نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وضو کی کیفیت - نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وضو کی کیفیت - Book 13 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation
Book 13 of Musnad Ahmad, with 11 chapters and 66 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.
رباح بن عبد الرحمن سے مروی ہے کہ ان کی دادی نے اپنے باپ (سیدنا سعید بن زیدؓ) سے سنا کہ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی کا وضو نہیں اس کی کوئی نماز نہیں اور جس آدمی نے وضوء پر بِسْمِ اللّٰہِ نہیں پڑھی، اس کا کوئی وضو نہیں اور جو شخص میں (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) پر ایمان نہیں لایا، وہ اللہ تعالیٰ پرایمان نہیں لا سکے گا اور جس بندے نے انصار سے محبت نہ کی، وہ مجھ پر ایمان نہیں سکے گا۔
فوائد: …نیز سیدنا انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا: ((تَوَضَّئُوْا بِسْمِ اللّٰہِ۔)) … بسم اللہ پڑھ کر وضوء کرو ۔ (نسائی: ۷۸)ان احادیث سے معلوم ہوا کہ وضو کے شروع میں بسم اللہ پڑھنا ضروری ہے، نیز صرف بِسْمِ اللّٰہ کے الفاظ ادا کرنے چاہئیں، نہ کہ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمَ کے۔
عبد ِ خیر، سیدنا علی ؓکا وضو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: انھوں نے دائیں ہاتھ سے برتن پکڑا اور بائیں ہاتھ پر پانی ڈالا اور اس طرح اپنی دونوں ہتھیلیوں کو دھویا، پھر اپنے دائیں ہاتھ سے برتن کو پکڑا اور بائیں ہاتھ پر پانی ڈالا اور ہتھیلیوں کو دھویا، ایسے تین بار کیا۔ عبد ِ خیر کہتے ہیں: ہر مرتبہ آپ اپنا ہاتھ تین بار دھو لینے سے پہلے برتن میں داخل نہیں کرتے تھے، …۔ آخر میں ہے: سیدنا علی ؓ نے کہا: یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وضو ہے۔
سیدنا اوسؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کیا اور تین دفعہ پانی بہایا، یعنی تین دفعہ ہتھیلیوں کو دھویا۔ ایک روایت میں ہے: یعنی ہاتھوں کو تین بار دھویا۔ میں نے امام شعبہ سے کہا: ہاتھوں کو برتن میں داخل کر دیا تھا یا برتن سے باہر کر کے دھویا تھا؟ انھوں نے کہا: یہ تو میں نہیں جانتا۔
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی بیدار ہو تو وہ اپنے ہاتھوں کو تین دفعہ دھو لینے سے پہلے برتن میں داخل نہ کرے، کیونکہ وہ یہ نہیں جانتا کہ اس کے ہاتھوں نے رات کہاں گزاری ہے۔ ایک روایت میں ہے: ایک یا دو دفعہ دھونے سے پہلے۔ ایک روایت میں ہے: جب تم میں کوئی آدمی اپنی نیند سے بیدار ہو تو وہ اپنے ہاتھوں کو برتن میں اس وقت تک نہ ڈالے، جب تک ان کو تین دفعہ نہ دھو لے، کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے ہاتھ نے رات کہاں گزاری ہے۔
Takhreej
(۶۳۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۷۸(انظر: ۱۰۰۹۱)
Explanation
فوائد: …اس حکم کی جو علت بیان کی گئی ہے کہ آدمی کو یہ پتہ نہیں ہوتا کہ اس کے ہاتھوں نے رات کہاں گزاری ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ رات اور دن کی ہر نیند کے بعد ہاتھوں کو برتن میں ڈالنے سے پہلے تین دفعہ دھونا چاہیے۔یہ شریعت ِ اسلامیہ کا حسن ہے کہ وہ کسی پہلوسے انسان کے لیے مضرّ اور مشتبہ چیز کو پسند نہیں کرتی، بلکہ اس کی طبع کا بھی خیال رکھتی ہے۔
