TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے وضو کی کیفیت - نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے وضو کی کیفیت - Book 13 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 13 of Musnad Ahmad, with 11 chapters and 66 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

66 Hadith · 11 Chapters
بازوؤں کو کہنیوں سمیت دھونے، سفیدی کو لمبا کرنے، انگلیوں کا خلال کرنے اور ملنے کا بیان
۔ (۶۵۶)۔عَنْ أَبِیْ حَازِمٍ قَالَ: کُنْتُ خَلْفَ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ وَہُوَ یَتَوَضَّأُ وَہُوَ یُمِرُّ الْوَضُوئَ اِلَی اِبِطِہِ، فَقُلْتُ: یَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ! مَا ھٰذَا الْوُضُوئُ؟ قَالَ: یَا بَنِیْ فَرُّوْخَ! أَنْتُم ہَا ہُنَا؟ لَو عَلِمْتُ أَنَّکُمْ ہَا ہُنَا مَا تَوَضَّأْتُ ھٰذَا الْوُضُوئَ، اِنِّی سَمِعْتُ خَلِیْلِی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((تَبْلُغُ الْحِلْیَۃُ مِنَ الْمُؤْمِنِ اِلَی حَیْثُ یَبْلُغُ الْوُضُوئُ۔)) (مسند أحمد: ۸۸۲۷)
ابو حازم کہتے ہیں: میں سیدنا ابو ہریرہؓ کے پیچھے کھڑا تھا، جبکہ وہ وضو کر رہے تھے او رانھوں نے وضو کا پانی بغل تک پہنچا دیا، میں نے کہا: اے ابوہریرہ! یہ کیسا وضو ہے؟ انھوں نے کہا: اے بنو فروخ! تم لوگ یہاں ہو؟ اگر مجھے پتہ ہوتا کہ تم یہاں موجود ہو تو میں نے یہ وضو نہیں کرنا تھا، میں نے اپنی خلیل ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: زیور اور زینت مؤمن کی اس اس جگہ تک پہنچے گی، جہاں تک وضو پہنچتا ہے۔
Takhreej
(۶۵۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۵۰ (انظر: ۸۸۴۰)
Explanation
فوائد:… ان احادیث میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی امت کا امتیازی وصف بیان کیا گیا ہے، جو اِن کو قیامت کے میدان میں نصیب ہو گا اور اسی وصف کی بنا پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اپنی امت کی شناخت کریں گے۔ ہر فرد کونماز اور وضو کا بھرپور اہتمام کرنا چاہیے، تاکہ وہ اس سعادت سے محروم نہ ہو جائے۔ فروخ، حضرت ابراہیم ؑکا ایک بیٹا تھا، یہ عجموں کا باپ ہے۔ سیدنا ابو ہریرہ ؓکی اس بات کا مقصد یہ تھا کہ جس آدمی کی اقتدا کی جاتی ہو، اس کو چاہیے کہ کم فہم لوگوں کے سامنے رخصتوں اور تشدّد والے اعمال پر عمل نہ کرے، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ لوگ رخصت کو مستقل حکم سمجھ کر ضرورت کے بغیر اس کو اپنا لیں اور تشدّد والے عمل کو واجب سمجھ لیں۔
656
Sahih
بازوؤں کو کہنیوں سمیت دھونے، سفیدی کو لمبا کرنے، انگلیوں کا خلال کرنے اور ملنے کا بیان
۔ (۶۵۷)۔عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِیْطِ بْنِ صَبِرَۃَ عَنْ أَبِیہِ ؓ قَالَ: أَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اِذَا تَوَضَّأْتَ فَخَلِّلِ الْأَصَابِعَ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۴۹۴)
ٍسیدنا لقیط بن صبرہؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہے: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مجھے فرمایا: جب تو وضو کرے، تو انگلیوں کا خلال کیا کر۔
Takhreej
