TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

عدد سے شروع ہونے والی ثلاثیات کا بیان

Chapter 5 of ترغیبات میں آداب، مواعظ، حکمتوں اور جوامع الکلم کی جامع کتاب، میں ثلاثیات سے ابتداء کی جائے گی، علی ہذا القیاس in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 5 of 16 · 17 Hadith
۔ (۹۵۸۵)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ثَلَاثَۃٌ عَلٰی کُثْبَانِِ الْمِسْکِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، رَجُلٌ اَمَّ قَوْمًا وَھُمْ بِہٖرَاضُوْنَ،وَرَجُلٌیُؤَذِّنُ فِیْ کُلِّ یَوْمٍ وَلَیْلَۃٍ خَمْسَ صَلَوَاتٍ، وَعَبْدٌ اَدّٰی حَقَّ اللّٰہِ تَعَالٰی و َحَقّ مَوَالِیْہِ۔)) (مسند احمد: ۴۷۹۹)
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین قسم کے لوگ قیامت کے روز کستوری کے ٹیلوں پر ہوں گے: (۱) وہ آدمی، جو لوگوں کی امامت کروائے اور وہ اس سے راضی ہوں، (۲) وہ آدمی جو ہر روز پانچ نمازوں کے لیے اذان دیتا ہو اور (۳) وہ غلام، جو اللہ تعالیٰ کا حق اور اپنے آقاؤں کا حق ادا کرتا ہو۔
Takhreej
(۹۵۸۵) تخریج: اسنادہ ضعیف،ابو الیقظان ضعّفہ غیر واحد من الأئمۃ، لکن یکتب حدیثہ فی المتابعات والشواھد، أخرجہ الترمذی: ۱۹۸۶، ۲۵۶۶ (انظر: ۴۷۹۹)
9585
Zaeef
۔ (۹۵۸۶)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ثَلَاثٌ کُلُّھُمْ حَقٌّ عَلٰی اللّٰہِ عَوْنُھُمْ، اَلْمُجَاھِدُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ، وَالنَّاکِحُ الْمُسْتَعْفِفُ، وَالْمُکَاتَبُ یُرِیْدُ الْاَدَائَ۔)) (مسند احمد: ۷۴۱۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین افراد کی مدد اللہ تعالیٰ پر حق ہے، اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والا، پاکدامنی کی خاطر نکاح کرنے والا اور ادائیگی کا ارادہ رکھنے والا مکاتَب۔
Takhreej
(۹۵۸۶) تخریج: اسنادہ قوی، أخرجہ ابن ماجہ: ۲۵۱۸، والترمذی: ۱۶۵۵ (انظر: ۷۴۱۶)
9586
Sahih
۔ (۹۵۸۷)۔ وعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: ثَلَاثٌ اَوْصَانِیْ بِھِنَّ خَلِیْلِیْ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَا اَدَعُھُنَّ اَبَدًا (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: لَا اَدَعُھُنَّ حَتّٰی اَمُوْتَ) اَلْوِتْرُ قَبْلَ اَنْ اَنَامَ، وَصِیَامُ ثَلَاثَۃِ اَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَھْرٍ، وَالْغُسْلُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ۔)) (مسند احمد: ۷۴۵۲)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ بھی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میرے خلیل نے مجھے تین امور کی نصیحت کی، میں ان کو موت تک نہیں چھوڑوں گا، سونے سے پہلے وتر ادا کرنا، ہر ماہ میں تین دنوں کے روزے رکھنا اور جمعہ کے دن غسل کرنا۔
Takhreej
(۹۵۸۶) تخریج: اسنادہ قوی، أخرجہ ابن ماجہ: ۲۵۱۸، والترمذی: ۱۶۵۵ (انظر: ۷۴۱۶)
9587
Sahih