ابو غطفان کہتے ہیں: میں سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ کے پاس گیا، وہ وضو کر رہے تھے، انھوں نے کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا اور پھر کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ دو دفعہ ناک کو جھاڑا کرو، (ایک روایت میں ہے: دو یا تین دفعہ اچھی طرح جھاڑا کرو)۔
فوائد:… الْمَضْمَضَۃ (کلی کرنا): منہ میں پانی کو حرکت دینا اَلْاِسْتِنْشَاق: سانس کی مدد سے پانی کو ناک میں چڑھانا اَلْاِسْتِنْثَار: ناک میں چڑھائے ہوئے پانی کو سانس کے پریشر سے باہر پھینکنا کئی لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ دورانِ وضو ناک کو سنت کے مطابق صاف نہیں کرتے۔
عبد ِ خیر کہتے ہیں: ہم نمازِ فجر ادا کر کے سیدنا علی ؓ کے پاس آئے اور ان کے ہاں بیٹھ گئے، انھوں نے وضو کا پانی منگوایا، پس ایک برتن لایا گیا، جس میں پانی تھا اور چلمچی لائی گئی پس انھوں نے اپنے دائیں ہاتھ پر پانی بہایا اور دونوں ہاتھوں کو تین دفعہ دھویا، پھر ایک ایک چلّو کر کے تین تین کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا۔ ایک روایت میں ہے: ایک ہی چلّو سے تین دفعہ کلی کی اور تین دفعہ ناک میں پانی چڑھایا، پھر تین بار اپنا چہرہ دھویا اور بازوؤں کو تین تین دفعہ دھویا، پھر اپنا ہاتھ برتن میں رکھا اور دونوں ہتھیلیوں کے ساتھ ایک دفعہ سرکا مسح کیا، پھر تین تین بار اپنے پاؤں کو دھویا اور پھر کہا: یہ تمہارے نبی کا وضو ہے، اس کو سیکھ لو۔
فوائد:… سیدنا عبد اللہ بن زید بن عاصمؓ سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وضو کر کے دکھائیں، پس انھوں نے وضو کیا، (راوی نے کلی اور ناک کا یہ طریقہ بیان کیا) ثُمَّ اَدْخَلَ یَدَہٗ فَاسْتَخْرَجَھَا فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مِنْ کَفٍّ وَاحِدَۃٍ فَفَعَلَ ذَالِکَ ثَلَاثًا۔… پھر انھوںنے اپنا ہاتھ داخل کیا اور اس کو نکالا اور ایک چلو سے کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا اور اس طرح تین دفعہ کیا۔ آخر میں کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وضو ہے۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم) سیدنا عبد اللہ بن زیدؓ ہی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مِنْ کَفٍّ وَاحِدَۃٍ، فَعَلَ ذَالِکَ ثَلَاثًا۔ … میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک چلو سے کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا اور اس طرح تین دفعہ کیا۔ ان احادیث سے ثابت ہوا کہ ایک ہی چلو سے کلی بھی کرنی چاہیے اور ناک میں پانی میں بھی چڑھانا چاہیے، جبکہ ایسا کرنا بہت آسان ہے۔ کلی اور ناک کے لیے ایک چلو لینے کو وصل اور الگ الگ چلو لینے کو فصل کہتے ہیں۔ وصل کی احادیث تو واضح اور صریح ہیں، لیکن کوئی روایت صراحۃً فصل پر دلالت نہیں کرتی، اگر کسی سے کوئی گنجائش ملتی ہے تو وہ ضعیف ہے، مثلا: صحابی کہتے ہیں: فَرَاَیْتُہٗ یَفْصِلُ بَیْنَ الْمَضْمَضَۃِ وَالْاِسْتِنْشَاقِ۔ … میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ کلی اور ناک میں پانی چڑھانے میں فاصل کرتے تھے۔ (ابوداود: ۱۳۹) پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے، اس میں لیث بن ابی سلیم ضعیف ہے اور طلحہ کا باپ مجھول ہے، دوسری بات یہ ہے کہ یہ حدیث صراحت کے ساتھ دو چلوؤں پر دلالت نہیں کرتی، کیونکہ ایک چلو سے بھی کلی اور ناک میںپانی چڑھانے میں فاصلہ کیا جا سکتا ہے اور وہ اس طرح کہ آدھا چلو منہ میں ڈال کر کلی کی اور پھر آدھا چلو ناک میں ڈال دیا۔ یہی حال باقی روایات کا ہے، لیکن یہ گزارش ضروری ہے کہ جو احباب فصل کو ثابت کرنے کے لیے زور لگاتے ہیں، ان کو وصل بھی تسلیم کر لینا چاہیے، کیونکہ یہ تو صحیح اور صریح احادیث سے ثابت ہے۔
