neighbour should not degrade anything given to her by her lady-neighbour.
کوئی عورت اپنی پڑوسن کے لیے کسی چیز کے دینے کو حقیر نہ سمجھے
4 Hadith
30
(33) CHAPTER. Enjoining all that is Al-Maruf (i.e., Islamic Monotheism and all that Islam has ordained) is considered as a Sadaqa (charitable gift).
جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ پہنچائے
1 Hadith
31
(33) CHAPTER. Enjoining all that is Al-Maruf (i.e., Islamic Monotheism and all that Islam has ordained) is considered as a Sadaqa (charitable gift).
پڑوسیوں میں کون ساپڑوسی مقدم ہے ؟
1 Hadith
32
(34) CHAPTER. Pleasant friendly speech.
ہر نیک کام صدقہ ہے
1 Hadith
33
(35) CHAPTER. To be kind and lenient in all matters.
خوش کلامی کا ثواب ۔
2 Hadith
34
(36) CHAPTER. The co-operation between the believers.
ہر کام میں نرمی اور عمدہ اخلاق اچھی چیز ہے
2 Hadith
35
(37) CHAPTER. The Statement of Allah: “Whosoever intercedes for a good cause will have the reward thereof, and whosoever intercedes for an evil cause will have a share in its burden. And Allah is Ever All-Able to do (and also an All-Witness to) everything. (V.4:85)
۔ ۔ ۔
1 Hadith
36
(38) CHAPTER. The Prophet was neither a Fahish (one who speaks bad words) nor a Mutafahhish (one who speaks obscene evil words to make people laugh).
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سختگو اور بدزبان نہ تھے
4 Hadith
37
(39) CHAPTER. (What is said regarding) good character and generosity and what sort of miserliness is disliked.
خوش خلقی اور سخاوت کا بیان اور بخل کا ناپسندیدہ ہونا
6 Hadith
38
(40) CHAPTER. How should a man be with his family?
آدمی اپنے گھر میں کیا کرتا رہے
1 Hadith
39
(41) CHAPTER. Love is from Allah.
نیک آدمی کی محبت اللہ پاک لوگوں کے دلوں میں ڈال دیتا ہے
1 Hadith
40
(42) CHAPTER. To love for Allah's sake (only).
اللہ کے لیے محبت رکھنے کی فضیلت
1 Hadith
41
(43) CHAPTER. The Statement of Allah: “O you who believe! Let not a group scoff at another group...” (V.49:11)
اللہ تعالیٰ کا فرمان ( سورۃ الحجرات میں )
2 Hadith
42
(44) CHAPTER. What is forbidden as regards calling bad names and cursing.
گالی دینے اور لعنت کرنے کی ممانعت
7 Hadith
43
(45) CHAPTER. What is allowed of mentioning other people, for example, describing somebody as tall or short.
کسی آدمی کی نسبت یہ کہنا کہ لمبا یا چھوٹا ہے ، جائز ہے ( بشرطیکہ اس کی تحقیر کی نیت نہ ہو غیبت نہیں ہے )
1 Hadith
44
(46) CHAPTER. Backbiting, and the Statement of Allah: ...And spy not, neither backbite one another... (V.49:12)
غیبت کا بیان
1 Hadith
45
(47) CHAPTER. The Statement of Prophet : “The best family (house) among the Ansar
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا انصار کے سب گھروں میں فلانا گھرانہ بہتر ہے
1 Hadith
46
(48) CHAPTER. What is allowed as regards backbitings wicked and suspicious people.
مفسد اور شریر لوگوں کی یا جن پرگمان غالب برائی کا ہو ، ان کی غیبت درست ہونا
1 Hadith
47
(49) CHAPTER. An-Namima is one of the great sins. [It means to go about with calumnies (the conveyance of disagreeable false information from one person to another to creat hostility between them)].
چغلخوری کرنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے
1 Hadith
48
(50) CHAPTER. What is disliked of Namima (calumnies).