۔ (۹۵۸۸)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ اللّٰہَ کَرِہَ لَکُمْ ثَلَاثًا، وَرَضِیَ لَکُمْ ثَلَاثًا، رَضِیَ لَکُمْ اَنْ تَعْبُدُوْہُ، وَلَا تُشْرِکُوْا بِہٖشَیْئًا، وَاَنْ تَعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا، وَاَنْ تَنْصَحُوْا لِوُلَاۃِ الْاَمْرِ، وَکَرِہَ لَکُمْ قِیَلَ وَقَالَ وِاِضَاعَۃَ الْمَالِ وَکَثْرَۃَ السُّؤَالِ۔)) (مسند احمد: ۸۳۱۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے تین چیزیں ناپسند کی ہیں اور تین پسند، اس نے تمہارے لیے اِن چیزوں کو پسند کیا ہے کہ تم اس کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ اور سب کے سب اللہ تعالیٰ کی رسی کو تھام لو اور یہ کہ تم اپنے امیروں کی خیرخواہی کرو اور تمہارے لیےیہ چیزیں ناپسند کی ہیں: قیل و قال، مال کو ضائع کرنا اور زیادہ سوال کرنا۔
Takhreej
(۹۵۸۸) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۷۱۵ (انظر: ۸۳۳۴)
Explanation
فوائد:… امراء کے لیے خیرخواہییہ ہے کہ امورِ حق میں ان کی اطاعت کی جائے اور ان کی بغاوت نہ کی جائے۔ قیل و قال سے مراد یہ ہے کہ لوگوں کی حکایات، واقعات اور اخبارات میں دلچسپی لی جائے اور ان کے بارے میں بغیر تحقیق کے باتیں کی جائیں، جبکہ بیچ میں کوئی منفعت والی بات نہ ہو، سب لا یعنی اور بے مقصد باتیں ہوں۔ اس وقت اکثر لوگ ایسی فضول مجلسوں میں اپنا وقت ضائع کرتے رہتے ہیں۔ مال کا ضائع کرنے کی صورت یہ ہے کہ غیر شرعی صورتوں میں اور نافرمانیوں میں مال صرف کیا جائے، جائز صورتوں میں غلوّ اور تکلّف کے ساتھ خرچ کرنا بھی اس صورت میں داخل ہے۔ سوال کرنے سے مراد یہ ہے کہ حاجت و ضرورت کے بغیر، بلکہ تکلف کرتے ہوئے شرعی مسائل کے بارے میں سوال کرنا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے عہد ِ مبارک میں ایسے سوالات سے منع کر رکھا تھا۔ لوگوں سے ان کے مال کا سوال کرنا بھی اس میں شامل ہے۔
9588
Sahih
۔ (۹۵۸۹)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ثَلَاثَۃٌ کُلُّھُنَّ حَقٌّ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ، عِیَادَۃُ الْمَرِیْضِ، وَشُھُوْدُ الْجَنَازَۃِ، وَتَشْمِیْتُ الْعَاطِسِ اِذَا حَمِدَ اللّٰہُ۔)) (مسند احمد: ۸۶۶۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین چیزیں ہے، ہر مسلمان پر حق ہیں، مریض کی عیادت، جنازوں میں شرکت کرنا اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنے والے چھینکنے والے کو یَرْحَمُکَ اللّٰہُ کہنا۔
Takhreej
(۹۵۸۹) تخریج: حدیث صحیح،أخرجہ الطیالسی: ۲۳۴۲، وابویعلی: ۵۹۰۴، وابن حبان: ۲۳۹ (انظر: ۸۶۷۵)
9589
Sahih
۔ (۹۵۹۰)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((یَتْبَعُ الْمَیِّتَ، ثَلَاثٌ، اَھْلُہُ، وَمَالُہُ، وَعَمَلُہُ، فَیَرْجِعُ اِثْنَانِ وَیَبْقٰی وَاحِدٌ، اَھْلُہُ وَمَالُہُ یَبْقٰی عَمَلُہُ۔)) (مسند احمد: ۱۲۱۰۴)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین چیزیں میت کے پیچھے چلتی ہیں، اس کے اہل و عیال، اس کا مال اور اس کا عمل، دو چیزیں واپس آ جاتی ہیں اور ایک باقی رہ جاتی ہے، اہل و عیال اور مال لوٹ آئیں گے اور اس کا عمل باقی رہ جائے گا۔
Takhreej
(۹۵۹۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۵۱۴، ومسلم: ۲۹۶۰ (انظر: ۱۲۰۸۰)
9590
Sahih
