۔ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک خاتون نے پردے کے پیچھے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کتاب پکڑانے کے لیے اپنا ہاتھ لمبا کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ پیچھے کر لیا اور فرمایا: میںیہ نہیں جانتا کہ یہ مرد کا ہاتھ ہے یا عورت کا۔ اس نے کہا: جییہ عورت کا ہاتھ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو عورت ہوتی تو مہندی کے ساتھ اپنے ناخنوں کا رنگ بدل دیتی۔
۔ سیدنا اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میری بیٹی کی شادی ہے اور چیچک کی بیماری کی وجہ سے اس کے بال جھڑ گئے ہیں، کیا میں اس کوبال لگا سکتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی نے بال ملانے والی اور جو ملانے کا مطالبہ کرے، دونوں پر لعنت کی ہے۔
۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نے فرمایا: جو عورت اپنے بالوں کے ساتھ دوسری عورت کے بال ملاتی ہے، تو وہ جھوٹ اور باطل کے طور پر ہی ان کو داخل کرتی ہے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چہرے کے بال نوچنے والی، دانتوں میں فاصلہ پیدا کرنے والی اورگوندنے والی خواتین پر لعنت کرتے تھے، یہ اللہ تعالی کی تخلیق کو بدل ڈالنے والیاں ہیں۔
فوائد:… عورت کے لیے زینت کے بہت سے اسباب جائز ہیں، مثلا: مہندی،زعفران اور خلوق جیسی خوشبوئیں، جن کا رنگ زیادہ ہے اور خوشبو کم،کریم اور پاؤڈر وغیرہ، جن کی خوشبو تیز نہ ہو اور میک اپ کا دوسرا ساز و سامان، رنگین ملبوسات اور خوبصورت جوتے، سونا، ریشم۔ لیکن اس زمانے کی اپ ٹو ڈیٹ خواتین نے ان جائز اسباب پر اکتفا نہ کیا اور زیب و زینت اختیار کرنے کے ایسے ذریعے اختیار کر لیے، جو شریعت میں واضح طور پر حرام ہیں، بلکہ ان کی وجہ سے لعنت بھی ہوتی ہے، مثلا: پلکنگ، تھریڈنگ، اپر لپس (upper lips) ، عدسہ، آرٹی فیشلپلکیں، مصنوعی ناخن اور بال، بازوؤں اور ٹانگوں سے بال صاف کرنا، تل بھرنا، وغیرہ وغیرہ، ان سب امور سے اللہ تعالی کی تخلیق تبدیل ہو جاتی ہے، آپ a نے ایسا کرنے والی پر لعنت کی ہے۔
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اپنی بیوی کے پاس آنے سے پہلے یہ دعا پڑھتا ہے: بِسْمِ اللّٰہ اَللّٰھُمَّ جَنِّبْنِی الشَّیْطَانَ وَجَنِّبِ الشَّیَطَانَ مَارَزَقْتَنَا (اللہ کے نام کے ساتھ، اے اللہ! مجھے بھی شیطان سے بچا اور اس اولاد کو بھی شیطان سے محفوظ رکھ، جو تو مجھے عطا کرے)۔ اگر میاں بیوی کے اس تعلق میں اولاد کا فیصلہ کر دیا گیا تو شیطان کبھی بھی اس کو نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔
۔ سیّدنامعاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم اپنی عورات(یعنی ستروالے مقامات) میں سے کسیق دیکھ سکتے ہیں اور کسے نہیں دیکھ سکتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بیوی اور لونڈی کے علاوہ (باقی سب لوگوں سے) اپنے ستر کی حفاظت کر۔ معاویہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب لوگ ایک دوسرے کے ساتھ اکٹھے ہوںتو؟ آپ نے فرمایا: اگر تجھ میںیہ استطاعت ہے کہ کوئی بھی (تیرے ستر) کو نہ دیکھنے پائے تو وہ ہرگز نہ دیکھے۔ معاویہ کہتے ہیں: میں نے پوچھا: جب کوئی آدمی اکیلا ہو تو؟ آپ نے جواب دیا: اللہ اس بات کا زیادہ حق رکھتا ہے کہ اس سے حیا کیا جائے۔۔ ایک روایت کے مطابق (بات سمجھانے کے لیے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ اٹھا کر اپنی شرمگاہ پر رکھا۔
