TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

ولیمہ کے ابواب - ولیمہ کے ابواب - Book 121 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 121 of Musnad Ahmad, with 15 chapters and 72 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

72 Hadith · 15 Chapters
اس چیز کا بیان کہ عورتوں کے لئے کون سی زینت مستحب ہے اور کون سی مکروہ
۔ (۷۰۶۸)۔ عَنْ عَائِشَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: مَدَّتِ امْرَأَۃٌ مِنْ وَرَائِ السِّتْرِ بِیَدِھَا کِتَابًا إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَبَضَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَدَہُ وَقَالَ: ((مَا أَدْرِیْ أَ یَدُ رَجُلٍ أَوْ یَدُ امْرَأَۃٍ۔)) فَقَالَتْ: بَلْ یَدُ امْرَأَۃٍ، فَقَالَ: ((لو کُنْتِ امْرَأَۃً لَغَیَّرْتِ اَظْفَارَکِ بِالْحِنَّائِ۔)) (مسند احمد: ۲۶۷۸۸)
۔ ام المومنین سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ ایک خاتون نے پردے کے پیچھے سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کتاب پکڑانے کے لیے اپنا ہاتھ لمبا کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا ہاتھ پیچھے کر لیا اور فرمایا: میںیہ نہیں جانتا کہ یہ مرد کا ہاتھ ہے یا عورت کا۔ اس نے کہا: جییہ عورت کا ہاتھ ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تو عورت ہوتی تو مہندی کے ساتھ اپنے ناخنوں کا رنگ بدل دیتی۔
Takhreej
(۷۰۶۸) تخریج: حسن، قالہ الالبانی، أخرجہ ابوداود: ۴۱۶۶، والنسائی: ۸/ ۱۴۲ (انظر: ۲۶۲۵۸)
7068
Sahih
اس چیز کا بیان کہ عورتوں کے لئے کون سی زینت مستحب ہے اور کون سی مکروہ
۔ (۷۰۶۹)۔ عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ اَبِیْ بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: أَتَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم امْرَأَۃٌ فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّ لِیْ اِبْنَۃً عُرَیْسًا وَإِنَّہُ أَصَابَتْہَا حَصْبَۃٌ فَتَمَزَّقَ شَعْرُھَا أَفَأَصِلُہُ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَعَنَ اللّٰہُ الْوَاصِلَۃَ وَالُمُسْتَوْصِلَۃَ۔)) (مسند احمد: ۲۷۴۵۷)
۔ سیدنا اسماء بنت ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ ایک خاتون نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میری بیٹی کی شادی ہے اور چیچک کی بیماری کی وجہ سے اس کے بال جھڑ گئے ہیں، کیا میں اس کوبال لگا سکتی ہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی نے بال ملانے والی اور جو ملانے کا مطالبہ کرے، دونوں پر لعنت کی ہے۔
Takhreej
(۷۰۶۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۹۴۱، ومسلم: ۲۱۲۲ (انظر: ۲۶۹۱۸)
7069
Sahih
اس چیز کا بیان کہ عورتوں کے لئے کون سی زینت مستحب ہے اور کون سی مکروہ
۔ (۷۰۷۰)۔ عَنْ مُعَاوِیَۃ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اَیُّمَا امْرَأَۃٍ أَدْخَلَتْ فِیْ شَعْرِھَا مِنْ شَعْرِ غَیْرِھَا فَاِنَّمَا تُدْخِلُہُ زُوْرًا۔)) (مسند احمد: ۱۷۰۵۱)
۔ سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے نے فرمایا: جو عورت اپنے بالوں کے ساتھ دوسری عورت کے بال ملاتی ہے، تو وہ جھوٹ اور باطل کے طور پر ہی ان کو داخل کرتی ہے۔
Takhreej
(۷۰۷۰) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۱۹/ ۷۹۲ (انظر: ۱۶۹۲۷)
