TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

ولیمہ کے ابواب - ولیمہ کے ابواب - Book 121 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 121 of Musnad Ahmad, with 15 chapters and 72 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

72 Hadith · 15 Chapters
ولیمہ کے حکم، بکرییا اس سے زائد چیز کے ساتھ اس کے مستحب ہونے اور اس سے کم کسی چیز کے ولیمہ کے جائز ہونے کا بیان
۔ (۷۰۲۸)۔ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِیِّ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَقِیَ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ عَوْفٍ وَبِہِ وَضَرٌ مِنْ خَلُوْقٍ، فَقَالَ لَہُ: ((مَہْیَمْیَا عَبْدَ الرَّحْمٰنِ؟)) قَالَ: تَزَوَّجَتُ امْرَأَۃً مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: ((کَمْ أَصْدَقْتَہَا؟)) قَالَ: وَزْنَ نَوَاۃٍ مِنْ ذَھَبٍ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاۃٍ))، قَالَ أَنَسٌ: لَقَدْ رَأَیْتُہُ، قَسَمَ لِکُلِّ امْرَأَۃٍ مِنْ نِسَائِہِ بَعْدَ مَوْتِہِ مِائَۃَ أَلْفِ دِیْنَارٍ، زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: ((بَارَکَ اللّٰہُ لَکَ أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاۃٍ۔)) (مسند احمد: ۱۲۷۱۵)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیدنا عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ملے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان پر خلوق خوشبو کا نشان دیکھا تو پوچھا: اے عبد الرحمن! کیا معاملہ ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے انصار کی ایک عورت کے ساتھ شادی کی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کتنا حق مہر دیاہے ؟ انھوں نے کہا: نواۃ کے وزن کے برابر سونا دیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ولیمہ کرو، اگر چہ وہ ایک بکری کی صورت میں ہو۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ ان کی وفات کے بعد ان کی ہر ایک بیوی کوایک ایک لاکھ دینار ملے تھے، ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی شادی کا سن کر ان سے فرمایا تھا : اللہ تعالی تیرے لیے برکت کرے، ولیمہ کر، اگرچہ ایک بکری کی صورت میں ہو۔
Takhreej
(۷۰۲۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۱۴۸، ومسلم: ۱۴۲۷(انظر: ۱۲۶۸۵)
7028
Sahih
ولیمہ کے حکم، بکرییا اس سے زائد چیز کے ساتھ اس کے مستحب ہونے اور اس سے کم کسی چیز کے ولیمہ کے جائز ہونے کا بیان
۔ (۷۰۲۹)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا عَنْ أَنَسٍ قَالَ: مَا رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ أَوْلَمَ عَلَی امْرَأَۃٍ مِنْ نِسَائِہِ مَا أَوْلَمَ عَلٰی زَیْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، قَالَ: فَاَوْلَمَ بِشَاۃٍ أَوْذَبَحَ شَاۃً۔ (مسند احمد: ۱۳۴۱۱)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی کسی شادی کے موقع پر اتنا بڑا ولیمہ کیا ہو، جو سیدہ زینب بنت جحش ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے شادی کے موقع پر کیا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس موقع پر ایک بکری ذبح کی تھی۔