(۶۵۷) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۱۴۲، ۱۴۴، والترمذی: ۳۸، والنسائی: ۱/ ۷۹، وابن ماجہ: ۴۴۸ (انظر: ۱۶۳۸۱)
657
Sahih
بازوؤں کو کہنیوں سمیت دھونے، سفیدی کو لمبا کرنے، انگلیوں کا خلال کرنے اور ملنے کا بیان
۔ (۶۵۸)۔عَنْ أَبِیْ سَوْرَۃَ عَنْ أَبِیْ أَیُّوبَ الأنْصَارِیِّ (ؓ) وَعَنْ عَطَائٍ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((حَبَّذَا الْمُتَخَلِّلُونَ۔)) قِیْلَ: وَمَا الْمُتَخَلِّلُونَ؟ قَالَ: ((فِی الْوُضُوئِ وَالطَّعَامِ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۹۲۴)
سیدنا ابوایوب انصاریؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: خلال کرنے والے بہت اچھے ہیں۔ کسی نے کہا: خلال کرنے والوں سے مراد کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو وضو اور کھانے میں خلال کرتے ہیں۔
Takhreej
(۶۵۸) تخریج: اسنادہ ضعیف جدا، واصل بن السائب الرقاشی وابو سورۃ مجمع علی تضعیفھما، وابو سورۃ لا یعرف لہ سماع من ابی ایوب۔ أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱/ ۱۲، والطبرانی فی الکبیر : ۴۰۶۱ (انظر: ۲۳۵۲۷)
Explanation
فوائد:… لیکن اس روایت کے شروع والے الفاظ صحیح ہیں، جیسا کہ درج ذیل روایت سے معلوم ہوتا ہے: سیدنا انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ((حَبَّذَا الْمُتْخَلِّلُوْنَ مِنْ أُمَّتِی۔)) … بہت خوب ہیں میری امت کے وہ لوگ، جو خلال کرتے ہیں۔ (معجم اوسط طبرانی: ۱/ ۳۹، صحیحۃ:۲۵۶۷) معلوم ہوا کہ وضو میں ہاتھوں اور پاؤں کو دھوتے وقت ان کی انگلیوں کو خلال کرنا چاہیے، ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسری میں میں ڈال کر اور پاؤں کی انگلیوں کا چھنگلی انگلی سے خلال کرنا چاہیے۔ مزید دیکھیں حدیث نمبر: ۶۹۲۔
658
Zaeef
بازوؤں کو کہنیوں سمیت دھونے، سفیدی کو لمبا کرنے، انگلیوں کا خلال کرنے اور ملنے کا بیان
۔ (۶۵۹)۔عَنْ حَبِیْبِ بْنِ زَیْدٍ سَمِعَ عَبَّادَ بْنَ تَمِیْمٍ عَنْ عَمِّہِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ زَیْدٍؓ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَوَضَّأَ فَجَعَلَ یَقُوْلُ ہٰکَذَا، یَدْلُکُ۔ (مسند أحمد: ۱۶۵۵۵)
سیدنا عبد اللہ بن زیدؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے وضو کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ وضو میں (اعضا کو) ملنے لگے۔
Takhreej
(۶۵۹) تخریج: حدیث صحیح من حدیث ام عمارۃ جدۃ عباد بن تمیم۔ أخرجہ الطیالسی: ۱۰۹۹، وابن حبان: ۱۰۸۲، وابن خزیمۃ: ۱۱۸، والحاکم: ۱/ ۱۴۴ (انظر: ۱۶۴۴۱)
Explanation
فوائد:… اعضا کو ملنے سے بعض مقامات کے خشک رہ جانے کا احتمال ختم ہو جاتا ہے ۔
659
Sahih
سر، دونوں کانوں اور دونوں کنپٹیوں کے مسح کا بیان
۔ (۶۶۰)۔عَنْ عُروَۃَ بْنِ قَبِیصَۃَ عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ عَنْ أَبِیْہِ أَنَّ عُثْمَانَ ؓ قَالَ: أَلَا أُرِیْکُم کَیفَ کَانَ وُضُوئُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم؟ قَالُوْا: بَلٰی، فَدَعَا بِمَائٍ فَمَضْمَضَ ثَلَاثًا وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا وَغَسَلَ وَجْہَہُ ثَلَاثًا وَذِرَاعَیْہِ ثَـلَاثًا وَمَسَحَ رَأْسَہُ وَغَسَلَ قَدَمَیْہِ ثَـلَاثًا ثُمَّ قَالَ: وَاعْلَمُوْا أَنَّ الْأُذُنَیْنِ مِنَ الرَّأسِ، ثُمَّ قَالَ: قَدْ تَحَرَّیْتُ لَکُمْ وُضُوئَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم۔ (وَتَقَدَّمَ فِی بَابِ غَسْلِ الْوَجْہِ مِنْ حَدِیْثِ أَبِیْ أُمَامَۃَ قَالَ: وَکَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَمْسَحُ رَأْسَہُ مَرَّۃً وَاحِدَۃً وَ کَانَ یَقُوْلُ: (( اَ لْأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ۔)) (مسند أحمد: ۴۲۹)
سیدنا عثمانؓ نے کہا: کیا میں تمہیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا وضو نہ دکھا دوں؟ لوگوں نے کہا: جی کیوں نہیں، پھر انھوں نے پانی منگوایا، تین دفعہ کلی کی، تین بار ناک جھاڑا، تین مرتبہ چہرہ دھویا، تین تین بار بازو دھوئے، پھر سر کا مسح کر کے تین تین بار دونوں پاؤں کو دھویا اور پھر کہا: جان لو کہ کان، سر میں سے ہیں۔ تحقیق میں نے تمہارے لیے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا وضو پیش کیا ہے۔ بَابُ غَسَلِ الْوَجْہِ میں سیدنا ابو امامہؓکی یہ حدیث گزر چکی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے سر کا ایک دفعہ مسح کیا اور آپ فرماتے تھے کان، سر میں سے ہیں۔
Takhreej
(۶۶۰) تخریج: حدیث عثمان حسن لغیرہ۔ أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱/۱۱، وتقدم حدیث ابی امامۃ برقم: ۶۵۲ (انظر: ۴۲۹)
Explanation
فوائد:… اَ لْأُذُنَانِ مِنَ الرَّأسِ (کان، سر میں سے ہیں) کے الفاظ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے ثابت ہیں، اس کی صحابۂ کرام سے کئی سندیں ہیں، مثلا سیدنا ابو امامہ، سیدنا ابو ہریرہ، سیدنا ابن عمر، سیدنا ابن عباس، سیدہ عائشہ، سیدنا ابو موسی، سیدنا انس، سیدنا سمرہ بن جندب اور سیدنا سیدنا عبد اللہ بن زید ۔ ملاحظہ ہو: سلسلہ صحیحہ: ۳۶، ارواء الغلیل: ۸۴ ان الفاظ کی فقہ یہ ہے کہ جو حکم سر کے مسح کا ہے، وہی کانوں کا ہے،اگر سر کا مسح ایک یا تین بار درست ہے تو کانوں کا بھی اسی طرح ہو گا، نیز کانوں کے لیے نیا پانی لینے کی ضرورت نہیں ہو گی۔ سر پر مسح کرنے کے تین طریقے ہیں: مکمل سر پر، مکمل پگڑی پر اور سر کے اگلے حصے پر اور باقی پگڑی پر۔ سر کا مسح تین دفعہ کرنا بھی درست ہے۔
660
Sahih
سر، دونوں کانوں اور دونوں کنپٹیوں کے مسح کا بیان
۔ (۶۶۱)۔عَنْ بُسْرِبْنِ سَعِیدٍ قَالَ: أَتٰی عُثْمَانُ الْمَقَاعِدَ فَدَعَا بِوَضُوئٍ فَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثُمَّ غَسَلَ وَجْہَہُ ثَلَاثًا وَیَدَیْہِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِہِ وَرِجْلَیْہِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَوَضَّأُ، یَا ہٰؤُلَائِ! أَکَذَاکَ؟ قَالُوْا: نَعَمْ، لِنَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عِنْدَہُ۔ (مسند أحمد: ۴۸۷)
بسر بن سعید کہتے ہے: سیدنا عثمانؓمقاعد میں آئے اور وضو کا پانی منگوایا اس طرح وضو کیا کہ کلی کی، ناک میں پانی چڑھایا، تین دفعہ چہرہ دھویا، دونوں ہاتھوں کو تین تین بار دھویا، پھر سر کا مسح کر کے دونوں پاؤں کو تین تین دفعہ دھویا اور کہا: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو اس طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ اے لوگو! کیا اسی طرح تھا؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔ سیدنا عثمان ؓ نے اپنے موجود صحابہ کی ایک جماعت سے یہ تصدیق کروائی تھی۔