۔ (۹۵۹۱)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((عُرِضَ عَلَیَّ اَوَّلُ ثَلَاثَۃٍیَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ، وَاَوَّلُ ثَلَاثَۃٍیَدْخُلُوْنَ النَّارَ، فَاَمَّا اَوَّلُ ثَلَاثَۃٍیَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ، فَالشَّھِیْدُ، وَعَبْدٌ مَمَلُوْکٌ اَحْسَنَ عِبَادَۃَ رَبِّہِ وَنَصَحَ لِسَیِّدِہِ،وَعَفِیْفٌ مُتَعَفِّفٌ ذُوْعَیَالٍ، وَاَمَّا اَوَّلُ ثَلَاثَۃٍیَّدْخُلُوْنَ النَّارَ فَاَمِیْرٌ مُسَلَّطٌ وَذُوْ ثَرْوَۃٍ مِنْ مَّالٍ لَایُعْطِیْ حَقَّ مَالِہِ، وَفَقِیْرٌ فَخُوْرٌ۔)) (مسند احمد: ۹۴۸۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سب سے پہلے جنت میں داخل ہونے والے تین افراد اور سب سے پہلے جہنم میں داخل ہونے والے تین افراد مجھ پر پیش کیے گئے، پہلے پہل جنت میں داخل ہونے والے افراد یہ ہیں:(۱) شہید، (۲) وہ غلام جو اچھے انداز میں اپنے ربّ کی عبادت کرنے والا اور اپنے آقا کا خیر خواہ ہو، اور (۳) بچوں کے باوجود پاکدامن بننے والے اور پہلے پہل جہنم میں داخل ہونے والے تین افراد یہ ہیں: (۱) مسلط ہو جانے والا امیر، (۲) مال کا حق ادا نہ کرنے والا مالدار اور (۳) تکبر کرنے والا فقیر ۔
Takhreej
(۹۵۹۱) تخریج: اسنادہ ضعیف، عامر بن عقبۃ العقیلی لایُعرف، وکذا ابوہ لایُعرف، أخرجہ الطیالسی: ۲۵۶۷، وابن ابی شیبۃ: ۱۴/ ۱۲۴، والحاکم: ۱/ ۳۸۷ (انظر: ۹۴۹۲)
9591
Sahih
۔ (۹۵۹۲)۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مِنْ سَعَادَۃِ ابْنِ آدَمَ ثَلَاثَۃٌ، وَمِنْ شِقْوَۃِ ابْنِ آدَمَ ثَلَاثَۃٌ، مِنْ سَعَادَۃِ ابْنِ آدَمَ الْمَرْاَۃُ الصَّالِحَۃُ، وَالْمَسْکَنُ الصَّالِحُ، وَالْمَرْکَبُ الصَّالِحُ،وَمِنْ شِقْوَۃِ ابْنِ آدَمَ الْمَرْاَۃُ السَوْئُ، الْمَسْکَنُ السَوْئُ، وَالْمَرْکَبُ السَوْئُ۔)) (مسند احمد: ۱۴۴۵)
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین چیزیں ابن آدم کی سعادت میں سے اور تین چیزیں ابن آدم کی شقاوت میں سے ہیں، ابن آدم کی سعادت والی تین چیزیںیہ ہیں: نیک بیوی، مناسب گھر اور اچھی سواری اور ابن آدم کی بد بختی والی تین چیزیںیہ ہیں: بری بیوی، برا گھر اور بری سواری۔
Takhreej
(۹۵۹۲) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ الطیالسی: ۲۱۰، والبزار: ۱۴۱۲، وابن حبان: ۴۰۳۲ (انظر: ۱۴۴۵)
9592
Sahih
۔ (۹۵۹۳)۔ عَنْ سَھْلِ بْنِ حُنَیْفٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعَثَہُ قَالَ: ((اَنْتَ رَسُوْلِیْ اِلٰی اَھْلِ مَکَّۃَ قُلْ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ اَرْسَلَنِیْیَقْرَأُ عَلَیْکُمُ السَّلَامَ، وَیَاْمُرُکُمْ بِثَلَاثٍ لَا تَحْلِفُوْا بِغَیْرِ اللّٰہِ، وَاِذَا تَخَلَّیْتُمْ فَـلَا تَسْتَقْبِلُوْا الْقِبْلَۃَ وَلَا تَسْتَدْبِرُوْھَا، وَلَا تَسْتَنْجُوْا بِعَظْمٍ وَلَا بِبَعَرَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۱۶۰۸۰)
۔ سیدنا سہل بن حنیف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بھیجا اور فرمایا: تو اہل مکہ کی طرف میرا قاصد ہے، ان کو کہنا: اللہ کے رسول نے مجھے بھیجا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تم لوگوں کو سلام کہا اور تین چیزوں کا حکم دیا: (۱)غیر اللہ کی قسم نہیں اٹھانی، (۲) قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنا ہے نہ پیٹھ اور (۳) ہڈی اور مینگنی سے استنجاء نہیں کرنا۔
Takhreej
(۹۵۹۳) تخریج: ما ورد فیہ من نھی صحیح، وھذا اسناد ضعیف، لضعف عبد الکریم بن ابی المخارق، ولجھالۃ الولید بن مالک ومحمدِ بن قیس، أخرجہ مختصرا الدارمی: ۱/ ۱۷۰، ورواہ الحاکم: ۳/ ۴۱۲ (انظر: ۱۵۹۸۴)