Takhreej
(۷۰۲۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۱۶۸، ۵۱۷۱، ومسلم: ۱۴۲۸ (انظر: ۱۳۳۷۸)
7029
Sahih
ولیمہ کے حکم، بکرییا اس سے زائد چیز کے ساتھ اس کے مستحب ہونے اور اس سے کم کسی چیز کے ولیمہ کے جائز ہونے کا بیان
۔ (۷۰۳۰)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: لَمَّا دَخَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِزَیْنَبَ ابْنَۃِ جَحْشٍ أَوْلَمَ، فَاَطْعَمَنَا خُبْزًا وَلَحْمًا (وَفِیْ لَفْظٍ) فَأَشْبَعَ الْمُسْلِمِیْنَ خُبْزًا وَلَحْمًا۔ (مسند احمد: ۱۲۰۴۶)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ زینب بنت حجش ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے حق زوجیت ادا کیا تو ولیمہ کیا اور ہمیں گوشت اور روٹی کھلائی، ایک روات میں ہے: مسلمانوں کو گوشت اور روٹی سے سیر کر دیا۔
Takhreej
(۷۰۳۰) تخریج: أخرجہ بنحوہ البخاری: ۴۷۹۱، ۵۱۵۴، ۶۲۳۹، ومسلم: ۱۴۲۸ (انظر: ۱۲۰۲۳)
7030
Sahih
ولیمہ کے حکم، بکرییا اس سے زائد چیز کے ساتھ اس کے مستحب ہونے اور اس سے کم کسی چیز کے ولیمہ کے جائز ہونے کا بیان
۔ (۷۰۳۱)۔ عَنِ ابْنِ بُرِیْدَۃَ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: لَمَّا خَطَبَ عَلِیٌّ فَاطِمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّہ لَا بُدَّ لِلْعُرْسِ مِنْ وَلِیْمَۃٍ۔)) قَالَ: فَقَالَ سَعْدٌ: عَلَیَّ کَبْشٌ، وَقَالَ فُلَانٌ: عَلَیَّ کَذَا وَکَذَا مِنْ ذُرَۃٍ۔ (مسند احمد: ۲۳۴۲۳)
۔ سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو پیغام نکاح بھیجا تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: شادی کے بعد ولیمہ ضروری ہے۔ سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ایک دنبہ میں دوں گا، ایک نے کہا: اتنی اتنی مکئی میں دوں گا۔
Takhreej
(۷۰۳۱) تخریج: اسنادہ محتمل للتحسین، أخرجہ البزار: ۱۴۰۷، والطحاوی فی ’’شرح مشکل الآثار‘‘: ۳۰۱۸، والطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۱۱۵۳(انظر: ۲۳۰۳۵)
Explanation
فوائد:… صحابۂ کرام نیکی کے امور کی طرف سبقت لے جانے والے اور ایسے معاملات میں ایک دوسرے کے معاوِن تھے، جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: {وَتَعَاوَنُوْا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوٰی} … ’’اور نیکی اور تقوی کے معاملے میں ایک دوسرے کا تعاون کرو۔‘‘ (سورۂ مائدہ: ۲)
7031
Sahih
ولیمہ کے حکم، بکرییا اس سے زائد چیز کے ساتھ اس کے مستحب ہونے اور اس سے کم کسی چیز کے ولیمہ کے جائز ہونے کا بیان
۔ (۷۰۳۲)۔ عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: سَمِعْتُہُ یُحَدِّثُ قَالَ: شَہِدْتُ وَلِیْمَتَیْنِ مِنْ نِسَائِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: فَمَا اَطْعَمَنَا فِیْہِمَا خُبْزًا وَلَا لَحْمًا، قُلْتُ: فَمَہْ؟، قَالَ: الْحِیْسُیَعْنِی التَّمْرَ وَالْأَقِطَ بِالسَّمْنِ۔ (مسند احمد: ۱۱۹۷۵)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیویوں میں سے دو بیویوں کے ولیموں میں حاضر ہوا، آپ نے ہمیں نہ روٹی کھلائی اور نہ گوشت،میں (علی بن زید) نے کہا: پھر کیا تھا؟ انھوں نے کہا: حَیْسیعنی ایک حلوہ سا تھا، جو کھجور، پنیر اور گھی سے تیار کیا گیا تھا۔