Takhreej
(۶۶۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۳۰ (انظر: ۴۸۷)
Explanation
فوائد:… سر کا تین دفعہ مسح کرنے کے بارے مسلم کی روایت صریح نہیں البتہ مسند احمد کی زیر مطالعہ حدیث صریح ہے اور اسے تین دفعہ مسح راس کا جواز ثابت ہوتا ہے اس کی تفصیل کے لیے دیکھیں فتح الباری، ج: ۱، ص: ۲۶۰۔ (عبداللہ رفیق)
661
Sahih
سر، دونوں کانوں اور دونوں کنپٹیوں کے مسح کا بیان
۔ (۶۶۲)۔عَنْ زِرٍّبنِْ حُبَیشٍ قَالَ: مَسَحَ عَلِیٌّؓ رَأْسَہُ فِیْ الْوُضُوئِ حَتّٰی أَرَادَ أَنْ یَقْطُرَ وَقَالَ: ہٰکَذَا رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَوَضَّأُ۔ (مسند أحمد: ۸۷۳)
زر بن حبیش کہتے ہیں: سیدنا علیؓ نے وضو کرتے وقت اس طرح سر کا مسح کیا کہ قریب تھا کہ پانی کے قطرے گرنے لگیں، پھر انھوں نے کہا: میں نے اسی طرح رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا تھا۔
Takhreej
(۶۶۲) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۱۱۴(انظر: ۸۷۳)
662
Sahih
سر، دونوں کانوں اور دونوں کنپٹیوں کے مسح کا بیان
۔ (۶۶۳)۔حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا سُرَیْجُ بْنُ نُعْمَانَ قَالَ: ثَنَا عَبْدُاللّٰہِ بْنُ وَہْبٍ الْمِصْرِیُّ عَنْ عَمْرٍوبْنِ الْحَارِثِ بْنِ یَعْقُوبَ الْأَنْصَارِیِّ أَنَّ حِبَّانَ بْنَ وَاسِعٍ الْأَنْصَارِیَّ حَدَّثَہُ أَنَّہُ سَمِعَ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ زَیْدِ بْنِ عَاصِمٍ الْمَازِنِیَّ یَذْکُرُ أَ نَّہُ رَاٰی رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَوَضَّأَ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثُمَّ غَسَلَ وَجْہَہُ ثَـلَاثًا وَیَدَہُ الْیُمْنٰی ثَـلَاثًا وَالْأُخْرٰی ثَـلَاثًا وَمَسَحَ رَأْسَہُ بِمَائٍ غَیْرِ فَضْلِ یَدِہِ وَغَسَلَ رِجْلَیْہِ حَتّٰی أَنْقَاہُمَا۔ (مسند أحمد: ۱۶۵۸۱)
سیدنا عبد اللہ بن زید بن عاصمؓ بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو اس طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے کلی کی، ناک میں پانی چڑھایا، پھر تین بار چہرہ دھویا، اس کے بعد دایاں بازو تین بار اور پھر بایاں باز تین مرتبہ دھویا، پھر سر کا مسح اس پانی سے کیا جو ہاتھوں سے بچا ہوا نہیں تھا، پھر دونوں پاؤں کو دھویا، یہاں تک کہ ان کو صاف کر دیا۔
Takhreej
(۶۶۳) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۳۶ (انظر: ۱۶۴۶۷)
663
Sahih
سر، دونوں کانوں اور دونوں کنپٹیوں کے مسح کا بیان
۔ (۶۶۴)۔وَعَنْہُ أَیْضًا أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَسَحَ رَأْسَہُ بِیَدَیْہِ فَأَقْبَلَ بِہِمَا وَأَدْبَرَ بَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِہِ ثُمَّ ذَہَبَ بِہِمَا اِلٰی قَفَاہُ ثُمَّ رَدَّہُمَا حَتّٰی رَجَعَ اِلَی الْمَکَانِ الَّذِی بَدَأَ مِنْہُ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَیْہِ۔ (مسند أحمد: ۱۶۵۵۲)