چغلخوری کی ناپسندیدگی کا بیان
1 Hadith
49
(51) CHAPTER. The Statement of Allah: “...And shun lying speech (false statements).” (V.22:30)
اللہ تعالیٰ کا فرمان ” اے ایمان والو ! جھوٹی بات سے بچو “
1 Hadith
50
(52) CHAPTER. What is said about a double-faced person.
دوغلی بات کرنے والے کے بارے میں جو کہا گیا ہے
1 Hadith
51
(53) CHAPTER. Whoever informs his friend what has been said about him.
جو اپنے ساتھی کو وہ بات بتائے جو اس کے بارے میں کی جاتی ہو
1 Hadith
52
(54) CHAPTER. What is disliked of praising a person.
تعریف میں مبالغہ کرنا منع ، مکروہ ہے
2 Hadith
53
(55) CHAPTER. Whoever praises his brother with that he knows.
اللہ تعالیٰ کا سورۃ النحل میں فرمانا
2 Hadith
54
(57) CHAPTER. Jealousy and mutual estrangement are forbidden.
حسد اور پیٹھ پیچھے برائی کی ممانعت
2 Hadith
55
(58) CHAPTER. The Statement of Allah: “O you who believe! Avoid much suspicion, indeed some suspicions are sins. And spy not, neither backbite one another... (V.49:12)
سورۃ الحجرات میں اللہ کا فرمان
1 Hadith
56
(59) CHAPTER. What sort of suspicion is allowed.
گمان سے کوئی بات کہنا
2 Hadith
57
(60) CHAPTER. (It is recommended that) a believer should conceal what sins he may commit.
مومن کا پنے ( عیب ) پر پردہ ڈالنا
2 Hadith
58
(61) CHAPTER. Pride and arrogance.
تکبر کے بارے میں
2 Hadith
59
(62) CHAPTER. Al-Hijra [(to desert or) cut one's relation with another Muslim (i.e., not to speak to him on meeting him)].
ترک ملاقات کا بیان
5 Hadith
60
(63) CHAPTER. The desertion of a sinful person (disobedient to Allah and His Messenger ).
نافرمانی کرنے والے سے تعلق توڑنے کا جواز
1 Hadith
61
(64) CHAPTER. May a person visit his friend daily, or visit him in the morning and in the evening?
کیا اپنے ساتھی کی ملاقات کے لئے ہر دن جا سکتا ہے یا صبح اور شام ہی کے اوقات میں جائے
1 Hadith
62
(65) CHAPTER. The paying of a visit. And whoever visited some people and ate in their houses.
ملاقات کے لئے جانا اور جو لوگوں سے ملنے گیا اور انہیں کے یہاں کھانا کھایا تو یہ جائز ہے
1 Hadith
63
(66) CHAPTER. Whoever spruced himself up for the delegates.
جس نے لوگوں سے ملاقات کے لیے خوبصورتی اپنائی
1 Hadith
64
(67) CHAPTER. The establishment of a bond of brotherhood and the conclusion of a treaty.
کسی سے بھائی چارہ اور دوستی کا اقرار کرنا
2 Hadith
65
(68) CHAPTER. (What is said about) smiling and laughing.
مسکرانا اور ہنسنا
10 Hadith
66
(69) CHAPTER. The Staement of Allah: “O you who believe! Be afraid of Allah, and be with those who are true (in words and deeds).” (V.9:119) And what is forbidden as regards telling of lies.
اللہ تعالیٰ کا سورۃ الحجرات میں ارشاد فرمانا
3 Hadith
67
(70) CHAPTER. The righteous way or guidance.
اچھے چال چلن کے بارے میں
2 Hadith
68
(71) CHAPTER. To be patient when one is harmed (by others).
تکلیف پر صبر کرنے کا بیان
2 Hadith
69
(72) CHAPTER. Whoever did not admonish people in their faces (i.e., directly).