Takhreej
(۷۰۳۲) تخریج: حدیث حسن، أخرجہ ابن ماجہ: ۱۹۱۰ (انظر: ۱۱۹۵۳)
Explanation
فوائد:… ان دو بیویوں سے مراد سیدہ صفیہ بنت حیی اور سیدہ ام سلمہ d ہیں۔
7032
Sahih
ولیمہ کے حکم، بکرییا اس سے زائد چیز کے ساتھ اس کے مستحب ہونے اور اس سے کم کسی چیز کے ولیمہ کے جائز ہونے کا بیان
۔ (۷۰۳۳)۔ عَنْ ثَابِتِ الْبُنَانِیِّ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَعَلَ وَلِیْمَۃَ صَفِیَّۃَ بِنْتَ حُیَیٍّ التَّمْرَ وَالْاَقِطَ وَالسَّمْنَ، قَالَ: فُحِصَتِ الْاَرْضُ أَفَاحِیْصَ، قَالَ: وَجِیْئَ بِالْأَنْطَاعِ فَوُضِعَتْ فِیْہَا ثُمَّ جِیْئَ بِالْأَقِطِ وَالتَّمْرِ وَالسَّمْنِ فَشَبِعَ النَّاسُ۔ (مسند احمد: ۱۳۶۱۰)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا صفیہ بنت حی کا ولیمہ کھجور، پنیر اور گھی سے کیا تھا، زمین کو کھود کر ہموار کیا گیا، پھر دسترخوان بچھائے گئے اور ان پر پنیر، کھجور اور گھی رکھا گیا، لوگوں نے سیر ہو کر کھایا۔
Takhreej
(۷۰۳۳) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۴۲۸(انظر: ۱۳۵۷۵)
7033
Sahih
ولیمہ کے حکم، بکرییا اس سے زائد چیز کے ساتھ اس کے مستحب ہونے اور اس سے کم کسی چیز کے ولیمہ کے جائز ہونے کا بیان
۔ (۷۰۳۴)۔ عَنْ اَبِیْ حَازِمٍ قَالَ: سَمِعْتُ سَہْلًا یعَنِی ابْنَ سَعْدٍ یَقُوْلُ: أَتٰی اَبُوْ اُسَیْدٍ السَّاعِدِیُّ فَدَعَا رَسُوْلَ اللّٰہَ a فِیْ عُرْسِہِ فَکَانَتِ امْرَأَتُہُ خَادِمَہُمْ یَوْمَئِذٍ وَھِیَ الْعَرُوْسُ، قَالَ: تَدْرُوْنَ مَا سَقَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ أَنْقَعَتْ تَمْرَاتٍ مِنَ اللَّیْلِ فِیْ تَوْرٍ۔ (مسند احمد: ۱۶۱۵۹)
۔ سیدنا سہل بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا ابو اسید ساعدی آئے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو شادی میں آنے کی دعوت دی، اس دن ان کی بیوی ان کی خادمہ تھی، اسی کی شادی ہوئی تھی، اچھا کیا تم جانتے ہو کہ اس نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کیا پلایا تھا، اس نے رات کو ایک برتن میں کھجوریں بھگو رکھی تھیں، (وہ نبیذ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پلایا تھا)۔
Takhreej
(۷۰۳۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۵۹۱، ومسلم: ۲۰۰۶ (انظر: ۱۶۰۶۲)
7034
Sahih
ولیمہ کے حکم، بکرییا اس سے زائد چیز کے ساتھ اس کے مستحب ہونے اور اس سے کم کسی چیز کے ولیمہ کے جائز ہونے کا بیان
۔ (۷۰۳۵)۔ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: شَہِدَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلِیْمَۃً مَا فِیْہَا خُبْزٌ وَلَا لَحْمٌ۔ (مسند احمد: ۱۳۷۱۱)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک ولیمہ میں شمولیت فرمائی، اس میں نہ روٹی تھی اور نہ گوشت تھا۔