سیدنا عبد اللہ بن زید ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے سر کا اس طرح مسح کیا کہ دونوں ہاتھوں کو آگے سے لے گئے اور پیچھے سے لے آئے، (اس کی تفصیل یہ ہے کہ) سر کے سامنے والے حصے سے شروع کیا، یہاں تک کہ ہاتھوں کو گدی تک لے گئے، پھر ان کو لوٹا کر وہاں لے آئے، جہاں سے شروع کیا تھا، پھر اپنے پاؤں دھوئے۔
Takhreej
(۶۶۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۸۵، ومسلم: ۲۳۵ (انظر: ۱۶۴۳۸)
664
Sahih
سر، دونوں کانوں اور دونوں کنپٹیوں کے مسح کا بیان
۔ (۶۶۵)۔عَنْ عَبْدِخَیْرٍ (یَصِفُ وُضُوئَ عَلِیٍّ ؓ) قَالَ: ثُمَّ وَضَعَ یَدَہُ فِی الرَّکْوَۃِ فَمَسَحَ بِہَا رَأسَہُ بِکَفَّیْہِ جَمِیعًا مَرَّۃً وَاحِدَۃً ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَیہِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ (عَلِیٌ): ھٰذَا وُضُوئُ نَبِیِّکُمْ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاعْلَمُوْہُ، (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: قَالَ: وَمَسَحَ بِرَأْسِہِ فَبَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأسِہِ اِلٰی مُؤَخَّرِہِ وَقَالَ: وَلَا أَدْرِیْ أَرَدَّ یَدَہُ أَمْ لَا، وَغَسَلَ رِجْلَیْہِ ثُمَّ قَالَ: مَنْ أَحَبَّ أَن یَنْظُرَ اِلٰی وُضُوئِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَھٰذَا وُضُوئُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم) (مسند أحمد:۱۰۲۷)
عبد ِ خیر، سیدنا علیؓ کا وضو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: پھر انھوں نے اپنا ہاتھ برتن میں رکھا اور دونوں ہتھیلیوں سے سارے سر کا ایک دفعہ مسح کیا، پھر دونوں پاؤں کو تین تین بار دھویا، پھر انھوں نے کہا: یہ تمہارے نبی کا وضو ہے، اس کو سیکھ لو۔ ایک روایت میں ہے: انھوں نے اپنے سر کا مسح اس طرح کیا کہ سر کے اگلے حصے سے پچھلے حصے تک لے گئے۔ لیکن راوی کہتا ہے: میں یہ نہیں جانتا کہ ہاتھوں کو واپس لوٹایا تھا یا نہیں، پھر انھوں نے اپنے پاؤں دھوئے اور کہا: جو آدمی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا وضو دیکھنا پسند کرتا ہے تو یہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا وضو ہے۔
Takhreej
(۶۶۵) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابوداود: ۱۱۲، والنسائی: ۱/ ۶۷، وابن ماجہ: ۴۰۴، (انظر: ۱۰۲۷)
665
Sahih
سر، دونوں کانوں اور دونوں کنپٹیوں کے مسح کا بیان
۔ (۶۶۶)۔عَنْ طَلْحَۃَ الأَیَامِیِّ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ أَ نَّہُ رَاٰی رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَمْسَحُ رَأْسَہُ حَتّٰی بَلَغَ الْقَذَالَ وَمَا یَلِیْہِ بِمُقَدَّمِ الْعُنُقِ بِمَرَّۃٍ، قَالَ: الْقَذَالُ سَالِفَۃُ الْعُنُقِ۔ (مسند أحمد: ۱۶۰۴۷)
ان کے دادے (سیدنا عمرو بن کعب یا کعب بن عمروؓ) سے مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے سر کا مسح کیا، یہاں تک کہ سر کے پچھلے حصے اور اس کے ساتھ ملے ہوئے گردن کے اگلے حصے کا ایک دفعہ مسح کیا۔ راوی نے کہا: گردن کے پچھلے حصے کو قَذَال کہتے ہیں۔
Takhreej
(۶۶۶) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ مصرف والد طلحۃ، ولضعف لیث بن ابی سلیم۔ أخرجہ ابوداود: ۱۳۲ (انظر: ۱۵۹۵۱)
666
Zaeef
سر، دونوں کانوں اور دونوں کنپٹیوں کے مسح کا بیان