Takhreej
(۷۰۷۳) تخریـج:… اسنادہ حسن، أخرجہ ابوداود: ۴۰۱۷، والترمذی: ۱۹۲۰، ۲۷۶۹، وابن ماجہ: ۱۹۲۰، والجملۃ الاخیرۃ ای ’’فوضعھا علی فرجہ‘‘ اسنادھا حسن ایضا و أخرجھا عبد الرزاق: ۱۱۰۶، والطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۱۹/ ۹۸۹ (انظر: ۲۰۰۳۴، ۲۰۰۳۵)۔
Explanation
فوائد:… درج ذیل روایت سے اپنا پردہ کرنے کا اندازہ ہو جاتا ہے:
سیدنایعلیb سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِV رَأٰی رَجُلًا یَغْتَسِلُ بِالْبَرَازِ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَحَمِدَ اللّٰہَ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ وَقَالَ: ((إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ حَلِیمٌ حَیِیٌّ سِتِّیرٌیُحِبُّ الْحَیَاء َ وَالسَّتْرَ فَإِذَا اغْتَسَلَ أَحَدُکُمْ فَلْیَسْتَتِرْ۔)) …رسول اللہ a نے ایک آدمی کو کھلی جگہ میں غسل کرتے دیکھا، پس آپa منبر پر تشریف لائے، اللہ تعالی کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: ’’بیشک اللہ تعالی بہت بردبار، حیادار اور پردے والا ہے اور حیا اور پردے کو پسند کرتا ہے، لہذا جب تم میں سے کوئی آدمی غسل کرے تو پردے میں کرے۔‘‘
(ابوداود: ۴۰۱۲، نسائی: ۴۰۶)
کوئی ہو یا نہ ہو، کسی اوٹ میںیا پردے والے مقامات کا پردہ کر کے غسل کرنا چاہیے۔
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اپنی بیوی سے صحبت کرے اور پھر وہ دوبارہ آنا چاہے تو وضو کر لے۔
Takhreej
(۷۰۷۵) تخریج:أخرجہ مسلم: ۳۰۸ (انظر: ۱۱۱۶۱)
Explanation
فوائد:… ایک صحیح روایت میں ’’فَاِنَّہ اَنْشَطُ لِلْعَوْدِ‘‘ (کیونکہ اس طرح دوبارہ آنے میں زیادہ چستی پیدا ہو جائے گی) کے الفاظ ہیں۔
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی جماع کرنے لگے تو وضو کرے، اسی طرح جب دوبارہ جماع کرنا چاہے تو پھر وضو کر لے۔ امام سفیان نے کہا: ابو سعید نے حرّہ کو پایا تھا۔
Takhreej
(۷۰۷۶) تخریج: انظر الحدیث السابق
Explanation
فوائد:… مدینہ کے قریب سیاہ پتھروں والی ایک زمین کو حرہ کہتے ہیںیزید بن معاویہ نے اپنے دور میں ایک لشکر مدینہ والوں سے لڑائی کرنے کے لیے بھیجا تھا۔ اس کو واقعہ حرۃ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ یہ۶۳ میں پیش آیا اور ابو سعید خدری۶۴یعنی اس واقعہ کے ایک سال بعد فوت ہوئے۔ (عبداللہ رفیق)
۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آزاد عورت سے عزل کرنے سے منع فرمایا، الایہ کہ وہ اجازت دے دے۔
Takhreej
(۷۰۷۷) اسنادہ ضعیف، عبد اللہ بن لھیعۃ سییء الحفظ، أخرجہ ابن ماجہ: ۱۹۲۸(انظر: ۲۱۲)
۔ سیدنا جدامہ بنت وہب اسدیہ رضی اللہ عنہا ، جو کہ پہلی مہاجر خواتین میں سے تھیں، سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے غزل کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ مخفی انداز میں زندہ درگور کرنا ہے۔
Takhreej
(۷۰۷۸) تخریج: حدیث صحیح (انظر: ۲۷۰۳۶)
Explanation
