TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

ثلاثیات کا بیان

Chapter 4 of ترغیبات میں آداب، مواعظ، حکمتوں اور جوامع الکلم کی جامع کتاب، میں ثلاثیات سے ابتداء کی جائے گی، علی ہذا القیاس in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 4 of 16 · 19 Hadith
۔ (۹۵۶۶)۔ حَدَّثَنَا حَسَنٌ، ثَنَا زُھَیْرٌ، قَالَ: ثَنَا قَابُوْسُ بْنُ اَبِیْ ظَبْیَانِ، اَنَّ اَبَاہُ حَدَّثَہُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ زُھَیْرٌ: لَاشَکَّ فِیْہِ قَالَ: ((اِنَّ الْھَدْیَ الصَّالِحَ، وَالسَّمْتَ الصَّالِحَ، وَالْاِقْتَصَادَجُزْئٌ مِنْ خَمْسَۃٍ وََعِشْرِیْنَ جُزْئً ا مِنَ النُّبُوَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۶۹۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک نیک سیرت اور مناسب وقار و تمکنت اور میانہ روی نبوت کا پچیسواں حصہ ہے۔
Takhreej
(۹۵۶۶) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ الطبرانی: ۱۲۶۰۸، والبیھقی فی الشعب : ۶۵۵۵ (انظر: ۲۶۹۸)
Explanation
فوائد:… نہ نبوت کے اجزاء بنائے جا سکتے ہیں اور نہ اس حدیث کا یہ مطلب ہے کہ ان صفات سے متصف آدمی پچیسویں درجے کا نبی ہوتا ہے یا اس کے اندر کا پچیسواں حصہ پایا جاتا ہے۔ اس حدیث مبارکہ کی درج ذیل توجیہات کی جا سکتی ہیں: ۱۔ یہ صفات انبیائے کرام کے فضائل کا پچیسواں حصہ ہیں۔ ۲۔ انبیائے کرام جو شریعت لائے اور جس کی طرف لوگوں کو دعوت دی،یہ صفات اس کا پچیسواں حصہ ہیں۔ ۳۔ ان صفات سے متصف آدمی اس چیز کا حقدار ہے کہ اس کی تعظیم کی جائے اور اللہ تعالیٰ اس کو اس مقدار کے مطابق تقوی کا لباس پہنا دے۔ بہرحالیہ صفات اللہ تعالیٰ کو اتنی پسند ہیں کہ اس نے انبیائے کرام کو ان سے متصف کیے رکھا، اس لیے ہمیں بھی خصالِ حمیدہ سے متصف ہونے کی کوشش کرنی چاہیے۔
9566
Sahih
۔ (۹۵۶۷)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یَجْتَمِعَانِ فِی النَّارِ اِجْتِمَاعًا یَضُرُّ اَحَدَھُمَا، مُسْلِمٌ قَتَلَ کَافِرًا ثُمَّ سَدَّدَ الْمُسْلِمُ اَوْ قَارَبَ، وَلَا یَجْتَمِعَانِ فِیْ جَوْفِ عَبْدٍ، غُبَارٌ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَدُخَانُ جَھَنَّمَ، وَلَا یَجْتَمِعَانِ فِیْ قَلْبِ عَبْدٍ، الْاِیْمَانُ وَالشُّحُّ۔)) (مسند احمد: ۸۴۶۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دو آدمی آگ میں اس طرح جمع نہیںہو سکتے کہ ان میں سے کسی ایک کو نقصان ہو، وہ مسلمان جو کافر کو قتل کرے اور پھر راہِ صواب پر چلتا رہے اور میانہ روی اختیار کرے، دو چیزیں بندے کے پیٹ میں جمع نہیں ہو سکتیں، اللہ تعالیٰ کے راستے کا غبار اور جہنم کا دھواں، کسی آدمی کے دل میں دو چزیں جمع نہیں ہو سکتیں، ایمان اور لالچ۔
Takhreej
(۹۵۶۷) تخریج: صحیح، أخرجہ النسائی: ۶/ ۱۲ (انظر: ۸۴۷۹)
9567
Sahih
۔ (۹۵۶۸)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَجِیْبُوْا الدَّاعِیَ، وَلَا تَرُدُّوْا الْھَدِیَّۃَ، وَلَا تَضْرِبُوْا الْمُسْلِمِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۳۸۳۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دعوت دینے والی کی دعوت قبول کیا کرو، تحفہ واپس نہ کیا کرو اور مسلمانوں کو نہ مارا کرو۔
Takhreej