۔ (۶۶۷)۔عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِیکَرِبَ الْکِنْدِیِّؓ قَالَ: أُتِیَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِوَضُوئٍ فَتَوَضَأَ فَغَسَلَ کَفَّیْہِ ثَلَاثًا ثُمَّ غَسَلَ وَجْہَہُ ثَلَاثًا ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا وَمَسَحَ بِرَأْسِہِ وَأُذُنَیْہِ ظَاہِرِہُمَا وَ بَاطِنِہُمَا وَغَسَلَ رِجْلَیْہِ ثَلَاثًا۔ (مسند أحمد: ۱۷۳۲۰)
سیدنا مقدام بن معدیکرب کندیؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس وضو کا پانی لایا گیا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے وضو کیا، دونوں ہتھیلیوں کو تین مرتبہ دھویا، تین بار چہرہ دھویا، پھر تین تین بار کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا اور سر اور کانوں کے ظاہری اور باطنی حصے کا مسح کر کے پاؤں کو تین بار دھویا۔
Takhreej
(۶۶۷) تخریج: تقدم تخریجہ فائنڈ۔ أخرجہ (انظر: )
667
Sahih
سر، دونوں کانوں اور دونوں کنپٹیوں کے مسح کا بیان
۔ (۶۶۸)۔عَنْ أَبِی الْأَزْہَرِ عَنْ مُعَاوِیَۃَ (بْنِ سُفْیَانَ) ؓ أَنَّہُ ذَکَرَ لَہُمْ وُضُوئَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنَّہُ مَسَحَ رَأسَہُ بِغُرْفَۃٍ مِن مَائٍ حَتّٰی یَقْطُرَ الْمَائُ مِن رَأسِہِ أَوْ کَادَ یَقْطُرُ وَأَنَّہُ أَرَاہُمْ وُضُوئَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، فَلَمَّا بَلَغَ مَسْحَ رَأْسِہٖ وَضَعَ کَفَّیْہِ عَلٰی مُقَدَّمِ رَأْسِہِ ثُمَّ مَرَّ بِہِمَا حَتّٰی بَلَغَ الْقَفَا ثُمَّ رَدَّہُمَا حَتّٰی بَلَغَ الْمَکَانَ الَّذِی بَدَأَ مِنْہُ۔ (مسند أحمد: ۱۶۹۷۹)
ابو ازہر کہتے ہیں کہ سیدنا معاویہ بن سفیانؓ نے ان کے لیے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے وضو کا ذکر کیا، انھوں نے پانی کے ایک چلّو سے سر کا مسح کیا، یہاں تک سر سے پانی کے قطرے گرنے لگے یا قریب تھا کہ گرنے لگیں، بہرحال انھوںنے ان کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا وضو کر کے دکھایا، جب وہ سر کے مسح تک پہنچے تو انھوں نے اپنی دونوں ہتھیلیوں کو سر کے اگلے حصے پر رکھا، پھر ان کو سر پر پھیرتے گئے، یہاں تک کہ گدی تک پہنچ گئے، پھر اسی جگہ پر لوٹا کر لے آئے، جہاں سے شروع کیا تھا۔
Takhreej
(۶۶۸) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابوداود: ۱۲۴(انظر: ۱۶۸۵۴)
668
Sahih
سر، دونوں کانوں اور دونوں کنپٹیوں کے مسح کا بیان
۔ (۶۶۹)۔حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا سُفْیَانُ قَالَ: ثَنَا عَمْرُو بْنُ یَحْیٰی ابْنِ عُمَارَۃَ بْنِ أَبِی حَسَنٍ الْمَازِنِیُّ الْأَنْصَارِیُّ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بِْن زَیْدٍ ؓ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَوَضَّأَ، قَالَ سُفْیَانُ: ثَنَا یَحْیَ بْنُ سَعِیْدٍ عَنْ عَمْرٍو بْنِ یَحْیٰ مُنْذُ أَرْبَع وَ سَبْعِیْنَ سَنَۃً وَسَأَلْتُہُ بَعْدَ ذَالِکَ بِقَلِیْلٍ وَکَانَ یَحْیٰی أَکْبَرَ مِنْہُ، قَالَ سُفْیَانُ: سَمِعْتُ مِنْہُ ثَلَاثَۃَ أَحَادِیْثَ، فَغَسَلَ یَدَیْہِ مَرَّتَیْنِ وَوَجْہَہُ ثَلَاثًا وَمَسَحَ بِرَأْسِہِ مَرَّتَیْنِ، قَالَ أَبِیْ: سَمِعْتُہُ مِنْ سُفْیَانَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ یَقُولُ: غَسَلَ رِجْلَیْہِ مَرَّتَیْنِ، وَقَالَ مَرَّۃً: مَسَحَ بِرَأْسِہِ مَرَّۃً، وَقَالَ مَرَّتَیْنِ: مَسَحَ بِرَأْسِہِ مَرَّتَیْنِ۔ (مسند أحمد: ۱۶۵۶۶)