7070
Sahih
اس چیز کا بیان کہ عورتوں کے لئے کون سی زینت مستحب ہے اور کون سی مکروہ
۔ (۷۰۷۱)۔ ) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَلْعَنُ الْمُتَنَمِّصَاتِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ وَالْمُوْشِمَاتِ اللَّاتِیْیُغَیِّرْنَ خَلْقَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔ (مسند احمد: ۳۹۵۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چہرے کے بال نوچنے والی، دانتوں میں فاصلہ پیدا کرنے والی اورگوندنے والی خواتین پر لعنت کرتے تھے، یہ اللہ تعالی کی تخلیق کو بدل ڈالنے والیاں ہیں۔
Takhreej
(۷۰۷۱) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ النسائی: ۸/ ۱۴۸(انظر: ۳۹۵۶)
Explanation
فوائد:… عورت کے لیے زینت کے بہت سے اسباب جائز ہیں، مثلا: مہندی،زعفران اور خلوق جیسی خوشبوئیں، جن کا رنگ زیادہ ہے اور خوشبو کم،کریم اور پاؤڈر وغیرہ، جن کی خوشبو تیز نہ ہو اور میک اپ کا دوسرا ساز و سامان، رنگین ملبوسات اور خوبصورت جوتے، سونا، ریشم۔ لیکن اس زمانے کی اپ ٹو ڈیٹ خواتین نے ان جائز اسباب پر اکتفا نہ کیا اور زیب و زینت اختیار کرنے کے ایسے ذریعے اختیار کر لیے، جو شریعت میں واضح طور پر حرام ہیں، بلکہ ان کی وجہ سے لعنت بھی ہوتی ہے، مثلا: پلکنگ، تھریڈنگ، اپر لپس (upper lips) ، عدسہ، آرٹی فیشلپلکیں، مصنوعی ناخن اور بال، بازوؤں اور ٹانگوں سے بال صاف کرنا، تل بھرنا، وغیرہ وغیرہ، ان سب امور سے اللہ تعالی کی تخلیق تبدیل ہو جاتی ہے، آپ a نے ایسا کرنے والی پر لعنت کی ہے۔
7071
Sahih
جماع کے وقت اللہ تعالی کا نام لینے اور پردہ کرنا اور دوبارہ جماع کرنے کے لیے وضو کرنے کا بیان
۔ (۷۰۷۲)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَوْ أَنَّ أَحَدَھُمْ إِذَا أَتٰی أَھْلَہُ قَالَ: بِسْمِ اللّٰہ اَللّٰھُمَّ جَنِّبْنِی الشَّیْطَانَ وَجَنِّبِ الشَّیَطَانَ مَارَزَقْتَنَا، فَاِنْ قُدِّرَ بَیْنَہُمَا فِیْ ذَالِکَ وَلَدٌ لَمْ یَضُرَّ ذَالِکَ الْوَلَدَ الشَّیْطَانُ اَبَدًا۔)) (مسند احمد: ۱۸۶۷)
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی اپنی بیوی کے پاس آنے سے پہلے یہ دعا پڑھتا ہے: بِسْمِ اللّٰہ اَللّٰھُمَّ جَنِّبْنِی الشَّیْطَانَ وَجَنِّبِ الشَّیَطَانَ مَارَزَقْتَنَا (اللہ کے نام کے ساتھ، اے اللہ! مجھے بھی شیطان سے بچا اور اس اولاد کو بھی شیطان سے محفوظ رکھ، جو تو مجھے عطا کرے)۔ اگر میاں بیوی کے اس تعلق میں اولاد کا فیصلہ کر دیا گیا تو شیطان کبھی بھی اس کو نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔
Takhreej
(۷۰۷۲) أخرجہ البخاری: ۱۴۱، ۳۲۷۱، ۵۱۶۵، ومسلم: ۱۴۳۴، وابوداود!: ۲۱۶۱(انظر: ۱۸۶۷)
7072
Sahih
جماع کے وقت اللہ تعالی کا نام لینے اور پردہ کرنا اور دوبارہ جماع کرنے کے لیے وضو کرنے کا بیان
۔ (۷۰۷۳)۔ عَنْ بَہْزِ بْنِ حَکِیْمٍ قال: حَدَّثَنِیْ اَبِیْ عَنْ جَدِّیْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ حَیْدَۃَ قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! عَوْرَاتُنَا مَا نَأْتِیْ مِنْہَا وَمَا نَذَرُ؟ قَالَ: ((احْفَظْ عَوْرَتَکَ اِلَّا مِنْ زَوْجَتِکَ أَوْ مَا مَلَکَتْ یَمِیْنُکَ۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فاِذَا کَانَ الْقَوْمُ بَعْضُہُمْ فِیْ بَعْضٍ؟ قَالَ: ((اِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ لَّا یَرَاھَا أَحَدٌ فَـلَا یَرَیَنَّہَا۔)) قُلْتُ: فَاِذَا کَانَ أَحَدُنَا خَالِیًا؟ قَالَ: ((فَاللّٰہُ اَحَقُّ أَنْ یُسْتَحْیَا مِنْہُ۔)) وَفِیْ رِوَایَۃٍ وَوَضَعَ یَدَہُ عَلٰی فَرْجِہِ۔ (مسند احمد: ۲۰۲۸۷،۲۰۲۹۶)