9593
Sahih
۔ (۹۵۹۴)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ثَلَاثٌ مُسْتَجَابٌ لَھُمْ دَعْوَتُھُمُ الْمُسَافِرُ، وَالْوَالِدُ، وَالْمَظْلُوْمُ۔)) (مسند احمد: ۱۷۵۳۴)
۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین افراد کی دعائیں قبول ہوتی ہیں، مسافر، والدین اور مظلوم۔
Takhreej
(۹۵۹۴) تخریج: حسن لغیرہ (انظر: ۱۷۳۹۹)
9594
Sahih
۔ (۹۵۹۵)۔ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْاَنْصَارِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((ثَلَاثٌ حَقٌّ عَلَی کُلِّ مُسْلِمٍ، اَلْغُسْلُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ، وَالسِّوَاکُ، وَیَمَسُّ مِنْ طِیْبٍ اِنْ وَجَدَ۔)) (مسند احمد: ۱۶۵۱۱)
۔ ایک صحابی رسول بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین امور ہر مسلمان پر حق ہیں، جمعہ کے دن غسل کرنا، مسواک کرنا اور اگر گنجائش ہو تو خوشبو لگائے۔
Takhreej
(۹۵۹۵) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۲/ ۹۴، وابویعلی: ۷۱۶۸ (انظر: ۱۶۳۹۶)
Explanation
فوائد:… یہ تینوں امور مستحب ہیں، لیکن ان کا اجر بہت زیادہ ہے۔
9595
Sahih
۔ (۹۵۹۶)۔ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((ثَلَاثٌ لَا یَغِلُّ عَلَیْھِنَّ قَلْبُ الْمُؤُمِنِ، اِخْلَاصُ الْعَمَلِ، وَالنَّصِیْحَۃُ لِوَلِیِّ الْاَمْرِ، ولُزُوْمِ الْجَمَاعَۃِ، فَاِنَّ دَعْوَتَھُمْ تَکُوْنُ مِنْ وَّرَائِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۸۷۵)
۔ سیدنا جبیر بن مطعم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین خصائل پر مومن کا دل خیانت نہیں کرتا : خلوص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے لئے عمل کرنا، اربابِ حل وعقد کی خیر خواہی کرنا اور جماعت کو لازم پکڑنا، کیونکہ ان کی دعا سب کو شامل ہوتی ہے۔
Takhreej
(۹۵۹۶) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ، أخرجہ الحاکم: ۱/ ۸۷، وابویعلی: ۷۴۱۳ (انظر: ۱۶۷۵۴)
Explanation
فوائد:… مومن کو ان تین امور کا خصوصی طور پر اہتمام کرنا چاہیے، اگر عمل میں اخلاص نہ ہو تو وجود خیر سے محروم ہو جاتا ہے اور اگر امراء کی خیرخواہی اور جماعت کے ساتھ نہ رہا جائے تو معاشرے میں فساد پیدا ہو جاتا ہے۔
9596
Sahih
۔ (۹۵۹۷)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ حَوَالَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ نَجَا مِنْ ثَلَاثٍ فَقَدْ نَجَا، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، مَوْتِیْ، وَالدَّجَّالِ، وَقَتْلِ خَلِیْفَۃٍ مُصْطَبِرٍ بِالْحَقِّ یُعْطِیْہِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۸۵۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن حوالہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین چیزوں سے نجات پانے والا نجات پا جائے گا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ جملہ تین دفعہ ارشاد فرمایا، (۱) میری وفات، (۲) دجال اور (۳) اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے خلافت کے حق پر ڈٹ جانے والے خلیفے کاقتل۔
Takhreej
(۹۵۹۷) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۵/ ۱۳۴، والحاکم: ۳/ ۱۰۱ (انظر: ۲۲۴۸۸)