سیدہ ربیع بنت معوذؓ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وضو بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ایک مرتبہ کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا۔
Takhreej
(۶۴۲) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف عبد اللہ بن محمد بن عقیل ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۴۱۸، ۴۳۸، وأخرجہ ابوداود: ۱۳۰ مختصر ا (انظر: ۲۷۰۱۶)
سیدنا ابوہریرہؓ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی وضو کرے تو وہ اپنے ناک میں پانی ڈالے اور پھر اس کو جھاڑے۔ (مسند أحمد: ۷۲۹۸)
سیدنا ابوہریرہؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی وضو کرے تو وہ ناک کو جھاڑے، کیونکہ شیطان اس کے ناک کے نتھنوں یا جڑوں میں رات گزارتاہے۔
فوائد:… صحیح بخاری کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((اِذَا اسْتَیْقَظَ اَحَدُکُمْ مِنْ مَنَامِہٖ فَتَوَضَّأَ فَلْیَسْتَنْثِرْ ثَلَاثًا فَاِنَّ الشَّیْطَانَ یَبِیْتُ عَلٰی خَیْشُوْمِہٖ۔)) … جب کوئی آدمی نیند سے بیدار ہو اور وضو کرے تو تین دفعہ ناک کو جھاڑے، کیونکہ شیطان اس کے ناک کے نتھنے یا جڑ میں رات گزارتا ہے۔ لہٰذا تین دفعہ ناک جھاڑنے کا مخصوص حکم اس وضو سے متعلقہ ہے، جو رات کو سونے کے بعد کیا جائے۔
سیدنا لقیط بن صبرہؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: اے اللّٰہ کے رسول! آپ مجھے وضو کے بار ے میں بتائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تو وضو کرے تو مکمل وضو کر، انگلیوں میں خلال کر اور جب تو ناک میں پانی چڑھائے تو اس میں مبالغہ کر، الا یہ کہ تو روزے دار ہو۔
Takhreej
(۶۴۶) تخریج: اسنادہ صحیح ۔ أخرجہ ابوداود: ۲۳۶۶، والترمذی: ۷۸۸، وابن ماجہ: ۴۰۷، و النسائی: ۱/ ۶۶ (انظر: ۱۶۳۸۴)
Explanation
فوائد:… ناک میں مبالغہ کے ساتھ پانی چڑھانے سے بعض دفعہ پانی کے قطرے حلق میں اتر آتے ہیں، اس وجہ سے روزے دار کو اس سلسلے میں مبالغہ کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
سیدنا مقدام بن معدیکربؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس وضو کا پانی لایا گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس طرح وضو کیا کہ آپ نے تین دفعہ دونوں ہتھیلیاں دھوئیں، تین بار چہرہ دھویا، تین تین مرتبہ بازو دھوئے اور پھر تین تین بار کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا اور اپنے سر کا اور کانوں کے ظاہری اور باطنی حصوں کا مسح کیا اور پھر تین تین بار دونوں پاؤں دھوئے۔
Takhreej
(۶۴۷) تخریج: قال الالبانی: صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۱۲۱(انظر: ۱۷۱۸۸)
Explanation
فوائد:… معلوم ہو رہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بازو دھونے کے بعد کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا۔
نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عام طریقۂ وضو اسی ترتیب والا ہے، جو عام اور مشہور احادیث میں مذکور ہے اور اسی طرح ہی وضو کرنا چاہیے، لیکن درج بالا روایت سے معلوم ہوا کہ اس معروف ترتیب کے بغیر بھی وضو کرنا ثابت ہے، اس لیے یہ بھی ٹھیک ہے، نتیجہ یہ ہے کہ وضو میں ترتیب کا لحاظ رکھنا مستحب ہے، ضروری نہیں۔