(۹۵۶۸) تخریج: اسنادہ جیّد، أخرجہ البزار: ۱۲۴۳، وابن ابی شیبۃ: ۶/ ۵۵۵، وابویعلی: ۵۴۱۲ (انظر: ۳۸۳۸)
9568
Sahih
۔ (۹۵۶۹)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ لَقِیَ اللّٰہَ لَا یُشْرِکُ بِہٖشَیْئًا وَاَدّٰی زَکَاۃَ مَالِہِ طَیِّبًا بِھَا نَفْسُہُ مُحْتَسِبًا، وَسَمِعَ وَاَطَاعَ فَلَہُ الْجَنَّۃُ اَوْ دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند احمد: ۸۷۲۲)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے گا کہ اس نے کسی چیز کو اس کے ساتھ شریک نہیں ٹھہرایا ہو گا، ثواب کی نیت سے اور دل کی خوشی کے ساتھ زکوۃ ادا کی ہو گی اور حکمران کی بات سن کر اس کی اطاعت کی ہو گی، پس اس کے لیے جنت ہو گییا وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔
Takhreej
(۹۵۶۹) تخریج: اسنادہ ضعیف، المتوکل او أبو المتوکل مجھول، وبقیۃ عنعن، وھو یدلس تدلیس التسویۃ (انظر: ۸۷۳۷)
9569
Zaeef
۔ (۹۵۷۰)۔ وعَنْہُ اَیْضًا، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا نَقَصَتْ صَدَقَۃٌ مِنْ مَّالٍ، وَمَا زَادَ اللّٰہُ رَجُلًا بِعَفْوٍ اِلَّا عِزًّا، وَمَا تَوَاضَعَ اَحَدٌ لِلّٰہِ اِلَّا رَفَعَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۸۹۹۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: صدقہ سے مال میں کمی نہیں آتی، لوگوں کو معاف کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ بندے کی عزت میں ہی اضافہ کرتا ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے تواضع اختیار کرتاہے، اللہ تعالیٰ اس کو بلند کر دیتا ہے۔
Takhreej
(۹۵۷۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۵۸۸(انظر: ۹۰۰۸)
9570
Sahih
۔ (۹۵۷۱)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، رَفَعَہُ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَیُّمَا مُؤُمِنٍ سَقٰی مُؤْمِنًا شَرْبَۃً عَلٰی ظَمَاٍ، سَقَاہُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مِنَ الرَّحِیْقِ الْمَخْتُوْمِ، وَاَیُّمَا مُؤْمِنٍ اَطْعَمَ مُؤْمِنًا عَلٰی جُوْعٍ، اَطْعَمَہُ اللّٰہُ مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّۃِ، وَاَیُّمَا مُؤْمِنٍ کَسَا مُؤْمِنًا ثَوْبًا عَلٰی عُرْیٍ، کَسَاہُ اللّٰہُ مِنْ خُضْرٍ۔)) (مسند احمد: ۱۱۱۱۷)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو مؤمن کسی پیاسے مؤمن کو مشروب پلائے گا، اللہ تعالیٰ اس کو (جنت کی) مہرزدہ صاف و خالص شراب پلائے گا، جو مؤمن کسی بھوکے مؤمن کو کھانا کھلائے گا، اللہ تعالیٰ اس کو جنت کے پھل کھلائے گا اور جو مؤمن کسی ننگے مؤمن کو کپڑے پہنائے گا، اللہ تعالیٰ اس کو سبز رنگ کا لباس پہنائے گا۔
Takhreej
(۹۵۷۱) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف عطیۃ بن سعد العوفی، أخرجہ ابوداود: ۱۶۸۲، والترمذی: ۲۴۴۹ (انظر: ۱۱۱۰۱)
9571
Zaeef
۔ (۹۵۷۲)۔ عَنْ نَافِعٍ بْنِ عَبْدِ الْحَارِثِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مِنْ سَعَادَۃِ الْمَرْئِ الْجَارُ الصَّالِحُ، وَالْمَرْکَبُ الْھَنِیْئُ، وَالْسَکْنُ الْوَاسِعُ۔)) (مسند احمد: ۱۵۴۴۶)
۔ سیدنا نافع بن عبد الحارث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نیک ہمسایہ، پرسکون اور نرم سواری اور کھلا گھر آدمی کی سعادت میں سے ہیں۔
Takhreej