Explanation
فوائد:… نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات سے نجات پانے سے مراد یہ ہے کہ جو مسلمان اس وقت زندہ ہو، وہ اپنے دین پر استقامت اختیار کرے اور راہِ صواب پر چلتا رہے، یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو جا ملے، نجات نہ پانے والا وہ شخص ہو گا، جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات کے بعد فتنے میں مبتلا ہو جائے گا یا مرتدّ ہو جائے گا۔ ظاہریہی ہے کہ اس حدیث میں مذکورہ خلیفہ سے مراد سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں، کیونکہ وہ خلیفۂ برحق تھے اور مظلوماً شہید ہو گئے۔
9597
Sahih
۔ (۹۵۹۸)۔ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اَوْصَانِیْ حِبِّیْ بِثَلَاثٍ لَا اَدَعُھُنَّ اِنْ شَائَ اللّٰہُ اَبَدًا، اَوْصَانِیْ بِصَلَاۃِ الضُّحٰی وَبِالْوِتْرِ قَبْلَ النَّوْمِ وَبِصِیَامِ ثَلَاثَۃِ اَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَھْرٍ۔ (مسند احمد: ۲۱۸۵۱)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے محبوب ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے تین چیزوں کی نصیحت کی، میں ان شاء اللہ کبھی بھی ان کو نہیں چھوڑوں گا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے نمازِ چاشت پڑھنے کی، سونے سے پہلے وتر پڑھنے کی اور ہر ماہ میں تین روزے رکھنے کی نصیحت کی۔
Takhreej
(۹۵۹۸) تخریج: صحیح بالشواھد، أخرجہ النسائی: ۴/ ۲۱۷(انظر: ۲۱۵۱۸)
Explanation
فوائد:… سونے سے پہلے نمازِ وتر ادا کر لینے سے اس نماز کے فوت ہو جانے کا خطرہ ٹل جاتا ہے، بہرحال رات کے آخری حصے میں یہ نماز ادا کرنا افضل عمل ہے۔
9598
Sahih
۔ (۹۵۹۹)۔ عَنْ اَبِی الدَّرْدَائِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنْ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ وَفِیْہِ: وَسُبْحَۃُ الضُّحٰی فِی الْحَضْرِ وَالسَّفْرِ۔ (مسند احمد: ۲۸۱۰۲)
۔ سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی مروی ہے، البتہ اس میں ہے: حضرو سفر میں نمازِ چاشت پڑھنے کی وصیت کی۔
Takhreej
(۹۵۹۹) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ ابوداود: ۱۴۳۳(انظر: ۲۷۵۵۱)
9599
Sahih
۔ (۹۶۰۰)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اَمَرَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِثَلَاثٍ، وَنَھَانِیْ عَنْ ثَلَاثٍ، اَمَرَنِیْ ((بِرَکْعَتَیِ الضُّحٰی کُلَّ یَوْمٍ، وَالْوِتْرِ قَبْلَ النَّوْمِ، وَصِیَامِ َثلَاثَۃِ اَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَھْرٍ، وَنَھَانِیْ عَنْ نَقْرِۃٍ کَنَقْرَۃِ الدِّیْکِ، وَاِقْعَائٍ کَاِقْعَائِ الْکَلْبِ، وَاِلْتِفَاتٍ کَاِلْتِفَاتِ الثَّعْلَبِ۔)) (مسند احمد: ۸۰۹۱)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے تین چیزوں کا حکم دیا اور تین چیزوں سے منع کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے ہر روز نمازِ چاشت پڑھنے، سونے سے پہلے نمازِ وتر ادا کرنے اور ہر ماہ میں تین روزے رکھنے کا حکم دیا اور مرغ کی طرح ٹھونگیں مارنے، (جلسہ میں) کتے کی طرح بیٹھنے اور (نماز میں) لومڑی کی طرح اِدھر اُدھر متوجہ ہونے سے منع فرمایا۔
Takhreej
(۹۶۰۰) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف شریک بن عبد اللہ النخعی، ویزید بن ابی زیاد القرشی (انظر: ۸۱۰۶)
Explanation
فوائد:… مرغ کی طرح ٹھونگیں مارنے سے مراد جلدی جلدی سجدے کرنا ہے۔ کتے کی طرح بیٹھنے سے یہ کیفیت مراد ہے: پنڈلیوں اور رانوں کو کھڑا کرکے سرینوں پر بیٹھنا اور ہاتھ زمین پر رکھنا۔ اس کو اِقْعَائ کہتے ہیں۔ اس حدیث میں جن چھ امور کا ذکر ہے، وہ دوسری احادیث سے ثابت ہیں۔
9600
Zaeef
۔ (۹۶۰۱)۔ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الشِّخِّیْرِ، قَالَ: بَلَغَنِیْ عَنْ اَبِی ذَرٍّ حَدِیْثٌ فَکُنْتُ اُحِبُّ اَنْ اَلْقَاہُ، فَلَقِیْتُہُ فَقُلْتُ لَہُ:یَا اَبَا ذَرٍّ، بَلَغَنِیْ عَنْکَ حَدِیْثٌ فَکُنْتُ اُحِبُّ اَنْ اَلْقَاکَ فَاَسْاَلَکَ عَنْہُ، فَقَالَ: قَدْ لَقِیْتَ فَسَلْ! قَالَ: قُلْتُ: بَلَغَنِیْ اَنَّکَ تَقُوْلُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ ((: ثَلَاثَۃٌیُحِبُّھُمُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ، وَثَلَاثَۃٌیُبْغِضُھُمُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ۔)) قَالَ: نَعَمْ، فَمَا اَخَالُنِیْ اَکْذِبُ عَلٰی خَلِیْلِیْ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، ثَلَاثًا یَقُوْلُھَا، قَالَ: قُلْتُ: مَنِ الثَّلَاثَۃُ الَّذِیْنَیُحِبُّھُمُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ؟ قَالَ: ((رَجُلٌ غَزَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَلَقِیَ الْعَدُوَّ مُجَاھِدًا مُحْتَسِبًا فَقَاتَلَ حَتّٰی قُتِلَ)) وَاَنْتُمْ تَجِدُوْنَ فِیْ کِتَابِ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ {اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الَّذِیْنَیُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِہِ صَفًّا} ((وَرَجُلٌ لَہُ جَارٌ یُؤُذِیْہِ فَیَصْبِرُ عَلٰی اَذَاہُ وَیَحْتَسِبُہُ حَتّٰییَکْفِیَہُ اللّٰہُ اِیَّاہُ بِمَوْتٍ اَوْ حَیَاۃٍ، ((وَرَجُلٌ یَکُوْنُ مَعَ قَوْمٍ فَیَسِیْرُوْنَ حَتّٰییَشُقَّ عَلَیْھِمُ الْکَرٰی اَوِالنُّعَاسُ فَیَنْزِلُوْنَ فِیْ آخِرِ اللَّیْلِ، فَیَقُوْمُ اِلٰی وُضُوْئِہِ وَصَلَاتِہِ (وَفِیْ لَفْظٍ: فَیُصَلِّیْ حَتّٰییُوْقِظَھُمْ لِرَحِیْلِھِمْ)۔)) قَالَ: قُلْتُ: مَنِ الثلَّاَثَۃُ الَّذِیْنَیُبْغِضُھُمُ اللّٰہُ؟ قَالَ: ((اَلْفَخُوْرُ الْمُخْتَالُ۔)) وَاَنْتُمْ تَجِدُوْنَ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ {اِنَّ اللّٰہَ لَایُحِّبُ کُلَّ مُخَتَالٍ فَخُوْرٍ} وَالْبَخِیْلُ الْمَنَّانُ، وَالتَّاجِرُ، وَالْبَیَّاعُ الْحَلَّافُ۔)) قَالَ: قُلْتُ:یَا اَبَاذَرٍّ! مَاالْمَالُ؟ قَالَ: فِرْقٌ لَنَا وَذَوْدٌ، یَعْنِیْ بِالْفِرْقِ غَنَمًا یَسِیْرَۃً، قَالَ: قُلْتُ: لَسْتُ عَنْ ھٰذَا اَسْاَلُ، اِنّمَا اَسْاَلُکَ عَنْ صَامِتِ الْمَالِ، قَالَ: مَااَصَبَحَ لَا اَمْسٰی، وَمَا اَمْسٰی لَا اَصْبَحَ، قَالَ: قُلْتُ: یَا اَبَا ذَرٍّ! مَالَکَ وَلِاِخْوَتِکَ قُرَیْشٍ؟ قَالَ: وَاللّٰہِ! لَا اَسْاَلُھُمْ دُنْیَا، وَلَا اَسْتَفْتِیْھِمْ عَنْ دِیْنِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی، حَتّٰی اَلْقَی اللّٰہَ وَرَسُوْلَہُ، ثَلَاثًا یَقُوْلُھا ۔ (مسند احمد: ۲۱۸۶۳)