Takhreej
(۷۰۳۵) تخریج: حدیث صحیح (انظر: ۱۳۶۷۶)
7035
Sahih
ولیمہ کے حکم، بکرییا اس سے زائد چیز کے ساتھ اس کے مستحب ہونے اور اس سے کم کسی چیز کے ولیمہ کے جائز ہونے کا بیان
۔ (۷۰۳۶)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: أَوْلَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی بَعْضِ نِسَائِہِ بِمُدَّیْنِ مِنْ شَعِیْرٍ۔(مسند احمد: ۲۵۳۳۲)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسو ل اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی ایک بیوی کے ولیمہ کے موقع پر دو مُدّ جو کھلائے تھے۔
Takhreej
(۷۰۳۶) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ البخاری: ۵۱۷۲ (انظر: ۲۴۸۲۱)
Explanation
فوائد:… ولیمہ وہ دعوت ہے جو دولھا کی طرف سے شادی کی خوشی کے موقع پر پیش کی جاتی ہے، ولیمہ شادی کے بعد دوسرے دن کرنا مسنون ہے، کسی شرعی مجبوری کی بنا پر تاخیر بھی ہو سکتی ہے۔ جمہور اہل علم کے نزدیک ولیمہ مستحب ہے۔ ولیمہ میں کمی بیشی کی کوئی قید نہیں، بلکہ حسب ِ ضرورت اور حسب ِ توفیق ولیمے کا کھانا پکایا جا سکتا ہے، وہ تھوڑا ہو یا زیادہ، لیکن غلو، نمود و نمائش اور فخر و مباہات سے بچنا ضروری ہے۔ نبی کریمa کے عصرِ مبارک کی اہم خاصیت سادگی اور پر خلوص باہمی محبت تھی، آپ a نے سیدہ زینبc سے شادی کے موقع پر بکری کا، سیدہ صفیہc سے شادی کے موقع پر کھجور اور ستو کا اور بعض بیویوں سے شادی پر دو مد (تقریبا ایک کلو پچاس گرام) کا ولیمہ کیا۔ لیکن آجکل جہاں ظاہری رکھ رکھاؤ، اور ’’بھرم‘‘ برقرار رکھنے کے لیے تکلف کرتے ہوئے ولیمے کی دعوتوں اور شادی کے دوسرے رسم و رواج پر بے دریغ خرچ کیا جاتا ہے، وہاں مستحقین اور حقدار فقراء و مساکین کو کلی طور پر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ دعوت دیتے وقت قطعی طور پر اس چیز کو مد نظر نہیں رکھا جاتا ہے کہ فلاں آدمی نیک ہے یا فلاں آدمی غریب ہے، بس مسکراہٹوں کے تبادلے ہو رہے ہیں اور دولت کو دولت کھینچ رہی ہے، یہی دعوتیں ہیں جنہیں بدترین کہا گیا۔ بہر حال مسلمان بھائی کی دعوت قبول کرنا ضروری ہے۔ جکل شادی کے موقع پر اتنے تکلفات کیے جاتے ہیں کہ یا تو متعلقہ لوگوں کو کئی سالوں تک تیاری کرنا پڑتی ہے یا پھر برسوں تک مقروض رہتے ہیں۔ یقین مانیئے کہ جب رشتہ داروں کو تین چار ایام پر مشتمل شادی کی دعوت دی جاتی ہے، تو ہمارے مشاہدے کے مطابق لوگوں کی اکثریتکو اس بنا پر پریشان پایا جاتا ہے کہ گھر کے ہر فرد کے لیے اتنے ملبوسات کا اہتمام کرنا ہے اور فلاں فلاں رسم میں اتنی اتنی رقم جمع کروانی ہے، محبت کے ظاہری دعووں اور رواجوں کو برقرار رکھنے کے لیے حیثیت سے بڑھے ہوئے تقاضوں کو پورا کیا جا رہا ہے۔ کیا آپ تسلیم کریں گے کہ سیدہ عائشہ c کی رخصتی کے موقع پر ان کو لینے کے لیے آپ a اکیلے گئے تھے اور سیدہ عائشہ c کو اس پروگرام کا علم ہی نہ تھا، آپ a کے ولیموں میں بھی سادگی تھی، سیدہ صفیہc کی شادی کے موقع پر تو آپ a نے صحابہ کرام سے فرمایا کہ جس کے پاس زائد کھجوریں اور ستو ہے، وہ لے آئے، اسے اکٹھا کر کے ولیمہ کر دیا، آپ a کو اکثر صحابۂ کرام کی شادیوں کا علم ہی نہیں ہوتا تھا؟ لیکن اس دور میں ایسا کرنے والے کو موردِ طعن اور رشتہ داروں کا لحاظ نہ کرنے والا سمجھا جاتا ہے۔ عصرِ حاضر میں حقیقی محبت مفقود ہے، خوشامد، چاپلوسی اور مال و دولت کا ضرورت سے زیادہ اظہار کیا جاتا ہے، مقابلہ بازی ہے، دنیا کو برتری حاصل ہے، …، مستحق، نادار، بے سہارا، لولے لنگڑے اور غریب رشتہ داروں کے حقوق ادا کرنا تو درکنار، زبانی کلامی ان کے دکھ درد میں شریک ہونے والا کوئی نہیں۔ ایسے میں وہی کچھ ہو گا، جو ہو رہا ہے۔
7036
Sahih
ولیمہ کی دعوت دینے والی کی دعوت قبول کرنے کا بیان
۔ (۷۰۳۷)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((اِذَا نُوْدِیَ أَحَدُکُمْ اِلٰی وَلِیْمَۃٍ فَلْیَأْتِہَا۔)) (مسند احمد: ۴۷۱۲)
۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو ولیمہ کی دعوت دی جائے تو وہ اس ولیمے میں حاضری دے۔
Takhreej
(۷۰۳۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۱۷۳، ومسلم: ۱۴۱۹ (انظر: ۴۷۱۲)
7037
Sahih
ولیمہ کی دعوت دینے والی کی دعوت قبول کرنے کا بیان
۔ (۷۰۳۸)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا دُعِیَ أَحَدُکُمْ اِلٰی وَلِیْمَۃِ عُرْسٍ فَلْیُجِبْ۔)) (مسند احمد: ۴۷۳۰)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو شادی کے ولیمہ کی دعوت دی جائے تو وہ اس دعوت کو قبول کرے۔
Takhreej
(۷۰۳۸) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
7038
Sahih
ولیمہ کی دعوت دینے والی کی دعوت قبول کرنے کا بیان
۔ (۷۰۳۹)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا دَعَا أَحَدُکُمْ أَخَاہُ فَلْیُجِبْ عُرْسًا کَانَ أَوْ نَحْوَہ۔ (مسند احمد: ۶۳۳۷)
۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی اپنے بھائی کو دعوت دے، تو وہ یہ دعوت قبول کرے، وہ شادی کی دعوت ہو یا کوئی اور۔
Takhreej
(۷۰۳۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۴۲۹(انظر: ۶۳۳۷)
7039
Sahih
ولیمہ کی دعوت دینے والی کی دعوت قبول کرنے کا بیان
۔ (۷۰۴۰)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَیَبْلُغُ بِہِ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا دُعِیَ أَحَدُکُمْ إِلٰی طَعَامٍ وَھُوَ صَائِمٌ فَلْیَقُلْ: إِنِّیْ صَائِمٌ۔)) (مسند احمد: ۷۳۰۲)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں کسی کو دعوت دی جائے اوروہ روزے سے ہو تو وہ کہہ دے کہ وہ روزے سے ہے۔
Takhreej
(۷۰۴۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۱۵۰ (انظر: ۷۳۰۴)
7040
Sahih
ولیمہ کی دعوت دینے والی کی دعوت قبول کرنے کا بیان
۔ (۷۰۴۱)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ دُعِیَ فَلْیُجِبْ، فَاِنْ کَانَ مُفْطِرًا أَکَلَ، وَإِنْ کَانَ صَائِمًا فَلْیُصَلِّ وَلْیَدْعُ لَھُمْ۔)) (مسند احمد: ۷۷۳۵)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اس طرح بھی مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کو دعوت دی جائے، وہ اسے قبول کرے، اگر اس کا روزہ نہ ہو تو وہ کھائے اور اگر وہ روزے سے ہو تو اس کے لئے دعا کر دے۔