(۹۵۷۲) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ أخرجہ الحاکم: ۴/ ۱۶۶، والطحاوی فی شرح مشکل الآثار : ۲۷۷۳ (انظر: ۱۵۳۷۲)
9572
Sahih
۔ (۹۵۷۳)۔ عَنْ سَھْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ اَنَسٍ، عَنْ اَبِیْہِ ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((اَفْضَلُ الْفَضَائِلِ اَنْ تَصِلَ مَنْ قَطَعَکَ، وَتُعْطِیَ مَنْ مَنَعَکَ، وَتَصْفَحَ عَمَّنْ شَتَمَکَ۔)) (مسند احمد: ۱۵۷۰۳)
۔ سیدنا معاذ بن انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: فضیلت والے اعمال میں سب سے افضل عمل یہ ہے کہ تو اس سے تعلق جوڑے، جو تجھ سے توڑتا ہے، تو اس کو دے جو تجھے محروم کرے اور تو اس سے درگزر کرے، جو تجھے برا بھلا کہے۔
Takhreej
(۹۵۷۳) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف زبان بن فائد، وسھلِ بن معاذ فی روایۃ زبان عنہ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۰/ ۴۱۳ (انظر: ۱۵۶۱۸)
9573
Zaeef
۔ (۹۵۷۴)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((مَنْ کَانَ صَائِمًا وَعَادَ مَرِیْضًا وَشَھِدَ جَنَازَۃً غُفِرَلَہُ مِنْ بَاْسٍ اِلَّا اَنْ یُحْدِثَ مِنْ بَعْدُ۔)) (مسند احمد: ۱۵۷۲۷)
۔ سیدنا معاذ بن انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جوروزے دار ہو اور پھر مریض کی عیادت بھی کرے اور کسی جنازے میں شرکت بھی کرے تو اس کے حرج والے امور (یعنی گناہ) بخش دیئے جاتے ہیں ، الا یہ کہ وہ بعد میں از سرِ نو کوئی گناہ کرے۔
Takhreej
(۹۵۷۴) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف زبان بن فائد، وابنِ لھیعۃ، وسھلِ بن معاذ فی روایۃ زبان عنہ (انظر: ۱۵۶۴۲)
9574
Zaeef
۔ (۹۵۷۵)۔ عَنْ سَھْلِ بْنِ حُنَیْفٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ اَعَانَ مُجَاھِدًا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ، اَوْ غَارِمًا فِیْ عُسْرَتِہِ اَوْ مُکَاتَبًا فِیْ رَقَبَۃٍ ، اَظَلَّہُ اللّٰہُ فِیْ ظِلِّہِ یَوْمَ لَا ظِلَّ اِلَّا ظِلَّہُ۔)) (مسند احمد: ۱۶۰۸۲)
۔ سیدنا سہل بن حنیف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والے، تنگی میں مبتلا قرض کے ضامن اور مکاتَب کی گردن چھڑانے کے حوالہ سے مدد کی، اللہ تعالیٰ اس کو اس دن اپنے سائے میںجگہ دے گا، جس دن اس کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہیں ہو گا۔
Takhreej
(۹۵۷۵) تخریج: اسنادہ ضعیف، عبد اللہ بن سھل فی عداد المجھولین، أخرجہ الحاکم: ۲/ ۲۱۷، والبیھقی: ۱۰/ ۳۲۰، والطبرانی فی الکبیر : ۵۵۹۱ (انظر: ۱۵۹۸۶)
9575
Zaeef
۔ (۹۵۷۶)۔ عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَطْعِمُوْا الْجَائِعَ، وَفُکُّوْا الْعَانِیَ، وَعُوْدُوْا الْمَرِیْضَ۔)) قَالَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ: الْمَرْضٰی۔ (مسند احمد: ۱۹۷۴۶)
۔ سیدناابو موسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بھوکے کو کھانا کھلاؤ، غلام کو آزاد کراؤ اور مریض کی عیادت کرو۔
Takhreej
(۹۵۷۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۳۷۳ (انظر: ۱۹۵۱۷)
9576
Sahih