۔ مطرف بن عبد اللہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب مجھے سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ایک حدیث موصول ہوئی تو میں ان سے ملاقات کرنے کو پسند کرنے لگا، پھر میں ان کو ملا اور کہا: اے ابو ذر! مجھے آپ کے حوالے سے ایک حدیث موصول ہوئی اور میں نے چاہا کہ آپ کو ملوں اور اس کے بارے میں سوال کرو، انھوں نے کہا: اب ملاقات تو ہو گئی ہے، اس لیے پوچھ لو، میں نے کہا: جی مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تین افراد سے محبت کرتا ہے اور تین افراد سے بغض رکھتا ہے۔ انھوں نے کہا: جی ہاں اور میں اپنے بارے میں یہ خیال نہیں کرتا کہ میں اپنے خلیل محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر جھوٹ بولوں گا، یہ بات انھوں نے تین بار دوہرائی، میں نے کہا: اچھا وہ تین افراد کون ہیں، جن سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے؟ انھوں نے کہا: وہ آدمی جس نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کیا، پس دشمن سے اس کا مقابلہ ہوا اور اس نے حصول ثواب کے لیے قتال کیا،یہاں تک کہ وہ شہید ہو گیا۔ اور تم اللہ تعالیٰ کی کتاب میں یہ آیت تلاوت کرتے ہو: بیشک اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے، جو صف باندھ کر اس کے راستے میں قتال کرتے ہیں۔ اور ایک وہ آدمی کہ اس کا ہمسایہ اس کو تکلیف دیتا ہے، لیکن وہ ثواب کی نیت سے اس پر صبر کرتا ہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کو موت یا حیات کے ساتھ کفایت کرتا ہے، اور ایک وہ آدمی ہے جو ایک قوم کے ساتھ چلتا رہتا، یہاں تک کہ نیندیا اونگھ ان پر غالب آ گئی اور انھوں نے رات کے آخری حصے میں ایک مقام پر پڑاؤ ڈال دیا، لیکن وہ آدمی وضو اور نماز کے لیے اٹھ پڑا اور نماز پڑھتا رہا، یہاں تک کہ ان کو وہاں سے کوچ کرنے کے لیے جگایا۔ میں نے کہا: وہ تین افراد کون ہیں، جن سے اللہ تعالیٰ بغض رکھتا ہے؟ انھوں نے کہا: فخر کرنے والا تکبر کرنے والا۔ تم قرآن مجید میں پڑھتے ہی ہو کہ بیشک اللہ تعالیٰتکبر کرنے والے فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ اور احسان جتلانے والا بخیل اور وہ تاجر جو زیادہ قسم اٹھا کر سودابیچنے والا ہو۔ میں نے کہا: اے ابو ذر! مال سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے کہا: ہماری بکریاں اور اونٹ، میں نے کہا: میں اس کے بارے میں سوال نہیں کررہا، میں آپ سے مال میں سے سونے اور چاندی کے بارے میں پوچھ رہا ہوں، انھوں نے کہا: اس نے صبح کی نہ شام اور اس نے شام کی نہ صبح۔ میں نے کہا: اے ابو ذر! آپ کو اور آپ کے قریشی بھائیوں کو کیا ہو گیا ہے؟ انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نہ ان سے دنیا کا سوال کرتا ہوں اور نہ اللہ تعالیٰ کے دین کے بارے میں ان سے کوئی بات پوچھتا ہوں، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کو جا ملوں گا، یہ بات انھوں نے تین دفعہ کہی۔ مطلبیہ ہے کہ جو صبح میرے پاس ہوتا ہے وہ شام نہیں کرتا، اس سے پہلے ہی میں اسے خرچ کر دیتا ہوں اور جو شام کو میرے پاس ہوتا ہے وہ صبح نہیں کرتا، صبح سے پہلے میں اسے اللہ کے راستہ میں دے دیتا ہوں۔ (عبداللہ رفیق)
Takhreej
(۹۶۰۱) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ الطیالسی: ۴۶۸، والبزار: ۳۹۰۸، والحاکم: ۲/۸۸ (انظر: ۲۱۵۳۰)
9601
Zaeef