سیدہ ربیع بن معوذؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے اس برتن میں پانی نکالتی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ہاتھوں پر تین بار بہاتے تھے، ایک روایت میں ہے: ہاتھوں کو برتن میں داخل کرنے سے پہلے تین دفعہ دھوتے تھے، پھر تین دفعہ چہرہ دھوتے اور تین دفعہ کلی کرتے اور تین دفعہ ناک میں پانی چڑھاتے، تین بار دایاں بازوں دھوتے اور تین بار بائیں بازوں کو دھوتے، ……۔
Takhreej
(۶۴۸) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف عبد اللہ بن محمد بن عقیل۔ أخرجہ ابوداود: ۱۲۷، ۳۲۶، والترمذی: ۳۳، وابن ماجہ: ۳۹۰، ۴۴۰ (انظر: ۲۷۰۱۵)
حمران بن ابان کہتے ہیں: سیدنا عثمانؓ نے پانی منگوایا، جبکہ وہ مقاعد میں تھے، پس اپنے دائیں ہاتھ پر پانی بہا کر اس کو دھویا، ایک روایت میں ہے: اپنے دونوں ہاتھوں پر تین بار پانی ڈالا اور ان کو دھویا، پھر دایاں ہاتھ برتن میں ڈالا اور تین دفعہ اپنی ہتھیلیوں کو دھویا، پھر تین بار اپنے چہرے کو دھویا اور کلی کی، ناک میں پانی چڑھایا اور اس کو جھاڑا، پھر کہنیوں سمیت بازوؤں کو تین تین بار دھویا، پھر اپنے سر کا مسح کیا، ……۔
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب وضو کرتے تو پانی کے ساتھ داڑھی کا خلال کرتے۔
Takhreej
(۶۵۰) تخریج: حسن لغیرہ۔ أخرجہ الحاکم: ۱/ ۱۵۰ (انظر: ۲۵۹۷۰)
Explanation
فوائد:… سیدنا انس ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب وضوء کرتے تو ایک چلو پانی ٹھوڑی کے نیچے داخل کرکے داڑھی کا خلال کرتے اورفرماتے: ((ھٰکَذَا اَمَرَنِیْ رَبِّیْ۔)) … مجھے میرے رب نے اس طرح کرنے کا حکم دیا ہے ۔ (ابوداود:۱۴۵، مستدرک حاکم:۱/۱۴۹ یہ حدیث متعدد شواہد کی بناء پر حسن لغیرہ ہے) حسان بن بلال کہتے ہیں: میں نے سیدنا عمار بن یاسر ؓ کو دیکھا کہ انھوں نے وضو کیا اور داڑھی کا خلال کیا، پس میں نے کہا: کیا تم داڑھی کا خلال کر رہے ہو؟ انھوں نے کہا: اور کون سی چیز مجھے ایسا کرنے سے روک سکتی ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی داڑھی مبارک کا خلال کرتے ہوئے دیکھا۔ (ابن ماجہ: ۲۹) سیدنا عثمان بن عفانؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی داڑھی مبارک کا خلال کرتے تھے۔ (ترمذی: ۳۱) ثابت ہوا کہ داڑھی کے بارے میں سنت یہ ہے کہ وضو میں اس کا خلال کیا جائے، اس کاطریقہ یہ ہے کہ پانی کا ایک چلو ٹھوڑی کے نیچے داڑھی کے بالوں میں داخل کر کے داڑھی کے بالوں میں ایک ہاتھ کی انگلیاں پھیر دی جائیں۔
سیدنا ابو ایوب انصارییؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب وضو کرتے تو کلی کرتے اور داڑھی کے نیچے سے پانی کے ساتھ داڑھی کا خلال کرتے۔
Takhreej
(۶۵۱) تخریج: اسنادہ ضعیف جدّا، واصل بن السائب و ابو سورۃ ابن اخی ابی ایوب مجمع علی تضعیفھما، ثم ان ابا سورۃ ھذا قیل: لا یعرف لہ سماع من ابی ایوب۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۴۳۳ (انظر: ۲۳۵۴۱)
سیدنا ابو امامہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کیا، پس تین بار کلی کی، تین بار ناک میںپانی چڑھایا، گوشۂ چشم پر بھی ہاتھ پھیرا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سر کا ایک بار مسح کیا کرتے تھے اور فرماتے تھے: کان، سر میں سے ہیں۔