۔ (۹۵۷۷)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَیْسَ مِنْ اُمَّتِیْ مَنْ لَمْ یُجِلَّ کَبِیْرَنَا، وَیَرْحَمْ صَغِیْرَنَا، وَیَعْرِفْ لِعَالِمِنَا، قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ (یَعْنِیْ ابْنَ الْاِمَامِ اَحْمَدَ): وَسَمِعْتُہُ اَنَا مِنْ ھٰرُوْنَ۔ (مسند احمد: ۲۳۱۳۵)
۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ میری امت میں سے نہیں ہے، جو ہمارے بڑوں کی تعظیم نہیں کرتا، چھوٹوں پر شفقت نہیں کرتا اور صاحب ِ علم کو نہیں پہچانتا۔
Takhreej
(۹۵۷۷) تخریج: صحیح لغیرہ دون قولہ ویعرف لعالمنا ، وھذا اسناد منقطع، ابوقبیل لم یسمع من عبادۃ، أخرجہ الحاکم: ۱/ ۱۲۲، والبزار: ۲۷۱۸(انظر: ۲۲۷۵۵)
9577
Sahih
۔ (۹۵۷۸)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اعْبُدُوْا الرَّحْمٰنَ، وَاَفْشُوْا السَّلَامَ، وَاَطْعِمُوْا الطَّعَامَ تَدْخُلُوْنَ الْجِنَانَ۔)) قَالَ عَبْدُا لصَّمَدِ: ((تَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند احمد: ۶۵۸۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: رحمن کی عبادت کرو، سلام کو عام کرو اور کھانا کھلاؤ، جنتوں میں داخل ہو جاؤ گے۔
Takhreej
(۹۵۷۸) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ ابن ماجہ: ۳۶۹۴ (انظر: ۶۵۸۷)
9578
Sahih
۔ (۹۵۷۹)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((کَرْمُ الرَّجُلِ دِیْنُہُ، وَمَرُوْئَ تُہُ عَقْلُہُ، وَحَسَبُہُ خُلُقُہُ۔)) (مسند احمد: ۸۷۵۹)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدمی کی سخاوت اس کا دین ہے، اس کے نفسیاتی آداب اس کی عقل ہے اور اس کا حسب اس کے اخلاق ہیں۔
Takhreej
(۹۵۷۹) تخریج: اسنادہ ضعیف، مسلم بن خالد سییء الحفظ کثیر الاوھام، أخرجہ البزار: ۳۶۰۷، والطبرانی فی الاوسط : ۶۶۸۲، وابن حبان: ۴۸۳ (انظر: ۸۷۷۴)
Explanation
فوائد:… مسلمان کا شرف اس کے آباء و اجداد نہیں ہوتا، بلکہ اس کا حسن اخلاق ہوتا ہے، اسی کو اپنا کر وہ بلند مقام حاصل کر سکتا ہے اور اسی کو ترک کر کے وہ تمام دوسری صلاحیتیں ہونے کے باوجود لوگوں کی نگاہوں میں گر سکتا ہے۔
9579
Zaeef
۔ (۹۵۸۰)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْمُؤُمِِنُ الْقَوَیُّ خَیْرٌ وَاَفْضَلُ وَاَحَبُّ اِلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ مِنَ الْمُؤُمِنِ الضَّعِیْفِ، وَفِیْ کُلٍّ خَیْرٌ، احْرِصْ عَلٰی مَا یَنْفَعُکَ وَلَا تَعْجِزْ، فَاِنْ غَلَبَکَ اَمْرٌ فَقُلْ: قَدَّرَ اللّٰہُ وَمَاشَائَ صَنَعَ، وَاِیَّاکَ وَاللَّوَّفَاِنَّ اللَّوَّ یَفْتَحُ عَمَلَ الشَّیْطَانِ۔)) (مسند احمد: ۸۷۷۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ضعیف مؤمن کی بہ نسبت قوی مؤمن زیادہ بہتر، زیادہ فضیلت والا اور اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہے، بہرحال ہر ایک میں خیر و بھلائی پائی جاتی ہے، نفع بخش چیزوں کی حرص رکھ اور عاجز نہ آ جا، اگر کوئی معاملہ تجھ پر غالب آ جائے تو یہ کہا کر کہ اللہ تعالیٰ کا یہی اندازہ تھا اور جو وہ چاہتا ہے، کر دیتا ہے، اور لَوْ سے بچ ، کیونکہ لَوْ شیطان کا کام کھولتا ہے۔
Takhreej
(۹۵۸۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۶۶۴ (انظر: ۸۷۹۱)
Explanation