سیدنا عبد اللہ بن زیدؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے وضو کیا، امام سفیان نے کہا: چوہتر برس ہو گئے ہیں کہ یحییٰ بن سعید نے مجھے یہ حدیث بیان کی تھی، اس کے کچھ عرصہ بعد بھی میں نے ان سے سوال کیا تھا اور یحییٰ ان سے بڑے تھے۔ سفیان کہتے ہیں: میں نے ان سے تین احادیث سنی تھیں، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنے ہاتھوں کو دو مرتبہ اور چہرے کو تین مرتبہ دھویا اور دو بار سر کا مسح کیا۔ امام احمد کہتے ہیں: میں نے سفیان سے یہ حدیث تین مرتبہ سنی، وہ کہتے تھے: پاؤں کو دو مرتبہ دھویا، لیکن ایک دفعہ یوں بیان کیا کہ سر کا ایک دفعہ مسح کیا اور دو مرتبہ یوں بیان کیا کہ سر کا دو دفعہ مسح کیا۔
Takhreej
(۶۶۹) تخریج: حدیث صحیح دون قولہ: ومسح برأسہ مرتین فقد وہم فیہ سفیان ابن عیینۃ۔ أخرجہ الترمذی: ۴۷، والنسائی: ۱/ ۷۲ (انظر: ۱۶۴۵۲)
669
Sahih
سر، دونوں کانوں اور دونوں کنپٹیوں کے مسح کا بیان
۔ (۶۷۰)۔عَنِ الرُّبَیِّعِِ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَائَؓ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَوَضَّأَ عِنْدَہَا (قَالَتْ:) فَرَأَیْتُہُ مَسَحَ عَلٰی رَأْسِہِ مَجَارِیَ الشَّعْرِ مَا أَقْبَلَ مِنْہُ وَمَا أَدْبَرَ وَمَسَحَ صُدْغَیْہِ وَأُذُنَیْہِ ظَاہِرَہُمَا وَبَاطِنَہُمَا۔ (مسند أحمد: ۲۷۵۶۲)
سیدہ ربیع بنت معوذؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان کے پاس وضو کیا، وہ کہتی ہیں: میں نے دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے سر کے سامنے والے اور پچھلے حصے پر اس طرح مسح کیا کہ جس سمت میں بال پڑے تھے، اُسی سمت میں ہاتھ پھیر دیااور اپنی کنپٹیوں اور کانوں کے ظاہری اور باطنی حصے پر بھی مسح کیا۔
Takhreej
(۶۷۰) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف عبد اللہ بن محمد بن عقیل وقد انفرد بہ، واضطرب فی متنہ۔ أخرجہ ابوداود: ۱۲۹، والترمذی: ۳۴ (انظر: ۲۷۰۲۲)
Explanation
فوائد:… مَجَارِی الشَّعْر کے معانی اس باب کی آخری حدیث کی روشنی میں کیے گئے ہیں۔
670
Zaeef
سر، دونوں کانوں اور دونوں کنپٹیوں کے مسح کا بیان
۔ (۶۷۱)۔ (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔ قَالَتْ: أَتَانَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَوَضَعْنَا لَہُ الْمِیْضَأَۃَ فَتَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا وَمَسَحَ بِرَأْسِہِ مَرَّتَیْنِ بَدَأَ بِمُؤَخَّرِہِ وَأَدْخَلَ اِصْبَعَیْہِ فِی أُذُنَیْہِ (وَفِی رِوَایَۃٍ: فِی جُحْرِ أُذُنَیْہِ)۔ (مسند أحمد: ۲۷۵۵۸)
۔ (دوسری سند) وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ہمارے پاس تشریف لائے، ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے لیے برتن رکھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے تین تین بار وضو کیا اور دو دفعہ سر کا مسح اس طرح کیا کہ سر کے پچھلے حصے سے شروع کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے (کانوں کے مسح کے دوران) کانوں میں اور ایک روایت کے مطابق کانوں کے سوراخوں میں انگلیاں ڈالیں۔