غصہ میں جن پر عتاب ہے ان کو مخاطب نہ کرنا
2 Hadith
70
(73) CHAPTER. Whoever calls his brother a Kafir (disbeliever) without any grounds, and he does not think that he is such, then he himself is such, what he says.
جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کو جس میں کفر کی وجہ نہ ہو کافر کہے وہ خود کافر ہو جاتا ہے
4 Hadith
71
(74) CHAPTER. Whoever does not consider as Kafir the person who says that (i.e., O Kafir), if he thinks that what he says is true, or if he is ignorant of the seriousness of such saying.
اگر کسی نے کوئی وجہ معقول رکھ کر کسی کو کافر کہا یا نادانستہ تو وہ کافر ہو گا ۔
2 Hadith
72
(75) CHAPTER. What is allowed to say when one is angry or harsh for Allah's sake.
خلاف شرع کام پر غصہ اور سختی کرنا
1 Hadith
73
(75) CHAPTER. What is allowed to say when one is angry or harsh for Allah's sake.
غصہ سے پرہیز کرنا اللہ تعالیٰ کے فرمان ( سورۃ شوریٰ ) کی وجہ سے
7 Hadith
74
(77) CHAPTER. Al-Haya.
حیاء اور شرم کا بیان
3 Hadith
75
(78) CHAPTER. “And if you do not feel ashamed, then do whatever you like.”
جب حیاء نہ ہو تو جو چاہو کرو
1 Hadith
76
(79) CHAPTER. One should not feel shy of the truth in the order to comprehend (the knowledge of) the religion.
شریعت کی باتیں پوچھنے میں شرم نہیں کرنی چایئے ۔
3 Hadith
77
(80) CHAPTER. The statement of the Prophet , “Make things easy for the people and do not make things difficult for them.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ آسانی کرو ، سختی نہ کرو ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں پر تخفیف اور آسانی کو پسند فرمایا کرتے تھے
5 Hadith
78
(81) CHAPTER. To be cheerful with the people.
لوگوں کے ساتھ فراخی سے پیش آنا
2 Hadith
79
(82) CHAPTER. To be gentle and polite with the people.
لوگوں کے ساتھ خاطر تواضع سے پیش آنا
2 Hadith
80
(83) CHAPTER. A believer is not to be stung twice (by something) out of one and the same hole.
مومن ایک سوراخ سے دوبارہ نہیں ڈسا جا سکتا
1 Hadith
81
(84) CHAPTER. The right of the guest.
مہمان کے حق کے بیان میں
1 Hadith
82
(85) CHAPTER. To honour one's guest and to serve him with one's own hands.
مہمان کی عزت اور خود اس کی خدمت کرنا اور اللہ تعالیٰ کے فرمان ” ابراہیم علیہالسلام کے مہمان جن کی عزت کی گئی “ کی تفسیر ۔
4 Hadith
83
(86) CHAPTER. To prepare the meals and to trouble oneself for the guest.
مہمان کے لئے پرتکلف کھانا تیار کرنا
1 Hadith
84
(87) CHAPTER. What is disliked as regards anger and impatience before a guest.
مہمان کے سامنے غصہ اور رنج کا ظاہر کرنا مکروہ ہے
1 Hadith
85
(88) CHAPTER. The saying of a guest to his host: “By Allah, I will not eat till you eat.”
مہمان کو اپنے میزبان سے کہنا کہ جب تک تم ساتھ نہ کھاؤگے میں بھی نہیں کھاؤں گا ۔
1 Hadith
86
(89) CHAPTER. To respect the old ones, and the elder one should start talking or asking.
جو عمر میں بڑا ہو اس کی تعظیم کرنا اورپہلے اسی کو بات کرنے اور پوچھنے دینا
3 Hadith
87
(90) CHAPTER. What kinds of poetry, Rajaz and Huda is allowed and what kinds thereof are disliked.
شعر ، رجز اورحدی خوانی کاجائز ہونا
5 Hadith
88
(91) CHAPTER. Lampooning Al-Mushrikin.