Takhreej
(۷۰۴۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۴۳۱(انظر: ۷۳۴۹)
7041
Sahih
ولیمہ کی دعوت دینے والی کی دعوت قبول کرنے کا بیان
۔ (۷۰۴۲)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا دُعِیَ أَحَدُکُمْ فَلْیُجِبْ فَاِنْ شَائَ طَعِمَ وَإِنْ شَائَ تَرَکَ۔)) (مسند احمد: ۱۵۲۸۹)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو دعوت دی جائے تو وہ اس دعوت کو قبول کرے، پھر اگر چاہے تو کھانا کھا لے اور چاہے تو نہ کھائے۔
Takhreej
(۷۰۴۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۴۳۰(انظر: ۱۵۲۱۹)
7042
Sahih
ولیمہ کی دعوت دینے والی کی دعوت قبول کرنے کا بیان
۔ (۷۰۴۳)۔ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا دُعِیَ أَحَدُکُمْ إِلَی الدَّعْوَۃِ فَلْیُجِبْ۔)) أَوْ قَالَ: ((فَلْیَأْتِہَا۔))، قَالَ: وَکَانَ ابْنُ عُمَرَ یُجِیْبُ صَائِمًا وَمُفْطِرًا۔ (مسند احمد: ۵۷۶۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کسی کو دعوت کی دی جائے تو وہ قبول کرے۔ یا فرمایا: وہ دعوت میں آئے سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا روزہ ہوتا یا نہ ہوتا، وہ ہر حال میں دعوت قبول کرتے تھے۔
Takhreej
(۷۰۴۳) اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ البخاری: ۵۱۷۹، ومسلم: ۱۴۲۹(انظر: ۵۷۶۶)
Explanation
فوائد:… دعوت قبول کرتے تھے، روزے کی حالت میں ہوتے یا نہ ہوتے۔
7043
Sahih
ولیمہ کی دعوت دینے والی کی دعوت قبول کرنے کا بیان
۔ (۷۰۴۴)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِیْمَۃِیُدْعَی الْغَنِیُّ وَیُتْرَکُ الْمِسْکِیْنُ( وَفِیْ لَفْظٍ: یُدْعٰی إِلَیْہَا الْأَغْنِیَائُ وَیُتْرَکُ الْمَسَاکِیْنُ) وَھِیَ حَقٌّ، وَمَنْ تَرَکَہَا فَقَدْ عَصٰی، وَکَانَ مَعْمَرٌ رُبَّمَا قَالَ: وَمَنْ لَمْ یُجِبِ الدَّعْوَۃَ فَقَدْ عَصَی اللّٰہَ وَرَسُوْلَہُ۔ (مسند احمد: ۷۶۱۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ولیمے کا کھانا بدترین کھانا ہے، جس میں مالداروں کو بلایا جاتا ہے اور مسکینوں کو چھوڑ دیا جاتا ہے، جبکہ یہ دعوت حق ہے، جس نے اس کو چھوڑا اس نے نافرمانی کی، معمر راوی کے الفاظ یہ تھے: جس نے دعوت قبول نہ کی، اس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نافرمانی کی۔
Takhreej
(۷۰۴۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۴۲۲(انظر: ۷۶۲۴)
Explanation
فوائد:… یہ روایت موقوف ہے، صحیح مسلم کی جو روایت مرفوع ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں: سیدنا ابو ہریرہb سے مروی ہے کہ رسول اللہ a نے فرمایا: ((شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِیمَۃِیُمْنَعُہَا مَنْ یَأْتِیہَا وَیُدْعَی إِلَیْہَا مَنْ یَأْبَاہَا وَمَنْ لَمْ یُجِبِ الدَّعْوَۃَ فَقَدْ عَصَی اللّٰہَ وَرَسُوْلَہُ۔)) … ’’بدترین کھانا ولیمے کا کھانا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ جو کھانے کے لیے آنا چاہتے ہیں، ان کو روک دیا جاتا ہے اور جو آنے سے انکار کرتے ہیں، ان کو بلایا جاتا