۔ سیّدنامعاویہ بن حیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم اپنی عورات(یعنی ستروالے مقامات) میں سے کسیق دیکھ سکتے ہیں اور کسے نہیں دیکھ سکتے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : بیوی اور لونڈی کے علاوہ (باقی سب لوگوں سے) اپنے ستر کی حفاظت کر۔ معاویہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب لوگ ایک دوسرے کے ساتھ اکٹھے ہوںتو؟ آپ نے فرمایا: اگر تجھ میںیہ استطاعت ہے کہ کوئی بھی (تیرے ستر) کو نہ دیکھنے پائے تو وہ ہرگز نہ دیکھے۔ معاویہ کہتے ہیں: میں نے پوچھا: جب کوئی آدمی اکیلا ہو تو؟ آپ نے جواب دیا: اللہ اس بات کا زیادہ حق رکھتا ہے کہ اس سے حیا کیا جائے۔۔ ایک روایت کے مطابق (بات سمجھانے کے لیے) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا ہاتھ اٹھا کر اپنی شرمگاہ پر رکھا۔
Takhreej
(۷۰۷۳) تخریـج:… اسنادہ حسن، أخرجہ ابوداود: ۴۰۱۷، والترمذی: ۱۹۲۰، ۲۷۶۹، وابن ماجہ: ۱۹۲۰، والجملۃ الاخیرۃ ای ’’فوضعھا علی فرجہ‘‘ اسنادھا حسن ایضا و أخرجھا عبد الرزاق: ۱۱۰۶، والطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۱۹/ ۹۸۹ (انظر: ۲۰۰۳۴، ۲۰۰۳۵)۔
Explanation
فوائد:… درج ذیل روایت سے اپنا پردہ کرنے کا اندازہ ہو جاتا ہے: سیدنایعلیb سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِV رَأٰی رَجُلًا یَغْتَسِلُ بِالْبَرَازِ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَحَمِدَ اللّٰہَ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ وَقَالَ: ((إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ حَلِیمٌ حَیِیٌّ سِتِّیرٌیُحِبُّ الْحَیَاء َ وَالسَّتْرَ فَإِذَا اغْتَسَلَ أَحَدُکُمْ فَلْیَسْتَتِرْ۔)) …رسول اللہ a نے ایک آدمی کو کھلی جگہ میں غسل کرتے دیکھا، پس آپa منبر پر تشریف لائے، اللہ تعالی کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: ’’بیشک اللہ تعالی بہت بردبار، حیادار اور پردے والا ہے اور حیا اور پردے کو پسند کرتا ہے، لہذا جب تم میں سے کوئی آدمی غسل کرے تو پردے میں کرے۔‘‘ (ابوداود: ۴۰۱۲، نسائی: ۴۰۶) کوئی ہو یا نہ ہو، کسی اوٹ میںیا پردے والے مقامات کا پردہ کر کے غسل کرنا چاہیے۔
7073
Sahih
جماع کے وقت اللہ تعالی کا نام لینے اور پردہ کرنا اور دوبارہ جماع کرنے کے لیے وضو کرنے کا بیان
۔ (۷۰۷۴)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّہَا قَالَتْ: مَانَظَرْتُ اِلٰی فَرْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَطُّ أَوْ مَا رَاَیْتُ فَرْجَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَطُّ۔ (مسند احمد: ۲۴۸۴۸)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے کبھی بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی شرمگاہ کو نہیں دیکھا ۔
Takhreej
(۷۰۷۴) تخریج: اسنادہ ضعیف لابھام الراوی عن عائشۃC، أخرجہ الترمذی فی ’’الشمائل‘‘: ۵۲، وابن ابی شیبۃ: ۱/ ۱۰۶، والطبرانی فی ’’الصغیر‘‘: ۱۳۸ (انظر: ۲۴۳۴۴)
Explanation
فوائد:… میاں بیوی کا عضو ایک دوسرے کے لیے دیکھنا جائز ہے۔ کیونکہ منع کی کوئی دلیل نہیں۔