مشرکوں کی ہجو کرنا درست ہے
4 Hadith
89
(92) CHAPTER. It is disliked for one to indulge in poetry to the extent that it diverts him from Allah's remembrance, and from (religious) knowledge and from (recitation of) the Quran.
شعروشاعری میں اس طرح اوقات صرف کرنا منع ہے کہ آدمی اللہ کی یاد اور علم حاصل کرنے اور قرآن شریف کی تلاوت کرنے سے باز رہ جائے ۔ 2
2 Hadith
90
(93) CHAPTER. The statement of the Prophet : Taribat yaminuka (may your right hand be in dust)! an Aqra halqa. (it is just an exclamatory expression, the literal meaning of which is not meant here. It expresses disapproval.)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فر مانا کہ تیرے ہاتھ کو مٹی لگے یا تجھ کو زخم پہنچے ، تیرے حلق میں بیماری ہو ۔
2 Hadith
91
(94) CHAPTER. (What is said regarding) “They assumed or claimed that...”
” زعموا “ کہنے کا بیان
1 Hadith
92
(95) CHAPTER. What is said about one's saying: “Wailaka (woe to you).”
لفظ ” ویلک “ یعنی تجھ پر افسوس ہے کہنا درست ہے ۔
9 Hadith
93
(96) CHAPTER. The signs of loving (others for the sake of) Allah.
اللہ عز وجل کی محبت کس کو کہتے ہیں
4 Hadith
94
(97) CHAPTER. The saying of one man to another: Ikhsa.
کسی کا کسی کو یوں کہنا چل دور ہو
4 Hadith
95
(98) CHAPTER. The saying of somebody to another: “Marhaba (i.e., welcome).
کسی شخص کا مرحبا کہنا
1 Hadith
96
(99) CHAPTER. Calling the people by their father's name (on the Day of Resurrection).
لوگوں کو ان کے باپ کانام لے کر قیامت کے دن بلایا جانا
2 Hadith
97
(100) CHAPTER. One should not say, 'Khabuthat nafsi' (i.e., I have been overcome by nausea).
آدمی کو یہ نہیں کہنا چاہیے کہ میرا نفس پلید ہو گیا
2 Hadith
98
(101) CHAPTER. Do not abuse Ad-Dahr (the Time).
زمانہ کو برا کہنا منع ہے
2 Hadith
99
(102) CHAPTER. The statement of the Prophet : “Al-Karm is only the heart of a believer.”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یوں فرمانا کہ ” کرم “ تو مومن کا دل ہے
1 Hadith
100
(103) CHAPTER. The saying of someone (to another): “Let my father and mother be sacrificed for you.
کسی شخص کا کہنا کہ ” میرے باپ اور ماں تم پر قربان ہوں “ اس میں زبیر نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے
1 Hadith
101
(104) CHAPTER. The saying of somebody (to another): “May Allah sacrifice me for you.”
کسی کا یہ کہنا اللہ مجھے آپ پر قربان کرے اور حضرت ابوبکر رضیاللہعنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا ہم نے آپ پر اپنے باپوں اور ماؤں کو قربان کیا
1 Hadith
102
(105) CHAPTER. The most beloved names to Allah.
اللہ پاک کوکون سے نام زیادہ پسند ہیں اورکسی شخص کا کسی کو یوں کہنا بیٹا
1 Hadith
103
(106) CHAPTER. The statement of the Prophet : “Name yourselves by my name, but do not call yourselves by my Kunyah.”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ میرے نام پر نام رکھو ، لیکن میری کنیت نہ رکھو ۔
3 Hadith
104
(107) CHAPTER. (What is said regarding) the name: Al-Hazn (literally: means hard, rough ground).
” حزن “ نام رکھنا
1 Hadith
105
(108) CHAPTER. To change a name for another name which is better than the first.
کسی برے نام کو بدل کر اچھا نام رکھنا
3 Hadith
106
(109) CHAPTER. Whoever named (his children) by the names of the Prophets.