ہے، بہرحال جس نے دعوت قبول نہ کی، اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔‘‘(صحیح مسلم: ۲۵۸۶) امام نووی نے کہا: اس حدیث میں اس چیز کی خبر دی جا رہی ہے، جو لوگوں میں رواج پا چکی ہے، ولیموں میںمالدار لوگوں کو پروٹوکول دیا جاتا ہے، خاص طور پر ان کو دعوت دی جاتی ہے اور ان کے لیے اچھے اچھے کھانے تیار کیے جاتے ہیں اور ان کو دوسرے محتاجوں پر مقدم کیا جاتا ہے، اکثر ولیموں میںیہی کچھ ہوتا ہے۔
7044
Sahih
ولیمہ کی دعوت دینے والی کی دعوت قبول کرنے کا بیان
۔ (۷۰۴۵)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ لَمْ یُجِبِ الدَّعْوَۃَ فَقَدْ عَصَی اللّٰہَ وَرَسُوْلَہُ۔)) (مسند احمد: ۵۲۶۳)
۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے دعوت قبول نہ کی، اس نے اللہ اور اس کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نافرمانی کی۔
Takhreej
(۷۰۴۵) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ، أخرجہ ابوداود: ۳۷۴۱ (انظر: ۵۲۶۳)
7045
Sahih
ولیمہ کی دعوت دینے والی کی دعوت قبول کرنے کا بیان
۔ (۷۰۴۶)۔ عَنْ عِکْرَمَۃَ بْنِ عَمَّارٍ سَمِعْتُ أَبَا غَادِیَۃَ الْیَمَانِیَّ قَالَ: أَتَیْتُ الْمَدِیْنَۃَ فَجَائَ رَسُوْلُ کَثِیْرِ بْنِ الصَّلْتِ فَدَعَا ھُمْ، فَمَا قَامَ اِلَّا أَبُوْ ھُرَیْرَۃَ وَخَمْسَۃٌ مِنْہُمْ، اَنَا أَحَدُھُمْ، فذَھَبُوْا فَأَکَلُوْا، ثُمَّ جَائَ أَبُوْھُرَیْرَۃَ فَغَسَلَ یَدَہ، ثُمَّ قَالَ: وَاللّٰہِ! یَا أَھْلَ الْمَسْجِدِ اِنَّکُمْ لَعُصَاۃٌ لِأَبِی الْقَاسِمِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۷۸۷۱)
۔ ابو غادیہیمانی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں مدینہ میں آیا، کثیر بن صلت کا قاصد آیا اور اس نے مسجد والوں کو دعوت دی، صرف سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور مزید پانچ آدمی کھڑے ہوئے، میں ان میں ایک تھا، پس یہ لوگ گئے اور کھانا کھایا، جب سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ واپس آئے تو انھوں نے ہاتھ دھوئے اور کہا: اللہ کی قسم! اے اہل مسجد! بیشک تم ابو القاسم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نافرمان ہو۔
Takhreej
(۷۰۴۶) تخریج:اسنادہ ضعیف، ابو غادیۃ الیمامی، جھلہ ابو زرعۃ العراقی وابن حجر (انظر: ۷۸۸۴)
Explanation
فوائد:… مسلمان کی دعوت قبول کرنا حق ہے، خاص طور پر ولیمہ کی دعوت، اس لیے باہتمام اس حق کو ادا کرنا چاہیے، وگرنہ نبی کریمa کی نافرمانی ہو گی۔ بعض احادیث سے معلوم ہوا کہ نفلی روزے کی وجہ سے دعوت قبول نہ کی جائے، لیکن دعوت کی وجہ سے نفلی روزہ توڑنا بھی جائز ہے، جیسا کہ سیدنا ابو سعید خدریb بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہa کے لیے کھانا تیار کیا، جب کھانا (دسترخوان پر) رکھا گیا تو ایک آدمی نے کہا: میں تو روزے دار ہوں۔ اس پر رسول اللہ a نے فرمایا: ((دَعَاکَ اَخُوْکَ وَ تَکَلَّفَ لَکَ فَصُمْ مَکَانَہٗاِنْشِئْتَ۔)) …’’تیرے بھائی نے تجھے دعوت دی اور تیرے لیے تکلف کیا، (اس لیے روزہ توڑ دے) اور اگر چاہے تو اس کی جگہ پر ایک اور روزہ رکھ لینا۔‘‘ (سنن بیہقی، قال الحافظ ابن حجر: اسنادہ حسن) اگر واقعی نظر آ رہا ہے کہ داعی نے بڑے تکلف اور رغبت سے کھانا تیار کیا ہے تو نفلی روزہ توڑ دینا چاہیے، اگر اجر و ثواب ہی مطلوب ہو تو دوبارہ روزہ رکھ لیا جائے۔