7074
Zaeef
جماع کے وقت اللہ تعالی کا نام لینے اور پردہ کرنا اور دوبارہ جماع کرنے کے لیے وضو کرنے کا بیان
۔ (۷۰۷۵)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا اَتَی الرَّجُلُ أَھْلَہُ ثُمَّ أَرَادَ الْعَوْدَ تَوَضَّأَ)) (مسند احمد: ۱۱۱۷۸)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی اپنی بیوی سے صحبت کرے اور پھر وہ دوبارہ آنا چاہے تو وضو کر لے۔
Takhreej
(۷۰۷۵) تخریج:أخرجہ مسلم: ۳۰۸ (انظر: ۱۱۱۶۱)
Explanation
فوائد:… ایک صحیح روایت میں ’’فَاِنَّہ اَنْشَطُ لِلْعَوْدِ‘‘ (کیونکہ اس طرح دوبارہ آنے میں زیادہ چستی پیدا ہو جائے گی) کے الفاظ ہیں۔
7075
Sahih
جماع کے وقت اللہ تعالی کا نام لینے اور پردہ کرنا اور دوبارہ جماع کرنے کے لیے وضو کرنے کا بیان
۔ (۷۰۷۶)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَتَوَضَّأُ اِذَا جَامَعَ وَاِذَا أَرَادَ أَنْ یَرْجِعَ۔))، قَالَ سُفْیَانُ أَبُوْ سَعِیْدٍ أَدْرَکَ الْحَرّۃَ۔ (مسند احمد: ۱۱۰۵۰)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب آدمی جماع کرنے لگے تو وضو کرے، اسی طرح جب دوبارہ جماع کرنا چاہے تو پھر وضو کر لے۔ امام سفیان نے کہا: ابو سعید نے حرّہ کو پایا تھا۔
Takhreej
(۷۰۷۶) تخریج: انظر الحدیث السابق
Explanation
فوائد:… مدینہ کے قریب سیاہ پتھروں والی ایک زمین کو حرہ کہتے ہیںیزید بن معاویہ نے اپنے دور میں ایک لشکر مدینہ والوں سے لڑائی کرنے کے لیے بھیجا تھا۔ اس کو واقعہ حرۃ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ یہ۶۳ میں پیش آیا اور ابو سعید خدری۶۴یعنی اس واقعہ کے ایک سال بعد فوت ہوئے۔ (عبداللہ رفیق)
7076
Sahih
عزل کا بیان اور اس کے بارے میںمنقول روایات عزل کے منہی عنہ اور مکروہ ہونے کا بیان
۔ (۷۰۷۷)۔ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہٰی عَنِ الْعَزْلِ عَنِ الْحُرَّۃِ اِلَّا بِاِذْنِہَا۔ (مسند احمد: ۲۱۲)
۔ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آزاد عورت سے عزل کرنے سے منع فرمایا، الایہ کہ وہ اجازت دے دے۔
Takhreej
(۷۰۷۷) اسنادہ ضعیف، عبد اللہ بن لھیعۃ سییء الحفظ، أخرجہ ابن ماجہ: ۱۹۲۸(انظر: ۲۱۲)
7077
Zaeef
عزل کا بیان اور اس کے بارے میںمنقول روایات عزل کے منہی عنہ اور مکروہ ہونے کا بیان
۔ (۷۰۷۸)۔ عَنْ جُدَامَۃَ بِنْتِ وَھْبٍ الْأَسَدِیَّۃِ وَکَانَتْ مِنَ الْمُہَاجِرَاتِ الْأُوَلِ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَسُئِلَ عَنِ الْعَزْلِ، فَقَالَ: ((ھُوَ الْوَأْدُ الْخَفِیُّ۔)) (مسند احمد: ۲۷۵۷۶)
۔ سیدنا جدامہ بنت وہب اسدیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، جو کہ پہلی مہاجر خواتین میں سے تھیں، سے مروی ہے کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے غزل کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ مخفی انداز میں زندہ درگور کرنا ہے۔
Takhreej
(۷۰۷۸) تخریج: حدیث صحیح (انظر: ۲۷۰۳۶)
Explanation
فوائد:… اللہ تعالی نے جس نطفے کو بچے کی تخلیق کے لیے تیار کیا، اس مقصد کے پورا نہ ہونے کی کوشش کرنا اور نطفے کو ضائع کر دینا، گویامخفی انداز میں زندہ درگور کرنا ہے۔ یہ حدیث جواز والی احادیث کے مقابلے میں عزل کی ممانعت پر دلالت نہیں کرتی، کیونکہ اعلانیہ طور پر بچوں کو زندہ درگور کرنا حرام ہے، اس سے یہ تو لازم نہیں آتا کہ مذکورہ بالا خفیہ طریقے سے بھی ایسا کرنا ممنوع ہے، جبکہ اگلے باب میںجواز کے دلائل موجود ہیں۔