Takhreej
(۶۵۲) تخریج: صحیح لغیرہ دون قولہ: والاذنان من الرأس والمسح علی المأقین وھذا اسناد ضعیف لضعف شھر بن حوشب الاشعری وابی ربیعۃ سنان بن ربیعۃ الباھلی، وللاختلاف فی رفع ووقف قولہ الاذنان من الرأس أخرجہ ابوداود: ۱۳۴، وابن ماجہ: ۴۴۴، والترمذی: ۳۷ (انظر: ۲۲۳۱۰)
Explanation
فوائد:… سر کے مسح سے متعلقہ باب میں اَلْأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ کے الفاظ پر بحث کی جائے گی۔
ابو زرعہ کہتے ہیں: سیدنا ابو ہریرہؓ نے پانی منگواکر وضو کیا، جب انھوں نے بازوؤں کو دھویا تو کہنیوں سے تجاوز کر گئے، اسی طرح جب پاؤں کو دھویا، تو ٹخنوں سے تجاوز کر کے پنڈلیوں کو بھی دھونے لگ گئے، میں نے کہا: یہ کیسا وضو ہے؟ انھوں نے کہا: یہ زیور اور زینت کے پہنچنے کی جگہ ہے۔
نعیم بن عبد اللہ مجمر کہتے ہیں کہ وہ مسجد کی چھت پر چڑھ کر سیدنا ابو ہریرہؓ کے پاس پہنچے، جبکہ وہ وضو کر رہے تھے، وہ (کہنیوں سے اوپر والے) بازوؤں کے حصے کو دھونے لگے، پھر مجھ پر متوجہ ہوئے اور کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک قیامت کے روز وضو کے آثار کی وجہ سے میری امت کی پیشانیاں اور ہاتھ پاؤں چمکتے ہوں گے، اس لیے تم میں سے جو آدمی اپنی سفیدی کو لمبا کرنا چاہتا ہے، وہ کرے۔ نعیم نے کہا: مجھے یہ علم نہ ہو سکا کہ اس لیے تم میں سے جو آدمی اپنی سفیدی کو لمبا کرنا چاہتا ہے، وہ کرے۔ کے الفاظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہیں یا سیدنا ابو ہریرہؓ کے۔
Takhreej
(۶۵۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۴۶(انظر: ۸۴۱۳)
Explanation
فوائد:… حافظ ابن قیم نے ان الفاظ کو مدرج شمار کیا ہے، شیخ البانی کا رجحان بھی اس طرف ہے، دیکھیں: ارواء الغلیل: ۹۴ حافظ ابن حجر نے کہا: دس صحابہ نے اس حدیث کو بیان کیا، ان سب نے جو آدمی اپنی سفیدی کو لمبا کرنا چاہتا ہے، وہ کرے کے الفاظ بیان نہیں کیے اور سیدنا ابو ہریرہ ؓکے شاگردوں میں سے بھی صرف نعیم مجمر نے روایت کیے۔ (فتح الباری: ۱/ ۲۳۶) اور ان کو بھی ان الفاظ کے بارے میں تردّد ہے۔
((فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْکُمْ أَن یُطِیْلَ غُرَّتَہُ فَلْیَفْعَلْ۔)) کے متعلق بعض اہل علم کی رائے ہے کہ یہ الفاظ مدرج ہیں، مرفوع حدیث کا حصہ نہیں ہے۔ لیکن کہنیوں اور پاؤں سے سے زاید حصہ دھونا ابو ہریرہؓ کے اپنے عمل اور ان کے واسطہ سے مرفوعاً ثابت ہے۔ (صحیح مسلم: ۲۴۶) میں ہے کہ ابو ہریرہؓ نے وضو کرتے ہوئے ہاتھوں کے ساتھ بازو دھوئے اور پاؤں کے ساتھ پنڈلیوں کو دھویا اور فرمایا: ہٰکذا رأیت رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یتوضا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسے وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ اس سے مذکورہ بالا جملے کے مرفوع ہونے کی تائید ہوتی ہے اور ہاتھوں کے ساتھ بازو اور پاؤں کے پنڈلیوں کو دھونا جائز اور درست ہے۔ (عبداللہ رفیق)
سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے کہ کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: آپ اپنی امت کے ان افراد کو کیسے پہنچانیں گے، جن کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک وضو کے آثار کی وجہ سے ان کی پیشانی اور ہاتھ پاؤں چمکتے ہوئے اور چتکبرے ہوں گے۔
Takhreej
(۶۵۵) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۸۴ (انظر: ۳۸۲۰)