فوائد:… قوی مؤمن اسلام کے تمام ارکان و احکام کو کما حقہ پورا کر سکتا ہے، جیسے جہاد، حج، کمائی وغیرہ، جبکہ کمزور مومن کو رخصتوں پر عمل کرنا پڑتا ہے،بہرحال دونوں میں خیر ہے، کیونکہ دونوں اپنی صلاحیتوں کے مطابق اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے ہیں۔ صحت و قوت مسلمان کے لیے تب مفید ہے، جب وہ اس سے استفادہ کر رہا ہو۔ دین و دنیا کے لیے جو چیز مفید ہو اور اس کا حصول بندے کے لیے ممکن ہو تو اس کے لیے ہر ممکنہ کوشش کرنی چاہیے اور معاملے کو اللہ تعالیٰ کی مشیت پر چھوڑ کر گھر بیٹھ نہیں جانا چاہیے۔ یہ بات اپنی جگہ پر درست ہے کہ وہ کچھ ہو گا جو اللہ کو منظور ہو گا، لیکن اسی پاک ذات نے مفید چیزوں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کا حکم دیا ہے۔ لَوْ (اگر) کااستعمال اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر عدم رضامندی کی نشاندہی کرتا ہے، اگر اسباب استعمال کرنے کے بعد نقصان ہو جائے تو اس پر صبر کرنا چاہیے اور اس سے متعلقہ صبر کے تقاضوں کو پورا کرنا چاہیے۔
9580
Sahih
۔ (۹۵۸۱)۔ عَنْ اَنَسٍ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَسْتَقِیْمُ اِیْمَانُ عَبْدٍ حَتّٰییَسْتَقِیْمَ قَلْبُہُ، وَلَا یَسْتَقِیْمُ قَلْبُہُ حَتّٰییَسْتَقِیْمَ لِسَانُہُ، وَلَا یَدْخُلُ رَجُلٌ الْجَنَّۃَ لَا یَاْمَنُ جَارُہُ بَوَائِقَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۳۰۷۹)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے،وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کسی آدمی کا ایمان اس وقت تک درست نہیں ہو سکتا، جب تک اُس کا دل درست نہیں ہوتا اور کسی کا دل اس وقت تک صحیح نہیں ہو سکتا، جب تک اس کی زبان راہِ راست پر نہیں آ جاتی اور ایسا شخص تو جنت میں داخل نہیں ہوگا کہ جس کے شرور سے اُس کا ہمسایہ امن میں نہیں ہوتا۔
Takhreej
(۹۵۸۱) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف علی بن مسعدۃ الباھلی، أخرجہ البیھقی فی الشعب : ۵۰۰۵، والطبرانی فی الاوسط : ۶۵۵۹(انظر: ۱۳۰۴۸)
Explanation
فوائد:… دل، زبان اور اعضائ، ہر ایک کے ساتھ ایمان کا تعلق ہے۔ اگر کوئی ہمسایہ اپنے کسی ہمسائے کی بدسلوکی کی وجہ سے تنگ ہے تو اس میں مرکزی کردار ظالم کی زبان کا ہو گا، اس حدیث میں پڑوسی کی خیرو بھلائی کو کامیابی و کامرانی کا معیار قرار دیا گیا ہے، وہ اس طرح کہ ایمان کی بنیاد دل کی راستی پر ہے، دل کی درستی کا دارمدار زبان کی اصلاح پر ہے اور زبان کی خیر و شرّ کا تعلق پڑوسی کے ساتھ حسنِ سلوک یا بدسلوکی سے ہے۔
9581
Zaeef
۔ (۹۵۸۲)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: لَقِیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَابْتَدَاْتُہُ فَاَخَذْتُ بِیِدِہِ فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَانَجَاۃُ الْمُؤْمِنِ؟ قَالَ: ((یَاعُقْبَۃُ! اَمْلِکْ لِسَانَکَ، وَلْیَسَعْکَ بَیْتُکَ، وَابْکِ عَلٰی خَطِیْئَتِکَ۔)) قَالَ: ثُمَّ لَقِیَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَابْتَدَأَنِیْ فَاَخَذَ بِیَدِیْ، فَقَالَ: ((یَا عُقْبَۃَ بْنَ عَامِرٍ! اَلاَ اُعَلِّمُکَ خَیْرَ ثلَاَثِ سُوَرٍ اُنْزِلَتْ فِی التَّوْرَاۃِ وَالْاِنْجِیْلِ وَالزَّبُوْرِ وَالْفُرْقَانِ الْعَظِیْمِ؟)) قَالَ: قُلْتُ: بَلٰی! جَعَلَنِیَ اللّٰہُ فِدَاکَ قَالَ: فَاَقْرَأَنِیْ قَالَ: {قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ} وَ {قُلْ اَعَوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} وَ {قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ} ثُمَّ قَالَ:((یَاعُقْبَۃُ: لَاتَنْسَاْھُنَّ، وَلَا تَبِیْتَنَّ لَیْلَۃً حَتّٰی تَقْرَاَھُنَّ۔)) قَالَ: فَمَا نَسِیْتُھُنَّ مِنْ مُنْذُ قَالَ: لَا تَنْسَاْھُنَّ وَمَا بِتُّ لَیْلَۃً قَطُّ حَتّٰی اَقْرَئَھُنَّ، قَالَ عُقْبَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: ثُمَّ لَقِیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَابْتَدَاْتُہُ فَاَخَذْتُ بِیَدِہِ، فَقُلْتُ:یَارَسُوْلَ! اَخْبِرْنِیْ بِفَوَاضِلِ الْاَعْمَالِ؟ فَقَالَ: ((یَاعُقْبَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌! صِلْ مَنْ قَطَعَکَ، وَاَعْطِ مَنْ حَرَمَکَ، وَاعْفُ عَمَّنْ ظَلَمَکَ۔)) (مسند احمد: ۱۷۴۶۷)
۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے میری ملاقات ہوئی، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ابتدا کی اور آپ کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مؤمن کی نجات کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے عقبہ ! اپنی زبان کو قابو میں رکھ، تیرا گھر تجھے اپنے اندر سما لے (یعنی ضرورت کے بغیر گھر سے نہ نکل) اور اپنی غلطیوں پر رو۔ سیدنا عقبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے ملے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے ابتدا کی اور میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: اے عقبہ بن عامر! کیا میں تجھے ایسی بہترین سورتوں کی تعلیم دوں کہ ان جیسی سورتیں نہ تورات میں نازل ہوئیں، نہ زبور میں، نہ انجیل میں اور نہ قرآن مجید (کے بقیہ حصے) میں؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر قربان کرے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے {قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ}، {قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَق} اور {قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاس} پڑھائیں اور پھر فرمایا:اے عقبہ! ان کو نہیں بھولنا اور ان کی تلاوت کیے بغیر کوئی رات نہیں گزارنی۔ پس جب سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا کہ تونے ان سورتوں کو نہیں بھولنا اس وقت سے میں نہ ان کو بھولا اور نہ میں نے ایسی رات گزاری، جن میں ان کی تلاوت نہ کی ہو۔ سیدنا عقبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مزید کہا: پھر میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ملا اور میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ابتدا کی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! فضیلت والے اعمال کے بارے میں مجھے بتلائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے عقبہ!جو تجھ سے قطع رحمی کرے، اس سے صلہ رحمی کر، جو تجھے محروم کرے، تو اسے عطا کر اور جو تجھ پر ظلم کرے، تو اسے معاف کر۔
Takhreej
(۹۵۸۲) تخریج: حدیث حسن (انظر: ۱۷۳۳۴)
9582
Sahih
۔ (۹۵۸۳)۔ عَنْ مُعَاذٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّہُ قَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَوْصِنِیْ، قَالَ: ((اِتَّقِ اللّٰہَ حَیْثُمَا کُنْتَ اَوْ اَیْنَمَا کُنْتَ۔)) قَالَ: زِدْنِیْ، قَالَ: ((اَتْبِعِ السَّیِّئَۃَ الْحَسَنَۃَ تَمْحُھَا۔)) قَالَ: زِدْنِیْ، قَالَ: ((خَالِقِ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ۔)) (مسند احمد: ۲۲۴۰۹)