7078
Sahih
عزل کا بیان اور اس کے بارے میںمنقول روایات عزل کے منہی عنہ اور مکروہ ہونے کا بیان
۔ (۷۰۷۹)۔ عَنِ ابْنِ مُحَیْرِیْزٍ الشَّامِیِّ اَنَّہُ سَمِعَ أَبَا صِرْمَۃَ الْمَازِنِیَّ وَأَبَا سَعِیْدٍ الْخُدْرِیَّیَقُوْلَانِ: أَصَبْنَا سَبَایَا فِیْ غَزْوَۃِ بَنِی الْمُصْطَلِقِ وَھِیَ الْغَزْوَۃُ الَّتِیْ أَصَابَ فِیْہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَوَیْرِیَۃَ وَکَانَ مِنَّا مَنْ یُرِیْدُ أَنْ یَتَّخِذَ اَھْلًا وَمِنَّا مَنْ یُرِیْدُ أَنْ یَسْتَمْتِعَ وَیَبِیْعَ، فَتَرَاجَعْنَا فِی الْعَزْلِ فَذَکْرَنَا ذَالِکَ لِلْنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((مَا عَلَیْکُمْ اَنْ لَّا تَعْزِلُوْا، فَاِنَّ اللّٰہَ قَدَّرَ مَا ھُوَ خَالِقٌ اِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۶۲۴)
۔ سیدنا ابو صرمہ مازنی اور سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے غزوئہ نبی مصطلق میں قیدی حاصل کیے،یہ وہی غزوہ ہے، جس میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ جویریہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو حاصل کیا تھا، ہم میں سے بعض افراد (اہل (بیوی) بنانا چاہتے تھے اور بعض کا ارادہ تھا کہ وہ لونڈیوں سے ہم بستری کر کے ان کو فروخت کر دیں، اس لیے ہم نے غزل کے بارے میں تکرار کیا اورنبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس چیز کا ذکر کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تم عزل نہ کرو تو تم پر کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ اللہ تعالی نے قیامت تک جو کچھ پیدا کرنا ہے، اس نے اس کا اندازہ کر لیا ہے۔
Takhreej
(۷۰۷۹) تخریج: حدیث صحیح،أخرجہ النسائی فی ’’الکبری‘‘: ۹۰۸۹، والبیھقی: ۱۰/ ۳۴۷، وابن ابی شیبۃ: ۴/ ۲۲۲ (انظر: ۱۱۶۰۲)
7079
Sahih
عزل کا بیان اور اس کے بارے میںمنقول روایات عزل کے منہی عنہ اور مکروہ ہونے کا بیان
۔ (۷۰۸۰)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: ذُکِرَ ذَالِکَ عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((وَمَا ذَاکُمْ؟)) قَالُوْا: الرَّجُلُ تَکُوْنُ الْمَرْأَۃُ تُرْضِعُ فَیُصِیْبُ مِنْہَا وَیَکْرَہُ اَنْ تَحْمِلَ مِنْہُ وَالرَّجُلُ تَکُوْنُ لَہُ الْجَارِیَۃُ فَیُصِیْبُ مِنْہَا وَیَکْرَہُ اَنْ تَحْمِلَ مِنْہُ، فَقَالَ: ((فَـلَا عَلَیْکُمْ اَنْ تَفْعَلُوْا ذَاکُمْ فَاِنَّمَا ھُوَ الْقَدَرُ۔)) قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: فَحَدَّثْتُ بِہِ الْحَسَنَ فَقَالَ: فَـلَا عَلَیْکُمْ لَکَأَنَّ ھٰذَا زِجْرٌ۔ (مسند احمد: ۱۱۰۹۴)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس عزل کا ذکر کیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ ہے کیا؟ لوگوں نے کہا: ایک آدمی کی بیوی ہے، وہ بچے کو دودھ پلاتی ہے اس لیے وہ پسند نہیں کرتا کہ وہ حاملہ ہو، اسی طرح ایک آدمی کی لونڈی ہے، وہ اس سے ہم بستری تو کرتا ہے، لیکن اس کا حاملہ ہونا پسند نہیں کرتا، سو وہ عزل کرنا چاہتے ہیں۔آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تم یہ کرو تو تم پر کوئی حرج نہیں ہے، یہ تو تقدیر کا مسئلہ ہے۔ ابن عون کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث سیدنا حسن سے بیان کی تو انہوں نے کہا فَـلَا عَلَیْکُمْ کا مقصد عزل سے ڈانٹنا ہے۔
Takhreej
(۷۰۸۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۴۳۸(انظر: ۱۱۰۷۸)
7080
Sahih
عزل کا بیان اور اس کے بارے میںمنقول روایات عزل کے منہی عنہ اور مکروہ ہونے کا بیان
۔ (۷۰۸۱)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْعَزْلِ: ((اَنْتَ تَخْلُقُہ؟ اَنْتَ تَرْزُقُہ؟ أَقِرَّہُ قَرَارَہُ فَاِنَّمَا ذَالِکَ الْقَدَرُ۔)) (مسند احمد: ۱۱۵۲۳)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عزل کے بارے میں فرمایا: کیا تو اس کو پیدا کرتا ہے؟ کیا تو اس کو رزق دیتا ہے؟ اس کو اس کی جگہ پر ٹھہرنے دے (یعنی عزل نہ کر) کیونکہ ان سب امور کا تعلق قضا وقدرسے ہے۔
Takhreej
(۷۰۸۱) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، الحسن البصری لم یسمع من ابی سعید (انظر: ۱۱۵۰۳)
Explanation
فوائد:… اس باب کی احادیث سے عزل کے مکروہ ہونے کا اشارہ ملتا ہے۔
7081
Zaeef
عزل کی رخصت کا بیان
۔ (۷۰۸۲)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: کُنَّا نَعْزِلُ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَالْقُرْآنُ یَنْزِلُ۔ (مسند احمد: ۱۴۳۶۹)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانہ میں عزل کرتے تھے اور قرآن پاک نازل ہورہا ہوتا تھا۔
Takhreej
(۷۰۸۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۴۴۰ (انظر: ۱۴۳۱۸)
Explanation
فوائد:… اس کے باوجود ہمیں عزل سے منع نہیں کیا گیا، اگر عزل حرام ہوتا تو یقینا منع کر دیا جاتا۔ صحیح مسلم کی ایک روایت کے درج ذیل الفاظ مذکورہ بالا حدیث سے زیادہ واضح ہیں: سیدنا جابر b کہتے ہیں: کُنَّا نَعْزِلُ عَلٰی عَہْدِ رَسُولِ اللّٰہِV فَبَلَغَ ذَلِکَ نَبِیَّ اللّٰہِV فَلَمْ یَنْہَنَا۔ … ہم رسول اللہ a کے زمانے میں عزل کرتے تھے، جب آپ a کو اس چیز کا علم ہوا تو آپ a نے ہمیں منع نہیں کیا۔
7082
Sahih
عزل کی رخصت کا بیان
۔ (۷۰۸۳)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: اِنَّ لِیْ جَارِیَۃً وَھِیَ خَادِمُنَا وَسَانِیَتُنَا أَطُوْفُ عَلَیْہَا وَأَنَا اَکْرَہُ اَنْ تَحْمِلَ، قَالَ: ((اعْزِلْ عَنْہَا اِنْ شِئْتَ فِاِنَّہُ سَیَأْتِیْہَا مَا قُدِّرَ لَھَا۔))، قَالَ: فَلَبِثَ الرَّجُلُ ثُمَّ أَتَاہُ فَقَالَ: اِنَّ الْجَارِیَۃَ قَدْحَمَلَتْ، فَقَالَ: ((قَدْ أَخْبَرْتُکَ أَنَّہ سَیَأْتِیْہَا مَا قُدِّرَلَھَا۔)) (مسند احمد: ۱۴۳۹۸)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا : میری ایک لونڈی ہے، وہ ہماری خادمہ بھی ہے اور پانی بھی لاتی ہے، میں اس سے ہم بستری تو کرتا ہوں، مگر میں اس کاحاملہ ہونا ناپسند کرتا ہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تو اس سے عزل کرنا چاہتا ہے تو کرلے، مگر جو اس کے مقدر میں ہے، وہ آکر رہے گا۔ وہ آدمی کچھ عرصہ کے بعد آیا اور اس نے کہا: وہ لونڈی تو حاملہ ہو گئی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے تجھے کہہ دیا تھا کہ جو اس کے مقدر میں ہے، وہ آ کر رہے گا۔
Takhreej
(۷۰۸۳) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۴۳۹ (انظر: ۱۴۳۴۶)
7083
Sahih
عزل کی رخصت کا بیان