Takhreej
(۶۷۱) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
671
Zaeef
سر، دونوں کانوں اور دونوں کنپٹیوں کے مسح کا بیان
۔ (۶۷۲)۔(وَعَنْہَا أَیْضًا فِی رِوَایَۃٍ أُخْرٰی) قَالَتْ: وَمَسَحَ رَأْسَہُ بِمَا بَقِیَ مِنْ وَضُوئِہِ فِی یَدَیْہِ مَرَّتَیْنِ، بَدَأَ بِمُؤَخَّرِہِ ثُمَّ رَدَّ اِلٰی نَاصِیَتِہِ وَمَسَحَ أُذُنَیْہِ مُقَدَّمَہُمَا وَمُؤَخَّرَہُمَا۔ (مسند أحمد: ۲۷۵۵۶)
۔ (مزید ایک روایت) وہ کہتی ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہاتھوں کے بچے ہوئے پانی سے سر کا دو دفعہ مسح اس طرح کیا کہ پچھلے حصے سے شروع کر کے پیشانی کی طرف ہاتھوں کو لوٹایا اور کانوں کے اگلے اور پچھلے حصوں پر مسح کیا۔
Takhreej
(۶۷۲) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
672
Zaeef
سر، دونوں کانوں اور دونوں کنپٹیوں کے مسح کا بیان
۔ (۶۷۳)۔ (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ)۔أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَوَضَّأَ عِنْدَہَا فَمَسَحَ الرَّأْسَ کُلَّہُ مِن فَوْقِ الشَّعْرِ کُلَّ نَاحِیَۃٍ لِمُنْصَبِّ الشَّعْرِ لَا یُحَرِّکُ الشَّعْرَ عَنْ ہَیْئَتِہِ۔ (مسند أحمد: ۲۷۵۶۴)
۔ (ایک اور سند) وہ کہتی ہیں: بیشک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان کے ہاں وضو کیا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے سارے سر کا اس طرح مسح کیا کہ اوپر سے جس طرف بال گر رہے تھے، اسی طرف ان کے اوپر ہاتھ پھیر دیئے اور بالوں کو ان کی ہیئت اور کیفیت سے حرکت نہیں دی۔
Takhreej
(۶۷۳) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
673
Zaeef
پگڑی اور تساخین پر مسح کرنے کا بیان
۔ (۶۷۴)۔عَنْ ثَوْبَانَ (مَوْلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم) قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَرِیَّۃً فَأَصَابَہُمُ الْبَرْدُ، فَلَمَّا قَدِمُوْا عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَکَوْا اِلَیْہِ مَا أَصَابَہُم مِنَ الْبَرْدِ فَأَمَرَہُمْ أَنْ یَمْسَحُوْا عَلٰی الْعَصَائِبِ وَالتَّسَاخِینِ۔ (مسند أحمد: ۲۲۷۴۲)
مولائے رسول سیدنا ثوبانؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ایک لشکر بھیجا، ان کو اس سفر میں سردی محسوس ہوئی، جب وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس واپس آئے تو انھوں نے سردی کی شکایت کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان کو حکم دیا کہ پگڑیوں اور تساخین پر مسح کر لیا کریں۔
Takhreej
(۶۷۴) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۱۴۶ (انظر: ۲۲۳۸۳)
674
Sahih
پگڑی اور تساخین پر مسح کرنے کا بیان
۔ (۶۷۵)۔وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَی الْخُفَّیْنِ وَعَلٰی الْخِمَارِ یَعْنِیْ الْعِمَامَۃَ۔ (مسند أحمد: ۲۲۷۸۳)
سیدنا ثوبانؓ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو وضوکرتے ہوئے دیکھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے موزوں اور پگڑی پر مسح کیا۔
Takhreej
(۶۷۵) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابوداود: ۱۴۶(انظر: )
675
Sahih