جس نے انبیاء کے نام پر نام رکھے
6 Hadith
107
(110) CHAPTER. To name 'Al-Walid.'
بچے کا نام ولید رکھنا
1 Hadith
108
(111) CHAPTER. Whoever, while calling a friend, omits a letter from his name.
جس نے اپنے کسی ساتھی کو اس کے نام میں سے کوئی حرف کم کر کے پکارا ۔
2 Hadith
109
(112) CHAPTER. A child may be given AI-Kunyah and one may be given Al-Kunyah before one has children.
بچہ کی کنیت رکھنا اس سے پہلے کہ وہ صاحب اولاد ہو
1 Hadith
110
(113) CHAPTER. To be called Abu Turab (father of dust), though one already has another Kunyah name.
ایک کنیت ہوتے ہوئے دوسری ابوتراب کنیت رکھنا جائز ہے
1 Hadith
111
(114) CHAPTER. The name which is most disliked by Allah.
اللہ کو جو نام بہت ہی زیادہ ناپسند ہیں ان کا بیان
2 Hadith
112
(115) CHAPTER. The Kunyah of Al-Mushrik.
مشرک کی کنیت کا بیان
2 Hadith
113
(116) CHAPTER. AI-Maarid (indirect speech) is a safe way to avoid a lie.
تعریض کے طور پر بات کہنے میں جھوٹ سے بچاؤ ہے
4 Hadith
114
(117) CHAPTER. The description of something by a man as ‘nothing' while he means that it is not true.
کسی شخص کا کسی چیز کے بارے میں یہ کہنا کہ یہ کچھ نہیں اور مقصد یہ ہو کہ اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے
1 Hadith
115
(118) CHAPTER. To raise the sight towards the sky.
آسمان کی طرف نظر اٹھانا
2 Hadith
116
(119) CHAPTER. Whoever dipped a stick in water and mud.
کیچڑ پانی میں لکڑی مارنا
1 Hadith
117
(120) CHAPTER. One may scrape up the ground with something in hand.
کسی شخص کا زمین پر کسی چیز کو مارنا
1 Hadith
118
(121) CHAPTER. The saying of Takbir and Tasbih at the time of wonder.
تعجب کے وقت اللہاکبر اور سبحاناللہ کہنا
2 Hadith
119
(122) CHAPTER. It is forbidden to throw stones (with the thumb and the index or middle finger).
انگلیوں سے پتھر یا کنکری پھینکنے کی ممانعت
1 Hadith
120
(123) CHAPTER. To say Al-Hamdu-lillah (praise be to Allah) on sneezing.
چھینکنے والے کا الحمدللہ کہنا
1 Hadith
121
(124) CHAPTER. Tashmit (i.e., to say Yarhamukallah) to the sneezer if he praises Allah (i.e., if he says, 'Al-Hamdu-lillah')
چھینکنے والا الحمدللہ کہے تو اس کا جواب یرحمکاللہ سے دینا چاہئے یعنی اللہ تجھ پر رحم کرے ۔
1 Hadith
122
(125) CHAPTER. What is liked regarding sneezing, and what is disliked regarding yawning.
چھنیک اچھی ہے اورجمائی میں برائی ہے
1 Hadith
123
(126) CHAPTER. When somebody sneezes, what should one say to him?
چھینکنے والے کا کس طرح جواب دیا جائے ؟
1 Hadith
124
(127) CHAPTER. Tashmit (may Allah be Merciful to you) should not be said to a sneezer if he does not say ‘AI-Hamdu-lillah' (praise be to Allah).
جب چھنیکنے والا الحمدللہ نہ کہے تو اس کے لئے ” یرحمکاللہ “ بھی نہ کہا جائے
1 Hadith
125
(128) CHAPTER. If someone yawns, he should put his hand over his mouth (i.e., cover his mouth).
جب جمائی آئے تو چاہیے کہ منہ پر ہاتھ رکھ لے
1 Hadith
No chapter matched that.