۔ (۷۰۸۴)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ قَالَ: اَصَبْنَا سَبْیًا فِیْیَوْمِ حُنَیْنٍ فَکُنَّا نَلْتَمِسُ فِدَائَھُنَّ، فَسَاَلْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الْعَزْلِ فَقَالَ: ((اصْنَعُوْا مَا بَدَا لَکُمْ، فَمَا قَضَی اللّٰہُ فَہُوَ کَائِنٌ فَلَیْسَ مِنْ کُلِّ الْمَائِ یَکُوْنُ الْوَلَدُ۔)) (مسند احمد: ۱۱۴۵۸)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے حنین کے دن لونڈیاں حاصل کیں، ہم ان کے عوض مال چاہتے تھے، اس لیے ہم نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے عزل کے بارے میں سوال کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تک مناسب سمجھو کر لو، لیکن اللہ تعالی نے جو فیصلہ کر دیا ہے، وہ ہو کررہے گا، سارے مادۂ منویہ سے تو اولاد نہیں ہوتی، (وہ تو ایک قطرے سے ہو جاتی ہے)۔
Takhreej
(۷۰۸۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۴۳۸(انظر: ۱۱۴۳۸)
7084
Sahih
عزل کی رخصت کا بیان
۔ (۷۰۸۵)۔ وَعَنْہُ اَیُضًا اَنَّ رَجُلًا قَالَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : اِنَّ لِیْ اَمَۃً وَاَنَا أَعْزِلُ عَنْہَا وَأَنِّی أَکْرَہُ اَنْ تَحْمِلَ، وَاِنَّ الْیَہُوْدَ تَزْعَمُ اَنَّہَا الْمَوْئُ وْدَۃُ الصُّغْرٰی، قَالَ: ((کَذَبَتْ یَہُوْدُ، اِذَا أَرَادَ اللّٰہُ اَنْ یَخْلُقَہُ لَمْ تَسْتَطِعْ اَنْ تَرُدَّہُ۔)) (مسند احمد: ۱۱۵۲۲)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: میری ایک لونڈی ہے، میں چاہتا ہوں کہ وہ حاملہ نہ ہو، اس لیے میں اس سے عزل کرتا ہوں اور ان یہودیوں کا خیال ہے کہ یہ چھوٹا زندہ درگور کرنا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہودی جھوٹ بولتے ہیں، جب اللہ تعالیٰ کسی چیز کے پیدا کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو تو اسے روکنے کی طاقت نہیں رکھتا۔
Takhreej
(۷۰۸۵) تخریج: حدیث صحیح،أخرجہ ابوداود: ۲۱۷۱ (انظر: ۱۱۵۰۲)
Explanation
فوائد:… حدیث نمبر (۷۰۷۸)کے مطابق آپ a نے خود عزل کو مخفی انداز میں زندہ درگور کرنا قرار دیا، جبکہ اس حدیث میں آپ aیہودیوں کے اسی خیال کی تردید کر رہے ہیں۔ حافظ ابن قیم نے جمع و تطبیق کییہ صورت بیان کی ہے: آپ a نے یہودیوں کے جس خیال کی تردید کی ہے، اس سے مراد ان کا یہ نظریہ ہے کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ عزل کی صورت میں حمل کا کوئی تصور نہیں کیا جا سکتا اور وہ اس کو قطعِ نسل کے قائم مقام سمجھتے ہیں، آپ a نے ان کے اس نظریے کو باطل قرار دیا اور واضح کیا کہ اگر اللہ تعالی چاہے تو عزل کے باوجود حمل کا امکان ہو سکتا ہے، جب اللہ تعالی اس کی تخلیق کو نہیں چاہے گا تو یہ فی الحقیقت زندہ درگور کرنا نہیں ہو گا اور خود آپ a نے اس کو مخفی انداز میں زندہ درگور کرنا اس لیے قرار دیا کہ آدمی حمل سے بچنے کے لیے عزل کرتا ہے، پس آپ a نے اس کے اس ارادے کو زندہ درگور کرنے کے قائم مقام قرار دیا۔
7085
Sahih
عزل کی رخصت کا بیان
۔ (۷۰۸۶)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَسَأَلَ عَنِ الْعَزْلِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْ اَنَّ الْمَائَ الَّذِیْیَکُوْن مِنْہُ الْوَلَدُ اَھْرَقْتَہ عَلَی صَخْرَۃٍ لَأَخْرَجَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ مِنْہَا اَوْ لَخَرَجَ مِنْہَا وَلَدٌ، (اَلشَّکُّ مِنْہُ) وَلَیَخْلُقَنَّ اللّٰہُ نَفْسًا ھُوَ خَالِقُہَا۔)) (مسند احمد: ۱۲۴۴۷)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور عزل کے متعلق دریافت کیا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس مادۂ منویہ سے اولاد ہونی ہو، اگر تو اس کو کسی چٹان پر بہا دے تو اللہ تعالی اس سے اولاد پیدا کر دے گا، اللہ تعالی نے جس نفس کو پیدا کرنے والا ہے، وہ اس کو ضرور ضرور پیدا کر دے گا۔