7046
Zaeef
جب دو داعی جمع ہو جائیں تو کیا کیا جائے، نیز دوسرے اور تیسرے دن کی دعوت قبول کرنے کا بیان
۔ (۷۰۴۷)۔ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِجْتَمَعَ الدَّاعِیَانِ فَأَجِبْ أَقْرَبَہُمْا بَابًا، فَاِنَّ أَقْرَبَہُمَا بَابًا أَقْرَبُہُمَا جِوَارًا، فَاِذَا سَبَقَ اَحَدُھُمَا فَأَجِبِ الَّذِیْ سَبَقَ۔)) (مسند احمد: ۲۳۸۶۰)
۔ حمید بن عبد الرحمن، ایک صحابی رسول سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب دو دعوت دینے والے اکٹھے آجائیں، تو ان میں سے جو زیادہ قریبی دروازے والا ہو، اس کی دعوت قبول کرو، کیونکہ زیادہ قریبی دروازے والا زیادہ قریبی پڑوسی ہے، اور اگر ان میں سے ایک پہلے پہنچ جائے تو پہلے آ جانے والی کی دعوت قبول کر۔
Takhreej
(۷۰۴۷) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ ابوداود: ۳۷۵۶(انظر: ۲۳۴۶۶)
Explanation
فوائد:… قریبی داعی کو ترجیح دی جائے۔ اگر دو اکٹھے دعوت دیں تو قریبی کو ترجیح دی جائے اور اگر کوئی پہلے آجائے تو پھر اس کی دعوت قبول کی جائے خواہ وہ دور کا کیوں نہ ہو۔ (عبداللہ رفیق)
7047
Sahih

Chapters

15
01
ولیمہ کے حکم، بکرییا اس سے زائد چیز کے ساتھ اس کے مستحب ہونے اور اس سے کم کسی چیز کے ولیمہ کے جائز ہونے کا بیان
9 Hadith
02
ولیمہ کی دعوت دینے والی کی دعوت قبول کرنے کا بیان
10 Hadith
03
جب دو داعی جمع ہو جائیں تو کیا کیا جائے، نیز دوسرے اور تیسرے دن کی دعوت قبول کرنے کا بیان
2 Hadith
04
اس امر کا بیان کہ جس شخص کو دعوت دی جائے، اگر وہ برائی دیکھے تو اس کو روکے، وگرنہ لوٹ جائے
3 Hadith
05
ولیمہ میں کھجوروں وغیرہ کو بکھیرنے اور پھر ان کو لوٹنے کا بیان
4 Hadith
06
ختنہ وغیرہ کے موقع کی دعوت کو قبول کرنے کا بیان اور اس چیز کا حکم کہ چھ افراد کو دعوت دی اور ایک آدمی ان کے ساتھ ویسے ہی چل پڑا
2 Hadith
07
نکاح کے اعلان اور اس میں کھیل کود اور دف بجانے کے حکم کا بیان
8 Hadith
08
ان اوقات کا بیان جن میں رخصتی مستحب ہے
1 Hadith
09
اس چیز کا بیان کہ عورتوں کے لئے کون سی زینت مستحب ہے اور کون سی مکروہ
5 Hadith
10
جماع کے وقت اللہ تعالی کا نام لینے اور پردہ کرنا اور دوبارہ جماع کرنے کے لیے وضو کرنے کا بیان
5 Hadith
11
عزل کا بیان اور اس کے بارے میںمنقول روایات عزل کے منہی عنہ اور مکروہ ہونے کا بیان
5 Hadith
12
عزل کی رخصت کا بیان
5 Hadith
13
غیلہ کی کراہت اور اس کی وجہ سے عزل کی رخصت کا بیان غیلہ: دودھ پلانے کی مدت میں بیوی سے مباشرت کرنا غیلہ کہلاتا ہے۔
4 Hadith
14
میاں بیوی کو جماع کے دوران والے امور کو دوسرے لوگوں کے سامنے بیان کرنے سے منع کرنا
4 Hadith
15
بیوی کو پیچھے سے استعمال کرنے کی ممانعت اور تجبیب کے جواز کا بیانیعنی پچھلی سمت سے عورت کی قبل میں جماع کرنے کے جواز کا بیان
5 Hadith
No chapter matched that.