۔ سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے نصیحت کرو، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جہاں کہیں بھی ہو، اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ انھوں نے کہا: مزید نصیحت فرمائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: برائی کے بعد نیکی کرو، تاکہ وہ برائی کو مٹا دے۔ انھوں نے کہا: اور زیادہ نصیحت کریں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں سے اچھے اخلاق سے پیش آ۔
Takhreej
(۹۵۸۳) تخریج: حدیث حسن، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر ‘: ۲۰/ ۲۹۶ (انظر: ۲۲۰۵۹)
9583
Sahih
۔ (۹۵۸۴)۔ عَنْ اَبِیْ اَیَوْبَ الْاَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: عِظْنِیْ وَاَوْجِزْ، فَقَالَ: ((اِذَا قُمْتَ فِیْ صَلَاتِکَ فَصَلِّ صَلَاۃَ مُوَدِّعٍ، وَلَا تَکَلَّمْ بِکَلَامٍ تَعْتَذِرُ مِنْہُ غَدًا، وَاَجْمِعِ الْاِیْاسَ مِمَّا فِیْ اَیْدِی النَّاسِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۸۹۴)
۔ ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ مجھے کوئی بلیغ و مختصرنصیحت کریں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تو نماز ادا کرے تو (اپنی زندگی کی) آخری نماز سمجھ کر ادا کر اور ایسا کلام مت کر کہ جس سے کل تجھے معذرت کرنا پڑے، نیز جو کچھ لوگوں کے پاس ہے اس سے مکمل ناامید (اور غنی) ہو جا۔
Takhreej
(۹۵۸۴) تخریج: حسن، قالہ الالبانی، أخرجہ ابن ماجہ: ۴۱۷۱ (انظر: ۲۳۴۹۸)
Explanation
فوائد:… محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین نصیحتوں میں پوری زندگی کا سکون جمع کر دیا ہے۔ کوئی بشر اپنی موت سے آگاہ نہیں ہے، اس لیے اسے چاہئے کہ وہ ہر نماز کو اپنی زندگی کی آخری نماز سمجھ کر انتہائی خوبصورت انداز میں ادا کرے، تاکہ اگر اس نماز کے بعد اس کو موت آ جاتی ہے تو وہی نماز اس کی نجات کے لیے کافی ہو جائے۔ دوسری نصیحت میں شارع علیہ السلام نے زبان کی حفاظت کی تعلیم دی ہے ، تاکہ بعد میں کسی قسم کی شرمندگی اور ندامت کا سامنا نہ کرنا پڑے، یہ زبان ہی ہے جس سے آدمی کی شخصیت عیاں ہوتی ہے، اگر زبان میں وقار ہے تو پورے وجود میں سنجیدگی ہو گی اور اگر زبان ہر چراگاہ میں چرنے کی عادی ہو تو جسم بھی بے حیا ہو جاتا ہے۔ تیسری نصیحت میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لالچ اور حرص جیسی مذموم صفات سے گریز کرنے کی تلقین کی ہے، کیونکہ ان قبیح صفات کی وجہ سے انسان میں کمینگی اور گھٹیاپن پیدا ہو جاتا ہے، جو اس کے مقام و مرتبہ کو جانوروں سے بھی گھٹا دیتا ہے۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر توکل کرے اور اسے رازق سمجھے، لوگوں کے مال و دولت پر نگاہ نہ رکھے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی فاقہ میں مبتلا ہو جائے اور لوگوں کے سامنے اس کا اظہار کرے تو اس کا فاقہ ختم نہیں ہو گا اور جو آدمی اس کا اظہار اللہ تعالیٰ کے سامنے کرے تو اللہ تعالیٰ اسے رزق عطا فرمائے گا، وہ جلد ہو یا بہ دیر۔ (ابوداود، ترمذی)
9584
Sahih