فوائد:… اللہ تعالی نے جس نطفے کو بچے کی تخلیق کے لیے تیار کیا، اس مقصد کے پورا نہ ہونے کی کوشش کرنا اور نطفے کو ضائع کر دینا، گویامخفی انداز میں زندہ درگور کرنا ہے۔ یہ حدیث جواز والی احادیث کے مقابلے میں عزل کی ممانعت پر دلالت نہیں کرتی، کیونکہ اعلانیہ طور پر بچوں کو زندہ درگور کرنا حرام ہے، اس سے یہ تو لازم نہیں آتا کہ مذکورہ بالا خفیہ طریقے سے بھی ایسا کرنا ممنوع ہے، جبکہ اگلے باب میںجواز کے دلائل موجود ہیں۔
۔ سیدنا ابو صرمہ مازنی اور سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے غزوئہ نبی مصطلق میں قیدی حاصل کیے،یہ وہی غزوہ ہے، جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہ کو حاصل کیا تھا، ہم میں سے بعض افراد (اہل (بیوی) بنانا چاہتے تھے اور بعض کا ارادہ تھا کہ وہ لونڈیوں سے ہم بستری کر کے ان کو فروخت کر دیں، اس لیے ہم نے غزل کے بارے میں تکرار کیا اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس چیز کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم عزل نہ کرو تو تم پر کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ اللہ تعالی نے قیامت تک جو کچھ پیدا کرنا ہے، اس نے اس کا اندازہ کر لیا ہے۔
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس عزل کا ذکر کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ ہے کیا؟ لوگوں نے کہا: ایک آدمی کی بیوی ہے، وہ بچے کو دودھ پلاتی ہے اس لیے وہ پسند نہیں کرتا کہ وہ حاملہ ہو، اسی طرح ایک آدمی کی لونڈی ہے، وہ اس سے ہم بستری تو کرتا ہے، لیکن اس کا حاملہ ہونا پسند نہیں کرتا، سو وہ عزل کرنا چاہتے ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم یہ کرو تو تم پر کوئی حرج نہیں ہے، یہ تو تقدیر کا مسئلہ ہے۔ ابن عون کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث سیدنا حسن سے بیان کی تو انہوں نے کہا فَـلَا عَلَیْکُمْ کا مقصد عزل سے ڈانٹنا ہے۔
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عزل کے بارے میں فرمایا: کیا تو اس کو پیدا کرتا ہے؟ کیا تو اس کو رزق دیتا ہے؟ اس کو اس کی جگہ پر ٹھہرنے دے (یعنی عزل نہ کر) کیونکہ ان سب امور کا تعلق قضا وقدرسے ہے۔
Takhreej
(۷۰۸۱) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، الحسن البصری لم یسمع من ابی سعید (انظر: ۱۱۵۰۳)
Explanation
فوائد:… اس باب کی احادیث سے عزل کے مکروہ ہونے کا اشارہ ملتا ہے۔
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں عزل کرتے تھے اور قرآن پاک نازل ہورہا ہوتا تھا۔
Takhreej
(۷۰۸۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۴۴۰ (انظر: ۱۴۳۱۸)
Explanation
فوائد:… اس کے باوجود ہمیں عزل سے منع نہیں کیا گیا، اگر عزل حرام ہوتا تو یقینا منع کر دیا جاتا۔
صحیح مسلم کی ایک روایت کے درج ذیل الفاظ مذکورہ بالا حدیث سے زیادہ واضح ہیں:
سیدنا جابر b کہتے ہیں: کُنَّا نَعْزِلُ عَلٰی عَہْدِ رَسُولِ اللّٰہِV فَبَلَغَ ذَلِکَ نَبِیَّ اللّٰہِV فَلَمْ یَنْہَنَا۔ … ہم رسول اللہ a کے زمانے میں عزل کرتے تھے، جب آپ a کو اس چیز کا علم ہوا تو آپ a نے ہمیں منع نہیں کیا۔
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا : میری ایک لونڈی ہے، وہ ہماری خادمہ بھی ہے اور پانی بھی لاتی ہے، میں اس سے ہم بستری تو کرتا ہوں، مگر میں اس کاحاملہ ہونا ناپسند کرتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو اس سے عزل کرنا چاہتا ہے تو کرلے، مگر جو اس کے مقدر میں ہے، وہ آکر رہے گا۔ وہ آدمی کچھ عرصہ کے بعد آیا اور اس نے کہا: وہ لونڈی تو حاملہ ہو گئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تجھے کہہ دیا تھا کہ جو اس کے مقدر میں ہے، وہ آ کر رہے گا۔