Takhreej
(۷۰۸۶) تخریج: اسنادہ ضعیف، ابوعمرو مبارک الخیاط فی عداد المجھولین، وقد ثبت الحدیث موقوفا عن ابن مسعود، أخرجہ البزار: ۲۱۶۳ (انظر: ۱۲۴۲۰)
Explanation
فوائد:… اس باب کی روایات سے معلوم ہوا کہ عزل جائز ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ نظریہیہ ہونا چاہیے کہ اللہ تعالی کی طرف سے پھر بھی حمل کا حکم ہو سکتا ہے۔
7086
Zaeef
غیلہ کی کراہت اور اس کی وجہ سے عزل کی رخصت کا بیان غیلہ: دودھ پلانے کی مدت میں بیوی سے مباشرت کرنا غیلہ کہلاتا ہے۔
۔ (۷۰۸۷)۔ عَنْ اَسْمَائَ بِنْتِ یَزِیْدَ بنِ سَکَنٍ الْاَنْصَارِیَّۃِ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَا تَقْتُلُوْا أَوْلَادَکُمْ سِرًّا، فَاِنَّ الْغِیْلَیُدْرِکُ الْفَارِسَ فَیُدَعْثِرُہُ مِنْ فَوْقِ رَأْسِہِ۔))، قَالَ عَلِیٌّ: أَسْمَائُ بِنْتُ یَزِیْدَ الْاَنْصَارِیَّۃُ قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَذَکَرَ مِثْلَہ۔ (مسند احمد: ۲۸۱۴۲)
۔ سیدہ اسماء بنت یزید انصاریہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنی اولاد کو خفیہ طور پر قتل نہ کرو، بے شک غیلہ شہسوار پر اثر انداز ہوتا ہے اور اسے سر کے بل گرا دیتا ہے۔
Takhreej
(۷۰۸۷) اسنادہ ضعیف، مہاجر بن ابی مسلم الانصاری لایحتمل تفردہ، ثم انہ معارَض بحدیث صحیح ، وھو الحدیث الآتی بعدہ، أخرجہ ابوداود: ۳۸۸۱، وابن ماجہ: ۲۰۱۲ (انظر: ۲۷۵۹۰)
7087
Zaeef

Chapters

15
01
ولیمہ کے حکم، بکرییا اس سے زائد چیز کے ساتھ اس کے مستحب ہونے اور اس سے کم کسی چیز کے ولیمہ کے جائز ہونے کا بیان
9 Hadith
02
ولیمہ کی دعوت دینے والی کی دعوت قبول کرنے کا بیان
10 Hadith
03
جب دو داعی جمع ہو جائیں تو کیا کیا جائے، نیز دوسرے اور تیسرے دن کی دعوت قبول کرنے کا بیان
2 Hadith
04
اس امر کا بیان کہ جس شخص کو دعوت دی جائے، اگر وہ برائی دیکھے تو اس کو روکے، وگرنہ لوٹ جائے
3 Hadith
05
ولیمہ میں کھجوروں وغیرہ کو بکھیرنے اور پھر ان کو لوٹنے کا بیان
4 Hadith
06
ختنہ وغیرہ کے موقع کی دعوت کو قبول کرنے کا بیان اور اس چیز کا حکم کہ چھ افراد کو دعوت دی اور ایک آدمی ان کے ساتھ ویسے ہی چل پڑا
2 Hadith
07
نکاح کے اعلان اور اس میں کھیل کود اور دف بجانے کے حکم کا بیان
8 Hadith
08
ان اوقات کا بیان جن میں رخصتی مستحب ہے
1 Hadith
09
اس چیز کا بیان کہ عورتوں کے لئے کون سی زینت مستحب ہے اور کون سی مکروہ
5 Hadith
10
جماع کے وقت اللہ تعالی کا نام لینے اور پردہ کرنا اور دوبارہ جماع کرنے کے لیے وضو کرنے کا بیان
5 Hadith
11
عزل کا بیان اور اس کے بارے میںمنقول روایات عزل کے منہی عنہ اور مکروہ ہونے کا بیان
5 Hadith
12
عزل کی رخصت کا بیان
5 Hadith
13
غیلہ کی کراہت اور اس کی وجہ سے عزل کی رخصت کا بیان غیلہ: دودھ پلانے کی مدت میں بیوی سے مباشرت کرنا غیلہ کہلاتا ہے۔
4 Hadith
14
میاں بیوی کو جماع کے دوران والے امور کو دوسرے لوگوں کے سامنے بیان کرنے سے منع کرنا
4 Hadith
15
بیوی کو پیچھے سے استعمال کرنے کی ممانعت اور تجبیب کے جواز کا بیانیعنی پچھلی سمت سے عورت کی قبل میں جماع کرنے کے جواز کا بیان
5 Hadith
No chapter matched that.