۔ سیدہ جدامہ بنت وہب اسدیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے ارادہ کیا کہ غیلہ سے روک دوں، حتیٰ کہ مجھے یہ بات یاد آئی کہ فارس اورروم والے غیلہ کرتے ہیں اور اس سے ان کی اولاد کا کوئی نقصان نہیں ہوتا۔
Takhreej
(۷۰۸۸) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۴۴۲ (انظر: ۲۷۰۳۵)
Explanation
فوائد:… آپ a کے ارادے کی وجہ یہ تھی کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ دودھ پینے والے بچے کو اس سے نقصان ہو جائے۔
طبیب لوگ کہتے ہیں کہ ایسا دودھ بیماری ہوتا ہے اور عرب لوگ اس عمل کو ناپسند کرتے تھے اور اس سے بچتے تھے، لیکن جب آپ a نے دیکھا کہ غیلہ سے اہل فارس اور اہل روم کو کوئی نقصان نہیں پہنچ رہا تو آپ a نے اپنی امت کو ایسا کرنے سے نہیں روکا۔
۔ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا : میں اپنی بیوی سے عزل کرتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیوں؟ اس نے کہا: اس کی اولاد پر شفقت کرتے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ بات ہے تو بیشک عزل نہ کر، کیونکہ اس چیز نے فارس اور روم کو کوئی نقصان نہیں دیا۔
Takhreej
(۷۰۸۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۴۴۳(انظر: ۲۱۷۷۰)
Explanation
فوائد:… آپa کے فرمان کا یہ مطلب ہے کہ اگر تو بچے کے نقصان کے نظریے کو سامنے رکھ کر عزل کرتا ہے تو بیشک نہ کیا کر، کیونکہ فارسی اور رومی لوگ ایسا عمل کرتے ہیں، جبکہ ان کے شیر خوار بچوں کا کوئی نقصان نہیں ہوتا۔
۔ سیدنا ابو سعید زرقی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اشجع قبیلے کے ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عزل کے متعلق سوال کیا اور کہا: میری بیوی دودھ پلاتی ہے (اور میں ڈرتا ہوں کہ وہ حاملہ نہ ہو جائے)، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو رحم کی تقدیر میں لکھ دیا گیا ہے، وہ ہو کر رہے گا۔
فوائد:… معلوم ہوا کہ جب خاتون بچے کو دودھ پلا رہی ہو، اس وقت اس سے ہم بستری کی جا سکتی ہے، اس سے دودھ کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا کہ بچے کی صحت پر اثر پڑے۔
۔ بنو طفاوہ کے ایک آدمی سے مروی ہے، وہ کہتا ہے: میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس بطور مہمان ٹھہرا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں کسی کو ان سے زیادہ خدمت گزار نہیں پایا اور نہ ہی ان سے بڑھ کر کوئی مہمان کا خیال رکھنے والا تھا، میں ایک دفعہ ان کے پاس ایک چار پائی پر بیٹھا ہوا تھا اور ایک سیاہ فام لونڈی نیچے بیٹھی ہوئی تھی، سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس ایک تھیلی تھی، جس میں کنکریاںیا گٹھلیاں تھیں، وہ سبحان اللہ، سبحان اللہ کہہ رہے تھے، یہاں تک جو کچھ تھیلے میں تھا، وہ ختم ہو گیا، پھر انھوں نے وہ تھیلی لونڈی کی جانب پھینکدی، اس نے وہ کنکریاں اس تھیلی میں جمع کیں اور تھیلی پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو تھمادی۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں تجھے اپنا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا واقعہ نہ بتائوں؟ میں نے کہا : کیوں نہیں، ضرور بتائیں، انھوں نے کہا: مدینہ کی مسجد میں میں سخت بخار میں مبتلا پڑا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس مسجد میں تشریف لائے اور پوچھا: کسی نے دوسی نوجوان کو دیکھاہے؟دوسی نوجوان کو کسی نے دیکھا ہے؟ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ مسجد کے ایک کونے میں جہاں آپ دیکھ رہے ہیں، بخار میں مبتلا پڑاہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لے آئے اور اپنا دست مبارک میرے اوپر رکھا اور مجھ سے اچھے انداز پر بات کی، میں کھڑا ہوا اور آپ چل دئیے،یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے اس مقام پر کھڑے ہو گئے، جس میں نماز پڑھاتے تھے، اس دن آپ کے ساتھ مردوں کی دو صفیں اور عورتوں کی ایک صف تھی،یا عورتوں کی دو صفیں اور مردوں کی ایک صف تھی،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی جانب رخ کیا اور فرمایا: اگر شیطان مجھے میری نماز میں سے کچھ بھلا دے تو مردوں کو چاہیے کہ وہ سبحان اللہ کہیں اور عورتیں تالی بجائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھائی اور آپ بھولے نہیں،جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیرا تو لوگوں کی جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا: اپنی اپنی جگہ پر بیٹھیں رہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا ایسے ہوا ہے کہ تم میں سے کوئی اپنی بیوی کے پاس جائے، دروازہ بند کر لے اور پردہ لٹکا دے، پھر وہ باہر نکلے اور لوگوں میںیہ بات کرنا شروع کر دے کہ اس نے اپنی کے ساتھ یہ کچھ کیا ہے اور اس نے اپنی اہلیہ کے ساتھ یہ کاروائی کی ہے؟ لوگ خاموش ہو گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عورتوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: کیا تم میں ایسی باتیں کرنے والی کوئی ہے؟ ایک ابھری ہوئی چھاتی والی نوجوان لڑکی ایک گھٹنے کے بل کھڑی ہوئی اور اپنے آپ کو لمبا کیا، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو دیکھ لیں اور اس کی بات سن لیں، اور اس نے کہا: جی ہاں، اللہ کی قسم! مرد بھی ایسی باتیں کرتے ہیں اور عورتیں بھی ایسی باتیں کرتی ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں پتہ ہے کہ ایسا کرنے والے کی مثال کیا ہے؟ اس کی مثال اس شیطان اور شیطاننی کی سی ہے، جو ایک گلی میں ایک دوسرے کو ملے اور وہیں اپنی حاجت پوری کرنا شروع کر دے، جبکہ لوگ ان کو دیکھ رہے ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی کسی آدمی کے ساتھ اور کوئی عورت کسی عورت کے ساتھ اس طرح نہ لیٹے کہ بیچ میں کوئی پردہ نہ ہو،ما سوائے والدین اور اولاد کے۔ راوی کی ذکر کردہ تیسری چیز میں بھول گیا ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار ! آدمی کی خوشبو وہ ہے جس کی مہک ہو، رنگ ظاہر نہ ہو۔ خبر دار! عورتوں کی خوشبو وہ ہے، جس کی رنگت نمایاں ہو اور اس کی مہک نہ ہو۔
Takhreej
(۷۰۹۱) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ الطفاوی، ولبعض قطع ھذا الحدیث طرق وشواھد تقویہ، أخرجہ ابوداود: ۲۱۷۴، ۴۰۱۹، والترمذی باثر الحدیث: ۲۷۸۷، واقتصر الترمذی علی قصۃ طیب الرجال (انظر: ۱۰۹۷۷)
Explanation
فوائد:… کستوری، عنبر، عود اور کافور جیسی چیزیں مردوں کی خوشبوئیں ہیں اور مہندی، زعفران اور خلوق جیسی چیزیں عورتوں کی خوشبوئیں ہیں، کیونکہ اول الذکر کا رنگ نمایاں نہیں ہوتا، خوشبو بہت ہوتی ہے، جبکہ مؤخر الذکر چیزوں کی رنگت بڑی واضح ہوتی ہے، لیکن خوشبو بہت کم۔
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شیاع حرام ہے۔ شیاع سے مراد جماع کرکے اس پر فخر کا اظہار کرنا ہے۔
Takhreej
(۷۰۹۲) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف دراج بن سمعان فی روایتہ عن ابی الھیثم، أخرجہ ابویعلی: ۱۳۹۶(انظر: ۱۱۲۳۵)
۔ سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: : اللہ تعالیٰ کے نزدیک روز قیامت سب سے بڑی خیانتیہ ہو گی کہ مرد اپنی بیوی کے پاس جائے اور عورت اپنے خاوند کے پاس جائے اور پھر وہ اس کا راز بیان کرنا شروع کر دے۔