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے حنین کے دن لونڈیاں حاصل کیں، ہم ان کے عوض مال چاہتے تھے، اس لیے ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عزل کے بارے میں سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تک مناسب سمجھو کر لو، لیکن اللہ تعالی نے جو فیصلہ کر دیا ہے، وہ ہو کررہے گا، سارے مادۂ منویہ سے تو اولاد نہیں ہوتی، (وہ تو ایک قطرے سے ہو جاتی ہے)۔
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: میری ایک لونڈی ہے، میں چاہتا ہوں کہ وہ حاملہ نہ ہو، اس لیے میں اس سے عزل کرتا ہوں اور ان یہودیوں کا خیال ہے کہ یہ چھوٹا زندہ درگور کرنا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہودی جھوٹ بولتے ہیں، جب اللہ تعالیٰ کسی چیز کے پیدا کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو تو اسے روکنے کی طاقت نہیں رکھتا۔
فوائد:… حدیث نمبر (۷۰۷۸)کے مطابق آپ a نے خود عزل کو مخفی انداز میں زندہ درگور کرنا قرار دیا، جبکہ اس حدیث میں آپ aیہودیوں کے اسی خیال کی تردید کر رہے ہیں۔
حافظ ابن قیم نے جمع و تطبیق کییہ صورت بیان کی ہے: آپ a نے یہودیوں کے جس خیال کی تردید کی ہے، اس سے مراد ان کا یہ نظریہ ہے کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ عزل کی صورت میں حمل کا کوئی تصور نہیں کیا جا سکتا اور وہ اس کو قطعِ نسل کے قائم مقام سمجھتے ہیں، آپ a نے ان کے اس نظریے کو باطل قرار دیا اور واضح کیا کہ اگر اللہ تعالی چاہے تو عزل کے باوجود حمل کا امکان ہو سکتا ہے، جب اللہ تعالی اس کی تخلیق کو نہیں چاہے گا تو یہ فی الحقیقت زندہ درگور کرنا نہیں ہو گا اور خود آپ a نے اس کو مخفی انداز میں زندہ درگور کرنا اس لیے قرار دیا کہ آدمی حمل سے بچنے کے لیے عزل کرتا ہے، پس آپ a نے اس کے اس ارادے کو زندہ درگور کرنے کے قائم مقام قرار دیا۔
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور عزل کے متعلق دریافت کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس مادۂ منویہ سے اولاد ہونی ہو، اگر تو اس کو کسی چٹان پر بہا دے تو اللہ تعالی اس سے اولاد پیدا کر دے گا، اللہ تعالی نے جس نفس کو پیدا کرنے والا ہے، وہ اس کو ضرور ضرور پیدا کر دے گا۔
Takhreej
(۷۰۸۶) تخریج: اسنادہ ضعیف، ابوعمرو مبارک الخیاط فی عداد المجھولین، وقد ثبت الحدیث موقوفا عن ابن مسعود، أخرجہ البزار: ۲۱۶۳ (انظر: ۱۲۴۲۰)
Explanation
فوائد:… اس باب کی روایات سے معلوم ہوا کہ عزل جائز ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ نظریہیہ ہونا چاہیے کہ اللہ تعالی کی طرف سے پھر بھی حمل کا حکم ہو سکتا ہے۔
۔ سیدہ اسماء بنت یزید انصاریہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی اولاد کو خفیہ طور پر قتل نہ کرو، بے شک غیلہ شہسوار پر اثر انداز ہوتا ہے اور اسے سر کے بل گرا دیتا ہے۔
Takhreej
(۷۰۸۷) اسنادہ ضعیف، مہاجر بن ابی مسلم الانصاری لایحتمل تفردہ، ثم انہ معارَض بحدیث صحیح ، وھو الحدیث الآتی بعدہ، أخرجہ ابوداود: ۳۸۸۱، وابن ماجہ: ۲۰۱۲ (انظر: ۲۷۵۹۰)