Takhreej
(۷۰۹۳) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۴۳۷(انظر: ۱۱۶۵۵)
Explanation
فوائد:… ’’ان من اعظم الامانۃ‘‘ کے معانی ’’من اعظم نقض الامانۃ وھتکھا وزرا‘‘ اور ’’ان من اعظم خیانۃ الامانۃ‘‘ کے ہیں۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جماع کے دوران کی قولی اور فعلی حرکات، اس امر کی تفصیل اور جماع سے متعلقہ دوسرے امور بیان کرنا حرام ہیں، مثلا لذت و شہوت والی باتیںاور بوس و کنار وغیرہ۔
۔ سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس مرد اور عورتیں بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ممکن ہے کہ آدمی اپنی بیوی کے ساتھ جو کچھ کرتا ہے، وہ اس کو باہر بھی بیان کرتا رہے، اسی طرح بیوی اپنے خاوند کے ساتھ جو کچھ کرتی ہے، وہ اس کو باہر بیان کرتی پھرے۔ لوگ خاموش ہو گئے، میں (اسمائ) نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم ہے، عورتیں بھی اس طرح کرتی ہیں اور مرد بھی ایسا کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایسا نہ کیا کرو، اس کی مثال بالکل اس شیطان کی طرح ہے، جو کسی راستے میں شیطاننی کو ملا اور اس نے وہیں اس سے کاروائی شروع کر دی اور اس کے اوپر چڑھ گیا، جبکہ لوگ دیکھ رہے تھے۔
Takhreej
(۷۰۹۴) اسنادہ ضعیف لضعف شہر بن حوشب، أخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۲۴/ ۴۱۴ (انظر:۲۷۵۸۳)
۔ سیدنا علی بن طلق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ایک دیہاتی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! ہم دیہات میں ہوتے ہیں اور ہم میں سے کسی کی ہوا خارج ہو جاتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ حق سے نہیں شرماتا، جب کسی کے ساتھ ایسا ہو جائے تو وہ وضو کرے اور عورتوں کو پیچھے سے استعمال نہ کیا کرو۔
Takhreej
(۷۰۹۵) تخریج: اسنادہ ضعیف، مسلم بن سلام لم یرو عنہ غیر واحد ولم یوثقہ غیر ابن حبان، وادراج ھذا الحدیث فی مسند علی بن ابی طالب B خطأ، فانہ من مسند علی بن طلق، أخرجہ ابوداود: ۲۰۵، ۱۰۰۵، والترمذی: ۱۱۶۴، ۱۱۶۶(انظر: ۶۵۵)
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی اس آدمی کی جانب نہیں دیکھے گا جو اپنی بیوی کو پشت سے استعمال کرتا ہے، اللہ تعالی اس کی طرف نہیں دیکھے گا۔
Takhreej
(۷۰۹۶) تخریج: حدیث حسن، أخرجہ ابن ماجہ: ۱۹۲۳(انظر: ۷۶۸۴)
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ آدمی ملعون ہے، جو اپنی بیوی کو پشت سے استعمال کرتا ہے۔
۔ سیدناخزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالی حق سے نہیں شرماتا، تم عورتوں کو پشت سے استعمال نہ کیا کرو (یعنی ان سے غیر فطری جماع نہ کیا کرو)۔
۔ ہمام سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ امام قتادہ سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جو اپنی بیوی کو پشت سے استعمال کرتا ہے،انھوں نے کہا: ہمیں عمرو بن شعیب نے اپنے باپ سے اور انھوں نے اپنے دادے سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ چھوٹے درجے کی لواطت ہے۔ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ کام تو صرف کافر ہی کر سکتا ہے۔
فوائد:… بیویوں کی پشت کو استعمال کرنا حرام ہے، اس کو غیر فطری جماع کہتے ہیں، دراصل مسئلہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے جماع کے لیے بیوی کے جس عضو کو وجود دیا ہے، اسی کو ہی استعمال کرنا چاہیے، لٹانے کی صورت کوئی بھی ہو سکتی ہے۔ نیز دیکھیں حدیث نمبر (۷۱۱۷)۔